1۔ مسلمان بھائی کے لیے دُعاء کرنا او راپنے لیے نہ کرنا:
یہ شرعاً جائز اور آنحضرتﷺ سے ثابت ہے۔ حضرت ابوموسیٰ ؓ فرماتے ہیں، نبی اکرمﷺ نے دعاء کی تھی:
’’اللٰھم اغفرلعبید ابی عامر اللٰھم اغفر لعبد اللہ بن قیس ذنبه‘‘ (صحیح بخاری :11؍35)
’’یا اللہ! ابوعامر عبید کی مغفرت فرما! یا اللہ، عبداللہ بن قیس کی خطائیں بخش دے۔‘‘
اسی طرح آپؐ کا حضرت انس ؓ کے حق میں دعاء کرنابھی آیا ہے:
’’عن انس رضی اللہ عنه قال : قالت اُم سلیم للنبی صلی اللہ علیه وآله وسلم انس خادمک، قال: اللٰھم اکثر ماله وولده و بارک له فیما اعطیته‘‘(صحیح بخاری :11؍136)
’’حضرت انس ؓ کہتے ہیں، اُم سلیم ؓ نے آنحضرتﷺ سے درخواست کی ،  ’’اللہ کے رسولؐ، انس ؓ آپ کا خادم ہے۔‘‘ تو آپؐ نے دعاء فرمائی: ’’یا اللہ ، اس کے مال اور اولاد کو زیادہ کر اور اسے دی ہوئی  نعمتوں  میں برکت عطا فرما۔‘‘
2۔ بوقت ضرورت موت کی دُعاء کرنا:
’’عن انس قال قال رسول اللہ صلی اللہ علیه وآله وسلم: لا یتمنین احدکم الموت لضر نزل به فإن کان لا بد متمنیا للموت فلیقل: اللھم احینی ماکانت الحیاة خیرا وتوفنی اذا کانت الوفاة خیرا لی‘‘ (صحیح بخاری:11؍150)
’’حضرت انسؓ فرماتے ہیں، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ’’تم میں سے کوئی آدمی کسی دُکھ یا پریشانی کے سبب موت کی دعاء نہ کرے۔ ہاں اگر ایسی دعاء کرنا ناگزیر ہو تو کہے ’’یا اللہ، جب تک زندگی میرے لیے بہتر ہے مجھے زندہ رکھ، جب موت میرے لیے بہتر ہو تو مجھے موت دے دے۔‘‘
3۔  مشرکین کے لیے دعاء اور بددُعاء کرنا :
مشرکین پر حجت پوری کر دینے او ران کے شرک پر اصرار کے بعد بددُعا ء کی جاسکتی ہے۔ جیساکہ مؤمنین کی یہ دُعا ء قرآن کریم میں منقول ہے:
﴿رَبَّنَا اطمِس عَلىٰ أَموٰلِهِم وَاشدُد عَلىٰ قُلوبِهِم... ﴿٨٨﴾...يونس
’’اے رب، ان کے مال ہلاک کردے او ران کے دلوں کو سخت کردے۔‘‘
’’ وعن ابی مسعود قال النبی صلی اللہ علیه وآله وسلم: اللھم اعنی علیھم بسبع کسبع یوسف وقال: اللھم علیک بابی جھل‘‘ (صحیح بخاری:11؍192)
’’حضرت ابومسعودؓ فرماتے ہیں، نبی ﷺ نے دعاء کی : ’’یا اللہ ان (قریشی) پر یوسف علیہ السلام کے زمانہ کی مانند سات سال قحط کے مسلّط کرکے ہماری مدد فرما اور تو ابوجہل سے خود نپٹ‘‘
جنگ خندق کے موقع پر جب کفار کی جماعتیں متحد ہوکر لڑائی کے لیے آئیں، تو آپؐ نے ان پر بددُعاء کی:
’’عن ابن ابن اوفیٰ رضی اللہ عنهما قال: دعا رسول اللہ صلی اللہ علیه وآله وسلم علی الاحزاب فقال: اللھم منزل الکتاب سریع الحساب اھزم الاحزاب، اھزمھم وزلزلھم‘‘ (صحیح بخاری:11؍193)
