11۔ لیلة القدر میں دعاء کرنا:
یہ رات انتہائی بابرکت اور افضل راتوں اور اوقات میں سے ہے۔ اس میں دعاء کرنے والوں او راللہ سے مانگنے والوں کے لیے آسمان کے دروازے کھول دیئے جاتے ہیں۔

اُم المؤمنین حضرت عائشہ ؓ کا ذو ق و شوق دیکھیں کہ انہوں نے کہا : ''اے اللہ کے رسولؐ، اگر مجھے لیلة القدر مل جائے تو کیا دعاء کروں؟'' آپؐ نے فرمایا: یہ دعاء کرنا :
''اللھم إنك عفو تحب العفو فاعف عني'' 1
''یا اللہ، تو درگزر کرنے والا ہے، معاف کرنے کو پسند فرماتا ہے، اللہ مجھ سے بھی درگزر فرما۔''

12۔ بارش کے وقت دعاء کرنا:
''یہ بھی رحمت کا وقت ہوتا ہے اور اس وقت کی دعاء قبول ہوتی ہے:
''عن سھل بن سعد رضي اللہ عنه قال: قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ثنتان ماتردان الدعاء عندالنداء و تحت المطر'' 2
''حضرت سہل بن سعدؓ سے روایت ہے ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ''دو دعائیں ردّ نہیں ہوتیں، اذان کے وقت اور بارش کے وقت۔''

دُعاء جن حالتوں میں قبول ہوتی ہے:

ان اوقات کے بیان کے بعد جن میں دعاء قبول ہوتی ہے، اب ہم ان حالتوں کا ذکر کرتے ہیں جن میں دعاء کی قبولیت کی خبر زبان رسالتؐ ترجمان سے دی گئی ہے۔
1۔ مظلوم کی دُعاء :
مظلوم کی دعاء، نصرت و مدد کرنے والے اور اسے تسلی دینے والے کے حق میں، اسی طرح مظلوم کی بددُعاء ظالم کے حق میں قبول ہوتی ہے۔ ظلم خواہ کسی بھی قسم او رنوع کا ہو:
''عن ابن عمررضی اللہ عنهما قال قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم: اتقوا دعوة المظلوم فإنھا تصعد إلی السمآء کأنھا شرار'' 3
''حضرت ابن عمرؓ سے روایت ہے، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: مظلوم کی بددعاء سے بچو، یہ آگ کے شعلوں کی مانند آسمان کو جاتی ہے۔''

''عن أنس بن مالك رضی اللہ عنه یقول قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم: اتقوا دعوة المظلوم وإن کان کافرا فإنه لیس دونھا حجاب'' 4
''حضرت انس بن مالکؓ سے روایت ہے کہ آنحضرت ﷺ نے فرمایا: ''مظلوم خواہ کافر ہی کیوں نہ ہو، اس کی بددُعاء سے بچو۔ کیونکہ اس کی مقبولیت میں کوئی رکاوٹ حائل نہیں ہوتی۔''

اللہ کی طرف سے بہت جلد اس کانتیجہ ظاہر ہوتاہے، کسی نے کیاخوب کہا ہے: ؎
لا تظلمنَّ إذا ما كنت مقتدراً فَالظُلْمُ مَرْتَعُهُ يُفْضِي إلى النَّدَمِ
تنامُ عَيْنُكَ والمَظْلومُ مُنَتَبِهٌ يدعو عليك وعين الله لم تنم


''اے انسان، تُو صاحب اقتدار ہے تو ظلم نہ کر، کیونکہ ظلم کا نتیجہ رسوائی ہے۔ تیری آنکھیں سو رہی ہیں او رمظلوم بیدار ہوکر بددعاء کررہا ہے، اور (یاد رکھ) اللہ بھی جاگ رہا ہے۔''

2 ،3۔ مسافر اور والد کی دُعاء :
سفر، خصوصاً وہ جو نیکی او راطاعت کے لیے ہو۔ مثلاً دعوت و تبلیغ کے لیے ، عبادت، دینی یا ایسے علم کے حصول کے لیے جس سے مقصود قرب الٰہی ہو، ان تمام سفروں میں دعاء قبول ہوتی ہے۔

