Pages from Muhaddas-196-Aug-1993

میرے پسندیدہ۔۔

اس صفحہ کو پسند کرنے کے لیے لاگ ان کریں۔

آبائی وطن "کمیر پور"ضلع امرتسر ہے۔1304ھ میں پیدا ہوئے اور 1384ھ مطابق 1964ء وفات پائی۔کل عمر 80 سال حیات رہے۔راقم الحروف ان سطور میں صرف ان کی علمی زندگی اور دینی خدمات کے متعلق کچھ عرض کرنا چاہتا ہے۔

تعلیم کا آغاز:۔

حافظ صاحب کے والد ماجد میاں روشن دین اکثر علماء کی صحبت میں بیٹھے اور علم دین کے شوق میں قریہ"لکھو کے"(ضلع فیروز پور مشرقی پنجاب ہند) حافظ محمد صاحب لکھوی کے پاس پہنچ گئے۔اور چاہتے تھے کہ اولاد بھی علم دین کے زیور سے آراستہ ہوجائے۔چنانچہ انہوں نے اپنے بڑے لڑکے رکن دین اور مولوی رحیم بخش،حافظ عبداللہ،مولوی عبدالواحد سب کو علم دین کے حصول پر لگادیا۔مگر ان کی اولاد میں سے تعلیمی لحاظ سے صرف دو بھائیوں نے دینی امتیاز حاصل کیا یعنی حافظ عبداللہ صاحب اور حافظ محمد حسین صاحب امرتسری۔۔۔

"لکھو کے"

حافظ صاحب نے ابتدائی تعلیم قریہ"لکھو کے" پہنچ کر مولانا عبدالقادر بن محمد شریف بن بارک اللہ لکھوی اور حافظ محمد کے صاحبزادے مولانا محمد حسین لکھوی(1365ھ) سے حاصل کی۔چنانچہ ان دونوں سے صرف ونحو کی ابتدائی کتابیں پڑھیں۔پھر ا پنے بھائی رکن الدین کے ساتھ میرٹھ۔۔۔مدرسہ نعمانیہ میں چلے گئے ایک سال وہاں قیام کیا اور صرف ونحو کی متوسطات پڑھ لیں پھر واپس آکر مدرسہ غزنویہ امرتسر میں داخل ہوگئے۔

پنجاب میں اہل حدیث کے یہ دو مدرسے تھے ،جن سے جماعت اہلحدیث کو فیض پہنچ رہاتھا اور طلبہ زیادہ تر انہی دو مدرسوں میں تعلیم حاصل کرتےتھے۔راقم الحروف باوجود انتہائی خواہش اور آرزو کے ان دونوں مدرسوں کے فیض سے محروم رہا۔نہ"لکھو کے" جا کر صرف ونحو کادرس لے سکا اور نہ امرتسر پہنچ کر"مدرسہ غزنویہ" سے روحانی فیض حاصل کرنے کاموقع ملا۔

مدرسہ غزنویہ میں اُس وقت امام عبدالجبار غزنوی رحمۃ اللہ علیہ حدیث پڑھا رہے تھے جنھوں نے حدیث کی سند سید نزیر حسین دہلوی رحمۃ اللہ علیہ سے حاصل کی تھی اور روحانی فیض ا پنے والد ماجد امام عبداللہ سے حاصل کیا تھا۔علاوہ ازیں غزنویہ میں فنون وفقہ کے لیے دوسرے مدرسین بھی تدریس کررہے تھے۔جن میں مولوی معصوم علی ہزاروی محی الدین صاحب وغیرہ قابل ذکر ہیں۔

حافظ صاحب نے حدیث امام عبدالجبار سے پڑھی اور صرف ونحو ،فقہ،اصول فقہ مولوی معصوم علی ہزاروی اور مولوی محی الدین وغیرہ سے پڑھیں۔اصول فقہ میں آپ کے استاد مولوی عبدالصمد تھے۔

اس کے ساتھ ہی مدرسہ نعمانیہ امرتسرمیں بھی کتب فلسفہ "میبذی" وغیرہ پڑھتے رہے،مگر تفسیر وحدیث امام عبدالجبار غزنوی اور کچھ کتابیں مولوی عبدالاول غزنوی سے پڑھیں جبکہ سند ،فراغت امام عبدالجبار ہی سے حاصل کی۔

امام عبدالجبار رحمۃ اللہ علیہ حافظ عبداللہ صاحب پر بہت اعتماد کرتے۔تاہم تکمیل علم کی اجازت لے کر1910ء کو دہلی پہنچ گئے۔مگر ان کے پہنچنے سے پہلے حضرت میاں صاحب 1902ء کو فوت ہوچکے تھے۔لہذا حافظ مذکور نے منطق وفلسفہ کی تکمیل کے لیے حافظ عبداللہ غازی پوری رحمۃ اللہ علیہ کے سامنے زانوئے تلمذ طے کیا۔اور مولوی محمد اسحاق منطق دہلوی سے اقلیدس اور بجز بعض غیر درسی کتابیں پڑھیں۔

اسی اثناء میں1913ء کو امام عبدالجبار بھی وفات پاگئے۔حافظ صاحب اس صدمے سے بھی دو چار ہوئے مگر تکمیل علم کے سفر کوجاری رکھا اور ریاست"رام پور" پہنچ کر "مدرسہ عالیہ" میں داخلہ لے لیا اور ایک سال کی محنت سے"مولوی فاضل" اور درس نظامی کی سند حاصل کرنے میں کامیاب ہوگئے۔

"مدرسہ عالیہ" رام پور میں اس وقت مولوی محمدامین رامپوری اور فضل حق رامپوری(1278۔۔۔1358ھ) مدرس تھے اور یہ دونوں منطق وفلسفہ میں بہت لائق اساتذہ مانے جاتے تھے۔

مولوی فضل حق رامپوری،مولانا عبدالحق رامپوری کے خلف تھے اور علوم حکمیہ میں ممتاز حیثیت رکھتے تھے۔انہوں نے علوم حکمیہ مفتی لطف اللہ علی گڑھی سے حاصل کئے تھے اور قدماء کی تالیفات مولوی ہدایت علی بریلوی سے اخذ کی تھیں اور"بریلی" میں "مدرسہ طالیہ" میں مدرس رہے تھے۔ پھر کچھ مدت"مدرسہ عالیہ" رام پور میں درس دیتے رہے۔اس اثناء میں منطق وفلسفہ علامہ عبدالحق بن فضل حق خیر آبادی سے پڑھا تھا اور مدرسہ سلیمانیہ بھوپال پہنچ کر حدیث کی سند الشیخ المحدث حسین بن محسن انصاری سے حاصل کی تھی۔جبکہ حسین بن محسن کا سلسلہ سند امام شوکانی سے متصل ہوجاتا ہے۔اس لحاظ سے یہ سند عالی ہوجاتی ہے۔

