Mohaddis-341-Sep,Oct2010

میرے پسندیدہ۔۔

اس صفحہ کو پسند کرنے کے لیے لاگ ان کریں۔



زبان دانی کے لیے لغت بنیادی اہمیت رکھتی ہے۔ اس کے ذریعے الفاظ کے معانی جاننے میں مدد ملتی ہے۔ عربی زبان کے حوالے سے لغت کی دو اَقسام ہیں:

aعام لغت b قرآنی لغت

اگرچہ دونوں کا تعلق عربی زبان سے ہے، لیکن دونوں میں فرق ہے۔ عام لغت عربی زبان کے تمام الفاظ سے بحث کرتی ہے جبکہ قرآنی لغت کا تعلق صرف ان الفاظ سے ہوتا ہے جو قرآنِ مجید میں استعمال ہوئے ہوں۔ ضروری نہیں کہ قرآنِ مجید میں عربی کے تمام الفاظ ہی مستعمل ہوں،اس لیے لغت ِقرآنی کا موضوع محدود ہے۔یعنی صرف ان الفاظ کی تشریح و تعبیر جو قرآن حکیم کی ۱۱۴؍ سورتوں میں واردہوئے ہیں۔

عام قدیم لغات میں لسان العرب،تاج العروس اور قاموسبہت شہرت کی حامل کتابیں ہیں۔ تاج العروس اصلاً قاموس کی شرح ہے، یہ لسان العرب کے بعد مرتب ہوئی۔ لہٰذا تاج العروس سب سے آخری لغت ہے۔ اس میں تمام قدیم لغات کا خلاصہ آگیا ہے جو کئی ضخیم جلدوں پر مشتمل ہے۔

اگرچہ لغت کی عام کتب سے بھی قرآنی الفاظ کے معانی معلوم کئے جا سکتے ہیں، تاہم خاص قرآنی الفاظ کے حوالے سے بھی اہل علم نے مستقل کتب لکھیں جن کو' قرآنی لغات' کہا جاتا ہے۔ اس موضوع پرماضی بعید میں جن اکابر نے کام کیا، ان میں زجاج، فرا، اخفش، ابوعبیدہ، ابن قتیبہ، ابو عمرو، زاہد ابن درید، ابوبکر ابن الانباری اور عزیز جیسے مشاہیر اہل علم شامل ہیں۔یہ تمام کتب اس وقت ناپید ہیں۔ تاہم اس حوالے سے دستیاب قدیم ترین کتاب علامہ راغب ؒاصفہانی کی ہے جو 'مفرداتِ امام راغبؒ' کے نام سے معروف ہے۔ اس کتاب کو علامہ جلال الدین سیوطیؒ نے اہم ترین کتاب قرار دیا ہے۔ اس کا پورا نام المُفردات في غرائب القرآنہے۔ امام راغبؒ اصلاً اصفہان کے رہنے والے تھے۔ ان کا سن ولادت بھول بھلیوں کا شکار ہے۔ البتہ ان کا انتقال ۵۰۲ھ میں ہوا اور ان کا بیشتر زمانہ بغداد میں گزرا۔ امام راغب اصفہانیؒ کا پورا نام شیخ ابو القاسم حسین بن محمد بن افضل ہے۔ آپ راغب اصفہانی ؒکے نام سے معروف ہیں۔ علامہ ذہبیؒ نے ان کا تذکرہطبقات المفسرینمیں کیا ہے۔جبکہ علامہ جلال الدین سیوطیؒ نے موصوف کو لغت ونحو کا امام بھی کہا ہے۔ان کے علاوہ دیگر اہل قلم نے بھی ان کو مختلف علوم و فنون کا امام قرار دیا ہے۔ جس سے اندازہ ہوتا ہے کہ امام راغب جامع الصفات بلکہ ہمہ صفات علمی شخصیت تھے۔آپکی چند اہم تالیفات حسب ذیل ہیں:

a محاضرات الأدبائ b جامع التفسیر

c حل متشابہات القران d الذریعۃ إلیٰ مکارم الشریعۃ

e درۃ التأویل في غرۃ التنزیل f تحقیق البیان في تأویل القران

g کتاب احتجاج القرائ h المفردات في غرائب القرآن

لیکن یہ بات مسلّم ہے کہ جو قبولیت المُفردات کو حاصل ہوئی، وہ دوسری کسی کتاب کو حاصل نہ ہو سکی۔ پاکستان میں اس کتاب کے اَن گنت ایڈیشن شائع ہوئے۔

یہ بات بھی پورے وثوق سے کہی جا سکتی ہے کہ وہ تمام حضرات جنہوں نے لغات القرآن پر کام کیا ہے، وہ سب اس میدان میں مفردات امام راغب کی اہمیت کے قائل ہیں۔بلکہ ہر ایک نے اپنی لغت کی بنیاد اسی کتاب پر رکھی ہے۔چنانچہ لغات القرآن کے مؤلف عبدالرشید نعمانی جن کو یہ دعویٰ ہے کہ ان کی لکھی 'لغات القرآن' اُردو زبان کی پہلی کتاب ہے۔وہ لکھتے ہیں:

''الفاظِ قرآن کے معانی اور ان کی تحقیق میں میرا جو کچھ سرمایہ ہے، وہ بڑی حد تک امام راغب اصفہانی کی کتاب مفردات غریب القرآن ہے۔''

اسی طرح مؤلف ِ لسان القرآن مولانا محمد حنیف ندوی نے لکھا ہے کہ

''ہم نے زیر غور تشریح کے ضمن میں مستند تفاسیر کتب اَحادیث اور اُمہاتِ لغت سے بھی خاصی مدد لی ہے۔ جن میں تاج العروس، لسان العرب، مقاییس اللغۃ، اَساس البلاغہ اورمفرداتِ امام راغبؒ سر فہرست ہیں۔''

اس بات میں کوئی شک نہیں کہ قرآنی لغت کے بارے میں قدیم ترین دستیاب علمی کتاب مفردات القرآن ہی ہے۔جس کے مؤلف حضرت امام راغب اصفہانیؒ ہیں اور قرآنی الفاظ کے معانی متعین کرنے کے لیے عموماً علما اسی کی طرف رجوع کرتے ہیں۔

تاہم اس موضوع پر دیگر اہلِ علم نے بھی قلم اٹھایا ہے۔ ان میں چند کتب کا تذکرہ ذیلی سطور میں لکھا جاتا ہے۔ یاد رہے کہ ہم نے اس موضوع کے حوالے سے بحث کو محدود رکھا ہے اور صرف ان کتب کا ذکر کیا ہے جو کہ پاکستان میں طبع ہوئیں:

a لغات القرآن مع فہرست ِالفاظ

یہ کتاب مولانا محمد عبدالرشید نعمانی کی تالیف ہے۔ جسے مکتبہ حسن سہیل،لاہور نے شائع کیا ہے۔ مؤلف محمد عبدالرشید نعمانی کو اس بات کا اِدعا ہے کہ یہ اردو زبان میں لغاتِ قرآن پر پہلی کتاب ہے۔ اس سے قبل اُردو زبان میں اس موضوع پر کوئی کتاب لکھی نہیں گئی۔ وہ لکھتے ہیں:

''معلوم ہے کہ اس قسم کی علمی اور تحقیقی تصنیف سے اس وقت تک اُردو زبان کا دامن یکسر خالی ہے۔''

اس کتاب کی قدامت یا اَوّلیت کے بارے میں ہم حتمی رائے قائم نہیں کر سکتے، کیونکہ پیش نظرنسخے میں کسی جگہ سنِ طباعت مذکور نہیں ہے۔ تاہم ہماری معلومات کے مطابق لغت قرآنی کے حوالے سے ایک کتاب شاہ عبدالقادر محدث دہلویؒ نے لکھی۔ اس کتاب کو مفتی ممتاز علی میرٹھی نے ۱۲۹۸ھ میں اپنے مطبع مجتبائی دہلی سے قرآنِ مجید کے حاشیہ پر طبع کیا تھا۔ غالباً یہی تصنیف قرآنی لغت کے اعتبار سے پہلی قرار دی جا سکتی ہے،کیونکہ عبدالرشید نعمانی کا زمانہ بہت بعد کا ہے جبکہ شاہ عبدالقادر ؒ کا دورِ حیات قدیم ہے۔ عبدالرشید نعمانی عقلی طور پراس دور کو نہیں پہنچ پاتے۔

یہ قرآنِ مجید میں مذکور ہر لفظ کے لغوی معنی پر بحث کرتے ہیں اور پھر ساتھ ہی اس لفظ کے بارے میں ان مقامات کی نشاندہی بھی کرتے ہیں کہ جہاں جہاں وہ لفظ استعمال ہوا ہے۔ اس معاملے میں اُنہوں نے نجوم الفرقان کو بنیاد بنایا ہے جو ملّامصطفی ابن سعید کی تالیف ہے۔اسے اسلامی اکادمی، لاہور نے ۱۹۷۹ء میں شائع کیا۔صاحب ِلغات القرآن نے بعض پہلے سے متداول قرآنی لغات کے اَسقام کا بھی ذکر کیا ہے جن کی وجہ سے قاری کو دشواری پیش آتی تھی۔ اُن کا کہنا ہے کہ اُنہوں نے ان اسقام کو دور کر دیا ہے۔ اس طرح الفاظ کی تلاش میں آسانی پیدا ہو جاتی ہے۔چنانچہ اُنہوں نے ہر لفظ سے متعلق پارہ اور رکوع کا حوالہ درج کر دیا ہے۔ وہ علامت پارہ کے لیے (ب یا پ) کا نشان لکھتے ہیںاور اس کے اوپر مذکورہ پارہ کا عدد تحریر کرتے ہیں۔ مثلاً ب۳ کا مطلب ہوگا تیسرا پارہ اور اس کے نیچے پارہ کا رکوع لکھا ہوگا۔ یعنی (ب۳/۶) اس کا مطلب ہے: تیسرے پارے کا چھٹا رکوع۔

