فکر و نظر                                                                                                                                            (گزشتہ سے پیوستہ)
بسم اللّٰہ الرحمٰن الرحیم
پارلیمنٹ او رتعبیرِ شریعت
(بسلسہ اقبال اور اجتہاد)

علامہ اقبال کے حوالے سے ’’پارلیمنٹ اور اجتہاد‘‘ کے موضوع پر جو مختلف نقطہ ہائے نظر پیش کئے جارہے ہےیں، ان پر محض دماغ سوزی سے کچھ حاصل نہ ہوگا۔ کیونکہ بات تو وہی  قابل قبول ہوگی جس کے پیچھے قوی دلائل موجود ہوں گے۔ چنانچہ سابقہ گزارشات میں اس سلسلہ کی تمام تر تفصیلات سمیت ہم اس نتیجہ پر پہنچے تھے کہ اگر ائمہ سلف (رحمہم اللہ تعالیٰ) کی تقلید بُری شے ہے، تو یہی شے علامہ اقبال کا نام آجانے سے قابل تعریف کیونکر ہوجائے گی؟ کیا خود علامہ اقبال، جوتقلید کے بجائےاجتہاد پر زور دیتے رہے، اپنی تقلید پر راضی ہوسکتے تھے؟
بہر صورت پارلیمانی اجتہاد کے موضوع پر مذکورہ نظریات (جن کی تفصیل شمارہ اگست کے فکرونظر کی ابتدائی سطور میں دیکھی جاسکتی ہے) کی صحیح تنقیح بہت ضروری ہے۔ لہٰذا امر زیر بحث میں درج ذیل نکات کو پیش نظر رکھنا مفید رہے گا۔ ان شاء اللہ!
$1a      پارلیمانی اجتہاد سے مقصود، پہلی مدون فقہوں پر کسی نئی تدوین کااضافہ ہے یا کسی نئی فقہ کو قانونی حیثیت دے کر لوگوں کو اس کا پابند بنانا؟ جسے عربی میں ’’تقنین‘‘ کہتے ہیں۔
$1b     کیا انفرادی تدوین سے اجتماعی تدوین کا تقابل کرتے ہوئے تقنین شخصی سے پارلیمانی تقنین کی طرف ارتقاء یا بالفاظ دیگر مصطفےٰ کمال پاشا کے نئے تُرکی کے اجتہاد کی بناء پر خلافت کے بجائے منتخب اسمبلی کی اتھارٹی ثابت کی جاسکتی ہے؟
$1c     فقہی تقلید اور اولی الامر کے احکامات کی پابندی میں کیا فرق ہے؟
$1d     پارلیمنٹ میں مختلف فقہی نمائندوں کی حیثیت یا ماہرین قانون و شریعت کی مشاورتی کونسل کے کیا اختیارات ہونے چاہئیں؟
$1e     آئینی اعتبار سے شریعت بل اور نویں آئینی ترمیم کے حوالے سے پارلیمنٹ اور وفاقی شرعی عدالت کے اختیارات کا توازن کیا ہے؟
مذکورہ بالا نکات میں سے اکثر پر ہم اجمالی گفتگو کرچکے ہیں، تاہم تاریخی تسلسل سے موجودہ اسلامی دنیا میں پائے جانے والے افکار کامثالوں کے ساتھ تجزیہ  بھی مناسب رہے گا، تاکہ بات مزید واضح ہوجائے اور پاکستان میں زیر بحث شریعت بل اور نویں آئینی ترمیم کے بارے میں اختلاف کی اصل نوعیت بھی سامنے آجائے۔ چنانچہ اب ہم ترتیب وار ان نکات پر روشنی ڈالیں گے:
1۔   پہلانقطہ تدوین فقہ کا ہے۔ اس سلسلہ میں بہت بڑا مغالطہ لفظ ’’تشریح‘‘ سے ہوتا ہے ، جو جدید عربی زبان میں قانون سازی کے معنوں میں لیا جاتا ہے۔ اگرچہ اس لفظ کا عمومی استعمال  سیکولر قانون کے بالمقابل دین و شریعت کو قانونی حیثیت دینے کے مطالبہ میں ملتا ہے۔ تاکہ جس طرح سرکاری سطح پر قانون نافذ العمل ہوکر حکومت و رعایا کے لیے واجب التعمیل قرار پاتا ہے، اسی طرح شریعت کے احکام کو بھی یہی حیثیت مل جائے۔ تاہم سیکولر سٹوں کے پاس اس کے خلاف بہت بڑا حربہ یہ ہے کہ وہ اس سلسلہ میں شریعت کی دفعہ وار تدوین کا مسئلہ کھڑا کردیتے ہیں کہ جب تک احکام شریعت قانون کی طرح دفعہ وار مرتب نہ ہوں، ان کا نفاذ جدید دور میں ممکن نہیں۔ یوں بہ ظاہر وہ شرعیت کا انکار کرنے کی بجائے نفاذ شریعت میں ایک ایسے  خلاء کا عذر پیش کرتے ہیں کہ جس کی تکمیل کےدوران انہیں اس بات کی امید ہوتی ہے کہ مسلم دانشور او رفقہاء اسی میں اُلجھ کر رہ جائیں گے، اور اگر ایک عرصہ کی محنت شاقہ او رجذبہ مفاہمت کے باوجود یہ کام ہوبھی گیا تو بہرحال یہ ایک انسانی محنت ہوگی کہ جس میں حالات کی تبدیلیوں سے مفاہمت کے اطوار بھی بدلتے رہیں گے۔ لہٰذا اس کی حیثیت دائمی نہ ہوگی۔ چنانچہ ہر دم تغیر کی ضرورتوں سے جہاں شریعت کا تقدس مجروح ہوگا، وہاں ہر لحظہ یہ شکوک و شبہات کا مظہر بھی بنے گی، اور یوں شریعت کے نفاذ کا مطالبہ اپنے ہی الجھاؤ میں محض نعرہ کی حد تک حدود رہے گا، پھر اسی بناء پر شریعت کو  بدنام کرنابھی آسان ہوگا کہ دور جدید میں نفاذ شریعت کے فوائد حتمی نہیں ہیں۔
مذکورہ تفصیل سے یہ بات کھل کر سامنے آجاتی ہے کہ شریعت کی دفعہ وار تدوین کا مسئلہ کھڑا کرنا درحقیقت نفاذ شریعت سے بچنے کی ایک کوشش ہے۔ تاہم مسلمان ایک عرصہ سے اس چیلنج کا مقابلہ بھی کرتے   چلے آرہے ہیں۔ چنانچہ مجلۃ الاحکام العدلیہ 1876ء کے بعد سے  لے کر اب تک مختلف اسلامی ملکوں میں اس سلسلہ کے متعدد مجموعے تیار کئے گئے  جن میں سے اکثر تو اپنے اپنے ملک کے لیے تھے، لیکن بعض اجتماعی کوششیں ایسی بھی ہوئیں کہ جن کا مطمع نظر پوری دنیائے اسلام کے لیے دستور العمل تیار کرنا تھا۔ اس سلسلہ میں ماضی قریب میں مصر میں اٹھارہ رکنی کمیٹی  کے تیار کردہ ایک دستوری خاکہ کی مثال دی جاسکتی ہے، جو کمیٹی کے ایک رُکن ڈاکٹر مصطفےٰ کمال وصفی کی اس موضوع پر اہم تالیف ’’مصنفہ النظم الاسلامیۃ‘‘ کے آخر میں مطبوع ہے۔
اسی طرح انفرادی طور پر بھی بعض مفکرین نے اس موضوع پر اپنی تجاویز تحریری شکل میں پیش کی ہیں جو کتابی شکل میں بھی طبع شدہ موجود ہیں۔ جبکہ خاص اپنے ملک کی حد تک جن لوگوں نے یہ کوششیں کی ہیں ان میں سے قابل ذکر درج ذیل ہیں:
$1·       جامعہ ازہر کی طرف سے مرتب قانون شریعت کے علاوہ ڈاکٹر مصطفےٰ سباعی کی ایک سکیم کے مطابق مصر میں فقہی انسائیکلو پیڈیا کی تدوین ہوئی۔
$1·       اُردن میں شریعت کے سول لاء کو 15 سال میں مدوّن کیا گیا۔
$1·       یمن میں مجلۃ الاحکام العدلیہ کی طرز پرایک مجموعہ قوانین شریعت تیار کیا گیا۔
$1·       متحدہ عرب امارت (ابوظہبی) میں اسی طرح کا ایک شرعی مجموعہ قوانین رئیس القضاۃ احمد بن عبدالعزیز آل مبارک کی زیر نگرانی تیار ہورہا ہے او رجس کی پندرہ ، سولہ جلدیں ہم نے چند سال قبل دیکھی تھیں۔
