دور حاضر میں یتیم پوتے کی وراثت کے مسئلے کو بہت اچھا لا گیا ہے فکر مغرب کی یلغار سے مسخر دماغوں نے اس مسئلے کو ایک جذباتی پس منظر میں رکھ کر علماء اُمت کو بالعموم اور فقہاء اسلام کو بالخصوص ،خوب نشانہ بنایا ہے۔قرآن کے نام پر قرآن کی مرمت کرنے والوں نے اسلام کےقانون وراثت کو جس طرح تختہء مشق بنایا ہے۔اس کی واضح مثال بھی چونکہ"یتیم پوتے کی وراثت کا مسئلہ" ہے اس لئے میں چاہتا ہوں کہ اس پر قرآن وسنت کی  روشنی میں بحث کرنے کے بجائے ،صرف قرآن ہی کی روشنی میں غلام احمد پرویز صاحب کے دلائل کا جائزہ لیاجائے:
موصوف نے(عربی)اور (عربی) کا حوالہ دیتے ہوئے یہ لکھا ہے کہ:
"ان آیات میں والدین،اولاد اوراقربون کے الفاظ تشریح طلب ہیں،ہماری زبان میں والدین سے مراد صرف ماں  باپ ہوتے ہیں۔اوراولاد سے مراد بیٹے اور بیٹیاں۔لیکن عربی زبان میں ماں باپ اور ان سے اوپر تک (دادا پردادا  وغیرہ) سب شامل ہوتے ہیں۔اور اولاد میں بیتے بیٹیاں اور ان سے نیچے تک(پوتے پڑ پوتے وغیرہ) سب۔ا س حقیقت کو اہل فقہ بھی تسلیم کرتے ہیں۔اس لئے اس کے متعلق کسی وضاحت کی ضرورت نہیں۔اختلاف اقربون کے مفہوم میں ہے۔"(مطالب الفرقان ،ج4صفحہ 289)

یہاں موصوف نے جو کچھ فرمایا ہے وہ اپنے ہی خیالات کی دنیا میں گھوم پھر کر فرمایا ہے بارگاہ علم میں اس کی کوئی حیثیت نہیں ہے،"مفکر قرآن"کے بقول،جس چیز کو اہل فقہ نے"متفقہ حقیقت" قرار دیا ہے۔وہ قطعاً متفقہ حقیقت نہیں ہے اس کی  وضاحت آئندہ بحث کی لغوی تحقیق میں خود بخود ہوجائے گی۔

والد اور اب نیز ولد اور ابن میں فرق:

پرویز صاحب نے والدین اور اولاد کا جو مفہوم بیان کیا ہے وہ اگر لغت عرب سے جہالت کا نہیں تو شرارت کا یقیناً منہ بولتا کرشمہ ہے۔حیرت یہ ہے کہ"مفکرقرآن" صاحب کو عمربھر کے مطالعہ کے بعد بھی ان الفاظ کا مفہوم معلوم نہ ہو پایا جس کے نتیجہ میں وہ خود بھی بہک گئے اور دوسروں کو بھی بہکاتے رہ ضل فاضل۔

عربی زبان میں ماں باپ کے لئےدد الفاظ مستعمل ہیں۔والدین ور ابوین ان دونوں کے درمیان میں فرق یہ ہے کہ اول الذکر میں ولادت کا براہ راست تعلق کا پایا جانا ضروری ہے۔جبکہ ثانی الذکر میں ولادت کے براہ راست تعلق کا پاجا جانا تو درکنار سرے سے ولادت ہی کے فعل کا پایا جانا  بھی ضروری نہیں ہے۔صرف کسی خاص تعلق یا مداومت صحبت کا وجود ہی اس لفظ ک اطلاق کے لئے کافی ہے وضاحت کے لئے درج ذیل دو جملوں پرغور فرمائیے:

1۔زید      والد بکر         (زید بکر کا باپ ہے)

1۔زید       ابو بکر              (زید بکر کا باپ ہے)

پہلے جملے میں (جس میں والد کا لفظ استعمال ہوا ہے) لغوی  طور پر یہ امر مستحق ہے کے زید اور بکر کے درمیان ولادت کا تعلق موجود ہے۔یعنی زید،بربنائے ولادت،بکر کا باپ ہے اور بکر  بر بنائے ولادت زید کا بیٹا ہے۔لیکن دوسرے جملے کی رو سے ان دونوں کے درمیان ولادت کے تعلق کا پا یا جانا ضروری نہیں ہے۔یہ بھی ممکن ہے کہ زید ،بربنائے ولادت ہی بکر کا باپ ہو اور بکر اس کا بیٹا ہو، اور یہ بھی ممکن ہے کہ زید ابھی تک غیرشادی شدہ ہو اوربکر سرے سے کوئی صلبی تعلق زید سے رکھتا ہی نہ ہو اور یہ محض زید کی کنیت ہو جو زید اور بکر کے درمیان کسی خصوصی تعلق یا دوام صحبت کو ظاہر کرتی ہو۔جیسے مثلاً ابو ہریرۃ۔ظاہر ہے کہ یہاں جس تاریخی شخصیت کو ابو ہریرۃ   رضی اللہ تعالیٰ عنہ  کہاگیا ہے۔اس کے اور ھریرۃ(ننھی سی بلی) کے درمیان سرے سے ولادت کا تعلق ہی مفقود ہے۔اسی  طرح امام نعمان بن ثابت ؒ کو جو ایک جید عالم دین اور امام فقہ تھے ابو حنیفہ کہا جاتا ہے حالانکہ حنیفہ نامی ان کی کوئی بیٹی سرے سے تھی ہی نہیں۔ہاں اگر والد حنیفۃ کا لفظ استعمال کیا جاتا تو پھر لغوی طور پر یہ امر ثابت شدہ ہوتا کہ حنیفہ نامی ان کی بیٹی تھی۔اور وہ اس کے باپ تھے۔

الغرض لفظ اب اور والد (یا ابوین اوروالدین) کے درمیان جو نازک فرق واقع ہے۔"مفکرقرآن" صاحب عمر بھر اس سے جاہل اور بے خبر رہے اسی طرح جو فرق(اب(اب دراصل ابو ہے) ۔اوروالد میں پا یا جاتا ہے) وہ فرق ابن اور ولد میں موجود ہے۔لیکن اُردو میں دونوں لفظوں کاترجمہ بیٹا ہی کیا جاتا ہے۔جس سے غلط فہمیاں  پیدا ہوتی ہیں۔(یا پیدا کی جاتی ہیں) ۔ولد وہ بیٹا ہے جس کے ساتھ براہ راست ولاد ت کاتعلق پا یاجاتا ہے۔جبکہ ابن کے ساتھ براہ راست ولادت کے تعلق کا پایا جانا ضروری نہیں ہے۔بلکہ بعض  اوقات سرے سے فعل ولادت ہے ہی کے وجود کا پایا جانا بھی ضروری نہیں ہے۔صرف طویل صحبت یا کسی اور خاص تعلق کا وجود ہی اس لفظ کے اطلاق کے لئے کافی ہے۔خود قرآن میں ابن السبیل کا لفظ موجود ہے۔جس سے ظاہر ہے کہ براہ ر است ولادت کا تعلق تو رہا ایک طرف یہاں تو مجرد ولادت کافعل ہی موجود نہیں ہے۔اسی لئے مسافر کو ابن السبیل تو کہاجاتاہے مگر ولد السبیل نہیں۔

ولد اور ابن (نیز والد اور اب) کا یہ فرق،جس کی وضاحت اوپر کی گئی ہے۔ہمیشہ سے علمائے لغت کے ہاں مسلم رہا ہے۔علامہ ابو ہلال عسکری (جو پانچویں صدی ہجری کے نامور ادیب اور علم لغت کے ماہر تھے۔نے(عربی) کے نام سے ایک شہرہ آفاق کتاب لکھی ہے۔جس میں انہوں نے مترادف الفاظ کی لغوی باریکیوں سے بحث کی ہے۔اس میں فاضل مصنف نے ولد اور  ابن (اور اسی ضمن میں والد اور اب) کے درمیان فرق کی وضاحت کرتے ہوئے فرمایا ہے کہ:

(عربی)