مولانا فضل حق رام پوری دوبارہ صدر کی حیثیت سے مدرسہ عالیہ رامپور آجاتے ہیں تو حافظ عبداللہ صاحب نے اسی زمانہ میں ان سے سند فضیلت حاصل کی ہے۔ اس لحاظ سے حافظ عبداللہ صاحب کی یہ سند حافظ عبدالمنان وزیر آبادی کے برابر ہوجاتی ہے۔ اور آپ میاں صاحب کے براہ راست تلامذہ کے برابر ہوجاتے ہیں۔ فضل حق رامپوری بعض کتب وحواشی کے مولف بھی ہیں"اصول فقہ کی"تلویح" پر ان کے حواشی ہیں اور افضل التحقیقات فی مسئلہ الصفات(علم کلام) ان کی تالیف نہایت دقیق ہے۔حافظ صاحب 1914ء کو فارغ التحصیل ہوکر واپس آجاتے ہیں۔

روپڑ میں قیام:۔

ان دنوں"روپڑ"ضلع انبالہ میں قصبہ تھا۔نہر سرھند کے مرکزی دفاتر کی وجہ سے اسے خاص شہرت حاصل تھی۔روپڑ میں"اہل حدیث تحریک" کے متعلق میاں عبدالرشید خان(کلرک دفاتر نہر سرھندی) اپنی رپورٹ میں لکھتے ہیں:۔

"1880ء کا ذکر ہے کہ یہاں کوئی فرد اہل حدیث نہ تھا۔سب سے پہلے نانا جی حاجی خلیفہ فضل الٰہی نے شرک وبدعت کا ردشروع کیا اور اس راہ میں ان کو نہایت تکالیف وشدائد کا سامنا کرناپڑا۔تاہم مسلک اہل حدیث متعارف کرانے میں کامیاب ہوگئے۔

انہوں نے ہدایت شاہ شہید رحمۃ اللہ علیہ کی "تقویۃ الایمان" کے مطالعہ سے حاصل کی تھی۔پھر زیادہ شوق علم کے لیے امام عبداللہ غزنوی رحمۃ اللہ علیہ کی خدمت میں امرتسر چلے گئے تھے اور بیعت کرکے واپس آئے تھے۔

حاجی خلیفہ صاحب دور دور سے علماء اہل حدیث کو بلواتے اور جلسے کرواتے اور پھر روپڑ ہی نہیں بلکہ علماء کو اردگرد کے دیہات میں بھی لے جاتے اور تبلیغ ووعظ کرواتے۔اس طرح اردگردکے دیہات بھی مسلک اہل حدیث سے متعارف ہوگئے اور کئی گاؤں اہل حدیث بن گئے۔

اس ضمن میں جناب مولانا محمد حسین بٹالوی(1256۔۔۔1338ھ) خاص طور پر قابل ذکر ہیں وہ بمع عیال اکثر روپڑ آتے اور عرصہ تک قیام پزیر رہتے بلکہ ایک مرتبہ تو انہوں نے روپڑ میں تدریس کا سلسلہ بھی شروع کردیا تھا۔

روپڑ میں مسجد اہل حدیث " مسجد عالی" کے نام سے مشہور تھی۔ناناجی نے مولانا سید محمود علی شاہ ہزاروی(1317ھ) کے ساتھ مل کر چندہ جمع کرکے اس مسجد کی توسیع بھی کروائی تھی اور میاں نور بخش کو اس کا خطیب مقرر کیا تھا۔

1915ء میں حافظ عبداللہ روپڑی کو۔۔۔جو ابھی کلیۃ تعلیم سے فارغ نہیں ہوئے تھے،مولانا ابو سعید محمد حسین بٹالوی کےایماء پر روپڑ بلایا گیا اور ان سے وعدہ لیاگیا کہ فراغت کے بعد روپڑ میں اقامت کریں،تاکہ درس وتدریس کا سلسلہ شروع کیا جاسکے۔"

چنانچہ 1916ء کو مولانا ممدوح"روپڑ" تشریف فرماہوگئے۔خلیفہ صاحب تو1920ء کو راہ ملک عدم ہوگئے اور اپنی یادگار میں مسجد اور مدرسہ چھوڑ گئے۔

روپڑ پہنچ کر حافظ صاحب مذکور نے1916ء میں ہی خلیفہ فضل الٰہی کی معیت میں"دارالعلوم عربیہ اسلامیہ" کے نام سے ایک مدرسہ جاری کیا،جس نے جلد ہی تدریسی شہرت حاصل کرلی اور دوردراز سے طالب علم اس نے تعلیم کے لیےآنا شروع ہوگئے حتیٰ کہ حافظ صاحب سےفیضیاب ہونےوالے متعدد علماء نے درس نظامی کی تدریس میں موثر کردار ادا کیا جبکہ حافظ صاحب نے روپڑ میں صرف تدریس پر اکتفاء نہیں کیا،بلکہ ہمہ جہت جماعتی ذمہ داریوں میں دلچپسی لیتے رہے۔

تلامذہ:۔

حافظ موصوف 1916ء تا1938ء روپڑ میں تدریس وخطابت کےفرائض سرانجام دیتے رہے۔اس مدت میں بہت سے علماء نے علمی فیض حاصل کیا۔حضرت حافظ صاحب کے تلمیذ خاص مولانا محمد صدیق صاحب(شیخ الحدیث سرگودھا رحمۃ اللہ علیہ ۔۔۔مرتب فتاویٰ اہل حدیث) لکھتے ہیں:

"جب آپ رو پڑ تشریف لائے،تو وہاں آپ نے دارالحدیث کی بنیاد رکھی۔1916ء کو دارالحدیث کاافتتاح ہوا۔نماز عصر کے بعد بخاری شریف شروع کی گئی۔شیخ محمد عمر بن ناصر نجدی المعروف،بہ عرب صاحب،مولوی محمد بن عبدالعظیم پسروری،اورمولوی دین محمد سنانوی، رحمۃ اللہ علیہ درس بخاری میں شریک ہوتے۔مولوی نور محمد سکنہ ووگری نےنسائی شریف شروع کی۔اس کے بعد تلامذہ کا یہ سلسلہ وسیع تر ہوتاچلاگیا۔اور یہ سلسلہ 1938ء تک جاری رہا۔پھر انہوں نے قیام پاکستان سے قبل اپنی معلومات کے مطابق درج ذیل فہرست دی ہے۔