’’ابن ابی اوفیٰؓ فرماتے ہیں: آنحضرتﷺ نے کفار کی جماعتوں پر دُعاء کی تو فرمایا: ’’اے اللہ ، کتاب کے نازل کرنے والے، جلد محاسبہ کرنے والا، ان جماعتوں کو شکست دے او ران میں لرزہ پیدا کر۔‘‘
اس کے علاوہ صحیح روایات سے ثابت ہے کہ آپؐ نے مشرکین کے حق میں دعائیں بھی کیں:
’’عن ابی ھریرة رضی اللہ عنه قال قدم الطفیل بن عمر و علیٰ رسول  اللہ صلی اللہ علیه وآله وسلم فقال: یا رسول اللہ ان دوسا قد عصت و ابت فادع اللہ علیھا فظن الناس أنه یدعو علیھم فقال: اللھم اھددوساوأت بھم‘‘ (صحیح بخاری:11؍194)
’’حضرت ابوہریرہؓ فرماتے ہیں، طفیل ؓ بن عمرو، آنحضرتﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور درخواست کی، ’’اللہ کے رسولؐ، قبیلہ دوس نے نافرمانی کی اور قبول حق سے انکار کیا۔ آپؐ ان پر بددعاء فرمائیے ! ’’لوگوں نے سمجھا کہ آپؐ بددعاء کرنے لگے ہیں۔ لیکن آپؐ نے فرمایا: ’’یا اللہ ، دوس قبیلہ کو ہدایت دے اور اُنہیں ہمارے پاس لے آ۔‘‘
4۔ کسی نیک آدمی سے دعاء کرانا:
حضرت جابر بن عبداللہ ؓ کا بیان ہے، ایک عورت نے آنحضرتﷺ سے آکر کہا: ’’صلی علی وعلیٰ زوجی‘‘’’آپؐ مجھ پر اور میرے خاوند پر صلوٰۃ (بمعنی رحمت ، دعاء ) بھیجیں۔‘‘ تو آپؐ نے فرمایا: ’’اللہ تجھ پر اور تیرے خاوند پر صلوٰۃ (رحمت) بھیجے‘‘ ( ابوداؤد حدیث نمبر 1519)
یاد رہے ، یہاں لفظ صلوٰۃ، دعاء اور برکت کے معنوں میں ہے۔  آنحضرتﷺ پر جو صلوٰۃ پڑھی جاتی ہے، وہ صرف آپؐ ہی کا خاصہ ہے۔
دُعاء کے متفرق مسائل
1۔ ہر نبی کی ایک مقبول دعاء ہوتی ہے:
حضرت ابوہریرہؓ سے روایت ہے کہ، آنحضتﷺ نے فرمایا: ’’ہر نبی کی ایک دعاء یقیناً مقبول ہوتی ہے، وہ جو چاہے دعاء کرے۔ میں آخرت میں اپنی اُمت کی شفاعت کی خاطر اپنی دعاء کو محفوظ رکھتا ہوں۔‘‘ (صحیح بخاری:11؍96، مسنداحمد:1؍281)
حضرت ابوہریرہؓ ہی سے ایک اور روایت ہے، آنحضرتﷺ نے فرمایا: ’’ہر نبی کی ایک دعاء یقیناً مقبول ہوتی ہے۔ میں اپنی دعاء کو آخرت میں اپنی اُمت کی شفاعت کی خاطر محفوظ رکھتا ہوں۔ اس شفاعت سے میری اُمت کے ہر اُس فرد کو حصہ ملے گا جسے موت اس حال میں آئی کہ وہ شرک نہ کرتا ہو۔‘‘ (ترمذی :10؍62)
یہ آنحضرت ﷺ کی اپنی اُمت کے ساتھ انتہائی رحمت اور شفقت ہے کہ آپﷺ نے اپنی خصوصی دعاء کو سب سے زیادہ مشکل وقع کے لیے محفوظ کرلیا۔ اس مقبول دعاء کے بارہ میں کہا گیا ہے کہ یہ دعاء لوگوں کی ہلاکت او رنجات کے بارہ میں عام ہے۔ لیکن خاص دعائیں ان میں سے بعض قبول ہوجاتی ہیں اور بعض قبول نہیں ہوتیں۔ جیساکہ ایک صحیح حدیث میں ہے، آنحضرتﷺ فرماتے ہیں، ’’میں نےاپنے رب سے تین دعائیں کیں۔ اللہ نے دو قبول کرلیں او رایک کو رو ک لیا۔‘‘ (صحیح مسلم)
