Pages from Muhaddas-196-Aug-1993

میرے پسندیدہ۔۔

اس صفحہ کو پسند کرنے کے لیے لاگ ان کریں۔

اس وقت دنیا بھر میں"اسلامی انتہا پسندی" کا مسئلہ بڑی شدت سے اچھالاجارہاہے۔

بالخصوص عرب ممالک میں مغربی میڈیا اسے شہ سرخیوں سے شہرت دے رہا ہے۔ چنانچہ سربراہی ملاقاتوں اور چوٹی کی کانفرنسوں میں اسے ایک خوفناک صورتحال قرار دے کر اس پر غور و خوض شروع ہو گیا ہے۔ لہٰذا اس کا جائزہ لینا از حد ضروری ہے تاکہ وہ وجوہ اور اسباب بھی سامنے آسکیں جو اس وقت اس کا ڈھنڈوراپیٹنے کا باعث بنے ہیں ۔

اس بارے میں ہم پہلے مسلمان حکومتوں اور عوام کے طرز عمل کا تجزیہ مناسب سمجھتے ہیں تاکہ یہ سمجھ سکیں کہ وہ کون سے حالات تھے جو غیروں کی سازشوں اور الزام تراشیوں کو دنیا کی نظروں میں حقیقی باور کرانے میں ممدومعاون بنے اس سلسلہ میں ہم فی الحال دومثالوں پر اکتفاء کرتے ہیں ۔

1۔ایران کا مبینہ اسلامی انقلاب جو 1979ءمیں آیۃاللہ روح خمینی کی تحریک کے نتیجے میں منظرعام پر آیا اس نے نہ صرف ایران میں اپنی متشددانہ کاروائیوں کے ذریعے دنیا کو اسلامی انتہاءپسندی سے چوکنا کرنے میں کلیدی کردارادا کیا، بلکہ امام انقلاب نے دوسرے اسلامی ممالک میں بزورقوت اپنی ناپسندیدہ کاروائیوں سے بے چینی پیدا کر کے اسے پھیلا نے کی کو شش کی لہٰذا مخالفین کو یہ موقعہ ملا کہ وہ اسلام کو ایک "دہشت گرد مذہب"کے طور پر پیش کریں ،اگرچہ بعد ازاں عراق سے جنگ میں شکست کھانے کے سبب ایران کے رویہ میں وقتی طورپر تبدیلی آگئی ہے اور وہ اب اپنے عقیدے اور اصولوں کی نشرو اشاعت کے لیے ہم خیال گروہوں اور جماعتوں سے کام لے رہا ہے جیسے لبنان کی حزب اللہ اور سوڈان کی بعض پارٹیاں ۔تاہم اس کا مشن جاری وساری ہے۔

2۔دوسری طرف مصر میں کچھ عرصہ سے بعض چھوٹے اسلامی گروپوں نے انتہاء پسندی کا رخ اختیار کر لیا ہےجن میں جماعۃ الجہاد،ناجون من النار(آگ سے نجات پانے والے) شوقیون (شہادت کے مشتاق ) شباب محمد (محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے نوجوان )اور حزب اللہ (اللہ کی پارٹی )قابل ذکر ہیں ۔ یہ لو گ اچانک پولیس پر حمہ اور غیر ملکی سیاحوں کو قتل کر کے دہشت گردی کا وہ رویہ اپناتے ہیں جس کی شریعت میں کو ئی گنجائش نہیں ہے۔ اس کا نتیجہ یہ نکلا ہے کہ مصری حکومت نے معتدل دینی جماعتوں سے بھی مذاکرات ختم کر کے اس شر انگزی کو کچلنے کے لیے طاقت کا استعمال شروع کردیا اور بغیر کسی تحقیق اور چھا ن بین کے شہروں اور بستیوں پر اندھا دھند فائرنگ کر کے تباہی مچادی ۔اس سے جہاں بہت سے بے گنا ہ مارے گئے ،وہاں حکومت کے خلاف انتقامی جذبات پیدا ہو کران انتہا ء پسندوں کے بارے میں عوام میں ہمدردی کے جذبات ابھر آئے ہیں لہٰذ حکومت نے ہنگامی قوانین کا سہارا لے کر چھ ہزار سے زیادہ لوگوں کوعدالتی فیصلوں کے بغیر جیلوں میں ڈال دیا ہے بلکہ اکثر کے بارے میں تو مقدمہ چلا نے کی ضرورت ہی محسوس نہیں کی، اس نامناسب طرز عمل نے حالات میں ٹھہراؤپیدا کرنے کی بجائے صورتحال کو مزید بگاڑدیا ہے۔اگرچہ مصری حکومت کی طرف سے انتہاء پسندوں سے گفتگو کے لیے شیخ شعرادی کی سربراہی میں بیس علماء اور دانشوروں پر مشتمل ایک کمیٹی کے قیام کا تازہ اقدام قابل تعریف ہے۔ تاہم یہ اقدام بھی تناؤ میں کمی پیدانہ کرسکا،کیونکہ اسی دوران بعض شرپسندوں نے امن وامان سے متعلقہ ایک بہت بڑے ذمہ دار"اشیمی"کو موقعہ پاکر قتل کر دیا اور ان کی طرف سے وزیر اطلا عات کو قتل کرنے کی کوشش کے علاوہ پولیس اور سیاحوں کے خلا ف سرگرمیاں جاری ہیں ۔اب نظر یہ آتاہے کہ اس دہشت گردی کے خلاف حکومت کی فوجی کاروائیاں اور ان کو کچل دینے کے اقدامات جاری رہیں گے ۔یہی وجہ ہے ایک طرف حکومت نے اسیوط کے گورنر حسن الفی کو وزیر داخلہ مقررکر دیا ہے۔ جو سخت گیرو ں کے ساتھ کسی قسم کی نرمی کے قائل نہیں ہیں اور دوسری طرف پھانسیوں کے دھڑادھڑ اقدامات ہو رہے ہیں ،جس سے اعتدال پسندوں کے ساتھ گفتگو کا کو ئی فائدہ ہو نے کے بجائے دہشت گردی اور انتہاپسندی میں اضافہ ہی ہو گا۔