1۔محمد عمر بن ناصر نجدی

2۔شیخ عبداللہ الابیض ۔۔۔جامع ازھر

3۔محمد بن عبدالعظیم پسروری

4۔دین محمد مرحوم ستانوی

5۔مولوی نور محمد ساکن دوگری

6۔مولوی عبدالرحمان بن مولوی محمد محسن نسائی

7۔مولوی احمد جھنگوی ملتانی۔۔۔موسس دارالحدیث بالمدینہ المنورہ۔

8۔مولانا عبدالجبار کھنڈیلوی

9۔مولوی عبدالعلیم ٹونکی

10۔مولوی ابو بکر بنگالی

11۔مولوی عبدالقیوم ہردوانی

12۔مولوی عبدالرحمان مہتمم دارالحدیث مدینہ منورہ

13۔حافظ محمد حسین امرتسری۔والد مدیر اعلیٰ محدث لاہور

14۔مولوی سید محمد چونیاں

15۔مولوی قادر بخش بازید پوری

16۔مولوی شہاب الدین کوٹلوی

17۔حافظ اسماعیل وحافظ عبدالقادر پسران رحیم بخش برادر اکبر حافظ عبداللہ روپڑی

18۔مولانا محمد صدیق شیخ الحدیث جامعہ علمیہ۔۔۔سرگودھا

19۔سید بدیع الدین شاہ راشدی

تنظیم اہل حدیث

حضرت مولانا محمد صدیق صاحب رحمۃ اللہ علیہ آف سرگودھا لکھتے ہیں 1932ء سے قبل جب جماعت اہل حدیث کی تنظیم معرض وجودمیں آئی اورشاہ محمد شریف مرحوم اس جماعت کےامیر منتخب ہوئے اور جماعتی امور کی نشرو اشاعت کے لیے ایک اخبار کے اجراء کی ضرورت محسوس ہورہی تھی۔تو اراکین نے اس کا تمام بوجھ حضرت محدث روپڑی پر ڈال دیا۔اور مورخہ 26 رمضان 1350ھ مطابق 15 فروری 1932ء کو"تنظیم اہل حدیث" کے نام سے ہفت روزہ اخبار جاری کیا گیا۔

تنظیم اہل حدیث اور صوبہ پنجاب

در اصل"تنظیم اہل حدیث"کے لیے"مجلہ اہلحدیث"امرتسر نے اپنے اجراءکے ساتھ تحریک بھی شروع کردی تھی۔

اب مولانا ثناءاللہ امرتسری رحمۃ اللہ علیہ اور مولانا محمد ابراہیم میر سیالکوٹی اس امر کے لیے کوشاں تھے کہ صوبہ پنجاب میں بھی ایک صوبائی تنظیم کا ہوناضروری ہے۔جو مرکزی جماعت کے ساتھ الحاق کرسکے اور مرکز کے اغراض ومقاصد کے تحت کام کرے۔چنانچہ اس غرض کے لیے مولانا امرتسری رحمۃ اللہ علیہ نے اخباراہل حدیث میں تحریک شروع کی۔مگر پنجاب میں تنظیم کے مسئلہ پر جماعت دودھڑوں میں تقسیم ہوگئی،جومولانا امرتسری رحمۃ اللہ علیہ کے تفسیر نزاع کی وجہ سے پہلے ہی بن چکے تھے۔

نفس تنظیم میں کسی کو اختلاف نہ تھا مگر سوال یہ تھا کہ ایک جماعت جو عمل بالحدیث کی داعی ہے۔اور وہ ا پنے ہر کام میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے اسوہ حسنہ پر عمل پیرا ہونے کی دعوےدار ہے، تو کیا صدارتی جمہوری نظام اسکے اصول کے مطابق ہے۔یا نظام بصورت امارت کی تشکیل ضروری ہے۔

جدت پسند اذہان تو صدارتی نظام کے حامی تھے اور اس کو عین اسلامی نظام سمجھتے تھے،خصوصاً جب کہ اس کی ہیت کذائی۔۔۔شورائی طرز کی حامل ہو۔لیکن خالص سلفی مکتب فکر کے علماء نظام امارت قائم کرنے کے حامی تھے۔گو اس امارت کو امارت کبریٰ کا درجہ دینے کے لیے تیار نہ تھے جو کہ سیاسی قوت کے بغیر قائم نہیں ہوسکتا۔

مولانا ثناء اللہ تنظیم بصورت انجمن کےحامی تھے۔اور صدارتی نظام چاہتے تھے اس بناء پر انہوں نے بطور استفسار کےاخبار اہلحدیث میں حسب ذیل اعلان کیا:

"پنجاب میں آج کل تنظیم جماعت کی بابت دو رائیں پائی جاتی ہیں۔۔۔ایک رائے یہ ہے کہ تنظیم بصورت انجمن ہو اور دوسری رائے یہ ہے کہ بصورت امارت ہو ناظرین اپنی اپنی رائے کا اظہار کرسکتے ہیں۔

چنانچہ اس سلسلہ میں ایک مضمون مولانا محمدعلی لکھوی مرحوم کا ہے جو9/ستمبر 1932ء کے اخبار "اہل حدیث" میں شائع ہوا۔یہ مضمون مفصل ہے۔اور اس ضمن میں ڈاکٹر سید فرید احمد مہتمم مدرسہ احمدیہ سلفیہ(در بھنگہ) کا بھی ایک مضمون ہے۔ جو14/ستمبر 1932ء ے اہل حدیث میں شائع ہوا۔اور ان سے قبل مولانا عبدالحلیم صدیقی مدرس دارالعلوم احمدیہ سلفیہ (در بھنگہ) بھی اپنے خیالات کا اظہار کرچکے تھے۔جو تنظیم بصورت امارت پر زور دے رہے تھے۔

اس سے علماء نے یہ سمجھا اور سمجھنا چاہیے کہ الفاظ بصورت"انجمن"سے مروجہ جہوریت مراد ہے اور بصورت امامت سے"شوریٰ اسلامیہ" ہے اس بناء پر علماء نےتصریح کےساتھ لکھا۔

"تنظیم جماعت بصورت انجمن اغیار کی اختراع ہے اور تنظیم جماعت بصورت امارت کتاب وسنت سے ثابت ہے۔"

لیکن اس پر غور کی بجائے رجعت پسندی کا طعنہ دیا گیا اور کہا گیاکہ قرآن نے تو اصول بیان فرمائے ہیں۔جن میں ایک اصل وَأَمْرُهُمْ شُورَى بَيْنَهُمْ کا ہے۔متمدن دنیا کس قدر بھی ترقی کرجائے یہ اصول اپنی جگہ پر قائم رہے گا اورمروجہ جمہوریت بھی اگر اس اصل پر قائم ہے تو عین اسلامی ہوگی۔

مگر مروجہ جمہوریت اپنی تصنع اور زیبائش کے باوجود معاشرہ میں بہت سی برائیوں کو جنم دے رہی ہے اور جمہوریت میں حسن وقبیح کامیعار مادیت ہے اور صرف دنیاوی زندگی کو سامنے رکھ کر تمام اصول بنائے گئے ہیں۔اس جمہوریت کےمخترعین کے سامنے آخرت کا تصور نہیں ہے۔نہ ہی اس پر ایمان ہے اور نہ اس سے کچھ سروکار!۔۔۔

