مرفوعاً یوں  آیا ہے کہ"وہ پھول کر گھر کے برابر ہوجاتاہے۔؟بسم اللہ کہنے سے ایک مکھی کی مانند چھوٹا ہوجاتا ہے یہ تاثیر بسم اللہ کی برکت ہے۔
ابن کثیر ؒ کہتے ہیں "اسی لئے ہر کام اور ہر بات سے پہلے بسم اللہ کہنا مستحب ہے جیسے کتاب کے دیباچے سے پہلے ،بیت الخلاء میں داخل ہونے سے پہلے اوروضو سے پہلے،بعض علماء کے نزدیک وضو سے پہلے "بسم اللہ " کہنا واجب ہے۔اسی طرح ذبحہ کے وقت کھانے سے پہلے ،جماع سے پہلے بسم اللہ کہنا مستحب یاواجب ہے۔اس باب میں بہت سی حدیثیں آئی ہیں۔
حدیث ابو ہریرۃ  رضی اللہ تعالیٰ عنہ  میں مرفوعاًآیا ہے۔اللہ کے نناوے نام  ہیں،جس نے انھیں یاد کرلیا وہ جنت میں جائےگا۔(بخاری ومسلم)
اللہ تعالیٰ نے فرمایا:
(عربی)
"اور اللہ کے سب  نام اچھے ہی ہیں تو اُس کو اُس کے نام سے پکارا کرو۔"
دوسری جگہ فرمایا:
(عربی)
"کہہ دو تم اللہ کے نام سے پکارو یا ر حمٰن کے نام سے جس نام سے پکارو اُس کے سب نام اچھے ہیں۔
بعض محققین نے کہا ہے کہ اللہ کا لفظ مبارک اسم اعظم ہے۔قرآن مجید میں اللہ کا یہ اسم ذات دو ہزار تین سو ساٹھ جگہ پر آیا ہے۔رحمٰن کا لفظ اللہ کے علاوہ  کسی مخلوق پر نہیں بولاجاتا۔اس سے معلوم ہو اکہ اللہ کے بعض نام ایسے  بھی ہیں جو غیر اللہ پر بولے جاتے ہیں جیسے۔روؤف رحیم کہ  رسول اللہ صلی اللہ علیہ  وسلم کے بارے میں آئے ہیں:
(عر بی)
"اورتمھاری بھلائی کے بہت خواہش مند ہیں اور مومنوں پر نہایت شفقت کرنے والے(اور ) مہربان ہیں۔"
یاسمیع بصیر کہ ہر انسان کے حق میں استعمال ہوئے ہیں۔
(عربی)
"ہم نے انسان کو نطفہء مخلوط سے پیدا کیا تاکہ اُسے آزمائیں،تو ہم نے اسے سنتا دیکھتا بنایا۔"
رحمٰن:۔اطلاق بعض کفار قریش نے مسیلمہ کذاب پر کیا تھا۔اس لئے عطاء خراسانی نے یہ بات کہی ہے کہ بسم اللہ میں رحمٰن کے بعد رحیم کالفظ اس لئے آیا ہے کہ مجموعی لفظ الرحمٰن الرحیم خاص ساتھ اللہ کے ہے کیونکہ لفظ رحمٰن بعض عرب نے غیر اللہ کو بھی اپنی جہالت ،حماقت،اورعناد کی وجہ سے کہہ لیا۔مگر یہ وصف مجموع کسی دوسرے پر نہیں بولا جاسکتا۔لفظ"رحمٰن"میں لفظ"رحیم" کی نسبت زیادہ مبالغہ ہے۔
ابن جریرؒ کی تقیریر سے یہ ظاہر ہوتاہے کہ  اس بات پر سب کا اتفاق ہے کہ گویا "رحمٰن" وہ ہے جو سب پررحم کرے۔رحیم وہ ہے جو خاص مومنوں پر کرم فرمائے۔یا رحمٰن وہ ہے جو دنیا وآخرت دونوں کی جگہ رحمت کرے۔اور رحیم وہ ہے جو خاص آخرت میں رحم فرمائے۔لیکن دعائے ماثورہ میں یوں آیا ہے۔(عربی) اس سے سمجھا جاتا ہے کہ یہی بات زیادہ صحیح ہے۔
ابن مبارک ؒ نے کہا"رحمٰن" وہ ہے کہ جب اُس سے مانگو تو دے ۔اور رحیم وہ ہے کہ جب اُس سے نہ مانگو تو وہ خفا ہو۔اس کا  پتہ حدیث ابوہریرۃ  رضی اللہ تعالیٰ عنہ  سے بھی چلتا ہے۔کہ  رسول اکرم صلی اللہ علیہ  وسلم نے فرمایا کہ جو اللہ سے سوال نہیں کرتا اللہ اس پر غضبناک ہوتا ہے۔(اس کو  ترمذی ؒ نے روایت کیا ہے)"اے اللہ ہم تجھ سے یہ بھیک مانگتے ہیں کہ تو ہم کودونوں جہانوں میں عفو وعافیت دے۔اور تو ہماری جھولی اس دعاء کی قبولیت سے بھر دے۔آمین