2۔ اللہ تعالیٰ  سے صبر کی دعاء کے وقت عافیت طلب کرنی چاہیے:
حضرت معاذ بن حبل ؓ فرماتے ہیں،  ایک دفعہ رسول اللہ ﷺ نے ایک شخص کو دعاء کرتے ہوئے سنا۔ وہ دعاء کررہا تھا: ’’یا اللہ میں تجھ سے مکمل نعمت طلب کرتا ہوں۔‘‘ آپؐ نے پوچھا، ’’مکمل نعمت سے تیری کیا مراد ہے؟‘‘ اُس نے کہا : ’’میں نے یہ دُعاء اچھی سمجھ کر کی ہے۔‘‘ آپؐ نے فرمایا: ’’جنت میں دخول اور جہنم سے رہائی یہ مکمل نعمت ہے۔‘‘
اسی طرح آپؐ نے ایک آدمی کو سنا، وہ کہہ رہا تھا: ’’یا ذاالجلال والاکرام‘‘ آپؐ نے فرمایا،  جو مانگنا چاہتا ہے مانگ، تیری دعاء قبول ہوگی۔‘‘ اسی طرح نبی اکرم ﷺ نے ایک آدمی کو سنا، وہ اللہ تعالیٰ سے صبر مانگ رہا تھا۔ آپؐ نے فرمایا: ’’تو  نے ایک مصیبت مانگ لی ہے، اللہ سے عافیت او رپناہ مانگ۔‘‘ (ترمذی:9؍512)
اس سے معلوم ہوا کہ صبر ایک امتحان اور آزمائش ہے۔ صبر مانگنے والا گویا اپنے لیے آزمائش کا سوال کرتا ہے ۔ کیونکہ آزمائش اور مصیبت پر ہی صبر مترتب ہوتا ہے، اس لیے  آپؐ نے اُسے حکم دیاکہ اللہ سے عافیت او رپناہ طلب کر، تاکہ اللہ تعالیٰ تجھ پر رحم فرمائیں۔ ہاں مصیبت اور پریشانی یا آزمائش آجائے تو صبر کی دعاء کرنا ممنوع نہیں، بلکہ مستحب ہے۔ قرآن مجید میں ہے:
﴿رَبَّنا أَفرِغ عَلَينا صَبرًا ...﴿٢٥٠﴾...البقرة  ’’اے پروردگار ہمیں صبر کی توفیق عطا فرما۔‘‘
3۔ کشادگی اور خوش حالی میں دعاء کرنا:
حضرت ابوہریرہؓ فرماتے ہیں، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ’’جو شخص چاہتا ہے کہ اللہ تعالیٰ مصیبت او رپریشانی کے وقت اُس کی دعاء قبول فرمائیں، اُسے چاہیے کہ کشادگی،خوشحالی اور فراخی میں بھی کثرت سے دعائیں کرے۔‘‘
حضرت ابن عباسؓ بیان فرماتے ہیں، میں آنحضرتﷺ کے ساتھ (سوار )تھا۔ آپؐ نے فرمایا: ’’لڑکے ، کیا میں تجھے ایسے کلمات نہ سکھا دوں جن سے تجھے اللہ تعالیٰ نفع پہنچائیں؟‘‘ میں نے کہا: ’’ضرور یارسول اللہ ﷺ تو آپؐ نے فرمایا:
’’احفظ اللہ یحفظک احفظ اللہ تجدہ امامک تعرف الیہ فی الرخآء یعرفک فی الشدۃ‘‘ (مسنداحمد:1؍307)
’’تو اللہ تعالیٰ کے احکام کے حفاظت کر، اللہ تعالیٰ تیرے حفاظت فرمائیں گے۔ تو اللہ تعالیٰ ( کے حدود کا ) خیال رکھا، تو اللہ کو (یعنی اُس کی رحمت اور فضل کو) اپنے سامنے پائے گا، تو فراخی اور کشادگی میں اللہ رب العزت کی معرفت حاصل کر، وہ تیری مشکل میں تجھے یاد رکھیں گے۔‘‘