$1·       کویت کی وزارت اوقاف نے بھی ایک فقہی انسائیکلو پیڈیا شائع کرنا  شروع کیا ہے، جس کی متعدد جلدیں منظر عام پر آچکی ہیں۔
$1·       پاکستان کی مشاورتی کونسل (اسلامی نظریاتی کونسل) بھی ربع صدی سے یہی کام کررہی ہے۔
$1·       ترکی میں سقوط  خلافت کے دوران مصر کو ایسی کوششوں میں سبقت حاصل ہے۔ چنانچہ مصر نے 1914ء سے 1920ء تک ایک مجموعہ تیار کرلیا تھا۔اگرچہ منظر عام پر آنے کے بعد وہ اختلافات کا اس قدر شکار ہوا کہ اسے سردخانہ میں ڈال دیا گیا۔
ہماری نظر میں  یہ سب کوششیں قابل قدر ہیں، لیکن چونکہ مقصد ’’تشریع‘‘ یعنی شریعت سازی تھا، لہٰذا یہ اس معیار کی ہرگز نہیں کہ انہیں تغیر و تبدل سے محفوظ رکھ کر حتمی قانون کی حیثیت دی جاسکے۔ اس کی ایک ادنیٰ سی مثال آپ پاکستان کی موجودہ سیاسی حکومت کی پیش رو مارشل لاء حکومت سے لیجئے۔ جنرل ضیاء الحق نے مسلمانوں کے لیے نظام زکوٰۃ کا اعلان کیا تو شیعہ مخالفت پر تل گئے۔ اس پر جنرل صاحب کو مجبوراً یہ کہنا پڑا کہ ہمارا یہ اعلان کوئی حکم الٰہی تو نہ تھا، جو بدلا نہ جاسکے۔ چنانچہ اس آرڈی نینس میں تبدیلی کرکے شیعہ کو نظام زکوٰۃ سے مستثنیٰ قرار دے دیا۔ حالانکہ سوچنے کی بات ہے، اگریہ حکم الٰہی نہ تھا تو پھر کس اختیار کی بناء پر سنی مسلمانوں پر نظام زکوٰۃ نافذ کیا گیا؟ حتیٰ کہ وہ بے چارے حکومت کی طرف سے زکوٰۃ کی کٹوتی کے علاوہ بھی زکوٰۃ ادا کرنے پر مجبور ہیں۔
انتہائی سیدھی اور آسان سی بات یہ ہے کہ انسان شریعت سازی کا نہ تو مکّلف ہے اور نہ ہی یہ اس کے بس کا روگ ہے، بلکہ تشریع کا حق صرف اور صرف اللہ رب العزت کو ہے ۔ چنانچہ شریعت اس نے اپنے آخری رسول حضرت محمدﷺ کے ذریعے نازل فرمائی ہے۔ جو مرتب و مدوّن موجود ہے او رجس کی حفاظت ابدی کا ذمہ بھی اللہ تعالیٰ نے خود لیا ہے۔ چنانچہ یہ بغیر کسی تغیر و تبدل او رکمی بیشی کے تاقیامت نافذ ہے۔ باقی رہے قرآن و حدیث کے علاوہ فقہ اور قانون شریعت کے جدید مجموعے، تو وہ سب وحی سے ورے انسانی اجتہادات ہیں جو مختلف بھی ہوتے ہیں اور متعدد  بھی۔ اسی طرح بعض اجتہادات ، معاملہ کی نوعیت یا حالات کی تبدیلی سے بدل بھی جاتے ہیں۔ چنانچہ اُن کی حیثیت مستقل نہیں ہوسکتی۔پس فقہ و اجتہاد پر تشریع کا اطلاق، مداہنت ہے۔کیونکہ شریعت مکمل ہوچکی ہے اگر تشریع کا یہ اختیار خلفائے راشدینؓ تک کو بھی نہ تھا۔ ہم دیکھتے ہیں کہ مہر کے تعین کے بارے میں ایک عورت حضرت عمرؓ کو برسرعام ٹوکتی ہے اور آپؓ بُرا منانے کی بجائے اس کا شکریہ ادا کرتے ہیں۔ اس کی مزید  تفصیل ہم آئندہ تیسرے نکتے کے ذیل میں بیان کریں گے۔ ان شاء اللہ! یہاں صرف یہ بتانا مقصود ہے کہ قانون شریعت کے نام پر کوئی بھی اعلیٰ کوشش فقہ و اجتہاد کی نوع سے ہوتی ہے، جبکہ اجتہاد سے مراد حکم الٰہی کی تلاش ہے۔ لہٰذا وہ ایک اعتبار سے مجتہد کی اپنی ذات کےلیے ، یا ا س کے زیرسماعت قضیے کے فیصلے کی حیثیت سے فریقین کے لیے واجب التعمیل بھی ہوتا ہے، تاہم وہ شریعت نہیں ہوتا۔ شریعت صرف وحی الٰہی کا نام ہے، جبکہ  اجتہاد ، فہم وحی کی قسم ہے۔ فی نفسہ وحی نہیں۔ پھر تدوین تو صرف ایک فن ترتیب ہے، جسے خالص فنی اعتبار سے اجتہاد کہنا بھی غلط ہوگا۔
