(زیر نظر تحریر میں فاضل مضمون نگار نے بڑے دیانتدارانہ طریقے سے "سبعہ احرف" سے مراد کے تعین کی کوشش کی ہے۔اور بظاہر اس دقیق بحث کو اپنے آسان طرز بیان سے انھوں نے بڑی حد تک سہل کردیا ہے ۔اسلوب نگارش بڑا ہی منطقی اور اصولی ہے۔ اس تفصیلی مضمون کی ایک قسط اس سے قبل پچھلے شمارے میں بھی شائع ہوچکی ہے جو اپنے مقام پر ایک مستقل حیثیت کی حامل ہونے کے ساتھ ساتھ اس بحث سے بھی گہرا تعلق رکھتی ہے۔کیونکہ انہی احادیث کی روشنی میں(جو کہ تفصیل سے گزشتہ شمارے میں ذکر ہوئیں) سبعہ احرف کی مراد کا تعین کیا گیا ہے چنانچہ اس مضمون میں بھی قارئین کو بجا بجا گزشتہ قسط کے حوالے نظر آئیں گے مکمل استفادے کے خواہشمند حضرات اس قسط کو بھی سامنےرکھیں۔)

"سبعہ احرف" کا مفہوم کیا ہے۔اس کے بارے میں علماءکے مابین بہت اختلاف ہے۔حتیٰ کہ علامہ سیوطی نے"الاتقان" میں علماء کے 40 اقوال ذکر کئے ہیں۔( الاتقان:(ص131)) لیکن اقوال کی یہ کثرت قاری کے لئے باعث خوف اور وجہ مشقت نہیں ہے۔کیونکہ اکثر اقوال ایسے ہیں جو دلیل ونظر کی کسوٹی پر پورے نہیں اترتے۔بغور جائزہ لینے پر ایسے اقوال بہت کم ہیں۔ جن میں صحیح ہونے کی گنجائش ہے ۔ان میں سے چھ اقوال کو ہم یہاں ذکر کرتے ہیں:

پہلاقول:۔

ابن سعد ان نحوی کے بقول حدیث سبعہ احرف کا شمار ایسی احادیث میں ہوتا ہے جو اپنے مفہوم ومدعا میں یہ صریح نہیں بلکہ متشابہ ہیں۔( محمد بن سعدان الضریر الکوفی فی النحوی المقری ابو جعفر سنۃ 231(بغیۃ الوعاۃ 111/1))

یعنی ان کا مقصد ومراد مخفی ہے۔جس کی وجہ یہ ہے کہ"الحرف" ایسا لفظ ہے جو متعدد معانی پر بولا جاتا ہے۔جبکہ احادیث میں کسی ایک کا تعین نہیں کیا گیا لہذا اس کے مفہوم کاتعین مشکل ہے۔

دوسرا قول:۔

سبعہ احرف میں سبعہ کے لفظ سےحقیقتاً عدد مراد نہیں ہے بلکہ یہ لفظ کثرت کے مفہوم میں استعمال کیا گیا ہے۔اور عربی زبان میں یہ عام طریقہ ہے کہ"سبعہ" کا لفظ بول کر اکائیوں میں کسی شے کا کثیر التعداد ہونامراد لیا جاتا ہے۔جس طرح"سبعین"کالفظ بول کر دہائیوں میں کثرت مراد ہوتی ہے۔لہذا اس حدیث کامدعا یہ ہے کہ صحابہ کوکھلی رخصت دی گئی ہے کہ جس لغت کے مطابق چاہیں قرآن کی تلاوت کریں۔یہ قول قاضی عیاض کی طرف منسوب ہے۔( ابو الفضل عیاض بن موسیٰ الیصی ت سنۃ 544(الدیباج46/2)) اور اس کو مان لینے سے اس نظریہ کی بھی تائید ہوجاتی ہے کہ قرآن کی بالمعنی قراءت مشروع ہے۔

تیسر اقول:،۔

سبعہ احرف سے احکام ومعانی کی سات اصناف مراد ہیں جو یہ ہیں:

حلال وحرام،امر،توبیخ،محکم،متشابہ،اورامثال

چوتھاقول:۔

سبعہ احرف سے اہل عرب کی فصیح لغات میں سے ایسی سات لغات مراد ہیں جن پر قرآن نازل ہوا ہے۔یہ سات لغات آپس میں بھی مختلف ہیں جن می سے بعض لغات دوسری لغات کی بہ نسبت قرآن میں زیادہ بھی استعمال ہوئی ہیں ۔یہ قول ابو عبید قاسم بن سلام کا ہے اور امام بیہقی رحمۃ اللہ علیہ نے بھی شعب الایمان میں اس کی تائید کی ہے۔

پانچواں قول:۔

یہ سات لغات ایک کلمہ میں اور ایک ہی حرف میں بایں صورت ہیں کہ الفاظ میں تبدیلی کے باوجود معنی میں تبدیلی نہ آنے پائے۔جس طرح کوئی شخص"ادھرآؤ" کے مفہوم کے لیے"علم" کی جگہ "تعال،الی ،قصدی،نحوی اور قربی،اور اس جیسے دیگر الفاظ استعمال کرتاہے جو کہ الفاظ میں مختلف ہونے کے باوجود معنی میں یکساں ہیں۔یہ قول ابن جریر رحمۃ اللہ علیہ طبری کا ہے۔

اس کے بعد حافظ ابن جریر رحمۃ اللہ علیہ فرماتےہیں:

"اب یہ تمام لغات باقی نہیں ہیں بلکہ حضرت عثمان رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے تمام مسلمانوں کو ایک حرف اور ایک ہی مصحف پر جمع کردیا اور باقی جملہ مصاحف کو ضائع کردینے کاحکم دے دیا،ماسوائے اس مصحف کے جس کو آ پ نے خود جمع فرمایا۔اس کے علاوہ ہر اس شخص پر جس کے پاس کوئی مصحف ہوآپ نے لازمی کردیا کہ اس کو اپنے پاس نہ رکھے اور ضائع کردے۔لہذا امت مسلمہ نے اس سلسلے میں بالاتفاق آپ کی اطاعت کی،اس امر کو مد نظر رکھتے ہوئے کہ جو کچھ آپ قرآن کے بارے میں کررہے ہیں،مبنی برحق اوردرست ہے۔چنانچہ انہوں نے اپنے خلیفہ وعادل کی اطاعت کرتے ہوئے اور ا پنی اوراپنے بعد آنیوالے سارے اہل ملت کی خیر وبھلائی کو مدنظر رکھتے ہوئے باقی چھ حروف کو ترک کردیا۔جس کا نتیجہ یہ نکلا کہ حروف کی معرفت ختم ہوتی چلی گئی اور اس کے اثرات ونشانات معدوم ہوگئے۔چنانچہ آج ان حروف پر قرات کی کوئی صورت نہیں"( تفسیر ابن جریر رحمۃ اللہ علیہ :(57/1۔64))

اس قول میں احرف کی تفسیر جن سات لغات کے ساتھ کی گئی ہے ان کے تعین میں علماء کااختلاف ہے۔

1۔ابو عبید حضرت عبداللہ بن عباس سے بسند"سعید ابن عروبہ عن قتادہ عن سمع ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ نقل کرتے ہیں کہ قرآن دو کعب(یعنی کعب قریش اور کعب خزاعہ) کی لغتوں میں نازل ہوا۔آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا گیا کہ یہ کیسے ممکن ہے(کہ بیک وقت دو لغتوں میں قرآن نازل ہوا) تو آپ نے کہا کیونکہ دونوں کا گھر اور جائے اصل ایک ہی ہے۔پھر ابو عبید نے"بروایت کلبی عن ابی صالح عن ابن عباس" یہ قول نقل کیا ہے کہ قرآن سات لغات پر نازل ہوا جن میں پانچ لغات قبیلہ ہوازن کی عجز کی ہیں۔ابو عبید کہتے ہیں کہ انہیں "ہوازن علیا" بھی کہاجاتاہے جویہ ہیں:سعد بن بکر،جشم بن بکر،نصر بن معاویہ اور ثقیف۔

2۔بقول ابو حاتم(سھل بن محمد بن عثمان بن القاسم ابو حاتم السجستانی ت سنۃ 250(بقیعۃ الوعاۃ 2/606)) سجستانی ان سات لغات سے مراد قریش ،ہذیل ،تمیم، ازد،ربیعہ،ہوازن اور قبیلہ سعد بن بکر کی لغات ہیں۔

3۔ابو علی الاہوازی(الحسن بن علی بن ابراہیم بن یزداد بن ھرمز الاستاذ ابو علی الاھوازی شیخ القراء بالشام فی عصرہ ت سنۃ 446(1/220)) کا رجحان اس طرف ہے کہ یہ سب لغات ومداصل قریش کے بطون میں ہی ہیں۔

4۔بعض کے قول کے مطابق یہ سب"مضر" قبیلہ میں سے ہے ۔

5۔ابن عبدالبر نے بعض اصحاب علم سے اس قول کو بھی نقل کیا ہے کہ یہ سات لغات "ہذیل ،کنانہ،قیس ضبہ ،تیم الرباب،اسد بن خزیمہ اور قریش " کی ہیں۔( الاتقان (135/1))

چھٹا قول:۔

ابومحمد عبداللہ بن مسلم بن قتیبہ،ابو الفضل الرازی المقری اور محمد بن الجزری المقری کہتے ہیں کہ الاحرف السبعہ سے "کلمات قرآنیہ میں اختلاف اور تغایر" کی سات قسمیں مرادہیں۔یعنی سبعہ حروف کے ذریعے کلمات قرآنی میں ہونے والی تبدیلی"اختلاف کی سات قسموں" سے خالی نہیں ہوسکتی۔چنانچہ ان تغیرات اور اختلاف کی تعداد کے سات ہونے پر تو سب کا اتفاق ہے لیکن ان کے تعین اور وضاحت کے ضمن میں اختلاف ہے۔

©۔ابن قتیبہ کہتے ہیں(تاویل مشکل القرآن:(ص28)) ۔کہ میں قرآن میں سبعہ حروف کے ذریعےہونے والی تبدیلیوں پر غور وفکرکرتا رہاجس کے نتیجے میں مجھے اختلاف کی سات صورتیں معلوم ہوئیں:

