مسئلہ تقلید و اجتہاد اسی زمانے سے معرکۃ الآراء موضوع بنا ہوا ہے، جب سے  اُمت مسلمہ نے بقول مقلدین’’تقلید و جمود‘‘ پر اجماع کرلیا ہے۔ کہنے کو تو یہ حضرات کہہ دیتے ہیں کہ ائمہ اربعہ کے عہد کے اختتام پر تمام اُمت نے ان ائمہ  کی تقلید پر اتفاق کرلیاتھا، مگر تاریخ کے اوراق ان کے اس دعوے کی تائید نہیں کرتے۔ چوتھی صدی ہجری کے اوائل سے لے کر آج تک ہر زمانے میں مقلدین کے علاوہ اہل علم کی ایک معتدبہ جماعت موجود رہی ہے۔ جس نے اپنے اپنے زمان و مکان کے بدلتے ہوئے حالات میں اجتہاد کا فریضہ سرانجام دیا ہے او رآج اجتہاد ایک مسلمہ حقیقت ہے۔ آپ تاریخ فقہ پڑھ کر دیکھئے، جن حضرات نے  اپنے آپ کو تقلید جامد کے حصار میں محصور کرکے اجتہاد کا دروازہ بند کرلیا، وہ اپنے زمانے کی حدود سے باہر نہیں نکل سکے۔ اس کی بے شمار مثالیں دی جاسکتی ہیں۔ اس کے برعکس ابن عبدالبر،  ابن حزم، ابن عبدالسلام، ابن تیمیہ، ابن قیم، محمد بن اسماعیل صنعانی، شاہ ولی اللہ، شوکانی، نذیر حسین دہلوی، و دیگر مجتہدین نے مسئلہ اجتہاد کو منقح کرکے تقلید جامد کی مذمت کی ہے ، کہ ایک متعصب مقلد ہی تقلید جامد کے ساتھ چمٹا رہ سکتا ہے۔
اس مضمون میں ہمارا موضوع تقلید کی تردید میں دلائل فراہم کرنا نہیں، کیونکہ اب اس کی حقیقت روز روشن کی طرح عیاں ہے، بلکہ  ہمارے ایک دوست جناب پروفیسر ابوالکلام خواجہ کی تازہ تصنیف ’’نماز کے چند مسائل‘‘ میں بیان کردہ ’’چند بنیادی باتوں‘‘ کے ضمن میں ان مغالطوں کا ازالہ مقصود ہے، جن کے ذریعے انہوں نے واضح حقائق کو مسخ کرنے کی کوشش کی ہے۔ انہوں نے یہ کتاب از راہ نوازش مجھے عنایت فرمائی، اس پر میں  ان کا بے حد شکرگزار ہوں۔ اس کتاب میں انہوں نے ’’چند بنیادی باتوں‘‘ کے علاوہ اپنے مسلک کی تائید میں کمزور اور ضعیف روایات کے ’’مستند مواد‘‘ اور کچھ خود ساختہ اصولوں کے ذریعے اپنے ہم مسلک مقلدین کو ’’استقامت‘‘ دینے کی کوشش فرمائی ہے۔ کیا ہی اچھای ہوتا کہ وہ اپنے زور قلم کو  صرف اپنے ہم مسلک حضرات کی نماز کو ’’مطابق سنت‘‘ بنانے کے لیے، دلائل فراہم کرنے تک محدود رکھتے۔ کیونکہ ذخیرہ حدیث میں تلاش کرنے سے ہر قسم کی چیز مل جاتی ہے۔ البتہ کندن کی پہچان کے لیے تعصب سے پاک جوہری کی نظر چاہیے۔ اور یہ پہچان صرف مطالعہ حدیث کو اپنی زندگی کا اوڑھنا بچھونا بنا لینے سے حاصل ہوتی ہے۔ ورنہ خواجہ صاحب اچھی طرح جانتے ہیں کہ بعض حضرات نے اپنی بدعات،شرک اور قبر پرستی کی تائید کے لیے یہیں سے ’’مستند مواد‘‘ حاصل کرکے انہیں عین سنت او رمسلک سلف قرار  دے رکھا ہے۔
انہوں نے ’’بنیادی باتوں‘‘ کے ضمن میں ’’اہل حدیث‘‘ اور ’’مسلک اہل حدیث‘‘ پر طبع آزمائی فرمائی ہے۔ اس لیے ان کے ان مغالطوں کو دور کرنا ہم اپنی ذمہ داری خیال کرتے ہیں۔ خواجہ صاحب نے حقائق سے صرف نظر کرکےاپنے قارئین کو مندرجہ ذیل مغالطوں میں مبتلا کرنے کوشش کی ہے:
اوّل: تقلید کے اُس مفہوم کو انہوں نے عمداً یا سہواً نظر انداز کیا ہے، جو متفقہ طورپر اہل علم کے نزدیک مذموم ہے او رجس کی مذمت اہل حدیث کرتے ہیں۔ مزید بریں ان کے نزدیک :
ثانی:  قرون اولیٰ سے لے کر آج تک ’’اہل حدیث‘‘ صرف حدیث پڑھنے او رپڑھانے والوں کو کہا جاتا رہا ہے۔ اہل حدیث اور ائمہ اربعہ کی تقلید نہ کرنے کا مستقل اور الگ فقہی مسلک موجود نہ تھا اور ’’اہل حدیث‘‘ کا اطلاق شوافع پر ہوتا تھا
ثالث: موجودہ اہل حدیث بھی درحقیقت مقلد ہیں او رعمل بالحدیث ، تقلید کے زمرے میں آتا ہے۔
رابع: ہند کے اہل حدیث انگریزوں کے پروردہ تھے او رانہوں نے انگریزوں کی سرپرستی میں غیر مقلدیت کی تحریک کو آگے بڑھایا۔
ہم ان تمام مغالطوں کا جواب باری باری دیں گے۔
1۔ پروفیسر ابوالکلام خواجہ صاحب نے خود اپنی طرف سے تقلید کی ایک تعریف دے کراپنے قارئین کو مغالطے میں ڈالنے کی کوشش کی ہے۔ چنانچہ وہ ان الفاظ میں تقلید کی تعریف کرتے ہیں:
’’کسی مسئلہ میں شریعت کے حکم پرعمل کرنے کے لیے اپنی ذاتی رائے یا تحقیق کی بجائے کسی مجتہد کی تحقیق پر اعتماد کرتے ہوئے اس کے مطابق عمل کرنا تقلید کہلاتا ہے۔‘‘[1]
اہل اصول کے ہاں جناب ابوالکلام خواجہ کی مذکورہ بالا تعریف نہ تو جامع ہے اور نہ وہ تقلید کی اس مذموم حیثیت پر دلالت کرتی ہے، جس کی ہم مذمت کرتے ہیں۔ آئیے ہم آپ کو بتلائیں کہ مشاہیر اہل اصول نے تقلید کی کیا تعریف کی ہے؟ اہل علم کے ہاں تقلید کی مندرجہ تعریفیں معروف ہیں:
(الف)  ’’التقلید العمل بقول الغیر من غیر حجۃ‘‘ [2]
      ’’بغیر کسی دلیل کے دوسرے کے قول پر عمل کرنا تقلید کہلاتا ہے۔‘‘
دلیل سے مراد قرآں و سنت کی نصوص ، اجماع اور قیاس صحیح ہے۔ مجتہد کا اجتہاد چونکہ صواب اور خطاء دونوں کا محتمل ہوتا ہے، بنا بریں وہ دلیل کے زمرے میں نہیں آتا۔
(ب) امام غزالی ان الفاظ میں تقلید کی تعریف کرتے ہیں:
      ’’التقلید ھو قبول قولا بلا حجۃ‘‘ [3]
’’ کسی قول کو بغیر دلیل کے قبول کرنا تقلید کہلاتا ہے۔‘‘
اس کے ساتھ امام صاحب فرماتے ہیں کہ:
’’ولیس ذٰلک طریقا الی العلم‘‘
’’یہ علم کی راہ نہیں۔‘‘
(ج) علامہ ابوالحسن اللآمدی فرماتے ہیں:
’’اما التقلید فعبارۃ عن العمل بقول الغیر من غیر حجۃ ملزمۃ‘‘ [4]
’’رہی تقلید،  تو وہ بغیر کسی ایسی دلیل کے، غیر کے قول پر عمل کرنے سے عبارت ہے، جو عمل کو لازم ٹھہراتی ہو۔‘‘
(د) علامہ شوکانی ان الفاظ میں تقلید کی تعریف کرتے ہیں:
’’ھو العمل بقول الغیر من غیر حجۃ‘‘[5]
’’کسی کے قول پر بغیر کسی دلیل کے عمل کرنے کو تقلید کہتے ہیں۔‘‘
(ہ) علامہ ابن الہّمام کے نزدیک تقلیدکی تعریف یوں ہے:
’’التقلید العمل بقول من لیس قولہ احدی الححج‘‘[6]
’’کسی ایسے  شخص کے قول پر بلا دلیل عمل کرنا، جس کا قول دلائل شرعیہ میں شمار نہیں ہوتا، تقلید کہلاتا ہے۔‘‘
یہ ہیں تقلید کی چند تعریفیں۔ اگر مفتی، مجتہد یا کسی محدث کی روایت پر اس اعتماد کے ساتھ عمل کیا جائے کہ اس کا فتویٰ دلیل پر مبنی ہے او رمحدث کی روایت صحیح سند کے ساتھ رسول اللہ ﷺ تک پہنچتی ہے ، تو یہ تقلید نہیں، بلکہ دلیل کا اتباع ہے۔ اگر  مستففی (فتویٰ طلب کرنے والے) پر یہ واضح ہوجانے کے بعد بھی کہ مفتی اور مجتہد بغیر دلیل یا کسی کمزور دلیل کی بنیاد پر فتویٰ دے رہا ہے او رمحدث کی یہ روایت ضعیف یا موضوع ہے، وہ کسی اور مفتی یا مجتہد، جس کےپاس دلیل ہو، کسی دوسرے محدث کی روایت کی طرف، جس کی روایت صحیح ہو، رجوع نہیں کرتا۔ تو یہی درحقیقت وہ تقلید ہے جس کی اہل علم مذمت کرتے ہیں۔ تقلید مذموم کو، جس پر عمل کرنا حرام ہے، علامہ ابن قیم نے تین اقسام میں تقسیم کیا ہے:
اوّل: اپنے آباء و اجداد کے رسم و رواج کی تقلید کرتے ہوئے اس ہدایت سے گریز کرنا جو اللہ تعالیٰ نے نازل فرمائی ہے۔
ثانی: کسی ایسی ہستی کی تقلید کرنا جس کے متعلق مقلد کے پاس کوئی علم نہیں کہ آیا اس کا قول تقلید کے قابل ہے یا نہیں؟
ثالث: اپنے مقتدیٰ کے قول کے خلاف دلیل و برہان قائم ہوجانے کے بعد بھی اس کی تقلید پر مُصر رہنا۔[7]
کسی ایسی شخصیت کو اپنی تقلید کے لیے معین کرلینا او راس کے خلاف دلیل ثابت ہوجانے کے بعد بھی اس کی تقلید کرتے چلے جانا، اس کے علاوہ کسی دوسرے صاحب علم کی طرف شرعی حکم معلوم کرنے کے لیے رجوع کرنے کو حرام سمجھنا دراصل اس شخصیت کو معصوم عن الخطاء سمجھنا ہے ۔ بے چون و چرا اطاعت صرف رسول اللہ ﷺ کی ہے۔ یہ لوگ مانیں یا نہ مانیں مگر اپنے معین امام کی تقلید عملاً اسی نہج پر کرتے ہیں، حالانکہ اللہ تعالیٰ اور اس کے رسولؐ نے ہمیں اس بات کا پابند نہیں کیا کہ ہم صرف ایک معین شخص ہی سے فتویٰ پوچھیں ، خواہ اس کے پاس دلیل ہو یا نہ ہو۔
علامہ عزالدین بن عبدالسلام اپنی مشہور کتاب ’’قواعد الاحکام فی مصالح الانام‘‘ میں مقلدین کی اس قسم کا ذکر اس طرح کرتے ہیں:
’’بہت ہی عجیب بات ہے کہ مقلد فقہاء اپنے امام کے کسی ماخذ کی کمزوری کو محسوس کرتے ہیں مگر اس کا  دفاع نہیں کرسکتے۔ بایں ہمہ وہ اپنے امام کی جامد تقلیدپر مُصر ہوتے ہوئے کتاب و سنت او راس کے مذہب کے قیاسات صحیحہ کو چھوڑ دیتے ہیں، کتاب و سنت کی ظاہری نصوص کو رد کرنےکےلیے حیلے ایجاد کرتے ہیں، اپنے امام کی حمایت اور مدافعت میں قرآن اور سنت کی ایسی ایسی تاویلات کرتے ہیں جو باطل ہوتی ہیں او رمسلمہ اصولوں سے بہت بعید ہوتی ہیں۔‘‘ [8]
آگے چل کر فرماتے ہیں:
’’میں نے آج  تک کسی کو  نہیں دیکھا کہ جب اس پر یہ ظاہر ہوجائےکہ حق دوسرے کے ساتھ ہے، تو اس نے اپنے امام کے مذہب سے رجوع کیا ہو۔بلکہ  وہ اپنے امام اور مقتدیٰ کی دلیل کی کمزوری او رحق سے بُعد کے باوجود اسی مذہب پر جما رہتا ہے۔ ایسے لوگوں کے ساتھ بحث نہ کرنابہتر ہے، جن میں سے اگر کوئی شخص اپنے امام کی دلیل کی کمزوری دیکھتا ہے تو کہہ دیتا ہے کہ شاید میرے امام کے پاس کوئی ایسی دلیل ہو جس سے میں واقف نہیں ہوں اور اس دلیل تک میری رسائی نہیں ہوسکی۔‘‘[9]
غالباً علامہ عزالدین بن عبدالسلام کا اشارہ علامہ کرخی کی اس عبارت کی طرف ہے:
’’کل اٰیۃ تخالف قول اصحابنا فانھا تحمل علی النسخ او علی التگرجیح و اولیٰ ان تحمل علی التاویل من جھۃ التوفیق........... وکل خبر یجیئ بخلاف قول اصحابنا فانہ یحمل علی النسخ او علیٰ انہ معارض بمثلہ‘‘ [10]
’’ہر وہ آیت قرآنی ، جو ہمارے اصحاب (احناف) کے مذہب کے خلاف ہو ، وہ یا تو منسوخ سمجھی جائے گی یا اسے ترجیح پر محمول کیا جائے گا۔ اور اگر اپنے مذہب کے مطابق بنانے کے لیے تاویل کرلی جائے تو بہتر ہے۔............ہر وہ حدیث، جو ہمارے اصحاب کے قول کے خلاف آتی ہے، اسے منسوخ سمجھا جائے گا یا یہ سمجھا جائے گاکہ کوئی اور اس جیسی حدیث اس کے معارض تھی۔‘‘
اس قسم کے مقلدین کے متعلق ابن تیمیہ  فرماتے ہیں:
’’بہت سے فقہائے متأخرین یا ان کی اکثریت یہ کہتی ہے کہ ہم رسول اللہ ﷺ کی جہت سے شرعی احکام اخذ کرنے سے عاجز ہیں ، چنانچہ  یہ لوگ اپنے ائمہ  کی نصوص کو رسولؐ کی نص کی مانند قرار دیتے ہیں او ران کی تقلید کرتے ہیں۔‘‘[11]
ایک ہی مذہب میں تقلید اور تحقیق کا تقابل ملاحظہ کرنا ہو تواحناف میں تراویح کی رکعات کے عدد کے بارے میں علامہ انور شاہ کشمیری او رعلامہ ابن الہمام کا موقف مطالعہ فرما لیں۔ شاہ صاحب ترمذی کے حواشی میں تسلیم کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے رمضان میں بھی تراویح کی آٹھ ہی رکعت ادا فرمائی تھیں۔ مگر مختلف تاویلوں سے بیس رکعت ہی کو سنت مؤکدہ قرار دیتے ہیں۔[12] اس کے برعکس علامہ ابن الہمام واضح نص کے سامنے سرنگوں ہوتے ہوئے آٹھ تراویح کو،  رسول اللہ ﷺ سے ثابت شدہ سنت ہونے کی بناء پر  ، سنت مؤکدہ قرار دیتے ہیں اور اس سے زائد صحابہ کرامؓ کا عمل ہونےکی وجہ سے مستحب قرار دیتے ہیں۔[13]
2۔ امام ابوحنیفہ، امام مالک، امام شافعی وغیرہم کے عصر کے بعد سے لے کر آج تک ان کے اصحاب کے ساتھ ساتھ اہل علم کا ایک ایسا گروہ موجود رہا ، جو الگ اور مستقل فقہی آراء اور کلامی نظریات رکھتا تھا۔وہ کسی اہل علم کی تقلید نہیں کرتا تھا، بلکہ قرآن و سنت کی واضح نصوص پر عمل کرتا تھا۔ وہ صحیح و مستفیض احادیث کو خلاف قیاس ، زائد از قرآن، مخالف اجماع اہل مدینہ او رمخالف تعامل اہل کوفہ کہہ کر رد نہیں کرتا تھا۔ وہ ہر اس حدیث کو قبول کرتا تھا، جو روایت و درایت کے مسلمہ اصول پر پوری اترتی ہو، خواہ وہ کوفہ سے ملی ہو یا وہ مدینہ سے آوی ہو۔ وہ روایت پر عمل کرتے وقت صحابہ کرامؓ کو فقیہہ وغیرفقیہہ میں تقسیم نہیں کرتا تھا، حتی الامکان احادیث  میں تعارض پید انہیں ہونے دیتا تھا اور تعارض رفع نہ ہونے کی صورت میں کسی امام فقہ کے تعصب میں ضعیف روایت سے صحیح روایت کو منسوخ قرار دے کر ترک نہیں کرتا تھا۔ بلکہ روایت و درایت کے مسلمہ اصولوں کے مطابق جو صحیح ترین روایت ہوتی تھی اسے اختیار کرلیتا تھا۔ اسی گروہ نے اہل ایمان کی آسانی خاطر نہایت جانفشانی سے صحت کے کڑے اصولوں پر پرکھ کر صحیح احادیث کو جمع کرکے ان کو فقہی ابواب پر مرتب کردیا، تاکہ لوگ آسانی سے اُن پر عمل کرسکیں۔ اس زمانے سے لے کر آج تک اہل علم نے اس گروہ کو کبھی اہل الحدیث ، کبھی اصحاب الحدیث، کبھی فقہا ء الحدیث، کبھی فقہاء اہل الحدیث، کبھی فقہا المحدثین، کبھی فقہاء اہل الاثر ، کبھی فقہاء الاثر او رکبھی صرف محدثین کے ناموں سے موسوم کیا ہے۔ ان کی فقہی آراء کو ایک مستقل مذہب کے طور پر بیان کیاہے۔ علمائے  دیو بند اور بعض ہندی وغیر ہندی فقہائے احناف نے ، جن پر تقلیدی اور خالص فقیہانہ طرز استنباط غالب تھا، فقہاء اہل حدیث کی آراء کو ایک علیحدہ مسلک کے طور پربیان نہیں کیا۔ ان کی فقہی موشگافیاں زیادہ تر حنفی اور شافعی اختلافات کے دائرے میں رہی ہیں۔ مگر احناف شارحین حدیث نے ان کی آراء کو بیان کیا ہے۔ بلکہ ہم تو کہتے ہیں کہ اگر علامہ انور شاہ کشمیری کو ہند کے اہل حدیث کے اختلاف سے واسطہ نہ پڑا ہوتا تو یقیناً وہ بھی اہل حدیث کی آراء کو مستقل حیثیت سے بیان کرتے، جیسے علامہ  عینی او رملاّ علی القاری نے بیان کی ہین۔ اب بھی وہ ’’عرف الشذی‘‘ اور ’’فیض الباری‘‘ وغیرہ میں ابن تیمیہ وغیرہ کی آراء کو بیان کرتے ہیں مگر مقلد حنبلی کی صورت میں، فیاللعجب!