جن احادیث میں مسافر کی دعاء کی مقبولیت کا ذکر آیا ہے، معلوم ہوتا ہے کہ اس سے مراد نیکی کا سفر ہے، معصیت کا سفر اس مفہوم میں داخل نہیں۔ مسافر کی دعاء کی مقبولیت کا راز یہ معلوم ہوتا ہے کہ مسافر چونکہ اپنے اہل وعیال او راحباب سے دور ہوتا ہے، تو اللہ تعالیٰ کی رحمت و حفاظت اس کے ساتھ ساتھ ہوتی ہے، جو اس کی دعاء کی قبولیت کا سبب بنتی ہے:
''عن أبي ھریرة رضی اللہ عنه أن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم قال ثلٰث دعوات مستجابات لا شك فیھن دعوةالمظلوم و دعوة المسافرو دعوة الوالد علیٰ ولدہ'' 5
''حضرت ابوہریرہؓ سے روایت ہے، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ''تین دعاؤں کی قبولیت یقنیہ ہے، اس میں کوئی شک نہیں : مظلوم، مسافر اور والد کی دعاء بیٹے کے حق میں۔''

یاد رہے کہ اچھا سلوک کرنے والے کے حق میں دعاء اور بُرا سلوک کرنے والے کے حق میں بددعاء ہو تی ہے

اس حدیث میں ، بیٹے کے بارے میں والد کی دعاء کا ذکربھی آیا ہے۔ بیٹا باپ کی کمائی ہوتی ہے، جیسا کہ اس کا ذکر ایک صحیح حدیث میں آیا ہے۔ ایک د وسری صحیح حدیث میں ، آنحضرتﷺ نے ایک شخص سے فرمایا:
''أنت و مالك لأ بیك'' 6
کہ ''تُو اور تیرا مال تیرے باپ کا ہے۔''

یہ حق کیوں نہ ہو، بیٹے کا وجود باپ کا مرہون منت ہوتا ہے، اگر باپ نہ ہوتا تو بیٹے کا وجود بھی نہ ہوتا۔ بیٹے کے ذمہ باپ کا کس قدر حق ہے؟ ہم اس کا تصور بھی نہیں کرسکتے۔ احادیث میں اولاد کو باپ کی نافرمانی سے منع کیا گیاہے۔ اسی طرح آباء کوبھی اولاد پر بددعاء کرنے میں جلدی نہیں کرنی چاہیے۔

اس حدیث میں صرف باپ کا ذکر ہے، ماں کا نہیں۔ او رماں کا حق تو باپ سے بھی بڑھ کر ہے۔ لہٰذا اس کی دعاء باپ کی دعاء سے بھی زیادہ قبولیت کی مستحق ہے۔ مشہور عابد و زاہد جریج کا واقعہ مشہور ہے کہ جب اس کی والدہ نے اسے بددعا دی کہ ''توُ فاحشہ زانیہ عورتوں کا منہ دیکھے'' تو اللہ تعالیٰ نے اس کی دعا کو قبول فرمایا:

4، 5، 6۔ حاجی، مجاہد اور عمرہ کرنے والے کی دعاء :
ان تین قسم کے آدمیوں کی دعاء بھی اللہ تعالیٰ قبول فرماتے ہیں، اس لیے کہ یہ سب اللہ تعالیٰ کے حکم پر لبیک کہہ کر نکل پڑتے ہیں تو اللہ تعالیٰ بطور جزاء ان کی دعاء کو قبول فرماتے ہیں:
''عن ابن عمر عن النبي صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم الغازي في سبیل اللہ و الحاج والمعتمر وفد اللہ دعا ھم فأجابوہ و سألوہ فأعطاھم'' 7
''حضرت ابن عمرؓ آنحضرتﷺ سے روایت کرتے ہیں، آپؐ نے فرمایا: '' اللہ کی راہ میں جہاد کرنے والا، حاجی، عمرہ کرنے والا، اللہ کے مہمان ہیں۔ اللہ نے ان کوبلایا، یہ آگئے ۔یہ جو طلب کرتے کرتے ہیں اللہ تعالیٰ انہیں عطا فرماتے ہیں۔''