حاصل یہ ہے کہ اجتہاد، تدوین اور تقنین الگ الگ مفہوم رکھتے ہیں اور ان کو باہم خلط ملط کرنےسے موضوع زیر بحث  اختلافی  بن رہا ہے، ورنہ اصل مسئلہ صرف اس قدر ہے کہ وحی (شریعت) کے علاوہ کسی قدیم یا جدید اجتہاد کی تقلید ضروری ہے یا نہیں؟ اور علیٰ وجہ البصیرت ہمارا جواب نفی میں ہے۔ لہٰذا ائمہ سلف کی تقلید کی مخالفت کرنے والوں کو یہ زیبا نہیں کہ وہ جدید انفرادی یا اجتماعی اجتہاد کی تقلید کی دعوت دیں۔
2۔   دوسرا نکتہ، انفرادی اور اجتماعی تدوین کے تقابل او رپھر انفرادی اجتہاد سے پارلیمانی اجتہاد کے ارتقاء کا ہے۔ اس سلسلہ میں ہم یہ گزارش کریں گے کہ اگرچہ بعض پہلوؤں سے اجتماعی اجتہاد و جدید دور میں اہم تر نظر آتا ہے کہ اس کی بدولت قرآن و سنت کی بصیرت رکھنے والوں کے علاوہ معاشرتی علوم کے حامل اور جدید قانون کے ماہرین بھی اس میں شامل ہوسکتے ہیں۔ تاہم اندریں صورت، اس خطرہ کو نظر انداز نہیں کیا جاسکتا کہ روح اجتہاد اس سے بُری طرح مجروح بھی ہوسکتی ہے۔ کیونکہ  اجتہاد کا اصل مقصود ’’منشائے الٰہی کی تلاش‘‘ ہوتا ہے۔ جبکہ اجتماعی فیصلوں میں مفاہمت اور روا داری پر جس طرح زور دیا جاتا ہے، اس سے بسا اوقات ،منشائے الٰہی پر لحاظ و احترام کی اقدار اثر انداز ہوتی ہیں۔
اسی نکتہ کے ضمن میں دوسری بات یہ ملحوظ رہنی چاہیے کہ اجتماعی اجتہاد کی صرف وہ قسم حجت ہے جو ’’اجماع‘‘ کہلاتی ہے۔ اگرچہ اجماع کی تعریف سے لے کر اس کے انعقاد اور اس کی حجیت تک جملہ پہلو شدید اختلافی ہیں، تاہم یہ بات اجاع کی حجیت تسلیم کرنے والوں کے ہاں متفقہ ہے کہ اجماع صرف کل امت کا معتبر ہے کسی خاص علاقے کا نہیں۔ (واضح رہے کہ مالکیہ اگر اہل مدینہ کے اجماع کی حجیت کو تسلیم کرتے ہیں تو اس کی وجوہ بالکل دوسری ہیں) جبکہ ہمارے زیر بحث جو اجتہاد ہے وہ ایک خاص علاقے کی پارلیمنٹ کا ہے، جسے نہ اجماع امت مسلمہ کہا جاسکتا ہے او رنہ اس علاقے کے جملہ مجتہدین ہی اس میں جمع ہوتے ہیں۔ حالانکہ  تمام مجتہدین کی اجماع میں شرکت لازمی ہوتی ہے۔
اسی سے یہ بات بھی واضح ہوگئی کہ اجتماعی اجتہاد، جسے اجماع کہتے ہیں، کسی خاص ادارے کا فیصلہ یا رائے نہیں ہوتی ۔ جبکہ پارلیمنٹ ایک ادارہ ہے جس کا زیادہ سے زیادہ تعلق اس مسئلہ سے ہے کہ حکومت شخصی کی بجائے ادارہ کے ہاتھ میں ہونی چاہیے، پھر حکومت شخصی (خلافت) ہو یا صدارتی اور پارلیمانی جمہوریت، پہلی صورت میں یہ نیابت رسولؐ ہوتی ہے ، اور دوسری صورت (پارلیمانی یا صدارتی جمہوریت) میں بھی نمائندگی ، دعوے کی حد تک بھی ، اقتدار کی ہوتی ہے، منشاء کی نہیں۔ جیسا کہ اسمبلی کے بارے میں روسو کا مشہور قول ہے کہ:
“Power can be transmitted but not the will.”
