امام ابن خزیمہ کے بارے میں علامہ ابن قیم لکھتے ہیں:
''امام محمد بن اسحاق ابن خزیمہ، جو امام الائمہ کے لقب سے ملقب ہیں، فرماتے ہیں کہ ''جب رسول اللہ ﷺ کی حدیث ثابت ہو جائے تو آپؐ کی حدیث کے ساتھ کسی کے قول کی کوئی اہمیت نہیں۔''

............ امام ابن خزیمہ مقلد نہ تھے وہ ایک مستقل امام تھے۔ بہت .............. سےمحدثین اپنے آپ کو ابن خزیمہ سے منسوب کرتے تھے۔ چنانچہ........... بیہقی نے ''''المدخل'' میں ذکر کیا ہے کہ اصحاب الحدیث کے پانچ طبقات............. ہیں: مالکیہ، شافعیہ، حنبلیہ، راہویہ اور خزیمہ ، یعنی اصحاب ابن خزیمہ'' 1

نیز امام نووی نے شرح مسلم میں بہت سے مقامات پر ابن خزیمہ اور ابن المنذر وغیرہ کا مذہب بعض مسائل میں ذکر کیاہے، جو امام شافعی اور اصحاب شافعی کے اختیار کردہ مسلک کے خلاف اور فقہاء حدیث کے موافق ہے۔ اس کے باوجود مقلدین حضرات امام ترمذی کی طرح انہیں بھی امام شافعی کا مقلد قرار دینے پر مُصر ہیں۔ ان مقلدین کی تصنیف کردہ ''کتب طبقات'' اٹھا کر دیکھئے، بہت سے محدثین ایسے ہیں جن کو ان تمام اصحاب طبقات نے اپنے اپنے طبقات میں ذکر کیا ہے۔

امام مسلم جابر بن سمرہؓ کے حوالے سے روایت کرتے ہیں، ایک شخص نے رسول اللہ ﷺ سے عرض کی:
''أأتوضأ من لحوم الغنم قال إن شئت فتوضأ وإن شئت فلا توضأ قال أأ توضأ من لحوم الإبل قال: نعم''2
''کیا میں بکری کا گوشت کھا کر وضو کروں؟ آپؐ نے فرمایا: ''اگر چاہے تو وضو کرلے او راگر نہ چاہے تو نہ کر'' اس نے عرض کیا ''کیا میں اونٹ کا گوشت کھا کر وضو کروں؟'' آپؐ نے فرمایا : ''ہاں''

اس حدیث کی شرح میں امام نووی، اونٹ کا گوشت کھانے سے وضو نہ ٹوٹنے کے بارے میں جمہور صحابہؓ و تابعین، امام ابو حنیفہ، امام مالک، اور امام شافعی کا مسلک بیان کرنے کے بعد، فرماتے ہیں:
''وذھب إلیٰ انتقاض الوضوء به أحمد بن حنبل و إسحاق بن راھویه و یحییٰ بن یحییٰ و أبوبکر ابن المنذر و ابن خزیمة و اختارہ الحافظ أبوبکر البیهقي و حکیٰ عن أصحاب الحدیث مطلقا''3
''اونٹ کا گوشت کھانے سے وضو ٹوٹنے کی طرف احمد بن حنبل، اسحاق بن راہویہ، یحییٰ بن یحییٰ، ابوبکر ابن المنذر، ابن خزیمہ گئے ہیں، حافظ ابوبکر بیہقی نے بھی اسی کو اختیار کیاہے او رانہوں نے تمام اہل حدیث کا علی الاطلاق یہی مسلک بیان کیا ہے۔''

آگے چل کر امام نووی ان الفاظ میں اس مسلک کی تصویب کرتے ہیں:
''ھٰذا المذھب أقوی دلیلا وإن کان الجمهور علیٰ خلافه''
''دلیل کے اعتبار سے یہ مذہب زیادہ قوی ہے اگرچہ جمہور اس کے خلاف ہیں۔''