مذکورہ بالا دومثالوں میں افراط وتفریط کی جو صورتحال سامنے آئی ہے۔ اس کے بالمقابل ہم دیگر دومثالوں سے تصویر کا دوسرارخ پیش کرکے مغرب کے غلط پروپیگنڈے کی نقاب کشائی کرنا بھی ضروری سمجھتے ہیں ۔

اس سلسلے کی پہلی مثال نیویارک کے ورلڈ ٹریڈسنٹر میں بم دھماکہ کا وہ حادثہ ہے جس سے مغربی دنیا میں اسلامی انتہاء پسندی کے خلا ف شدید غیض و غضب پھیلا ہے کیونکہ ابتدائی سطحی تحقیقات کے نتیجے میں اس دھماکہ کا ذمہ دار مصر کی ایک مجاہد تنظیم سے منسوب افراد کو قرار دیا گیا ہے۔حالانکہ امریکی حکومت کے اعلیٰ عہدیدار خود یہ عندیہ بھی دے رہے ہیں کہ ایسا واقعہ کسی چھوٹے ٹولے کی کارگذاری نہیں ہو سکتی بلکہ اس کے پیچھے کو ئی بہت بڑی منظم قوت یا حکومت کا ہاتھ ہے۔(لہٰذا اس واقعہ میں اسلام پسندوں کو بغیر ثبوت ملوث کرنا زیادتی سراسر ہے) دوسری مثال الجزائر میں ہنگامی قوانین کے خلاف اسلا پسندوں کی تشدد کاروائیوں کی صورت میں پیش کی جارہی ہے۔ حالانکہ یہ تسلیم شدہ امرہے کہ الجزائرکے حالات سیاسی دنیا میں معرض وجود میں آنے والے عام واقعات سے یکسر مختلف ہیں کیونکہ الجزائر کا یہ عمومی ردعمل اس وقت ابھراجب وہاں انتخابات کے نتیجے میں اسلام پسندوں کی کامیابی نمایاں ہوئی تو آئینی سیاست کے دروازے بنا کر کے حکومت و قانون پر ہتھیاروں سے قبضہ کرلیا گیا ہے۔

خلاصہ کلام یہ ہے کہ:

1۔اسلامی انتہاپسندی جس کا آج بڑا شہرہ ہے اس کی صرف دومثالیں دی جا سکتی ہیں ۔

(الف)ایرانی انقلاب جواپنے تصورات اور طریق کارمیں معروف اسلامی تحریکوں اور رجحانات کے بالکل الٹ ہے۔

(ب)مصروغیرہ میں بعض انتہاپسند گروپ جو صرف ایک محدود تعداد کی نمائندگی کرتے ہیں اور ان کی تعداد بھی چند سینکڑے سے زیادہ نہیں بلکہ یہ طریق کار خود مصر میں بہت بڑے اسلامی رجحان سے یکسرمختلف ہے کجایہ کہ دوسرے اسلامی ملکوں میں اسلام پسندوں کی یہ روش ہے۔