یعنی ’’(نمائندگان جمہور  کو ایک محدود مدّت کے لیے ) اقتدار منتقل ہوتا ہے، منشاء و مرضی منتقل نہیں ہوتی۔‘‘
پس اس نکتہ کا بھی حاصل یہ ہے کہ انفرادی او راجتماعی اجتہاد اور شے ہے، اور حکومت کا شخصی و جمہوری ہونا اور شے۔ رہا یہ سوال کہ خلافت اور جمہوریت جمع ہوسکتی ہیں؟ یعنی فرد کی بجائے منتخب نمائندگان کی جماعت خلافت کے منصب پر فائز ہوسکتی ہے ؟ تو اس کا زیادہ تر تعلق طرز حکومت سے ہے جو ایک الگ موضوع ہے۔ تاہم شریعت و اجتہاد کے بارے میں خلافت کے اختیارات پر ہم اگلے نکتے میں گفتگو کرتے ہیں۔
3۔   اس موضوع پر فیصلہ کن نکتہ تیسرا ہے، کہ کیا اولی الامر کے احکامات کی پابندی کو تقلید کہا جاسکتا ہے؟
دراصل پارلیمنٹ کی طرف سے شریعت کی تعبیر یا شریعت کی قانون سازی، اور حکومت و عوام پر اس کی لازمی حیثیت ہی وہ بنیاد ہے کہ یہ اختیارات اگر خلیفہ یا امام کو حاصل ہیں تو جدید زمانہ میں پارلیمنٹ کو اس کے قائم مقام ہوکر یہی اختیارات مل سکتے ہیں۔ اس لیے پہلے ہم اس بات کی وضاحت کرتے ہیں کہ خلیفہ کی اطاعت او رفقہ و اجتہاد کا فرق کیا ہے؟ قرآن کریم میں اولی الامر کی اطاعت کے بارے میں یہ آیت معروف ہے:
﴿يـٰأَيُّهَا الَّذينَ ءامَنوا أَطيعُوا اللَّـهَ وَأَطيعُوا الرَّسولَ وَأُولِى الأَمرِ مِنكُم فَإِن تَنـٰزَعتُم فى شَىءٍ فَرُدّوهُ إِلَى اللَّـهِ وَالرَّسولِ إِن كُنتُم تُؤمِنونَ بِاللَّـهِ وَاليَومِ الـٔاخِرِ ذٰلِكَ خَيرٌ وَأَحسَنُ تَأويلًا﴿٥٩﴾...النساء
’’اے ایمان والو! اللہ کی اطاعت کرو، رسول اللہ ﷺ کی اطاعت کرو، اور اپنے میں سے صاحبان اختیار کی بھی۔ پھر اگر کسی معاملہ میں تمہارا باہمی نزاع ہوجائے تو اس معاملہ کو اللہ اور رسولؐ کی طرف لے جاؤ، اگر تم اللہ اور آخرت پر ایمان رکھتے ہو، یہ (بہت) اچھی (بات) او رانجام کے اعتبار سے بہت بہتر ہے۔‘‘
اس آیت میں اللہ  اور رسول اللہ ﷺ کی مستقل اطاعت کے علاوہ اولی الامر کے بارے میں دو باتوں کا ذکر ہوا ہے۔ ایک ان کی اطاعت ، اور دوسرے ان سے نزاع کے موقع پر فیصلہ کے لیے اللہ اور رسول اللہﷺ (یعنی کتاب و سنت) کی طرف رجوع۔ مقام غور ہے کہ اگر نزاع و اختلاف میں بھی اولی الامر کی اطاعت  فرض ہوتی، تو کتاب و سنت کی طرف رجوع کا کچھ معنی ہی باقی نہیں رہتا۔ یہی وجہ ہے کہ امت میں خلفاء کے ساتھ مجتہدین کے جتنے بھی اختلافات ہوئے ہیں ، ان میں خلفاء کو محض ان کے خلیفہ ہونے کی بناء پر کبھی بھی برحق قرار نہیں دیا گیا۔ بنوہاشم کے  بنوامیہ سے سیاسی اختلافات سے لے کر ائمہ اربعہ سمیت فقہائے سلف کے عباسی خلفاء سے متعدد اجتہادی مسائل میں اختلافات، تاریخ کا ایک اہم باب اور ائمہ کے اعلیٰ کردار کا حصہ ہیں۔ چنانچہ اگر خلیفہ کے اجتہاد کی بہرحال پابندی کا کوئی سوال موجود ہوتا تو یہ صاحب تقویٰ  بزرگ کبھی ا س سے دست کش نہ ہوتے۔ پھر ’’خلق قرآن‘‘ کا مسئلہ ہو یا ’’طلاق  مکرہ‘‘ کا، امام احمد بن حنبل او رامام مالک کو اذی تناک سزاؤں او رناقابل بیان تذلیل و تضحیک کا نشانہ بننے کی کیا ضرورت تھی؟ اسی  طرح امام ابوحنیفہ کو قاضی القضاۃ کے منصب کو قبول کرنے  سے انکار کرکے جیل جانے اور اسی راہ حق میں جاں نذر کرنے کی کیا ضرورت پڑی تھی؟ جبکہ خلیفہ کا اجتہاد تو شرعی حیثیت رکھتا ہے او رقاضی القضاۃ کو رضائے الٰہی کے ساتھ ساتھ خلیفہ کو راضی کرنے کا دوہرا فائدہ پہنچ سکتا تھا۔ لیکن امام صاحب نے یہ منصب قبول نہ کیا۔
دراصل اولی الامر کے اجتہاد کی پابندی کا یہ مغالطہ تعبیر شریعت او رانتظامی اختیارات کو خطل ملط کرکے پیدا کیا جاتا ہے۔ حالانکہ جہاں تک تعبیر شریعت کا مسئلہ ہے، یہ خالصتاً رسول کریم ﷺ کا منصب تھا، جو پورا ہوچکا اور  جہاں تک ان اجتہادی مسائل کا تعلق ہے جو شریعت (کتاب اللہ) اور اس کی ابدی، متعین تعبیر (سنت رسول اللہ ﷺ) کی تکمیل کے بعد فقہاء یا خلفاء کو پیش آئے یا آسکتے ہیں، تو ان کی دو نوعیتیں ہیں۔ ایک ان کی منصبی یا ذاتی اور دوسری انتظامی او رتدبیری۔ اوّلین حیثیت سے خلفاء کو جو مسائل پیش آتے ہیں، ان کا تعلق حکومت سے ہو یا رعایا سے، اگر خلیفہ خود عالم دین ہے تو اپنے اجتہاد سے، ورنہ کسی معتمد عالم دین کے اجتہاد سے شریعت کا علم حاصل کرکے انہیں انجام دیتا ہے جبکہ خلیفہ کی دوسری انتظامی اور تدبیری امور کی حیثیت وہ ہے کہ جس کے بارے میں قرآن کریم اطاعت اولی الامر کا (مشروط) حکم دیتا ہے۔ لیکن کبھی یہ ہر دو نوع کے امور باہم  یوں  خلط ملط ہوجاتے ہیں کہ ان کی بناء پر اطاعت امیر اور تقلید فقہی کے ایک ہونے کا گمان ہونے لگتا ہے،  جبکہ درحقیقت ایسا نہیں ہے۔
الغرض، خلیفہ اگر عالم دین نہ ہو تو علمائے مجتہدین کی تقلید کو واجب قرار دینے والوں کے نزدیک اسے مجتہدین کی تقلید کرنی ہوگی۔ جبکہ مخالفین کے نزدیک اسے اہل علم سے  مسئلہ سمجھ کر معاملہ کو حل کرنا ہوگا۔ ان دونوں صورتوں میں خلیفہ خود اتھارٹی قرار نہیں پاتا او رنہ ہی شرعی مسائل میں خلیفہ کو صرف اس کے  خلیفہ ہونے کی بناء پر کوئی اتھارٹی قرار دینے کا قائل ہے، بلکہ اسےبہر صورت شریعت کے بارے میں معلومات حاصل کرنا ہوں گی، خواہ وہ دوسروں سے سوال ہی کرے۔ قرآن کریم میں ہے:
﴿فَسـَٔلوا أَهلَ الذِّكرِ إِن كُنتُم لا تَعلَمونَ ﴿٧﴾...الأنبياء
کہ’’ اگر تمہیں خود علم نہ ہو تو اہل معرفت و حافظہ سے پوچھ لو۔‘‘
