آجکل اسلامی معاشرے میں جب بھی کسی برائی کے خلاف آوازاٹھتی ہے۔تو خود نام نہاد دانشور کتاب وسنت سے ایسی دلیلیں تلاش کرنا شروع کردیتے ہیں۔جن سے مسئلہ کا کوئی تعلق نہیں ہوتا۔اس سے اُن کا مقصد تو مسلمانوں کو شک میں مبتلا کرنا ہوتا ہے۔تاکہ وہ مغرب سے آمدہ برائی کو اپنے ہاں فروغ دینے میں رکاوٹ نہ بنیں۔لیکن حیرت ان مغرب زدہ برائی کے علم برداروں  پر ہوتی ہے۔جو مسلمان کہلانے کے باوجود اس طرح دیدہ دلیری سے اسلامی اقدار واخلاق کا مذاق اُڑانے سے بھی دریغ نہیں کرتے،بالخصوص پاکستان جسے اسلام کے نام پر حاصل کرکے پاکستان کی پہلی قانون ساز اسمبلی نے متفقہ قرار داد  پاس کی کہ یہاں کے باشندوں کو انفرادی اور اجتماعی طور پر اسلام کے مطابق زندگیاں گزرانے کی مواقع مہیا کئے جائیں گے۔مگر جب حکومت وقت کی سرپرستی میں ایسے کام ہوں،اور ا س کے برجمہران کی ہمنوائی کریں تو پھر الامان والحفیظ کی صدائیں ہی بلند کی جاسکتی ہیں۔اس سلسلے میں پچھلے دنوں اسلام آباد میں بین الاقوامی کھیلوں کے مناظر میں عورتوں کی شرکت سے جو نمائش کی گئی۔اس پر ملک وملت کے خیر خواہ سرپیٹ کررہ گئے لیکن بات یہاں تک بس نہ ہوئی بلکہ اس کے ساتھ ہی اسلام میں تجدد  کے علمبردار خم ٹھوک کر میدان میں  آگئے۔اور اس کے جواد کے لئے اسلامی تعلیمات میں کھینچ تان کرکے دھوکہ دہی کی کوشش شروع کردی۔چنانچہ اس سلسلہ میں بدنام زمانہ پروفیسر رفیع اللہ شہاب نے جو مضامین لکھے ہو حسب سابق مغالطوں سے پُر تھے۔اُنھوں نے علماء پر یہ الزام بھی لگایا کہ وہ حکومت اورفوج کو بدنام کررہے ہیں۔اور دعویٰ کیا کہ کھیلوں میں عورتوں کی شرکت کے خلاف جو واویلا کیاجارہا ہے۔وہ درست نہیں کیونکہ اس طرح برسرعام عورتوں کا کھیلوں میں حصہ لینا ان کا شرعی حق ہے۔کیونکہ قدیم زمانہ میں بھی عورتیں اپنے آپ کو چاق وچوبند رکھنے کے لئے کھیل کود کر صحت کو برقرار رکھتی تھیں۔اور اس طرح کاروبار حیات کو خوش اسلوبی سے نباہتی تھیں۔انھوں نے حسب عادت سے جرائت سے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے عورتوں کو کھیلوں میں شریک کرنے کی ترغیب بھی پیش کی۔اور حضرت عائشہ   رضی اللہ تعالیٰ عنہا  کی اس حدیث سے استدلال کیا۔کہ جب وہ دبلی پتلی تھیں۔تو دوڑ میں رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے آگے نکل جاتی تھیں۔پھر آخر حیات رسول صلی اللہ علیہ وسلم میں وہ بھاری ہوگئیں تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم اُن سے دوڑ جیت لیتے تھے۔(بحوالہ سنن ابی داؤد)

پروفیسر موصوف کا دعویٰ یہ ہے کہ اس دوڑ کو عام صحابہ  رضوان اللہ عنھم اجمعین  نے بھی دیکھا تھا۔لہذا عورتوں کا مناظر میں آنا بھی ثابت ہوگیا۔

یہ دلیل شہاب صاحب کی ذاتی اختراع ہے۔حدیث میں نہ تو صحابہ  رضوان اللہ عنھم اجمعین  کی موجودگی کا  ذکر ہے۔اور نہ ہی کسی دوسرے صحابی  رضی اللہ تعالیٰ عنہ  نے اسے روایت کیا ہے۔اس سے عورتوں کا اجنبیوں کے سامنے مناظر میں آنا کیسے ثابت ہوا؟درحقیقت یہ سارا تانا بانا مغربی معاشروں کی مادر پدر آزادی کو اسلام سے کشید کرنے کی سعی نامشکور ہے۔حالانکہ سنت میں تو میاں بیوی کا باہمی رشتہ اور اس کے تقاضوں کا بیان ہے۔جس سے ایک طرف ورزش کی اہمیت ظاہر ہوتی ہے تو دوسری طرف آپس کی اُلفت و محبت۔آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا اپنی ازواج مطہرات سے خوش اخلاقی کا یہ رویہ کہاں یہ  بتاتا ہے۔کہ اس طرح کے مظاہرے غیروں کے سامنے ہونے چاہیں جنھیں دنیا بھر میں ٹیلی ویژن پردکھا کر نمائش بھی کی جائے؟ازواج مطہرات کو تو چھوڑ دیے۔کیا کوئی شریف آدمی اپنی بیوی کے ساتھ کھیل کود کی اس طرح کھلے عام نمائش پسند کرے گا۔ایسا تو کوئی معاشرے کا غیر مند اپنے بارے میں برداشت بھی نہیں کرسکتا۔کجا یہ کہ امہات المومنین  رضوان اللہ عنھما اجمعین  کے بارے میں یہ تصور امت مسلمہ کے سامنے پیش کیاجائے۔سیف گیمز میں شریک اکثر کنواریاں ہوں گی۔اور وہی عریاں لباس میں بھی تھیں۔کیا نعوذ باللہ حضرت عائشہ  رضی اللہ تعالیٰ عنہا  اسی طرح عریاں صورت میں صحابہ  رضوان اللہ عنھم اجمعین  کے سامنے آئی تھیں یا اس  ریس کو دیکھنے کے لئے غیروں کو دعوت دی گئی تھی۔اے کاش!اس طرح کی تہمت امہات المومنین  رضوان اللہ عنھما اجمعین  پر لگانے والے اپنی جرات کے نتائج سے باخبر ہوتے۔کہاں میاں بیوی کے معاملات میں حسن خلق کا کردار اور کہاں موجودہ بے حیائی؟
نیز ایک دوسری برائی سیور ریفل کے جواز میں ایک دلیل مرحوم جنرل ضاءالحق کے دور کی یہ پیش کی ہے کہ اس سے بڑا جوا گھوڑ دوڑ کی صورت میں ہوتا تھا۔جو سیور ریفل کے کاروبار سے کئی گنا زیادہ معاشرے کے لئے نقصان دہ ہے جبکہ دعویٰ کیا ہے کہ سیورریفل کی آمدنی نیک کاموں پر خرچ ہوتی ہے۔گویا  پروفیسر شہاب صاحب نے خود تسلیم کیا ہے کہ سیور  ریفل جوا ہے مگر گھوڑ دور سے چھوٹا ۔ہمارا یہ درد سر نہیں کہ جنرل ضیاء الحق کے دور می کوئی برائی مقابلتاً موجودہ حکومت کے دور سے بڑی موجود تھی۔جبکہ یہی بڑا جوا گھوڑ دوڑ آج بھی موجود ہے یعنی اس بڑے جوئے پر یہ مزعومہ چھوٹے جوے کا اضافہ ہے۔پھر یہ چھوٹے بڑے کا چکر بھی درست نہیں واقعی گھوڑ دوڑ جوا ہے خواہ اس کی مخالفت جنرل ضیاء الحق نے نہ کی ہو ۔کیونکہ ضیاءالحق ہمارے لئے دین کا نمونہ نہیں،وہ اللہ تعالیٰ کا ایک بندہ تھا اس کا خیر وشراب اللہ کے پاس پیش ہوچکا۔اگر اس کا کوئی کام اچھا تھا تو وہ ہمیں جاری رکھنا چاہیے۔اور اگر کوئی کام بُرا شروع ہوا تو اُس سے برات کا اظہار ہونا چاہیے۔تاہم ایک اعتبار سے سیور ریفل گھوڑ دوڑ سے زیادہ خطرناک ہے۔کہ یہ ایک عوام میں پھیلی ہوئی برائی ہے۔جس کا ارتکاب نہ صرف کھلے عام ہورہا ہے بلکہ حکومت کی طرف سے اس کی ترغیب کےلئے ہر طرح کے وسائل ابلاغ استعمال کئے جارہے  ہیں۔جبکہ گھوڑ دوڑ کا جوا ایک خاص طبقے تک محدود ہے ۔بہرصورت کسی کی برائی کو دلیل بنا کر اس پر دیدہ  دلیری سے دوسری برائی بڑی خطرناک ہوتی ہے۔باقی رہا یہ امرکہ سیور ریفل کی آمدنی کا امور  خیر میں استعمال تو یہ بڑی بودی دلیل ہے۔چوری ڈاکے کو اس طرح جائز نہیں بنایا جاسکتا۔کہ اس کا نشانہ صرف وہ لوگ ہیں۔جو معاشرے میں لوٹ کھسوٹ کرتے ہیں۔یا سود کے مال سے مسجدیں بنوانے سے سودی کاروبار حلال نہ ہوجائے گا۔جوا حرام ہے اس کی ہرقسم حرام ہے۔اور وہ تاقیامت حرام رہے گا۔اس کے کسی نفع بخش پہلو سے وہ حلال نہ ہوگا۔قرآن کریم نے شراب اور جوے کے بعض منفعت کے پہلو تسلیم کرکے انھیں حرام قرار  دیاہے:
"یعنی شراب اور جوے میں بہت بڑا گنا ہ ہے۔جبکہ لوگوں کے لئے بعض فوائد بھی ہیں۔تاہم ان دونوں کاگناہ ان کے فائدہ سے بہت بڑا ہے۔"(البقرۃ/219)