پس جس جماعت کامطمعِ نظر ہی حصول رضا الٰہی ہو اور اتباع کتاب وسنت ہو۔وہ اسے کیسے اپنا سکتی ہے۔اس بناء پر جماعت اہل حدیث کی تنظیم بصورت امارت ہی ممکن ہوسکتی ہے۔

واضح رہے کہ آل انڈیا اہل حدیث کانفرنس کے مقاصد کے تحت پنجاب میں"صدر انجمن اہل حدیث۔۔۔صوبہ پنجاب"کی بنیاد تقریباً 1921ء کو رکھی جاچکی تھی۔جس کے صدر اور سیکرٹری مقرر تھے۔اور یہ انجمن اپنے تنظیمی پروگرام چلارہی تھی۔جس کاصدر دفترلاہور میں قائم ہوچکاتھا۔

لیکن جو لوگ اس میں شریک نہیں ہوتے تھے۔اور وہ امارتی نظام کے داعی تھے۔انہوں نے 13جولائی 1930ء کوموضع"کمیر پور" تحصیل اجنالہ ضلع امرتسر میں ایک نمائندہ اجتماع بلایا۔مولانا مرحوم سیالکوٹی لکھتے ہیں کہ اس میں خاکسار کو بھی دعوت دی گئی اور اس میں تقرر امیر کو زیر بحث لایا گیا اور شرکاء کی اکثریت نے سید محمد شریف کو اپنا امیر منتخب کرلیا اور جماعتی نظام کو چلانے کےلیے اس کا صدر دفتر "امرتسر" میں قائم کیا گیا۔جمیعت کے ناظم حکیم نور الدین قرار پائے اور اس تنظیم کا نام"تنظیم اہل حدیث۔۔۔پنجاب" رکھاگیا۔

اس تنظیم کی بھی اضلاع میں شاخیں قائم کی گئیں۔اس جمعیت کے تحت مرکزی درسگاہ قائم کی گئی۔جس کے جملہ اخراجات کابوجھ گوجرانوالہ کی جمیعت نے اپنے ذمہ لے لیا۔اس مرکزی درس گاہ میں حافظ محمد صاحب گوندلوی مرحوم صدر مدرس اور شیخ الحدیث مقرر ہوئے اور اس میں مولوی فضل الرحمان گوندلوی اور مولانا عطاء اللہ صاحب بھوجیانی بھی مدرس رہے اور مولانا محمد اسماعیل سلفی رحمۃ اللہ علیہ اس کے منصرم مقرر ہوگئے۔

اس درسگاہ کاباقاعدہ مرکز کےتحت امتحان ہوتا رہا۔ابتداء میں حافظ عبداللہ صاحب روپڑی اسکے مفتش وممتحن بھی رہے۔

آمدم برسرِ مطلب:۔

چونکہ اس تنظیم کے قیام میں حافظ عبداللہ صاحب روپڑی نے موثر کردار ادا کیا تھا، اس لیے جمیعت کے لیے ایک مجلہ اُسبوعیہ کی ضرورت محسوس ہونے لگی تو اس کا بارگراں بھی حافظ صاحب روپڑی کے کندھوں پر ڈال دیا گیا یا انہوں نے خود اٹھالیاتھا۔چنانچہ مارچ1932ء کو اس کا پہلا شمارہ منصہ شہود پر آیا جیسا کہ پہلے بیان ہوچکا ہے تاہم ابتداء میں تقریباً دو سال تک یہ اخبار پندرہ روز تک نکلتا رہا اور بالاخر اس کو"ہفت روزہ" کردیا گیا ۔

اخبار تنظیم اہل حدیث

بلاشبہ اخبار"تنظیم اہل حدیث" نے جماعتی تنظیم اور اس کے کام کومربوط کرنے کے لئے خصوصی رول ادا کیا۔تاہم اس اخبار میں حافظ عبداللہ صاحب کے فتاویٰ کو خصوصی اہمیت حاصل ہے۔ جو اہل حدیث علماء اور دوسری جماعتو ں کے لیے بھی توجہ کا باعث بن گئے۔اب وہ فتاویٰ بعض احباب کی کوشش سے الگ مرتب ہوگیا ہے ۔لہذا اس پر مزید لکھنے کی ضرورت نہیں۔

اخبار کے جاری ہوتے ہی حافظ محمد اسماعیل صاحب روپڑی اور ان کے بھائی حافظ عبدالقادر روپڑی نائب مدیر کی حیثیت سے کام کرنے لگ گئے۔بعض مسائل جو حافظ صاحب خود نہ لکھنا چاہتے وہ ان دونوں کے نام سے شائع کروادیےجاتے۔مثلاً نظام امارت یا صدارت!۔۔۔تفسیری اغلاط۔۔۔اور مناظرات کی رپورٹیں وغیرہ۔

اخبار"العدل"اور تنظیم اہلحدیث

انہی دنوں گوجرانوالہ سے اخبار :"العدل" مولانا عبدالعزیز صاحب دیوبندی کی زیرسرپرستی شائع ہورہاتھا۔ جس میں اہل حدیث کے خلاف زہراگلا جارہاتھا۔اہل حدیث امرتسرکی طرح تنظیم اہل حدیث میں اس کے محتویات کا مناسب جواب دیا جاتا۔مولانانور حسن گرجاکھی کے بہت سے مضامین اہل حدیث سےدفاع کے لیے شائع ہوئے ہیں۔اسی طرح"الفقیہ"امرتسر کے جواب میں بھی "تنظیم اہل حدیث" خاموش نہ رہتا۔بلکہ اختلافی مسائل پر نوک جھونک جاری رہتی۔

ذوالحجہ کی تیرہویں کو قربانی

اخبار"العدل" کی ایک اشاعت میں"فرقہ اہل حدیث کی متعصبانہ تیرھویں قربانی" کے عنوان سے ایک مضمون شائع ہوا اور ذوالحجہ کی تیرھویں تاریخ کوقربانی پر طنز کیا گیا۔اس پر تنظیم اہل حدیث میں مولانا عبدالجلیل سامرودی نے ایک محققانہ مضمون شائع کیا اور تیرھویں تاریخ کو قربانی کاثبوت پیش کیا۔وہ اپنے مضمون میں لکھتے ہیں۔

"اس مضمون میں اہل حدیث کوبے جاتنقید کا نشانہ بنایاگیا ہے اگر آپ نے سنانا ہی تھا تو اپنے عم بزرگوار امام شافعی رحمۃ اللہ علیہ کانام لے کر سناتے۔۔۔آپ جب مقلد ہیں تو کسی مجتہد کےمسلک پر اعتراض کا کیا حق پہنچتاہے۔یہ امام شافعی رحمۃ اللہ علیہ کامذہب ہے ،چنانچہ ہدایہ میں ہے۔

"وقال الشافعي رحمه الله ثلاثة أيام بعده لقوله عليه الصلاة والسلام أيام التشريق كلها أيام ذبح"

"کہ امام امام شافعی رحمۃ اللہ علیہ یوم النحر کے بعد تین دن کی قربانی کے قائل ہیں کیونکہ آپ نے فرمایا ہے کہ ایام تشریق سب ایام ذبح ہیں"

