ممکن ہے بعض 'حقیقت پسند' دانشور اس تصور سے اتفاق نہ کریں کہ عظیم تباہی بھی کسی قوم کی ترقی یا روشن مستقبل کا پیش خیمہ ہوسکتی ہے۔ پاکستان میں انسانی تاریخ کے سب سے بڑے سیلاب کی ہولناکی اور تباہ کاری کا مشاہدہ کرنے کے بعد اگر کوئی یہ خواب دیکھتا ہے کہ یہ تباہی خوش حالی کے نتائج بھی سامنے لاسکتی ہے تو اسے 'غیر متوازن رجائیت پسندی' اور بہت حد تک 'دیوانہ وار رومانویت' کا نام دینے والے اصحاب بھی کم نہیں ہیں۔

ہمارے ہاں اس وقت مایوسی اور بے دلی کی فضا نے پوری قوم کے اَعصاب کو متاثر کیا ہوا ہے۔ اسی لیے اس طرح کے بیانات بھی اَخبارات میں پڑھنے کو ملتے ہیں کہ سیلاب نے پاکستان کو پچاس سال پیچھے دھکیل دیا ہے۔اگر وسیع پیمانے پر معاشی تباہی اور بربادی کے مناظر کو ذہن میں رکھا جائے تو ان بیانات کی معنویت بھی سمجھ میں آتی ہے۔

مگر یہ فکرونظر کا صرف ایک رخ ہے۔فکر و تدبر کے قافلۂ سخت جان کے کچھ راہی ایسے بھی ہیں جن کی نگاہیں مستقبل کے امکانات کو دیکھنے میں مصروف ہیں۔ وہ اس انسانی تباہی پر دل گرفتہ تو ہیں،مگر مایوس نہیں ہیں۔ان کی سوچ کا انداز ایک ذہین اور پراعتماد سرجن کاسا ہوتا ہے جو ایک حادثے میں شدید زخمی اور مسخ شدہ اعضا کے حامل مریض کو بھی مستقبل قریب میں ایک چلتے پھرتے انسان کے روپ میں دیکھنے کی بصیرت رکھتاہے۔ وہ اس تباہی کو ایک ناگزیر حقیقت سمجھتے ہوئے بھی مستقبل میں ترقی کے دریچوںکو کھلتے ہوئے دیکھنے کا 'وِژن' رکھتے ہیں۔ وہ سوچتے ہیں، کیا بعید ہے کہ ہماری قوم اس تباہی کے بعد جمود کو توڑ کر حرکت و جدوجہد کے ایسے راستوں پر گامزن ہوجائے جو اس کی موجودہ تباہی کے مناظر مٹا کر اَرضِ پاک پر خوش حالی کے چمن آباد کر دے۔

مظفرگڑھ میں سیلاب زدگان کے درمیان ایک ہفتہ سے زیادہ قیام کے دوران راقم الحروف کے ذہن میں باربار یہ سوال پیدا ہوتا رہا کہ کیا ہم اس ہولناک تباہی کو ترقی کے مواقع میں تبدیل کرسکتے ہیں؟ کیا ایسا خیال کرنا محض ایک دیوانے کا خواب ہے یا یہ ممکن العمل ہے؟ یہ سوال اتنا آسان نہیں کہ جس کا آسانی سے جواب دیا جاسکے۔ انسان کو بار بار قنوطیت اور رجائیت کے درمیان سرگرداں رہنا پڑتا ہے۔بالآخر ایک دن تونسہ پنجند کینال کے تباہ کن شگاف کا نظارہ کرتے ہوئے راقم الحروف کو اضطراری کیفیت میں انشراحِ صدر ہوا کہ ایسا نہ صرف ممکن ہے بلکہ انتہائی ضروری ہے۔

تاریخ گواہ ہے کہ انسان بارہا تباہی و ہلاکت سے دوچار ہونے کے بعد تہذیب و ترقی کے منازل طے کرنے کے قابل ہوگیا۔ اس کو آپ حسنِ اتفاق کہیے یا تائید ِایزدی کہ اُسی شب مشہور یورپی مؤرخ ہٹنگٹن(Hutington)کی درج ذیل سطور راقم کی نگاہ سے گزریں جس میں اُس نے یورپ کی نشاۃ ِثانیہ (Rennaissance) کی نہایت دلچسپ توجیہ پیش کی ہے، وہ لکھتا ہے :