اگرچہ اسی اندازکی ایک فہرست نُجوم الفرقان کے نام سے بھی موجود ہے جو عرصہ سے اہل علم میں متداول رہی ہے، لیکن صاحب ِلغات القرآن عبدالرشید نعمانی کا کہنا ہے کہ اس میں بعض الفاظ ملتے ہی نہیں۔اس سلسلے میں اُنہوں نے چند الفاظ کی مثال دی ہے کہ وہ اس میں نہیں ہیں۔ لہٰذا اُنہوں نے تمام الفاظ کو الگ الگ لکھنے کا اہتمام کیا ہے۔

'لغات القرآن' میں الفاظِ قرآنی کے لغوی معانی سے بھی بحث کی گئی ہے اور ساتھ ہی الفاظ کی فہرست بھی دی گئی ہے۔اس طرح لغاتُ القرآن میں لغوی معانی کے ساتھ ساتھ مقامات کی نشاندہی بھی موجود ہے۔درج ذیل مثالیں ملاحظہ ہوں:

اَسْلَمُوْا وہ تابع ہوئے، وہ حکم بردار ہوئے، مسلمان ہوئے۔

اسلام سے ماضی کا صیغہ جمع مذکر غائب ب ۳؍۱۰ ،ب۶؍۱۱،ب۲۶؍۱۴

ان تمام علامات سے مراد ہے کہ لفظ اَسْلَمُوْا قرآن مجید میں تین مقامات پر استعمال ہوا ۔ یعنی تیسرے پارے کے دسویں رکوع میں، چھٹے پارے کے گیارھویں رکوع میں اور چھبیسویں پارے کے چودھویں رکوع میں۔ اسی طرح :

اَسْمِــــعْکیا خوب سنتا ہے۔ قرآن مجید میں فعل تعجب ہو کر مستعمل ہوا۔

آیت شریفہ اَبْصِرْبه واَسْمِعْ (کیا خوب دیکھتا اور سنتا ہے) میں ہے۔ ب۱۵؍۱۶

کہیں کہیں صاحب ِلغات القرآن الفاظ کے معانی بیان کرنے پر ہی اکتفا نہیں بلکہ تشریح و توضیح میں بھی بہت دور تک چلے جاتے ہیں۔ جس کی وجہ سے الفاظ کے معانی تلاش کرنے والے کو بہت سی زائد معلومات غیر مطلوب انداز میں ملتی ہیں۔اس سے معلومات میں اضافہ تو یقینا ہوتاہے تاہم قاری کی طبیعت پر کچھ زائد از ضرورت بوجھ بھی پڑتا ہے۔مثلاً موصوف نے لفظ اسمٰعیل کے ذیل میں طویل بحث کی ہے۔ اور حضرت اسمٰعیل ؑ کا پورا واقعہ تفصیل سے درج کیا ہے جو تقریباً سات صفحات تک ممتدہے۔اصل مقصود اس لفظ کی نشاندہی سب سے آخر میں اس طرح مندرج ہے:ب ۱۵۱؍۱۶، ب۱۷۳،ب ۳۶،ب۱۶۷،ب۷۱۶، ب۶۱۷،ب۳۲۳

ظاہر ہے ایسے مقامات پر لغات القرآن محض قرآنی لغت نہیںبلکہ قرآنی تفسیر محسوس ہوتی ہے۔جبکہ لغت القرآن کے طالب کا مقصود تو صرف الفاظ قرآنی کی لغوی بحث تک ہی محدود ہوتا ہے۔اس جگہ ہم یہ بات ضرور کہہ سکتے ہیں کہ صاحب ِلغات القرآن اپنے اس ادعا میں ضرور کامیاب رہے ہیں کہ

''ان شاء اﷲ تعالیٰ عوام کے لیے الفاظ کا ترجمہ، متوسطین کے لیے ماخذ ِاشتقاق، صیغوں کا تعین اورمعانی کی ضروری تشریح و تفصیل اور خواص کے لیے اس کے علمی مباحث دلچسپی کا باعث ہوں گے۔ ایک مدرّس اس کتاب کو ہاتھ میں لے کر قرآنِ مجید کا درس دے سکتا ہے۔ ایک طالب ِعلم اس کے ذریعہ اُستاد کے دیئے ہوئے قرآنی سبق کو اچھی طرح یاد کر سکتا ہے اور ایک عام آدمی اس کے مطالعہ سے اپنی فہم کے مطابق قرآنِ مجید کو بخوبی سمجھ سکتا ہے۔''

لیکن اس صورت میں اس کتاب کو محض لغات القرآن کا نام دینا شاید درست نہ ہو، کیونکہ یہ نام کتاب کے اہداف کو محدود کر دیتا ہے۔جبکہ کتاب کے مندرجات اس حد بندی کی پابندی نہیں کرتے۔

b لغات القرآن

یہ لغت چودھری غلام احمد پرویز کی تصنیف ہے۔آپ پاکستان میں اس مکتب ِفکر کے سرخیل خیال کیے جاتے ہیں جو اہل قرآن کہلاتا ہے اور حدیث ِرسول کو روایات قرار دے کر نظر انداز کردیتا ہے۔ قرآن کی تشریح و تفسیر میں اَحادیث کو حجت خیال نہیں کرتا۔ اسی لیے اس کتاب کے سرورق پر یہ تحریر مندرج ہے:''لغات القرآن ... قرآنی مطالب کا انسا ئیکلوپیڈیا''

جس میں قرآنِ کریم کے تمام الفاظ کے معانی و مطالب مستند کتب ِلغت کی بنیاد پر اس انداز سے متعین کئے گئے ہیں کہ قرآن جو تصورات پیش کرتا ہے، ان کا مکمل نقشہ سامنے آجائے اور اس کا صحیح مفہوم سمجھنے میں کوئی اُلجھاؤ پیدا نہ ہو۔

اس کتاب کو ادارہ طلوع اسلام، ۲۵بی، گلبرگ،لاہور نے شائع کیا۔جو اس تحریک کا مرکز رہا ہے اور اب بھی ہے۔ یہ لغت پہلی مرتبہ مارچ ۱۹۶۰ء میں شائع ہوئی۔ اس کتاب کے آغاز میں عربی گرامر کے کچھ بنیادی قواعد مندرج ہیں۔ اس کے بعد قرآنِ مجید میں مستعمل الفاظ کی فہرست دی گئی ہے اور ان الفاظ کے سامنے اس لفظ کا مادہ اشتقاق بھی لکھ دیا گیا ہے۔ تاکہ کسی لفظ کو تلاش کرنے والے شخص کے لیے اس لفظ کو ڈھونڈنا آسان ہو سکے۔ عربی گرامر کی بحث صفحہ ۱ سے لے کر صفحہ ۷۳ تک ممتد ہے، لیکن عربی گرامر کی بحث سے قبل ۳۴ صفحات پر مشتمل پیش لفظ لکھا گیا ہے جس میں قرآن کریم کے معانی و مفہوم کو متعین کرنے کے طریق کار پر مفصل بحث کی گئی ہے۔جس کا خلاصہ صاحب کتاب ہی کے الفاظ میں اسطرح بیان ہوا ہے:

(الف)''سب سے پہلے متعلقہ لفظ کے مادہ کو دیکھا جائے کہ اس کا بنیادی مفہوم کیا ہے اور خصوصیت کیا۔ اس مادہ کی شکلیں کتنی ہی کیوں نہ بدلیں، اس کی خصوصیت کی روح بالعموم ہر پیکر میں جھلکتی رہے گی۔

(ب)اس کے بعد دیکھا جائے کہ صحرا نشین عربوں کے ہاں اس لفظ کا استعمال کس کس انداز میں ہوتا تھا۔ ان کے استعمال کی محسوس مثالوں سے یہ معلوم ہو جائے گا کہ ان کے ہاں اس مادہ کا تصور (Concept) کیا تھا۔ واضح رہے کہ جب تک تصورات (Concepts) کا تعین نہ کیا جائے، الفاظ کا صحیح مفہوم سمجھ میں نہیں آسکتا۔ یہ وہ بنیادی اُصول ہے جس پر دورِ حاضرہ میںSemantics نے بڑی عمدہ روشنی ڈالی ہے۔ علم اللسان کے اس شعبہ کا مطالعہ، الفاظ کی روح تک پہنچنے میں بڑا ممد و معاون ثابت ہوتا ہے۔

(ج)اس کے بعدیہ دیکھنا چاہیے کہ قرآنِ کریم میں وہ لفظ کس کس مقام پر آیا ہے اور اس نے اسے کس کس رنگ میں استعمال کیا ہے۔ان مقامات سے اس لفظ کا قرآنی تصور (Quranic Concept) سامنے آ جائے گا۔

