تعارف وتبصرہ:۔

نام کتاب: "مترادفات القرآن مع فروق الغویہ"

نام مولف: مولانا عبدالرحمان کیلانی

صفحات کتاب: ایک ہزارآٹھ(1008)

قیمت: دوسو پچاس روپے(250 روپے)

شائع کردہ: مکتبہ السلام۔وسن پورہ ،لاہور

یہ کتاب قرآن کے مترادفات سے تعلق رکھتی ہے جن کاتعلق قرآن مجیدکی فصاحت و بلاغت سے ہے۔اسی طرح قرآن مجیدکے انتہائی جامع الفاظ،اس کی کامل ترتیب اوربے بدل فصاحت وبلاغت۔۔۔اس کے اعجاز کا وہ پہلو ہے۔جس کے سامنے عرب وعجم کے تمام ادیب(نزول قرآن سے لے کر اب تک) بالکل عاجز وبے بس رہے ہیں۔

قرآن مجید کی فصاحت کےبے شمار پہلو ہیں جن میں سے ایک یہ ہے کہ اللہ جل شانہ نے اس کے ایک ایک لفظ کوایسی جگہ پر وضع فرمایا جو اس کے لیے موزوں ترین ہے۔

یہی وجہ ہے کہ کوئی بڑے سے بڑا ادیب اور ماہر لغت بھی اپنے کلام کوترتیب دیتا ہے۔ تو کئی مرتبہ غوروخوض کرکے اس کے الفاظ میں ردوبدل کرتا ہے ۔جب کہ قرآن مجید کا یہ عالم ہے کہ اس کے کسی ایک لفظ کو اگر اسکی اصل جگہ سے ہٹا لیا جائے اور اس سے بہتر لفظ لانے کے لیے پورے عربی ادب کو بھی کھنگال ڈالا جائے تو اس کی جگہ کسی اور مناسب لفظ کے مل جانے کی امید رکھنا عبث ہے۔

"بلاغت" کی ایک جامع تعریف پر گواہل لغہ کا(بقول امام زرکشی) اتفاق نہیں ہے لیکن اسکے جتنے بھی ممکنہ ارکان ہو سکتے ہیں وہ سب کے سب قرآن مجید میں بطریق اتم واحسن موجود ہیں۔قرآن مجید میں مختلف چیزیں(مثلاً توحید ورسالت،تحلیل وتحریم،وعظ ونصیحت ،وعدووعید،اوامر نواہی،سیرت واخلاق،قصص اورغیب کی خبریں وغیرہ) انتہائی احسن اسلوب اور نظم ونسق کے ساتھ یوں سمو دی گئی ہیں۔کہ جہاں کہیں سے بھی تلاوت کی جائے،حلاوت ہی ہوتی ہے اور قرآن کی اثر انگیزی میں کسی کمی کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔متفاوت چیزوں کو اتنے عمدہ اسلوب کے ساتھ یکجا کردینا ہی در اصل بلاغت کی بنیادی خصوصیت ہے۔۔۔

اور وہ شے جس میں" بلاغت" کی تمام صفات جمع ہوسکتی ہوں۔یہ ہے کہ تقریباً ایک ہی معنی پر دلالت کرنے والے مختلف الفاظ میں سے ہر ایک کو اس کے خاص اور موزوں ترین مقام پر اس طرح لانا کہ اگر اس کی جگہ پر اس کا کوئی اور ہم معنی لفظ لایا جائے تو یا تو معنی بگڑ جائے یا کلام کی وہ خوشنمائی باقی نہ رہے،جس پر"بلاغت" کا انحصار ہوتا ہے۔۔۔اسی طرح کلام عرب میں بعض مترادف الفاظ اکثر لوگوں کے زعم میں قریب المعنی ہوتے ہیں،جیسے علم ومعرفت ،نعت وصفت ،بلی ونعم اور من وعن وغیرہ لیکن اہل لغہ کے نزدیک معاملہ اسکے برعکس ہے کیونکہ مترادف الفاظ میں سے ہر ایک میں ایسی کوئی نہ کوئی خصوصیت لازما پائی جاتی ہے جو اس کے دوسرے مترادف لفظ میں نہیں پائی جاتی۔

قرآن مجیدمیں ایسے کتنے اور کونسے مترادف الفاظ ہیں جو بظاہر قریب المعنی لیکن اپنی اپنی مقررہ جگہ پر وہ الگ الگ خاصیت کے حامل ہیں؟