ترجمہ۔"ولد اور ابن میں  فرق یہ ہے کہ ابن صرف تعلق خاص اوردوام صحبت کا فائدہ دیتا ہے۔اس لئے بیابان یا وسیع صحرائی راستے کے سالک کو ابن الفلاۃ کہتے ہیں۔اور رات کو بکثرت قطع مسافت کرنے والے کو ابن السری کہتے ہیں۔اور جب تو کسی شخصی کو اپنے لئے مخصوص کرلیتا ہے تو کہتا ہے کہ"میں نے اُسے بیٹا بنالیا (تبنیۃ)" ہمارے اس قول کے بارے میں ،کہ وہ فلاں کا بیٹا(ابن) ہے۔"یہ کہنا بھی جائز ہے۔کہ اس قول کا تقاضا یہ ہے کہ"وہ فلاں کی طرف منسوب ہے"اسی لئے کہا جاتا ہے کہ"لوگ آدمؑ کے بیٹے(بنو آدم)ہیں۔" کیونکہ لوگ اس کی طرف منسوب ہیں اور اسی طرح بنو اسرائیل میں بھی نسبت کا مفہوم پایا جاتاہے۔پھر اس لفظ کا اطلاق ہر شے میں فرد صغیر پر کیا جاتا ہے۔مثلاً بوڑھا،نوجوان سے"ا ے میرے بیٹے" کے الفاظ سے خطاب کرتاہے۔بادشاہ اپنی رعایا کو"ابناء"کے لفظ سے موسوم کرتا ہے۔اسی طرح انبیاء ؑ بنی اسرائیل اپنی اپنی قوم کو"اپنے بیٹے(ابناءھم) کہتے تھے،اسی وجہ سے ایک آدمی کو تعظیماً ابو فلان کے لفظ سے کنیت دی جاتی تھی،خواہ سرے سے اس کا کوئی بیٹا ہی نہ ہو۔صاحب علم وحکمت اپنے شاگردوں کو"اپنے بیٹوں"(ابناءھم) کا نام دیتے ہیں۔اور علم کے طالبین کو"فرزندان علم"(ابناء العلم) کہا جاتا ہے۔اور کبھی بیٹے(ابن)کی نسبت سے کنیت رکھی جاتی ہے جیسا کہ باپ(ابو) کی نسبت سے مثلاً ابن عرس(نیولا) ابن نمرہ،(لفظ مٹا ہوا ہے)،ابن آدمی (گیدڑ)بنت طبق(سختیاں) ،بنات نعش (مخصوص سات ستارے)،بنات وردان(لفظ مٹے ہوئے ہیں)اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ"ابن کی اصل تالیف واتصال ہے،جو تیرے اس قول سے کہ میں نے اس کو آباد کیا۔"(بنیتہ) سے ماخوذ ہے جبکہ وہ(بنیتہ کی ضمیر مفعول) آبادشدہ ہے۔اس کی اصلی"ب،ن،ی"ہے اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ اس کی اصل"ب،ن،ء" ہے،اسی لئے اس کی جمع "ابناء" ہے۔(جس کا کلمہ لام ہمزہ ہے) اسی طرح اب اور ابن کے درمیان تالیف کا رشتہ  پا یاجاتا ہے۔

رہا ولد تو اس میں فعل ولادت کاتقاضا پا یاجاتا ہے جبکہ ابن میں قطعاً یہ تقاضا موجود نہیں ہوتا۔اور ابن اب کو متقضی ہے جبکہ ولد والد کو مقتضی ہے،اور کسی انسان کو والد نہیں کہا جاتا۔مگر  اس وقت جبکہ(بربنائے ولادت) اس کا بیٹا (ولد) ہو،اوروہ لفط(والد) اب کی طرح نہیں کیونکہ لوگ کنیت ک طور پر ابوفلان بھی کہہ دیتے ہیں جبکہ اس نے "فلاں" کو جنم نہیں دیا ہوتا ایسے معاملے میں لوگ والد فلان کی ترکیب استعمال نہیں کرتے،ہاں مگر لوگ(انسانوں میں تو نہیں لیکن جانوروں میں سے) اُس بکری کے بارے میں والد کا لفظ استعمال کرتے ہیں۔جو قبل از وقت ابھی حالت حمل میں ہو،خواہ پھر وہ جس وقت بھی بچہ جن دے اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ ابن مذکر کے لئے ہے۔لیکن ولد مذکر اور مؤنث دونوں کے  لئے ہے۔

والدین اور ابوین(نیز اولاد اور ابناء) کے درمیان جو لغوی فرق وتفاوت پا یا جاتا ہے۔اُسے پیش نظر رکھئے اور  پھر"مفکرقرآن" صاحب کی جہالت وبے علمی یا دیدہ دانستہ مظالطہ انگیزی کو ملاحظہ فرمائیے:

"ہماری زبان میں والدین سے مراد صرف ماں باپ ہوتے ہیں لیکن عربی میں ماں باپ اور ان سے اوپر تک(دادا پردادا وغیرہ سب شامل ہوتے ہیں۔اور اولاد میں بیٹے بیٹیاں اور ان سے نیچے تک (پوتے پڑ  پوتے وغیرہ) سب۔( مطالب الفرقان ،ج4،صفحہ 289)

حقیقت  یہ ہے کہ والدین کے لفظ میں صرف ماں باپ ہی داخل ہیں۔جن سے براہ  راست ولادت کاتعلق پایا جاتا ہے۔(والدین کا مادہ ہی و۔ل۔د ہے۔جس سے ولادت کامصدر ماخوذ ہے)۔یہاں یہ امر بھی پیش نظر رہے کہ چونکہ ایک شخص کی براہ راست ولادت میں صرف والد اور والدہ ہی کا وجود زریعہ بنتاہے۔اس لئے والد کے لفظ سے ماں باپ کے لئے تثنیہ کا صیغہ والدین تو آتا ہے مگر عربی میں والد سے جمع کاصیغہ موجود ہی نہیں ہوتا۔اور اب(باپ) کے لفظ میں چونکہ براہ ر است ولادت کا تعلق ضروری نہیں ہوتا،اس لئے اس لفظ سے جمع کا صیغہ اباء موجود ہے۔جس میں باپ کے علاوہ  دادا پردادا وغیرہ سب شامل ہیں۔"مفکر قرآن" صاحب کی یہ غلطی ہے کہ وہ عمر بھر والدین اور ابوین کے درمیان نازکفرق وتفاوت کو ہمیشہ نظر انداز کرتے رہے ہیں۔اور محض اُردو کے الفاظ"ماں باپ"کی آڑ میں ایک غلط روش اختیار کرتے رہے ہیں۔(عربی)

یاد رکھئے کہ والدین سے مراد صرف ماں باپ ہیں۔دادا پردادا وغیرہ ہر گز اس کے مفہوم میں داخل نہیں ہیں۔والدین کا مادہ "و۔ل۔د" ہی ولادت کے تعلق سے اس کے  مفہوم کو جملہ اصول میں سے صرف ماں باپ تک محدود کردیتا ہے۔ہاں البتہ ابوین کا لفظ ہوتاتو ہم مان لیتے کہ اس  کے مفہوم میں ماں باپ یا اُن سے اوپر(دادا ،دادی،یا پردادا پردادی وغیرہ)سب شامل ہیں،بالکل اسی طرح اولاد سے مراد بھی صرف بیٹے بیٹیاں ہی ہیں۔پوتے پڑ پوتے وغیرہ ہرگز اس کے مفہوم میں داخل نہیں ہیں۔اولاد کا مادہ"و۔ل۔د"ہی ولادت کے تعلق سے ا س کے مفہوم کو  صرف بیٹے اور بیٹیوں تک محدود کردیتا ہے ہاں البتہ اگر ابناء کا لفظ ہوتا ہم یہ مان لیتے کہ اس کے مفہوم میں بیٹے بیٹیاں اور  ان سے نیچے تک (پوتے پڑپوتے وٖغیرہ) سب شامل ہیں۔

پرویز صاحب کی مثال اول:

اس کے بعد ہم"مفکر قرآن" صاحب ہی کی مثال سے اُن کی غلط نگہی اور مغالطہ انگیزی کی وضاحت کئے دیتے ہیں۔

زید۔بکر ۔عمر۔حمید۔رشید:

اس میں بکر سے لے کر رشید تک سب زید کی اولاد میں شامل ہیں اور حمید سے لے کر زید تک سب رشید کے والدین میں شامل ہیں،اس لحاظ سے زید کی وفات پر بکر سے لے کررشید تک سب اس کے وارث قرار پائیں گے اور رشید کی وفات پر حمید سے لے کر زید تک لیکن اس سے بڑی اُلجھنیں پیدا ہوجاتیں ،قرآن مجید نے اقرب کا اضافہ کرکے معاملہ کو صاف کردیا۔[1] (مطالب الفرقان ،ج4،صفحہ 289)

پرویز صاحب کی اس مثال میں (جو در اصل رشید بن حمید بن عمر بن بکر بن زید کے سلسلہء نسب کو ظاہر کرتی ہے)ان کا یہ فرمان کہ۔۔۔"بکر سے لے کر رشید تک،سب زید کی اولاد میں شامل ہیں"۔۔۔قطعی طور پر غلط ہے۔ہاں البتہ اگر وہ یہ کہتے کہ۔۔۔بکرسے لے کر رشید تک سب زید کے ابناء میں شامل ہیں۔"تو یہ بات یقیناً درست ہوتی۔اس مثال میں صرف بکر،ہی زید کا واحد ولد ہے۔اسی  طرح"مفکر قرآن" صاحب کا یہ دعویٰ کہ ۔۔۔"حمید سے  لے کر زید تک سب رشید کے والدین ۔"[2] میں شامل ہیں۔قطعی طور پر بے بنیاد ہے۔رشید کا والد صرف حمید ہے۔البتہ اس کے آباء میں وہ سب شامل ہیں۔کیونکہ رشید کا براہ راست ولادت کا تعلق صرف حمید سے ہے۔اور رشید اس کا ولد ہے۔