چنانچہ اس سلسلہ میں جیسے اہل علم سے پوچھنے کی بات ہے ، ویسے ہی اہل علم سے تبادلہ خیالات کرنے میں بھی کوئی حرج نہیں۔ کیونکہ ’’وفوق کل ذی علم علیم‘‘ (ہر علم والے سے اوپر کوئی دوسرا عالم ہے۔ یوسف :76) کی رُو سے علم کی بے شمار قسمیں اور جہتیں ہیں۔ لہٰذا مذاکرات علمیہ سے انشراح صدر حاصل ہوتا ہے۔ حضرت عمر بن خطاب اور دیگر خلفائے راشدین کا اپنے ساتھی علمائے صحابہؓ سے مسائل پر تبادلہ خیالات اسی نوعیت کا تھا، جسے آج کل من مانی تعبیر سے مجلس شوریٰ کا اجتہاد باور کرایا جاتا ہے۔ یہی وجہ  ہے کہ اس نظریہ کے حاملین کو حضرت ابوبکرؓ کی مانعین زکوٰۃ سے جنگ او رجنگ یمامہ میں حضرت اسامہ بن زیدؓ کی بحیثیت سالار لشکر روانگی ، ایسے فیصلوں کی تاویل کرنی پڑتی ہے کہ یہ نصوص شرعیہ کی تعمیل تھی۔ حالانکہ اصل بات انشراح صدر کی تھی۔ مسئلہ خواہ نص کا ہو یا اجتہاد کا ، اگر یہ طے شدہ شرعی امور ہوتے تو دیگر صحابہؓ کبھی بھی کوئی دوسرا اس کے خلاف مشورہ نہ دیتے۔ کیونکہ تعمیل شریعت کا جذبہ ان میں بھی کوٹ کوٹ کر بھرا ہوا تھا۔ ہاں جب خلیفہ نے ان مسائل میں اپنا اطمینان ایک عزم صمیم کی صورت میں ظاہر کردیا تو یہ صحابہؓ نہ صرف خاموش ہوگئے بلکہ اس کے فیصلہ میں اس سے بھرپور تعاون بھی کیا۔
چنانچہ یہاں معاملہ ایک دوسری نوعیت یہ بھی سامنے آتی ہے کہ خلیفہ کسی شرعی حکم کے بارے میں شرح صدر کے ساتھ جب کوئی معاملہ کرلیتا ہے تو امت کو اس کی اطاعت کرنی پڑتی  ہے،کہ اس کی حیثیت شریعت پر عملدرآمد کرنے کرانے کی ہے۔ تاہم اگر مسئلہ میں اجتہادی اختلاف سامنے آجائے تو خلیفہ کی ہر دو حیثیتیں الگ الگ واضح ہوجاتی ہیں۔ جس کی مثال حضرت عثمان بن عفانؓ او رحضرت ابوذرغفاریؓ کے اختلاف سے دی جاسکتی ہے کہ جمع مال کے مسئلہ میں حضرت ابوذرؓ کو حضرت عثمانؓ نے تقلید پر تو مجبور نہ کیا، لہٰذا حکم شریعت وہی باقی رکھا جس کو  وہ خود برحق سمجھتے تھے۔ لیکن انتشار فکری کے خوف سے انہیں مقام زبذہ میں بھیج دیا۔ تاہم انہیں اُن کی واضح غلط کے باوجود  رائے بدلنےپر مجبور نہیں کیا۔ واضح رہے کہ حضرت ابوذرغفاریؓ مال جمع کرنے والوں کو بہر صورت ’’کنز‘‘ کی وعید کا مستحق قرار دیتے تھے، خواہ اس مال کی زکوٰۃ بھی دی جاچکی ہو۔ حالانکہ اس صورت میں  زکوٰۃ اور وراثت کے کوئی معنی ہی باقی نہیں رہتے۔
دراصل خلیفہ انتظامی معاملات کو انجام دیتے ہوئے جب شرعی اصولوں اور ہدایات کو عمل میں لاتا ہے تو اس اعتبار سے اس کی شرعی حیثیت خود شرع پر عمل درآمد کی ہوتی ہے۔ جس میں وہ اپنے منصبی فرائض بھی انجام دیتا ہے، لیکن رعایا کی حیثیت اس میں صرف اطاعت امیر کی ہوتی ہے۔ چونکہ بالفعل رعایا اس اجتہاد پر عمل کرتی نظر آتی ہے، لہٰذا اس کے اجتہاد کی لازمی حیثیت تقلید معلوم ہوتی ہے۔ حالانکہ خلیفہ اپنے اجتہاد پر عمل کرانے کے باوجود کسی عالم کو اپنے اجتہاد کے درست تسلیم کرنے پر مجبور نہیں کرسکتا۔ لہٰذا علماء سمیت رعایا کی بالفعل اطاعت، لیکن ذہناً علمائے دین کا اپنے اجتہاد پر قائم رہنا، دو الگ الگ امر ہیں۔ جن کا لحاظ رکھنے سے اطاعت امیر اور تقلید فقہی کا فرق واضح ہوگا۔