امام نووی رحمۃ اللہ علیہ ،امام شافعی رحمۃ اللہ علیہ کا مذہب نقل کرنے کے بعد لکھتے ہیں۔

"علی بن ابی طالب رضی اللہ تعالیٰ عنہ ،جبیر بن معطم رضی اللہ تعالیٰ عنہ ،ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ ، عطا رحمۃ اللہ علیہ ،حسن بصری رحمۃ اللہ علیہ ،عمر بن عبدالعزیز رحمۃ اللہ علیہ ،سلیمان بن موسیٰ اسدی، رحمۃ اللہ علیہ مکحول رحمۃ اللہ علیہ ،(فقیہ اہل الشام) اورداود ظاہری کا یہ مسلک ہے"

"زاد المعاد"میں حافظ ابن قیم رحمۃ اللہ علیہ نےمتعدد ائمہ کا یہی مسلک قرار دیاہے۔حافظ ابن کثیر رحمۃ اللہ علیہ اپنی تفسیر میں"تحت الآیۃ"لکھتے ہیں۔

ایام تشریق کا چار دن ہونا،ابنِ عمر رض اللہ تعالیٰ عنہ ،ابن الزبیر،ابوموسیٰ،عطاء رحمۃ اللہ علیہ ،مجاہد رحمۃ اللہ علیہ ،عکرمہ رحمۃ اللہ علیہ ،سعید بن جبیر رحمۃ اللہ علیہ ،ابو مالک رحمۃ اللہ علیہ ،ابراہیم نخعی رحمۃ اللہ علیہ ، یحییٰ ابن کثیر رحمۃ اللہ علیہ ،حسن رحمۃ اللہ علیہ ،قتادہ رحمۃ اللہ علیہ ، ربیع بن انس رحمۃ اللہ علیہ ،عطاء خراسانی اور مالک بن انس رحمۃ اللہ علیہ ،وغیرھم سے مروی ہے۔ اور پھر حافظ ابن کثیر رحمۃ اللہ علیہ لکھتے ہیں۔

امام شافعی رحمۃ اللہ علیہ کا مذہب ہی راجح ہے۔یعنی قربانی کا وقت یوم النحر سے لے کر آخر ایام تشریق تک ہے اور حافظ ابن حزم رحمۃ اللہ علیہ نے"المحلی" میں ان سب اقوال کو بمع تخریج نقل کیا ہے۔ اور ابن حجر مکی شرح مشکواۃ میں لکھتے ہیں:

"وبذلك قال ابن عباس وجبير بن معطم ونقل عن علي وبه قال كثير من التابعين فمن زعم ان الشافعي تفرد به فقداخطا "

حافظ ابن حجر فتح الباری میں لکھتے ہیں:

"جبیربن معطم کی حدیث مرفوعاً ثابت ہے۔امام احمد رحمۃ اللہ علیہ نے اس کی سند کو منقطع کہاہے۔مگر دارقطنی رحمۃ اللہ علیہ نے اسے موصولاً ذکر کیا ہے اور اس کے رجال ثقہ ہیں۔

علامہ شوکانی نے بھی جبیر بن معطم رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی حدیث کے متعلق لکھا ہے جو اسے منطقع کہتے ہیں تو اس کا جواب یہ ہے کہ ابن حبان رحمۃ اللہ علیہ ے اسےموصولا ذکر کیا ہے"

پھر علامہ منادی نے شرح "الجامع الصغیر" میں اور عزیزی نے السراج المنیر

میں جبیر بن معطم رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی مسند احمد والی حدیث کی اسناد کو"صحیح" کہا ہے ۔علامہ سیوطی رحمۃ اللہ علیہ نے بھی اس پر صحت کی علامت قائم کی ہے۔علامہ شوکانی الدراری المضیۃ" میں لکھتے ہیں۔

وَلَهُ طُرُقٌ يُقَوِّيْ بَعْضُهَا بَعْضَاً.

کہ اس کےمتعددطرق ہیں جن سے تقویت حاصل ہوگئی ہے۔

اور امام شوکانی رحمۃ اللہ علیہ نے"وبل الغمام" میں لکھا ہے۔

"اس حدیث کی ضعیف ہونے کی کوئی ایسی وجہ بیان نہیں کی گئی جس پر اعتماد ہوسکے"

حسین بن محسن انصاری اپنے فتاویٰ میں اس حدیث پر بحث کرتےہوئے لکھتے ہیں۔وهو حسن يحتج به۔۔۔الغرض یہ حدیث حسن ،قابل حجت ہےاورپھر آگے چل کر علامہ حسین انصاری رحمۃ اللہ علیہ لکھتے ہیں۔

"ائمہ حدیث کی ایک جماعت نے اس کی تصیح کی ہے۔اگر یہ ضعیف بھی ہوتواقوال صحابہ اور جمہور اہل علم اس کے حق میں ہیں۔

حافظ ابن کثیر رحمۃ اللہ علیہ نے تفسیر میں اس کے متابعات بھی ذکر کیے ہیں اور دارقطنی نے بھی اس کے متابعات ذکر کیے ہیں۔ الغرض اس مسئلے میں کوئی غبار نہیں ہے۔اور یہ واقعہ ہے کہ اخبار"تنظیم اہل حدیث" نے ہر موقع پر مسلک اہل حدیث کا دفاع کیا ہے۔خصوصاً علمی مسائل میں تو "مدیر" کے قلم کا لوہا دوسرے بھی مانتے ہیں اور کم وبیش تمام اختلافی مسائل پر جو زیر بحث آتے رہے ہیں۔اسقدر موادجمع کردیا ہے کہ اس سے ہر مسئلے کی دلیل مل سکتی ہے۔یہی حال"اہل حدیث" امرتسر کاہے۔ جیسا کہ ہم نے ذکر کیاکہ اب ان کے خلف اسی پر زندہ ہیں اور حافظ عبدالقادر انہی مسائل کا اعادہ کررہے ہیں۔اللہ تعالیٰ ان کو مزید توفیق عطا فرمائے۔آمین۔

آٹھ رکعات تراویح:۔

اخبار"تنظیم" نے آٹھ رکعت مسئلہ تراویح پر ایک مضمون شائع کیا اور ثابت کیا کہ آٹھ رکعات تراویح کاسنت ہونا اہل حدیث اورحنفیہ کے مابین متفق علیہ ہے اور اس پر سائب بن یزید کی حدیث کو بطور دلیل پیش کیا کہ حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ابی بن کعب رضی اللہ تعالیٰ عنہ اور تمیم داری رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو حکم دیا کہ لوگوں کو گیارہ رکعت پڑھایا کرو۔اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے تین رات جماعت کے ساتھ جو نماز پڑھائی ہے۔وہ بھی آٹھ رکعات اورتین وتر کے ساتھ تھی۔چنانچہ صحیح ابن حبان اور صحیح ابن خزیمہ میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے آٹھ رکعات اور وترپڑھائے۔