لہٰذا مومن کی یہ عادت ہوتی ہے کہ وہ ہر حال میں اپنے رب کو یاد رکھتا ہے اسے کبھی نہیں بھولتا او رپریشانی کے وقت اسے زیادہ یاد کرتا ہے۔
4۔ کافر اپنے رب کو صرف مصیبت کے وقت یاد کرتا ہے:
قرآن مجید میں ہے:
’’واذا مس الانسان الضر دعانا لجنبہ او قا عدا او قآئماً فلما کشفنا عنہ ضرہ مرکان لم یدعنا الیٰ ضر مسہ‘‘ (یونس :12)
’’انسان کا حال تو یہ ہے کہ جب اسے کوئی تکلیف پہنچتی ہے تو لیٹے، بیٹھے، کھڑے ہر حال میں ہمیں پکارتا ہے او رجب ہم اس کی مصیبت کو دور کردیتے ہیں تو یوں ہوجاتا ہے، گویا اُس نے کبھی اپنے مشکل وقت میں ہمیں پکار ا ہی نہ تھا۔‘‘
نیز فرمایا:
’’قل من ینجیکم من ظلمٰت البرو البحر تدعونہ تضرعا و خفیۃ لئن انجٰنا من ھٰذہ لنکونن من الشکرین۔ قل اللہ ینجیکم منھا ومن کل کرب ثم انتم تشرکون‘‘ (الانعام: 63۔64)
’’(اے نبیؐ) آپ فرما دیجئے،بھلا تم کو جنگلوں اور دریاؤں کے اندھیروں سے کون خلاصی دیتا ہے؟ جبکہ تم  اسے عاجزی اور خفیہ طور پر پکارتے ہو ( اور کہتے ہو کہ) اگر اللہ ہم کو اس (مصیبت) سے نجات بخشے تو ہم اس کے بہت شکرگزار ہوں گے۔ کہہ دیجئے کہ اللہ ہی تم کو اس سے، اور ہر مصیبت سے بھی، نجات بخشتا ہے، پھر بھی تم اس کےساتھ شرک کرتے ہو۔‘‘
نیز فرمایا:
’’واذ امس الانسان ضو دعا ربہ منیبا الیہ ثم اذا خولہ نعمۃ منہ  نسی ما کان یدعو الیہ من قبل وجعل للہ اندادا لیضد عن سبیلہ قل تمتع بکفرک قلیلا انک من اصحٰب النار‘‘ (الزمر:8)
’’او رجب انسان کو تکلیف پہنچتی ہے تو وہ اپنے پروردگار کو پکارتا اور خلوص دل کے ساتھ اس کی طرف رجوع کرتا ہے۔ پھر جب اللہ تعالیٰ اسے اپنی طرف سے کوئی نعمت عطا فرماتے ہیں تو پہلے جس کام کے لیے اس نے اسے (اللہ کو ) پکارا تھا، اسے بھول جاتا ہے اور اللہ کے شریک بنانے لگتا ہے، تاکہ لوگوں کو اللہ کی راہ سے گمراہ کردے۔ (اے رسولؐ) آپ فرما دیجئے کہ (اے کافر نعمت)اپنی ناشکری کے باوجود تھوڑا سا فائدہ اٹھا لے پھر تو تُو دوزخیوں میں ہوگا۔‘‘
’’واذ امسہ الشر فذودعآء عریض‘‘ (حٰم السجدۃ:51)
’’جب اسے (انسان کو) کوئی تکلیف پہنچتی ہےتو لمبی لمبی دعائیں کرتا ہے۔‘‘