ابوبکر ابن المنذر کو بھی مقلدین حضرات امام شافعی کا مقلد بتاتے ہیں مگر بہت سے مسائل میں ابن المنذر نے امام شافعی سے اختلاف کیاہے، جن کو نووی نے شرح مسلم میں تسلیم کیاہے او رابن المنذر کے مسلک کو ایک الگ رائےکے طور پر بیان کیا ہے۔ ایک مقام ملاحظہ ہو:
تیمم کی کیفیت میں امام ابوحنیفہ، امام مالک، امام شافعی اور جمہور اہل علم دو ضربوں کے قائل ہیں۔ امام نووی اس مسئلہ میں امام شافعی سے ابن المنذر کے اختلاف کو اس طرح بیان کرتے ہیں:
''وذھبت طائفة أن الواجب ضربة واحدة للوجه والکفین وھو مذھب عطاء مکحول والأوزاعي و أحمد و إسحاق و ابن المنذر و عامة أصحاب الحدیث''4
''اور اہل علم کا ایک گروہ اس طرف گیا ہے کہ چہرے او رہتھیلیوں کے لیے ایک ہی ضرب کافی ہے۔ یہ عطاء بن ابی رباح، مکحول شامی، اوزاعی، احمد بن حنبل، اسحاق بن راہویہ، ابن المنذر اور عام اصحاب الحدیث کا مذہب ہے۔''

مندرجہ بالا اقتباس میں آپ نے ابن المنذر کے امام شافعی سے اختلاف کے ساتھ ساتھ یہ بھی ملاحظہ کیاکہ اہل علم میں ہمیشہ سے کچھ ایسے لوگ بھی رہے ہیں، جو ائمہ اربعہ کی تقلید کا التزام نہیں کرتے تھے۔ وہ صرف صحیح حدیث پر عمل کیا کرتے تھے، خواہ اہل علم اور ائمہ کی اکثریت مخالف ہی کیوں نہ ہو۔ فقہ کی ا س منہاج کو شاہ ولی اللہ اور دیگر اہل علم نے اہل حدیث کی طرف منسوب کیا ہے اور جو اس وقت سے لے کر آج تک ہر زمانے میں اور ہر جگہ اسی راہ پر گامزن ہیں۔ ان محدثین کو مقلدین کی ''نظر کرم'' اگر حنفی، شافعی یا مالکی یا ''چودھویں صدی کی پیداوار'' بنا دے تو اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا۔ ان حضرات نے تو علامہ ابن تیمیہ اور ابن قیم جیسے لوگوں کو مقلد اور حنبلی شمار کیاہے او رحنبلی کہنے پر مصر ہیں۔ حالانکہ یہ وہ لوگ ہیں کہ تقلید کے خلاف انہوں نے ہزاروں صفحات لکھ ڈالے ہیں، ابن قیم نے تو تقلید کی تردید کے ابواب کے اواخر میں یہاں تک لکھا ہے کہ:
''تقلید اور قیاس وغیرہ کے حامیوں کے دلائل منقولہ و معقولہ کا جائزہ لیتے ہوئے جو کچھ ہم نے لکھا ہے، اس کتاب کے علاوہ پڑھنے والے کو کہیں اور کبھی نہیں ملے گا۔''5

اب ہم اپنے عزیز دوست پروفیسر ابوالکلام خواجہ کی توجہ بعض معتبر کتابوں کے چند اقتباسات کی طرف مبذول کروائیں گے ، جن سے ظاہر ہوتا ہے کہ زمانے کے اصحاب علم نے ائمہ اربعہ کے متبعین کے علاوہ ایسے اہل علم کا ذکربھی کیاہے جنہوں نےبہت سے مسائل میں ائمہ اربعہ سے اختلاف کیا ہے ۔ چنانچہ عقائد و فقہیات میں ظاہری نصوص سے التزام کی وجہ سے اصحاب علم نے ان کو ''اہل حدیث'' کےنام سے مو سوم کیاہے۔

حافظ أبو عمر یوسف بن عبداللہ ابن عبدالبر الاندلسی (المتوفی 463ھ) کو ''التمہید'' میں رقم طراز ہیں:
''وقال أھل المدینة و سائر أھل الحجاز و عامة أھل الحدیث و أئمتھم إن کل مسکر حرام''6
''اہل مدینہ، تمام علمائے حجاز، عام اہل حدیث اور ان کےائمہ کہتے ہیں کہ ''ہر نشہ دینےوالی چیز حرام ہے۔''