محدثین یا اصحاب الحدیث کسی امام کی تقلید نہ کرتے تھے اور بقول علامہ شہر ستانی اور شاہ ولی اللہ، ان کو اس بناء پر اصحاب الحدیث کہا جاتا تھا کہ ان کی تمام تر توجہ حصول حدیث پر ہوتی تھی۔ وہ احکام شریعت کی بنیاد نصوص پر رکھتے تھے اور حدیث یا اثر کے ہوتے ہوئے کسی جلی یا خفی قیاس پر عمل نہیں کرتے تھے۔[14]

امام ابن تیمیہ ، محدثین کا فقہی مسلک بیان کرتے ہوئے لکھتے ہیں:

’’رہے امام بخاری او رابوداؤد، تو وہ دونوں فقہ میں امام ہیں او راہل اجتہاد میں شمار ہوتے ہیں، رہے امام  مسلم، امام ترمذی، امام نسائی، امام ابن ماجہ، امام اب خزیمہ، امام ابویعلیٰ او رامام بزار وغیرہم، تو مذہب اہل حدیث پر گامزن ہیں۔ وہ علماء میں سے کسی ایک عالم کے مقلد نہیں اور نہ ان کا شمار ائمہ مجتہدین میں ہوتا ہے ۔ بلکہ ان کا میلان ائمہ حدیث مثلاً امام شافعی، امام احمد بن حنبل، امام اسحاق، او رامام ابوعبید قاسم بن سلام او ران جیسے دوسرے ائمہ کے اقوال کی طرف رہتا ہے۔‘‘[15]

حافظ ابن حجر فتح الباری میں امام بخاری کے بارے میں صاف تصریح کرتے ہیں:

’’ولم نجد عن احد ممن عرف حال البخاری وسعۃ علمہ وجودۃ تصرفہ علیٰ انہ کان یقلد فی التراجم ولو کان کذٰلک لم یکن لہ مزیۃ علیٰ غیرہ‘‘ (فتح الباری جلد1 ص148)

’’جواہل علم امام بخاری کے احوال،  ان کی وسعت علم اور ان کے حسن استنباط کی معرفت رکھتے ہیں، ہم نے ان میں سے کسی کو نہیں پایا کہ اس نے یہ بات کہی ہو کہ بخاری اپنے تراجم (فقہ البخاری) میں تقلید کرتے تھے۔ اگر یوں ہوتا تو اُن کو دوسروں پر کوئی فوقیت حاصل نہ ہوتی۔‘‘

امام الہند شاہ ولی اللہ ، جو ہند میں تقلید کے جامد و ساکت پانی کی سطح پر پہلا بڑا پتھر پھینکنے والے ہیں، فقہائے اہل حدیث کے مسلک کی توضیح کرتے ہوئے لکھتے ہیں:

’’پس محققین اہل حدیث فن روایت اور معرفت مراتب حدیث کو مکمل کرنے کے بعد فقہ کا طرف مائل ہوئے ۔ پس جبکہ بہت سی احادیث و آثار کو انہوں نے ان مذاہب میں سے ہرایک کے مذہب کے مخالف دیکھا،  متقدمین میں سے کسی خاص امام کی تقلید کرنے پر اتفاق کرنےکو انہوں نےدرست نہ سمجھا۔ پس وہ خود احادیث نبوی کا ، صحابہؓ و تابعین او رمجتہدین کے آثار کا، ان قواعد کے موافق، جو انہوں نے اپنے نزدیک قرا ردے رکھے تھے، تتبع کرنے لگے ہیں ان قواعد کو تمہارے لیے چند کلمات میں  بتلائے دیتا ہوں۔

ان کا مسلک یہ تھا کہ جب کسی مسئلہ پر قرآن ناطق ہوتا تو کسی شئ کی طرف توجہ کرنا جائز نہیں او رجب آیت قرآنی میں چند احتمالات ہوں تو اس کا فیصلہ حدیث سے کرنا چاہیے او راگر قرآن میں ان کو کوئی حکم نہ ملتا تھا تو رسول خداﷺ کی حدیث پر عمل کرتے تھے، خواہ وہ سنت مستفیض جس پر فقہاء کا عمل رہا ہو یا کسی خاص شہر کے علماء سے یا کسی خاص طریقہ سے مروی ہو، خواہ صحابہؓ و فقہاء نے اس پر عمل کیا ہو یا نہ کیا ہو۔ اور جب کسی مسئلہ میں ان کو حدیث مل جاتی تو اس کے خلاف کسی اثر یا کسی اجتہاد کا اتباع نہیں کرتے تھے او رجب تتبع احادیث میں پوری کوشش کرچکتے تھے اور اس مسئلہ میں ان کو حدیث نہ ملتی ، تو جماعت صحابہؓ و تابعین کے اقوال پر عمل کرتے تھے او راس میں کسی قوم یا کسی شہر کے پابند نہ تھے، جیسا کہ ان سے پہلے لوگ کرتے تھے۔ پس اگر کسی مسئلہ میں جمہور خلفاء اور فقہاء کو متفق پاتے تھے تو اس پر قناعت کرتے تھے اور اگر وہ مسئلہ مختلف فیہ ہوتا تھا تو اُن میں سے جو بڑا عالم اورپرہیز گار یا زیادہ ضابطہ یا زیادہ مشہور ہوتا، اس کی حدیث کر لے لیتے تھے اور اگر وہ  کوئی ایسا مسئلہ پاتے جس میں مساوی قوت کےد و قول ہوتے، وہ مسئلہ ذات القولین رہتا تھا۔ اور اگر اس سے  بھی عاجز آجاتے تھے تو کتاب و سنت کی عام تعبیرات ،ذ[ ان کے اشارات اور اقتضاءات میں غور کیا کرتے تھے او رنظیر مسولہ کو ان پر حمل کیا کرتے تھے۔ بشرطیکہ دونوں مسئلے بادی الرائے میں ایک سی حالت رکھتےہوں۔ اس امر میں قوانین اصول کی پابندی نہیں کرتے تھے بلکہ اس طریق پر اعتماد کرتے تھے جو صاف صاف سمجھ میں آئے اور دل کو اس سے اطمینان ہو، جیسے تواتر کے لیے راویوں کی تعداد میزان نہیں۔‘‘[16]

شاہ ولی اللہ کی محولہ بالا عبارت ، گویا ’’اعلام الموقعین‘‘ میں علامہ ابن القیم الجوزیہ کی تفصیلات کا نچوڑ اور ماحصل ہے، جسے شاہ صاحب نے نہایت مہارت سے چند فقروں میں سمو دیا ہے۔ ہم اس کو ان الفاظ کے پیرائے میں بیان کرتے ہیں۔

فقہائے اہل حدیث کی منہاج فقہ استقرائے نصوص پر مبنی ہے۔ فقہائے احناف او رمالکیہ کی منہاج فقہ ان کے وضع کردہ اصولوں کی میزان پر استخراج احکام ہے کیونکہ یہ حضرات اپنے وضع کردہ اصولوں پر احکام کا استخراج کرتے ہیں۔ اگر کوئی صحیح حدیث ان کے ان اصولوں کی مقتضیات کے خلاف ہوتی ہے تو اسے خلاف اصول کہہ کر ترک کردیتے ہیں۔ اس کی مثالیں حنفی او رمالکی فقہ کی کتابوں میں بکھری پڑی ہیں ۔ اس کے برعکس    فقہائے اہل حدیث تمام نصوص صحیحہ کا کامل استقراء کرتے ہیں، پھر تحقیق و تطبیق اور ترجیح و تاویل کے مسلمہ اصولوں کے مطابق ان سے احکام کا استنباط کرتے ہیں۔

اس گروہ کے سرخیل امام اہل سنت[17] امام احمد بن حنبل، امام محمد بن جریر الطبری، امام محمد بن نصر المروزی،امام ابن المنذر، امام ابن خزیمہ، امام ابوحاتم، امام ابوزرعہ، امام بقی، بن مخلد ، محمد بن الوضاح جیسے  ائمہ اہل حدیث ہیں۔ امام شافعی کی منہاج فقہ سے ہم آہنگی کی وجہ سے تقلیدی ذہن رکھنے والے کچھ حضرات مذکورہ بالا ائمہ میں سے بعض کو امام شافعی کے مقلدین میں شمار کرتے ہیں۔ حالانکہ انہیں علم ہےکہ تقلید سے مراد یہ ہے کہ ہر مسئلہ میں اپنے امام کی تقلید سے باہر نہ نکلا جائے اور اگر تحقیق کے بعد اپنے امام کے کسی مسلک کو چھوڑ دے تو معلوم ہوا کہ وہ اس امام کا مقلد نہیں۔ مقلد اپنے امام کی تقلید سے باہر نہیں جاسکتا، خواہ امام کی مخالف نص پر اس کا دل کتنا ہی  مطمئن کیوں نہ ہو ۔ مذکورہ بالا ائمہ حدیث نے بہت سے مقامات پر امام شافعی کی مخالفت کی ہے۔ بلکہ ہماری نظر میں تو امام طحاوی بھی مقلد نہ تھے۔ بے شمار مسائل میں انہوں نے امام ابوحنیفہ کی مخالفت کی ہے۔ بس ان پر امام ابوحنیفہ کا طریق استنباط غالب تھا۔

پروفیسر صاحب کی نظروں سے یہ حقیقت شاید اوجھل نہ ہوگی کہ امام ابوالحسن اشعری او رامام ماتریدی کے بعد جب مالکی، شافعی او رحنفی حضرات ، اشعری ماتریدی اور معزلی[18] عقائد کے گروہوں میں بٹ گئے، تو اہل حدیث عقائد سلف پر قائم رہے او راس راہ میں انہیں مصائب و محن سے بھی واسطہ پڑا۔ ان طرہ امتیاز یہ ٹھہرا کہ صفات الٰہی کے بارے میں قرآن اور سنت کی نصوص کو ان کے ظاہری اور حقیقی معنوں پر محمول کرتے تھے او ران کی تاویل یا تکییف سے گریز کرتے تھے۔وہ قرآن و سنت کی ظاہری نصوص سے سرمو انحراف نہیں کرتے تھے۔ علم کلام کے مؤرخین ان حضرات کو سلفی ، اہل حدیث او رمحدثین وغیرہ کے ناموں سےموسوم کرتے ہیں۔ یہاں تک کہ ہند کے مقلدین شارحین حدیث نےبھی اس گروہ کا ذکر کیاہے۔ ائمہ اہل حدیث نے اس موضوع پر کتابیں بھی تصنیف کی ہیں،چنانچہ امام ابن خزیمہ کی ’’کتاب التوحید‘‘ حافظ ابن مندہ کی ’’الرّد علی الجہمیہ‘‘ امام احمد کی ’’الّرد علی الجہمیہ‘‘ اور  ابوسعید الدارمی کی ’’الرد علی الجہمیۃ‘‘ بہت مشہور ہے۔ انہوں نے ہمیشہ رجال کی آراء اور ان کی تاویلات کی پیروی کرنے کی بجائے نصوص کے الفاظ کا التزام کیاہے اور اسی طریقے کو زیادہ محفوظ و مصئون اور قرین صواب سمجھا ہے۔