اردوزبان کے کسی بھی عنوان کے تحت قرآن مجید میں کتنے اور کونسے الفاظ کہاں کہاں آئے ہیں؟ اور ہر جگہ پر ان الفاظ میں سے ہر ایک کی حسب موقع کیا مناسبت ہے؟اور ان سب میں ذیلی فروق کیا ہیں؟مزید برآں زبان کاکوئی مادہ قرآن مجید میں کہاں اور کیسے استعمال ہوا ہے؟اور اسی طرح کے دیگر کئی سوالوں کے جوابات ہی در اصل زیر تبصرہ کتاب کے موضوعات ہیں۔

مولانا عبدالرحمان کیلانی رحمۃ اللہ علیہ کی شخصیت محتاج تعارف نہیں۔ان کی دسیوں علمی تحقیق اور گرانقدر کتب ہی ان کا مکمل تعارف ہیں۔موصوف جس پر موضوع پر بھی قلم اٹھاتے ہیں اس کاحق ادا کر دیتے ہیں۔زیر تبصرہ کتاب بھی ان کی قرآن مجید سے گہری وابستگی ،الفاظ ومعانی اور علوم ومعارف قرآنی کے بارے میں ان کے نہایت عمیق مطالعے کامنہ بولتا ثبوت ہے۔

اس کتاب کی اہمیت اور عالمی مرتبت ہونے کی اس سے بڑی دلیل کیا ہوگی کہ اس کا اولین مقصد کتاب اللہ کی تفہیم ہے۔ اور یہ بلاواسطہ الفاظ قرآن پر بحث کرتی ہے اگر اس موضوع کاجائزہ لیا جائے جو اس کتاب کاعنوان ہے تویہ حقیقت آشکارا ہوتی ہے کہ قرآنی علمی ذخائر میں سے تاحال جو کتابی صورت میں موجود ہیں کوئی بھی ایسی کتاب(حتیٰ کہ عربی زبان میں بھی)اس طرز پر دستیاب نہیں جو اس طور الفاظ قرآنی کی وضاحت کردے۔لہذا مصنف کی اس سلسلے میں کاوش قابل صد تعریف ہے کہ اتنے دقیق ترین موضوع پر قلم اٹھا کر جہاں قرآن مجید کے اس پہلو کو بھی تشنہ تکمیل نہیں رہنے دیا وہاں بالکل ایک جدید طرز پر اپنی تحقیق پیش کی ہے۔ اوران سب خصوصیات پر یہ بات حاوی کہ موضوع میں اتنی دقت وجدت کےباوصف انداز بیاں اس قدر سادہ اور دل نشین ہے کہ معمولی سمجھ بوجھ رکھنے والا شخص بھی اس سے بجا طور پر استفادہ کرسکتا ہے۔

جیسا کہ کتاب کے عنوان سے ہی ظاہر ہورہا ہے کہ اس کتاب کا اصل موضوع بقول مصنف "اردو الفاظ کے تحت قرآن میں مستعمل تمام مترادف الفاظ کا ذیلی فرق پیش کرنا " ہے۔عنوانات اردو زبان کے حروف تہجی کے لحاظ سے ترتیب دیئے گئے ہیں مصنف کاطریقہ کار یہ ہے کہ کسی اردو لفظ مثلاً "سامان" کاعنوان قائم کرنے کے بعد اس کے لئے جتنے الفاظ قرآن مجید میں وارد ہوئے ہیں انہیں پہلے اجمالاً بیان کرتے ہیں جیسے:

(عرض.متاع.اثاث.رحل.ومما.جهاز.زاد.اسلحه.عدة.نعمه.ريش بضاعه.ماعون.حزر.اورمعايش)

پھر ان میں سے ہر ایک کا قرآن مجید میں جو محل ومقام ہے۔اسے ذکر کرتے ہیں اور اس کااس مقام سے مناسبت رکھنےوالا معنی واضح کرتے ہیں پھر آخر میں لب لباب یا خلاصے میں تمام الفاظ کے درمیان ذیلی فروق بیان کرتے ہیں۔

اس کتاب کے فائدے کا عملی طور پرجائزہ لینے کے لئے ر اقم الحروف نے "سورہ:ن والقلم" کاانتخاب کیا چنانچہ قرآن مجید کے الفاظ لَيَصْرِمُنَّهَا مُصْبِحِينَپر خواہش ہوئی کہ اردو کے عنوان "کاٹنا"کے لیے جو بھی مترادف الفاظ قرآن مجید میں وارد ہوئے ہیں،انہیں معلوم کیا جائے۔چنانچہ معلوم ہوا کہ اس عنوان کے تحت قرآن مجید میں دس الفاظ آئے ہیں۔

(حصد.صرم.قطع.تطع.بتر.بتك.عض.خصد.جز اور عقر) مصنف ان الفاظ کے قرآن مجید میں جو مقامات ہیں ،درج کرنے کے بعد"ماحصل" میں لکھتے ہیں:

1۔" حصد ":پکی ہوئی کھیتی اور درانتی سے کاٹنا

2۔" صرم " تیز دھار آلہ سے پھلوں کے گچھے کاٹنا۔

3۔" قطع " کسی بھی چیز کوکاٹ کرجدا کرنا۔

4۔" تطع ":کاٹ کر ٹکڑےٹکڑے کردینا۔

5۔"بتر" جانور کی دم کاٹنا مقطوع النسل ہونا۔

6۔ "بتك " کان وغیرہ کاٹنا یاچیرنا،

7۔" عض " دانتوں سے کاٹنا۔

8۔" خصد " درخت کے کانٹے کاٹنا اور صاف کرنا۔

9۔" جز " کسی سخت چیز کوکاٹ کر ٹکڑے ٹکڑے کردینا۔

10۔" عقر " کاٹ کر کاری زخم لگانا۔

پھر میں نے فرمان الٰہی"حرد قادرین" کے بارے میں جاننا چاہا کہ"حرد" کا معنی کیا ہیں؟

چنانچہ اس کتاب میں"حرد" کا مادہ نکال کر اردو عنوان"غصہ" معلوم کیا،جس کے تحت میری معلومات میں اضافہ ہوا کہ اس کے لیے قرآن مجید میں چار الفاظ"سخط"غیظ"غضب"حرد" استعمال ہوئے ہیں۔

گویا اس کتاب سے دو فوائد حاصل ہوتے ہیں:ایک تو یہ کہ اگرآپ کو اردو عنوان کے تحت قرآن مجید میں کئی مستعمل مترادف الفاظ مطلوب ہیں تو بڑی آسانی سے آپ اپنے مطلوب تک پہنچ سکتے ہیں۔دوسرا یہ ہے کہ اگر آپ کو قرآن کے کسی لفظ کے معنی معلوم نہ ہوں تو آپ اس کے معنی معلوم کرکے پھر اس کے لیے وارد ہونے والے قرآن مجید کے مترادف الفاظ بھی جان سکتے ہیں۔

کتاب کے آخر میں مصنف نے پانچ اہم ضمیموں کا اضافہ کرکے کتاب کی افادیت کو چار چاند لگا دیے ہیں۔وہ پانچ ضمیمے اس طرح ہیں:

1۔اسماء معرفہ:اس میں چودہ عنوانات کے تحت اسماء معرفہ کو تفصیلاً ذکر کردیا گیا ہے۔

2۔اسماءنکرہ:اس میں سات عنوانات قائم کرکے انتہائی قیمتی معلومات فراہم کی گئی ہیں۔

3۔ذوالاضداد

4۔افعال کے عین کلمہ کی حرکت یا مصدر میں فرق سے معانی میں تبدیلی۔

5۔متفرقات :اس ضمیمے میں جامع اسماء،غلط،العام،مشتبہ الفاظ،چند محاورات اور چند مشکل مادوں پر بحث کی گئی ہے۔

بہرحال یہ کتاب اپنے موضوع پر اردو زبان میں پہلی اور نہایت جامع مانع کتاب ہے۔

یہ کتاب لغوی اعتبار سے قرآن مجید کے بارےمیں ایک مکمل انسائیکلو پیڈیا ہے۔مصنف محترم کی ہربات مدلل ہونے کے ساتھ ساتھ باحوالہ بھی ہے۔الفاظ کے مابین جملہ فروق کے ضمن میں ہر فرق کے ساتھ حوالہ بھی دیا گیا ہے۔انہی خصوصیات کی وجہ سے اس تصنیف کا ہر گھر،ہرلائبریری ،ہر مدرسے اورہر تحقیقی مرکزمیں ہونا لازمی ہے۔اللہ جل شانہ مصنف کی اس خدمت جلیلہ کوقبول فرمائے اوراسے ان کے لیےآخرت میں باعث نجاب اور بلندی درجات بنائے،آمین ثم آمین۔(حافظ۔محمد اسحاق زاہد)

مجلہ: "الاضواء"(عربی وانگریزی)

عدد:دوسرا(رمضان 1413ھ ،مارچ 1993ء)

رئیسۃ التحریر:ڈاکٹر جمیلہ شوکت(چیئرپرسن شعبہ علوم اسلامیہ پنجاب۔یوینورسٹی روڈ لاہور ومدیرہ مرکز الشیخ زاید السلامی)

مدیرالتحریر: الاستادابو الوفامحمود

ضخامت: 120صفحات(60عربی۔۔۔60انگریزی)