''چودہویں صدی عیسوی میں کیلی فورنیا سے یورپ تک برق و باراں کے جو شدید طوفان آئے، ان کے باعث یورپی انسان اچانک ذہنی طور پر فعال ہوگیااور ایک ایسی نئی قوت سے لیس ہوکر، جو اس کے باطن کی پیداوار تھی، تخلیقی سطح پر سانس لینے لگا۔ تاریخ دانوں کے لیے یہ مسئلہ ہمیشہ لاینحل رہا ہے کہ[ مغرب میں] نشاۃ ِ ثانیہ کا دور یوں اچانک کس طرح نمودار ہوگیا، لیکن اس دور کی آمد کوبرق و باراں کے طوفان سے منسلک کرکے دیکھا جائے تو شاید اس سے گم شدہ کڑی کا سراغ مل جائے۔'' (Mainsprings of Civilization p.612)

یہ اقتباس ڈاکٹر وزیرعلی آغا، جن کا چند ہفتے قبل انتقال ہوا ہے، نے اپنی فکرانگیز کتاب 'تخلیق ِعمل' میں درج کیا ہے۔ وہ ہٹنگٹن کی اس رائے پر تبصرہ کرتے ہوئے لکھتے ہیں:

''بایں ہمہ نشاۃ ثانیہ کے دور کو محض برق و باراں کے طوفانوں کا نتیجہ قرار نہیں دیا جاسکتا، گو ان کی اہمیت سے انکار ممکن نہیں۔''

یورپ کے متعلق کہا جاتا ہے کہ ہزار سالہ 'تاریک عہد' سے گزر کر یہ 'نشاۃ ِثانیہ' کے دور میں داخل ہوا۔ اس ارتقا کے پس پشت بلا شبہ متعدد اَسباب و عوامل کارفرما ہوں گے، مگر ایک مایہ ناز یورپی مؤرخ کے قلم سے برق وباراں کے شدید طوفانوں کو اس تاریخی تبدیلی کا ایک اہم محرک قرار دینا بھی توجہ کے لائق ہے۔ راقم الحروف چونکہ خود اسی سیلاب زدہ ماحول میں موجود اور انہی خطوط پر سوچ رہا تھا، لہٰذا ان سطور کے پڑھنے کے بعد اُسے نہ صرف بے پایاں مسرت حاصل ہوئی بلکہ ایک تاریخی شہادت بھی مل گئی کہ برق و باراں کے طوفان یورپ میں ایک نئی زندگی کا پیش خیمہ ہوسکتے ہیں تو اکیسویں صدی میں پاکستانی قوم اس تباہی کو ترقی کے مواقع میںکیوں تبدیل نہیں کرسکتی؟

یہ بات قابل ذکر ہے کہ جنوبی پنجاب اور سندھ کے جن علاقوں میں سیلاب نے تباہی پھیلائی ہے، وہ تہذیبی اور معاشی اعتبار سے دیگر علاقوں کی نسبت پسماندہ ہیں۔ راقم الحروف کو سیلاب زدگان کی حالت دیکھ کر جن صدمات سے گزرنا پڑا، ان میں سے ایک صدمہ یہ بھی ہے کہ اُسے بار بار احساس ہوتا تھا گویا کہ وہ روانڈا جیسے کسی افریقی ملک کے تباہ حال باشندوں کے درمیان پھر رہا ہے۔ سچی بات یہ ہے کہ لاہور اور اسلام آباد میں رہنے والے لاکھوں پاکستانیوں کو پہلی دفعہ میڈیا میں دیکھ کر یہ احساس ہوا ہے کہ ان کے کڑوڑوں اہل وطن غربت، جہالت اور پسماندگی کی کن حالتوں میں زندہ رہنے پر مجبور ہیں۔

