قربانی کا ثبوت سورہ کوثر کی دوسری آیت سے بھی ملتا ہے ۔ پرویز صاحب اس کی تردید میں فرماتے ہیں :
’’مروجہ قربانی کی تائید میں سورۃ الکوثر کی آیت............ فصل لربک وانحر۔ بھی پیش کی جاتی ہے ۔ اس کا ترجمہ کیا جاتا ہے ۔’’نماز پڑھ اپنے رب کے آگے اور قربانی کر‘‘........... ’’قربانی کر‘‘ ترجمہ کیا جاتا ہے وانحر کا۔‘‘
لغت کی رُو سے نحر سینے کے اوپر کے حصے کوکہا جاتا ہے ۔ صاحب تاج العروس نے مختلف تفاسیر کی سند سے وانحر کو کہا کے متعدد معانی لکھے ہیں۔ مثلاً (1 نماز میں کھڑے ہوکر سینے کو باہر کی طرف  نکالنا (2) نماز میں دایاں ہاتھ بائیں ہاتھ پر رکھنا (3) نماز میں سینے پر ہاتھ باندھنا (4) نماز میں نحر تک ہاتھ اٹھانا  (5) اپنے سینے کو قبلہ رُخ کرکے کھڑے ہونا (6) خواہشات کا قلع قمع کرنا۔
اونٹ کے ذبح کرنےکا طریقہ یہ ہے کہ کھڑے کھڑے اس کے نحر (سینے کے اُوپر کے حصے) کے قریب، حلق کی رگ پر نیزہ مارتے ہیں، اس سے نحر البعیر کے معنی آتے ہیں، اس نے اونٹ کو اس طرح ذبح کیا، لیکن لغت میں النحر اور النحریر کے معنی ہیں، ماہر ، عقلمند، تجربہ کار، ہر بات  کو سمجھ کر اختیار کرنے والا او راس پر مضبوطی سے عمل کرنے والا، چنانچہ کہتے ہیں نحرت الشئ علما۔ میں علم کی رُو سے اس معاملہ پر حاوی ہوگیا۔‘‘ (تفسیر مطالب الفرقان ج3 ص248)
لغات القرآن میں یہ معانی بیان کرنے کے بعد، آیت کا معنی و مفہوم یوں بیان کیا گیا ہے:
’’اس لیےوانحر (2؍108) کے معنی ہوں گے، اس پروگرام کےمتعلق تمام امور پر علم و عقل اور تجربہ و بصیرت سے پوری پوری طرح حاوی ہوکر ان پر نہایت مضبوطی سے عمل  پیرا رہو۔‘‘ (لغات القرآن ص1592)
پرویز صاحب شاید یہ سمجھتے تھے کہ کسی قرآنی لفظ کے عربی لغت میں سے دس پندرہ معانی سے لاٹری کے ذریعے ایک معنی کو چنتے ہوئے، اسے اپنے خود ساختہ جملوں میں استعمال کرڈالنے سے قرآنی آیات کامفہوم واضح ہوجاتاہے۔
حالانکہ  ’’وانحر‘‘ کا معنی ’’علمی طور پر کسی معاملے پر حاوی ہوجانا‘‘ صرف اسی صورت میں درست ہوسکتا ہے جبکہ اس کا کوئی قرینہ پایا جاتا ہے۔ مثلاً اگر کہا جائے کہ ’’نحر الامور علما‘‘ تو لفظ ’’علما‘‘ کا قرینہ اس معنی کا مؤید ہوگا کہ ’’اُس نے معاملات کو مضبوط طریقے سے کیا‘‘ جو مثال پرویز صاحب نے دی ہے اس میں فی الواقعہ ایسا قرینہ موجود ہے جو یہ معنی مراد لینے کے حق میں ہے۔ لیکن سورۃ الکوثر میں سرے سے ایسا قرینہ موجود ہی نہیں ہے۔ لہٰذا یہاں یہ معانی کسی طرح بھی مراد نہیں لیے جاسکتے ’’نحر‘‘ کومطلق رکھتے ہوئے اگر ’’نحر فُلان‘‘ کہا جائے تو ہر عرب اس سے یہی سمجھے گا کہ ’’فلاں نے (اونٹ کی )قربانی کی ہے۔‘‘ نہ یہ کہ وہ عقل و تجربہ اور بصیرت و مشاہدہ سے کسی معاملے میں حاوی ہوگیا ہے۔ بہرحال پرویز صاحب ’’مروجہ ترجمہ‘‘ کے بعد اپنا خود ساختہ ’’ماڈرن ترجمہ‘‘ پیش کرنے کے بعد فرماتے ہیں کہ:
’’یہ ہے ہماری بصیرت کی رُو سے اس سورہ میں وانحر کا مفہوم اس سے مروجہ  قربانی کی سند لینا بعید از کار سی بات ہے۔‘‘ (مطالب الفرقان ج3ص249)
لیکن ہم کہتے ہیں کہ پرویز صاحب ، جنہوں نے قربانی کی مخالفت کے جوش میں (بعد میں ) ’’وانحر‘‘ کے اس ترجمہ  کو ’’بعدازکار‘‘ قرار دیا، اس سے قبل وہ خود بھی  اس کا یہی ’’بعد ازکار‘‘ ترجمہ کرتے رہے ہیں۔ ملاحظہ ہو:
’’فصل لربک وانحر (2؍108) ’’لہٰذا اپنے رب کے لیےنماز قائم کرو اور قربانی کرو۔‘‘ (معارف القرآن ج4 ص369)
قربانی اور پرویز صاحب کی شروط ثلاثہ:
قربانی کی بحث کو جاری رکھتے ہوئے پرویز صاحب لکھتے ہیں:
’’اگر وانحر سےمراد بالضرور’’ قربانی‘‘ لینا ہے تو قرآن کریم کی رُو سے ان  شرطوں کا پورا کرنا ضروری ہوگا۔‘‘ (مطالب الفرقان ج3 ص249)
اس کے بعد پرویز صاحب نے تین شرطیں بیان کی ہیں۔ ہم ان میں سے ہر شرط کا جائز ہ لے رہے ہیں۔
پہلی شرط
پرویز صاحب کی پہلی شرط ان الفاظ میں مذکور ہے۔
’’ایک تو یہ کہ نحر صرف اونٹ ذبح کرنے کو کہتے ہیں، کسی اور جانور کے ذبح کرنے کو نہیں اس لیے قربانی صرف اونٹوں کی دی جائے گی۔‘‘(ایضاً)
جائزہ:
ہاں! یہ درست ہے کہ ’’نحر‘‘ صرف اونٹ ذبح کرنے کو کہتے ہیں، لیکن ذبح اونٹ کا بطور خاص حکم دینے سے دوسرے جانور کو ذبح کرنے کی نفی کیسے ہوگئی؟ اگر آپ کسی مہمان سے یہ فرمائیں کہ ’’دودھ نوش فرمائیے‘‘ تو کیا اس پر دودھ کی تخصیص سے پانی اور چائے وغیرہ پینے کی نفی لازم آئے گی؟ اب  اگر ’’نحر‘‘ میں اونٹ کی قربانی، دیگر جانوروں کی قربانیوں کے لیے عدم جواز کی دلیل ٹھہرتی ہے تو اسی بناء پر قرآن میں ممانعت خمر کے حکم کو،دیگر اشیاء کی عدم ممانعت کی دلیل ہونا چاہیے۔ لیکن خود پرویز صاحب ، ممانعت خمر اور حرمت  شراب کے حکم میں وہ اشیاء بھی داخل کرتے ہیں جس پر سرے سے ’’پینے کے فعل‘‘ کا اطلاق ہی نہیں ہوتا۔ چنانچہ حریت خمر کے حکم میں یہ مضحکہ خیز تشریحات بھی ملاحظہ فرمائیے:
’’خمر وہ ہے جس سے انسان کی عقل و فکر، سوچنے سمجھنے کی صلاحیت مسلوب یا مضمحل ہوجائے، آپ سوچئے کہ اس میں کیا کیا باتیں نہیں آجاتیں؟ سب سے پہلے تو ’’مذہب‘‘ ہے جس میں سوچنے سمجھنے کو گناہ اور ابلیس کی روش قرار دیا جاتا ہے۔‘‘ (مطالب الفرقان ج3 ص321)
لیکن کسی نے ’’مفکر قرآن‘‘ سے یہ استفسار نہ کیا کہ ’’جناب ! جب نحر کی قربانی میں اونٹ کے سوا کوئی اور قربانی شامل نہیں ہے ، تو ممانعت شراب میں ’’مذہب پینے‘‘ کی ممانعت کیسے داخل ہوگئی؟‘‘ او رجس طرح آپ شراب پینے کی حرمت کے حکم میں ’’مذہب پینے‘‘ کی حرمت کو داخل کرتے ہیں اُسی طرح اگر کوئی شخص، اونٹ کی قربانی کو ’’نحر‘‘ کی بناء پر اور دیگر جانوروں کی قربانی کو ’’نسک‘‘ کی بناء پراختیار کرتا ہے تو وہ مورد الزام کیوں ہو۔؟