ناشر:مرکز الشیخ زاید الاسلامی ،پنجاب یونیورسٹی لاہور۔

زیر تبصرہ مجلہ"الاضواء" مرکز الشیخ زاید الاسلامی کادوسرا شمارہ ہے یہ مجلہ بڑی علمی تحقیقی اور ادبی کاوش ہے۔رئیسۃ التحریر نے اپنی زندگی کوعلم کے لئے وقف کیا ہواہے ۔یہ خوبی بہت کم لوگوں میں پائی جاتی ہے۔یونیورسٹیوں کے قیام کامقصد محض تدریس نہیں ہوتا بلکہ یونیورسٹی کے اساتذہ کا کام تحقیق بھی ہے۔اپنے موضوع سے متعلق مکمل معلومات رکھنے کے ساتھ ساتھ کچھ لکھنا بھی ضروری ہوتاہے۔ اگرچہ اس کا صلہ عام طور پر اس وجہ سے نہیں ملتا کہ یونیورسٹیوں میں بھی بعض نا اہل لوگ براجمان ہیں جن کاعلم سے کوئی تعلق نہیں ہے۔اور وہ ذاتی مفاد کو حاصل کرنے کے لیے ہر چیز کو داود پر لگادیتے ہیں۔لیکن اس کے باوجود اہل علم لوگ جو کام کرتے ہیں،کبھی ضائع نہیں جاتا۔اس لیے علمی کام کرنے والوں کو کام کرتے رہنا چاہیے۔یہی اہل علم کاطریقہ ہے۔مجلہ کو دیکھ کراہل تحقیق کی قدر دل میں جاگزیں ہوتی ہے۔

زیر نظر مجلہ ظاہری طور پر بھی دیدہ زیب۔۔۔چار عربی کے مقالات ہیں۔اور پانچواں "مرکز الشیخ زاید" کاتعارف ہے۔جب کہ انگریزی حصہ میں بھی پانچ مقالات ہیں۔مقالات کو تحقیقی لحاظ سے لکھا گیا ہے۔ہر بات باحوالہ کی گئی ہے۔اور کتابوں کے سن اشاعت کا بھی ذکر کیا گیا ہے۔مجلہ میں تین اشتہارات سے کچھ اچھا تاثر نہیں ملتا۔کسی تحقیقی مجلہ میں اس قسم کے اشتہارات دیکھ کر کوفت سی ہوتی ہے۔

مجلہ کے مضامین کے عنوانات اور مقالہ نگار درج ذیل ہیں۔

1۔الرسول صلی اللہ علیہ وسلم والشعر(از ڈاکٹر حمیداللہ عبدالقادر)

2۔العشر وجمعہ فی قانون الزکواۃ الباکستانی(از محمد اعجاز)

3۔دلیل المعاجم الغویہ(از ابو الوفا محمود)

4۔المضاربہ فی الاسلام بین النظریہ والتطیق(از محمد طاہر منصوری)

5۔لمحات عن مراکز الشیخ زاید الاسلامی بجامعہ پنجاب۔

مندرجہ بالا پانچوں حضرات میں سے محمد طاہر صاحب منصوری کا تعلق"جامعہ پنجاب"اور"مرکز شیخ زاید" سے نہیں ہے۔بلکہ وہ پشاور میں یونیورسٹی آف ٹیکنالوجی میں پڑھاتے ہیں۔ان کا تعارف لکھنے میں سہو ہوگیا۔

6.Atraf al . Hadith:(Dr.Jamila Shaukat)

7.Islam in central Asia: ( Muhammad Ashraf)

8. The U prising in Plaestine:(Muhammad Ayub)

9. Artificial Intelligence and its imphcations for education. By(Dr.Abdul Hameedk)

10.The life and scholarship of "An.Nawami" by (Dr.Khalid Alavi)

انگریزی حصہ کی مدیرہ بھی ڈاکٹر جمیلہ شوکت صاحبہ ہیں،جب کہ مدیرمحمد اشرف صاحب ہیں۔مجلہ کے افتتاحیہ میں نوجوان نسل کی اصلاح کرنے کا عزم کااظہار کیاگیا ہے۔اور اچھی صحافت کی بھی ترغیب ہے۔

مجلہ کے تمام مقالات کا سرسری جائزہ لیا گیا ہے۔نہایت محنت اورعرق ریزی سے لکھے گئے ہیں۔

میں مرکز الشیخ زاید الاسلامی کو اس علمی کاوش پر مبارک باد کا مستحق سمجھتا ہوں۔بلکہ دیگر جامعات کے اساتذہ سے توقع رکھتاہوں کہ وہ اس علمی مجلہ میں اپنے رشحات قلم بھیجیں اور اپنے جامعات میں بھی اس قسم کے مجلات کا اجراء کرائیں۔(ڈاکٹر عبدالروف ظفر)