آیات وراثت اور ولد واولاد:

اب ولد اور ابن کے اس لغوی فرق وتفاوت کو ذہن میں رکھئے اور دیکھئے کہ جملہ آیات وراثت میں قرآن کریم نے ورثاء کے لئے ولد اوراولاد کے الفاظ استعمال کئے ہیں یا کہ ابن اور ابناء کے۔

1۔(عربی)

"اللہ تعالیٰ تمہاری اولاد کے بارے میں تمھیں وصیت کرتا ہے۔"

2۔(عربی)

"  تمہاری بیویوں کے ترکے میں تمہارا نصف حصہ ہے۔اگر ان کی اولاد نہ ہو ،اگر ان کی اولاد ہوتو۔۔۔تمہارے ترکہ میں تمہاری بیویوں کا چوتھا حصہ ہے۔اگرتمہاری اولاد نہ ہو لیکن اگر تمہاری اولاد ہو۔۔۔"

ان آیت میں ورثاء کے طور پر بیٹے اور بیٹیوں کے لئے ابناء کا لفظ نہیں بلکہ اولاد(ولد کی جمع) کا لفظ استعمال ہوا ہے۔اس کے مفہوم میں صرف وہ ذریت واقع ہے جس سے میت کا براہ راست ولادت کا تعلق ہو،کیونکہ ولد اوراولاد کا مادہ ہی"و۔ل۔د" ہے۔جس سے بطور مصدر لفظ ولادت بنا ہے۔اس مفہوم  میں اُردو زبان کے بیٹوں اور بیٹیوں کی آڑ میں پوتوں اور پڑ پوتوں کو داخل کرنا "مفکرقرآن" صاحب کی بے جا سینہ زوری ہے۔

اس کے بعد ان آیات کو دیکھئے جن میں اولاد کا حق اس طرح بیان کیا گیا ہے کہ میت یا مورث کے ئے ابوان کی بجائے والدان کا لفظ استعمال کیا گیا ہے۔

1۔(عربی)

"مردوں کے لئے اس ترکہ میں سے حصہ ہے۔جو ماں باپ یا قریب ترین رشتہ داروں نے چھوڑا ہو۔"

2۔(عربی)

"عورتوں کے لئے اس ترکہ میں سے حصہ ہے جو ماں باپ یا قریب ترین رشتہ داروں نے چھوڑا ہو۔"

3۔(عربی)

"اور  ہم نے ہر اس ترکے کے حقدار مقرر کردیئے ہیں جو ماں باپ اورقریب ترین رشتہ دار چھوڑدیں۔"

ان آیارت میں بھی والدان کا لفظ استعمال ہوا ہے جو براہ راست ولادت کے تعلق کا تقاضا کرتا ہے جس کا مفادیہ ہے کہ ترکہ کی تقسیم اصلاً اس زریت میں واقع ہوگی۔جس سے میت کا براہ راست ولادت کا تعلق ہوگا۔پوتے چونکہ دادے کے ساتھ براہ راست ولادت کاتعلق نہیں رکھتے۔اس لئے دادے کی اولاد میں جب تک ایک بھی ولد موجود ہے۔ا س کی موجودگی میں وہ بہرحال وراثت نہیں پاسکتے،یہ قرآن کاصریح فیصلہ ہے،ہاں البتہ اگر دادے کا ایک بھی ولد نہ ہو  اور پوتے موجود ہوں تو پھر پوتے وراثت میں حصہ پاسکتے ہیں۔کیونکہ قرآن نے آیات وراثت میں ایک  اور صرف ایک مقام پر ابناء کا لفظ استعمال کیاہے جس میں ذریت بھی شامل ہے۔ جس سے براہ راست ولادت کے تعلق کا ہونا ضروری نہیں ہے۔اور وہ مقام ہے آیت 4/11 کا وہ حصہ جس میں (عربی) کے الفاظ موجود ہیں۔

مفکر قرآن اور لفظ اقربون:

اس کے بعد آئے لفظ اقربون کی طرف جس کےمتعلق "مفکرقرآن" صاحب نے لکھا ہے کہ:

"جس لفظ نے قرآنی منشا ء کو اس قدر واضح کردیا تھا فقہ نے اسی سے سارے معاملے کو اُلجھادیا ۔"[3]

سبحان اللہ! سارے معاملے کو اُلجھا دینے کا الزام فقہ کو وہ لوگ دے رہے ہیں۔جو اپنی کج نگاہی کی بناء پر ولد اور ابن کے لغوی مفہوم سے آنکھیں بند کرتے ہوئے قرآن کے پورے قانون وراثت کو اُلجھا رہے ہیں۔

موصوف نےلفظ اقربون کی تشریح یوں کی ہے:

"اقربون کا عام ترجمہ "رشتہ دار"یا قریبی رشتہ دار" کیا جاتا ہے۔اس ترجمہ یا مفہوم کی رُو سے کہاجاتا ہے کہ قریبی رشتہ دار کی موجودگی میں دور کا رشتہ دار وارث نہیں ہوسکتا۔اقربون کے اسی مفہوم کی رو سے یتیم پوتے کو دادا کے ترکہ سے محروم کیا جاتا ہے۔۔۔۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔(عربی) کا مندرجہ بالا مفہوم صحیح نہیں ہے۔"اقرب"کا لفظی ترجمہ "قریب تر" ہے۔۔۔

رشتہ دار نہیں رشتہ  داروں کے لئے قرآن ہیں۔ذوی القربی وغیرہ کے الفاظ آئے ہیں۔"[4]

یہاں مفکر قرآن صاحب نے پھر غلط بیانی کی ہے یہ کہنا کہ اقرب کے مفہوم میں رشتہ داری کا مفہوم شامل نہیں۔صرف "قریب تر" ہی کا مفہوم  شامل  ہے۔قطعی غلط بات ہے۔مفکر قرآن صاحب تضادات کے شہنشاہ تھے ایک مقام پر اس چیز کی نفی کرتے تو دوسرے مقام پر اُسی کے اثبات پر اُتر آئے تھے۔مثال کے طور پر اسی اقربون کے مفہوم کولیجئے یہاں تو وہ یہ فرماگئے کہ۔۔۔اقرب کا لفظی ترجمہ "قریب تر" ہے رشتہ دار نہیں"۔۔۔لیکن آگے چل کر ،آیت (عربی) "رشتہ دار' ہی کیا ہے۔

خواہ یہ شہادت (اور تو  اور9 خود تمہارے اپنے خلاف جائے یا تمہارے والدین یادیگر رشتہ داروں کے خلاف۔"[5]

اس کے علاوہ آیت 4/7 میں اقربون کالفظ دو مرتبہ آیا ہے وہاں بھی اس کے مفہوم میں "رشتہ داری" کا مفہوم داخل کیاگیا ہے۔

"مردوں کے لئے حصہ ہے اس مال میں سے جو ان کے والدین یا وہ رشتہ دار جو ان کے قریب ہوں چھوڑ کردیں اسی طرح عورتوں کےلئے حصہ ہے اس مال میں سے جو ان کے والدین یا وہ رشتہ دار جو ان کے اقرب ہوں چھوڑ کردیں۔"[6]

بہرحال مفکر قرآن صاحب کا یہ فرمان صحیح نہیں ہے۔کہ اقربون کے لفظ میں رشتہ داری کا مفہوم شامل نہیں ہے۔ اب اگر ان کے نزدیک (عربی) وغیرہ الفاظ میں مفہوم رشتہ  داری موجود ہے۔تو اقربون کے لفظ میں بھی یہ مفہوم موجود ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔فرق صرف یہ ہے کہ اول الذکر لفظ میں صرف رشتہ داری کا مفہوم واقع ہے تو مؤخر الذکر لفظ میں قریب ترین رشتہ داری کا مفہوم موجود ہوگا۔

اس کے بعد  پرویز صاحب نے اقرب کے قرآنی مفہوم کی یوں وضاحت کی ہے:

"اقرب کا مفہوم قرآنی سمجھنے کے لئے پہلی بات تو یہ ذہن میں رکھئے کہ قرآن مجید نے یہ نہیں کہا کہ"ترکہ اقربون کو ملے گا"اس نے کہا کہ "جو کچھ اقربون چھوڑ جائیں وہ ان کے ورثاء میں تقسیم ہو۔یعنی اقرب کا لفظ متوفیٰ کے لئے آیا ہے۔وارث کے لئے نہیں بظاہر ان دونوں باتوں میں کچھ فرق نظر نہیں آتا لیکن آگے چل کر آپ دیکھ لیں گے کہ ان میں بڑا فرق ہے۔اقرب کے معنیٰ ہیں۔وہ متوفیٰ جس کے اور اسکے وارث کے درمیان کوئی اور حائل نہ ہو۔[7]