مصلحت ذبح اونٹ:
یہاں یہ سوال پیداہوتا ہے کہ سابقہ بحث کی روشنی میں اگر ’’نسک‘‘ سے مراد مطلق قربانی ہے ، تو آخر سورہ کوثر میں خاص طور پر ’’نحر‘‘ کے لفظ سے ’’اونٹ‘‘ کی قربانی کاذکر کیوں کیا گیا ؟ تو اس کا جواب ہم اپنی طرف سے دینے کی بجائے خود پرویز صاحب ہی  کی ایک تحریر سے پیش کرنا مناسب سمجھتے ہیں:
’’ہجرت کے بعد، جب رسول اللہ ﷺ مدینہ تشریف لائے تو حالت یہ تھی کہ مسلمانوں کی جماعت (انصار او رمہاجرین دونوں) غریب اور کمزور تھی او رمدینہ میں یہود کا بڑا زور تھا۔ ایسے حالات میں کمزور جماعتیں ہمیشہ طاقتور جماعتوں کے سہارے ڈھونڈتی ہیں اور اس کے لیے اپنے اصولوں تک کو قربان کردیتی ہیں۔ یہودیوں کے ہاں اونٹ حرام تھا اور مسلمان کے ہاں حلال۔ وہ اونٹ کے ذبیحہ کو قابل اعتراض سمجھتے تھے۔ وہ مدینہ میں اپنی قوت کی بناء پر  سمجھتے تھے کہ مسلمان ان سے دب کر رہیں گے اور اونٹ کو ذبح کرنے سے محتاط رہیں گے، قرآن کریم نے عین اس مقام پر حکم دیا کہ مدینہ میں ’’اونٹ  ذبح کرو‘‘[1] یعنی دین کے معاملہ میں یہودیوں سے مفاہمت کا خیال نہ کرو۔‘‘ (لغات القرآن ص1592)
یہ تھی وہ مصلحت، جس کے پیش نظر، قرآن نے ’’نحر‘‘ کالفظ بول کر  خاص طور پر ’’اونٹ کی قربانی‘‘ کا حکم دیاہے، ورنہ ’’نسک‘‘ کے لفظ میں دیگر جانوروں کی قربانی کا حکم پہلے ہی شامل ہے۔
یہاں یہ امر بھی  قابل غور ہے کہ مدینہ میں ’’اونٹ کی قربانی کرو‘‘ کے حکم کا اتباع محض اِکادُکا افراد کرتے تو اس سے وہ مقصد ہرگز پورا نہ ہوسکتاتھا جس کے لیے یہ حکم دیا گیا تھا۔ مقصود پیش نظر کی روشنی میں یہی بات قرینقیاس تھی کہ اس حکم پر عمل اجتماعی طور پر ،جماعتی حیثیت میں ایک ہی وقت میں کیاجاتا  تاکہ ایک طرف یہ عمل یہود کی مخالفت کے باعث ان سے مفاہمت کے ہر خیال کو اہل ایمان کے دل و دماغ سے نکال دیتا تو دوسری طرف ایک ہی وقت میں انجام پانے والا یہی اجتماعی عمل مسلمانوں کی شان و شوکت کا مظہربھی قرار پاتا  او راجتماعی قربانی کا ایک ہی وقت فطرتاً وہی ہوسکتا ہے جب حرم کے اندر حج کے موقع پر قربانیاں ہورہی ہوں او ریہی  عملاً نبی کریم ﷺ کےزمانے میں کیابھی گیا، پس اس صورت حال میں قربانی صرف کعبہ  ہی میں نہیں بلکہ خارج از کعبہ بھی ایک دینی شعار کی حیثیت سے مدینہ میں آغاز پذیر ہوئی او رپھر جوں جوں اسلام کادائرہ پھیلتا چلا گیا، قربانی بھی اسی نسبت سے بیرون حرم پھیلتی چلی گئی۔
دوسری شرط:
پرویز صاحب نے قربانی کے جواز کو جس دوسری شرط سے مشروط کیا ہے، وہ ان کے اپنے الفاظ میں یہ ہے :