اور جس روایت میں بیس مذکور ہیں اولاً تو وہ صحیح ہی نہیں ہے۔خود زیلعی نے تخریج"ہدایہ" میں اسکی تضعیف کی ہے کہ ابو شیبہ ابراہیم بن عثمان بالاتفاق ضعیف ہیں۔

اس بناء پر ہم کہتے ہیں کہ تراویح باجماعت اور آٹھ رکعات کی تحدید دونوں ہی فعل نبوی صلی اللہ علیہ وسلم سے ثابت ہیں لیکن آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے جماعت کی پابندی کاحکم نہیں دیا۔تراویح باجماعت پر استمرار حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے دور میں شروع ہوا۔اس بناء پر حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے لغوی معنی کے اعتبار سے اس کو"نعمت البدعۃ" کہا ہے۔

حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے حکم سے جو نماز پڑھائی گئی،وہ آٹھ رکعات تھی۔موطا میں جو مذکور ہے کہ حضرت عمر کے زمانہ میں لوگ بیس رکعت تراویح پڑھتے تھے۔اسے حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی سنت نہیں کہہ سکتے وہ لوگوں کااپنا عمل تھا۔اس بنا پر ابن الہمام فتح القدیر(شرح ہدایہ) میں لکھتے ہیں"سنت اصل آٹھ ہی ہیں ،باقی مستحب یعنی نوافل ہیں۔"

اور امام مالک رحمۃ اللہ علیہ نے بھی موطا میں 36رکعات کومستحب کہا ہے۔اور علامہ عینی نے شرح بخاری اور امام سیوطی رحمۃ اللہ علیہ نے رسالہ التراویح میں لکھا ہے کہ امام مالک رحمۃ اللہ علیہ بھی گیارہ رکعت ہی پسند کرتے تھے جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ اصل سنت توامام مالک رحمۃ اللہ علیہ کے نزدیک بھی آٹھ ہی ہیں اور زائد کو نوافل کہہ سکتے ہیں اور پھر صحابہ کرام رضوان اللہ عنھم اجمعین اگر کسی عبادت یادعا میں اضافہ کرتے ہیں تو اسے سنت کادرجہ حاصل نہیں ہوسکتا۔زیادہ سے زیادہ اسے جائز کہہ سکتے ہیں۔مثلاً حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ تلبیہ حج میں کچھ زائدکلمات بطور دعاشامل کرلیتے تو اس پرامام شافعی رحمۃ اللہ علیہ نےفرمایا:

"اگر تلبیہ حج میں کوئی اضافہ کرے تو کوئی حرج نہیں ہے۔مگر بہتر یہ ہے کہ تلبیہ نبوی صلی اللہ علیہ وسلم پر اکتفاء کرے۔"

اسی بناء پر مسلک اہل حدیث کا مسلک یہ ہے کہ آٹھ رکعات تراویح سنت ہے اوراگرنوافل کےطور پر کوئی اضافہ کرے تو اس پر اعتراض نہیں ہے۔اور نہ ہی حدیث کے خلاف ہے۔ہاں اگر سنت سمجھ کر بیس پڑھے تو یہ خلاف سنت ہے۔اس بناء پر گنہگار بھی ہوگا۔شیخ عبدالحق دہلوی اپنے رسالہ"ماثبت بالسنۃ" میں لکھتے ہیں۔

خلیفہ عمر بن عبدالعزیز کے زمانہ میں بھی گیارہ رکعت پر عمل ہوتا رہاہے۔"

خلاصہ بحث:۔

مندرجہ بالا تفصیل کی بنائ پر ہم کہتے ہیں کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم آٹھ رکعت پڑھتے اور پڑھاتے رہے۔پھر حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے دور میں بھی آٹھ رکعات پر ہی عمل رہا۔ اور تابعین رحمۃ اللہ علیہ کے دور میں بھی۔ اور امام مالک رحمۃ اللہ علیہ کے معاصر محمد بن اسحاق آٹھ رکعت کو ترجیح دیتے۔ان کے بعد محدثین کے اقوال بھی اس کےموافق ہیں اورحنفیہ کے نزدیک بھی آٹھ رکعت کو ترجیح ہے۔تو اسکے بعد کو نسا تعامل رہ جاتاہے۔جس پر احناف عمل پیرا ہیں۔

اخبار"العدل"گوجرانوالہ 28/جمادی الاولیٰ میں"حنفیت کی عظیم الشان فتح" کے عنوان سے ایک مضمون شائع ہوا۔جس کا تعلق گوجرانوالہ میں مولانا ثناء اللہ صاحب امرتسری رحمۃ اللہ علیہ اور مولانا عبدالعزیز کے مابین"قراۃ الخلف امام" کے مسئلہ پر مناظرہ سے تھا۔مولانا عبدالعزیز نے دعویٰ کیا کہ حدیث وإذا قرأ فأنصتوا ۔۔۔صحیح مسلم میں ہے۔مولانا ثناء اللہ نے اس حدیث کے صحیح مسلم میں ہونے سے انکار کیا۔

یہاں پر حافظ عبداللہ صاحب کی رائے نقل کرتے ہیں وہ لکھتے ہیں۔

"امام نووی رحمۃ اللہ علیہ بڑے پایہ کے محدث فقیہ اور حجت ہیں۔دیگر تصانیف کے علاوہ انہوں نے شرح مسلم بھی لکھی ہے۔اس شرح میں امام نووی رحمۃ اللہ علیہ نے صحیح مسلم کی احادیث اور اسانید مشکلہ کو اس طرح حل کیا ہےکہ آپ کے بعد آنے والے لوگ انہی پر اعتماد کرتے ہیں اس حدیث پر امام نووی رحمۃ اللہ علیہ لکھتے ہیں:

واعلم أن هذه الزيادة وهي قوله : ( وإذا قرأ فأنصتوا ) مما اختلف الحافظ في صحته ... على تضعيفها مقدم على [ ص: 94 ] تصحيح مسلم ، لا سيما ولم يروها مسندة في صحيحه .