 یہاں مفکرقرآن صاحب نے اقرب کا جو مفہوم بیان کیا ہے وہ طلوع اسلام کی ٹکسال کا خود ساختہ سکہ ہے جو سوق علم میں قطعی طور پر کھوٹا ہے۔موصوف کا یہ کہنا کہ۔۔۔اقرب کا لفظ متوفیٰ کے لئے آیا ہے وارث کے لئے نہیں ہے۔"ایک ایسی بے معنی بات ہے۔جس کا حقیقت پر کوئی اثر نہیں پڑتا۔آپ خواہ  یہ کہیے کہ ۔۔۔مرنے والا وارث کا اقرب ہے۔یا یہ کہیے کہ۔۔۔وارث مرنے والے کا اقرب ہے۔"دونوں صورتوں میں ایک ہی بات ہے۔اس لئے یہاں خوامخواہ یہ نکتہ آرائی کرنا کہ آیئہ زیر بحث میں اقرب کا لفظ متوفیٰ کے لئے آیا ہے۔وارث کے لئے نہیں ۔"محض پانی میں مدھا نی چلانے کے مترادف ہے۔اور  پھر عمر  بھر قرآنی ریسرچ کے زعم میں مبتلا ہونے والے شخص کو اتنا بھی علم نہیں کہ قرآن نے اگر یہاں اقرب کا لفظ متوفیٰ کے لئے استعمال کیا ہے تو ایک دوسرے مقام پر اسی لفظ کو میت کے بعد،زندہ رہ جانے والوں کے لئے ابھی استعمال کیا ہے۔مثلاً(آیت نمبر 2/180) کا مفہوم پرویز۔

"جب تم دیکھو کہ تمہاری موت قریب ہے اور تم اپنے پیچھے کچھ مال ودولت چھوڑ رہے ہوتو تم اپنے والدین اور اقربین کے لئے قاعدے کے مطابق وصیت کرجاؤ۔[8]

بہرحال،اس  حقیقت کا خود پرویز صاحب کو بھی دبے لفظوں میں اقرار کرنا پڑا جب انہوں نے لکھاکہ۔۔۔بظاہر ان دونوں باتوں میں کوئی فرق نظر نہیں آتا"۔مگر اس کے بعد وہ"لیکن"کی دلدل میں ایسے پھنسے کہ اصل پٹڑی سے یہ کہتے ہوئے منحرف ہوگئے کہ

"لیکن آگے چل کر آپ دیکھیں گے کہ ان میں بڑافرق ہے اقرب کے معنیٰ ہیں وہ متوفیٰ جس کے اور اس کے وارث کے درمیان کوئی اور وارث حائل نہ ہو۔"[9]

اب آگے چل کر "مفکر قرآن" صاحب نے یہ فرق کیا بھی ہے تو اس کی بنیاد یہ امر نہیں ہے کہ آیت وراثت میں "اقرب  کا لفظ متوفیٰ کے لئے آیا ہے وارث کے لئے نہیں بلکہ یہ امر ہے کہ انہوں نے اقرب کا ایسا نیا نرالہ اور خود ساختہ مفہوم وضع کرلیا ہے۔جو لغت عرب،عرف عام اور محاورہ عرب ہر لحاظ سے غلط اور بے بنیاد ہے۔"مفکرقرآن" صاحب نے لغات القرآن میں (ق۔ر۔ب) کے مادہ کے تحت لفظ اقرب اور اقربون پرسرے سے بحث ہی نہیں کی تاکہ یہ لفظ زیر بحث آئے اور نہ ہی معانی کی سند کا سوال پیدا ہو نہ ہے بانس اور نہ بجے بانسری۔

پرویز صاحب کی مثال ثانی:

اب ہم پرویز صاحب کی مثال ثانی کا تجزیہ کرتے ہیں:

مثا ل نمبر 2 کو سامنے لائے زید ،بکر،اور عمر دونوں کا اقرب ہے کیونکہ اس کے اور اس کے بیٹوں کے درمیان کوئی اور وارث حائل نہیں۔لیکن وہ حمید اور رشید کااقرب نہیں کیونکہ اس کے اور ان دونوں کے درمیان،بکر اور عمر روک بن کر کھڑے ہیں یعنی زید اورحمید کے درمیان بکر اور زید اوررشید کے درمیان عمر۔لہذا بکر اور عمر کی موجودگی میں وہ حمید اور رشید کا اقرب نہیں ہوسکتا۔بے شک وہ حمید  اوررشید کا والد ہے لیکن ان کااقرب نہیں۔[10] اس اقتباس میں "مفکر  قرآن" صاحب نے چار مغالطے دیئے ہیں۔

اولاً۔یہ کہ ،انہوں نے زید کو بکر اور عمر کا اقرب قرار دیا اور  پھر اس کی وجہ جواز یہ پیش کی کہ زید کے اور دونوں کے درمیان کوئی وارث حائل نہیں ہے حالانکہ یہاں سرے سے اقربت کے طے کئے جانے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔یہ سوال اس صحت میں پیدا ہوتا جبکہ حمید۔رشید،عمر اور بکر سب زید کے مساوی وارث ہوتے،یہاں تو الفاظ قرآنی کو رو سے صرف "اولاد" ہی کو حق میراث پہنچتا ہے اور اولاد میں بکر وعمر کے سوا اور کوئی داخل ہی نہیں ہے بلاشبہ حمید ورشید زید کے ابناء میں داخل ہیں۔لیکن قرآن قانون میراث میں متوفیٰ کے ترکہ میں سے اولاد کو حصہ دیتا ہے ابناء کو نہیں۔ابناء اور اولاد میں جو فرق ہے اسے ہم پہلے واضح کرچکے ہیں۔

ثانیاً۔۔۔یہ کہ انہوں نے فرمایا کہ"زید ،حمید اور رشید کا اقرب نہیں۔کیونکہ اس کے اور ان دونوں کے درمیان بکر اور عمر روک بن کر کھڑے ہیں۔"اول تو یہاں اقربیت کے ہونے یا نہ ہونے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔جیسا کہ ہم پہلے کہہ چکے ہیں۔تاہم اگر برسبیل تنزل مان بھی لیا جائے۔تو سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اقربیت کی اساس جس مفہوم پر قائم ہے(یعنی یہ کہ "وہ متوفی جس کے اور اس کے وارث کے درمیان کوئی اور وارث حائل نہ ہو۔")اس کی لغت عرب ،محاورہ اہل زبان ،یا عرف عرب میں کیا دلیل ہے؟دلیل پیش کئے بغیر بات کو  آگے بڑھانا سوء معاملت یا مغالطہ انگیزی ہے۔

ثالثاً۔۔۔یہ کہ پرویز صاحب نے اقربیت کے مفہوم میں جس رکاوٹ کا ذکر کیا ہے۔اس کی تشریح میں بھی مغالطہ آرائی کی گئی ہے اور یہ کہا گیا ہے کہ۔۔۔زید اورحمید کے درمیان بکر رکاوٹ اور زید اور رشید کے درمیان عمر"حالانکہ حقیقت یہ ہے کہ زید اورحمید کے درمیان رکاوٹ بکر اور عمر دونوں ہیں۔اسی طرح زید اور رشید کے درمیان بھی بکر اور عمر دونوں رکاوٹ ہیں۔کیونکہ حمید اوررشید کے مقابلے میں بکر وعمردونوں ہی زید سے براہ راست  ولادت کا تعلق رکھتے ہیں۔اگر پرویز صاحب زندہ ہوتے تو ہم ان سے استفسارکرتے کہ

"بکر وعمر،زید کے ترکہ میں حصہ دار حمید ورشید کے باپ ہونے کی حیثیت سے   ہیں یا زید کے ولد ہونے کی حیثیت سے ؟"

پہلی شق تو بداہتاً غلط ہے کیونکہ حمید ورشید نہ بھی پیدا ہوتے تب بھی بکر وعمر زید کےوارث ہی قرار پائے۔ اس لئے دوسری شق ہی صحیح ہے یعنی یہ کہ بکر وعمر زید کے وارث اس لئے ہیں کہ وہ زید کے بیٹے ہیں نہ کہ اس لئے کہ وہ حمید ورشید کے باپ ہیں۔لہذا ان د ونوں میں سے جب تک ایک بھی ولد زید موجود ہے زید کا کوئی  پوتا بھی حق میراث نہیں پاسکتا۔یہی قرآنی قانون ہے جسے مفکر قران صاحب اقرب کے خود ساختہ معنی کی آڑ میں عمر بھر مسخ وتحریف کا نشانہ بناتے رہے ہیں۔