تفسیر
(عربی)
"سب طرح کی  تعریفیں اللہ ہی کو سزاوار ہے۔جوتمام مخلوقات کا پروردیگار ہے۔"
حمد:
جب کوئی شخص اچھا کام اپنے اختیار سے کرتا ہے۔اوردوسرا شخص اس کی بزرگی کے ارادے سے اُس کی صفت اور ثناء اپنی زبان سے بجالاتاہے تو اسے حمد کہتے ہیں۔یہ حمد خاص اللہ ہی  کی ذات پاک کو لائق ہے۔کسی دوسرے کو زیبا نہیں حدیث میں ہے۔(عربی)
ابن عباس  رضی اللہ تعالیٰ عنہ  کہتے ہیں الحمدللہ کلمہ شکر ہے بندہ جب یہ کلمہ کہتا ہے تو اللہ فرماتا ہے۔میرے بندے نے میرا شکر ادا کیا۔
حکم بن عمیر رضی اللہ تعالیٰ عنہ  نے کہا رسول اللہ صلی اللہ علیہ  وسلم نے فرمایا: جب تو نے الحمدللہ رب العالمین کہا تو اللہ کاشکر ادا کیا۔اب اللہ تجھ کو زیادہ دے گا۔(ابن جریرؒ نے سے ر وایت کیا)۔
عبداللہ بن عمرو رضی اللہ تعالیٰ عنہ  سے مرفوعاً الفاظ یوں ہیں۔الحمدللہ شکر کی بنیاد ہے۔جس نے اللہ کی حمد نہ کی اُس نے اللہ کا شکر ادا نہ کیا۔اس کو عبدالرزاق ؒخطائیؒ ،ترمذیؒ،اور بیہقی ؒ نے روایت کیا ہے۔قرآن مجید میں حضرت نوحؑ کو شکر گزار بندہ کہا گیا ہے۔اس لئے کہ وہ اللہ کی بہت زیادہ حمد کیاکرتے تھے۔
حضرت جابر  رضی اللہ تعالیٰ عنہ  نے مرفوعاً کہا ہے کہ افضل زکر لا الہٰ الا اللہ ہے اورافضل دعا الحمدللہ ہے۔(اسےنسائیؒ۔ابن ماجہؒ،ابن حبانؒ، اوربہیقیؒ نے روایت کیا ہے اور ترمذیؒ نے اسے حسن کہا ہے)۔
ابو مالک اشعری  رضی اللہ تعالیٰ عنہ  کے الفاظ یہ ہیں کہ الحمدللہ ترازو کو بھر دیتا ہے۔(مسلم ؒ ،نسائیؒ،امام احمدؒ)
حضرت انس  رضی اللہ تعالیٰ عنہ  سے مرفوعاً الفاظ یہ ہیں ۔حمد سے زیادہ کوئی چیز اللہ کو محبوب نہیں۔حدیث ابو ہریرۃ  رضی اللہ تعالیٰ عنہ  ،ہرعمدہ کام جو اللہ کی حمد سے شروع نہیں کیاجاتا۔وہ برکت سے خالی ہے۔(اہل السنن۔ابن حبان،بیہقی)۔
مسلم شریف میں حضرت انس  رضی اللہ تعالیٰ عنہ  کے مرفوع الفاظ یہ ہیں:اللہ اُس بندے سے خوش ہوتا ہے۔جو ہر نوالے اور گھونٹ پر اللہ کی حمد کرتا ہے۔
رب:
"رب"کہتے ہیں کسی چیز کے مالک امرب ربی مصلح جابر اور قائم کو۔اور"رب" کااطلاق معبود پر بھی ہوتا ہے۔سو یہ سارے معنی اللہ پاک کی ذات میں موجود ہیں۔رب کااستعمال غیر اللہ کے لئے اضافت کساتھ ہوتا ہے۔جیسے رب الدار وغیرہ۔بغیراضافت خاص صرف اللہ کے لئے بولا جاتا ہے۔یہ بھی کہا گیا ہے کہ یہ نام اسم اعظم ہے۔
عالم:
"عالم"کہتے ہیں اللہ کے سواہر معبود کو یعنی اللہ کی ذات کے علاوہ جو کچھ بھی موجود ہے وہ سب عالم ہے۔لفظ عالم میں ساری مخلوق داخل ہے۔کسی نے کہا ،عالم مشتق ہے علامت سے گویا یہ ساری مصنوعات اور موجودات صانع کے وجود کی علامت ہیں۔
ابن المعز نے کیا خوب کہا ہے۔
(عربی)
"پس  تعجب ہوا ہے اُس آدمی پر جو "الہٰ"کی نافرمانی کرتا ہے اور تعجب ہے اُس شخص پر کہ انکار کرنے والا اُس کے وجود کا انکار کیسے کرتا ہے۔"حالانکہ کائنات کا  ذرہ ذرہ اُس کے وجود کی نشانی ہے۔اور اثبات پر دال ہے کہ اُس کی ذات وحدہ لا شریک ہے۔"