(د)سب سے بڑی چیز یہ کہ قرآنِ کریم کی پوری تعلیم کا مجموعی تصور سامنے ہونا چاہئے اور اس بنیادی اُصول کو ہمیشہ پیش نظر رکھنا چاہیے کہ اس سے مفردات اور اصطلاحات کا مفہوم اس کی مجموعی تعلیم کے خلاف نہ جائے۔اس لیے کہ قرآن کا دعویٰ ہے کہ اس میں کوئی اختلاف نہیں۔یہ اسی صورت میں ہو سکتا ہے کہ ذہن کو خارجی اثرات سے الگ رکھ کر قرآن کا مطالعہ خود قرآن کی روشنی میں کیا جائے۔ اﷲ تعالیٰ نے قرآن کو نور (روشنی) کہا ہے اور روشنی اپنے آپ کو دکھانے کے لیے خارجی مدد کی محتاج نہیں ہوتی۔''

اس جگہ یہ بات خاص طور پر محل نظر ہے کہ صاحب ِکتاب اس بات کا دعویٰ تو کرتے ہیں کہ ذہن کو خارجی اثرات سے الگ رکھ کر قرآن کا مطالعہ خود قرآن کی روشنی میں کیا جائے لیکن اس دعوے کے باوجود وہ خود اس کی پابندی نہیں کرتے بلکہ خارجی اثرات کی بجائے اپنے ذاتی تاثرات کو قرآنی الفاظ کی تعیین میں شامل کرتے چلے جاتے ہیں۔ جو بذاتِ خود خارجی اثر ہے۔مثلاً وہ لفظ 'زکوٰۃ' کی توضیح میں لکھتے ہیں:

''قرآن کریم میں اقیموا الصلوۃ واتوا الزکوۃ کے الفاظ بار بار آئے ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ قرآنی نظام کے یہی دو ستون ہیں۔ اقامت ِصلوٰۃ کے مفہوم کے لیے (ص ل و کے عنوان میں) 'صلوٰۃ'کا لفظ دیکھئے۔ اس سے آپ کو معلوم ہو جائے گا کہ اس سے مراد ہے ایک ایسا معاشرہ قائم کرنا جس میں افرادِ معاشرہ، قوانینِ خداوندی کا اتباع کرتے، اپنی منزل مقصود تک پہنچیں۔ اس سے یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ اس قسم کا معاشرہ قائم کرنے سے مقصود کیا ہے؟ مقصود ہے 'ایتاے زکوٰۃ': ایتاء کے معنی ہیں دینا۔ اور (جیسا کہ آپ اوپر دیکھ چکے ہیں) زکوٰۃ کے معنی ہیں: نشوونما۔ یعنی نوعِ انسانی کی نشوونما(Growth) تا Development کا سامان بہم پہنچانا۔اس 'نشوونما' میں انسان کی طبعی زندگی کی پرورش اور اس کی ذات کی نشوونما، دونوں شامل ہیں۔سورۃ حج میں ہے کہالَّذِينَ إِنْ مَكَّنَّاهُمْ فِي الْأَرْضِ أَقَامُوا الصَّلَاةَ وَآتَوُا الزَّكَاةَ  (الحج:۴۱) ''یہ (جماعت مؤمنین) وہ لوگ ہیں کہ جب اُنہیں زمین میں اقتدار حاصل ہوگا تو یہ اقامت ِصلوٰۃ اور ایتائے زکوٰۃ کریں گے''۔ یعنی اسلامی مملکت کا فریضہ 'ایتائے زکوٰۃ'ہوگا یعنی دوسروں کو نشوونما دینا۔ اپنے افرادِ معاشرہ اور دیگر نوعِ انسان کی نشوونما کاسامان بہم پہنچانا۔اسی کے متعلق دوسرے مقام پر یہ ہے کہ مؤمن وہ ہیں هُمْ لِلزَّكوٰةِ فَاعِلُوْنَ (۴؍۲۳) جو زکوٰۃ (یعنی نوع انسانی کی نشوونما) کے لیے جدوجہد کرتے ہیں۔ ''

اب سوال یہ ہے کہ مملکت اِسلامی (یا نظامِ خداوندی) اپنے اس عظیم فریضہ (نوعِ انسان کو نشوونما بہم پہنچانے کے فریضہ) کو سر انجام کس طرح دے گی؟ ظاہر ہے کہ اس مقصد کے لیے (اوّلاً) ذرائع پیداوار مملکت کی تحویل میں رہیں گے تاکہ وہ رزق کی تقسیم لوگوں کی ضرورت کے مطابق کر سکے اور (دوسرے یہ کہ) افراد معاشرہ جو کچھ کمائیں، وہ اسے اس طرح رکھیں کہ مملکت اس میں سے جس قدر ضرورت سمجھے، 'ایتائے زکوٰۃ'(دوسروں کی نشوونما) کے لیے لے۔ اس مقصد کے لیے قرآن کریم نے نہ کوئی شرح مقرر کی ہے، نہ نصاب۔ اس میں سوال ضرورت پوری کرنے کا ہے۔ حتی کہ اس ضمن میں یہ بھی کہہ دیا کہ جو کچھ افراد کی ضرورت پورا ہونے کے بعد بچ جائے، عند الضرورت وہ سب کا سب مملکت کی تحویل میں لیا جاسکتا ہے۔ (دیکھئے:۲۱۹؍۲) اس نقطۂ نگاہ سے دیکھئے تو مملکت ِاسلامی کی تمام آمدنی 'ایتائے زکوٰۃ' کے مقصد کو پورا کرنے کا ذریعہ ہوگی۔''

 اسی طرح موصوف ج س د کے تحت لفظ اَلْجَسْدُ کی بحث میں لکھتے ہیں:

''حضرت سلیمانؑ کے بیٹے کو (جو جہانبانی کی اہلیت نہیں رکھتا تھا ) جَسَدًا کہا ہے (۳۴؍۳۸) یعنی محض گوشت کا لوتھڑا۔ بلکہ صرف دَابَّۃ (۱۴؍۳۴)۔ تورات میں(حضرت سلیمانؑ کے اس بیٹے أجعام کے متعلق) ہیــ: ''اور اجعام کی سلطنت کے پانچویں برس ایسا ہوا کہ مصر کے بادشاہ سیق نے یروشلم پر چڑھائی کی اور اس نے خداوند کا خزانہ اور بادشاہ کے گھرکا خزانہ لوٹ لیا۔'' (نیز) ... ''حضرت سلیمانؑ کے زمانے میں ایک شخص یربعام نامی نے حیا کاہن کے ساتھ مل کر آپ کی سلطنت کے خلاف سازشیں کی تھیں۔اُس وقت تو وہ اپنی مساعی میں کامیاب نہ ہو سکا،لیکناجعام کے عہد میں اس نے بڑی قوت حاصل کر لی اور بنی اسرائیل کے دس اسباط کو اپنے ساتھ ملا کر اجعام کو شکست دی۔ اس نے بیت المقدس کے ہیکل کے مقابلے میں وہ بت خانے تعمیر کرائے، جہاں سونے چاندی کے بتوں کی پرستش ہوتی تھی۔'' (سلاطین ۱؍باب ۱۴؛۱۲؛۱۱)

حضرت سلیمانؑ کایہی بیٹا(جانشین)ہے جسے قرآنِ کریم نے جیتے جاگتے انسان کے بجائے'جَسَد' محض گوشت پوست کا مرکب کہہ کر اس کی نا اہلی کی طرف اشارہ کیا ہے۔ آیت(۳۴؍۳۸) سے مترشح ہوتا ہے کہ حضرت سلیمانؑ کو اپنی زندگی ہی میں اس کا احساس تھا اور اُنہوں نے خدا سے دعا کی تھی کہ مملکت تخریبی اثرات سے محفوظ رہے۔''

یہاں صاحب ِلغت نے جَسَدًاکے معانی متعین کرنے کے لیے خود تورات کے متعین کردہ معانی کو صحیح قرار دیا حالانکہ تورات سے مدد لینا بذاتِ خود خارجی اثرات کا حصہ ہے۔

اس قسم کی مثالیں پوری لغت میں جا بجا موجود ہیں۔ جس سے صاحب ِ لغات القرآن کا اپنی سوچ و فکر میں خارجی اثرات سے متاثر ہونے کا تاثر بڑھتا ہی چلا جاتاہے۔چونکہ یہ مثالیں ایک جگہ نہیں بلکہ پوری کتاب میں جا بجا موجود ہیں۔ اس لحاظ سے یہ کتاب محض کتابِ لغت نہیں بلکہ کچھ ذاتی فکر و سوچ کے فروغ کی کتاب بھی ہے۔اس کے ساتھ ساتھ ہم یہ کہے بغیر بھی نہیں رہ سکتے کہ پرویزؔ کی 'لغات القرآن' اگرچہ اپنے موضوع کی اہم کتاب ہے جس میں اُنہوں نے خاصی عرق ریزی سے کام لیا ہے، تاہم یہ بات اپنی جگہ وزن رکھتی ہے کہ موصوف بہت سے مقامات پر متواتر تفسیر سے پہلو تہی کرتے محسوس ہوتے ہیں۔ایک طرف تووہ صحرا نشین عربوں کے ہاں کسی لفظ کے معنی کو بنیاد کی حیثیت دینے کا کہتے ہیں، دوسری طرف وہ، صحابہ کرامؓ نے کسی لفظ کے معنی کو کس انداز میں لیا ہے، اس سے پہلو تہی کرتے ہیں۔ یہی نہیں بلکہ اس تواتر سے بھی پہلو تہی کرتے نظر آتے ہیں جو چودہ صدیوں سے متداول بھی ہے اور مسلّم بھی اور صحرا نشین بدوی کی تتبع میں دورتک نکل جاتے ہیں۔ حتیٰ کہ رسالت مآب 1 سے منقول جو معنی متعین ہیں، ان کی بھی پیروی نہیں کرتے۔

cلغات القرآنی

یہ عزیز احمد کی تالیف ہے۔جس کو ادارہ لغات القرآن سیٹلائیٹ ٹاؤن، راولپنڈی نے شائع کیا ہے۔یہ مکمل قرآن کی لغات پر محیط نہیںہے بلکہ صرف سورۃ الفاتحہ اور تیسویں پارہ میں مستعمل الفاظ پر مشتمل ہے۔آغاز میں ابتدائی بنیادی عربی صرف و نحو کے قواعد بیان کئے گئے ہیں۔سورۃ فاتحہ کے خواص و فضائل اور تیسویں پارے کی سینتیس سورتوں کا تعارف بھی شامل ہے۔ اس طرح یہ محض لغت ِقرآن کے ساتھ ساتھ قرآن کی مختصر تفسیر و تشریح بھی ہے۔