’’قرآن کریم نے ان جانوروں کے ذبح کرنے کا مقام، خانہ کعبہ کو قرار دیا ہے اس لیے یہ قربانی حج کے مقام پر کی جائے گی۔‘‘ (تفسیر مطالب الفرقان  ج3 ص250)
جائزہ
ہدی،نسک اور نحر کا باہمی فرق:
 انتہائی مقام افسوس ہے کہ پرویز صاحب ، بزعم خویش، عمربھر قرآن کے تحقیقی مطالعہ میں مستغرق رہنےکے بعد بھی یہ نہ جان پائے کہ قرآن نے کعبہ میں کی جانے والی قربانیوں اور خارج از کعبہ دیگر مقامات پر کی جانے والی قربانیوں میں فرق کیاہے۔ اوّل الذکر قربانیوں کے لیے قرآن ’’ہدی‘‘ کا لفظ استعمال کرتا ہے۔ خواہ یہ کسی جنایت کی پاداش کے طور پر ہو یا حج کے لازمی عمل کی حیثیت سے ہو جبکہ ثانی الذکر قربانیوں کے لیے وہ ’’نسک‘‘ اور ’’نحر‘‘ کا لفظ استعمال کرتا ہے۔ البتہ ’’نسک‘‘ کے لفظ کا اطلاق  خارج از حرم  قربانیوں کے علاوہ اُس ’’خون‘‘ پر بھی کیا جاتا ہے جو کسی مجبوری کے باعث ، سرمنڈوا دینے پر بطور شکرانہ کے واجب قرار پائے۔ اگر کوئی قربانی ، مرض یا تکلیف  رأس کے باعث مجبوراً سرمنڈوا دینے کے باعث لازم قرار نہیں پائی تواس کا  مقام خارج از کعبہ ہے جبکہ  ’’ہدی‘‘ خاص طور پر اس قربانی کوکہا گیا ہے ، جس کامقام و محل بیت العتیق ہے۔ قرآن پاک کی درج  ذیل آیات اس پر شاہد ہیں:
1۔   ’’فان احصرتم فما استیسر من الھدی ولا تحلفوا رءوسکم حتیٰ یبلغ الھدی محلہ‘‘ (البقرہ:196)
’’اور اگر تم گھر جاؤ تو جو ’’ہدی‘‘ (حرم میں کی جانے والی قربانی) میسر آئے، اسے اللہ کے حضور پیش کردو اور سرنہ منڈواؤ یہاں تک کہ ’’ہدی‘‘ اپنے ٹھکانے پہنچ جائے۔‘‘
2۔ ’’ھم الذین کفروا وصدوکم عن المسجد الحرام والھدی معکوفا ان یبلغ محلہ‘‘ (الفتح :25)
’’وہی لوگ تو ہیں جنہوں نے کفر کیا اور تم کو مسجد حرام سے روکا اور ’’ہدی‘‘ کے جانوروں کو قربانی کی جگہ نہ پہنچنے دیا۔‘‘
3۔ ’’ھدیا بٰلغ الکعبۃ‘‘ (المائدۃ :95)
’’یہ قربانی کعبہ میں پہنچنے والی ہو۔‘‘
ان آیات میں ا س امر کی تصریح ہےکہ ’’ہدی‘‘ سے مراد وہ  ’’قربانیاں ‘‘ ہیں، جن کا مقام و محل حرم کعبہ ہے۔ ان آیات کے علاوہ یہ لفظ جہاں بھی استعمال ہوا ہے ’’حرم کی قربانیوں‘‘ ہی کے معنی میں استعمال  ہوا ہے۔
الغرض قرآن کریم نے اس بات کو واضح کردیا ہے کہ ’’ہدی‘‘ کا اطلاق صرف ان قربانیوں پر ہوتا ہے جو حدود حرم میں کی جائیں اور ’’نسک ‘‘ و نحر‘‘ مطلق قربانی کوکہتے ہیں ’’نسک‘‘ کے کعبہ میں کئے جانے کی صورت صرف ایک ہے اور وہ یہ کہ یہ قربانی اس رعایت کے شکریے کے نتیجہ میں واجب ہو جبکہ حالت مرض یا تکلیف رأس کے باعث  وہ سرنہ منڈوانے کی پابندی پر قائم نہ رہ پائے (یہ بہرحال ایسی مجبوری ہے جو اس کے ارادہ و اختیار سے اس پر وارد نہیں ہوئی)