یہ کس قدر عظیم المرتبت مہمان ہیں، اللہ غنی و کریم کی طرف سے انہیں جو خصوصی ثواب و مقام ملا ہے، انہیں مبارک ہو۔

7۔ مسلمان کی مسلمان کے حق میں، اس کی غیر موجودگی میں دعاء :
''عن أبي الدرداء رضی اللہ عنه قال قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم: ما من عبد مسلم یدعو لأ خیه بظھر الغیب إلاقال الملك ولك بمثل'' 8
''حضرت ابوالدرداء ؓ سے روایت ہے کہ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: '' جو مسلمان اپنے مسلمان بھائی کے لیے اس کی غیر موجودگی میں دعاء کرے، تو فرشتہ کہتا ہے'' یہ دعاء تیرے حق میں بھی قبول ہو۔''

''عن صفوان بن عبداللہ قال: قدمت الشام فأتیت أبا الدرداء في منزله فلم أجدہ ووجدت أم الدرداء فقالت أترید الحج العام؟ فقلت: نعم ،قالت: ادع اللہ لنا بخیر فإن النبي صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کان یقول دعوةالمسلم لأ خیه بظھر الغیب مستجابة عند رأسه ملك موکل کلما دعا لأخیه بخیر قال الملك الموکل به آمین ولك بمثل'' 9
''صفوان بن عبداللہؓ فرماتے ہیں، ملک شام میں ابوالدرداء ؓ سے ملنے ان کے گھر گیا، وہ نہ ملے او ران کی والدہ سے ملاقات ہوئی۔ انہوں نے پوچھا: ''کیا اس سال حج کرنے کا ارادہ ہے؟'' میں نے کہا : ''جی ہاں!'' تو انہوں نے فرمایا: ''ہمارے حق میں بھی دعاء کرنا، کیونکہ آنحضرت ﷺ فرمایا کرتے تھے کہ مسلمان بھائی کے حق میں، اس کی غیر موجودگی میں جو دعاء کی جائے، قبول ہوتی ہے۔ دعاء کرنے والے کے پاس ایک فرشتہ ہوتا ہے، جب یہ آدمی دعاء کرتا ہے تو وہ فرشتہ کہتا ہے: ''آمین ، تیرے حق میں بھی (یہی دعاء) قبول ہو۔ اس حالت میں کی ہوئی دعاء خالص اللہ تعالیٰ کے لیے ہوگی۔ اسلاف میں سے کچھ بزرگوں کی عادت تھی کہ جب اپنے حق می کوئی دعاء کرتے تو دیگر مسلمانوں کو بھی اس دعاء میں شریک کرلیتے ایسی دعاء قبول ہوتی ہے اور دعاء کرنے والے کو بھی وہ دعاء شامل ہوتی ہے۔ (الحمد للہ) یہ لوگ دعاؤں کے اسرار و رموز اور کیفیات سے خوب واقف تھے، ان پر اللہ تعالیٰ کی بے شمار رحمتیں ہوں۔''آمین

آپ ذرا اس معاشرے کے متعلق تصور کریں، جس میں یہ کیفیت پیدا ہوجائے کہ ہر مسلمان اپنے مسلمان بھائی کی غیر موجودگی میں اس کے لیے دعائیں کرے۔ایسے معاشرہ کے افراد کی شخصی حالت او رایمان مدارج کی بلندی و ترقی کس قدر ہوگی۔

دعاء میں ناپسندیدہ امور :
دعاء میں چند باتیں ایسی ہیں، اللہ تعالیٰ کے ادب کا تقاضا ہے کہ ان سے احتراز کیا جائے، تاکہ دعاء اللہ تعالیٰ کے ہاں زیادہ مقبولیت پاسکے۔ ان میں سے بعض درج ذیل ہیں:

1۔ تکلف کے ساتھ مقفیٰ کلام کرنا:
''عن عکرمة عن ابن عباس قال حدث الناس کل جمعة مرة فإن أبیت فمر تین فإن أکثرت فثلاث مرات ولا تمل الناس من ھٰذا القرآن ولا ألفینك تأتي القوم وھم في حدیث من حدیثھم فتقطع علیھم حدیثھم فتملھم ولٰکن أنصت فإذا أمروك فحدثھم وھم یشتھونه وانظر السجع من الدعآء فاجتنبه ، فإني عھدت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم وأصحابه لا یفعلون إلا ذٰلك الاجتناب'' 10
'' حضرت عکرمہؓ، حضرت ابن عباس ؓ سے بیان کرتے ہیں، انہوں نے فرمایا: ''لوگوں کو ہر جمعہ ایک مرتبہ وعظ کیا کرو، اگر اس سے زیادہ کرنا ہو تو دو مرتبہ او راس سے بھی زیادہ کی ضرورت ہو تو تین مرتبہ، (یعنی ایک ہفتہ میں) قرآن سُنا سُنا کر لوگوں کو تھکا نہ دو۔ جب تو لوگوں کے پاس جائے اور وہ اپنی باتوں میں مشغول ہوں تو ان کی بات قطع کرکے وعظ کرنے کی بجائے خاموش رہ۔ جب وہ کہیں اور وعظ کا شوق رکھیں تو وعظ کر، لیکن دعاء میں سجع (مقفیٰ کلام، پُرتکلف الفاظ) سے اجتناب کر، کیونکہ میں نے اللہ کے رسول ﷺ اور آپؐ کے صحابہؓ کو دیکھا، وہ اس سے بچتے تھے۔''

دعاء میں سجع او رپُرتکلف الفاظ خشوع و خضوع کے منافی ہیں، اسی لیے اس سے منع کیا گیا ہے۔اگربلا تکلّف اس قسم کے الفاظ زبان پر آجائیں تو کوئی حرج نہیں۔ آنحضرت ﷺ سے بہت سی احادیث اور متعدد دعائیں اس انداز کی مروی ہیں۔ ان میں سے ایک یہ ہے:
''اللھم إني أعوذبك من قلب لا یخشع ومن دعآء لا یسمع ومن نفس لا تشبع ومن علم لا ینفع أعوذ بك من ھؤلآء الأ ربع''11
''یا اللہ ، میں ایسے دل سے پناہ مانگتا ہوں جو نہ ڈرے، ایسی دعاء سے پناہ مانگتا ہوں جو قبول نہ ہو، ایسے نفس سے پناہ مانگتا ہوں جو سیر نہ ہو، اور ایسے علم سے پناہ مانگتا ہوں جو نفع نہ دے۔ یا اللہ، میں ان چار چیزوں سے پناہ طلب کرتا ہوں۔''

ایسے ہی جہاد کے موقع کی دعاء ہے:
''اللھم منزل الکتاب ، سریع الحساب ، ھازم الأحزاب''
''اے اللہ ، کتاب کے نازل کرنے والے، جلدی حساب لینے والے اور لشکروں کوشکست دینے والے (میری دعاء قبول فرما) ''

اسی طرح او ربھی بہت سی دعائیں ہیں:

2۔ دعاء میں حد سے تجاوز کرنا:
دعاء کرنے والا چونکہ مالک الملک او رربّ العالمین سے مخاطب ہوتا ہے، اس لیے اسے جملہ آداب کا خیال رکھنا چاہیے ۔ او رچاہیے کہ ایک ایک لفظ کا اہتمام کرے اور خوب سوچ سمجھ کر الفاظ ادا کرے، ایسا نہ ہو کہ بعد میں اسے ندامت و پریشانی کا سامنا ہو۔

دعاء میں حد سے تجاوز یوں ہوتا ہے کہ انسان ایسی چیز اللہ سے طلب کرے جو اللہ تعالیٰ نے دنیا کی زندگی میں منع اور حرام کررکھی ہے۔ مثلاً اصحاب موسیٰ (علیہ السلام) نے ان سے یہ مطالبہ کیا تھا کہ ہمیں اللہ دکھائیے۔ ان کی اس غلطی کے سبب بجلی کی کڑک نے ان کو آلیا۔
فَقَالُوٓا أَرِ‌نَا ٱللَّهَ جَهْرَ‌ةً فَأَخَذَتْهُمُ ٱلصَّـٰعِقَةُ بِظُلْمِهِمْ...﴿١٥٣﴾...سورۃ النساء
جو لوگ دعاؤں میں حد سے تجاوز کرجاتے ہیں، اللہ تعالیٰ ایسے لوگوں کو پسند نہیں فرماتے۔ارشاد باری تعالیٰ ہے:
ٱدْعُوارَ‌بَّكُمْ تَضَرُّ‌عًا وَخُفْيَةً ۚ إِنَّهُۥ لَا يُحِبُّ ٱلْمُعْتَدِينَ ﴿٥٥...سورۃ الاعراف
''اپنے رب کو عاجزی سے او رچپکے چپکے پکارو، وہ یقیناً حد سے گزرنے والوں کو پسند نہیں فرماتا۔''

