Pages from Muhaddas-197-Jan-1994

میرے پسندیدہ۔۔

اس صفحہ کو پسند کرنے کے لیے لاگ ان کریں۔

آسمان تیری لحد پہ شبنم فشانی کرے

( 7جنوری 1994ءتقریبا 11بجے صبح حافظ ثناءاللہ مدنی صاحب شیخ الحدیث "جامعہ لاہور اسلامیہ"(المعروف جامعہ رحمانیہ) نے یہ اندوہناک خبر دی کہ مولانا عبیداللہ رحمانی مبارکپوری وفات پاگئے ہیں اور انہوں نے اپنی مسجد میں غائبانہ نماز جنازہ بھی ادا کی ہے۔انا للہ واناالیہ راجعون

اچانک یہ خبر سن کر نہایت صدمہ ہوا اور مرحوم کے لئے دعائے مغفرت کی۔یہ صدمہ صرف مرحومہ کے اخلاف اور پسماندگان کے لئے نہیں بلکہ پاک وہند میں جماعت اہل حدیث کا مشترکہ صدمہ ہے ۔مرحوم ایک بڑی عظیم علمی شخصیت کے مالک تھے۔اور مرعاۃ المفاتیح کی تالیف سے انہیں ایک بڑا امتیاز حاصل ہوچکا ہے۔میرا ان سے پہلا تعارف دار الحدیث رحمانیہ دہلی میں ہوا جب راقم الحروف دارالحدیث رحمانیہ کا مدرس بن کر وہاں پہنچا۔راقم الحروف نے وہاں درس نظامی کے مولفین پر مقالہ تیارکیا جو مقررات در س نظامی کے تعارف پر محیط تھا،جبکہ شیخ الحدیث اس سال سیرت البخاری کے دوسرے ایڈیشن کی تیاری کر رہے تھے جس میں ہندہ بھی شریک ہوگیا اور شارحین بخاری کی وفیات تلاش کرنے میں ان کا معاون ہوگیا یہ کام گو مکمل نہ ہوسکا تاہم ایسے بہت سے وفیات کا دوسرے ایڈیشن میں اضافہ ہوا جو پہلے ایڈیشن میں شامل نہیں تھا۔

دارالحدیث رحمانیہ دہلی کی بنیاد غالباً 1921ء کو رکھی گئی اس کے بانی شیخ عطاء الرحمٰن کے بڑے بھائی شیخ عبدالرحمان تھے،علاوہ ازیں ہندوستان اور پنجاب کے علماء بھی شریک تھے اور مولانا حافظ ابراہیم میر سیالکوٹی تو اپنی تمام کتب اور طلبہ پنجاب سے لے گئے تھے اور بالفعل اس کے افتتاح میں شریک ہوئے تھے۔دارالحدیث نے جو فضلاء پیدا کئے انہوں نے تصنیف وتالیف اور تدریس وتبلیغ میں جو کردار ادا کیا وہ اہل علم کے سامنے ہے۔مولاناشیخ الحدیث مرحوم،دارالحدیث رحمانیہ کی جانب سے تحفۃ الاحوذی کی معانت کے لئے بھیجے گئے تھے ،ان کے جملہ اخراجات دارالحدیث کے مہتمم ادا کرتے رہے،اس طرح یہ علمی منصوبہ پروان چڑھا۔تحفۃ الاحوذی کی معاونت میں مولانامحمد کنگن پوری اور حضرت الاستاذ مولانا محمد عبداللہ آف کھپیا نوالہ(ضلع فیروز پور) بھی شریک رہے جنھوں نے مولف کو ضروری کتب مہیا کی اور ایک صد کتاب کی پیشگی قیمت جمع کروادی تھی۔الغرض اگر قصبہ مبارکپور نے مصنف پیداکیے ہیں تو پنجاب کے اہل حدیث علماء نے ان سے تعاون کیاہے اور تحفۃ الاحوذی اور مرعاۃ المفاتیح جیسے موضوعات کی تالیف کا باعث اورمحرک ثابت ہوئے ہیں اسی دارالحدیث ر حمانیہ دہلی سے مجلہ"محدث" نکلتاتھا۔جس میں شیخ الحدیث کے فتاویٰ شائع ہوتے اور یہ فتاویٰ ہی در اصل اس رسالہ کی جان ہوتے۔پنجاب سے ہفت روزہ "تنظیم اہل حدیث" میں حافظ محمد عبداللہ محدث رو پڑی کے فتاویٰ تو ان کے تلمیذ ارشد مولانامحمد صدیق آف سرگودھا نے شائع کردیے ہیں اسی طرز پر اب"محدث" میں شیخ الحدیث مبارکپوری کے شائع ہونے والے فتاویٰ بھی الگ طور پر شائع کرنے کی ضرورت ہے۔میں امیدکرتاہوں کہ ان کاکوئی تلمیذ ارشد اس کام کوسرانجام دے گا۔

مولانا شیخ الحدیث مرحوم نے تفسیر بیضاوی کا درس حافظ محمد صاحب گوندلوی مرحوم سے لیاتھا کیونکہ حافظ صاحب مرحوم ایک سال کے لئے د ارالحدیث میں تدریس کے لئے چلے گئے تھے۔بہرحال بہت سے جزوی واقعات دارالحدیث کے متعلق محفوظ ہیں جو کسی دوسری مجلس میں ر قم ہوں گے۔ان شاء اللہ۔آخر میں دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ مرحوم کے د رجات بلند فرمائے اور ان کے اخلاف اور اہل خاندان کو صبر کی توفیق عطاء فرمائے۔پوری جماعت اہل حدیث (پاک وہند) کے غم میں برابر کی شریک ہے کسی نے سچ کہاہے۔ع

ومَا كانَ قَيْسٌ هُلْكُهُ هُلْكَ واحِدٍ.