رابطہ۔یہ کہ پرویز صاحب نے یہ کہہ کر پھر اہل علم کی آنکھوں میں دھول جھونکنے کی کوشش کی ہے کہ۔۔۔بے شک وہ(یعنی زید) حمید اوررشید کا والد ہے لیکن وہ ان کا اقرب نہیں"۔۔۔حقیقت یہ ہے کہ ازروئے لغت ،نہ تو زید ورشید کا والد ہی ہے اور نہ ہی یہ دونوں زید کے ولد ہیں۔کیونکہ حمید اور رشید زید کا براہ راست ولادت کا تعلق نہیں ہے۔زید کا ایسا تعلق صرف بکر وعمر ہی سے ہے لہذا زید کی اولاد بکر وعمر ہیں نہ کہ حمید ورشید۔ہاں البتہ حمید ورشید بکر اور عمر ان سب کو  ہم زید کے ابناء کہہ سکتے ہیں۔اولاد نہیں اولاد زید میں صرف بکروعمر ہی داخل ہیں۔

پرویز صاحب کی مثال ثالث:

پرویز صاحب نے تیسری مثال میں اپنے مؤقف کی وضاحت بایں الفاظ پیش کی ہے۔زید۔بکر۔حمید۔۔۔۔۔زیر۔عمر ۔رشید۔۔۔""

یہ دونوں لا ئنیں الگ الگ ہیں۔بکر حمید کی  رکاوٹ ہے اور عمر رشید کی حمید کی رکاوٹ بکر کے  مرنے سے دور ہوگی رشید کی عمر کے کرنے سے آپ یہ معلوم کہہ کرحیران ہوں گے کہ فقہ بھی اسے تسلیم کرتی ہے کہ زید اورحمید کے راستے میں رکاوٹ بکر ہے عمر نہیں۔اگرزید اور بکر کی زندگی میں حمیدفوت ہوجائے تو اس کا وارث بکر ہوتا ہے زید نہیں،لیکن اگر بکر حمید سے پہلے فوت  ہوجائے تو پھر فقہ زید کو حمید کا وارث تسلیم کرلیتی ہے۔خواہ عمر زندہ ہی ہو۔یعنی  اس صورت میں عمر،زید،اور حمید کے درمیان رکاوٹ نہیں بنتا بالفاظ دیگر ہماری فقہ کی رو سے یتیم پوتا تو دادا کی وراثت سے محروم قرار پاتا ہے۔لیکن دادا اپنے یتیم پوتے کی وراثت سے محروم قرار نہیں پاتا۔یہ بات آپ کو عجیب سی لگے گی۔لیکن عجیب ہو یا غریب ہے یہ واقعہ فقہ کا یہی فیصلہ ہے۔اس سے واضح ہوتا ہے کہ فقہ خود تسلیم کرتی ہے کہ اقرب کے معنی قریبی رشتے کے نہیں۔[11]  بلکہ وہ متوفیٰ ہے جس کے  اور اس کے وارث کے درمیان کوئی اور وارث نہ ہو۔"[12]

اس اقتباس میں پرویز صاحب نے تین لغزشوں کاارتکاب کیا ہے۔

اولاً۔۔۔یہ کہ پرویز صاحب نے زید کی میراث پانے میں حمید کی رکاوٹ صرف بکر کو اور رشید کی رکاوٹ صرف عمر کو قرار دیا ہے۔ حالانکہ زید کی ساری اولاد(الفاظ مٹے ہوئے ہیں) زید کے پوتوں میں سے ہر ایک کے مقابلے میں رکاوٹ بناہوا ہے کیونکہ پوتوں کے مقابلے میں بیتے بہرحال دادا کے اقرب ہیں۔(بشرط یہ کہ یہاں  اقربیت کا سوال پیدا بھی ہو)کیونکہ وہ بربنائے ولادت اس کی اولاد ہیں جبکہ پوتے دادا کی اولاد نہیں ہیں،جب تک دادا کی اولاد میں سے ایک فرد بھی زندہ ہے۔وہ  پوتوں کی نسبت دادا سے اقرب ہے۔لہذا اس کی موجودگی میں پوتے دادا کےوارث نہیں ہوسکتے،پرویز صاحب کی پیش کردہ  مثال کی روشنی میں حمید کے لئے رکاوٹ صرف بکر ہی نہیں عمر بھی ہے۔کیونکہ عمر، اور بکر زید کے وارث محض اس لئے ہیں کہ وہ دونوں زید کے بیٹے ہیں۔اس لئے نہیں کہ وہ حمید رشید کے باپ ہیں۔پس جب تک بکر وعمر میں سے کوئی ایک یا دونوں موجود ہیں۔وہ بربنائے حق ولدیت ،زید کے وارث ہیں اور ان دونوں کی موجودگی میں (یا ان میں سے کسی ایک کی موجودگی میں )کوئی پوتا خواہ وہ یتیم ہو یا نہ ہو،دادا کی میراث نہیں پاسکتا۔اس لئے کہ قرآن اصول کی موت پرفروع میں تقسیم ترکہ کے لئے ولد اور اولاد کے الفاظ استعمال کرتا ہے جس کا مفادیہ ہے کہ زیر بحث مثال کی روشنی میں زید کے کسی بیٹے کی موجودگی میں اس کا کوئی پوتا مستحق نہیں ہوسکتا۔

ثانیاً ۔۔۔یہ کہ پرویز صاحب نے لکھا ہے کہ ۔۔۔"فقہ بھی یہ تسلیم کرتی ہے کہ زید اورحمید کےراستے میں رکاوٹ بکر ہے عمر نہیں۔۔۔ہماری فقہ کی رو سے یتیم پوتا تو دادا کی وراثت سے  محروم قرار  پاتا ہے۔لیکن دادا اپنے یتیم پوتے کی وراثت سے محروم قرار نہیں پاتا،یہ بات آپ کو عجیب سی لگے کی ،لیکن عجیب ہو یا غریب ،سے یہ واقعہ فقہ کا یہی فیصلہ ہے۔"

زیر بحث مثال کی ر وشنی میں یہ امر تو فریقین کے درمیان متفق علیہ ہے کہ اگرزید اور بکر کی زندگی میں حمید فوت ہوجائےتو اس کا وارث بکر ہوتاہے (قطع نظر اس کے کہ اس امر کی وجہ بنیاد بھی متفق علیہ ہے یا نہیں)رہا یہ امرکہ اگر بکر حمید سے پہلے فوت ہوجائے۔تو پھر فقہ زید کو حمید کاوارث تسلیم کرلیتی ہے۔خواہ  عمر زندہ ہی ہو۔یعنی ا س صورت میں عمر  زید اورحمید کے راستے میں  رکاوٹ نہیں بنتا۔بالفاظ دیگرہماری فقہ کی رو سے یتیم پوتا دادا کی وراثت سے محروم قرار دیا جاتاہے۔لیکن دادا اپنے یتیم پوتے کی وراثت سے محروم قرار نہیں پاتا۔پرویز صاحب کا یہ اعتراض بظاہر معقول دیکھائی دیتاہے۔ لیکن ذرا گہری نظر سے دیکھا جائے تو اس کی کمزوری عیاں ہوجاتی ہے۔

"مفکرقرآن" صاحب کی یہ ایک مستقل عادت تھی۔کہ جس بات کی وہ مخالفت کرنا چاہتے تھے اُسے فقہ کے کھاتے میں ڈال دیتے تھے۔اور جس چیز کی وہ تائید کرنا چاہتے تھے اُسے چھیل چھال کر قرآن سے برآمد کرلیتے تھے یہاں جس بات کو فتنہ کے کھاتے میں ڈالاگیاہے۔وہ بجائے خود قرآن مجید ہی سے  ثابت ہے تفصیل اس کی اجمال یہ ہے۔

ہم قبل ازیں  تفصیلاً یہ بتا چکے ہیں کہ ازروئے لغت ولد اس بیٹے کو کہتے ہیں جس سے کسی شخص کا براہ راست ولادت کاتعلق ہو۔جبکہ ابن  کے لئے ولادت کاتعلق  ہوناضروری نہیں ہے۔بالکل اسی طرح والد اس شخص کو کہتے ہیں۔جس کے فعل ولادت کے نتیجہ میں کوئی شخص اس کا بیٹا بنا ہو،جبکہ اب(یاابو) کے لئے ضروری نہیں کہ وہ اپنے بیٹے کے ساتھ براہ راست ولادت کاتعلق رکھتا ہو۔اس طرح اگر بیٹا ولد ہے تو باپ والد ہوگا اور اگر بیٹا ابن ہے تو باپ اب (یا ابو) کہلائے گا۔

اب قرآن پرسرسری نظر رکھنے والا شخص بھی جانتا ہے۔ کہ جب باپ کے مرنے کی صورت میں بیٹوں کیطرف مال وراثت کے انتقال اور تقسیم  ترکہ کا ذکر آتا ہے۔توقرآن کریم میں الفاظ بجائے ابن اور اب کے ولد اور والد کے استعمال ہوتے ہیں۔لیکن جب قرآن فروع کی موت کی صورت میں اصول کی طرف مال وراثت کے انتقال اورتقسیم ترکہ کا ذکر کرتا ہے۔تو  وہاں الفاظ جو استعمال ہوتے ہیں۔لیکن جب قرآن فروع کی موت کی صورت میں اصول کی طرف ما ل وراثت کے انتقال اور تقسیم ترکہ کا ذکر کرتاہے۔تو وہاں الفاظ جو استعمال ہوتے ہیں وہ ولد اور والد کے نہیں بلکہ ابن کی نسبت سے اب یا ابوین کےالفاظ استعمال ہوئے ہیں۔جن کی رو سے یہ ضروری نہیں ہے کہ مورث اوروارث کے درمیان براہ ر است ولادت کا ہی تعلق لازماً پایا جائے،مثلاقرآن پاک کہتا ہے:

(عربی)

"اگر میت صاحب اولاد ہوتو اس کے والدین میں سے ہر ایک کوترکہ چھٹا حصہ ملناچاہیے اور اگر وہ صاحب اولاد نہ ہو اور والدین ہی اس کے وارث ہوں تو ماں کو تیسرا حصہ دیا جائے ۔"

لیکن جب اصول کی موت کی صورت میں فروع کا ذکر بطور وارث کے کیا جاتا ہے۔توقرآن مجید ابن  (یاابناء) کی بجائے ولد اور اولاد کا ذکر کرتاہے مثلا (عربی) (وغیرہ آیات جو پہلے بھی گزر چکی ہیں) ان حقائق کی روشنی میں جب یتیم پوتا مرتاہے۔تو خود قرآن (عربی) کی صورت میں،جس ماں باپ کا ذکر کرتاہے۔ان کے متعلق یہ سرے سے ضروری ہے ہی نہیں کہ وارث اور مورث کے درمیان ولادت کا براہ راست تعلق پایاجائے۔ایسی صورت (عربی) کی  رو سے ماں باپ یا دادا ،دادی،یا پردادا،پردادی وغیرہ سب شامل ہوں گے۔لیکن میراث ان میں سے صرف اس کو ملے گی جس کی میت اقرب ہوگی یا جو میت کا اقرب ہوگا۔رہا عمر کا زندہ ہوتے ہوئے بھی اس صورت میں (پرویز صاحب کی مثال کی روشنی میں ) حمید اور زید کے درمیان رکاوٹ نہ بننا۔تو اس کی وجہ یہ ہے کہ فروع سے اصول کی طرف منتہی ہوتے ہوئے، سلسلہ نصب کی کڑی سے وہ قطعی طور پر خارج ہے۔پرویز صاحب کی پیش کردہ مثال ثالث کی صورت میں ،یوں کہیےکہ۔۔۔اگر بکرحمید سے پہلے فوت ہوجائے تو زید حمید کاوارث قرار  پا جاتا ہے۔خواہ عمر زندہ ہی ہو،اسی لئے کہ عمر اس سلسلہ ء نسب میں جو حمید(میت یا مورث) سے شروع ہوکر زید تک منتہا ہوتا ہے۔داخل نہیں ہے،لیکن جب دادا فوت ہوگا  اور ترکہ اوپر سے نیچے آئے گا۔تو زید (میت یامورث) کے نسب میں عمر جو ولد زید ہے لازماً شامل ہوگا۔(خواہ بکر بقید حیات ہویا نہ ہو)یہی وجہ ہے کہ دادا کی میراث جب نیچے آتی ہے تو دادے کی اولاد،دادے اور ا س  کے پوتوں کے درمیان حائل ہوتی ہے۔قطع نظر اس کے کہ ان پوتوں میں سے کوئی یتیم ہے یا نہیں ہے۔ لیکن جب میراث نیچے سے (یعنی پوتے کی موت کی صورت میں) اوپر جاتی ہے۔یا پرویز صاحب کی مثال کی رو سے حمید سے زید کی طرف منتقل ہوتی ہے۔تو بکر اس لئے حائل نہیں ہوسکتا کہ وہ پہلے ہی فوت ہوچکا ہے۔اور عمرحمید کاچچا اس لئے کہ وہ شرعاً بھتیجے کا وارث نہیں ہے۔اور یہ سارا فرق محض اس وجہ سے واقع ہوا  ہے کہ خود قرآن نے اوپرسے نیچے منتقل ہونے والی میراث کی صورت میں اولاد کالفظ استعمال کیا ہے۔جبکہ نیچے سے اوپر کی طرف انتقال میراث کی صورت میں ابوین کا لفظ اختیار کیاہے۔

اس اقتباس کے آخر میں پرویز صاحب نے لکھا ہے کہ

"اس سے واضح ہوتا ہےکہ فقہ  خود  تسلیم کرتی ہے کہ اقرب کے معنی وہ قریبی رشتے نہیں بلکہ وہ متوفیٰ ہے۔جس کے اور اس کے وارث کے درمیان کوئی اوروارث نہ ہو۔[13]

اول تو یہ فقہ کا مسئلہ نہیں بلکہ قرآن کا مسئلہ ہے۔اور جس بنیاد پر قرآن اسے طے کرتا ہے۔وہ  تفصیلاً بیان ہوچکی ہے۔پھر اسکے بعد بھی اقرب کے خود ساختہ معانی پر اصرار کر تے چلے جانا،در اصل دوسروں کے الفاظ خود اپنے خیالات کو  پڑھنے کی عادت کا کرشمہ ہے۔

قائمقامی کا نظریہ  پرویز اور اس کا جائزہ:

پرویز  صاحب نے اول تو لفظ اقرب"کاخود ساختہ مفہوم گھڑا،جس کی کوئی سند ،لغات ومحاورہ عرب سے  پیش نہیں کی دوسرے قانون وراثت میں قائمقامی کے من گھڑت نظریہ کو داخل کیا۔جس سے اسلام کا معقول ومتوازن قانون وراثت یکسر ابتر اور پراگندہ ہو کر رہ جاتا ہے۔چنانچہ موصوف نے اس امر کی وضاحت کرتے ہوئے کہ دادا کے مرنے کی صورت میں پوتا کیونکر مستحق وراثت ہوجاتا ہے۔یہ لکھا ہے کہ:

"اصل یہ ہے کہ حمید اپنے باپ کے مرنے پر باپ کی جگہ آجاتا ہے۔اسی طرح رشید اپنے باپ کے مرنے پر اس کی جگہ اس وقت یہ زید کے پوتے نہیں رہتے۔اولاد میں شامل ہونے کی جہت سے، اس کے بیٹے بن جاتے ہیں۔یعنی زید کے بیٹوں کے قائمقام ہو جاتے ہیں۔یتیم پوتہ اپنے مرحوم باپ کا قائمقام ہوتا ہے۔"[14]

حقیقت یہ ہے کہ قائمقامی کا یہ نظریہ قطعی طور پر خلاف اسلام ہے۔پرویز صاحب کا اصل کمال یہی تھا کہ وہ خلاف اسلام اور مخالف قرآن نظریات کو قرآنی الفاظ    کی کھینچ تان کے ذریعہ ،مشرف باسلام کرتے کرتے "مفکر قرآن"بن گئے تھے، کتنی ہی باتیں ایسی ہیں جنھیں قرآن کو تاویل کے خراد پر چڑھا کر "قرآنی"بنایا اور پھر ایسی قلا بازی کھائی کہ اُسے "غیر قرآنی" بھی قرار دے لیا۔اس کی بہت سی مثالیں،میں عنقریب ایک مضمون کی صورت میں پیش کررہا ہوں۔ان شاء اللہ العزیز۔بہرحال جہاں تک پرویز صاحب کے نظریہ قائم مقامی کا تعلق ہے اس کا باطل ہونا درج ذیل وجوہ سے ظاہر ہے۔

1۔یہ نظریہ،قرآنی حصص میں کمی بیشی کرڈالتا ہے۔مثلاً ایک شخص کے دونوں بیٹے اس کی زندگی میں فوت ہوگئے،ایک بیٹا ،ایک پسر، اور دوسرا بیٹا چار فرزند چھوڑ اب دادا کی میراث میں ازروئے قرآن،یہ تمام پوتے مساوی حصص کے حقدار ہیں۔اگر دادا کاترکہ ایک ہزار روپے پر مشتمل ہوتو تمام  پوتوں کو دو صد روپیہ فی کس کے حساب مساوی حصے ملتے ہیں۔لیکن قائمقامی کا یہ نظریہ ایک پوتے کو (جو اپنے والد کا اکلوتا بیٹا تھا) کل ترکہ کا نصف (100 کا ½ 500) یعنی 500  روپے دلاتا ہے۔جبکہ بقیہ چار پوتوں میں سے ہر ایک باقی ماندہ نصف میں سے(100۔500 برابر 500 تقسیم چار) ایک ایک چوتھائی یعنی 125 روپے فی کس دلا  تاہے جو قطعی طور پر خلاف قرآن بھی ہے۔ اور قرآنی حصص میں کمی بیشی کا باعث بھی ہے۔