1۔تغیر کی پہلی صورت یہ ہے کہ کسی کلمہ کے اعراب اور حرکت میں ایسی تبدیلی ہوجونہ اس کے معنی میں تغیر کرے نہ صورت خطی میں،جس طرح کہ فرمان الٰہی(هَؤُلاءِ بَنَاتِي هُنَّ أَطْهَرُ ) میں(هُنَّ أَطْهَرُ) یعنی راء پر پیش کے بجائے زبر۔

2۔کسی کلمہ کے اعراب یا حرکت میں ایسی تبدیلی واقع ہو جو اس کے مفہوم ومعنی کو تبدیل کردے لیکن صورت خطی برقرار رہے ۔جیسا کہ اللہ تعالیٰ کے فرمان(رَبنَا بَاعَدَ بَيْنَ أَسْفَارِنَا) میں (رَبنَا) یعنی باء کے ضمہ کے ساتھ۔

3۔کلمہ کے اعراب میں تبدیلی کی بجائے اس کے حروف میں ایسی تبدیلی ہو جس سے معنی تو متغیرہوجائے لیکن صورت خطی برقرار ہے۔مثلاً(وَانظُرْ إِلَى الْعِظَامِ كَيْفَ نُنشِزُهَا) کی بجائے(نُنشِزُهَا)

4۔اختلاف کی چوتھی صورت یہ ہے کہ کسی کلمہ میں تغیر اس کی صورت خطی یعنی صورت وہیت پر تو اثر انداز ہولیکن معنی میں کوئی فرق نہ آئے۔مثلاً(إِنْ كَانَتْ إِلَّا صَيْحَة وَاحِدَة ) کی جگہ(الا زفية)

5۔تبدیلی اس طور پر ہوکہ کلمہ کی شکل وصورت کے ساتھ معنی بھی تبدیل ہوجائیں جیسے (وَطَلْحٍ مَنْضُودٍ ) کی جگہ(وَطَلْع مَنْضُودٍ )

6۔اختلاف کی نوعیت تقدیم وتاخیر کی قبیل سے ہومثال کے طور پر(وَجَاءتْ سَكْرَةُ الْمَوْتِ بِالْحَقِّ) کی بجائے(وَجَاءتْ سَكْرَةُ لْحَقِّ بالْمَوْتِ ) پڑھا جائے۔

7۔کلمات میں زیادتی یا نقص۔۔۔مثلاً (وَمَا عَمِلَتْهُ أَيْدِيهمْ ) کی بجائے(وَمَا عَمِلَتْ أَيْدِيهمْ ) اور(وَاللَّهُ هُوَ الْغَنِيُّ الْحَمِيدُ ) کی بجائے(وَاللَّهُ الْغَنِيُّ الْحَمِيدُ )

© ابو الفضل الرازی کے مطابق تغیرات کی سات قسمیں(اس قول کو سیوطی نے نقل کیا ہے۔اور رازی کی کتاب اللوائح کی طرف اس کی نسبت کی ہے۔الاتقان(ابو الفضل بن ابراہیم جس کے طابع ہیں) میں"اللوائح"یعنی ہمزہ کے ساتھ ہے جبکہ اصل میں اس کتاب کا نام"اللوامح "بالیھم ہے۔) یہ ہیں:

1۔واحد ،تثنیہ،جمع اورتذکیر ومبالغہ جیسے اسماء کے اوزان کا مختلف ہونا(یعنی واحد کی جگہ تثنیہ یامذکر کی بجائے مونث۔

2۔افعال(ماضی،مضارع،امر،نہی) کا ایک دوسرے سے تبدیل ہوجانا۔اس طرح وہ اسماء جن کی طرف فعل کی نسبت ہوتی ہے۔(مثلا! مذکر،مونث،متکل،،مخاطب اور فاعل ومفعول) کا مختلف ہونا۔

3۔اعراب کی مختلف وجوہ کے ذریعے وجود میں آنے والی تبدیلی

4۔کمی اور زیادتی کی قسم سے وجود میں آنے والی تبدیلی

5۔تقدیم و تاخیر کی قبیل سے ہونے والی تبدیلیاں

6۔ایک کلمہ کے حروف کا قلب۔۔۔یا ایک کلمہ کا دوسرے کلمہ سے تبادلہ یادوسرے حروف سے تبادلہ۔

7۔مختلف لغات کے ضمن میں ہونے والی تبدیلیاں۔

© ابن جزری کہتے ہیں(النشر(1/26)) کہ میں نے صحیح، شاذ،منکر اور ضعیف یعنی قرات کی ہرقسم کا بغور جائز ہ لیا ہے۔جس کے بعد میں اس نتیجے پر پہنچا ہوں کہ جملہ حروف کاباہمی اختلاف ان سات صورتوں سے خالی نہیں:

1۔معنی اور شکل وصورت میں تبدیلی کی بجائے کسی کلمہ کی حرکات میں تغیر ہو۔جس طرح کہ(البُخْلُ )میں چار قسم کی حرکات اور( يَحْسَبُ)میں دو قسم کی حرکات پڑھنا جائز ہے۔

2۔معانی میں تغیر ہوفقط! جیسے(فَتَلَقَّى آدَمُ مِنْ رَبِّهِ كَلِمَاتٍ فَتَابَ عَلَيْهِ) میں (كَلِمَاتٍ فَتَابَ عَلَيْهِ) اور(وَادَّكَرَ بَعْدَ أُمَّةٍ) کی بجائے(وَادَّكَرَ بَعْدَ أُمَّه)

3۔معنی میں تغیر کے ساتھ ساتھ حروف میں بھی تبدیلی ہوجائے لیکن صورت خطی تبدیلی نہ ہو۔مثلاً(تَبْلُوا ) کو( تَتْلُواْ) اور( نُنَجِّيْكَ ) کو

(ننحيك) یعنی حاءکے ساتھ۔

4۔حروف میں تغیر کے باوجود معنی میں تبدیلی نہ ہو۔جب کہ صورت تبدیل ہوجائے ۔جیسے(بصطة ) کی بجائے(بسطة ) اور(الصِّرَاطَ ) کی جگہ(السّرَاطَ )

5۔معنی اور صورت دونوں تبدیل ہوجائے جیسے(أَشَدَّ مِنكُمْ ) اور(منهم)

( يأتل ) اور(يتال)۔( فَاسْعَوْا إِلَى ذِكْرِ اللَّهِ ) کی جگہ(فامضوا إلى ذكر الله)

6۔تبدیلی تقدیم وتاخیر کی قبیل سے ہو،مثلاً(فَيَقْتُلُونَ وَيُقْتَلُونَ ) کی جگہ(فَيَقْتُلُونَ وَيُقْتَلُونَ ) اور(وَجَاءتْ سَكْرَةُ الْمَوْتِ بِالْحَقِّ) کی بجائے(وَجَاءتْ سَكْرَةُ الْحَقِّ بالْمَوْتِ)

7۔بعض کلمات میں کمی کردی جائے یا بعض میں زیادتی حروف ہوجائے۔جیسے وصي کی جگہ اوصي اور(وَمَا خَلَقَ الذَّكَرَ وَالأنْثَى)کی جگہ(وَمَا خَلَقَ الذَّكَرَ وَالأنْثَى) یعنی راء کے کسرہ کے ساتھ۔

ابومجاہد(صاحب مضمون) کہتے ہیں:ایسے اقوال جن کی طرف"سبعہ احرف" کی توضیح کے سلسلے میں رجوع کیا جاسکتاہے۔اور جو عقل ونظر کی کسوٹی پر پورا اترتے ہیں یہی مذکورہ بالا چھ اقوال ہیں۔جن کی حقیقت اور صواب وخطاء کا فیصلہ بڑی بحث وتمحیص اور دقت نظر کے بعد ہی کیا جاسکتا ہے ۔سو جب ہمارے سامنے ان اقوال کے حقائق اور ان کے دلائل واضح ہوجائیں تب ہی ان میں قول مختار کا حتمی فیصلہ کرنا ممکن ہوسکے گا۔

اب ہم ا پنےترتیب شدہ خاکے کی روشنی میں ان چھ اقوال کو ثابت اور متواتر قراءت پر پیش کریں گے جس میں ان پرورد ہونے والے اعتراضات واشکالات کو بیان کرتے ہوئے قول راجح کی نشاندہی کی جستجو کی جائے گی اور اللہ کی توفیق اور خصوصی اعانت کے ساتھ اس بحث کے آخر تک ہم کسی ایسے نتیجہ پر پہنچ جائیں گے جو دلائل وبراہین کےلحاظ سے مضبوط ،اعتراضات سےمحفوظ اورقراءت قرآنیہ کے قریب تر ہوگا۔ان شاء اللہ تعالیٰ!

سابقہ اقوال پر بحث وتمحیص

قول اول:۔

جس میں حروف کے بارے میں یہ موقف اختیار کیا گیا ہے کہ حدیث سبعہ احرف در اصل معنوی لحاظ سے متشابہ ہے اور اس کے مفہوم کا ادراک نہیں ہوسکتا۔

اگرتو یہ بات اس قول کے قائل کی ا پنے بارے میں ہے کہ میرے لیے یہ حدیث متشابہ والمعنی ہے۔اور میں اس کے مفہوم کو نہیں سمجھ سکا۔تب تو اس قول میں کوئی مضائقہ نہیں۔لیکن اگر قائل کی مراد تمام امت کے لئے مطلق طور پر ہے۔کوئی بھی امتی اس کے مفہوم وحقیقت سے آشنا نہیں تو قائل کا یہ نظریہ فقط ایک غلط فہمی ہے۔اور اس نظریے کی تردید اس امر سے بخوبی ہوجاتی ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ا پنی امت کو سکھانے اور تعلیم دلانے کے لئے مبعوث کئے گئے تھے۔جس میں آپ کو سبعہ احرف کی تعلیم دینے کا حکم بھی تھا۔چنانچہ آپ نے امت کو عملاً اس کی تعلیم دی اورانہیں ان حروف پر تلاوت کاحکم دیا۔جس کو امت بجالائی(جیساکہ احادیث سابقہ بھی اس پر مصرح ہیں) اورصحابہ کرام رضوان اللہ عنھم اجمعین سبعہ احرف پر تلاوت کرتے رہے اور بخوبی ان کا علم رکھتے تھے یا صحابہ رضوان اللہ عنھم اجمعین کی اکثریت کے پاس ان حروف کا علم تھا۔بعد میں صحابہ رضوان اللہ عنھم اجمعین نے تابعین رحمۃ اللہ علیہ کو اس کی تعلیم دی۔اور یہ حروف ہرزمانے میں رائج ہے حتیٰ کہ ہم تک متصل اسانید کے ساتھ پہنچ گئے۔ان تمام حقائق کی روشنی میں یہ کیسے کہا جاتا ہے کہ یہ سبعہ حروف متشابہ المعنی ہیں جن کے معانی و مفاہیم کا ادراک نہیں کیا جاسکتا؟

