ڈاونلوڈ

آن لائن مطالعہ

آن لائن مطالعہ
  • ستمبر
1987
ادارہ
فکر و نظر                                                                                                                                            (گزشتہ سے پیوستہ)
بسم اللّٰہ الرحمٰن الرحیم
پارلیمنٹ او رتعبیرِ شریعت
(بسلسہ اقبال اور اجتہاد)
علامہ اقبال کے حوالے سے ’’پارلیمنٹ اور اجتہاد‘‘ کے موضوع پر جو مختلف نقطہ ہائے نظر پیش کئے جارہے ہےیں، ان پر محض دماغ سوزی سے کچھ حاصل نہ ہوگا۔ کیونکہ بات تو وہی  قابل قبول ہوگی جس کے پیچھے قوی دلائل موجود ہوں گے۔ چنانچہ سابقہ گزارشات میں اس سلسلہ کی تمام تر تفصیلات سمیت ہم اس نتیجہ پر پہنچے تھے کہ اگر ائمہ سلف (رحمہم اللہ تعالیٰ) کی تقلید بُری شے ہے، تو یہی شے علامہ اقبال کا نام آجانے سے قابل تعریف کیونکر ہوجائے گی؟ کیا خود علامہ اقبال، جوتقلید کے بجائےاجتہاد پر زور دیتے رہے، اپنی تقلید پر راضی ہوسکتے تھے؟
بہر صورت پارلیمانی اجتہاد کے موضوع پر مذکورہ نظریات (جن کی تفصیل شمارہ اگست کے فکرونظر کی ابتدائی سطور میں دیکھی جاسکتی ہے) کی صحیح تنقیح بہت ضروری ہے۔ لہٰذا امر زیر بحث میں درج ذیل نکات کو پیش نظر رکھنا مفید رہے گا۔ ان شاء اللہ!
  • ستمبر
1987
غازی عزیر
’’کیا جنت میں رسول اللہ ﷺ کا نکاح حضرت مریم﷤ سے ہوگا؟‘‘
 کچھ عرصہ قبل ایک مخلص دوست ( محترم جناب سید احمد قادری صاحب) نے بنگلو ر(بھارت) سے شائع ہونے والے اُردو ہفت روزہ ’’عروج ہند‘‘ ج3 شمارہ 1 مجریہ 4 جنوری 1987ء کے صفحہ نمبر 11 کی عکسی نقول راقم کو دی تھی۔ اس صفحہ پر ’’مذہبی سوالات‘‘ کے عنوان سے سوال و جواب کا ایک مسقل کالم ہوتا ہے ، جس میں مسجد بنگلور کے امام و خطیب جناب شعیب اللہ خان صاحب مختلف دینی سوالات کے جوابات تحریر فرماتے ہیں۔ محولہ بالا شمارہ میں کسی شخص نے جناب شعیب اللہ خان صاحب کو اُن کی غلطی کی طرف نہایت مخلصفانہ طور پرمتوجہ کرتے ہوئے اُن کے اس قول کی دلیل کامطالبہ کیا تھا کہ : ’’جنت میں رسول اللہ ﷺ کا نکاح حضرت مریم﷤ سے ہوگا۔
  • ستمبر
1987
اسرار احمد سہاروی
ان کا دامن پھول چُن چُن کر سجاتی رہ گئی