اس کتاب کی تیاری میں ان کو پروفیسر حافظ محمد یوسف مرحوم کا تعاون بھی حاصل رہا جو مدت العمر لائل پور (فیصل آباد) اور پھر راولپنڈی میں اِسلامیات کے پروفیسر رہے۔

dلسان القرآن

یہ کتاب مولانا محمد حنیف ندویؒ کی تالیف ہے جو اہل حدیث مکتب ِفکر کے نمائندہ ہیں۔ لسان القرآن پہلی مرتبہ ۱۹۸۳ء میں شائع ہوئی۔ جسے معروف علمی ادارہ ثقافت اِسلامیہ، لاہور نے اہتمام سے شائع کیا۔مولانا حنیف ندوی نے لسان القرآن میں قرآنی الفاظ کے معانی کے تعین کے لیے تین پیمانے مقرر کئے ہیں۔ وہ لکھتے ہیں:

''ہمارے نزدیک فکر و تدبر کے تین پیمانے ہیں جو قرآن فہمی کے لیے از حد ضروری ہیں:

a عصر نبوت کا استحضار

b زبان عربی پر کامل عبور

c قرآنِ حکیم سے بدرجہ غایت محبت و شغف۔''

عصر نبوت کے استحضار کا مطلب اس دور کو سامنے رکھنا ہے جب قرآن نازل ہو رہا تھا اور ایک معیاری اسلامی معاشرہ کی تشکیل کر رہا تھا۔ اُنہوں نے جن کتب سے اِستفادہ کیا ان میں تاج العروس،لسان العرب، مقایـیس اللغۃ،أساس البلاغۃاورمفرداتِ امام راغب سر فہرست ہیں۔ ان کا طریق کاریہ ہے کہ وہ سب سے پہلے ہر لفظ کے مادہ کا ذکر کرتے ہیں۔ پھر اس کے مشتقات اور طرق اِستعمالات و محاورات کو بیان کرتے ہیںاور اس کے بعد متعین اور راجح معانی کو واضح کرتے ہیں۔

اُنہوں نے جس تفسیری ادب کو سامنے رکھا ، جن کتب سے مدد لی ان میں ابوالفرا اسمٰعیل حافظ ابن کثیر کی تفسیر القرآن جسے عموماً تفسیر ابن کثیر کہا جاتا ہے اورتفسیر کبیر علامہ رازی اور زمخشری کی کشّاف زیادہ راجح ہیں۔ ایک اور بات اُنہوں نے لکھی جو ان کے فکری حصار کا بھی پتہ دیتی ہے۔ نیز ان کی فکری آزادی کی نشاندہی بھی کرتی ہے۔ وہ لکھتے ہیں:

''ہم ڈرتے ڈرتے اس حقیقت کے اظہار میں بھی کوئی باک محسوس نہیں کرتے کہ صوفیا کبار، اہل اﷲ اور ائمہ اہل بیت نے کہیں کہیں جو تفسیر و تعبیر کے جام و سبو چھلکائے ہیں، ان کو بھی ہم نے چکھا اور برتا ہے''۔

مولانا محمد حنیف ندوی اپنی کتاب لسان القرآنمیں مآخذ کے چار مدارج قائم کرتے ہیں :

a کتاب و سنت کی تصریحات b صحابہ کرام و تابعین سے منقول توضیحات

c آیت کا سیاق و سباق d مستند تفاسیر و کتب احادیث

e کتب ِلغت

اس حوالے سے وہ لکھتے ہیں:

''لسان القرآن کی ترتیب میں ہم نے مآخذ سے اس نہج پر استفادہ کیا ہے کہ اوّلاً زیر بحث لفظ کے بارے میں قرآن و سنت کی تصریحات پر نظر ڈالی جائے۔ اس کے بعد یہ دیکھا جائے کہ صحابہ و تابعین سے اس لفظ کی تفسیر و توضیح کے سلسلے میں کیا منقول ہے اور خدانخواستہ اگر صحابہؓ و تابعینؒ سے بھی جستجو کے باوجود کوئی واضح اور متعین مفہوم سمجھ میں نہ آئے تو آیت کے سیاق و سباق سے رہنمائی حاصل کی جائے اور اس امر کی چھان بین کر لی جائے کہ یہ قرآنِ حکیم میں کہاں کہاں اور کن معانی کے لیے استعمال ہوا ہے۔ مزید برآں ہم نے زیر غور تشریح کے ضمن میں مستند تفاسیر،کتب ِاَحادیث اور اُمہاتِ لغت سے بھی خاصی مدد لی ہے۔''

عصر نبوت کے استحضار کا مطلب، ان کے نزدیک یہ ہے کہ نزول قرآن کے زمانے کے حالات و واقعات کو سامنے رکھنا، کیونکہ وہ زمانہ اور قرآن آپس میں چولی دامن کا ساتھ رکھتے ہیں۔ اس لیے دونوں کے باہم تعلق اور ماحول کوسامنے رکھے بغیر قرآن فہمی ممکن ہی نہیں رہتی۔ اسی طرح عربی زبان پر کامل عبور بھی ضروری ہے۔ وہ لکھتے ہیں کہ

''عربی زبان پر عبور کے معنی یہ ہیں کہ اہل علم یہ جان سکیں کہ قرآن جس زبان میں نازل ہوا ہے، اس کا مزاج کیا ہے۔ اس کی 'صرف' کیا ہے، اس کی' نحو' کا انداز کیا ہے اور وہ احکام، عقائد اور مسائل کو کس نہج سے پیش کرتا ہے،اس میں تشبیہ، استعارہ اور کنایہ کا کہاں کہاں استعمال ہوا ہے۔ یہ واضح رہے کہ جب تک ہم زبان دانی کی اُس سطح پر آشنائی پیدا نہیں کرتے جس پر قرآنِ کریم اپنے مخصوص اُسلوب اور پیرایۂ بیان کے لحاظ سے فائزہے اور اس زبان کے تیور اچھی طرح سمجھ نہیں پاتے، قرآنِ حکیم کے مطالب و دقائق تک ہماری رسائی ممکن نہیں۔''

وہ مزید لکھتے ہیں:

''عربی زبان کی اہمیت،عظمت اور طرف طرازیوں کو جاننا ہمارے نزدیک اس لیے ضروری ہے کہ ہم عربی زبان کو صرف قالب یا فہم ادراک کا ایک ذریعہ اظہار ہی قرار نہیں دیتے بلکہ یہ سمجھتے ہیں کہ قرآنِ حکیم میں مطالب و معانی کا جو بحرِ بے کراں موجزن ہے اس کو عربی کے سوا کسی دوسری زبان میں اَدا ہی نہیں کیا جا سکتا ہے۔''

فاضل مؤلف لسان القرآن میں ان مذکورہ مدارج کا خوب خیال رکھتے نظر آتے ہیں اور کسی لفظ کے معانی متعین کرتے ہوئے ان مدارج سے باہر نہیں نکلتے۔چنانچہ لفظ جَسَد کی بحث میں لکھتے ہیں :

{وَلَقَدْ فَتَنَّا سُلَيْمَانَ وَأَلْقَيْنَا عَلَى كُرْسِيِّهِ جَسَدًا ثُمَّ أَنَابَ} (ص ٓ:۳۴)

''اور ہم نے سلیمان کو امتحان میں ڈالا اور ہم نے ان کے تخت پر ایک اَدھورا جسم لا ڈالا۔ پھر انہوں نے اﷲ کی طرف رجوع کیاـ۔''

اس آیت کی تفسیر میں سلف سے متعدد روایات مذکور ہیں جو سرا سر اِسرائیلیات کے قبیل سے ہیں اور ایسی ہیں کہ جن سے نبوت کا تصور بری طرح مجروح ہوتا ہے۔چنانچہ ابنِ کثیر، ابنِ حزم، قاضی عیاض، علامہ عینی اور دوسرے ائمہ اَحادیث و تفسیررحمہم اللہ نے اُنہیں خرافات قرار دیا ہے۔ قرآنِ حکیم سے صرف اتنا پتا چلتا ہے کہ اس واقعہ کا تعلق حضرت سلیمان کی آزمائش و ابتلا سے تھا اور جونہی حضرت سلیمان کو اس آزمائش میں اپنی خطا اجتہادی پر تنبیہ ہوئی، آپ بارگاہِ الٰہی میں جھک گئے اور مغفرت چاہی۔