اسلاف میں کسی بزرگ سے پوچھا گیا، کوئی ایسی آیت بتلائیں، جس میں اللہ تعالیٰ کا بندوں پر مہربانی کرنا سب سے زیادہ بیان ہوا ہو، تو اس بزرگ نے جواب دیا ایسی آیت یہ ہے:
وَلَمَّا جَآءَ مُوسَىٰ لِمِيقَـٰتِنَا وَكَلَّمَهُۥ رَ‌بُّهُۥ قَالَ رَ‌بِّ أَرِ‌نِىٓ أَنظُرْ‌ إِلَيْكَ ۚ قَالَ لَن تَرَ‌ىٰنِى وَلَـٰكِنِ ٱنظُرْ‌ إِلَى ٱلْجَبَلِ فَإِنِ ٱسْتَقَرَّ‌ مَكَانَهُۥ فَسَوْفَ تَرَ‌ىٰنِى ۚ فَلَمَّا تَجَلَّىٰ رَ‌بُّهُۥ لِلْجَبَلِ جَعَلَهُۥ دَكًّا وَخَرَّ‌ مُوسَىٰ صَعِقًا ۚ فَلَمَّآ أَفَاقَ قَالَ سُبْحَـٰنَكَ تُبْتُ إِلَيْكَ وَأَنَا۠ أَوَّلُ ٱلْمُؤْمِنِينَ ﴿١٤٣...سورۃ الاعراف
''جب موسیٰ (علیہ السلام) ہماری ملاقات کے لیے آئے او راللہ نے ان سے کلام کی، تو موسیٰ علیہ السلام نے عرض کی، ''یا رب، مجھے اپنی زیارت کروائیں، میں آپ کو دیکھنا چاہتا ہوں۔'' اللہ نے فرمایا: ''تُو مجھے ہرگز نہیں دیکھ سکتا، لیکن پہاڑ کی طرف دیکھ اگر وہ اپنی جگہ ٹھہرا رہا، تو تُو مجھے عنقریب دیکھ لے گا۔'' پھر جب اللہ نے پہاڑ پر تجلّٰی فرمائی، تو اسے ریزہ ریزہ کردیا او رموسیٰ علیہ اللسام بیہوش ہوکر گر پڑے۔ جب افاقہ ہوا تو فرمایا: ''یااللہ تُو ہر قسم کے عیوب سے پاک ہے میں تیری طرف رجوع کرتا ہوں او رمیں سب سے پہلے ایمان لاتا ہوں۔''

حد سے تجاوز کی ایک دوسری صورت وہ بھی ہے جس کا حدیث میں ذکر آیا ہے ۔ حضرت سعد بن وقاصؓ نے اپنے بیٹے کو سنا، وہ دعاء کررہا تھا:
''اللھم إني أسئلك الجنة و نعیمھا و بھجتھا وکذا وکذا وأعوذ بك من النار وسلاسلھا وأغلالھا و کذا وکذا''
''یا اللہ میں جنت کی نعمتوں اور رونقوں کا سوال کرتا ہوں، او رجہنم اور اس کی زنجیروں او رطوقوں سے پناہ مانگتا ہوں۔'' تو حضرت سعدؓ نے فرمایا: ''بیٹے میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے سنا: ''سیکون قوم یعتدون في الدعآء'' کہ ''عنقریب ایسے لوگ آئیں گے جو دعاؤں میں حد تجاوز کریں گے۔ '' لہٰذا تو ان جیسا نہ بن۔ اگر تجھے جنت ملی تو اپنی نعمتوں سمیت ملے گی۔ اور اگر تجھے جہنم سے بچا لیا گیا تو جہنم کے تمام عذابوں سے بھی نجات ہوگی۔'' 12