جب جبکہ قرآن کریم ، درون حرم او ربیرون حرم کی جانے والی قربانیوں میں واضح فرق و امتیاز قائم کرتا ہے، تو کسی کےلیے یہ جائز نہیں ہے کہ وہ ان فروق و امتیازات کو بالائے طاق رکھ کر یہ حکم جاری کرے کہ ہدی کی قربانی ہو  یا نسک و نحر کی قربانی، ہر ایک کا مقام کعبہ ہی ہے۔ صرف قرآن ہی نہیں بلکہ لغات عرب بھی ان دونوں قسم کی قربانیوں میں فرق و امتیاز کرتے ہوئے ، صرف ’’ہدی‘‘ کو مقام حرم سے وابستہ کرتی ہیں۔ خود پرویز صاحب لکھتے ہیں:
’’ھدی اور ھدی اس جانور کو کہتے تھے جو حج کے موقع پر بیت اللہ پر ذبح کرنے کے لیے لے جاتے تھے۔‘‘ (لغات القرآن ص1756)
اور یہ فرق اتنا واضح فرق ہے کہ عرف عام میں بھی اس کو ملحوظ رکھا جاتاہے مثلاً اگر کوئی شخص یہ کہے کہ ’’للہ علی الھدی‘‘ (مجھ پر اللہ کے لیے ’’ہدی‘‘ لازم ہے ) تو ہر شخص یہی سمجھے گا کہ قائل پر ایسی قربانی لازم ہے جو حرم کعبہ میں کی جائے گی، لیکن اگر کوئی شخص یہ کہے کہ ’’للہ علی النسیکۃ‘‘ (مجھ پر خون لازم ہے) تو ہر شخص یہی سمجھے گاکہ جو خون یا قربانی قائل پر لازم ہے وہ جہاں چاہے کردے، حرم میں ان کا کرنا لازم ہے اور واجب نہیں ہے۔ لہٰذا پرویز صاحب کا ہر قسم کی قربانی کے متعلق یہ شرط عائد کرنا کہ اسے حرم کعبہ ہی میں کیا جائے، نہ صرف یہ کہ خلاف قرآن ہے بلکہ لغات عربیہ کےبھی خلاف ہے۔
پرویز صاحب کے مؤ+قف کا باطل او ربے بنیاد ہونا اس امر سے بھی واضح ہے کہ اگر ہر قسم کی قربانی کا مقام و محل کعبہ ہی ہو تو مدینہ میں اہل ایمان کےلیے عین یہودیوں کےگڑھ میں’’اونٹ ذبح کرو‘‘ کا حکم بے معنی ہوکر رہ جاتا ہے۔ کیونکہ مدینہ میں یہودیوں کا زور تھا اور مدینہ ہی میں اونٹ ذبح کرنے سے ان کی مخالفت لازم آتی تھی۔ مقام حرم میں تو ہر قسم کی قربانی عہد جاہلیت ہی سے ہوتی آئی تھی، اسلیے مسلمان اگر ’’وانحر‘‘ کی اطاعت مدینہ میں نہیں کرتے تھے اور صرف حدود  حرم میں ہی کرتے تھے تو ایسی مخالفت  قطعی بے فائدہ اور بے اثر ہے ۔ آپ خود سوچئے کہ ہندوؤں کے ہاں گائے کی قربانی ممنوع ہے، جبکہ مسلمانوں کے ہاں حلال و جائز ہے، اب اگر مسلمان ہنود کی مخالفت میں گائے کی قربانی بھارت میں کرنے کی بجائے بیرون ہند کرتے پھریں تو اس سے کیا فرق پڑے گا؟                                                                                            ( جاری ہے)

[1] ۔’’مفکر قرآن‘‘ صاحب  کی  اس ثنویت کوملاحظہ فرمائیے کہ جب جی چاہا تو ’’وانحر‘‘ کا ترجمہ یہ کردیا کہ  ’’اس پروگرام کے متعلق تمام امور پر علم و عقل اور تجربہ و بصیرت سے پوری طرح حاوی ہوکر ان پر نہایت مضبوطی سے عمل پیرا ہو‘‘ (لغات القرآن ص1592) او رجب جی چاہا تو ترجمہ یہ فرما دیا کہ ’’اونٹ ذبح کرو‘‘ او راس  حکم کی مصلحت بھی واضح کردی کہ ذبح اونٹ سے یہود کی مخالفت مقصود ہے ، تاکہ ان کے ساتھ مفاہمت کا خیال تک اہل ایمان کے دل میں نہ آنے پاوے۔