اگر اس قول سے مراد یہ ہے کہ پہلی صدی ہجری کے مسلمان اس کا علم رکھتے تھے اور ان کے ساتھ قراءت کرتے تھے لیکن بعد میں یہ علم ختم ہوگیا اور اس کے اثرات ونشانات معدوم ہوگئے۔لہذا آج ہم اس کی حقیقت کو نہیں جان سکتے تو اس بات کا بھی عقل وفہم سے کچھ واسطہ نہیں۔یہ وہی بات ہے جس کو ابن جریر رحمۃ اللہ علیہ نے اختیار کیا ہے اور اس پر تفصیلاً بحث آگے پانچویں قول کے ضمن میں آئے گی لیکن مختصراً یہ سمجھ لینا چاہیے کہ:

قرآن کی ایسی ثابت قراءت جو آج ہم میں موجود اور مروج ہیں اوراپنے دامن میں الاحرف السبعہ کو سموئے ہوئے ہیں،کہ بارے میں اہل وعلم تحقیق کا کبھی یہ اختلاف نہیں رہا کہ ان متواتر عشرہ قراءت کا بڑا حصہ احرف سبعہ پر مشتمل ہے ۔بلکہ اس سے بڑھ کر یہ بھی متفقہ بات ہے کہ عشرہ قراءت ان تمام حروف پر مشتمل ہیں جو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم پر سب سے آخر میں نازل کئے گئے تھے۔چونکہ اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم کی تاقیامت حفاظت کی ذمہ داری اپنے سر لی ہے اور ایسا ممکن نہیں کہ قرآن سے کچھ بھلا دیاگیا ہو،یا معدوم ہوگیا ہو۔لہذا اس سے یہ بات ثابت ہوتی ہے کہ جملہ حروف جو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم پر سب سے آخر میں نازل ہوئے سب کے سب محفوظ ومامون ہیں حتیٰ کہ ہردور میں امت کا ان کو تلقی بالقبول حاصل رہا ہے اور یہ ہمیشہ محفوظ رہیں گے یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ قرآن کے اٹھا لیے جانے کا حکم دے دیں۔اس قول کی تردید"حدیث میں و ارد شدہ صراحت" سے بھی ہوتی ہے۔کہ ان سبعہ حروف کے نزول کا مقصد امت کے لیے آسانی پیدا کرنا ہے۔کیامجہول اور نا معلوم شے سے امت کے لئے آسانی پیدا ہوسکتی ہے۔علاوہ ازیں کس دلیل کی بناء پر اس رخصت اور آسانی کو فقط دور اول تک محدود کیا جاسکتا ہے۔جبکہ حدیث میں"امت" کےلفظ عام ہیں اورپوری امت محمدیہ پر یہ دال ہیں۔

باقی رہا یہ مسئلہ کہ حرف کا مفہوم قطعی نہیں اور یہ ایسا لفظ ہے جو مشترک اور کثیر معانی پر بولا جاتاہے تو یہ بات تو صحیح ہے کہ حرف کا لفظ عام ہے لیکن باوجود اس کے قرائن وآثار کی رو سے حرف کی تقین اور مراد واضح اور حتمی ہوچکی ہے(جیسا کہ گے تفصیل سے بیان ہوگا) چنانچہ اس تفصیل کے بعد حرف کا لفظ مشترک نہیں رہے گا بلکہ احادیث سبعہ احرف میں استعمال ہونے والے حرف کا مفہوم متعین ہوجائے گا۔

قول ثانی:۔

یہ قول کہ"سبعہ احرف" کے الفاظ سے حقیقتاً عدد اور گنتی مراد نہیں بلکہ حدیث سبعہ احرف کا مفہوم ومنشا یہ ہے کہ صحابہ کو آپ نے قراءت بالمعنی کی رخصت دی ہے جس میں وسعت زبان کو مد نظر رکھتے ہوئے کو ئی بھی ہم معنی لفظ تلاوت کیا جاسکتا ہے۔

اس قول کے قائلین کو دراصل اس سلسلے میں وارد ہونےوالے فرمانات سے التباس پیدا ہوا ہے۔جس طرح کہ ابی بن کعب،ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ ،اور ابو بکرہ، کی احادیث کے ظاہر الفاظ سے یہ اشکال پیدا ہوتا ہے ۔جو اس طرح ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سبعہ احرف کے فرق کو سمجھاتے ہوئے صحابہ رضوان اللہ عنھم اجمعین کو مثال دی کہ تم علیماً حکیماً کی جگہ غفورا رحیماً پڑھ سکتے ہو۔اور ایک روایت(دیکھئے حضر ت ابو ہریرۃ رضی اللہ تعالیٰ عنہ اور ابو بکرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی احادیث میں(محدث جلد 23 شمارہ نمبر4) صفحہ جات:41 ،54 اور 60)) میں اس پر ان الفاظ کا اضافہ بھی منقول ہے کہ"تم سبعہ احرف پر بلا جھجک تلاوت کرو لیکن خیال رہے کہ عذاب کے ذکر کو رحمت اور رحمت کے ذکرکو عذاب سے مت تبدیل کرو۔"اسی طرح ابن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے موقوفاً یہ الفاظ بھی منقول ہیں کہ میں نے قراءت کو سناتو تو باہم متقارب پایا۔لہذا جیسے جیسے تمھیں سکھایا گیاہے ویسے ہی پڑھو،اوراس میں شک سے بچو کیونکہ قراءت کا معاملہ ایسے ہی ہے جیسے کوئی "ھلم" کی جگہ"تعال "اور اقبل " کہہ دے۔( دیکھیں احادیث حضرات ابن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ :صفحہ 48(محدث جلد 23 شمارہ4))

سو انہی مذکورہ بالا مرویات سے اس قول کے قائلین کو یہ نظریہ اپنانے میں تقویت ملی ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ رضوان اللہ عنھم اجمعین کو اجازت دی تھی کہ قرآن کےمنزل الفاظ کی بجائے کوئی اوربھی تلاوت کئے جاسکتے ہیں جب کہ در حقیقت ایسا نہیں۔کیونکہ ان مذکورہ نصوص سے زیادہ سے زیادہ یہ بات اخذ کی جاسکتی ہے۔کہ حدیث میں آنے والی مثالوں کےساتھ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے صرف سبعہ احرف کے ذریعے وقوع پذیر ہونے والے اختلاف اور تبدیلی کی نوعیت بذریعہ مثال واضح فرمانے کاارادہ کیا تھا کہ دیکھو جس طرح فلاں دو الفاظ میں ان کا باہمی تناقض وتضاد نہیں اسی طرح سبعہ احرف میں ہونے والے تغیرات بھی اسی قبیل سے ہیں۔تاکہ آنے والے لوگوں کو قراءت کے استعمال سے قرآن میں اضطراب کا شائبہ نہ ہو۔یعنی ان کے ذہن میں یہ خیال نہ آنے پائے کہ قراءت کے استعمال سے قرآن کا مفہوم ومدعا بھی تبدیل ہوجاتا ہے اور ان کے سامنے بخوبی واضح ہوجائے کہ سبعہ احرف کے ذریعے ہونے والے اختلافات کی کیا نوعیت ہے۔چنانچہ ابن مسعود نے "ھلم تعال "وغیرہ اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے(عَلِيمًا حَكِيمًا ) کی بجائے (غَفُورًا رَحِيمًا) کی سی مثالیں دے کر وضاحت فرمادی کہ یہ سب کی سب صفات الٰہی ہیں۔اگر ایک قراءت میں(غَفُورًا رَحِيمًا) کہہ دیا جائے اور دوسری قراءت میں اللہ عزوجل کو علیم وحکیم سے موصوف کردیاجائے تو اس میں کوئی معنوی تضاد نہیں۔دوسرے قول میں بیان ہونے والے نظریہ کی مزید تردید حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے اس قول سے بھی ہوتی ہے۔جس میں آپ نے کہا کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم تمھیں حکم دیتے ہیں کہ"ویسے پڑھو جیسے سکھائے گئے ہو۔( دیکھیں ص:40(محدث جلد 23،شمارہ4)) حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے اس فرمان سے بالصراحت ثابت ہوتا ہے کہ قرآن کی کوئی بھی قراءت جائز نہیں الا یہ کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کا منقول ہونا ثابت ہو اور آپ سے سنی گئی ہو۔چنانچہ ابن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے قول کو بھی اسی تاویل پر محمول کیا جائے گا۔جوحضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے قول" فَأُقِرُّوا كَمَا عَلِمْتُمْ " میں ثابت ہونے والے دلیل سے ثابت ہے۔ مزید برآں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بعض اقوال میں فرمایا کہ جبریل علیہ السلام نے انھیں کہا کہ"اللہ تعالیٰ آپ کو حکم فرماتے ہیں کہ اپنی اُمت کو سات حروف پر قرآن پڑھائیے۔"یہ دلیل بھی اس بات کو صراحتاًثابت کرتی ہے کہ جس قراءت کو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے تلاوت نہیں کیا اور امت کو نہیں سکھلایا اس کو احرف سبعہ کے ضمن میں نہیں لایا جاسکتا لہذا اصحاب کرام رضوان اللہ عنھم اجمعین کے جو واقعات احادیث میں مذکور ہیں کہ انھوں نے قر اءت میں اختلاف کیا اور ابتداء امر میں بعض صحابہ رضوان اللہ عنھم اجمعین نے بعض پر اس کی قراءت کا انکار کیا۔تو ان سب واقعات میں کسی سے بھی یہ منقول نہیں کہ کسی صحابی رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اپنی طرف سے کچھ پڑھا ہو بلکہ ہر ایک کایہ کہنا کہ "مجھے اس طرح نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے پڑھا یا ہے۔