مظفرگڑھ کا تقریباً ۷۰ فیصد علاقہ زیر آب رہا ہے۔ ان میں سے ایک علاقہ کا نام موضع لوہانچ ہیـ۔یہ مظفرگڑھ سے شمال کی جانب تقریباً ۲۵ کلومیٹر کے فاصلے پرہے۔یہ موضع دریاے چناب کے درمیان ایک جزیرے کی حیثیت رکھتا ہے، کیونکہ یہاں یہ دریا دو شاخوں میں تقسیم ہوکر بہتا ہے۔ دریا کے پار مشرقی جانب محض چند کلومیٹر کے فاصلے پر ملتان شہر واقع ہے۔مغرب کے جانب بستی لنگر سرائے ہے جہاں تعلیم اور صحت کی سہولیات میسر ہیں۔ مگر موضع لوہانچ کے لوگ ثقافتی اعتبار سے ابھی تک 'دریائی مخلوق'کا درجہ رکھتے ہیں۔معمولی درجہ کی کاشتکاری ان کا واحد ذریعہ آمدنی ہے۔حیرت ہے یہ لوگ اسی جزیرے تک محدود ہیں۔ سیلاب کی وجہ سے پہلی دفعہ ان کونقل مکانی کرنی پڑی۔ ان کا لباس اور معاشرت دیکھ کر لگتا ہے گویا ہزار سال پہلے کے لوگ ہیں۔اُنہیں دیکھ کر امریکہ کے ریڈانڈین یاد آتے ہیں۔ نجانے موضع لوہانچ کی طرح کے کتنے علاقے ہیںجو ہماری نگاہوں سے اب تک اوجھل رہے ہیں۔ بڑے شہروں کی چکاچوند تہذیب نے ہماری قومی بصارت کو شاید چندھیا کر رکھ دیا ہے کہ ہم اپنے وطن کے 'ریڈانڈین' کوابھی تک نہیں دیکھ سکے ہیں۔ اب سیلاب نے اُنہیں اپنے کچے برباد گھروں سے نکلنے پر مجبور کیا ہے تو ہمیں کچھ اندازہ ہوا ہے کہ پاکستان میں اس طرح کے لوگ بھی بستے ہیں۔ شاید یہ آگاہی بھی غنیمت ثابت ہو۔ راقم الحروف نے دوستوں کے ساتھ مل کر موضع لوہانچ میں اصلاحِ احوال کی ذمہ داری اُٹھانے کا فیصلہ کیا۔ ان شاء اللہ اس جزیرے میں بھی علم کی روشنی پھیلے گی اور تہذیب کی ہوائیں چلیں گی۔

ہم سیلاب کے نتیجے میں رونما ہونے والی تباہی کو ترقی کے 'سنہرے موقع' کے طور پراستعمال کیسے کرسکتے ہیں؟یا دوسرا سوال یوں اُٹھایا جاسکتا ہے کہ سینکڑوں سال سے پسماندگی کا شکار یہ لوگ ترقی کے خواب کیونکر دیکھ سکتے ہیں؟ہمارا خیال ہے کہ 'معاشی جبر' اور 'تہذیبی جبر' بذاتِ خود قوموں میں تبدیلی کے عمل کو مہمیز دیتے ہیں۔انسان میں زندہ رہنے کی جبلت بہت قوی ہے۔ لہٰذا معاشی ضروریات کی تکمیل اُسے جدوجہد پراُکساتی ہے۔ وہ لوگ جو کچے گھروں میں رہ کر محض دو وقت کی نان جویں پر توکل کئے ہوئے تھے، اب اُنہیں زندہ رہنے اور سرچھپانے کے لیے ہاتھ پاؤں مارنے پڑیں گے۔ سیلاب زدہ علاقوں کے متاثرین کراچی اور لاہور جیسے شہروں کا رخ کریں گے۔ مستقبل قریب میں دیہاتوں سے شہروں کی طرف نقل مکانی کا عمل تیزی سے بڑھے گا۔ محنت سستی ہونے کی وجہ سے نئی صنعتیں وجود میں آئیں گی۔ حکومت کوملکی اور غیر ملکی سرمائے سے لاکھوں مکانات تعمیر کرنے پڑیں گے۔ لاکھوں ایسے لوگ بھی ہوں گے جو کچے گھروں میں رہتے تھے،اب پکے گھروں میں رہنا شروع کریں گے۔ سیلاب زدہ علاقوں میں ملکی اور غیر ملکی اداروں کی متواتر مداخلت اور آمدورفت سے پسماندہ لوگوں میں ترقی کرنے کی خواہش جنم لے گی۔ اس ارتباط سے تہذیبی تبدیلی رونما ہوگی۔