3۔ جلدی سزا کی دعاء کرنا:
''عن أنس رضی اللہ عنه أن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم عاد رجلا من المسلمین قد خفت فصار مثل الفرخ فقال له رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ''ھل کنت تدعو بشيء قال: نعم، کنت أقول ، اللھم ما کنت معاقبي به في الآخرة فعجله لي في الدنیا فقال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم: سبحان اللہ لا تطیقه أولا تستطیعه أفلا قلت : اللهم اٰتنا في الدنیا حسنة وفي الآخرة حسنة وقنا عذاب النار؟ قال فدعا اللہ له فشفا'' 13
''حضرت انسؓ سے روایت ہے ، رسول اللہ ﷺ نے ایک مسلمان کی بیمار پرسی کی، اسے دیکھا کہ وہ کمزوری سے چڑیا کے بچے کی مانند ہوگیا ہے۔ آپؐ نے دریافت فرمایا: ''کیا تو کوئی خاص دعاء کیا کرتا تھا؟'' اس نے کہا: ''جی ہاں میں دعاء کرتا تھا: ''یا اللہ تو مجھے آخرت میں جو سزا دینا چاہتا ہے ، وہ دنیا میں ہی دے لے۔'' آپؐ نے فرمایا: ''سبحان اللہ، تمہیں اس کی استطاعت کہیں؟ تجھے تو یہ دعاء کرنا چاہیے : ''ربنا آتنا في الدنیا حسنة وفي الآخرة حسنة وقنا عذاب النار'' ''یا اللہ، ہمیں دنیا او رآخرت میں اچھائیاں عطا فرما او رجہنم کے عذاب سےمحفوظ رکھ۔'' راوی کہتے ہیں اس نے یہ دعاء کی تو اللہ تعالیٰ نے اسے شفا عطا فرما دی۔''

اس حدیث سے معلوم ہوا کہ دنیا میں جلدی سزا کی دعاء نہیں کرنی چاہیے۔ نیز اس دعا ''ربنا آتنا في الدنیا۔۔۔ الخ'' کی فضیلت بھی اس سے ثابت ہوئی ۔ علاوہ ازیں مریض کی عیادت کرنے اور اس کے لیے دعاء کرنے کا استحباب بھی معلوم ہوا۔

4۔ اپنے اوپر ، اہل پر اور مال پر بددعاء کرنا:
کبھی کبھی انسان جب غصے میں ہوتا ہے کہ بغیر سوچے سمجھے ہر چیز پر لعنتیں اور بددعائیں کرنے لگتا ہے، یہ بات اچھی نہیں۔ اس سے اللہ کے نبی ﷺ نے منع فرمایا ہے:
''عن جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنهما قال قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم لا تدعوا علیٰ أنفسکم ولا تدعوا علیٰ أولادکم ولا تدعوا علیٰ خدمکم ولا تدعوا علیٰ أموالکم لا توافقوا من اللہ ساعة نیل فیھا عطاء فیستجیب لکم'' 14
''حضرت جابر ؓ فرماتے ہیں، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ''تم اپنے اوپر، اپنی اولادوں ، خادموں اور مالوں پر بددعائیں نہ کرو۔ ایسا نہ ہو کہ وہ وقت قبولیت کا ہو، اور تمہاری بددعا قبول ہوجائے۔''

5۔ امام صرف اپنے لیے دعاء نہ کرے:
''عن ثوبان رضی اللہ عنه عن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم قال: لا یحل لامرئ أن ینظر في جوف بیت امرئ حتیٰ یستأذن، فإذا نظر فقد دخل ولا یؤم قوما فیخص نفسه بدعوة دونھم فإن فعل فقد خانھم ولا یقوم إلی الصلوٰة وھو حقن'' 15
''حضرت ثوبانؓ آنحضرت ﷺ سے روایت کرتے ہیں، آپؐ نے فرمایا: ''انسان کے لیے دوسرے گھروں میں بلا اجازت دیکھنا حلال نہیں، جب دیکھ لیا تو گویا اندر داخل ہوگیا۔ اور نہ ہی کوئی شخص لوگوں کی امامت کراتے ہوئے لوگوں کو چھوڑ کر صر ف اپنے لیے دعاء کرے۔ اگر اس نے ایسا کیا تو گویا اس نے اپنے مقتدیوں کی خیانت کی۔ نیز پیشاب یا پاخانہ روکے ہوئے نماز کے لیے کھڑا نہ ہو۔''