ان دلائل سے یہ بات پایہ ثبوت تک پہنچ جاتی ہے کہ سبعہ حروف کے ذریعے کلمات وحروف کو تبدیل کرکے پڑھنےھ کی رخصت عام نہیں بلکہ اس بات سے مقید ہے کہ جو آپ پر نازل ہوا اور آپ نے آگے سکھلایا اُس پر ہی تلاوت جائز ہے۔ کسی صحابی کے لیے یابعد میں امت کے کسی بھی فرد کے لیے یہ جائزنہیں کہ کسی ایسی قراءت کی تلاوت کرے جو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے امت کو نہیں سکھائی الغرض قرآن میں کسی بھی لفظ کا ہم معنی تبادل لفظ اپنی طرف سے تلاوت نہیں کیا جاسکتا۔

اگر یہ کہا جائے کہ:"سبعہ احرف سے در حقیقت عدد مراد نہیں بلکہ یہ کثرت کےمفہوم کے لئے استعمال ہوا ہے۔جس طرح کہ اکثر اہل عرب کی عادت ہے۔"

تو اس اشکال کی بھی حقیقت یہ ہے کہ امر واقعہ ایسے نہیں کیونکہ واضح نصوص(جن کا ذکر تفصیل سے ہوچکا ہے) عدد کو ثابت کرتے ہیں اور حروف کی حد بندی پر دال ہیں۔اور کسی بھی جگہ پر سبعہ کے علاوہ کوئی اور عدد استعمال نہیں ہوا،اس کا لازمی نتیجہ یہی ہے کہ سبعہ سے خاص عدو ہی مراد ہے ۔(مزید تفصیل آگے ملاحظہ فرمائیں)

قول ثالث:۔

تیسرا قول کہ " احرف سبعہ سے احکام و معانی وغیرہ کی اقسام مراد ہیں "

صاحب قول کے اس شبے کی وجہ یہ ہے کہ انھوں نے حدیث ابن مسعود کے ظاہری متن کو (جسے امام حاکم وغیرہ نے روایت کیا ہے) سمجھنے میں غلطی کھائی ہے جس میں ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے کہا :

"پہلی کتاب ایک دروازے سے ایک ہی حرف پر نازل ہوئی جبکہ قرآن کریم سات دروازوں سے سات حروف پر نال ہوا ہے ڈرانے والا حکم دینے والا حلال کرنے والا حرام کرنے والا ،اپنی مراد میں واضح یعنی محکم متشابہ اور گزشتہ قوموں کے حالات بتانے والا(احادیث ابن مسعود ص:51(محدث جلد 23شمار ہ4))

چنانچہ انہیں گمان یہ ہوا کہ یہ مذکورہ انواع "احرف"کی تفسیر ہیں جبکہ فی الحقیقت ایسا نہیں ۔کیونکہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دراصل اس حدیث میں دروازوں اور حروف کے بارے میں خبر دیتے ہوئے اس کے ساتھ ساتھ ایک تیسری چیز کی بھی خبر دی ہے جس کا پہلی دوسے کوئی تعلق نہیں جو قرآن کے معانی و مقاصد کے گرد گھومتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ یہ ساتوں کلمات (جو کہ معانی واحکام سے متعلق ہیں ) حال ہو نے کی بناء پر منصوب ہیں نہ کہ مجرو۔۔۔یعنی (على سبعة أحرف.)کا بدل بنتے ہوئے مجرور نہیں بلکہ حال بنتے ہوئے منسوب ہیں ) لہٰذا عبارت کی تقدیر یوں ہے کہ قرآن نازل کیا گیا اس حال میں کہ ڈاٹنے والا ہے حکم دینے والاہے۔۔۔الخ ۔

اس کے علاوہ روایات سے یہ بات حتمی طور پر ثابت ہو جا تی ہے کہ حروف سے مراد پڑھنے کی صورتیں ہی ہیں نہ کہ اصناف معانی و احکام !جس طرح کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے مختلف احادیث میں یہ الفاظ منقول ہیں کہ مجھے جبریل علیہ السلام پڑھایا کرتے تھے اور عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے الفاظ ہیں کہ میں نے ہشام بن حکیم کو سنا کہ وہ اس صورت پر سورۃ الفرقان کی تلاوت فرمارہے تھے جو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے نہیں سکھائی تھی ۔سو ان احادیث کی موجودگی میں کہ جن میں پڑھنے یا پڑھانے کا تذکرہ صراحت سے موجود ہے سبعہ احرف سے مزعومہ مفہوم کس طرح اخذ کیا جا سکتا ہے۔ جو اصحاب علم ان معانی و احکام کی اصناف قرار دیتے ہیں وہ اس فر مان نبوی کا کیا مفہوم بیان کریں گے کہ "مجھے جبریل علیہ السلام نے ایک صورت پر پڑھایا پھر دوسری صورت پر۔۔۔"کیا فقط "حلال "بتانے والی یا "حکم " ثابت کرنے والی یا زجروتو بیخ والی آیات پر جبریل علیہ السلام نے پہلے تلاوت کروائی اور ایک صنف کی تلاوت کے وقت دوسری اصناف کو نظر انداز اور حذف کردیا پھر دوسری صنف پر تلاوت کروائی پھر تیسری صنف پر۔۔۔؟اس غلط مفہوم کی تردید کے لیے ہمیں ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ اور عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے حدیث "احرف سبعہ "روایت کرنے والے تابعی ابن شہاب زھری کا قول بے حد کافی ہے کہ جن کا شمار تابعین میں حفاظ کے امام کی حیثیت سے ہو تا ہے فرماتے ہیں ۔مجھے یہ بات پہنچی ہے کہ یہ ساتھ حروف ایسے معاملے میں ہو تے جو حرام و حلال میں مختلف نہیں ہوتا ۔واضح رہے کہ (بلغني )سے مراد یہی ہے کہ وہ صحابہ کرام رضوان اللہ عنھم اجمعین سے یہ بات روایت کر رہے ہیں اسی طرح ابن جریر محمد بن سیرین سے نقل کرتے ہیں کہ انھوں نے کہا کہ سبعہ احرف حلال و حرام اور امر ونہی میں باہم مختلف نہیں ہو تے ۔بلکہ ان کہ مثال ایسے ہی ہے جیسے (تعال)کی جگہ (هلم) یا(اقبل)کہہ دیا جا ئے ۔ اس کے بعد کہتے ہیں۔کہ جس طرح ہماری قرآءت میں إِنْ كَانَتْ إِلَّا صَيْحَة وَاحِدَة ہے۔اور ابن مسعود والی قرآءت میں(تفسیر ابن جریر : ( 53/1)) إِنْ كَانَتْ إِلَّا زقية وَاحِدَة کے الفاظ ہیں۔

قول رابع :

سبعہ احرف کے بارے میں یہ نظریہ کہ قرآن مجید کی سات قرآءت سے مراد اہل عرب کی سات مشہور اور فصیح لغات ہیں جو کہ قرآن مجید میں زیر استعمال ہیں اور کچھ لغات کا استعمال قرآن میں زیادہ ہے اور کچھ کا قدر ے کم۔۔۔

اگرچہ یہ قول گزشتہ اقوال کی نسبت قوی معلوم ہو تا ہے مگرچند چیزیں ایسی ہیں جو اس میں ضعف کا باعث ہیں پہلی وجہ تویہ ہے کہ اس قول کے قائلین کا ان لغات نصحیٰ کی تعین میں اور ان کی تعداد میں اختلاف ہے ۔جب کہ سبعہ احرف کے ضمن میں واقعہ یہ ہے کہ حدیث میں ان کے عدد کا تعین نہ صرف موجود ہے بلکہ اکثر احادیث بھی اس تعداد پر دلالت کرتی ہیں لہٰذا اگر ان سے مراد وہ ہے جو یہ کہتے ہیں تو سوال پیداہوتا ہے کہ صحابہ سے ان کا یہ مفہوم کیوں مخفی رہا حالانکہ انہیں یہ حروف پڑھائے اور سکھائے گئے تھے (جیسا کہ پیچھے گزر چکا ہے) انھوں نے حروف پر تلاوت بھی کی اور ہم تک ان حروف کا اکثر حصہ بھی پہنچا ہے جو کہ آج بھی ہمارے سامنے ہے۔

جہاں تک ابن عباس سے منقول دو آثار کا تعلق ہے تو ان کی اسانید میں ضعف کے باعث وہ قابل حجت نہیں کیونکہ ان میں سے ایک اثر کو تو قتادہ نے ایک غیر معین مجہول راوی سے روایت کیا ہے لہٰذا وہ روایت "منقطع "ہے جبکہ دوسری روایت کلبی سے مروی ہے جو کہ "کذاب "ہے۔( دیکھئے صفحہ نمبر :151)

انہی اعتراضات میں سے دوسرا یہ ہے کہ ایسا شخص جو ان قرآءت کا علم رکھتا ہے اور ان کو سمجھتا ہے یہ بات بخوبی جانتا ہے کہ یہ قرآءت فقط ان لغات پر ہی منحصر نہیں جن کا ذکر ہواہے۔بلکہ اسی قول کے اعتقاد رکھنے والے لغت کے ماہرین بھی قرآن مجید میں استعمال ہونے والی لغات کے ضمن میں ان کی ایک طویل فہرست گنواتےہیں یہی وجہ ہے کہ کبھی ہمیں بھی ان کی معلومات پر شک کا گمان ہوتا ہے ۔مثال کے طور پر ابن عبید نے ایک کتاب تصنیف کی ہے جس میں اس نے بے شمار مفردات قرآن کو موضوع بناتے ہوئے ان کی نسبت مختلف لغات عرب کی طرف کی ہے جبکہ وہ لغات صرف وہی نہیں جو اس قول کے قائلین اور خود ابن عبید ذکر کرتے ہیں مزید برآں عمر بن خطاب کا قول بھی (جو انھوں نے ابن مسعود سے فر مایا ) اس نظر یہ کی تردید کرتا ہے کہ انھوں نے کہا کہ بلاشبہ قرآن لغت قریش پر نازل ہوا ہے سو آپ لوگوں کو لغت قریش کے مطابق ہی پڑھائیے اور سکھا ئیے نہ کہ ہذیل کی لغت کے(ایضا ح الوقف والا بتداء للا نباری: 13/1)) مطابق اسی طرح صحیح بخاری میں عثمان بن عفان رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا قول بھی (جو کہ مصحف کی کتابت کے وقت کہا گیا) صحیح طور پر ثابت ہے کہ : جب تمھارا اور زید بن ثابت کا قرآن کے بارے میں اختلاف ہو جا ئے تو اس کو لغت قریش کے مطابق لکھ لیا کرو کیونکہ قرآن ان کی لغت پر نازل ہوا ہے۔( صحیح بخاری میں کتاب التفسیر "باب جمع القرآن "(226/1))