بعض نے کہا کہ ہر زمانے کے لوگ عالم کہلاتے ہیں۔ابن عباس  رضی اللہ تعالیٰ عنہ  نے کہا ،والم سے مراد جن وانس ہیں۔بعض نے اس میں ملائکہ اور شیاطین کو بھی شامل کیا ہے۔ پہلا قول صحیح ترین ہے۔دلیل یہ ہے کہ جب فرعون نے حضرت موسیٰؑ سے پوچھا"رب العٰالمین "کون ہے؟
تو انھوں نے جواب دیا:
(عربی)
"آسمانوں اور زمین اور جو کچھ ان  دونوں میں ہے سب کا مالک۔(الشعراء:24)
ا س سے یہ بھی معلوم ہوا کہ اللہ کی ذات عالم ہے بالکل الگ تھلگ ہے۔اس لئے قرآن میں آیا ہے رحمٰن عرش پر ہے۔
عالم کی گنتی میں اختلاف ہے۔کسی نے کہا چودہ ہزار ،کسی نے کہا سترہ  ہزار،کسی نے کہا اٹھارہ ہزار،کسی نے کہا اسی ہزار،صحیح بات یہ ہے کہ اللہ عالم الغیب کے  سوا کسی کو مخلوقات کی گنتی کا کچھ علم نہیں۔
کعب بن احبار رضی اللہ تعالیٰ عنہ  نے کہا،مخلوقات کی گنتی کو اللہ کے سوا کوئی نہیں جانتا۔میں کہتا ہوں۔قرآن مجید میں ہے:
(عربی)
"اور تمہارے پروردیگار کے لشکروں کو اس کے سوا کوئی نہیں جانتا۔"
آیت نمبر2:
(عربی)،(بڑا مہربان اور نہایت رحم والا):
لفظ رب العٰالمین میں ایک طرح کا ڈرانا تھا۔اس لئے ان دونوں ناموں کوتسلی بخشی،ترہیب کو ترغیب سے ملادیا۔بسم اللہ کے بعد الرحمٰن الرحیم کا دوسری بار ذکر اس لئے کیا کہ اللہ کی توجہ سب اُمور کی نسبت رحمت کی طرف ہے۔یا مخلوق کو سب سے زیادہ حاجت اسی رحمت سے پڑتی ہے۔
صحیح مسلم میں ابو ہریرۃ  رضی اللہ تعالیٰ عنہ  سے مرفوعاً آیا ہے۔اگر مومن اُس عذاب کو جان لے جو اللہ کے پاس ہے۔تو کوئی ایک بھی جنت کی تمنا نہ کرے ۔اور اگر کافر کو اللہ کی رحمت کا علم ہوجائے تو کوئی بھی اُس کی رحمت سے نااُمید نہ ہو۔
اگرورد ہدیک صلائے کرم!
عز ازیل گو ید نصیب برم
آیت نمبر3۔(عربی)،(انصاف کے دن کا مالک ہے):
انصاف کا دن وہ ہے جس روز ساری مخلوق کاحساب کتاب ہوگا۔ہرعمل کا خواہ نیک ہو یا بد ،عامل کو بدلہ دیا جائے گا۔الا یہ کہ کسی کو اُس کا گناہ معاف کردیا جائے۔قرآن مجید میں اُس دن کی تفسیر یوں آئی ہے:
(عربی)
"پھر  تمھیں کیا معلوم کہ جزا کا  دن کیسا  ہے؟جس روز کوئی کسی کا کچھ بھلا نہ کرسکے گا۔اورحکم اُسی روز  خدا کا ہی ہوگا۔"(الانفطار ۔19)
اُس دن کے مالک وحاکم ہونے کا مطلب یہ ہے کہ جسطرح دنیا میں وہ لوگ حکم چلاتے تھے۔اللہ کے  علاوہ اُس دن کسی کا حکم نہ چلے گا۔اکثر صحابہ  رضوان اللہ عنھم اجمعین  وتابعین ؒ اور سلف ؒ سے یہی معنی منقول ہیں۔اللہ نےفرمایا:
(عربی)(غافر۔16)
"آج کس کی بادشاہت ہے؟خدا کی جو اکیلا(اور)غالب ہے۔"
کسی کی کیا طاقت ہے کہ ا ُس دن اللہ کی اجازت کے بغیر کوئی بات منہ سے نکال سکے حدیث ابو ہریرہ  رضی اللہ تعالیٰ عنہ  سے مرفوعاً آیا ہے کہ اللہ زمین کو مٹھی میں لے لےگا۔اور دائیں ہاتھ میں آسمان کو لپیٹے گا،پھر فرمائے گا،میں باشاہ ہوں ،زمین کے بادشاہ کہاں ہیں؟کہاں ہیں جبر کرنے والے ؟کہاں ہے تکبر کرنے والے؟(بخاری  ومسلم)
حضرت ابو ہریرۃ  رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مرفوعاً آیا ہے،اللہ کے نزدیک سب سے بڑا نام اُس شخص کا ہے جس کا نام "(عربی) ہے۔                              (جاری ہے)