اس آزمائش کی تفصیلات نہ قرآن نے بیان کی ہیں اور نہ احادیث میں اس کا کوئی تذکرہ ملتا ہے۔اس لیے صرف اس نکتہ پر اکتفا کرنا چاہئے کہ اﷲ تعالیٰ اپنے مقربین کو طرح طرح سے آزماتا رہتا ہے اوریہ مقربین ایسے ہیں کہ اگر ان سے اس اثنا میں کوئی بھول چوک ہو جائے تو مغفرت، توبہ اور انابت الیٰ اﷲ سے اس کی تلافی کا اہتمام کرتے ہیں۔''

eمترادفات القرآن

یہ کتاب مولانا عبدالرحمن کیلانیؒ کی تالیف ہے جسے مکتبۃ السلام لاہور نے شائع کیا۔ ہمارے سامنے اس کا نقش سوم ہے جو اکتوبر ۱۹۹۹ء میں طبع ہوا۔ قرائن سے پتہ چلتا ہے کہ یہ کتاب پہلی مرتبہ ۱۹۹۱ء میں منصہ شہود پر آئی، کیونکہ لاہور کے قدیم ہفت روزہ 'الاعتصام' میں اس پر تبصرہ جنوری ۱۹۹۲ء میں شائع ہوا۔ کتاب خاصی ضخیم ہے اور ایک ہزار سے زائد صفحات پر ممتد ہے۔ مولانا عبدالرحمن کیلانی ؒاہل حدیث مکتب فکر کے جید عالم دین تھے۔ علمی حلقوں میں ان کا مقام و مرتبہ بہت بلند ہے۔ ان کا انتقال ۱۸؍ دسمبر ۱۹۹۸ء کو ہوا۔ کتاب کے دو ایڈیشن مرحوم کی حیات ہی میں طبع ہوئے جنہیں علمی حلقوں میں بہت پذیرائی حاصل ہوئی۔

یہ بات مسلم ہے کہ قرآن مجید کتاب ہدایت ہے اور تمام علوم و فنون کے سوتے بھی اسی سے پھوٹتے ہیں۔اس کے ساتھ ساتھ یہ عربی زبان واَدب کا منبع بھی ہے۔ لغت اور اَدب سے دلچسپی رکھنے والے حضرات اس مصدر سے اپنی تسکین کا سامان حاصل کرتے ہیں۔ قرآن مجید میں بہت سے الفاظ مترادفات کے طور پر استعمال ہوئے ہیں۔ اگرچہ بظاہر ان کے معانی یکساں ہیں، لیکن جملے کی ساخت یا ادبی چاشنی کے طور پر معنویت میں کوئی نہ کوئی انفرادیت ضرور موجود ہوتی ہے۔ لذت اَدب سے شناسا حضرات جب ان کی باریکیوں پر غور کرتے ہیں توان کو مزا بھی سوا ملتا ہے، لیکن اس موضوع پر علمی کام بہت کم ہوا۔بلکہ شاید یہ کہنا زیادہ مناسب ہوگا کہ نہ ہونے کے برابر ___ اردو زبان تو ایک طرف شاید عربی زبان بھی اس حوالے سے تہی دامن ہے۔مترادفات القرآن اس موضوع کی منفرد کتاب ہے۔ جس میں مولانا عبدالرحمن کیلانی ؒنے اسی عنوان سے قابل قدر اور قابل ذکر محنت کی ہے۔ مترادفات القرآن انہی کی قلمی اور فکری کاوش کا مرقع ہے اور کافی ضخیم ہے۔

موصوف نے مختلف لغات اور مختلف تفسیری مواد سے مدد لے کر مترادف الفاظ کے معانی متعین کیے ہیں اور جملہ کی ساخت کے اعتبار سے موقعہ بہ موقعہ ان کے استعمال سے جو معنوی فرق پیدا ہوا اس کو وضاحت سے بیان کیا ہے۔ اس حوالے سے انہوں نے پندرہ مصادرات و ماخذات سے مدد لی ہے جو بذاتِ خود انتہائی محنت کی دلیل ہے۔

مترادفات القرآن کی خصوصیات کے بارے میں مؤلف مرحوم لکھتے ہیں :

''اس کتاب کے مطالعہ سے جہاں آپ کو عربی زبان کی وسعت کا علم ہوگا وہاں آپ قرآن کی فصاحت و بلاغت سے بھی محظوظ ہوں سکیں گے۔ فصاحب کا مطلب یہ ہے کہ جو کچھ آپ بیان کرنا چاہتے ہیں اس کے لیے موزوں ترین کون سا لفظ استعمال ہوسکتا ہے اور بلاغت یہ ہے کہ اپنا ما فی الضمیر پورے کا پورا مختصر اور جامع الفاظ میں مخاطب کے سامنے پیش کر دیا جائے اور اس میں کوئی بات مبہم نہ رہ جائے۔ مترادف الفاظ کافرق ذہن نشین کر لینے کے بعد آپ خود بھی محسوس کرنے لگیں گے گویاقرآن کے نئے معانی و مفہوم آپ کے ذہن میں اتر رہے ہیں اور آپ اس کی فصاحت و بلاغت سے لطف اندوز ہو رہے ہیں۔''

مؤلف کتاب نے الف بائی عنوان کے تحت شروع میں ان الفاظ کی فہرست دی ہے جو مترادفات کے طور پر قرآن میں استعمال ہوئے ہیں۔ پھر آخر میں ان الفاظ کی وضاحت کی ہے۔ ایک مثال دیکھئے:

عنوان ہے طے کرنا راستے کو:اس عنوان کے تحت لکھا ہے کہ عَبَرَ اور قَطَعَ کے الفاظ آئے ہیں۔

a عَبَرَکا بنیادی معنی پانی سے گزر جانا ہے۔خواہ تیر کر گزرا جائے،یا کسی سواری یا پل کے ذریعہ اور عَبَرَ النَّہْر نہر کے اس کنارہ کو کہتے ہیں جہاں سے اُتر کر نہر کو عبور کیا جاسکے۔ اورعَبَرَالْعَیْن بمعنی آنسوؤں کا جاری ہونا اوراَلْعَبَرَات(جمع)بمعنی آنسو ہے (مف) پھر اس کا استعمال ہر طرح کے راستے کو طے کرنے پر بھی ہونے لگا خواہ راستہ میں پانی ہو یا نہ ہو۔ ارشادِ باری ہے:{وَلَا جُنُبًا إِلَّا عَابِرِي سَبِيلٍ حَتَّى تَغْتَسِلُوا}(النسائ:۴۳)

''اور جنابت کی حالت میں بھی (نماز کے قریب نہ جاؤ) یہاں تک کہ غسل کر لو مگر راہ چلتا مسافر (کہ اگر اسے پانی نہ ملے تو تیمم سے نماز پڑھ سکتا ہے۔ ''

b قَطَعَکا بنیادی معنی کاٹنا اور الگ کرنا ہے اورقَطَعَ النَّہْربمعنی نہر کو عبور کرنا۔قَطَعَ السَّبِیْل بمعنی راہزنی اور قَطَعَ الواديبمعنی کسی میدان کو طے کر جانا اورقَطَعَ الامر بمعنی کسی کام کو سرانجام دینے کے لیے پروگرام طے کرنا ہے۔گویا یہ لفظ راستہ طے کرنا کے معنوں میں بھی عَبَرَسے اہم ہے۔ ارشادِ باری ہے۔

{وَلَا يَقْطَعُونَ وَادِيًا إِلَّا كُتِبَ لَهُمْ} (التوبہ:۱۲۱)

''اور نہ ہی کوئی میدان طے کرتے ہیں۔ مگر یہ (اس کے نامۂ اعمال میں) لکھ لیا جاتا ہے۔''

دوسرے مقام پر ہے۔

{مَا كُنْتُ قَاطِعَةً أَمْرًا حَتَّى تَشْهَدُونِ}(النمل:۳۲)

''جب تک تم حاضر نہ ہو میں کوئی معاملہ طے نہیں کرتی۔ ''

ماحصل:عَبَرَکا لفظ صرف راستہ بالخصوص پانی طے یا عبور کرنے کے لیے اورقَطَعَ کا لفظ اعم ہے جو معاملات کے طے کرنے اور قطعاتِ ارضی کو پار کر جانے کے لیے آتا ہے۔

یہ کتاب لغت اور ادب کی باریکیوں میں دلچسپی رکھنے والوں کے لیے انتہائی اہم ہے۔

f اَنوار البیان فی حل لغات القرآن

یہ کتاب علی محمد صاحب کی تالیف ہے۔ موصوف پاکستان سول سروس سے متعلق رہے اور بطور ایڈیشنل کمشنر ریٹائر ہوئے۔ سرکاری مصروفیات سے سبکدوش ہونے کے بعد اُنہوں نے یہ علمی کام سرانجام دیا۔مندرجات سے معلوم ہوتا ہے کہ آپ عربی زبان وادب میں خاصی دسترس کے حامل ہیں۔یہ کتاب ۱۹۹۵ء میں پہلی مرتبہ شائع ہوئی۔ مؤلف لکھتے ہیں کہ