قرآن کریم کے بارے میں ان دو آثار صحیحہ سے نتیجہ یہی نکلتا ہے کہ قرآن میں صرف ایک ہی لغت اور ایک ہی زبان ہے جو کہ صرف اور صرف قریش کی ہے عمر بن خطاب رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے قول میں تو ابن مسعود کو اس بات سے منع بھی کیا گیا ہے کہ وہ کسی شخص کو لغت ہذیل میں قرآن مت پڑھا ئیں جبکہ ہذیل عرب کے ان بڑے اور اہم قبائل میں سے ہی ایک ہے جس کے بارے میں ابن عبید وغیرہم کا یہ کہنا ہے کہ قرآن ان کی لغت پر نازل ہوا ان دونوں صحیح آثار سے ثابت ہونے والی وضاحت کے بعد ہمارے لیے اس کے سوا کوئی چارہ کار نہیں کہ اپنے ان بھائیوں سے پوچھیں کہ وہ ان آثار کا کیا جواب دیتے ہیں ؟ اور کون سی ایسی تاویل کرتے ہیں جس کی مدد سے وہ ان آثارسے نکلنے کی راہ پاسکیں ۔

قول خامس:

ابن جریر کے اس قول کی دو شقیں ہیں :

1۔پہلی تو یہ ہے کہ ان حروف سبعہ سے مراد یکساں معانی رکھنے والے مختلف الفاظ کا استعمال ہے اور ابن مسعود کی مثال سے اس پر دلیل لی گئی ہے کہ انھوں نے کہا (یہ احرف سبعہ کی مثال ایسے ہے جیسے کوئی شخص ھلم کی بجائے تعال اور اَقبل کہہ دے کے جن سب کا معنی یکساں ہے)سو ہم یہ واضح کر چکے ہیں کہ اس مثال سے ابن مسعود کی مراد حَصَر نہیں بلکہ صرف احرف سبعہ کی وجہ سے رونما ہونے والے اختلافات میں سے کسی ایک کی طرف ذہن کو متوجہ کرانا ہے۔یہی وجہ ہے ۔یہی وجہ ہے کہ قرآن کی ثابت شدہ قرآءت کا استقراء اور استعمال ابن جریر کے اس قول کا بخوبی رد کرتا ہے کیونکہ ان میں اختلاف وتغایرکی متعدد صورتیں استعمال ہوئیں ہیں جن میں ایک "ترادف"بھی ہے۔مزید برآں یہ بات بھی ہے کہ اہل عرب کا باہمی اختلاف دراصل لہجات میں ہے۔ادغام کرنے نہ کرنے کسی حرف کو پستی سے یا فتح سے پڑھنے جھٹکا دینے یا نہ دئیے نہ دینے لمبا کرنے یا نہ کرنے اور اسی طرح کی دیگر صورتوں میں فی الواقع اختلاف ہے اور قرآءت کا بڑا مقصد بھی دوسرے طرز ادا کی مشقت کو دور کرنا ہے جو ھلم کی جگہ اقبل اور تعال پڑھنے کی بجا ئے ان صورتوں میں زیادہ ہے جوادا سے متعلق ہیں اور اوپر ذکر ہوئی ہیں۔

چنانچہ احرف کی اس طور تفسیر کرنے کا نتیجہ یہی ہو سکتا ہے کہ باقی تمام تغیرات جن میں لہجات کا استعمال بھی ہے اپنی اصل صورت پر ہی قائم رہیں اور ان میں کو ئی تبدیلی نہ ہونے پائے جبکہ یہ بات اس حکمت کے عین منافی ہے جس کے لیے احرف سبعہ کو نازل کیا گیا اوروہ حکمت یہی تھی کہ مختلف زبانیں بولنے والی امت سے مشقت دورکی جا ئے زبانوں کا باہمی اختلاف بھی فی الحقیقت لہجات کا ہی ہے جو کہ ثابت شدہ قرآءت متواترہ سے ہی ختم ہو سکتا ہے۔

2۔ابن جریر کے قول کی دوسری شق یہ ہے کہ حضرت عثمان رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اپنے ایک مصحف کے علاوہ جو کہ ایک حرف پر تھا باقی چھ حروف کو ختم کردیا اور امت پر ان چھ کی تلاوت ممنوع و منسوخ کردی۔

ابن جریر کا یہ قول عجیب و غرنیب ہونے کے ساتھ ساتھ غایت درجہ ضعیف بھی ہے۔

کیونکہ ان کے قول میں اس بات کا دعویٰ کیا گیا ہے کہ اجماع صحابہ کے ساتھ قرآن کے بعض حصے کو منسوخ کردیا گیا تھا جبکہ ان حروف میں سے ہر ایک حرف منزلی"قرآن"ہے حضرت عثمان رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو یا صحابہ کرام رضوان اللہ عنھم اجمعین میں سے کسی ایک کو بلکہ تمام صحابہ کرام رضوان اللہ عنھم اجمعین کو بھی یہ حق کیسے پہنچتا ہے کہ کسی صریح نص کے بغیرقرآن کا بیشتر حصہ لغو قرار دے دیں۔

اگر ہم ابن جریر کا ساتھ دیتے ہوئے لمحہ بھر کو بھی یہی فرض کر لیں کہ دراصل بات یہ ہے۔کہ امت مسلمہ کو ان حروف پر تلاوت کرنے کسی ایک کو اختیار کرنے اور باقی کو چھوڑ دینے کا اختیار دیا گیا تھا اور ایسا نہیں تھا کہ امت پر تمام حروف کے ساتھ قرآءت لازمی تھی کیونکہ اللہ کی طرف سے یہ ایک رخصت تھی جو اللہ تعالیٰ نے امت کے لیے نازل کی۔ لہٰذا اگر انھوں نے ایک رخصت کو امت کے حالات کے پیش نظر حذف کردیا تو اس پر کیا مضائقہ ہے۔۔۔؟

تو اس پر بھی ہم یہی کہہ سکتے ہیں : کہ یہ اختیار اور رخصت ان حروف میں کسی پر قرآءت کی صرف اس حد تک تھی کہ جو قاری کو آسان اور سہل معلوم ہوا اس پر تلاوت کر سکتا ہے نہ کہ اس کو ان حروف کو آگے نقل کرنے کے بارے میں بھی اختیار دیا گیا تھا بلکہ امت پر تو لازم تھا کہ ان جملہ حروف کو آگے روایت کر ے اور بعد میں آنے والوں تک بحفاظت پہنچائے ۔کیونکہ ہر ایک حرف بمنزلہ ایک آیت کے ہے اور حضرت عثمان رضی اللہ تعالیٰ عنہ و دیگر صحابہ کرام رضوان اللہ عنھم اجمعین قطعاً یہ حق نہیں رکھتے تھے کہ ان میں سے کچھ بھی لغو اور بے فائدہ قرار دے کر حذف کروادیں۔

اس نکتے کی وضاحت ایک مثال سے سمجھئے کہ سفر میں مسلمان کو روزہ رکھنے یا نہ رکھنے میں اختیار ہے چاہے تو عزیمت پر عمل کرتے ہوئے روزہ رکھ لے اور اگر چاہے تو رخصت پر عمل کرلے۔لیکن اگر وہ چاہے کہ اس رخصت کو ہی باطل قراردے لے اور نہ صرف اپنے آپ پر بلکہ باقی امت پر بھی سفر میں روزے کو لازم کردے تو کیا اس کا یہ طرز عمل درست ہو گا ۔یقیناً نہیں بلکہ اس کے لیے لازمی ہے کہ اس رخصت کو آگے بھی روایت کرے۔سو سبعہ حروف میں کسی ایک پر تلاوت کے اختیار میں اور ایک کو باقی رکھ کر باقی چھ حروف کو حذف کردینے میں بھی وہی فرق ہے جو سفر میں رخصت و عزیمت کے اختیار کو نقل کرنے میں یا روزے کی رخصت کو باطل کر دینے میں موجود ہے۔

چنانچہ صحابہ کرام کے لیے کیسے ممکن ہو سکتا ہےکہ وہ اس رخصت یعنی حروف سبعہ میں سے کسی پر تلاوت کی رخصت کو باطل اور لغوقرار دے بیٹھیں جبکہ اس کی حکمت آج تک موجود ہے بلکہ مختلف زبانوں اور مختلف نسلوں کے لو گوں کے دائرہ اسلام میں آجانے کی بدولت اب اس کی ضرورت کہیں زیادہ ہے کیا ایک قریشی پر ہذیل کی زبان کے مطابق تلاوت کرنا بنسبت کرنا ایک عجمی کے عربی قرآن کو تلاوت کرنے سے زیادہ مشکل ہے یقیناً نہیں ۔۔۔کیونکہ قریشی اور ہذیل کی لغات باوجود فروغی فرق کے حقیقیتاً تو ایک ہی زبان ہے جبکہ عربی اور عجمی کی زبان بالکل مختلف ہے۔

اسی طرح کیا ب امت میں قیامت تک بوڑھے ،بچے ،جوان اور قریب المرگ یا ان پڑھ اشخاص کی آمد کا سلسلہ ختم ہو چکا ہےاور اب ایسا ممکن نہیں رہا کہ کو ئی ایسا شخص اسلام میں داخل ہو جو پڑھنے اور لکھنے سے قطعاً بے بہرہ عربی زبان کی مشکلات سے دو چار اور تلفظ میں صعوبت کا سامنا کرنے والا ہو۔

اس میں کو ئی شبہ نہیں کہ آج بھی ایسے مسلمانوں کو تلاوت قرآن میں مشقت کا سامنا ہے جن کی زبانیں عربی سے مختلف اور عجمی ہیں بلکہ انہیں اس دور سے زیادہ ضرورت اور اس رخصت کی زیادہ حاجت ہے۔

ان حقائق کو سمجھنےاور جاننے کے باوجود نامعلوم کون سی ایسی اہم وجہ ہے جس نے ابن جریر کو اس رائے کے اختیار کرنے پر مجبورکیا حالانکہ واقعہ یہ ہے کہ جملہ قرآءت مصحف عثمان رضی اللہ تعالیٰ عنہ میں نہ صرف پائی جاتی ہیں لبکہ مصحف عثمانی سے ہی ثابت بھی ہیں (دیکھئے صفحہ 179شرط اول)