یہ بات ذوق ، انصاف او راخلاق کے منافی ہے کہ امام صرف اپنے لیے دعاء کرے اور مقتدیوں کے لیے نہ کرے۔

6۔ رحمت کو محدود کرنا:
''عن أبي ھریرة رضی اللہ عنه قال قام رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم في صلاة و قمنا معه فقال أعرابي وھو في الصلوٰة: اللھم ارحمني و محمدا ولا ترحم معنا أحدا، فلما سلم النبي صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم قال للأعمرابي لقد حجرت واسعا یرید رحمة اللہ'' 16
''حضرت ابوہریرہؓ سے روایت ہے کہ ، ہم رسول اللہ ﷺ کے ساتھ نماز میں کھڑے ہوئے تو نماز میں ایک اعرابی نے یوں دعا کی: ''یا اللہ، مجھ پر اور محمد ﷺ پر رحم فرما، او رہمارے ساتھ کسی پر رحم نہ کر۔'' جب نبی کریم ﷺ نے سلام پھیرا تو اعرابی سے فرمایا: '' تو نے ایک بے پایاں چیز یعنی اللہ کی رحمت کو محدود کردیا۔''

اپنے مسلمان بھائیوں سے محبت کا تقاضا ہے کہ انہیں بھی دعاء میں شریک کیا جائے، یہ کوئی اچھی عادت نہیں کہ صرف اپنے لیے دعاء کرے اوردوسروں کو نظر انداز کردے۔ ویسے بھی اللہ تعالیٰ کی رحمت بڑی وسیع ہے۔

ارشاد باری تعالیٰ ہے :
وَرَ‌حْمَتِى وَسِعَتْ كُلَّ شَىْءٍ...﴿١٥٦﴾...سورۃ الاعراف
''میری رحمت ہر چیز پر وسیع ہے۔''

7۔ موت کی تمنّا کرنا:
عن قیس قال: أتیت خبابا وقد اکتوی سبعا قال لو لا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نھانا عن أن تدعوا بالموت لدعوت به'' 17
''حضرت قیسؓ سے روایت ہے، میں خباب ؓ کے پاس گیا، تو وہ سات مرتبہ داغ لگوا چکے تھے۔ کہنے لگے: ''اگر ہمیں رسول اللہ ﷺ نے موت کی دعاء سے روکا نہ ہوتا تو میں موت کی دعاء کرلیتا۔''

''عن أنس بن مالك قال قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم: لا یتمنین أحدکم الموت لضر نزل به فإن کان لا بد متمنیا للموت فلیقل : اللھم أحیني ما کانت الحیاة خیرالي و توفني ما کانت الوفاة خیرالي'' 18
''حضرت انس بن مالکؓ سے روایت ہے کہ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ''تم میں سے کوئی آدمی کسی دُکھ اور پریشانی کے سبب موت کی تمنّا نہ کرے۔........ اور اگر موت کی تمنا ضروری کرنا ہو تو یوں کہے:''''اللھم أحیني ما کانت الحیاة خیرالي و توفني ما کانت الوفاة خیرالي'' ''یا اللہ! جب تک زندگی میرے لیے بہتر ہو تو مجھے زندہ رکھ اور جب موت میرے لیے بہتر ہو تو مجھے موت دے دینا۔''

صحیح حدیث میں آنحضرتﷺ کا ''اللھم في الرفیق الأعلیٰ'' کہنا ثابت ہے ۔ معلوم ہوتا ہے کہ یہ آپؐ کے ساتھ خاص ہے۔i