یہ کافر اور مشرک کا اپنے رب کے ساتھ رویہ اور سلوک ہوتا ہے کہ وہ صرف پریشانی او رمصیبت کے وقت رب کو پکارتا او ریاد کرتا ہے جبکہ مومن کا حال امام ابن تیمیہ کے لفظوں میں یوں ہوتا ہے کہ ’’ضرورت کے پورا ہوجانے کے بعد بھی وہ اپنے رب کے حکم کے مطابق پورے اخلاص کے ساتھ ا س کی واجب کردہ عبادت میں مصروف ہوجاتا ہے۔ چنانچہ اس سے اس  کا شمار نیکوں میں ہوتا ہے۔ اور اگر واجبات و فرائض کے علاوہ نوافل بھی ادا کرے تو وہ مقربین میں سے ہوجاتا ہے۔ لیکن اگر اپنی ضرورت و حاجت کے پورا ہوجانے کےبعد واجبات کی ادائیگی میں غفلت کرتا ہے تو وہ گناہگار ہوتاہے۔ یہ کبھی تو شرک اصغر کی صورت میں ہوتا ہے  جن میں لوگوں کی اکثریت مبتلا ہے، یا پھر صفت الوہیت و ربوبیت میں گناہ ہوتا ہے۔‘‘ (قاعدہ فی انواع الاستفتاح،  ص17)
مشرک کی پریشانی کے عالم میں اللہ تعالیٰ اس کیدعا بھی قبول فرما لیتے ہیں۔ کیونکہ کم از کم اس وقت وہ مخلص ہوتا ہے۔ جیساکہ ارشاد ہے:
’’واذاغشیھم موج کالظلل دعوا اللہ مخلصین لہ الدین فلما نجٰھم الی البر فمنھم مقصد وما یجحد باٰیٰتنا الا کل ختار کفور‘‘ (لقمان:32)
’’او رجب سمندر میں موج ان لوگوں پر سائبانوں  کی طر ح چھا جاتی ہے، تو یہ اللہ کو ، دین کواس کے لیے خالص کرتے ہوئے،  پکارتے ہیں۔پھر  جب وہ (اللہ) انہیں بچا کر خشکی تک پہنچا دیتا ہے تو ان میں سے بعض ہی انصاف  پر قائم رہتے ہیں۔ چنانچہ ہماری آیات او رنشانیوں کا انکار صرف وہی کرتے ہیں جو عہدشکن  اور ناشکرے ہوتے ہیں۔‘‘
یا پھر انہیں ڈھیل دیتے ہوئے اللہ تعالیٰ ان کی دعاء قبول فرما لیتے ہیں۔ اس کے علاوہ تمام حالات میں ان کی دعاء کاحال قرآن مجید کے الفاظ میں یوں ہوتا ہے:
’’ومادعٰو الکٰفرین الا فی ضلٰل‘‘ (غافر: 50)            کہ ’’کفار کی دعاء رائیگاں ہی جاتی ہے۔‘‘
5۔ مچھلی والے (حضرت یونس علیہ السلام) کی دعاء :
حضرت سعد بن ابی وقاصؓ فرماتے ہیں، آنحضرت ﷺ نے فرمایا: ’’یونس علیہ السلام جب مچھلی کے پیٹ میں تھے، تو انہوں نے یہ دعاء کی:
’’لاالٰہ الا انت سبحانک انی کنت من الظٰلمین‘‘ (الانبیاء :87)
’’یا اللہ تیرے سوا کوئی پکار سننے والا نہیں۔ تو عیوب سے پاک اور منزہ  ہے، بے شک میں خطا کاروں میں سے ہوں۔‘‘
(آپؐ نے فرمایا) ’’کوئی مسلمان پریشانی کے عالم میں یہ دعاء پڑھے تو اللہ تعالیٰ اُس کی دعاء قبول فرماتے ہیں۔‘‘ (ترمذی :9؍480)
امام حاکم کی ایک سند میں یہ بھی ہے کہ ایک شخص نے کہا ،  ’’اللہ کے رسولؐ، یہ دعاء صرف حضرت یونس علیہ السلام کے لیے خاص تھی یا مؤمنین کے لیے عام ہے؟‘‘ تو آپؐ نے  جواباً فرمایا: کیا تو نے اللہ تعالیٰ کا یہ ارشاد مبارک نہیں سُنا:
 ’’ونجینٰہ من الغم و کذٰلک ننجی المؤمنین‘‘ (الانبیاء :88)
’’ہم نے اُسے (یونس علیہ السلام کو) غم سے نجات دی ، اسی طرح ہم مؤمنین کو بھی نجات دیتے ہیں۔‘‘
(جاری ہے)