''یہ کتاب قرآنِ مجید کے ان طالب علموں کے لیے لکھی گئی ہے جو زبان عربی کا کم از کم ابتدائی علم رکھتے ہوں اور صرف و نحو کی مبادیات سے واقف ہوں اور اس سلسلہ کی مزید معلومات کے خواہشمند ہوں۔ یہ کتاب نہ صرف ان کو قرآنی عبارت کے مختلف الفاظ اور جملوں کی تعلیل صرفی اور ترکیب ِنحوی میں مددگار ثابت ہوگی بلکہ ربطِ الفاظ وآیات میں بھی معاونت کرے گیــ۔''

ہماری دانست میں مؤلف اپنے اس دعوے میں بہت حد تک کامیاب رہے ہیں۔یوں بھی عام لغات میں صرفی و نحوی بحث نہیں کی جاتی، صرف معانی پر ہی اکتفا کیا جاتا ہے، جس سے عموماً طالب علم الفاظ کی صحیح تفہیم سے عاری رہتا ہے۔جبکہ قرآن فہمی کے لیے صرفی و نحوی مفہوم کاجاننا ضروری ہے۔ محض لفظی معنی کا علم قرآن فہمی کے لیے کافی نہیں۔اس لحاظ سے مذکورہ کتاب محض کتابِ لغت نہیں اور نہ ہی محض ترجمہ و تفسیر بلکہ ان تینوں کا مختصر مجموعہ ہے۔ شاید اسی وجہ سے مؤلف نے اس کا نام أنوار البیان في حل لغۃ القرآن رکھا ہے۔

مؤلف نے کتاب میں اُصول یہ رکھا ہے کہ وہ پہلے سورۃ کا نمبر، پھر آیت کا نمبر اس کے بعد جملہ یا الفاظ کا حوالہ دیتے ہیں۔ مثلاً ۳- ۱۹۹ اس میں ۳ سورۃ کا ہے جبکہ ۱۱۹ آیت ہے۔ یہی جدید تحقیق کا اُصول بھی ہے جس کو مؤلف نے ملحوظ رکھا ہے۔

انوار البیان کے بارے میں بعض اہل علم کی تقاریظ بھی آغاز میں شامل کی گئی ہیں۔ ان کے مطابق مفتی مبشر احمد اُستادِ حدیث کہتے ہیں کہ

''اس تالیف کو بندہ نے حرفاً حرفاً پڑھا ہے اور اس نتیجہ پر پہنچا ہے کہ یہ تالیف موجودہ دور کے اُردو تعلیم یافتہ طبقہ کے لیے نہایت ہی مفید ہے''۔

سرگودھا یونیورسٹی کے وائس چانسلر جو خود عربی زبان و اَدب کے مسلّم اُستاد ہیں، ان کی رائے ہے کہ

''یہ کتاب صرف منتہی حضرات کے استفادہ کے لیے ہے۔ اس سے عام قاری کی بجائے وہی استفادہ کر سکتا ہے جو عربی زبان و ادب سے بنیادی واقفیت رکھتا ہو۔ ایک شخص جس نے عربی گرامر کبھی نہیں پڑھی، اس کے لیے قواعد یاحذف یاالفاظ کے باہم مقلوب ہونے یا تقدیم و تاخیر کی بحثیں چنداں مفید نہیں۔''

ان دونوں اہل علم کی آرا کو کتاب کے مندرجات کے حوالے سے پیش نظر رکھا جائے تو دوسری رائے زیادہ وقیع نظر آتی ہے، کیونکہ صرفی و نحوی تحلیل کا فائدہ اصلاً اسی شخص کو ہوتا ہے جو بنیادی عربی گرامر کے اُصول سے واقف ہو۔

'انوار البیان' میں قرآنِ مجید کی سورتوں اور پاروں کی ترتیب سے معانی بیان کئے گئے ہیں جبکہ دیگر عام لغات میں ایسا نہیں۔مثلاً 'لغات القرآن' پرویز میں ہر لفظ کا مادہ تلاش کر کے اس مادہ کے تحت معانی دیئے گئے ہیں۔ 'انوار البیان' میں سورتوں کی ترتیب کا لحاظ ہے۔ اس طرح قاری کے لیے تلاش نسبتاً آسان ہوتی ہے۔

حصہ دوم کے آخر میں موصوف نے روایتی انداز میں قرآنِ مجید کے رموزواوقاف، منازل قرآن درج کئے ہیں۔ قرآن مجید کی سورتوں کی تعداد بلحاظِ پارہ لکھی ہے، لیکن جانے کیوں سورۃ انشراح کے بعد اگلی سورتوں کا اِندراج نہیں ہے۔ پھر قرآنِ مجید کی ترتیب سورتوں کے مطابق لکھی ہے۔یہ سارا حصہ تحصیل حاصل ہی لگتا ہے۔ البتہ اُنہوں نے قرآن مجید کی ترتیب نزولی کا آخر میں اندراج کیا ہے۔ لوح پر لکھا ہے: ترتیب ِنزول مرتبہ علمائے ازہر۔ اس عنوان کے نیچے پہلے مکی سورتوں کی نزولی ترتیب کو درج کیا ہے ، جس میں ۸۶ سورتیں ہیں اور پھر مدنی سورتوں کو ترتیب ِنزولی کے مطابق لکھا ہے جن کی تعداد ۲۸ہے۔ لیکن اس سلسلے میں ان کا ذریعہ اطلاع کیا ہے، اس کا تذکرہ نہیں ہے۔ ماسوائے اس کے کہ آغاز میں مرتبہ : علمائے ازہر کہہ دیا گیا ہے۔ ظاہر ہے کہ یہ مہمل حوالہ ہے جس کا مکمل ماخذ بتلانا ضروری تھا۔

gقاموس الفاظ القرآن الکریم (عربی ، اُردو)

یہ کتاب ڈاکٹر عبداﷲ عباس ندوی کی تالیف ہے جو ایک عرصہ جامعہ امّ القریٰ مکہ مکرمہ میں درس و تدریس کے فرائض سر انجام دیتے رہے۔ موصوف نے اصل کتاب انگریزی بولنے والوں کے لیے لکھی تاہم اس کا ترجمہ پروفیسر عبدالرزاق نے کیا ہے جسے دارالاشاعت اُردو بازار، کراچی نے پاکستان میں شائع کیا ہے۔ کتاب کی لوحِ صدر پر یہ عبارت لکھی ہے:

''قرآن کریم کی یہ لغت جذری ترتیب اور معنوی سیاق کے مطابق بشمول صرفی و نحوی ایضاحات اور مشہور مقامات اور شخصیات کی تفصیل کے ساتھ ترتیب دی جانے والی یہ لغت قرآن فہمی کے لیے اِن شاء اﷲ بڑی مددگار ہوگی۔''

یہ لغت خاصی مفید ہے۔ اس میں الفاظ کے مختصر معانی کے ساتھ ساتھ صرفی اور نحوی تراکیب کی وضاحت بھی موجود ہے اور غیر ضروری تشریح و تفصیل سے اجتناب کرتے ہوئے لغت قرآنی کے ہدف کو پیش نظر رکھا گیا ہے۔ مثلاً لفظ تبتَّل باب تفعّل فعل امر، واحد مذکر حاضر، وقف ہو جانا،دنیا سے منقطع ہونا۔

اسی طرح یَجْهلُوْنَ سے ( فعل مضارع، جمع مذکر غائب) وہ جہل کرتے ہیں۔

اس قاموس میں قاری کو مطلوب معلومات ایک ہی جگہ آسانی سے مل جاتی ہیں اور کسی بھی لفظ کے معانی معلوم کرنا اور معانی متعین کرنا آسان ہو جاتا ہے۔ حروف کے ذریعہ کسی بھی باب کی نشاندہی مفقود ہے کہ قرآنِ مجید میں وہ لفظ کس کس جگہ استعمال ہوا ہے، صاحب کتاب اس بات کی نشاندہی نہیں کرتے۔ البتہ کسی کسی جگہ ایک آدھ آیت کا تذکرہ ضرور کر دیتے ہیں۔ ظاہر ہے کہ قرآنی لغت کے حوالے سے یہ بات مقصود بھی نہیں۔ کسی بھی لفظ کے معانی معلوم کرنے والا شخص صرفی و نحوی بحث کے ساتھ صرف معانی کا ہی متلاشی ہوتا ہے۔ اس کی مثال ملاحظہ ہو۔ صاحب ِکتاب لفظ سَلَّطَ کی وضاحت کرتے ہوئے لکھتے ہیں:

éسَلَّطَ باب تفعیل (فعل ماضی واحد مذکر غائب) اس نے مسلط کر دیا۔

éسَلَّطَ باب تفعیل تَسْلِیْطًا مسلط کرنا۔

سَلِطَ یَسْلَطُ سَلاَطَة (س) مضبوط ہونا، سخت ہونا، تیز ہونا۔

{وَلَوْ شَاءَ اللَّهُ لَسَلَّطَهُمْ عَلَيْكُمْ} (النسائ:۹۰)

''اور اگر خدا چاہتا تو ان کو تم پر غالب کر دیتا۔ ''

éیُسَلِّطُ باب تفعیل(فعل مضارع واحد مذکر غائب) وہ مسلط کرتا ہے۔

éسُلْطَانٌ (اسم)

aاختیار، اقتدار، حکومت، بس، قابو۔

{إِنَّ عِبَادِي لَيْسَ لَكَ عَلَيْهِمْ سُلْطَانٌ} (الحجر:۴۲)