آیئے اب ہم دیکھتے ہیں کہ ہر دور کے اہل علم نے ائمہ اربعہ اور دیگر فقہاء کے علاوہ فقہاء کے ایک او رطبقے کا ذکر بھی کیاہے جن کو انہوں نے فقہائے حدیث کے نام سے موسوم کیاہے۔ اگر یہ فقہائے حدیث ائمہ اربعہ کے مقلد ہوتےتو ائمہ اربعہ کے مسلک کا ذکر آجانے کے بعد ان کی آراء کے ذکر کی کیاضرورت باقی رہ جاتی ہے؟نیز ان کی آراء کا ذکر اکثر مقامات پر اس لیے کیاگیا ہے وہ ائمہ اربعہ کی آراء سے مختلف ہیں۔ پروفیسر صاحب خوب جانتے ہیں کہ جب  ہم فقہ وغیرہ اور دیگر علوم میں اہل علم کی آراء کا حوالہ دیتے ہیں، تو صرف ان علماء کا مسلک ذکر کیا جاتا ہے جو خود آزاد اور تحقیقی رائے رکھتے ہیں۔ حتیٰ کہ کسی خاص مذہب کےاندر بھی یہی اصول کام کرتا ہے۔

امام ابوعیسیٰ ترمذی اپنی کتاب ’’الجامع الصحیح‘‘ میں خود بتاتے ہیں کہ وہ امام شافعی کےمقلد  نہ تھے۔ چنانچہ وہ ایک مقام پر رقم طراز ہیں:

’’وقد اختار قوم من اھل العلم تاخیر صلوٰۃ الظھر فی شدۃ الحر وھو قول ابن المبارک واحمد و اسحاق و قال الشافعی انما الابراد لصلوٰۃ الظھر اذا کان حرا ینتاب اھلہ من البعدفاما المصلی وحدہ والذی یصلی فی مسجد قومہ فالذی احب ان لا یؤخر الصلوٰۃ فی شدۃ الحر قال ابوعیسیٰ و معنیٰ من ذھب الیٰ تاخیر الظھر فی شدۃ الحر اولیٰ و اشبہ بالاتباع‘‘(سنن الترمذی مع تحفۃ الاحوذی جلد 1 ص147)

’’اہل علم کی ایک جماعت نے شدید گرمی میں ظہر کی نماز کوٹھنڈے وقت میں پڑھنے کو اختیار کیاہے۔ یہ عبداللہ بن مبارک ، احمد بن حنبل اور اسحاق بن راہویہ کا قول ہے۔ شافعی فرماتے ہیں کہ ’’نماز کوٹھنڈا کرنا صرف اس وقت (مستحب) ہے ، جب گرمی شدید ہو اور نمازیوں کو دور سے آنا ہو۔ رہا اکیلا نمازی او روہ شخص جس نے اپنے محلے کی مسجد میں نماز پڑھنی  ہے تو میرے نزدیک مستحب یہ ہے کہ وہ گرمی کی شدت میں بھی نماز کومؤخر نہ کرے۔‘‘ اوبعیسیٰ ترمذی کہتے ہیں ’’جو لوگ شدید گرمی میں تاخیر ظہر کے قائل ہیں ان کی رائے افضل اور زیادہ قابل اتباع ہے۔‘‘

مندرجہ بالا اقتباس سے صاف واضح ہوگیا کہ امام ترمذی، امام شافعی یا کسی اور امام کے مقلد نہ تھے۔ جہاں دلیل امام شافعی کا ساتھ نہ دیتی ان کے ساتھ نہ چلتے تھے۔ تمام محدثین کرام کا یہی طریق رہا ہے۔ جس شخص نے تعصب سے خالی ہوکر صحیح بخاری کے ابواب او راس کے متون کا تدبر و تفکر سے بالاستیعاب مطالعہ کیا ہے ، اس پر یہ حقیقت روز روشن کی طرح عیاں ہے کہ وہ حدیث نبویؐ میں سب سے زیادہ صاحب اطلاع اور استنباط احکام میں ان کی نظر بہت گہری تھی۔ وہ فقہ میں کسی کے مقلد نہ تھے۔ بہت سے مقامات پر انہوں نے امام شافعی سے اختلاف کیاہے۔ جو اس امر کی واضح دلیل ہے کہ وہ امام شافعی کےمقلد نہ تھے۔ مقلدین کے دعوون کے برعکس امام بخاری کا مذہب مٹ نہیں گیا۔ بلکہ صحیح  بخاری کے ابواب کی تصنیف ان کا بہت بڑا کارنامہ موجود ہے، یہی اُن کی فقہ ہے۔ صحیح بخاری شہرت کی وجہ سے امام بخاری کی فقیہہ کی حیثیت پس منظر میں چلی گئی۔ تاہم جب تک دنیا باقی ہے، صحیح بخاری کی صورت میں امام بخاری کی فقہ باقی رہے گی اور اس فقہ کے حامل (اہل حدیث) بھی موجود رہیں گے۔ ان شاء اللہ۔           (جاری ہے)

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔:::::۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

تحقیق و تنقید                                                                                                                           پروفیسر طیب شاہین لودھی

(دوسری قسط)

مسلک اہل حدیث کے بارے میں

چند مغالطوں کا ازالہ

 امام ابن خزیمہ کے بارے میں  علامہ ابن قیم لکھتے ہیں:

’’امام محمد بن اسحاق ابن خزیمہ، جو امام الائمہ کے لقب سے ملقب ہیں، فرماتے ہیں کہ ’’جب رسول اللہ ﷺ کی حدیث ثابت ہو جائے تو آپؐ کی حدیث کے ساتھ کسی کے قول کی کوئی اہمیت نہیں۔‘‘

............ امام ابن خزیمہ مقلد نہ تھے وہ ایک مستقل امام تھے۔ بہت .............. سےمحدثین اپنے آپ کو ابن خزیمہ سے منسوب کرتے تھے۔ چنانچہ........... بیہقی نے ’’’’المدخل‘‘ میں ذکر کیا ہے کہ اصحاب الحدیث کے پانچ طبقات............. ہیں: مالکیہ، شافعیہ، حنبلیہ، راہویہ اور خزیمہ ، یعنی اصحاب ابن خزیمہ‘‘ [19]

نیز امام نووی نے شرح مسلم میں بہت سے مقامات پر ابن خزیمہ اور ابن المنذر وغیرہ کا مذہب بعض مسائل میں ذکر کیاہے، جو امام شافعی اور اصحاب شافعی کے اختیار کردہ مسلک کے خلاف اور فقہاء حدیث کے موافق ہے۔ اس کے باوجود مقلدین حضرات امام ترمذی کی طرح انہیں بھی امام شافعی کا مقلد قرار دینے پر مُصر ہیں۔ ان مقلدین کی تصنیف کردہ ’’کتب طبقات‘‘ اٹھا کر دیکھئے، بہت سے محدثین ایسے ہیں جن کو ان تمام اصحاب طبقات نے اپنے اپنے طبقات میں ذکر کیا ہے۔

امام مسلم جابر بن سمرہؓ کے حوالے سے روایت کرتے ہیں، ایک شخص نے رسول اللہ ﷺ سے عرض کی:

’’ااتوضأ من لحوم الغنم قال ان شئت فتوضأ وان شئت فلا توضا قال اا توضأ من لحوم الابل قال: نعم‘‘ [20]

’’کیا میں بکری کا گوشت کھا کر وضو کروں؟ آپؐ نے فرمایا: ’’اگر چاہے تو وضو کرلے او راگر نہ چاہے تو نہ کر‘‘ اس نے عرض کیا ’’کیا میں اونٹ کا گوشت کھا کر وضو کروں؟‘‘ آپؐ نے فرمایا : ’’ہاں‘‘

اس حدیث کی شرح میں امام نووی، اونٹ کا گوشت کھانے سے وضو نہ ٹوٹنے کے بارے میں جمہور صحابہؓ و تابعین، امام ابو حنیفہ، امام مالک، اور امام شافعی کا مسلک بیان کرنے کے بعد، فرماتے ہیں:

’’وذھب الیٰ انتقاض الوضوء بہ احمد بن حنبل و اسحاق بن راھویہ و یحییٰ بن یحییٰ و ابوبکر ابن المنذر و ابن خزیمۃ و اختارہ الحافظ ابوبکر البیہقی و حکیٰ عن اصحاب الحدیث مطلقا‘‘[21]

’’اونٹ  کا گوشت کھانے سے وضو ٹوٹنے کی طرف احمد بن حنبل، اسحاق بن راہویہ، یحییٰ بن یحییٰ، ابوبکر ابن المنذر، ابن خزیمہ گئے ہیں، حافظ ابوبکر بیہقی نے بھی اسی کو اختیار کیاہے او رانہوں نے تمام اہل حدیث کا علی الاطلاق یہی مسلک بیان کیا ہے۔‘‘

آگے چل کر امام نووی ان الفاظ میں اس مسلک کی تصویب کرتے ہیں:

’’ھٰذا المذھب اقویٰ دلیلا وان کان الجمہور علیٰ خلافہ‘‘

’’دلیل کے اعتبار سے یہ مذہب زیادہ قوی ہے اگرچہ جمہور اس کے خلاف ہیں۔‘‘

ابوبکر ابن المنذر کو بھی مقلدین حضرات امام شافعی کا مقلد بتاتے ہیں مگر بہت سے مسائل میں ابن المنذر نے امام شافعی سے اختلاف کیاہے، جن کو نووی نے شرح مسلم میں تسلیم کیاہے او رابن المنذر کے مسلک کو ایک الگ رائےکے طور پر بیان کیا ہے۔ ایک مقام ملاحظہ ہو:

تیمم کی کیفیت میں امام ابوحنیفہ، امام مالک، امام شافعی اور جمہور اہل علم دو ضربوں کے قائل ہیں۔ امام نووی اس مسئلہ میں امام شافعی سے ابن المنذر کے اختلاف کو اس طرح بیان کرتے ہیں:

’’وذھبت طائفۃ ان الواجب ضربۃ واحدۃ للوجہ والکفین وھو مذھب عطاء مکحول والاوزاعی و احمد و اسحاق و ابن المنذر و عامۃ اصحاب الحدیث‘‘[22]

’’اور اہل علم کا ایک گروہ اس طرف گیا ہے کہ چہرے او رہتھیلیوں کے لیے ایک ہی ضرب کافی ہے۔ یہ عطاء بن ابی رباح، مکحول شامی، اوزاعی، احمد بن حنبل، اسحاق بن راہویہ، ابن المنذر اور عام اصحاب الحدیث کا مذہب ہے۔‘‘

مندرجہ بالا اقتباس میں آپ نے ابن المنذر کے امام شافعی سے اختلاف کے ساتھ ساتھ یہ بھی ملاحظہ کیاکہ اہل علم میں ہمیشہ سے کچھ ایسے لوگ بھی رہے ہیں، جو ائمہ اربعہ کی تقلید کا التزام نہیں کرتے تھے۔ وہ صرف صحیح حدیث پر عمل کیا کرتے تھے، خواہ اہل علم اور ائمہ کی اکثریت مخالف ہی کیوں نہ ہو۔ فقہ کی ا  س منہاج کو  شاہ ولی اللہ اور دیگر اہل علم نے اہل حدیث کی طرف منسوب کیا ہے اور جو اس وقت سے لے کر آج تک ہر زمانے میں اور ہر جگہ اسی راہ پر گامزن ہیں۔ ان محدثین کو مقلدین کی ’’نظر کرم‘‘ اگر حنفی، شافعی یا مالکی یا ’’چودھویں صدی کی پیداوار‘‘ بنا دے تو اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا۔ ان حضرات نے تو علامہ ابن تیمیہ اور ابن قیم جیسے لوگوں کو مقلد اور حنبلی شمار کیاہے او رحنبلی کہنے پر مصر ہیں۔ حالانکہ یہ وہ لوگ ہیں کہ تقلید کے خلاف انہوں نے ہزاروں صفحات لکھ ڈالے ہیں، ابن قیم نے تو تقلید کی تردید کے ابواب کے  اواخر میں یہاں تک لکھا ہے کہ:

’’تقلید اور قیاس وغیرہ کے  حامیوں کے دلائل منقولہ و معقولہ کا جائزہ لیتے ہوئے جو کچھ ہم نے لکھا ہے، اس کتاب کے علاوہ پڑھنے والے کو کہیں اور کبھی نہیں ملے گا۔‘‘[23]

اب ہم اپنے عزیز دوست پروفیسر ابوالکلام خواجہ کی توجہ بعض معتبر کتابوں کے چند اقتباسات کی طرف مبذول کروائیں گے ، جن سے ظاہر ہوتا ہے کہ زمانے کے اصحاب علم نے ائمہ اربعہ کے متبعین کے علاوہ ایسے اہل علم کا ذکربھی کیاہے جنہوں نےبہت سے مسائل میں ائمہ اربعہ سے اختلاف کیا ہے ۔ چنانچہ عقائد و فقہیات میں ظاہری نصوص سے التزام کی وجہ سے اصحاب علم نے ان کو ’’اہل حدیث‘‘ کےنام سے مو سوم کیاہے۔

حافظ ابو عمر یوسف بن عبداللہ ابن عبدالبر الاندلسی (المتوفی 463ھ)  کو ’’التمہید‘‘ میں رقم طراز ہیں:

’’وقال اھل المدینۃ و سائر اھل الحجاز و عامۃ اھل الحدیث و ائمتھم ان کل مسکر حرام‘‘[24]

’’اہل مدینہ، تمام علمائے حجاز، عام اہل حدیث اور ان کےائمہ کہتے ہیں کہ  ’’ہر نشہ دینےوالی چیز حرام ہے۔‘‘

بلّی کے جھوٹے پانی سے وضو کے جواز میں ابن عبدالبر، امام ابوعبداللہ محمد بن نصر المروزی کے حوالے سے لکھتے ہیں:

’’قال و ممن ذھب الیٰ ذٰلک مالک بن انس و اھل المدینۃ و اللیث بن سعد فیمن و افقہ من اھل مصر والمعڑب والاوزاعی فی اھل الشام و سفیان الثوری فیمن و افقہ من اھل العراق قال: و کذٰلک قول الشافعی و اصحابہ واحمد بن حنبل و اسحاق و ابی ثور و ابی عبید و جماعۃ اصحاب الحدیث‘‘ [25]

’’(بلّی کے جھوٹے پانی سے وضو کے جواز)  کی طرف جانے والوں میں امام مالک،  فقہائے اہل مدینہ، مصر سے امام لیث، اہل مغرب سے بعض علماء اور ان کے موافقین، اہل شام سے امام اوزاعی، اہل عراق سے امام ثوری اور ان کے ہم رائے اہل علم شامل ہیں۔اسی طرح امام شافعی او ران کے اصحاب امام  احمد بن حنبل، اسحاق بن راہویہ، ابو ثور، ابوعبید اور اصحاب الحدیث کی جماعت کا یہی قول ہے۔‘‘

ایک مقام پر ابن عبدالبر، مدعی کے گواہ کے ساتھ مدعی کے حلف کی بنیاد پر فیصلہ کے جواز میں، اہل علم کا مسلک بیان کرتے ہوئے لکھتے ہیں:

’’وبہ قال مالک و اصحابہ والشافعی و اتباعہ و احمد بن حنبل و اسحٰق بن راھویہ و ابو عبید و ابوثور و داؤد بن علی وجماعۃ اھل الاثر‘‘[26]

’’یہی قول ہے امام مالک اور ان کے اصحاب کا، امام شافعی اور ان کے متبعین کا،  امام احمدبن  حنبل، امام اسحاق، امام ابوعبید ، امام ابوثور، امام داؤد اور اہل اثر (اہل حدیث) کی جماعت کا۔‘‘

خط کشیدہ الفاظ انتہائی واضح ہیں۔ اختصار کے پیش نظر کتاب التمہید کے یہ چند اقتباسات ہم نے پروفیسر صاحب کی خدمت میں پیش کیے ہیں، ورنہ پوری کتاب میں بلا مبالغہ سینکڑوں مقامات پر اہل الحدیث، اصحاب الحدیث یا اہل الاثر کے مسلک کو ائمہ اربعہ او ران کے اصحاب کے مذہب سے الگ مذہب کے طور پر ذکر کیا گیا ہے۔ ان کا مذہب کبھی جمہور کے مسلک سے ہم آہنگ او رکبھی مخالف ہوتا ہے۔ اسی طرح امام ابن حزم ظاہری (المتوفی 456ھ) نے بھی ، جو خود بھی فقہ اثر کی منہاج پر گامزن ہیں، اہل حدیث کے مسلک کو ایک الگ اور مستقل مذہب کے طور پر پیش کیا ہے ان کی کتاب ’’المحلّٰی‘‘ سے ایک اقتباس پیش خدمت ہے:

پانی والے برتن میں کُتے کے مُنہ ڈالنے کے بارے میں علامہ ابن حزم اہل علم کا مسلک بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں:

’’قول الاوزاعی ھو نفس قولنا وبھٰذا یقول ........یعنی غسل الاناء من ولوغ الکلب سبعا احد  ا ھن بالتراب .........احمد بن حنبل و اسحاق بن راھویہ و ابوعبید و ابو ثور و داود و جملۃ اصحاب الحدیث‘‘[27]

’’امام اوزاعی کا قول تو  خود ہمارا مسلک ہے۔ برتن میں کُتے کے مُنہ دالنے پر برتن کو ایک بار مٹی سے مانجھنے اور سات بار دھونے کو احمد بن حنبل، اسحاق بن راہویہ، ابوعبید، ابوثور، داؤد اور تمام اہلحدیث نے اختیار کیاہے۔‘‘

ہمیں ابن حزم کا یہ اسلوب پوری کتاب میں بہت کثرت سے دکھائی دیتا ہے۔ اسی طرح علامہ ابوالولید محمد بن احمد ابن رُشد الحفید القرطبی (المتوفی 595ھ) ہے۔ ائمہ اربعہ او ران کے اصحاب اور دیگر فقہاء کے مذاہب کے ساتھ بہت سے مقامات پر اہل حدیث کا مسلک بیان کرتے ہیں۔ ایک اقتباس ملاحظہ ہو۔ تیمم میں ہاتھ کو کون سے حصے پر مٹی سے مسح کرنا ضروری ہے؟ ابن رُشد جمہور فقہائے امصار کا مسلک بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ کہنیوں تک مسح کرنا ضروری ہے۔ ......... پھر فرماتے ہیں:

’’القول الثانی: ان الفرض ھو مسح الکف فقط و بہ قال اھل الظاھر و اھل الحدیث‘‘[28]

’’دوسرا قول یہ ہےکہ صرف ہتھیلی تک مسح کرنا فرض ہے۔ یہ اہل ظاہر او راہل حدیث کا قول ہے۔‘‘

آپ نے ملاحظہ فرما لیاکہ اہل حدیث کا مسلک ، ائمہ اربعہ اور ان کے اصحاب کے مسلک سے، الگ اور مستقل مذہب ہے او راس مسلک کے حاملین ائمہ اربعہ یا کسی  اور کے مقلد نہ تھے۔ ابومحمد عبداللہ بن احمد بن محمد بن قدامہ (المتوفی 620ھ) اپنی معرکۃ الآرا کتاب ’’المغنی‘‘ میں عموماً صحابہ کرامؓ سے لے کر اپنے زمانے تک تمام فقہاء کی آراء کا ذکر کرتے ہیں۔ امام عزالدین ابن عبدالسلام (المتوفی 660ھ) نے ابن حزم کی کتاب ’’المحلّٰی‘‘ اور ابن قدامہ کی کتاب ’’المغنی‘‘ کی بہت تعریف کی ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ یہ دونوں کتابیں فقہائے اسلام کی آراء کا دائرۃ المعارف ہیں۔ کوئی محقق ان دونوں   کتابوں سے مستغنی نہیں رہ سکتا۔ ابن قدامہ بھی فقہاء کی آراء بیان کرتے وقت فقہائےاہل حدیث کا مسلک ایک الگ اور مستقل مذہب کے طور پر بیان کرتے ہیں۔ چنانچہ اونٹ کا گوشت کھانے سے وضوء ٹوٹنے کے بارے میں فقہاء کی آراء کا ذکر کرتے ہوئے وہ لکھتے ہیں:

’’وجملۃ ذٰلک ان اکل لحم الابل ینقض الوضوء علیٰ کل حال نیئا و مطبوعخا عالما کان او جاھلا و بھٰذا قال جابر بن سمرۃ و محمد بن اسحٰق و اسحٰق و ابوخیثمۃ و یحییٰ بن یحییٰ و ابن المنذر وھو احد قولی الشافعی قال الخطابی ذھب الیٰ ھٰذا عامۃ اصحاب الحدیث وقال الثوری و مالک و الشافعی و اصحاب الرای لا ینقض الوضوء بحال‘‘[29]

’’اور یہ کہ  اونٹ کا گوشت کھانے سے ہر حالت میں وضوء ٹوٹ جاتا ہے، گوشت خواہ کچا ہو یا پکا، (کھانے والا اس مسئلہ کو ) جانتا ہو یا نہ جانتا ہو، یہ قول حضرت جابر بن سمرۃؓ، محمد بن اسحاق، ابن خزیمہ، اسحاق بن راہویہ، ابوخیثمہ، یحییٰ بن یحییٰ اور ابن المنذر کا ہے۔امام شافعی کے بھی دو قول میں سے ایک قول یہی ہے۔ علامہ خطابی فرماتے ہیں کہ عام اہلحدیث اسی طرف گئے ہیں جبکہ امام ثوری، امام مالک، امام شافعی اور اصحاب رائے (امام ابوحنیفہ او ران کے اصحاب) کہتے ہیں کہ (اونٹ کا گوشت) کسی حالت میں بھی (کھانے سے) ناقض وضو نہیں ہے۔‘‘                                         (جاری ہے)

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔::::۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

 

تحقیق و تنقید                                                                                                                                      پروفیسر طیب شاہین  لودھی

(تیسری قسط)           

مسلک اہلحدیث کے بارے میں

چند غلط فہمیوں کا ازالہ

ابوزکریا یحییٰ بن شرف النووی (المتوفی 676ھ) ایک مایہ ناز فقیہہ، وسیع الاطلاع محدث اور صحیح مسلم کے مشہور شارح ہیں۔ صحیح مسلم کی شرح تمام مسلم ممالک میں متداول ہے۔ مسلم کی شرح میں وہ جہاں کہیں فقہائےاسلام کی آراء او ران کے مذاہب کا ذکر کرتے ہیں، وہاں بسا اوقات فقہائے اہل حدیث کی آراء او ران کے مذاہب کا ذکر کرتے ہیں، وہ ان کا ذکر ایک مستقل حیثیت سے کرتے ہیں۔ ویسے تو شرح مسلم میں ایسے بیسیوں مقامات ہیں، مگر ہم صرف چند مقامات  یہاں پیش کرتے ہیں۔

اہل علم جانتے ہیں کہ احادیث میں حضرت عبداللہ  بن مسعودؓ، حضرت  عبداللہ بن عباسؓ اور ابوموسیٰ اشعریؓ وغیرہم سے تھوڑے تھوڑے لفظی اختلاف سے تشہد منقول ہے۔ ان میں سے کسی ایک کے پڑھ لینے کے جواز پر تمام اہل علم متفق ہیں ۔ ہاں اس امر میں اختلاف ہے کہ ان میں سے کون سا تشہد افضل ہے؟ امام شافعی اور امام مالک کے بعض اصحاب کے نزدیک حضرت عبداللہ بن عباسؓ سے مروی تشہد افضل ہے۔ عبداللہ بن  مسعودؓ کا نقل کردہ تشہد امام ابوحنیفہ، امام احمد بن حنبل او راہل حدیث کے نزدیک افضل ہے۔ چنانچہ علامہ نووی فرماتے ہیں:

’’وقال ابوحنیفۃ واحمد رضی اللہ عنہما وجمہور الفقآء واھل الحدیث تشھد ابن مسعود افضل لانہ عندالمحدثین اشد صحۃ وان کان الجمیع صحیحا‘‘[30]

’’امام  ابوحنیفہ، امام احمد بن حنبل، جمہور فقہاء او راہل حدیث کہتے ہیں کہ عبداللہ بن مسعودؓ کا تشہد افضل ہے کیونکہ یہ تشہد محدثین کے نزدیک زیادہ صحیح روایات سے ثابت ہے، اگرچہ تمام صحیح ہیں۔‘‘

مذکورہ بالا اقتباس سے ہمارے عزیز دوست پروفیسر ابوالکلام خواجہ کا یہ  مغالطٰہ بھی دور ہوگیا ہوگا کہ شوافع ہی کو محدثین او راہل حدیث کہا جاتا ہے، یا اہل حدیث امام شافعی یا کسی او رامام کی تقلید کیا کرتے تھے۔ اگرچہ منہاج فقہ میں وہ بہت حد تک امام احمد بن حنبل او رپھر امام شافعی سے موافقت رکھتے ہیں۔ تاہم یہ موافقت تقلید کی بناء پر نہیں، بلکہ دلیل پر مبنی تھی۔ یہی وجہ ہے کہ وہ بہت سے مقامات پر امام شافعی کی مخالفت کرتے دکھائی دیتے ہیں۔ اب خواجہ صاحب ہی انصاف کریں، کیا مقدلین کا یہی طریقہ ہے؟ اپنے امام  کے خلاف مسلک اختیار کرنے پر اسے اہل سنت سے تو کیا، دائرہ اسلام سے بھی خارج نہیں کردیا جاتا؟ کیا پاک و ہند کے اہل حدیث حضرات کے ساتھ یہ کچھ نہیں ہورہا؟ ان کا کوئی سا عقیدہ ایسا ہے جو اہل سنت اور سلف صالحین کے عقائد کے خلاف ہے؟ سوائے اس کے کہ وہ دیو بند کے ’’شیوخ الہند‘‘، ’’شیوخ الاسلام ‘‘ اور ’’پیران طریقت‘‘ کے مقلد نہ تھے، ورنہ وہ بھی بڑے بڑے نام پاتے۔ اور اب ان کی ’’غیر مقلدیت ‘‘ کی سزا یہ  ہے کہ وہ ’’انگریزوں کے پروردہ ہیں۔ اناللہ وانا الیہ راجعون۔ ....... یہ ہے دیو بند کی تحقیقات کی کل بساط !

ان طویل حوالوں پر ہم اپنے عزیز دوست سے معذرت خواہ ہیں شاید وہ اپنی گونا گوں مصروفیات کی بناء پر مذکورہ بالا کتب کا مطالعہ نہ کرسکتے، اور اگر وہ مطالعہ کرتے تو ممکن ہے وہ مذکورہ اقتباسات کو دیکھے بغیر آگے گزر جاتے۔ کیونکہ  اپنے نظریات کے خلاف کوئی چیز بہت مشکل سے پڑھی جاتی ہے۔ اس لیے غنیمت ہے کہ وہ کچھ اقتباسات اور ملاحظہ فرما لیں۔

امام نووی ایک او رمقام پر فرماتے ہیں:

’’واعلم ان التسبیح فی الرکوع والسجود سنۃ غیر واجب ھٰذا مذھب مالک و ابی حنیفۃ والشافعی رحمھم اللہ والجمھور  واوجبہ احمد رحمہ اللہ تعالیٰ و طائفۃ من ائمۃ الحدیث بظاھر الحدیث فی الامر بہ‘‘ [31]

’ّآپ کو معلوم ہونا چاہیے کہ رکوع و سجود میں تسبیحات واجب نہیں سنت ہیں ........... یہ امام مالک، امام ابوحنیفہ، امام شافعی او رجمہوری فقہاء کا مذہب ہے جبک ہامام احمد بن حنبل اور ائمہ حدیث کی ایک جماعت ، حدیث کے ظاہری الفاظ میں تسبیح پڑھنے کے حکم کی بناء پر، اسے واجب قرار دیتی ہے۔‘‘

تشہد اوّل اور تشہد ثانی کے وجوب اور عدم وجوب پر گفتگو کرتے ہوئے علامہ نووی فقہائے اہل حدیث کا مذہب امام شافعی کے مذہب سے الگ اور مستقل مذہب کے طور پر بیان کرتے ہیں:

’’فیہ حجۃ لاحمد بن حنبل ومن وافقہ من فقھآء اصحاب الحدیث ان التشھد الاوّل والاخیر واجبان وقال مالک و ابوحنیفۃ رضی اللہ عنہما والاکثرون ھما سنتان لیسا واجبین وقال الشافعی رضی اللہ عنہ الاوّل سنۃ الثانی واجب‘‘[32]

’’اس (حدیث) میں امام احمد بن حنبل او ران کی موافقت کرنے والے فقہائے اہل حدیث کے لیے دلیل ہے کہ تشہد اوّل اور تشہد ثانی دونوں واجب ہیں۔ امام مالک ، امام ابوحنیفہ اور فقہاء کی اکثریت کہتی ہے کہ دونوں تشہد سنت ہیں۔ امام شافعی  فرماتے ہیں کہ تشہد اوّل سنت ہےاو رتشہد ثانی واجب۔‘‘

علامہ نووی کی محولہ بالا عبارت سے واضح ہوگیا کہ فقہائے اہل حدیث ، امام شافعی کے مقلد نہیں، بلکہ وہ اپنی مستقل رائے رکھتے ہیں اور اگر وہ امام شافعی، امام احمد یا کسی او رامام کی موافقت کرتے ہیں تو صرف دلیل کی بناء پر ۔ وہ بالکل یکسو ہوکر منہاج سنت پر گامزن ہیں۔ انہیں اس بات کی پرواہ نہیں ہوتی کہ فقہاء کی ایک بہت بڑی اکثریت اس مسئلہ میں ان کی مخالف ہے وہ صرف نص کی پیروی کرتے ہیں۔ امام الہند شاہ ولی اللہ نے ’’حجۃ اللہ البالغۃ‘‘ میں ان کی اس منہاج کو ان کی فقہ کی خصوصیت کے طور پر بیان کیا ہے، اور تمام فقہاء نے ان کی آراء کو اپنی تصنیفات میں ایک مستقل منہج فکر کے طور پر بیان کیا ہے۔