سوال پیدا ہو تا ہے کہ کیسے ممکن ہے کہ ایک ہی مصحف عثمانی میں سبعہ احرف بیک وقت موجود ہوں ۔۔۔؟یا صورت ایسی ہے کہ ایک حرف کے بجائے مختلف مصاحف میں مختلف حروف ہیں ؟؟

اس مسئلہ میں جس رائے کو محققین نے اختیار کیا ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم پر آخری مرتبہ جو حروف تلاوت کئے گئے ان میں سے کسی ایک کو بھی حضرت عثمان رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے مہمل کیا ہے اور نہ کسی کا ابطال کیا ہے اسی طرح ان کے سلف ابو بکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے بھی اس طرح کا کو ئی فعل سر زد نہیں ہوا بلکہ مصاحف عثمان رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے ضمن میں ہی جملہ حروف (جو آپ پر آخری مرتبہ پیش ہوئے ) محفوظ اور باقی ہیں اور تاقیامت امت کے لیے ان حروف میں سے کسی پر بھی تلاوت کی رخصت موجود ہے۔

قول سادس:۔

ابن قتیبہ رازی اور جزری کا یہ کہنا ہے کہ احرف سبعہ سے در حقیقت اختلاف اور تبدل و تغیر کی انواع مراد ہیں جو کہ سات ہیں ۔۔۔الخ۔

اس قول کی تر دید مندرجہ ذیل امور کے ساتھ ہوتی ہے۔

1۔پہلی بات تو یہ ہے کہ انواع تغیر کی نشاندہی اور ان کی تعداد و تعین پر اتفاق ہو نا ضروری امر ہے جبکہ یہ امر ان قائلین کے مابین مختلف ہے۔

2۔ثانیاً یہ ہے کہ حروف میں تعدد کی اہم تر حکمت ان قبائل اور گروہوں کے لیے رخصت مہیاکرنا تھی جو پڑھنے لکھنے سے بہرہ ور نہیں اور ان کے لیے ان کی زبان پر جاری طرز ادا کے ماسوا دوسرے طرز پر تلاوت مشکل تھی پھر چند مخصوص قبائل کے سوا بالعموم اہل عرب پڑھنے اور لکھنے سے ناآشنا تھے جبکہ ان انواع تغیر (جنہیں یہ اصحاب علم بیان کرتے ہیں ) کا بڑا اور اہم تعلق طرز کتابت اور صورت خطی سے ہے نہ کہ طرز اداسے ۔مزید یہ کہ ان تمام انواع کا ادراک اور استنباط صرف وہی شخص کر سکتا ہے جو بڑی بحث گہرائی اور وسعت مطالعہ سے ان کا جائزہ لے اور اس کے ساتھ ساتھ یہ بھی ہے کہ وہ مختلف رسوم الخط سے بھی کافی واقفیت رکھتا ہو۔اور یہ معاملہ تو نہ صرف علماء بلکہ خاص علماء سے ہی تعلق رکھتا ہے سو چاجائے تو پھر ان حروف کا ان مسلمانوں کے لیے کیا فائدہ ہے جن کی آسانی اور سمولت کی خاطر انہیں نازل کیا گیا اور جن کی مشقت دور کرنے کے لیے متعدد صورتوں کی اللہ تعالیٰ نے رخصت دی ؟اگرہم اس قول کو مان لیں تو پھر ایسے ان پڑھ مسلمان کس طور ان دقیق اور علمی وجوہات کو استعمال میں لا سکتےہیں جو پڑھنے لکھنے سے بہرہ ور نہیں ۔اور کس طرح وہ ان تک پہنچ سکتے ہیں ۔اگر سبعہ حروف سے مراد یہی ہے جویہ کہتے ہیں توبلاشبہ یہ تو ان پر مزید مشقت ہے اور ان سے کسی ایک کو اختیار کرکےپڑھنا تو ان کے واسطے از حد مشکل ہے اور یہ کیسا اختیار ہے کیسی رخصت ہے؟

نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان حروف کے بارے میں خبر دیتے ہو ئے فر مایا کہ یہ تمام حروف شافی اور کافی ہیں اور ان میں سے جس پر بھی جس بھی لوگ پڑھیں گے سووہ درست ہی کریں گے۔ اس طرح آپ نے فر ما یا کہ" آپ نے اللہ تعالیٰ سے خصوصی طور پر اس رخصت کو مانگاہے تاکہ امت کے مختلف لوگوں کو اس رخصت اور آسانی سے فائدہ پہنچایا جا سکے۔ جن میں بوڑھے بھی ہیں طویل العمر بھی کم عمر اور ادھیڑ عمر بھی اور ایسے لوگ بھی جنہیں کبھی لکھنے پڑھنے کا اتفاق ہی نہیں ہوا۔ ایک روایت میں " خادم" کے الفاظ بھی آئے ہیں کہ اس امت میں خدمت گزار بھی ہیں۔

جزری ،رازی اور ابن قتیبہ رحمۃ اللہ علیہ سے ہم یہ پوچھ سکتے ہیں کہ ہمیں بتائیں کہ ایسے لوگ (جن کا ابھی ذکر ہوا ہے) کس طرح ان کی ذکر کردہ انواع اختلاف کو یا کسی ایک کو استعمال کرنے کی طاقت رکھتے ہیں اور کس طرح وہ ان پر قرآن کو پڑھ سکیں گے۔ اس میں ان کے لیے رخصت کا کون سا پہلو ہے اور ان کے لیے اس میں کس طرح سے آسانی اور تیسیرہے۔

3۔اس قول پروارد ہونے والے اعتراضات میں سے تیسرا یہ ہے کہ ابن قتیبہ رحمۃ اللہ علیہ اور جزری رحمۃ اللہ علیہ نے سات انواع تغیر کو ذکر کرتے ہوئے اختلاف لہجات کو توذکر بھی نہیں کیا باوجود اس کے وجوہ اختلاف کے ضمن میں یہ وجہ بڑی اور کثرت سے استعمال ہونے والی ہے جیسا کہ اوپر ذکر ہو چکا ہے۔

اس تجزیہ سے ہمارا مقصد ہرگز یہ نہیں کہ ہم ان انواع تغیر کا انکار کرنے پر مصرہیں بلکہ ہم تو یہ کہتے ہیں کہ ان اصحاب علم میں سے ہر ایک کی عبارت دوسرے سے حددرجہ مختلف و متغایرہے۔ حالانکہ یہ سب علماء بڑی بحث و تمحیص قرآن کے متعدد بار مطالعہ اور حددرجہ محنت و مشقت کے بعد اس مقام پر پہنچے کہ ان انواع اختلاف کو اخذ کر سکیں اور بعد میں ان کی تعین کرسکیں ۔

باوجود اس کے اس مسئلہ میں تینوں کی رائے مختلف ہے جن کی وجہ یہی ہو سکتی ہے کہ ہر ایک نے دوران مطالعہ کسی خاص جہت کو ملحوظ رکھا اور دوسرے کے سامنے کوئی دوسرا پہلو موجودرہا ان تینوں میں سے عبارت میں باریک بینی اور زیادہ مشق و مہارت امام رازی کا خاصہ ہے۔

ہمارا اختلاف ان سے دراصل دو نوعیت کا ہے ۔پہلی بات تو یہ ہےکہ انھوں نے انواع تغایر کو بتکلف سات تک محدود کیا ہے تاکہ حدیث میں مذکور تعداد کی موافقت ہوجائے ۔دوسری بات یہ ہے کہ انھوں نے جن انواع کو سبعہ احرف کی تفسیر بنایا ہے اور بڑی مشقت سے حدیث کے مفہوم کی وضاحت کی کو شش کی ہے۔ان سے ہماری رائے مختلف ہے ان آراءکا خلاصہ یہ ہے کہ وہ انواع جن کو تینوں اہل علم نے ذکر کیا ہے ان میں دوتو ایسی ہیں جن پر ان کا اتفاق رائے ہے۔اور ان کی عبارتیں ان کی وضاحت میں یکساں ہیں ۔

(1)تقدیم و تاخیر (2)زیادتی و نقص

اس کے بعد ابن قتیبہ اور جزری کے اقوال کے مابین پانچ انواع ایسی پائی جاتی ہیں جن پر ان میں کافی حدتک اتفاق ہے بلکہ یہ بھی کہا جا سکتا ہے کہ جزری رحمۃ اللہ علیہ نے انہیں ابن قتیبہ رحمۃ اللہ علیہ سے ہی نقل کر دیا ہے۔اور ان میں اپنی طرف سے کوئی اضافہ نہیں کیا۔

لیکن اس کے برعکس امام رازی رحمۃ اللہ علیہ کی ذکر کردہ انواع تغیر کی طرف جب ہم نظر کرتے ہیں تو وہ جزری اور ابن قتیبہ رحمۃ اللہ علیہ کی آراء سے قدرے مختلف ہیں کیونکہ رازی کی ذکر کردہ انواع کے ضمن میں ان دونوں کی بیشتر انواع بھی آجاتی ہیں اور اس کے علاوہ مزید بھی ۔مثال کے طور پر رازی نے اپنے قول میں انواع تغیر سے تیسری اور چھٹی نوع اس کو قرار دیا ہے کہ۔

"3۔اعراب کی وجوہ میں اختلاف اور (6)حروف کا قلب یا بعض حروف کا بعض دوسرے حروف سے ابدال اسی طرح کلمات کی کلمات سے تبدیلی "

اس میں انھوں نے ان تمام قسم کی تبدیلیوں کو علی وجہ العموم دوقسموں کے تحت ذکر کر دیا ہے لیکن یہی دو اقسام باقی دو آئمہ کے اقوال میں پانچ اقسام میں منقسم ہیں اگر چہ انھوں نے پانچ اقسام بناتے ہوئے ان اختلاف کی تقسیم میں صورۃ خطی اختلاف معنی اور کتابت میں اختلاف یا عدم اختلاف کو مدنظر رکھا ہے لیکن بہر حال مراد دونوں کی قریباً ایک ہی ہے ۔اس کی ایک اور مثال یوں بھی ہے کہ امام رازی نے پہلی اور دوسری نوع کے تحت اوزان اسماء میں پیش آنے والے اختلافات اور تصریف افعال میں ہونے والے اختلافات کو ذکر کیا ہے جبکہ معمولی سے غور و فکر کے بعد باقی دو حضرات کی ذکر کردہ پہلی پانچ انواع کے ضمن میں یہ دونوں انواع بھی آسکتی ہیں فرق صرف اسی قدرہے کہ جن زاویوں اور جہالت سے امام رازی نے اختلافات کی حد بندی کی ہے جزری اور ابن قتیبہ کی تقسیم ان زاویوں سے ہٹ کر کچھ اور چیزوں کو مدنظر رکھتے ہوئے کی گئی ہے۔ان سب باتوں کے باوجود ایک نوع ایسی بھی ہے جو صرف امام رازی رحمۃ اللہ علیہ نے ذکر کی ہے اور باقی دو اس کی طرف متوجہ نہیں ہو پائے اور وہ نوع ہے" اختلاف لہجات" کی اور جیسا کہ ہم بتا چکے ہیں۔ کہ یہی نوع اس بحث میں اہم تر ہے۔