اوپر کی حدیث میں جو ذکر آیا ہے کہ اگر موت کی تمنا ضروری کرنا ہو تو یوں کہے ............''الخ'' اس سے مراد یہ ہے کہ جب انسان کو دین کے بارہ میں فتنوں، امتحانوں اور آزمائشوں کا خطرہ ہو تو یہ دعاء کرے۔ آنحضرتﷺ نے موت کی تمنا اور دعاء سے منع اس لیے فرمایا ہے کہ زندگی ہمارے لیے بہتر ہے۔
''عن أبي ھریرة رضی اللہ عنه عن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم: لا یتمنیٰ أحدکم الموت ولا یدع به قبل أن یأتیه أنه إذا مات أحدکم انقطع عمله وإنه لا یزید المؤمن عمرہ إلاخیرا'' 19
''حضرت ابوہریرہؓ سے روایت ہے کہ، آنحضرتﷺ نے فرمایا: ''تم میں سے کوئی شخص موت کے آنے سے پہلے اس کی دعاء اور تمنا نہ کرے۔ کیونکہ موت کے آمنے سے انسان کے اعمال کا سلسلہ منقطع ہوجاتا ہے جبکہ مومن کو اس کی عمر نیکیوں کے لحاظ سے بڑھاتی رہتی ہے۔''

اس حدیث سے اندازہ ہوتا ہے کہ آنحضرتﷺ کو اپنی اُمت سے کسی درجہ شفقت تھی اور اللہ تعالیٰ نے آپؐ کو ہمارے لیے رحمت بنا کر مبعوث فرمایا۔ صلی اللہ علیہ وآلہ سلم!

8۔ گناہ کی دعاء کرنااور قبولیت کے لیے جلدی کرنا:
''عن أبي هریرة رضی اللہ عنه عن النبي صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم أنه قال : لا یزال یستجاب للعبد مالم یدع بإثم أو قطیعة رحم مالم یستعجل قیل یارسول اللہ ما الاستعجال؟ قال: یقول: قد دعوت فلم أریستجیب لي فیستحسر عند ذٰلك و یدع الدعآء'' 20
''حضرت ابوہریرہؓ سے روایت ہے کہ ، آنحضرت ﷺ نے ارشاد فرمایا: '' جب تک بندہ گناہ یا قطع رحمی کی دعاء نہ کرے او رجلدی بازی نہ کرے تو اللہ تعالیٰ بندے کی دعاء قبول فرماتے رہتے ہیں۔'' پوچھا گیا، ''یارسول اللہ ﷺ، جلد بازی کا مفہوم کیا ہے؟''آپؐ نے فرمایا: ''یوں کہنا کہ میں نے دعاء کی لیکن قبول ہوتی نظر نہیں آتا اور پھر ناامید ہوکر دعاء کرنا ترک کردے۔''

مومن کو صفت صبر سے موصوف ہونا چاہیے، جلدی بازی صبر کے منافی ہے۔ (جاری ہے)

حوالہ جات
1. مسنداحمد:1؍419۔ ابن ماجہ ، حدیث نمبر 3850
2. المستدرک للحاکم، صحیح الجامع الصغیر، حدیث نمبر 3073
3. المستدرک للحاکم:1؍29
4. مسنداحمد:3؍153
5. ترمذی :9؍407، ابوداؤد :4؍395
6. ابن ماجہ
7. ابن ماجہ حدیث نمبر 2893
8. مسلم :17؍49، ابوداؤد حدیث نمبر 1510
9. صحیح مسلم :17؍50
10. صحیح بخاری:11؍138
11. جامع ترمذی
12. ابوداؤد:467
13. مسلم :17؍13، ترمذی :9؍459، مسند احمد :1؍107
14. ابوداؤد:1518
15. ترمذی، مسند احمد :5؍280
16. صحیح بخاری:10؍438
17. بخاری:11؍50
18. حوالہ مذکور
19. مسلم :17؍8
20. صحیح مسلم :17؍52

i. یہ تاویل اس صورت میں کریں گے جب ا س دعاء کا مفہوم موت کی دعاء ہو۔ حالانکہ آپؐ نے موت کی دعاء نہیں کی، کیونکہ اس کا معنی ہے: ''یا اللہ میں بلند مخلوق کا ساتھ پسند کرتا ہوں۔'' (مترجم)