بلّی کے جھوٹے پانی سے وضو کے جواز میں ابن عبدالبر، امام ابوعبداللہ محمد بن نصر المروزی کے حوالے سے لکھتے ہیں:
''قال و ممن ذھب إلیٰ ذٰلك مالك بن أنس و أھل المدینة و اللیث بن سعد فیمن و افقه من أھل مصر والمغرب والأوزاعي في أھل الشام و سفیان الثوري فیمن و افقه من أھل العراق قال: و کذٰلك قول الشافعي و أصحابه وأحمد بن حنبل و إسحاق و أبي ثور و أبي عبید و جماعة أصحاب الحدیث'' 7
''(بلّی کے جھوٹے پانی سے وضو کے جواز) کی طرف جانے والوں میں امام مالک، فقہائے اہل مدینہ، مصر سے امام لیث، اہل مغرب سے بعض علماء اور ان کے موافقین، اہل شام سے امام اوزاعی، اہل عراق سے امام ثوری اور ان کے ہم رائے اہل علم شامل ہیں۔اسی طرح امام شافعی او ران کے اصحاب امام احمد بن حنبل، اسحاق بن راہویہ، ابو ثور، ابوعبید اور اصحاب الحدیث کی جماعت کا یہی قول ہے۔''

ایک مقام پر ابن عبدالبر، مدعی کے گواہ کے ساتھ مدعی کے حلف کی بنیاد پر فیصلہ کے جواز میں، اہل علم کا مسلک بیان کرتے ہوئے لکھتے ہیں:
''وبه قال مالك و أصحابه والشافعي و أتباعه و أحمد بن حنبل و إسحٰق بن راھویه و أبو عبید و أبوثور و داود بن علي وجماعة أھل الأثر''8
''یہی قول ہے امام مالک اور ان کے اصحاب کا، امام شافعی اور ان کے متبعین کا، امام احمدبن حنبل، امام اسحاق، امام ابوعبید ، امام ابوثور، امام داؤد اور اہل اثر (اہل حدیث) کی جماعت کا۔''

خط کشیدہ الفاظ انتہائی واضح ہیں۔ اختصار کے پیش نظر کتاب التمہید کے یہ چند اقتباسات ہم نے پروفیسر صاحب کی خدمت میں پیش کیے ہیں، ورنہ پوری کتاب میں بلا مبالغہ سینکڑوں مقامات پر اہل الحدیث، اصحاب الحدیث یا اہل الاثر کے مسلک کو ائمہ اربعہ او ران کے اصحاب کے مذہب سے الگ مذہب کے طور پر ذکر کیا گیا ہے۔ ان کا مذہب کبھی جمہور کے مسلک سے ہم آہنگ او رکبھی مخالف ہوتا ہے۔ اسی طرح امام ابن حزم ظاہری (المتوفی 456ھ) نے بھی ، جو خود بھی فقہ اثر کی منہاج پر گامزن ہیں، اہل حدیث کے مسلک کو ایک الگ اور مستقل مذہب کے طور پر پیش کیا ہے ان کی کتاب ''المحلّٰی'' سے ایک اقتباس پیش خدمت ہے:

پانی والے برتن میں کُتے کے مُنہ ڈالنے کے بارے میں علامہ ابن حزم اہل علم کا مسلک بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں:
''قول الأوزاعي ھو نفس قولنا وبھٰذا یقول ........یعنی غسل الإناء من ولوغ الکلب سبعا إحد ا ھن بالتراب .........أحمد بن حنبل و إسحاق بن راھویه و أبوعبید و أبو ثور و داود و جملة أصحاب الحدیث''9
''امام اوزاعی کا قول تو خود ہمارا مسلک ہے۔ برتن میں کُتے کے مُنہ دالنے پر برتن کو ایک بار مٹی سے مانجھنے اور سات بار دھونے کو احمد بن حنبل، اسحاق بن راہویہ، ابوعبید، ابوثور، داؤد اور تمام اہلحدیث نے اختیار کیاہے۔''