مناسب معلوم ہوتا ہے کہ یہاں ہم ان مغالطوں کی طرف بھی اشارہ کردیں، جو جدید دانشوروں کو حضرت عمرؓ کے بعض اجتہادات کے سلسلے میں ہوئے ہیں او رجنہیں اولیات عمرؓ کے نام پر خلیفہ کی طرف سے شریعت کی تبدیلی کا اختیار قرار دیا جاتا ہے۔ تفصیلی مثالوں او ران کی توضیح کا یہ موقع نہیں، مختصر یہ کہ ان میں سے بیشتر انتظامی اختیارات سے متعلق ہیں، جن کی تدبیر میں مصالح شرعیہ کا لحاظ رکھا گیا ہے اور بعض تقلیدی مذاہب میں جنہیں مصالح مرسلہ [1] کے اصول سے پیش کیا جاتاہے۔ حالانکہ انہیں اگر شریعت کے عمومی مصالح کے تحت تدابیر کا نام دیا جائے تو اس اختلاف سے بچا جاسکتا ہے جو تقلیدی مذاہب کو اکٹھا کرنے میں حائل ہے۔
بہرحال اس بحث سے حاصل یہ ہے کہ خلافت شخصی ہو یا پارلیمنٹ کو خلافت کے  قائم مقام ٹھہرایا جائے۔ اس کا تعلق صرف تدبیر و اتنظام سے ہے اور قواعد و ضوابط کا اختیار بھی خلیفہ یا پارلیمنٹ کو اسی حد تک ہے۔ لیکن شریعت کے اندر اگر مداخلت ہو، تو خواہ یہ تدوین کے نام سے ہو یا اجتہاد کی پابندی کے نام پر، یہ اصرو تقلید گوارا نہیں کی جاسکتی۔ پچھلی امتوں کی گمراہی کا باعث بھی یہی  تھا اور افسوس یہ امت بھی اسی راستہ پر جاری ہے۔ گزشتہ سطور  میں تدوین بائیبل کی مثال سے اس کی تفصیل گزر چکی ہے۔ اللهم انضعنا بما علمتنا و علمنا ما ینفعنا و زدنا علما۔
بقیہ دو نکات پر گفتگو آئندہ ہوگی۔ ان شاء اللہ                                                                                                         (مدیر)
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔::::۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

[1] ۔ چونکہ اللہ تعالیٰ نے شریعت کے ساتھ فرد و معاشرہ کے دنیاوی مصالح او راخروی فلاح کا مکمل اہتمام فرما دیا ہے، لہٰذا ایسی مصلحتیں، جن کا خصوصی طو رپر شریعت میں صریح ذکر نہیں ملتا کہ وہ معتبر ہیں یا لغو، انہیں بعض فقہاء نے مصالح مرسلہ (شریعت کی چھوڑی ہوئی مصلحتوں) کے نام سے اختیار کرنے کی اجازت دی ہے۔ جبکہ دوسرے فقہاء شریعت کے کمال کے نقطہ نظر سے انہیں شریعت کی بنیادی روح اور عمومی مصلحتوں کے تابع شریعت ہی کا حصہ قرار دیتے ہیں او رحضرت عمرؓ یا دیگر خلفائے راشدینؓ کے ایسے اقدامات کے لیے شرعی دلائل مہیا کرتے ہیں یا انہیں تدبیر و اجتہاد کی قبیل سے سمجھتے ہیں، جسکی اجازت شرعی اصول و ضوابط کے تحت کتاب و سنت میں موجود ہے۔