ولِكَنّهُ بُنْيَانُ قَومٍ تهَدَّمَا.

محمد عبدہ الفلاح(مجلس تحقیق اسلامی۔لاہور)

مولانا عبیداللہ رحمانی 1327ھ میں پیدا ہوئے۔آپ مولانا عبدالسلام مبارکپوری (م1342ھ) کے فرزند ہیں ابتدائی تعلیم اپنے والد مولانا عبدالسلام مبارک پوری سے حاصل کی۔اس کے بعد مدرسہ رحمانیہ دھلی چلے گئے۔اور وہاں مولاناحافظ احمداللہ سورج گڑھی ثم دھلوی،مولاناغلام یحییٰ کانپوری اور مولانا حافظ عبدالرحمان سے تحصیل تعلیم کی۔مولانا حافظ احمداللہ دہلوی صاحب اس وقت دارالحدیث رحمانیہ دہلی میں شیخ الحدیث تھے۔حدیث کی تعلیم،مولاناعبد الرحمان محدث مبارکپوری(م1353ھ) صاحب تحفۃ الاحوذی شرح جامع الترمذی سے بھی حاصل کی۔

تکمیل تعلیم کے بعد مدرسہ رحمانیہ دہلی میں مدرس مقرر ہوگئے۔اور کئی سال تک آپ مدرسہ رحمانیہ میں تفسیر وحدیث کادرس دیتے رہے اور حافظ احمداللہ کے دارالحدیث سے چلے جانے کے بعد ان کی جگہ شیخ الحدیث مقرر ہوگئے۔جہاں آپ سے سینکڑوں اصحاب نے استفادہ کیا۔

حدیث میں آپ کی خدمات جلیلہ:۔

مولانا عبدالرحمان صاحب محدث مبارکپوری صاحب تحفۃ الاحوذی آخری عمر میں مکفوف البصرہوگئے تھے۔انہیں تحفۃ الاحوذی کی تکمیل کے سلسلہ میں ایک ایسے عالم کے ضرورت تھی جو فنون حدیث سے خاص مناسبت اور ادب کا ذوق رکھتا ہو۔اور جو آپ کو اس اہم کام میں خاطر خواہ مدد دے سکے۔چنانچہ محدث مبارکپوری نے اس سلسلہ میں آپ کا انتخاب کیا۔چنانچہ شیخ عطاء الرحمان مہتمم نے درالحدیث رحمانیہ کی طرف سے مولانا عبیداللہ رحمانی کو بطور معاون بھیج دیا چنانچہ آپ نے 2 سال بطورمعاون رہ کر شرح ترمذی کی آخری دو جلدیں اورمقدمہ تحفۃ الاحوذی کی تکمیل کی۔اس کے بعد وہاں سےفارغ ہوکرواپس دارالحدیث رحمانیہ چلے آئے۔

مرعاۃ المفاتیح فی شرح مشکوۃ المصابیح:۔

مولانا مبار کپوری مرحوم کے ساتھ دو سال تک کام کرنے کے بعد آپ کو فنون حدیث کے ساتھ خاص ذوق پیدا ہوگیا اور شرح ترمذی کی تکمیل کے سلسلہ میں تصنیف وتنقید کا سلیقہ بھی حاصل ہوگیا۔( تراجم علمائے حدیث،ج،ص 408)

چنانچہ آ پ نے حدیث کے ساتھ محبت کے پیش نظر مشکواۃ المصابیح کی شرح عربی زبان میں مرعاۃ المفاتیح کے نام سے شروع کی جوکتاب المناسک تک 9 جلدوں میں لکھی اور اب مطبوع ہے۔

آپ آج کل مبارکپور ضلع اعظم گڑھ میں مقیم تھے اور توحید وسنت کی اقامت اور مسلک اہل حدیث کی ترویح میں منہمک تھے۔کچھ عرصہ سے طبیعت قدرے ناساز تھی۔حال ہی میں موصول ہونے والی اطلاعات کے مطابق آپ مورخہ 6 جنوری کو حالت مرض میں ہی وفات پاگئے۔اناللہ وانا الیہ راجعون

آپ کی وفات سے عالم اسلام ایک عظیم محقق اور مصنف سے محروم ہوگیا اور ایک بڑا علمی خلاصہ ہوگیا۔علوم حدیث کے حوالے سے آپ کی شخصیت بڑی تابناک تھی۔ اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ آپ کی خدمت دین کو درجہ قبولیت بخشنے اور جنت الفردوس میں جگہ عطافرمائے۔آمین!

شائد ان از جلوہ رخسار رنگین رمبدم

زاہدان رارختہ ہا اندر دل درین کردہ اند

ہمہ آہوان صحرا سر خود نہاد بربکف

یہ امید آنکہ ر وزے بشکار خواہی آمد

اللهم اغفر له وارحمه , وعافه واعف عنه , وأكرم نزله