2۔اس کے بالمقابل مغربی میڈیا کا مبالغہ پر مبنی وہ خوفناک پروپیگنڈا جس کی اندھی تقلید عربی ذرائع ابلا غ بھی کررہے ہیں بالکل غلط ہے۔چنانچہ یہ ذرائع اب باریش نوجوانوں پردہ دار عورتوں کو تلاوت قرآن کریم میں مشغول دکھا کر یہ باور کروا رہے ہیں کہ یہی انتہاء پسند ہیں بلکہ بعض تواس حدتک رنگ آمیز ی کرتے ہیں کہ تمام دینداروں کو اس میں شامل کر دیتے ہیں اور ایسی تصویر کشی کرتے ہیں کہ تمام دیندار انتہاء پسند سازشی اور آئین و حکومت کے لیے خطرہ نظر آئیں ۔اس بات کا بہت بڑا ثبوت یہ ہے کہ جس طرح نیویارک کا بم دھماکہ مغرب میں اسلام مسلمانوں کے خلاف رنج و غصہ کے جذبات ابھارنے کے لیے استعمال کیا گیا ہے اس کے برعکس امریکہ کی ایک ریاست ٹکساس میں کچھ عرصہ قبل ہی ایک انتہاء پسند عیسائی کے ہاتھوں انجام پانے والے سانحہ کے مارےمیں کوئی لب کشائی نہیں کی گئی جس نے نبوت کا دعوی کر کے بیسیوں عورتوں اور بچوں کو قربانی کی بھینٹ چڑھا دیا تھا۔

3۔یہ بھی واضح رہے کہ دین کے نام پر انتہا پسندی اور دہشت گردی کے واقعات زیادہ تر ان ممالک میں پیش آتے ہیں جواپنے عوام کی آزادی کو کچلنے کی کوشش کرتے ہیں اور اس طرح معاشرتی اور اقتصادی میدانوں میں فضا و تاریک کر کے فساد انگیزی کے مرتکب ہو تے ہیں لیکن جب آزادی کی ہوا چلے اور عوام کی اقتدارمیں شرکت ہو وہاں ایسے واقعات نہ ہونے کے برابر ہیں ۔

4۔ مغرب میں اسلامی انتہاءپسندی کے خلاف جنگ کے نام پر جو لہر چل رہی ہے، اس کے پس پرعدعہ حقائق پر تاریک سائے توپڑنے ہی ہیں تاہم اس سے بڑا مقصد یہ نظر آتاہے کہ جب کھچڑی پک کر ٹھنڈی ہوجا ئے تومڈل ایسٹ کواسرائیل کے ساتھ پر امن بقائے باہم باور صلح پر تیار کیا جا ئے اور اس طرح مغربی سازشوں کے خلاف ہر قسم کے جدوجہد کا خاتمہ کر دیا جا ئے جس میں پہلانمبر ان اسلامی تحریکوں کا ہے۔ جو اس علاقے میں صلح کی ایسی کاروائیوں کے منصوبے کے سامنے پل باندھے ہوئے ہیں ۔اس سازش کی بہت بڑی دلیل یہ ہے کہ اسرائیل کے وزیر اعظم اسحق رابن نے اسلامی انتہاءپسندی کے خلاف مصر اور امریکہ کو مل کر منظم کوشش کرنے کی تجویز پیش کی ہے ۔کیا ہمارے مخلص رہنما اسلام کے خلاف اس خطرناک منصوبے کی گہرائیوں کا اندازہ کریں گے یا بغیر سوچے مغربی پروپیگنڈے کے پیچھے ہی چلتے رہیں گے!؟(اخذو ترجمہ "الفرقان"کویت)

دامن کو تار تار کئے جارہا ہوں میں

اشک وفا نثار کئے جارہا ہوں میں دید جمال یار کئے جارہا ہوں میں

ہستی کا اعتبار کئے جارہا ہوں میں خود کوگناہنگار کئے جارہا ہوں میں

تشریح نوبہار کئے جارہا ہوں میں دامن کوتارتار کئے جارہا ہوں میں

کیوں دل کو بے قرار کئے جارہا ہوں میں کیوں آنکھ اشکبار کئے جارہا ہوں میں

روز جزا کے غم میں گناہوں کی فکر میں قلب وجگر فگار کئے جارہا ہوں میں

اٹھنے لگی ہیں مجھ پہ زمانے کی انگلیاں وہ راہ اختیار کئے جارہا ہوں میں

ہاں منزل مراد تری رہ گزر پہ ہے ظاہر وہ رہ گزار کئے جارہا ہوں میں

تیرے ہر ایک حال کو آخر زوال ہے تجھ پر یہ آشکار کئے جارہا ہوں میں

پیش نگاہ جرم ہیں یوم حساب ہے

رحمت کا انتظار کئے جارہا ہوں میں