شیخ الاسلام تقی الدین ابوالعباس احمد بن عبدالحلیم بن تیمیہ (المتوفی 726ھ) اور شاگرد شمس الدین ابوعبداللہ محمد بن قیم الجوزیہ (المتوفی 751ھ) سے کون واقف نہیں؟ انہوں نے اپنے زمانے میں مروجہ بدعات پر بھرپور اور مدلل تنقید کی او رمسلمانوں کو کتاب و سنت او رمنہاج سلف پر چلنے کی دعوت دی۔ انہوں نے تقلید جامد پر بھی بھرپور تنقید کرتے ہوئے مسلک اہل حدیث کو خو ب واضح اور منقح کیا۔ اس مسلک پر مختلف اعتراضات کو رفع کیا، مقلد فقہاء کی مخالفتوں، دشنام طرازیوں، کفر کے فتوؤں، جسمانی ایذاؤں اور قید و بند کی صعوبتوں کی پرواہ کئے بغیر اجتہاد او رحریت پسندی کے پرچم کو بلند رکھا۔ حقیقت یہ ہے کہ ابن حزم  سے لے کر ابن تیمیہ  تک تقلید جامد کے خلاف جو کچھ لکھا گیا ہے، اگر اسے جمع کرلیا جائے تووہ  ابن تیمیہ او ران کے شاگردوں کی ان تحریروں کا عُشر عشیر بھی نہیں، جو انہوں نے مقلد فقہاء،  ان کی تقلید اور ان کے تقلیدی نظریات  کے خلاف تخلیق کی ہیں۔ مگر بایں ہمہ علمائے دیو بند انہیں مقلد او رحنبلی کہنے پر بضد ہیں، اہل حدیث حضرات کو تحقیر کے طور پر ’’غیر مقلد‘‘ کے لقب سے نوازتے ہیں او ران کو ’’اہل حدیث‘‘ کہنے سے عمداً گریز کرتے ہیں۔ فیا للعجب!

شیخ الاسلام ابن تیمیہ نے امام اہل سنت احمد بن حنبل اور دیگر فقہائے اہل حدیث کی فقہی خصوصیات کو ایک مستقل تصنیف ’’القواعد النورانیہ الفقھیۃ‘‘ میں خوب واضح کیا ہے ۔ ہم اس کتاب کے چند اقتباسات قارئین کرام اور خواجہ صاحب کی نذر کرتے ہیں:

’’اما الطھارۃ والنجاسۃ فئوعان من الحلال والحرام فی اللباس ونحوہ............. تابعان للحلال والحرام فی الاطعمۃ والاشربۃ۔ ومذھب اھل الحدیث فی ھٰذا الاصل الجامع العظیم وسط بین مذھب العراقیین والحجازیین‘‘[33]

’’رہی طہارت و نجاست ، تو یہ لباس وغیرہ میں حلال و حرام کی دو اقسام ہیں، جو مطعومات او رمشروبات میں حلال و حرام کی تابع ہیں۔ اس جامع اور عظیم اصول میں اہل حدیث فقہاء کا مذہب ، عراقی فقہاء (حنفیہ) حجازی فقہاء (مالکیہ) کے بین بین ہے۔‘‘

بسملہ کے آیت قرآنی اور ہر سورہ کا حصہ ہونے کے بارے میں فقہائے مالکیہ، فقہائے شافعیہ ، فقہائے حنیفہ اور فقہائے اہل حدیث کی آراء بیان کرنے کے بعد نماز کے اندر اس کی تلاوت کے بارے میں رقم طراز ہیں:

’’وکذٰلک الامر فی تلاوتھا فی الصلوٰۃ: طائفۃ لا تقرأھا لا سرا ولا جھرا کما لک والاوزاعی و طائفۃ تقرأ ھاجھرا کاصحاب ابن جریج والشافعی۔ والطائفۃ الثالثۃ المتوسطۃ: جماھیر فقھآء الحدیث مع فقھآء اھل الرأی یقرء و نھاسرا کما نقل عن جماھیر الصحابۃ مع ان احمد یستعمل ماروی عن الصحابۃ فی ھٰذا الباب فیستحب الجھر بھا لمصلحۃ راجحۃ حتٰی انہ نص علیٰ ان من صلیٰ بالمدینۃ یجھر بھا‘‘[34]

’’اسی طرح نماز کے اندر اس کی تلاوت کا معاملہ ہے۔ فقہاء کا ایک گروہ، جیسے امام مالک او رامام اوزاعی، سری یا جہری کسی طور پر بھی نماز کے اندر بسملہ نہیں پڑھتا او رفقہاء کی ایک جماعت،جیسے ابن جریج او رامام شافعی کے اصحاب، (جہری) نماز میں بآواز بلند بسملہ پڑھتے ہیں۔ او ران دونوں کے درمیان ایک تیسرا گروہ ہے، جو اکثرفقہائے اہل حدیث اور ان کے ساتھ ساتھ فقہائے اہل رائے (احناف) پر مشتمل ہے۔ یہ (تمام نمازوں میں) آہستہ آواز کے ساتھ بسملہ پڑھنے کا قائل ہے، جیساکہ جماہیر صحابہؓ سے منقول ہے ۔ اس کے باوجود امام احمد بن حنبل ان اقوال پر بھی عمل کرتے جو اس بارے مجیں صحابہ کرامؓ سے مروی ہیں۔ چنانچہ وہ کسی راجح مصلحت کے تحت بسملہ بآواز بلند پڑھنے کو بھی مستحب ٹھہراتے ہیں۔ ان سے یہاں تک منصوص ہے کہ جو کوئی مدینہ میں نماز پڑھے وہ نماز میں بلند آواز سے بسملہ پڑھے۔‘‘

دعائے قنوت کے بارے میں امام ابن تیمیہ لکھتے ہیں:

’’واما القنوت فالناس فیہ طرفان ووسط ۔ منھم من لا یری القنوت الا قبل الرکوع و منھم من لا یراہ الا بعدہ۔ واما فقھآء اھل الحدیث کاحمد وغیرہ فیجوزون کلا الامرین لمجئ السنۃ الصحیحۃ بھما‘‘[35]

’’رہا دعائے قنوت کا معاملہ، تو فقہاء اس بارے میں دو کناروں پر ہیں او رکچھ  ان کے درمیان۔ ان میں کچھ فقہاء دعائے قنوت صرف رکوع سے پہلے پڑھنے کے قائل ہیں، کچھ فقہاء صرف رکوع کے بعد پڑھنے کے قائل ہیں۔ رہے  فقہائے اہل حدیث ، جیسے امام احمد بن حنبل، تو وہ دونوں طریقوں کو جائز قرار دیتے ہیں، کیونکہ  دونوں کے بارے میں صحیح احادیث آئی ہیں۔‘‘

ابن تیمیہ کے مذکورہ بالا طویل حوالوں سے جہاں اس حقیقت کی تفہیم ہوئی ہے کہ اہل حدیث، مقلدین کے دعووں کے علی الرغم دیگر مکاتب فقہ کی طرح ایک مستقل مکتب فقہ ہے، وہاں ان کا طریق استنباط بھی واضح ہوجاتا ہے کہ وہ کسی تقلید، تعصب یا ضد میں کوئی رائے اختیار نہیں کرتے، بلکہ نصوص صحیحہ کا اتباع کرتے ہیں ، خواہ ان پر کسی کا عمل ہو یا نہ ہو۔

علامہ ابن قیم الجوزیۃ نے ’’اعلام المواقعین‘‘ میں نہایت مضبوط دلائل کے ساتھ تقلید جامد کی تردید او راس کی مذمت کی ہے اور فقہائے  حدیث کے اصولوں پر  نہایت تفصیل سے روشنی ڈالی ہے۔ فقہاء نے جن احادیث صحیحہ کو خلاف قیاس قرار دے کر ترک کردیا تھا، علامہ ابن قیم نے ایک مستقل اور طویل باب میں ثابت کیا ہے کہ یہ احادیث نہ صرف یہ کہ قیاس صحیح کے خلاف نہیں ہیں، بلکہ شریعت کے محاسن پر دلالت کرتی ہیں اور حکمت کا یہی تقاضا ہے۔ انہوں نے بہت تفصیل سے ان حیلوں کا ذکر کیا ہے جو مقلد فقہاء نے شریعت اسلامی کے احکام کو ساقط کرنے کے لیے وضع کررکھے تھے او ران کو ائمہ ابرار کی طرف منسوب کرتے تھے۔ نیز انہوں نے مقلد فقہاء (خصوصاً احناف) کی ان بوالعجبیوں کی طرف اشارات بھی کئے ہیں کہ وہ ایک حدیث کو ایک مقام پر ضعیف کہہ کر رد کردیتے ہیں ، جبکہ  وہ ان کے امام کے مسلک کے خلاف ہوتی ہے۔ لیکن  جب ضرورت ہوتی ہے تو کسی او رمسئلہ میں اسی حدیث سے اپنے مسلک پر استدلال کرتے دکھائی دیتے ہیں او ریہ درحقیقت تقلید کا لازمی نتیجہ ہے۔

چنانچہ خود ہمیں اس زمانے میں بھی اس قسم کی ’’تحقیقات‘‘ کا مشاہدہ ہوا ہے۔ حال ہی میں فوت ہونے والے ایک بریلوی عالم نے پچھلے دنوں عورت کی نصف دیت پر چلنے والی ایک بحث میں بیہقی وغیرہ کے حوالے سے ان احادیث سے بھرپور استدلال کیا، جنہیں حنفی فقہاء قرنوں پہلے ضعیف کہہ کرردّ کرچکے ، اور  ان کو ضعیف اور ناقابل استدلال قرار دینے کےلیے انہوں نے سینکڑوں صفحات سیاہ کیے ہیں۔

حافظ احمد بن علی بن حجر عسقلانی  (المتوفی 854ھ) صحیح البخاری کی مشہور شرح ’’فتح الباری‘‘ میں فقہ الحدیث کے سلسلے میں بسا اوقات ائمہ اربعہ اور دیگر فقہاء کے ساتھ ساتھ فقہاء اہل حدیث کے مستقل مذہب کا ذکر کرتے ہیں۔ جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ وہ کسی امام کے مقلد نہ تھے، بلکہ وہ تو صرف نص کی پیروی کرتے تھے۔ چنانچہ میت کی طرف سے روزوں کی قضاء کے بارے میں حافظ ابن حجر اہل علم کا مسلک بیان کرتے ہوئے رقم طراز ہیں:

’’وقد اختلف السلف فی ھٰذہ المسئلۃ فاجاز الصیام عن المیت اصحاب الحدیث وعلق الشافعی فی القدیم القول بہ علیٰ صحۃ الحدیث کما نقلہ البیہقی فی المعرفۃ وھو قول ابی ثور وجماعۃ من محدثی الشافعیۃ قال البیہقی فی الخلافیات ھٰذہ المسئلۃ ثابتۃ لا اعلم خلافا بین اھل الحدیث فی  صحتھا فوجب العمل بھا ............ وقال الشافعی فی الجدید و مالک و ابوحنیفہ لا یصام وقال اللیث و احمد و ابوعبید لا یصام عنہ الاالنذر‘‘[36]

’’اس مسئلہ میں سلف میں اختلاف پایا جاتاہے، چنانچہ اصحاب الحدیث نے میت کی طرف سے روزوں کی قضاء کو جائز قرار دیا ہے۔ امام شافعی نے اپنے قدیم  قول میں اس رائے کو حدیث کے صحیح ثابت ہونے  پر معلق قرار دیا ہے۔ جیسا کہ بیہقی نے اسے ’’المعرفۃ‘‘ میں ذکر کیا ہے۔ یہ ابوثور اور محدثین شافعیہ میں سے ایک جماعت کا قول ہے۔ بیہقی ’’الخلافیات‘‘ میں کہتے ہیں کہ یہ مسئلہ ثابت ہے او راہل حدیث میں اس حدیث کی صحت کے بارے میں میرے علم میں کوئی اختلاف نہیں، لہٰذا اس حدیث پر عمل کرنا واجب ہے........امام شافعی اپنے قول جدید میں نیز امام مالک اور امام ابوحنیفہ فرماتے ہیں کہ میت کی طرف سے روزوں کی قضاء جائز نہیں۔ امام لیث بن سعد، امام احمد بن حنبل او رامام ابوعبید قاسم بن سلام کہتے ہیں کہ میت کی طرف سے  نذر کے سوا کسی روزے کی قضا نہ کی جائے۔‘‘

مندرجہ بالا اقتباس سے جہاں یہ ثابت ہوا کہ ’’اصحاب الحدیث‘‘ اپنا الگ اور مستقل فقہی نقطہ نظر رکھتے ہیں، وہاں یہ بھی معلوم ہواکہ امام شافعی سے گہرا انتساب رکھنے والے محدثین بھی بسا اوقات نصوص صحیحہ کے مقابلے میں امام شافعی کے مسلک کو ترک کردیتے ہیں۔ خواہ انہیں امام شافعی کے قول قدیم ہی کا سہارا کیوں نہ لینا پڑے۔ نصوص صحیحہ کی مطابقت اختیار کرنے کے لیے انہوں نے یہ ’’سہارا‘‘ بہت کثرت سے استعمال کیا ہے۔ اس قسم کا اصول ہمیں فقہائے احناف او ران کے شارحین حدیث بہت کم استعمال کرتے نظر آتے ہیں۔ متقدمین میں سے امام طحاوی نے بہت کثرت سے تحقیق اور صحت حدیث کی بنیاد پر امام ابوحنیفہ کے قول کو ترک کیا ہے۔ متاخرین میں علامہ زیلعی، ملا علی القاری، علامہ سندھی، شاہ ولی اللہ  وغیرہم نمایاں ہیں۔ شاہ ولی اللہ نے تو تقلید جامد پر سخت تنقید کی ہے۔

اختلافات میں ترجیح احادیث کے سلسلے میں حافظ ابن حجر نے امام بخاری اور دیگر اہل حدیث کا وہی طریق بیان کیا ہے، جس کا ذکر ہم شاہ ولی  اللہ کے حوالے سے کرچکے ہیں کہ محدثین اختلاف روایات کی صورت میں حدیث کی تصحیح میں توقف نہیں کرتے۔ سوائے اس کے کہ روایات سنداً مساوی ہوں اور یہی اضطراب کا حکم لگانے کی شرط ہے۔[37]

مہر کی کم سے کم مقدار کے تعین کے بارے میں حافظ ابن حجر، فقہاء کے اقوال بیان کرتے ہوئے فقہائے اہل حدیث کا الگ اور مستقل مذہب ذکر کرتے ہیں:

’’واجازہ الکافۃ بماتر اضٰی علیہ الزوجان او  من العقد الیہ بمافیہ منفعۃ کالسوط والنعل ان کانت قیمتہ اقل من درھم و بہ قال یحییٰ بن سعید الانصاری۔ وابوالزناد، و ربیعۃ و ابن ابی ذئب وغیرہم من اھل المدینۃ غیر مالک و من تبعہ و ابن جریج و مسلم بن خالد و غیرھما من اھل مکۃ والاوزاعی فی اھل الشام واللیث فی اہل امصر و ابن ابی لیلیٰ وغیرہما من العرقیین غیر ابی حنیفۃ ومن تبعہ والشافعی و داؤد فقھأء اصحاب الحدیث وابن وھب من المالکیۃ‘‘ [38]

’’تمام علماء نے ہر اس چیز کو مہر کے طور پر ادا کرنے کی اجازت دی ہے جس پر دونوں میاں بیوی راضی ہوں یا جس پر عقد ہوجائے او رجس سے کوئی منفعت حاصل کی جاسکتی ہو۔ جیسے کوڑا، جوتا وغیرہ، اگرچہ ان کی قیمت ایک درہم سے کم ہی کیوں نہ ہو۔ یہ قول اہل مدینہ میں سے امام مالک او ران کے اصحاب کے سوا یحییٰ بن سعید، ابوالزناد، ربیعہ او رابن ابی ذئب وغیرہم کا ہے۔ اہل مکہ میں سے ابن جریج او رمسلم بن خالد  وغیرہما کا یہی مسلک ہے، اہل شام میں سے اوزاعی بھی یہی کہتے ہیں۔ اہل مصر میں سے لیث بن سعد کا یہی مذہب ہے۔ امام ابوحنیفہ او ران کےاصحاب کے سوا اہل عراق میں سے سفیان ثوری او رابن ابی لیلیٰ وغیرہما نے یہی مذہب اختیار کیاہے۔ امام شافعی، امام داؤد ظاہری اور فقہائے اہل حدیث کا یہی مذہب ہے۔‘‘

صحیح بخاری ک ےمشہور حنفی شارح علامہ بدرالدین محمود بن احمدالعینی (المتوفی 855ھ) نے بھی بہت سے مقامات پر محدثین او رفقہائے حدیث اپنی رشحات فکر میں کسی کی  تقلید نہ کرتے  تھے۔ وہ خود اپنی آزاد رائے رکھتے تھے۔ علامہ عینی نے ان کی آزاد آراء کو ائمہ اربعہ اور دیگر فقہاء کے ساتھ ایک مستقل دبستان فکر کی حیثیت سے ذکر کیا ہے۔ اگر اہل حدیث محض حدیث پڑھنے پڑھانے والے او رمقلد فقہاء کو کہا گیا ہوتا، جیسا کہ ہمارے عزیز دوست پروفیسر ابوالکلام خواجہ کو اصرار ہے،تو ایسے مقلد محدثین کی آراء کی کیا حیثیت کہ ان کو فحول مجتہدین کی آراء کے ساتھ یا ان کے مقابلے میں ذکر کیا جائے؟ علامہ عینی ازدیاد ایمان او راس میں کمی کے بارے میں امام بخاری اور محدثین کے مسلک کو ایک الگ الگ اور مستقل مکتب فکر کی حیثیت سے بیان کرتے ہوئے ’’عمدۃ القاری‘‘ میں رقم طراز ہیں۔

[1] ۔ نماز کے چند مسائل ص17



[2] ۔ فواتح الرحموت شرح مسلّم الثبوت لعبد العلی  ص400



[3] ۔ المستصفی للغزالی جلد 2 ص387۔ المنخول للغزالی



[4] ۔ الاحکام فی اصول الاحکام للآمدی  جلد4 ص297



[5] ۔ ارشاد الفحول للشوکانی  ص265



[6] ۔ ارشاد الفحول ص265



[7] ۔ اعلام الموقعین لابن قیم الجوزیہ جلد2 ص168



[8] ۔ قواعد الاحکام فی مصالح الانام لابن عبدالسلام  ص159



[9] ۔ قواعد الاحکام  ص159



[10] ۔ اصول الکرخی مع اصول البزدوی ص373



[11] ۔ مجمو ع فتاویٰ ابن تیمیہ جلد19 ص272



[12] ۔عرف الشذی ص309



[13] ۔ فتح القدیر



[14] ۔ الملل والنحل للشہرستانی مع الفصل فی الملل لابن حزم جلد 2 ص45



[15] ۔ مجموع فتاویٰ ابن تیمیہ جل20 ص40



[16] ۔ حجۃ اللہ البالغہ شاہ ولی اللہ جلد1 ص345



[17] ۔ مسئلۃ الاحتجاج بالشافعی للخطیب البغدادی ص31



[18] ۔ بعض معتزلی اہل علم امام ابوحنیفہ سے انتساب کرتے تھے مثلاً علامہ زمخشری وغیرہ



[19] ۔اعلام الموقعین لابن قیم الجوزیہ جلد4 ص264



[20] ۔ شرح مسلم للنووی جلد4 ص48



[21] ۔ شرح مسلم جلد 4 ص49



[22] ۔ شرح مسلم  جلد 4 ص56



[23] ۔اعلام الموقعین جلد4 ص260



[24] ۔ کتاب التمہید لابن عبدالبر ج1 ص246



[25] ۔کتاب التمہید جلد1 ص324



[26] ۔ کتاب التمہید جلد2ص154



[27] ۔ کتاب المحلّٰی جلد1 ص112



[28] ۔ بدایۃ المجتہد جزو 1 ص50



[29] ۔ المغنی لابن قدامہ ج1 ص176



[30] ۔ شرح مسلم للنووی جلد 4 ص115



[31] ۔ شرح مسلم للنووی جلد4 ص197



[32] ۔ شرح مسلم للنووی جلد4 ص214



[33] ۔ القواعد النورانیۃ الفقھیۃ ص1



[34] ۔القواعد النورانیۃ الفقھیۃ ص21



[35] ۔القواعد النورانیۃ الفقھیۃ ص81



[36] ۔  فتح الباری شرح صحیح البخاری للحافظ ابن حجر جلد4 ص193



[37] ۔فتح الباری جلد5 ص318



[38] ۔ فتح الباری جلد 9 ص209