زندگی کی ہر ادا دل کو لبھاتی رہ گئی

ان کی آمد باعث تزئین صد گلشن ہوئی

ہر کلی فرط حیا سے منہ چھپاتی رہ گئی

اک جھلک دیکھی تھی حسن جانفرا کی دُور سے

چشم نرگس فرط حیرت سے لجاتی رہ گئی
  • ستمبر
1987
شیخ عبداللہ الحضری
1۔ مسلمان بھائی کے لیے دُعاء کرنا او راپنے لیے نہ کرنا:
یہ شرعاً جائز اور آنحضرتﷺ سے ثابت ہے۔ حضرت ابوموسیٰ ؓ فرماتے ہیں، نبی اکرمﷺ نے دعاء کی تھی:
’’اللٰھم اغفرلعبید ابی عامر اللٰھم اغفر لعبد اللہ بن قیس ذنبه‘‘ (صحیح بخاری :11؍35)
’’یا اللہ! ابوعامر عبید کی مغفرت فرما! یا اللہ، عبداللہ بن قیس کی خطائیں بخش دے۔‘‘ 
اسی طرح آپؐ کا حضرت انس ؓ کے حق میں دعاء کرنابھی آیا ہے:
’’عن انس رضی اللہ عنه قال : قالت اُم سلیم للنبی صلی اللہ علیه وآله وسلم انس خادمک، قال: اللٰھم اکثر ماله وولده و بارک له فیما اعطیته‘‘(صحیح بخاری :11؍136)
’’حضرت انس ؓ کہتے ہیں، اُم سلیم ؓ نے آنحضرتﷺ سے درخواست کی ،  ’’اللہ کے رسولؐ، انس ؓ آپ کا خادم ہے۔‘‘ تو آپؐ نے دعاء فرمائی: ’’یا اللہ ، اس کے مال اور اولاد کو زیادہ کر اور اسے دی ہوئی  نعمتوں  میں برکت عطا فرما۔‘‘
  • ستمبر
1987
پروفیسر محمد دین قاسمی
قربانی کا ثبوت سورہ کوثر کی دوسری آیت سے بھی ملتا ہے ۔ پرویز صاحب اس کی تردید میں فرماتے ہیں :
’’مروجہ قربانی کی تائید میں سورۃ الکوثر کی آیت............ فصل لربک وانحر۔ بھی پیش کی جاتی ہے ۔ اس کا ترجمہ کیا جاتا ہے ۔’’نماز پڑھ اپنے رب کے آگے اور قربانی کر‘‘........... ’’قربانی کر‘‘ ترجمہ کیا جاتا ہے وانحر کا۔‘‘
لغت کی رُو سے نحر سینے کے اوپر کے حصے کوکہا جاتا ہے ۔ صاحب تاج العروس نے مختلف تفاسیر کی سند سے وانحر کو کہا کے متعدد معانی لکھے ہیں۔ مثلاً (1 نماز میں کھڑے ہوکر سینے کو باہر کی طرف  نکالنا (2) نماز میں دایاں ہاتھ بائیں ہاتھ پر رکھنا (3) نماز میں سینے پر ہاتھ باندھنا (4) نماز میں نحر تک ہاتھ اٹھانا  (5) اپنے سینے کو قبلہ رُخ کرکے کھڑے ہونا (6) خواہشات کا قلع قمع کرنا۔
  • ستمبر
1987
طیب شاہین لودھی
مسئلہ تقلید و اجتہاد اسی زمانے سے معرکۃ الآراء موضوع بنا ہوا ہے، جب سے  اُمت مسلمہ نے بقول مقلدین’’تقلید و جمود‘‘ پر اجماع کرلیا ہے۔ کہنے کو تو یہ حضرات کہہ دیتے ہیں کہ ائمہ اربعہ کے عہد کے اختتام پر تمام اُمت نے ان ائمہ  کی تقلید پر اتفاق کرلیاتھا، مگر تاریخ کے اوراق ان کے اس دعوے کی تائید نہیں کرتے۔ چوتھی صدی ہجری کے اوائل سے لے کر آج تک ہر زمانے میں مقلدین کے علاوہ اہل علم کی ایک معتدبہ جماعت موجود رہی ہے۔ جس نے اپنے اپنے زمان و مکان کے بدلتے ہوئے حالات میں اجتہاد کا فریضہ سرانجام دیا ہے او رآج اجتہاد ایک مسلمہ حقیقت ہے۔ آپ تاریخ فقہ پڑھ کر دیکھئے، جن حضرات نے  اپنے آپ کو تقلید جامد کے حصار میں محصور کرکے اجتہاد کا دروازہ بند کرلیا، وہ اپنے زمانے کی حدود سے باہر نہیں نکل سکے۔ اس کی بے شمار مثالیں دی جاسکتی ہیں۔ اس کے برعکس ابن عبدالبر،  ابن حزم، ابن عبدالسلام، ابن تیمیہ، ابن قیم، محمد بن اسماعیل صنعانی، شاہ ولی اللہ، شوکانی، نذیر حسین دہلوی، و دیگر مجتہدین نے مسئلہ اجتہاد کو منقح کرکے تقلید جامد کی مذمت کی ہے ، کہ ایک متعصب مقلد ہی تقلید جامد کے ساتھ چمٹا رہ سکتا ہے۔