جس سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ حدیث مذکور صحیح مسلم میں بالاسناد نہیں ہے۔لہذا یہ موضوع کتاب سے خارج ہے۔جس سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ حدیث مذکور صحیح مسلم میں بالاسناد نہیں ہے۔لہذا یہ موضوع کتاب سے خارج ہے۔

عملی خدمات۔۔۔تالیفات

علمی،فروعی مسائل پر بھی حافظ رحمۃ اللہ علیہ نے مسلک اہل حدیث کے مطابق بیشتر تالیفات چھوڑ دیں۔ان کے (فتاویٰ تو فتاویٰ اہل حدیث) کے عنوان سے ان کے تلمیذ ارشد کی عملی کوشش سے یکجاہوکر طبع ہوچکے ہیں۔یہاں پر ان کی دوسری تالیفات مطبوعہ اور غیر مطبوعہ کا تعارف مطلوب ہے۔

1۔الکتاب المستطاب:۔

مولانامحمد انور شاہ کشمیری نے عربی میں "فصل الخطاب"کے نام سے ایک کتاب لکھی۔جس میں "قراءۃ خلف الامام" کےمسئلہ میں حنفی مذہب کی ترجمانی کی۔حافظ رحمۃ اللہ علیہ نے اس کے جواب میں یہ کتاب عربی میں لکھی۔جو بہت سے علمی مباحث پر مشتمل ہے اور متعدد احادیث کے مشکل مقامات کاحل ہے۔اس کے حاشیہ پر "فصل الخطاب" ہے تاکید ناظرین کو اصل مسئلہ کے سمجھنے میں آسانی ہو۔یہ کتاب عرصہ سے ناپید ہے۔جماعتی ذہن میں تازگی پیدا کرنے کے لئے اس کا جدید ایڈیشن شائع کرنا ضروری ہے۔ جس میں مرحوم کے بعد جو مولاناخیر محمد جالندھری وغیرہ نے نفس کتاب پر بعض اعتراضات کئے ہیں تاکہ ان کا بھی جواب ہوسکے۔

2۔اطفاء الشمعہ:۔

یہ رسالہ مسائل جمعہ پر مشتمل ہے تمام مسائل کا احصاء کیا گیا ہے اور اس موضوع پر احناف کی طرف جو رسائل لکھے گئے ہیں۔مثلاً مولانا احمد علی لاہوری رحمۃ اللہ علیہ ،مولانا رشید احمد گنگوہی رحمۃ اللہ علیہ ،مولانا محمود الحسن دیوبندی،اورنیموی صاحب کی کتابوں کابالخصوص جواب دیاگیا ہے۔جانبین کے دلائل کا بالتفصیل ذکر کیا گیا ہے۔اور ظہر احتیاطی کامسئلہ بڑی تفصیل سے ذکر کیاگیا ہے۔علمائے دہلی کے فتاویٰ بھی درج ہیں۔

3۔درایت تفسیری:۔

اصول تفسیر پر بحث کی گئی ہے۔ابتداء میں مسئلہ تقلیدپر بحث ہے۔

4۔اہل سنت کی تعریف:۔

اس رسالہ کی جامعیت اور افادیت کا اندازہ اس بات سے ہوتا ہے کہ اس میں اہل سنت کی 37 تعریفیں کی گئیں ہیں۔مولف نے ان سب پر محاکمہ کیا ہے۔یہ کتاب تقریباً 400 صفحات پر مشتمل ہے۔

5۔اہل حدیث کی تعریف:۔

چونکہ یہ مولانا اشرف علی تھانوی رحمۃ اللہ علیہ کے رسالہ"الاقتصاد" کاجواب ہے ۔اس لئے رسالہ کے ضمن میں "تقلید" پر مکمل بحث ہے۔مولانا تھانوی کا یہ رسالہ درا صل سید میاں صاحب دہلوی کی کتاب"معیار الحق" کےجواب میں لکھا گیا ہے۔صرف خطبہ اول مطبوع ہے۔

6۔نبی معصوم صلی اللہ علیہ وسلم :۔

یہ رسالہ مختصر ہے۔اور عیسائیوں کے جواب میں ہے ۔عیسائی مشنری نے قرآن سے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو گنہگار ثابت کیا ہے۔اور عیسیٰ علیہ السلام کا معصوم ہونا اورحضرت عیسیٰ علیہ السلام کا شفیع ہونا ثابت کیا ہے۔اس موضوع پر دیگر ائمہ اور علمائے اہل حدیث نے رسالے لکھے ہیں۔ابن حزم کی کتاب "الفصل فی الملل والنحل" میں ایک مستقل باب ہے۔جوعصمت انبیاء علیہ السلام کے ثبوت پرمشتمل ہے۔حضرت مولانا میر سیالکوٹی رحمۃ اللہ علیہ دورہ تفسیر میں طلبہ کویہ باب درسا پڑھاتے۔مولانا محمد حسین ابو سعید بٹالوی نے عیسائی مشنری کے جواب میں عصمت الانبیاء علیہ السلام پر ایک ر سالہ لکھا ہے۔جوان کے رسالہ"اشاعۃ السنہ" کے ایک مستقل نمبر میں شائع ہوچکاہے۔یہ رسالہ راقم الحروف کے اشارے پر شیخ محمد اشرف رحمۃ اللہ علیہ نے کتابت کروایاتھا۔پر معلوم نہیں ہوسکا کہ طباعت کے مرحلہ پر پہنچایا نہیں۔

7۔رسالہ رد بدعات:۔

نام سے ظاہر ہے کہ اس میں بدعات کارد ہے۔مروجہ بدعات پر پندرہ سوالات کے جوابات ہیں،نیز قبور وقبہ جات کےگرانے کا مفصل بیان ہے اور بدعت کے لغوی اور شرعی معنی بتائے گئے ہیں۔

8۔امامت شرک:۔

8۔امامت مشرک:۔

یہ ایک اشتہار ہے ۔اخبار اہل حدیث امرتسر میں یہ بحث چلی کہ کلمہ گو مشرک کے پیچھے نماز جائز ہے یا نہیں۔مذکورہ اشتہار میں اس مسئلہ پر پوری بحث ہے فی زمانہ بھی اس مسئلہ کو سمجھنا ضروری ہے۔

9۔اربعین غزنویہ:۔

مولانا ثناء اللہ امرتسری رحمۃ اللہ علیہ نے جب تفسیر بنام"تفسیر القرآن بکلام الرحمان" لکھی ہے جو اسلوب وانداز بیان کے لحاظ سے تفسیر ابن کثیر کا خاکہ تھامگر اختصار میں جلالین سے بھی بازی لے گئی تھی۔اس تفسیر بہت سے علماء نے پسند کیا حتیٰ کہ بنارس وغیرہ کے مدارس میں "جلالین" کی بجائے اس کو پڑھانے کی تجاویز کا اظہار کیا گیا۔بیرون ملک مصر کے علماء نے بھی اس کو پسند کیا،مگراس میں مولانا نے سلف کی راہ چھوڑ کو متکلمین کی تاویل کا رنگ اختیارکیاتھا۔اسلیے اہل حدیث اور سلفی ذہن کے علماء نے اسے ناپسند کیا اور تتبع کرکے چالیس مقام کی نشاندہی کی اور مولانا مرحوم سے درخواست کی کہ ان کی اصلاح کی جائے۔مذاکرہ علمیہ آرہ کے1323ھ کے سالانہ جلسہ میں یہ رائے قرار پائی کہ اس پر کچھ علماء کو حکم مقرر کیا جائے۔چنانچہ حافظ عبداللہ غازی پوری ،مولانا شاہ عین الحق پھلواری اور مولانا شمس الحق ڈیانوی کو حکم مقرر کیا گیا جو جانبین سے موقف سن کرفیصلہ کریں گے۔علماء اہل حدیث نے مولانا عبدالواحد غزنوی،مولانا عبدالغفور اور مولانا عبدالاول پرمشتمل ایک کمیٹی بنائی کہ ان اغلاط کو"اربعین" کےنام سے مرتب کیا جائے اور یہ نزاع یہاں تک کہ بڑھا کہ سلطان عبدالعزیز تک جا پہنچا۔ایک طرف تو مولانا عبدالوہاب دہلوی نے امامت کبریٰ کا شاخسانہ کھڑا کرکے اور ساتھ شرکیہ دم جھاڑ کے جواز پر اصرار کرکے اختلاف پیدا کیا اور دوسری طرف مولانا امرتسری کی تفسیرپر "ثنائی غزنوی" یا"ثنائی روپڑی نزاع نے ایک مستقل "کلکل"اختیارکرلی۔اس اربعین کا پورا نام ہے۔