اگر تعلیم اور صحت کی بہترسہولتیں فراہم کردی جائیں تو ان علاقوں میںذہنی تبدیلی ناگزیر ہوجائے گی۔ مکانات، سڑکیں،پل وغیرہ کی تعمیر کے لیے افرادی قوت کی ضرورت پڑے گی جو ان علاقوں کے غریب خاندانوں کے روزگار کا باعث بنے گی۔اس بات کا اِمکان ہے کہ بہت سے خاندانوں کو مناسب سرمایہ مل جائے گا جس سے وہ چھوٹا موٹا کاروبار شروع کرسکیں گے۔معاشی ترقی کے لیے دل کھول کر مسلمان بھائیوں کی امداد بہت ضروری ہے۔

ڈویلپمنٹ ایڈمنسٹریشن کے ماہرین اس بات پر متفق ہیں کہ ایک غریب اس وقت تک غریب ہی رہے گا جب تک کہ اُسے اضافی سرمایہ یا اضافی مواقع فراہم نہیں کردیئے جاتے۔ مستقبل کی حکومتیں ان علاقوں کی ترقی کو نظر انداز نہیںکرسکیں گی۔ ذرائع ابلاغ بھی ان پسماندہ علاقوں کے عوام میں آگاہی اور شعور پیدا کرنے میں اپنا کردار ادا کریں گے، ان کے مسائل کو اُجاگر کرتے رہیں گے جس سے حکومتوں پر مسلسل دباؤ رہے گا کہ وہ اپنی ذمہ داریاں پوری کریں، جگہ جگہ ماڈل ویلج بن جائیں گے جوقرب و جوار کی معاشرت پر مثبت طور پر اثرانداز ہوں گے۔ دریاؤں کے کنارے آبادیاں بسانے کی حوصلہ شکنی ہوگی۔کچے کے علاقوں سے لوگ نقل مکانی کرجائیں گے۔

مستقبل قریب میں پاکستان میں ترقیاتی منصوبہ بندی کے خدوخال بدل جائیں گے۔ سیلاب کی تباہی سے محفوظ رہنے کے لیے منصوبے بنانا ناگزیر ہوجائے گا۔ عین ممکن ہے کہ کالا باغ ڈیم کی تعمیر کی مخالفت کرنے والے خاموش ہوجائیں۔ جنوبی پنجاب، سندھ و بلوچستان کے سیلاب زدہ علاقوں میں کالا باغ ڈیم کی تعمیر کے لیے تحریکیں چلنے کا قوی امکان ہے۔ عوام کے غیظ و غضب کے سامنے کالا باغ ڈیم پر ہونے والی سیاست اپنی موت آپ مرجائے گی۔ یہاں یہ بات پیش نظر رہنی چاہئے کہ پاکستان میں سیلاب کی اتنی بڑی تباہی صرف تین لاکھ کیوسک اِضافی پانی کا بندوبست نہ کرسکنے کی وجہ سے رونما ہوئی ہے جبکہ صرف کالا باغ ڈیم میں گیارہ لاکھ کیوسک پانی کو ذخیرہ کرنے کی گنجائش ہوگی۔ اگر اس سیلاب کی تباہی سے عبرت حاصل کرکے ہم کالا باغ ڈیم کی تعمیر کا آغاز کردیتے ہیں تو ہم سمجھتے ہیں کہ اس تباہی کو'سنہری موقع' میں بدلنے کی یہ ایک اہم صورت ہوسکتی ہے۔

علامہ اقبالؒ جب اسپین گئے تو اُنہوں نے اُندلس کے سب سے بڑے دریا وادي الکبیر کے کنارے اُسے مخاطب کرتے ہوئے اُمت ِمسلمہ کی ترقی کا خواب دیکھا تھا۔ اُنہوں نے فرمایا تھا:

اے آبِ روان کبیر!

تیرے کنارے کوئی

دیکھ رہا ہے کسی اور زمانے کا خواب

تونسہ پنجند کینال کے کنارے کھڑے ہوکر راقم الحروف نے سیلاب کی ہولناک تباہیوں کے بعد پاکستانی عوام کی ترقی کا جو خواب دیکھا، اُسے ان سطور میں بیان کرنے کی کاوش کی ہے۔ اللہ سے دعا ہے کہ وہ ہمارے ان خوابوں کو حقیقت میں بدلنے کی توفیق اَرزاں فرمائے۔ اور ہمیں لگنے والا یہ سنگین دھچکا ہمیں اللہ کی طرف لوٹانے کا سبب بن جائے۔ آمین !