2۔ازروئے قرآن میرا ث صرف اُن ورثاء کو مل سکتی ہے جو مورث کی وفات کے وقت زندہ ہوں نہ کہ وہ جو زندہ فرض کرلئے گئے ہوں۔اور پھر ان کے قائم مقام بن کر کچھ اور لوگ میراث  پائیں،لیکن قائم مقام کا یہ نظریہ ایسے لوگوں کا حق میراث بھی تجویز کرتا ہے،جو مورث کی زندگی ہی میں فوت ہوچکے ہوں۔جس کا گویا مطلب یہ ہے کہ مورث کی حیات ہی میں ورثاء کا حق وراثت پیدا ہوجاتا ہے۔البتہ اس کا نفاذ مورث کی موت تک مؤخر رہتا ہے۔حالانکہ یہ چیز بھی بجائے خود غلط ہے۔کیونکہ مورث کی زندگی میں سرے سے کوئی حق میراث پیدا ہی نہیں ہوتا ۔کجا یہ کہ اس کا نفاذ مرگ مورث تک التواء کا شکار رہے ۔قرآن کریم کی رُو سے وارث کا حق پیدا ہی اس وقت ہوتا ہے جبکہ مورث ،مال چھوڑ کر مرچکا ہو۔قرآنی آیات اس پر گواہ ہیں:

"مردوں کے لئے اس مال میں سے حصہ ہے جو والدین اور قریب تر رشتہ داروں نے چھوڑ ا ہو اورعورتوں کے لئے اس مال میں سے حصہ ہے، جو والدین اور قریب تر رشتہ داروں نے چھوڑا ہو۔"[15]

"اگر کوئی شخص ہلاک ہوجائے اور اس کے کوئی اولاد نہ ہو  اور اس کی ایک بہن ہوتو جو کچھ اس نے چھوڑا ہو،اس کا نصف بہن کے لئے ہے۔"[16]

اسی طرح آیت (4/11)،(4/12) میں بار بار (عربی) کے الفاظ بھی حقیقت واضح کرتے ہیں کہ:

الف۔حق میراث،مورث کی موت سے قبل  پیدا نہیں ہوتا۔

ب۔میراث کے حقدار صر ف وہ لوگ ہیں جو مورث کی موت کے وقت زندہ ہوں نہ کہ زندہ فرض کرلئے گئے ہوں۔

ج۔جو لوگ مورث کے حین حیات مرچکے ہوں، ان کا میراث میں کوئی حصہ نہیں ہے۔کیونکہ وہ اس وقت مرچکے تھے۔جب ان کا حق میراث پیدا ہی نہیں ہوا تھا۔لہذا اب کوئی فرد بشر ان کا قائمقام بن کر حق میراث نہیں  پاسکتا۔الا یہ کہ وہ خود اپنا کوئی شرعی  حق میراث میں رکھتا ہو۔

3۔پرویز صاحب کی پہلی غلط تو یہ ہے کہ وہ قرآن کے قانون وراثت میں قائم مقامی کا ایک خود ساختہ نظریہ گھسیڑتے رہے  پھر دوسری غلطی یہ کرتے رہے کہ اس من گھڑت نظریئے کا انطباق بھی من مانے طریقوں پر کرتے رہے،سیدھی سی بات ہے کہ اگر قائمقامی کا یہ نظریہ واقعی ،معقول " چیز ہے تو پھر اسے وسیع ہونا چاہیے۔اور یوں کہنا چاہیے کہ:

"ہر وہ شخص جو مورث کی وفات کے وقت زندہ موجود ہونے کی صورت میں شرعاً وارث ہوتا،وہ  اگر مورث کی زندگی ہی میں مرگیا ہو تو اس کے تمام شرعی وارث بوقت وفات مورث،اسکے قائمقام قرار پائیں گے اور انہیں میراث مورث میں سے حصہ ملے گا۔"

لیکن پرویز صاحب تھے کہ اسے صرف یتیم پوتے کی حد تک ہی محدود رکھتے تھے۔کیا اس طرز عمل کی کوئی عقلی یاقرآنی دلیل ہے؟

میں چاہتا ہوں کہ قائم مقامی کے اس خود ساختہ نظریے کی لغویت کو چندمثالوں کے ذریعہ واضح کردو۔

1۔ایک شوہر کی بیوی مدت ہوئی فوت ہوچکی ہے۔اس بیوی کے جملہ وارث اب بھی زندہ ہیں۔اب شوہر بھی داعی اجل کو لبیک کہہ دیتا ہے۔کیا وجہ ہے کہ بیوی کے وارثوں کو بیوی کا قائم مقام بنا کر مرنے والے شوہر کو جائیداد میں سے حصہ نہ دیا جائے بالکل اسی طرح،جس طرح آپ،باپ کی وفات کی صورت میں یتیم پوتے کو باپ کا قائم مقام بنا کر دادے کی میراث میں حصہ دار بناتے ہیں؟

2۔ایک  شخص کا شادی شدہ پسر ا کے عین حیات فوت ہوگیا،ا س کی کوئی اولاد نہیں ہے۔،اب کیا وجہ ہے کہ اس کے بیٹے کی بیوہ خسر کی وفات پر اپنے شوہر کے قائم  مقام ہونے کی حیثیت سے ترکہ میں سے حصہ نہ پائے؟جب کہ بیوہ کی بجائے اگر اس کا  بیٹا ہوتا تو وہ آپ کے خود ساختہ نظریہ قائم مقامی کے باعث یتیم پوتا بن کر دادا کی میراث پالیتا؟یہ نظریہ جس سے گزشتہ چودہ سا ل سے فقہائے ملت اور ماہرین قانون اسلامی،ناواقف رہے اور جس کا انکشاف دورحاضر کے ان دانشوروں پر ہوا ہے جن کے چراغ دانش کا ایندھن تہذیب فرنگ سے لیاگیا ہے۔آخر ایک بیوہ کو خسر کے ترکہ میں سے حصہ کیوں نہیں دلاتا؟کیا یہ عجیب بات نہیں کہ ہر سانس میں "مذہبی پیشوائیت" کو مطعون کرنے والے یہ کالے انگریز خود مذہبی پیشوا بن کر قائمی مقامی کا خود ساختہ نظریہ قائم کرتے ہیں۔اور پھر اُسے بے لاگ طریقے سے نافذ کرنے کی بجائے من مانے طریقوں سے جاری کرتے ہیں۔

3۔ایک شخص کے چاربچے اس کی زندگی میں فوت ہوگئے اب اس کی وفات پر ان چاروں بچوں کی ماں کو کیوں نہ ان کا قائم مقام قرار دیا جائے،اور اس بیوہ کو حق زوجیت کے علاوہ ان مرحوم بچوں کے قائم مقام ہونے  کی حیثیت سے بھی کیوں نہ اسے حصہ میراث دلایا جائے؟ہم نہیں سمجھتے کہ"قائم مقامی" کا یہ اصول تسلیم کرلینے کے بعد ایسی بیوہ کو محروم الارث کیاجاسکتا ہےیہ چند مثالیں پرویز صاحب کے موقف کی لغویت کو واضح کرنے کے لئے کافی ہیں ۔غور وفکر سے ایسی مزید مثالیں بھی سامنے آجاتی ہیں۔

ایک غلط تاثر اور اس کاازالہ:

گزشتہ تیس چالیس برسوں میں یتیم پوتے کی وراثت کے مسئلہ پر جن لوگوں نے فقہائے ملت سے اختلاف کیا ہے۔انہوں نے اس انداز میں اچھا لاہے۔کہ یہ تاثر عام ہوگیا کہ شرعی قانون وراثت بس اس قدر ہے کہ یتیم پوتا میراث جد سے محروم قرار پاتا ہے۔یہ بہت بڑا ظلم ہے۔کہ پوتا یتیم ہونے کے ساتھ ساتھ دلادے کی میراث سے بھی محروم قرار پائے۔اس بے ہنگم شور(وشغب میں قلوب واذہان پر،یہ تصور مستولی ہوگیا کہ اسلامی قانون وراثت میں ،پوتے کے لئے دادا کی میراث پانے کی کوئی اور صورت ہے ہی نہیں بس یہی واحد  صورت ہے۔اب اگر اس میں پوتے کو کچھ نہیں ملتا تو گویا اس کے لئے دادے سے ترکہ پانے کی ساری راہیں مسدود ہوگئیں۔ پھر ایک جذبانی  پس منظر میں،ہمدردی،رحمت اور شفقت کے نام پر ایسی فضا تیار کی گئی،جس میں دادے سے محروم الارث پوتا"مجسمہ مظلومیت"دیکھانی دینے لگا اور فقہاء ملت ،(جنھوں نے ازروئے اسلام یہ مسئلہ بیان کیا)فہم قرآن سے ایسے عاری،بلید الذہن اور کو دن دماغ نظر آنے لگے جو ہمیشہ سے "یتیم دشمن" رہے ہیں۔ اس فضاء میں تجدد پسند طبقہ نے آنکھوں میں آنسو لاتے ہوئے ایک طرف تو آہ سر د بھر کر "آہ محکومی وتقلید وزوال تحقیق" کارونا رویا،اور دوسری طرف اپنے عروج تحقیق کا مظاہرہ کرتے ہوئے،نظریہ قائم مقامی" کو ایجاد کیا،تاکہ یتیم پوتے سے ہمدردی ورحمت کے تقاضے پورے ہوجائیں لیکن اس کی بیوہ ماں کو نظر انداز کردیا،جو اسی نو ساخت نظریے کی اساس پر اپنے شوہر کی قائم مقام بن کر،اُسی خسر سے ترکہ پانے کی مجاز ہے جس سے اس بیوہ کا لڑکا ،یتیم پوتے کی حیثیت سے میراث پارہا ہے۔ہمدردی کے نام پر یتیم پوتے کو ترکہ جد میں سے حصہ دلانا اور اُس کی بیوہ ماں کی خسر کی میراث سے محروم کرنا،ایک ایسا طرز عمل ہے جسے بلا دلیل عقلی اور بلا برھان نقلی اختیار کیاجاتا ہے۔حالانکہ اسلام کو جیسی ہمدردی یتیموں سے ہے ویسی ہی بیواؤں سے بھی ہے۔