حاصل یہ ہے کہ گھوڑ دوڑ اور سیور ریفل دونوں جوے ہیں۔کسی چیز کی حمایت یا مخالفت کسی شخص کی حمایت یادشمنی کی بناء پر نہ ہونی چاہیے۔علماء ہمیشہ برائی کے مخالف رہے ہیں۔خواہ وہ کسی زمانے میں ہو،اسی وجہ سے ایسے لوگ سب حکومتوں کی نظر میں معتوب  رہے ہیں۔اور جو خاموش رہے ان میں سے وہ بھی تھے جو اس وجہ سے خاموش رہے کہ کون سنتا ہے فغان درویش؟بہرصورت  ادنیٰ ترین درجہ  ایمان دل کی کراہت کے ساتھ خاموش بھی ہے۔لیکن پروفیسر صاحب جیسے حضرات جن کی قسمت ہی یہ ہے کہ جب بولتے ہیں علماء کے خلاف برسر اقتدار لوگوں کی نمک حلالی کے لئے کاش وہ سمجھتے کہ یہ لکھنے لکھانے اور سننے جاننے کا موقع اللہ نے انھیں چند روز کے لئے ودیعت کیا ہے۔وہ اسے اسلام کی حمایت کی بجائے الحاد کی تائید میں صرف نہ کریں۔کیونکہ حکومت کی نمک حلالی کی بجائے اللہ تعالیٰ کی نعمتوں کااعتراف بہتر ہے۔
اپنے ایک مضمون کے آخر میں پروفیسر صاحب بے حیائی کی مخالفت کرنے والی معروف خاتون محترمہ آپا نثار فاطمہ پر بھی برستے ہیں کہ انھوں نے ایک میٹنگ میں سونے کے زیورات پہن رکھے تھے۔جس پر پروفیسر موصوف نے سونے کے عورت پرحرام ہونے کی چند احادیث ذکر  کیں اور  دعویٰ کیا ہے کہ وہ اس پر بھنا گئیں کیونکہ اُن کاعلم محدود تھا۔پروفیسر صاحب کی یہ عادت ہے۔کہ وہ ہمیشہ اسلامی معاشرے میں مروج اشیاء کے بارے میں شازونادر ان آراء کی تلاش میں رہتے ہیں جن کی بناء پر وہ اپنے علم کی دھونس جما سکیں۔اسی طرح کے مسائل میں ایک  رائے عورتوں کے لئے بھی سونے کے زیورات میں حرمت کی ہے۔اس مسئلے میں اگر دو رائیں برابر حیثیت کی بھی فرض کرلی جائیں تو اختلافی مسائل میں جو اجتہاد کادخل ہوتا ہے۔ا س کی بناء پر کسی کو نشانہ ملامت نہیں بنایا جاسکتا۔اس سلسلہ میں جو بات کہی جاسکتی ہے وہ صرف اتنی ہے کہ کسی کو قرآن وحدیث کے ان دلائل کی طرف بھی توجہ دلائی جائے جو اس کے موقف کی مخالفت  میں جاتے ہیں۔لیکن یہ کام اس شخص کی طرف سے ہونا چاہیے جو ثقہ ہو۔پروفیسر موصوف کے بارے میں تجربہ ہے۔کہ وہ اسلامی آراء ودلائل کے سلسلے میں نہ صرف تاویل وتحریف پر بڑے دلیر ہیں۔بلکہ اس بارے میں جھوٹ کی بھی پرواہ نہیں کرتے۔لہذا ایسے شخص کی طرف سے احادیث کا ذکر کیا حیثیت رکھتا ہے ؟محدثین کسی راوی کے ایک جھوٹ کے ثبوت پر ہی راوی کو وضاع کہہ کر اُس کی ہر حدیث کو موضوع قرار دیتے ہیں۔بہرحال شریعت کتاب  وسنت کا نام ہے۔اسی روح کی حفاظت کرتے ہوئے معاشرے میں عادات ورواج کی نگرانی کرنی چاہیے۔عورتوں کے کھیل میں شرکت کی وہ صورت جو سیف گیمز کی شکل میں اختیار کی گئی وہ سراسر شریعت اور اُس کی روح کے منافی ہے۔کسی حکمران یا عوامی لیڈر کو بنیا د بنا کر نہ تو شریعت میں تبدیلی کی جاسکتی ہے۔اور نہ ہی سیاسی مخالفت کی بنا ء پر کسی  چیز کو شریعت یا شریعت کے موافق ٹھہرایا جاسکتا ہے۔عورت کی زندگی میں دوڑ کتنی بھی وسیع کیوں نہ ہو بہر صورت وہ عورت ہے۔اُسے پردہ میں ہی رہنا چاہیے۔اس کی پردہ دری اُس کی توہین ہے۔اور مغربی ترقی کے زعم میں اُس کے خلاف سازش بھی۔
لگتی ہے گلی کتنی بھلی چمن پر              ہاتھوں میں پہنچ کر کوئی قیمت نہیں رہتی
جو شمع سر عام لٹاتی ہے اُجالے           اُس شمع کی گھر میں کوئی عزت نہیں رہتی