ہمیں ابن حزم کا یہ اسلوب پوری کتاب میں بہت کثرت سے دکھائی دیتا ہے۔ اسی طرح علامہ ابوالولید محمد بن احمد ابن رُشد الحفید القرطبی (المتوفی 595ھ) ہے۔ ائمہ اربعہ او ران کے اصحاب اور دیگر فقہاء کے مذاہب کے ساتھ بہت سے مقامات پر اہل حدیث کا مسلک بیان کرتے ہیں۔ ایک اقتباس ملاحظہ ہو۔ تیمم میں ہاتھ کو کون سے حصے پر مٹی سے مسح کرنا ضروری ہے؟ ابن رُشد جمہور فقہائے امصار کا مسلک بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ کہنیوں تک مسح کرنا ضروری ہے۔ ......... پھر فرماتے ہیں:
''القول الثاني: إن الفرض ھو مسح الکف فقط و به قال أھل الظاھر و أھل الحدیث''10
''دوسرا قول یہ ہےکہ صرف ہتھیلی تک مسح کرنا فرض ہے۔ یہ اہل ظاہر او راہل حدیث کا قول ہے۔''

آپ نے ملاحظہ فرما لیاکہ اہل حدیث کا مسلک ، ائمہ اربعہ اور ان کے اصحاب کے مسلک سے، الگ اور مستقل مذہب ہے او راس مسلک کے حاملین ائمہ اربعہ یا کسی اور کے مقلد نہ تھے۔ ابومحمد عبداللہ بن احمد بن محمد بن قدامہ (المتوفی 620ھ) اپنی معرکة الآرا کتاب ''المغنی'' میں عموماً صحابہ کرامؓ سے لے کر اپنے زمانے تک تمام فقہاء کی آراء کا ذکر کرتے ہیں۔ امام عزالدین ابن عبدالسلام (المتوفی 660ھ) نے ابن حزم کی کتاب ''المحلّٰی'' اور ابن قدامہ کی کتاب ''المغنی'' کی بہت تعریف کی ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ یہ دونوں کتابیں فقہائے اسلام کی آراء کا دائرة المعارف ہیں۔ کوئی محقق ان دونوں کتابوں سے مستغنی نہیں رہ سکتا۔ ابن قدامہ بھی فقہاء کی آراء بیان کرتے وقت فقہائےاہل حدیث کا مسلک ایک الگ اور مستقل مذہب کے طور پر بیان کرتے ہیں۔ چنانچہ اونٹ کا گوشت کھانے سے وضوء ٹوٹنے کے بارے میں فقہاء کی آراء کا ذکر کرتے ہوئے وہ لکھتے ہیں:
''وجملة ذٰلك أن أکل لحم الإبل ینقض الوضوء علیٰ کل حال هنیئا و مطبوخا عالما کان أو جاھلا و بھٰذا قال جابر بن سمرة و محمد بن إسحٰق و إسحٰق و أبوخیثمة و یحییٰ بن یحییٰ و ابن المنذر وھو أحد قولي الشافعي قال الخطابي ذھب إلیٰ ھٰذا عامة أصحاب الحدیث وقال الثوري و مالك و الشافعي و أصحاب الرأي لا ینقض الوضوء بحال''11
''اور یہ کہ اونٹ کا گوشت کھانے سے ہر حالت میں وضوء ٹوٹ جاتا ہے، گوشت خواہ کچا ہو یا پکا، (کھانے والا اس مسئلہ کو ) جانتا ہو یا نہ جانتا ہو، یہ قول حضرت جابر بن سمرةؓ، محمد بن اسحاق، ابن خزیمہ، اسحاق بن راہویہ، ابوخیثمہ، یحییٰ بن یحییٰ اور ابن المنذر کا ہے۔امام شافعی کے بھی دو قول میں سے ایک قول یہی ہے۔ علامہ خطابی فرماتے ہیں کہ عام اہلحدیث اسی طرف گئے ہیں جبکہ امام ثوری، امام مالک، امام شافعی اور اصحاب رائے (امام ابوحنیفہ او ران کے اصحاب) کہتے ہیں کہ (اونٹ کا گوشت) کسی حالت میں بھی (کھانے سے) ناقض وضو نہیں ہے۔'' (جاری ہے)

حوالہ جات
1. اعلام الموقعین لابن قیم الجوزیہ جلد4 ص264
2. شرح مسلم للنووی جلد4 ص48
3. شرح مسلم جلد 4 ص49
4. شرح مسلم جلد 4 ص56
5. اعلام الموقعین جلد4 ص260
6. کتاب التمہید لابن عبدالبر ج1 ص246
7. کتاب التمہید جلد1 ص324
8. کتاب التمہید جلد2ص154
9. کتاب المحلّٰی جلد1 ص112
10. بدایة المجتہد جزو 1 ص50
11. المغنی لابن قدامہ ج1 ص176