بہرحال زیر بحث مسئلہ میں ہم یہ عرض کرنا چاہتے ہیں،کہ پونا بہت سی صورتوں میں دادا کاترکہ پاتا ہے۔ان سب صورتوں میں یہی وہ واحد صورت ہے جس میں  پوتا محروم الارث رہتا ہے۔اس کے علاوہ باقی تقریبا ً تمام صورتوں میں وہ میراث پاتا ہے۔

استحاق میراث کی مختلف صورتیں:

بعض صورتوں میں پورے کا پورا ترکہ اوربعض میں نصف اور بعض میں کم وبیش ترکہ اسے ملتا ہے چند ایک مثالیں ملاحظہ فرمائیے:

1۔میت اگر ایک یتیم پوتا اور حقیقی بہن بھائی چھوڑ کر مرے تو کل کا کل مال پوتے کو ملے گا۔

2۔اگر یتیم پوتے کے ساتھ میت کے ماموں اور خالہ بھی ہوں۔تب بھی صرف  پوتے ہی کو کل مال ملے گا،اسی  طرح اگر ماموں زاد خالہ زاد بہن بھائی ہوں تب بھی  پورا ترکہ پوتے ہی کا ہوگا۔

3۔اگر  میت کی پھوپھی یا اس کی اولاد ہو،تب  کل ترکے کا یتیم پوتا ہی وارث ہوگا۔

4۔اگر صرف نانا ہی ہوتب بھی میت کا کل ترکہ پوتے ہی کو ملے گا۔

5۔اگر میت کا تایا چچا یا عمزاد ہوتب بھی یتیم پوتا ہی کل ترکے کا وارث ہوگا۔

6۔اگر میت کے بھتیجے ہوں تب بھی یتیم پوتا ہی ساراترکہ پائے گا۔

7۔اگر یتیم پوتا اور بھانجے بھانجیاں ہی میت کے پسماندگان ہوں تب بھی سارا ترکہ پوتے کو ملے گا۔

8۔اگر میت کا ایک یتیم پوتا پھر اس سے نچلی نسلوں کے کئی عزیز موجود ہوں تب بھی صرف پوتا ہی سارے ترکہ کا مالک ہوگا۔

9۔اگر میت کاصرف ایک ہی پوتا یا ایک ہی پوتی ہے تو کل مال کے یہی وارث ہوں گے۔

10۔اگر میت کا ایک یتیم پوتا ہو اور باپ شریک بہن بھائی ہوں تب بھی پورے کا پورا ترکہ پوتے ہی کو ملے گا دوسروں کو کچھ نہیں ملے گا۔

11۔اگر میت کا ایک یتیم پوتا ہو اور اس کے ایک یا بہت سے ماں شریک بہن بھائی ہوں تب بھی پوری میراث پوتے ہی کو ملے گی۔

12۔اگر میت کے پسماندگان میں صرف ایک یتیم پوتا اور میت کا نانا ہے تب بھی پوتا ہی پورے  ترکے کاواحد وارث ہوگا۔

13۔اگر مرنے والا ایک یتیم پوتا اور بیوی چھوڑ کرمرے تو بیوی کو آٹھواں حصہ اور باقی (یعنی 7/8) یتیم پوتے کو ملے گا

14۔اگر میت ایک یتیم پوتا اور باپ چھوڑ کر مرے تو باپ کو چھٹا حصہ ملےگا جبکہ باقی (یعنی 5/6) سارے کا سارا یتیم پوتا حاصل کرے گا۔

15۔اگر میت کا ایک یتیم پوتا اور دادا ہو،تو دادا کو چھٹا حصہ اور باقی سارا(یعنی 5/6) یتیم پوتے کو ملے گا۔

16۔اگر میت کا ایک یتیم پوتا اور والدہ ہو تو والدہ کو چھٹا حصہ اور باقی سب(یعنی 5/6) یتیم پوتے کا حصہ ہوگا۔

17۔اگر میت کی نانی یا پڑنانی ہوتو چھٹا حصہ اسے دیا جائے گا بقیہ ساراترکہ (یعنی 5/6) میت کے یتیم پوتے کو ملے گا۔پڑنانی کی ماں اورنانی وغیرہ کی موجودگی میں بھی ایسی ہی صورت ہوگی۔

18۔اگر میت کی دادی  یا پڑدادی ہویا میت کے باپ کی نانی پڑ نانی وغیرہ ہو تو اسے چھٹا حصہ دے کر باقی سب(یعنی5/6) میت کے یتیم پوتے کو ملے گا۔

19۔اگرمیت کا شوہر اور یتیم پوتا ہوتو شوہر کو ایک چوتھائی اور باقی سب کا سب (یعنی ¾) یتیم پوتے کا حصہ ہوگا۔

20۔اگر میت کی ایک  بیٹی اور ایک یتیم پوتا ہو تو نصف ترکہ بیٹی کو ملے گا اور باقی نصف یتیم پوتے کی میراث ہوگا۔

21۔اگر میت کی ایک سے زائد بیٹیاں ہوں تو دوتہائی بیٹیوں کو دے کر باقی (یعنی 1/3) یتیم پوتے کا حصہ ہوگا۔

یہ مشتے نمونہ ازخر وارے چند مثالیں ہیں۔ورنہ ذرا اور غوروقاتل کیا جائے تو بہت سی ایسی مثالیں اوربھی مل سکتی ہیں۔ان میں پہلی بارہ مثالیں وہ ہیں جن میں یتیم پوتے کو میت کا پورا ترکہ مل جاتاہے۔اگلی سات مثالیں (13تا19) وہ ہیں جن میں یتیم پوتا نصف سے بہت زیادہ ترکے کا وارث قرار پاتا ہے۔آخری دونوں مثالوں میں اس کا حصہ،نصف یا نصف سے کمتر بنتا ہے۔استحقاق میراث کی ان تمام صورتوں کو ملاحظہ فرمایئے،اور پھر داددیجئے متجد دین پاکستان کو جو یتیم پوتے کی محرومی کی صرف ایک صورت کے مقابلے میں ،کم از کم اُن بارہ صورتوں کو نظر انداز کردیتے ہیں۔جن میں یتیم پوتے کو پورا ترکہ ملتا ہے۔اسے کہتے ہیں "رائی کا پہاڑ بنانا" خیر یہاں "رائی" تو موجود ہے ہی جس کا پہاڑ بنایا گیا ہے۔ورنہ یہ لوگ تو ایسے فن کار ہیں کہ بغیر رائی کے بھی پہاڑ بنا لینا ان کے بائیں ہاتھ کاکام ہے۔

[1] ۔مطالب الفرقان ،ج4،صفحہ 289۔
[2] ۔"مفکرقرآن"صاحب کو یہاں سوءفہم لاحق ہوا ہے والدین مثنیہ کا لفظ ہے جس میں دو سے زائد افراد داخل نہیں ہوسکتے لیکن آنجہانی حمید سے لے کر زید تک چار پشتوں کو اس میں داخل کرتے رہے ہیں۔
[3] ۔مطالب الفرقان،ج4،صفحہ289۔
[4] ۔مطالب الفرقان،ج4صفحہ 289۔290۔
[5] ۔مطالب الفرقان،ج4صفحہ 422۔
[6] ۔مطالب الفرقان،ج4صفحہ 281۔
[7] ۔ایضاً،ج4،صفحہ290۔
[8] ۔مفہوم القرآن صفحہ 66۔
[9] ۔مطالب الفرقان ج4،صفحہ 290۔
[10] ۔مطالب الفرقان،ج4،صفحہ 290۔
[11] ۔اس تضاد بیانی کو ملاحظہ فرمائیں کہ یہاں  پرویز صاحب نے اقرب یعنی قریبی رشتہ دار کی نفی کی جبکہ آیت   5 اور 135 میں پھر انہی معانی کا اثبات کیا ہے حوالے پہلے گزر چکے ہیں۔
[12] ۔مطالب الفرقان،ج4،صفحہ 291۔
[13] ۔مطالب الفرقان ،ج4،صفحہ 291۔
[14] ۔مطالب القرآن،ج ،4 صفحہ 292۔
[15] ۔النساء،آیت 7۔
[16] ۔النساء:176۔