"الاربعين في ان شاء الله ليس علي مذهب المحدثين"

مولانا ثناء اللہ مرحوم نے ان اعتراضات سے براءت کے اظہار کے لئے جوابات لکھے اور ان کے مجموعہ کو"الکلام المبین" کے نام سے شائع کردیا۔مولانا قاضی عبدالاحدخانپوری نے سترہ مقامات پر محاکمات لکھے ہیں جو بڑے زور دار ہیں۔

مولانا ثناء اللہ مرحوم نے اس ضمن میں تقلید شخصی وسلفی،اتباع سلف اور الکلام المبین وغیرہ رسائل لکھے ان کے جواب میں حافظ رحمۃ اللہ علیہ نے درایت تفسیری ،تعریف اہل حدیث اور تعریف اہل السنہ وغیرہ رسالے شائع کیے ان رسائل میں متنازعہ مسائل کے علاوہ اور بھی بہت سے علمی فوائد ہیں۔خصوصاً حافظ عبداللہ رحمۃ اللہ علیہ نے تفسیری مباحث کی خوب چھان بین کی۔ اور فتاویٰ ابن تیمیہ رحمۃ اللہ علیہ سے لے کر تفسیر کبیر رازی اور کتب امام سیوطی رحمۃ اللہ علیہ تک کو ماخذ بنایا ہے ۔اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ ہم محض حق کی تلاش کریں اور ذاتیات کو مبحث نہ بنائیں۔

10۔بکرادیوی:۔

اس میں نذرلغیراللہ کی حلت وحرمت کا بیان ہے اور آیت"وما اھل لغیراللہ" کی پوری تفصیل ہے۔

11۔زیارت نبوی صلی اللہ علیہ وسلم :۔

یہ مسئلہ بھی علماء کے مابین اتفاقی چلا آیا ہے۔اور حافظ ابن تیمیہ رحمۃ اللہ علیہ نے روضہ اقدس کی زیارت وآداب پر تفصیل روشنی ڈالی ہے اور اس ضمن میں بہت سی بدعات کا ردکیا ہے اورغلط فہمیوں کو دور کیا ہے۔حافظ صاحب نے اس رسالہ میں اصل مسئلہ کی پوری وضاحت کردی ہے۔ اور شیخ الاسلام ابن تیمیہ رحمۃ اللہ علیہ کی ترجمانی کاحق ادا کردیا ہے۔

2۔المرشد والامام:۔

اس رسالہ میں پیروی ،مریدی پر بحث کی گئی ہے۔

13۔طیور ابراہیمی:۔

قرآن پاک کی تفسیرمیں یہ مبحث بھی نہایت اہم ہے۔جدت پسند مفسرین نے طیور کےذبح ہونے سے انکار کیاہے۔اس آیت میں بحث کا مدار"فصرهن" کی تفسیر پر ہے۔غالباً اس تاویل کی پیشوائی ابو مسلم معتزلی کی ہے اور اس نے ذبح کا انکار کیا ہے۔

14۔رسالہ امارت:۔

امارت کی حیثیت پر بحث ہے کہ کیا غیر اسلامی حکومت کے اندر رہ کر بھی نظام امارت قائم ہوسکتا ہے یا نہیں اور پھر ایسے نظام امارت کی حیثیت کیا ہے۔اس ضمن میں مولانا عبدالوہاب دہلوی کی امارت اور جمیعت اہل حدیث پنجاب کے نظام امارت کے مابین فرق کو سمجھایا ہے۔

15۔رسالہ وسیلہ بزرگان:۔

بعض لوگ اولیاء اللہ کی قبروں پر جاکر ان کے وسیلہ سے دعا کرتے ہیں اور کہتے ہیں۔۔۔"اےولی ! میری دعا قبول کر"۔۔۔اس کی تردید کی ہے اور انبیاء علیہ السلام واولیاءکی برزخی زندگی پر بحث کی ہے۔

16۔وتروں کی تعداد اس رسالہ میں وتروں کی تعداد اور ان کےپڑھنے کی کیفیت بیان کی گئی ہے۔
حواالہ و حواشی

۔رپورٹ مجریہ12/جنوری 1923ء اخبار اہل حدیث(امرتسر)

۔ اخبار اہل حدیث مجریہ 12/اگست 1932ء

۔اس سلسلے میں سب سے بہتر مقالہ قاضی عبدالرحیم صاحب قاضی کوئی کا ہے۔جو اخبار تنظیم اہل حدیث میں "تنظیم اہل حدیث اور جمہوریت" کے عنوان سے متعدد اقسام میں شائع ہواہے قاضی صاحب چونکہ نظام امارت کے قائل تھے۔اور گوجرانوالہ کی تنظیم اہل حدیث کے امیر تھے۔اس لئے مرحوم نے مولانا امرتسری رحمۃ اللہ علیہ کےجملہ دلائل کا مکمل تجزیہ کرکے ان کا ابطال کیا ہے۔

۔المحلی ج2،ص275/ج7 ،ص37۔

۔الجامع الصغیر مع شرح المناوی۔

۔دارقطنی ج2 ص 284۔

۔عمدۃ الرعایۃ مولانا عبدالحئی وفتح القدیر شرح ہدایہ۔

۔ابو شیبہ ابراہیم بن عثمان پر جرح کے لئے"انوارالمصابیح"مولانا نزیر احمد رحمۃ اللہ علیہ دہلوی ص170تا173۔

۔یہ مسائل میں نے بطور مثال ذکر کیے ہیں،ورنہ جماعتی ضرورت کا تقاضا یہ ہے کہ"تنظیم اہل حدیث"اور"اہلحدیث" امرتسر کے قبل از تقسیم ملک کے تمام فائل سامنے رکھ کر علماء اہل حدیث کی تنقیحات کو جمع کردیا ہے۔بلکہ الاعتصام کو بھی شامل کرلیا جائے۔

۔تذکرہ علمائے خانپور