''جو میرے مخلص بندے ہیں ان پر تجھے کچھ قدرت نہیں ہے۔ ''

b صریح دلیل ، برہان

{اَمْ لَكمْ سُلْطٰنٌ مُّبِينٌ} (الصافات:۱۵۶)

''یا تمہارے پاس کوئی صریح دلیل ہے۔ ''

سُلْطَانِيَه (سُلْطَانِ + یْ + ہُ)

''میرا اقتدار حکومت صرف وزن کے لیے ہے۔ ''

{هَلَكَ عَنِّي سُلْطٰنِیَه} (الحاقہ:۲۹)

''میری سلطنت خاک میں مل گئی۔''

اس قاموس کا ایک وصف یہ بھی ہے کہ الفاظ کی تلاش میں مادہ اور اشتقاق کا علم ضروری نہیں۔الف بائی طریقہ پر الفاظ کو مرتب کیا گیاہے جس سے عام شخص بھی کسی لفظ کو آسانی سے تلاش کر لیتا ہے،کوئی دشواری پیش نہیں آتی۔چونکہ الفاظ کے مادہ اور اشتقاق کا علم بھی اپنی جگہ اہمیت رکھتا ہے اس لیے صاحب ِکتاب نے آخری حصہ میں الفاظ کے مادے اور اصلی حروف کے عنوان سے الفاظ کے مادوں کا مفصل تذکرہ لکھ دیا ہے جو صفحات ۴۷۱ سے لے کر ۵۲۰ تک پھیلا ہوا ہے۔ مجموعی طور پر یہ قاموس اچھی اور مفید کاوش ہے۔

ْٓhقاموس القرآن ( مکمل و مستند قرآنی ڈکشنری)

یہ قاضی زین العابدین سجاد میرٹھی کی تالیف ہے جو کافی عرصہ جامعہ ملیہ اسلامیہ دہلی میں تفسیر کے اُستاد رہے۔یہ قاموس اُنہوں نے تقریباً پون صدی پیشتر لکھی تھی جو ۱۳۷۳ھ بمطابق ۱۹۵۴ء میں پہلی مرتبہ ہندوستان میں شائع ہوئی۔قاموس القرآن پاکستان میں ۱۹۹۴ء میں طبع ہوئی۔ گویا اپنی طباعت ِاوّل سے نصف صدی بعد اس کو پاکستان میں شائع کیا گیا ہے۔ اس کی اشاعت کا اہتمام دارالاشاعت،کراچی نے کیا ہے۔ آغاز میں برصغیر پاک و ہند کے مشاہیر اہل علم کی آرا دی گئی ہیں۔ ان مشاہیر میں ڈاکٹر ذاکر حسین سابق وائس چانسلر مسلم یونیورسٹی علی گڑھ، شاہ معین الدین احمد ندوی، مولانا محمد عثمان فار قلیط، مولانا محمد وارث کامل مدیر 'مدینہ' بجنور، مولانا محمد عامر عثمانی مدیر 'تجلی' دیوبند، مولانا حبیب الرحمن لدھیانوی، مولانا ابوالحسن علی ندوی اور قاری محمد طیب رحمہم اﷲ علیہم جیسے اکابر شامل ہیں۔

قاضی زین العابدین مؤلف قاموس نے اس سے قبل عربی زبان کی لغت بیان اللسان کے نام سے لکھی تھی جسے علمی حلقوں میں خوب پذیرائی حاصل ہوئی۔اس پذیرائی کے بعد اُنہوں نے 'لغت القرآن' کے حوالے سے قاموس القرآن کو مرتب کیا۔

یہ بات مسلم ہے کہ برصغیر پاک وہند میں قرآنِ مجید کا پہلابامحاورہ اُردو ترجمہ شاہ عبدالقادر محدث دہلویؒ نے لکھا۔ اس کے ساتھ ہی آپ نے لغات القرآن کے موضوع پر بھی ایک مختصر کتاب لکھی تاکہ اُردو دان حضرات عربی زبان کے الفاظ سے شناسائی حاصل کر کے قرآن کے مفہوم تک پہنچ سکیں۔ چنانچہ مطبع مجتبائی دہلی کے منشی ممتاز علی میرٹھی نے ۱۲۹۸ھ میں جب مترجم قرآن شائع کیا تو اس کے حاشیہ پر اس لغات القرآن کو بھی طبع کیا۔

صاحب ِقاموس کے قول کے مطابق اُنہوں نے اپنی قاموس کی تیاری میں جن کتب سے زیادہ مدد لی، ان میں القاموس المحیط فیروز آبادی، صحاح العربیۃ الجوہری، مفردات القرآن امام راغب زیادہ قابل ذکر ہیں، تاہم وہ ان کے حوالے نہیں دیتے۔ البتہ جس جگہ وہ کسی لفظ کی تفسیری بحث کرتے ہیں وہاں ماخذ تفسیر کا ذکر ضرور کرتے ہیں۔ اس ضمن میں موصوف نے سب سے زیادہ حوالے علامہ شبیر احمد عثمانی کی تفسیر کے دیئے ہیں۔

صاحب ِقاموس نے قرآنی الفاظ کو حروفِ تہجی کی ترتیب پر جمع کیا ہے۔ اس لیے کسی بھی لفظ کی تلاش میں اس کا مادہ وغیرہ جاننے یا دیکھنے کی ضرورت باقی نہیں رہتی۔اس کے بعد آسان اُردو زبان میں لفظ کے معنی لکھے گئے ہیں، ساتھ ہی اس لفظ کی صرفی اور نحوی تشریح بھی کی گئی ہے اور اس بات کا التزام بھی کیا گیا ہے کہ ہر مشتق کا مصدر بھی دیا جائے۔ صیغہ کی تفصیل بھی دی گئی ہے۔

موصوف کسی کسی جگہ طویل تشریحی نوٹ بھی دیتے ہیں جس کی وجہ سے یہ لغت محض قرآنی لغت نہیں بلکہ تفسیری لغت معلوم ہوتی ہے، کیونکہ بعض جگہ یہ نوٹ کئی کئی صفحات کو محیط ہیں۔ یہ نوٹ اگرچہ معلومات میں اضافے کا باعث تو بنتے ہیں تاہم ان کی وجہ سے یہ قاموس ، قاموس کی بجائے اچھی خاصی تفسیر محسوس ہونے لگتی ہے،مثلاً لَا تُسْرِفُوْا کے ذیل میں لکھتے ہیں:

''(لَا) تُسْرِفُوْا: تم اسراف نہ کرو۔ اِسْرَافسے مضارع جمع مذکر حاضر۔ امام راغبؒ لکھتے ہیں: اِسْرَافکے معنی ہیں: کسی کام میں حد سے تجاوز کرنا۔اگرچہ انفاق(خرچ کرنا)میں حد سے تجاوز کرنے کے معنی میں زیادہ مشہور ہے۔یہ حد تجاوز مقدار کے اعتبار سے بھی ہو سکتا ہے۔یعنی ضرورت سے زیادہ خرچ کرے اور کیفیت کے اعتبار سے بھی بے موقع خرچ کرے۔ چنانچہ سفیان ثوری نے فرمایا ہے کہ

''مَا اَنْفَقْتَ فِي غَیْر طَاعَة اﷲ فَهُوَ سَرَف وَاِنْ کَانَ قَلِیْلاً '' ''جو کچھ تم طاعت اﷲ کے سوا دوسرے موقعوں میں صرف کرو۔ وہ اگرچہ تھوڑا ہو پھر بھی اسراف ہے۔''

علامہ عثمانی لکھتے ہیں : (اسراف کی) کئی صورتیں ہیں، مثلاً حلال کو حرام کرلے یا حلال سے گزر کر حرام سے بھی تمتع کر نے لگے یا اناپ شناپ بے تمیزی اور حرص سے کھانے پر گر پڑے۔ یا بدونِ اشتہا کے کھانے لگے یا ناوقت کھائے۔ یا اس قدر کم کھائے جو صحت جسمانی اور قوتِ عمل کے لیے کافی نہ ہو یا مضر صحت چیزیں استعمال کرے وغیرہ ۔ ذٰلک لفظ اسراف ان سب اُمور کو شامل ہو سکتا ہے۔ اسی لیے بعض سلف نے فرمایا کہ ''خدا نے ساری طب آدھی آیت میں اکٹھی کر دی۔''

iلغت القرآن Quranic Dictionary

اس کے مؤلف مفتی محمد نعیم ہیں جو جامعہ اشرف المدارس گلشن اقبال، کراچی کے اُستاد ہیں۔ اس لغت کو مکتبہ النور کراچی نے شائع کیا ہے۔ یہ کتاب پہلی مرتبہ اکتوبر ۲۰۰۷ء میں طبع ہوئی۔اس لحاظ سے اپنے موضوع پر پاکستان میں چھپنے والی تازہ ترین تالیف ہے۔ حرفِ آغاز کے عنوان سے شروع میں قرآنِ مجید کی اہمیت پر توجہ دلائی گئی ہے۔ نیز اس بات پر تنبیہ بھی ہے کہ قرآنِ مجید کو محض اردو تراجم کی مدد سے سمجھنے کی کوشش کرنا اور پھر اپنی رائے سے قرآنی مفہوم کو متعین کرنے کی کوشش کرنا عبث ہے جس سے مطلوبہ مقاصد بھی حاصل نہیں ہو پاتے نیز اس طرح قرآن کے اصل مقصود کو سمجھنے میں بھی غلطی کا اِمکان رہتا ہے۔ اس لغت میں مؤلف نے قرآنی الفاظ کو چار مختلف حصوں میں تقسیم کیا ہے۔ جن کے عنوانات اس طرح ہیں:

a کثیر الاستعمال قرآنی اسمائ b قلیل الاستعمال قرآنی اسماء

c کثیر الاستعمال قرآنی مصادر d قلیل الاستعمال قرآنی مصادر

کثیر الاستعمال قرآنی اسماء میں اُنہوں نے ایسے الفاظ کو جمع کیا ہے جو گرامر میں اسم جامد کہلاتے ہیں۔ مثلاً رَجُلٌ یہ ایسا اسم ہے جو نہ خود کسی سے مشتق ہے، نہ ہی اس سے دوسرے اسماء نکلتے ہیں۔ اس مذکورہ حصہ میں ایسے اسماء کو شامل کیا گیا ہے جو قرآن مجید میں دس یا اس سے زائد مرتبہ استعمال ہوئے ہوں۔ اس کالم میں کل ۱۲۸؍اسماء کا تذکرہ ہے۔ مؤلف نے الفاظ کی وضاحت کے لیے چار کالم بنائے ہیں۔ پہلے کالم میں قرآنی الفاظ دیئے گئے ہیں۔ دوسرے کالم میں معانی ہیں۔ تیسرا کالم تعداد کے حوالے سے ہے۔ جتنی مرتبہ وہ اسم قرآن میں استعمال ہوا ہے، اس کالم میں وہ تعداد دی گئی ہے۔ چوتھے کالم میں قرآنی اَمثال دی گئی ہیں۔یعنی ایسی کوئی ایک آیت جس میں وہ اسم استعمال ہوا ہو۔

دوسرا عنوان قلیل الاستعمال قرآنی اسماء کے بارے میں ہے۔ اس میں ایسے اسمائے جامد دیئے گئے ہیں جن کا استعمال قرآن مجید میں دس سے کم مرتبہ ہوا ہے۔ اس کے تحت ۵۰۸ الفاظ کی وضاحت دی گئی ہے۔ جس کا مطلب ہے کہ قرآن مجید میں ایسے ۵۰۸ الفاظ ہیں۔

تیسرا حصہ کثیر الاستعمال قرآنی مصادر پر ہے۔ اس میں ایسے مصادر تلاش کئے گئے ہیں جو قرآن مجید میں دس یا دس سے زیادہ مرتبہ استعمال ہوئے ہیں۔ ان کی تعداد کافی زیادہ ہے جو کتاب کے صفحہ ۸۳ سے لے کر صفحہ ۱۵۸ تک ممتد ہے۔ اس حصہ میں پانچ کالم بنائے گئے ہیں جبکہ مذکور القبل دو حصوں میں کالم چار چار تھے۔ پہلے کالم میں مصدر کا تذکرہ ہے۔ دوسرے میں معانی دیئے گئے ہیں۔ تیسرے میں تعداد دی گئی ہے یعنی وہ لفظ کتنی مرتبہ قرآن مجید میں استعمال ہوا ۔ چوتھے کالم کا عنوان مصدر سے وجود میں آنے والے قرآنی صیغے ہے۔ آخری کالم میں قرآن میں مستعمل ایک یا دو آیات کی نشاندہی کی گئی ہے۔ مثالیں ملاحظہ ہوں :

مصدر

معنی

تعداد

مصدر سے بننے والے قرآنی صیغے

قرآنی مثالیں

اَلْاِسَائَ ۃُ

برائی کرنا گناہ کرنا

167

سَاء، تَسْؤْکُمْ، اَسَاؤُوْا، سِیْیٓء، لِسُوٓء، اَسْوَئَ، مُسِيء، سَاء تْ، سِیْئَتْ، سَیِّئَة، سَیِّآتٌ، سُوْء،

وَيُكَفِّرُعَنْكُمْ سَيِّئَاتِكُمْ

تویہ تمہارے حق میں بہتر ہے اﷲ تمہارے گناہوں کو مٹا دے گا۔ (البقرۃ:۲۴۱)

اَلْہِبَۃُ

ہبہ کرنا

25

وَهَبَ، لِأَهَبَ، یَهَبُ، هَبْ، الْوَهابُ، وَهَبَتْ، وَهَبْنَا،

الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي وَهَبَ لِي عَلَى الْكِبَرِ إِسْمَاعِيلَ وَإِسْحَاقَ (ابراہیم:۳۹)

اﷲ کا شکر ہے جس نے مجھے اس بڑھاپے میں اسمٰعیل ؑو اسحق ؑ عطا فرمائے۔

چوتھا اور آخری حصہ قلیل الاستعمال قرآنی مصادر پرہے۔ اس کے تحت ایسے مصادر تلاش کئے گئے ہیں جن کا استعمال قرآنِ مجید میں دس سے کم مرتبہ ہوا ہے۔ ایسے مصادر کی تعداد بھی بہت زیادہ ہے ۔یہ حصہ صفحہ ۱۵۹ سے لے کر صفحہ ۲۴۲ تک پھیلا ہوا ہے۔ اس حصہ میں تیسرے حصہ کے مطابق کالم بندی کی گئی ہے۔لغت القرآن کے آخری صفحات میں قرآنی اعداد کے تحت ان اعداد کا ذکر ہے جو قرآن میں استعمال ہوئے ہیں۔ ایسے اعداد کی تعداد ۴۶ ہے۔ اس حصہ میں بھی چار کالم ہیں۔ پہلے کالم میں عدد لکھا گیا ہے۔دوسرے میں اس کے معنی،پھر تیسرے میں تعداد اور آخری کالم میں کسی بھی آیت سے حوالہ درج کیا گیا ہے۔ مثالیں ملاحظہ ہوں:

عدد

معنی

تعداد

حوالہ آیت

ثَلاَثٌ

تین

21

ثَلَاثُ عَوْرَاتٍ لَكُمْ لَيْسَ عَلَيْكُمْ  (النور: ۵۸)

یہ تینوں وقت تمہاری (خلوت) اور پردے کے ہیں۔

خُمُسٌ

پانچواں حصہ (۵/۱)

1

فَأَنَّ لِلَّهِ خُمُسَهُ وَلِلرَّسُولِ (الانفال:۴۱)

اس میں سے پانچواں حصہ تو اﷲ اور رسول کا ہے۔

لغتِ قرآن پر آج تک جتنی کتب تحریر کی گئی ہیں ان سب میں یہ کتاب اَچھوتے اور منفرد انداز میں لکھی گئی ہے اور بلاشبہ مؤلف کی بہترین کاوش ہے۔ پوری کتاب ۲۴۷ صفحات پر مشتمل ہے،لیکن تمام الفاظ کا معنی اور دیگر مفید معلومات کا حصر کرنے کی کوشش کی گئی ہے جس کی وجہ سے کسی لفظ کے حوالے سے جملہ معلومات ایک ہی جگہ حاصل ہو جاتی ہیں۔اس سے قبل جتنی کتب لغت قرآنی کے حوالے سے لکھی گئیں، وہ کئی کئی جلدوں پر مشتمل ہیں، لیکن صاحب ِلغت القرآن نے تمام الفاظِ قرآنی کی اس انداز سے درجہ بندی کی ہے کہ کتاب کا حجم بھی نہیں بڑھا اور جملہ معلومات بھی موجود ہیں۔ نفس مضمون کے حوالے سے باطنی محاسن کے ساتھ ساتھ کتاب کے ظاہری محاسن بھی خوب ہیں۔دیدہ زیب طباعت، کاغذ انتہائی سفید واعلیٰ، خوبصورت گرد پوش، سرورق کا فنی حسن کتاب کی رعنائی اور دلچسپی میں مزید اضافہ کر رہا ہے۔ علومِ قرآنی کا ذوق رکھنے والے نیز کتابوں سے محبت کرنے والے حضرات کے لیے لغت ُالقرآن بہت مفید ہے۔

یہ مضمون فی الحال دستیاب لغات القرآن کے تعارف پر مبنی ہے۔اس حوالے سے بعض مزید لغات کا بھی علم ہوا ہے جس کا تذکرہ زیر نظر مضمون کے تتمہ کے طور پر عنقریب شائع کیا جائے گا۔ایسے اَحباب جو دیگر طبع ہونے والی قرآنی لغات سے واقف ہوں تو وہ صاحب مضمون سے رابطہ فرمائیںتاکہ ان لغات کا تذکرہ بھی شامل کیا جا سکے۔[اِدارہ]

خریدارانِ محدث توجہ فرمائیں

خریدارانِ محدث کو مدتِ خریداری ختم ہونے کی اِطلاع بذریعہ پوسٹ کارڈ دی جاتی تھی اَب قارئین کی آسانی کے لیے محدث کے لفافہ پر چسپاں ایڈریس میں بھی زرِ سالانہ ختم ہونے کی اطلاع دی جاتی ہے۔لہٰذا جن حضرات کومدتِ خریداری ختم ہونے کی اطلاع دی گئی ہے۔از راہِ کرم اوّلین فرصت میں زرِ تعاون بھیج کر تجدید کروائیں۔ شکریہ

منجانب:محمد اصغر،مینیجرماہنامہ 'محدث'،لاہور،فون:0305-4600861
وَلَا جُنُبًا إِلَّا عَابِرِي سَبِيلٍ حَتَّى تَغْتَسِلُوا