ان تینوں اقوال کا ہم نتیجہ بر آمد کرنا چاہیں تو مختصر اتمام انواع کو کم از کم دس انواع تغیر میں تقسیم کر سکتے ہیں کہ وہ تمام صورتیں جو کلمات میں اختلاف کے ضمن میں آتی ہیں اور ان اقوال سے ثابت ہوتی ہیں کل دس بن سکتی ہیں ۔ لیکن اس بات کی کو ئی دلیل نہیں کہ آئند ہ کوئی اور صاحب علم مزید بحث واستقراء کے بعد اس تعداد میں اضافہ نہیں کرے گا۔

چنانچہ اس معارضہ سے یہ امر ثابت شدہ ہے کہ ان تینوں بزرگ اصحاب علم کی انواع تغایر و اختلاف کی تعین اور ان کو کھینچ تان کر سات حروف کے ضمن میں لانا بے جا تکلف اور مشقت کے سوا کچھ نہیں۔

حتی کہ جب ان کی جدو جہد اور کوشش کے بعد حاصل شدہ انواع کے نتیجے پر پہنچتے ہیں جس کو انھوں نے حدیث کی مراد تصور کیاہے توہم یہ کہہ سکتے ہیں کہ سبعہ احرف فی ذاتہاکچھ اور ہیں ۔اور اس میں انواع اختلاف ایک بالکل مختلف چیز !اوراس مقام پر پہنچ کر یہ کہنا بھی ممکن ہے کہ یہ تمام وہ صورتیں ہیں جوکلمات کے مابین تغایر اور اختلاف کے ضمن میں آتی ہیں نہ کہ حروف سبعہ کے مابین اختلاف میں۔اور ایسا بھی ممکن ہے کہ اس تمام بحث کا خلاصہ ان تین نکات میں نکال لیا جا ئے کہ اختلاف کی تین ہی صورتیں ہیں۔

1۔جس میں لفظ مختلف ہو جا ئیں اور معنی ایک رہے ۔اس صورت کو لغت میں "الترادف "سے موسوم کیا جا تا ہے ۔مثلاً "ھلم"کی جگہ "تعال"اور "اقبل"۔

2۔جس میں معنی اور لفظ دونوں مختلف ہو جائیں لیکن یہ اختلاف تضاد کی نوعیت کا نہ ہو تنوع کی قبیل سے ہو۔ جس طرح ۔قَالَ اور قُل باعِد اور بَاعِد مالِکِ اور مَلِکِ اَوصَی اور وصٰی۔

3۔لہجات میں اختلاف یعنی کسی لفظ کی ادا میں تبدیلی اصل لفظ اور معنی کی بقا کے ساتھ مثال کے طور پر کسی کو جھکا کر یا سیدھا پڑھنا مداور قصر ادغام اور عدم ادغام اسی طرح نرمی سے یا جھٹکا دے کر پڑھنا ۔

یہاں اختلاف کی ایک قسم اور بھی ہو سکتی ہے کہ بعض اوقات کسی کلام میں تبدیلی لفظ اور معنی کے اختلاف کے ساتھ ساتھ تناقص اور تضاد کی قبیل سے ہوتی ہے ۔سویہ صورت قرآن کریم میں نہیں پائی جاتی۔کیونکہ اس کی موجودگی قرآن میں خلل اور اضطراب و شک کولازم کرتی ہے۔

حالانکہ قرآن اس سے یکسر منزہ ہے ارشاد باری ہے۔

"قرآن میں باطل نہ آگے سے داخل ہو سکتا ہے اور نہ ہی پیچھے سے اور یہ اللہ رب العزت حکمت والے کی نازل کردہ (کتاب) ہے۔(42/فصلت) "ایک اور مقام پر یہ الفاظ ہیں۔"اگر قرآن اللہ کے علاوہ کسی اور کی طرف(82/النساء) سے ہو تا تو لوگ اس میں جابجا اختلافات اور تناقض پاتے(انظر النشر (49/1) ۔"

ان دونوں آیات سے یہ ثابت ہو تا ہے کہ قرآن میں خلل اور تناقض و تضاد کی سرے سے گنجائش ہی نہیں۔

حروف سبعہ سے مراد کیا ہے؟

یہاں تک ذکر ہونے والی پوری بحث اور معارضات سے قاری کے ذہن میں از خود یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ اگر یہ سارے اقوال ہی درست نہیں تو پھر احرف سبعہ سے مراد کیا ہے اور اس کی ایسی تفسیر کی جا ئے کہ نفس کوقرار اور دل کو اطمینان نصیب ہو جائے اس سے پہلے کہ ہم آپ کے ذہن میں پیدا ہونے والے سوال کا جواب دیں ۔ہم اس بات کو دھرانا چاہتے ہیں جو حروف سبعہ سے متعلقہ بے شمار احادیث کے ذکر کے وقت ہم نے کہی تھی اور جیسا کہ آپ ملا حظہ کر چکے ہیں کہ ہم نے اس کے جملہ طرق اور سند و متن میں الفاظ و صحت کے حوالے سے تفصیلی گفتگو کی ہے لیکن اس سب کچھ کے باوجود ہمیں ان تمام سے کو ئی بھی ایسی صریح عبارت دستیاب نہیں ہو سکی جو سبعہ احرف کے مراد اور مفہوم کو متعین کر دے ۔چنانچہ سبعہ احرف کا مفہوم اور مراد کیا ہےیہ ابھی تک واضح نہیں ہو سکا ۔جبکہ اللہ تعالیٰ ضرورت اور حاجت کے وقت اس کی وضاحت کو موخر نہیں فرمایا کرتا ۔سو امت نہ صرف اس کی حقیقت معلوم کرنے کی محتاج ہے تاکہ اس پر قرآءت کر سکے بلکہ اس رخصت سے فائدہ اٹھانے کی بھی ضرورت مندہے ۔

لیکن کیسے ممکن ہو سکتا ہے کہ جملہ احادیث اور منقول آثار کسی ایسی واضح تر عبارت سے خالی ہوں جو ہمارے لیے مفہوم کو واضح اور مشکل کو آسان کر دے اور کیا وجہ ہے کہ صحابہ کرام رضوان اللہ عنھم اجمعین نے بھی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے سبعہ احرف کی بابت کچھ سوال کرنا گوارا نہ کیا اور نہ ہی ہماری طرف اس کی وضاحت اور تفسیر نقل کی۔

سو ہمارے خیال میں اس کی وجہ دو صورتوں سے خالی نہیں ہو سکتی ۔

1۔یا تو یہ ایسے کلمات ہیں جن کی مراد معین ہے جو وضاحت و تفسیر کے محتاج نہیں بلکہ ان کی تفسیر کے بارے میں سوال کرنا تو عین دوپہر کے وقت سورج کے متعلق سوال کرنے کے مترادف ہے یہی وجہ ہو سکتی ہے اس بات کی کہ کسی نے بھی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کے متعلق کوئی بھی سوال کرنے کی ضرورت محسوس نہیں کی ۔اور ہر ایک اس کے مفہوم سے بخوبی واقف تھا اسی سبب کی بناء پر صحابہ کرام رضوان اللہ عنھم اجمعین سے اس مضمون کی کو ئی حدیث منقول نہیں کہ ان سے اس کے بارے میں پو چھا گیا یا انھوں نے خود سوال کیا اور اس سوال کا جواب پالینے پر دوسروں کو بھی اس کی تعلیم دی۔

2۔اگر یہ صورت نہیں تو پھر دوسری صورت یہ ہوسکتی ہے کہ سبعہ احرف کی تفسیر اس وجہ سے نہیں کی گئی کہ ان کا معنی غیر واضح تھا یا ان کی تفسیر از حد صعب تھی اور ان کی شرح میں مشکلات درپیش تھیں یا پھر ابھی ان کی حقیقت بیان کرنے کا وقت نہیں آیا تھا کیونکہ ان کی بے شمار اقسام اور فروع کی وجہ سے صحابہ کرام رضوان اللہ عنھم اجمعین کو سمجھنے میں مشقت کا سامنا ہو تا جبکہ ان کا فہم وسیع مطالعہ اور غور و فکر سے حاصل ہو سکتا تھا اور ان کی حقیقت کے ادراک کے لیے بحث و نظر کی وسیع منازل طے کرنا لا زمی تھیں۔

سبعہ احرف کی حقیقت ہم تک منقول نہ ہونے کی یہی دو وجوہات ہو سکتی ہیں جن میں سے دوسری صورت تو قطعاً باطل ہے جس طرح کہ ہم پہلے معارضات سے ثابت کر چکے ہیں کہ صحابہ کرام رضوان اللہ عنھم اجمعین اس کا خاطر خواہ علم رکھتے تھے اور یہ بات بھی ضروریات دین سے ہے کہ امت کو اس کا علم ہو نا چاہیے تا کہ اس رخصت کی حکمت خوب اچھی طرح ثابت ہو جا ئے اور ان احرف سبعہ پر عمل در آمد ہو سکے ۔اسی طرح اس بات کو بھی سلیم العقل درست نہیں قراردے سکتا کہ ہم یہ دعویٰ کریں کہ امت کے اولین طبقہ یعنی صحابہ وتابعین رضوان اللہ عنھم اجمعین سے اس کی حقیقت چھپی ہوئی تھی باوجودیکہ وہ امت کے سبب سے زیادہ صاحب علم گہرے فہم کے حامل اور دین کے ماہر تھے پھر بعد میں آنے والے بے شمار سالوں میں اس کی حقیقت منکشف ہوتی گئی ۔چنانچہ ان دونوں صورتوں میں پہلی وجہ ہی ققابل قبول ہے کیونکہ وہی صورت دین کے قریب ترہے کہ صحابہ کرام نے اس کے بارےمیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال دراصل اس لیے نہیں کیا کہ احرف سبعہ کی تفسیر اور وضاحت ان کو معلوم تھی اور وہ اس کے مفہوم کو سمجھنے کے محتاج نہ تھے ۔کیونکہ ان کے ذہن میں اگر کوئی اشکال پیدا ہوتا تو وہ سب سے پہلے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھنے کی کو شش کرتے جیسا کہ قرآءت کے ضمن میں ہی جب انھوں نے کسی اور قاری کی مختلف انداز پر قرآءت سنی تو قرآن میں اختلاف اور اضطراب کے واقع ہوجانے کے ڈر سے انھوں نے فوری طور پر رجوع کیا اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آنے سے قبل ان کے ذہن میں یہ سوال پیدا ہوا کہ مختلف قرآء کا یہ اختلاف قرآن میں تغایر اور اختلاف کا موجب ہے اور اس قرآن میں خلل اور تناقض کا اندیشہ ہے حتیٰ کہ یہ معاملہ یہاں تک پہنچا کہ بعض نے تو پڑھنے والے کہ منہ سے یہ الفاظ سننے پر کہ:

"هذا كما اقراءني رسول الله صلي الله عليه وسلم"

آپ کی ذات کے بارے میں بھی شک کیا اور شیطان ان پر غالب آنے لگا لیکن نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال کرنے پر جب انھوں نے آپ کو بنفسہ مختلف قرآءت پر تلاوت کرتے ہو ئے پا یا تو ان کے ذہنوں سے شیطانی وساوس اور شکوک رفع ہو گئے اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے درج ذیل دو امور کے ذریعے ان کے ذہن میں کلبلاتے سوالوں کو دبا دیا۔

امر اول: انہیں نئی رخصت اور جدید حروف سے مطلع کیا اور فرمایا کہ یہ تمام وجوہ قرآءت منزل من اللہ اور کافی و شافی ہونے کے ساتھ ساتھ قرآن ہی ہیں ۔

ثانی : ان وجوہ کے ذریعے پیدا ہونے والے اختلاف کی نوعیت واضح کردی اور ان کے ذہنوں کواس نوع تغیر سے مانوس کرنے کے لیے مثال دے کر واضح کیا کہ یہ تغیر تناقص و تضاد کی قبیل سے نہیں بلکہ تنوع اور زیادتی معنی کی قسم سے ہے۔

قوی امید ہے کہ اب آپ ہمارا مدعا مقصد بخوبی سمجھ چکے ہوں گے جو ہم سبعہ احرف کے ضمن میں رکھتے ہیں لیکن ہم چاہتے ہیں کہ اس مفہوم کو محدود الفاظ میں اس طرح سمیٹ دیں تاکہ یہ تمام بات باسانی سمجھ میں آسکے۔ سو سبعہ احرف کا مفہوم یہ ہے کہ:

احرف سبعہ: "قرآءت کی وہ متعدد وجوہ ہیں جو باہم مختلف ہیں اللہ کی طرف سے نازل کردہ ہیں اور قاری کے لیے جائز ہے کہ ان میں سے کسی ایک درجہ پر قرآن کی تلاوت کرے اور اس کی یہ تلاوت قرآن کی تلاوت ہی سمجھی جائے گی سبعہ کے عدد سے مراد یہ ہے کہ وجوہ قرآءت (جو کہ منزل من اللہ ہیں )قرآن کے کسی ایک کلمہ میں اختلاف و تغیر کی انواع میں سے کسی ایک نوع کے ضمن میں زیادہ سے زیادہ سات تک ہو سکتی ہیں اسی طرح یہ بات لازمی نہیں کہ قرآن میں ہر جگہ پر تعداد سات ہی ہو۔ بلکہ لازمی یہ ہے کہ بعض جگہ کم تو ہو سکتی ہے لیکن کسی بھی جگہ زیادہ سے زیادہ ایک کلمہ میں تبدیلی کی سات انواع ہی ہو سکتی ہیں ۔

اس موقعہ پر آپ یہ سوال بھی کر سکتے ہیں کہ سبعہ احرف کی اس تشریح و توضیح سے کیا ثابت ہو تا ہے اور اس مفہوم کے اخذ کر لینے کی دلیل کیا ہے اسی طرح علماء سا بقین میں سے کس نے اس قول کو اختیار کیا ہے۔

اس سوال کا جواب یہ ہے ،کہ جہاں تک اس بات کا تعلق ہے کہ اس قول کو کس امام نے اختیار کیا ہے تو ہماری تحقیق کے مطابق ان تمام اقوال سے جو کہ سبعہ احرف کی تحقیق کے ضمن میں آئمہ سے منقول ہیں ایسا قول تو کوئی بھی نہیں جو ہمارے قول کے حرف بحرف موافق ہواور اس کی جرئیات و تفصیلات بھی ہمارے قول سے مشابہ ہوں۔ مگر اکثر علماء کے کلام پر بحث واستقراء کے نتیجے میں ہمیں ایسے کلمات ملتے ہیں جو ایک ہی مقام پر منظم طور سے تو موجود نہیں (بلکہ متعدد مقامات پر بکھرے ہو ئے ہیں)لیکن وہ کلمات ہمارے اس قول کو ثابت کرتے ہیں جس کو اس بحث کی ابتداء میں ذکر کردہ طریقہ کے مطابق ہم نے دلائل و براہین شرعیہ اور نصوص الہیہ پر پیش کر کےاپنا یا ہے۔

1۔بطور مثال امام سیوطی رحمۃ اللہ علیہ نے اس قول کے کچھ اجزا ء کو اختیار کیا ہے( اور سیوطی رحمۃ اللہ علیہ وہ شخص ہیں جنہوں نے اس حدیث کی تحقیق میں بڑی وضاحت سے کلام کی ہے ) چنانچہ انھوں نے اپنی تحقیق کے دوران ان جہات کو بھی اقوال میں شمار کیا ہے جن کو ہم نے ترجیح دی ہے اور سیوطی رحمۃ اللہ علیہ نے اس قول کی طرف اشارہ کرتے ہوئے اس قول پر کسی قسم کی تنقید نہیں کی ۔سیوطی کا اپنی کتاب الاتقان میں یہ اشارہ مندرجہ ذیل دو اقوال کے تحت مو جو دہے۔( الاتقان ۔(135/1)

لہٰذا آپ کہتے ہیں کہ سبعہ احرف کے بارے میں تیسرا قول یہ ہے کہ اس سے مراد سبع قرآءت ہیں ۔ قرآن مجید میں وہ کلمات جن میں ساتوں وجوہ پڑھنا ممکن ہے کی تعداد بہت کم ہے۔ مثال کے طور پر (عبد الطاغوت )اور (فَلَا تَقُل لَّهُمَا أُفٍّ )ایسے کلمات ہیں جن میں ساتوں وجوہ ممکن ہیں۔چوتھا قول یہ ہے کہ ہر کلمہ میں ایک دو یا تین اور زیادہ سے زیادہ سات تک وجوہ کی تلاوت ممکن ہے لیکن اس پر تنقید کی گئی ہے کہ بعض کلمات ایسے ہیں جن میں سات سے زیادہ قرآءت بھی پڑھی گئی ہیں لہٰذا لا زمی ہے کہ اس کی کو ئی توجیہ کرلی جائے"

2۔ایسے علماء جن کے کلام سے ہمارے قول کے قریب اشارات ملتے ہیں ان میں حافظ ابن حجر عسقلانی رحمۃ اللہ علیہ بھی ہیں اور آپ کی بحث سبعہ احرف کی تحقیق و تفسیر کے ضمن میں لکھی جانے والی چند ایک مثالی تحریروں میں سے ایک ہے۔سو آپ نے اپنی رائے فتح الباری(الفتح : ( 23/9)) میں ان الفاظ سے شروع کی ہے لہ۔

"باب ہے اس بات کا کہ قرآن سات حروف پر نازل کیا گیا ہے۔یعنی قرآن کا نزول سات وجوہ پر ہوا ہے۔ جن میں سے ہر ایک پر تلاوت کرنا جائز ہے لیکن اس سے یہ مراد نہیں کہ قرآن کا ہر کلمہ سات وجوہ پر پڑھنا جائز ہو بلکہ اس کا مطلب یہ ہے کسی کلمہ میں بھی قرآءت کی زیادہ سے زیادہ صورتیں سات ہو سکتی ہیں ۔

3۔یہ بات کہ لا زمی نہیں ہر کلمہ یا آیت قرآن سات وجوہ پر ہی نازل ہوا ہے اس کو ابوعبید القاسم بن سلام نے" فضائل القرآن"میں ابن قتیبہ رحمۃ اللہ علیہ اور جزری رحمۃ اللہ علیہ نے "نشر" میں اسی طرح ابو الفضل رازی رحمۃ اللہ علیہ بیہقی رحمۃ اللہ علیہ اور ابو حاتم رحمۃ اللہ علیہ الجستانی رحمۃ اللہ علیہ نے اختیار کیا ہے ۔میرے علم کی حد تک اس بات کا محققین میں سے کوئی بھی مخالف نہیں ماسوائے اس کے جو ابن جریرکے کلام سے معلوم ہو تا ہے کہ انھوں نے کہا۔"قرآن کا ہر کلمہ سات وجوہ کے ساتھ پڑھا جاتا تھا اس طرح کہ سات وجوہ میں ایسے مترادف الفاظ استعمال ہو تے تھے جو مختلف زبانوں سے متعلقہ لیکن مفہوم میں یکساں ہوتے"

سو ابن جریر کا یہ قول شاذ ہے اور کسی دلیل کے نہ ہونے کی وجہ سے مردود بھی۔

4۔جہاں تک احرف یاوجوہ کی سات کے عددسے تحدید کا تعلق ہے تو اس کی بھی قاضی عیاض کے ماسوا کسی محقق اہل علم نے تردید نہیں کی۔قاضی عیاض کا شرح مسلم میں یہ قول موجود ہے کہ:

" سبعہ احرف سے دراصل صحابہ کرام رضوان اللہ عنھم اجمعین کو قرآءت بالمعنی کی رخصت دی گئی تھی اور "سبعہ"کے لفظ سے کوئی تحدید نہیں بلکہ زیادتی مراد ہے لہٰذا قرآءت بالمعنی میں وجوہ کی کوئی حد بندی نہیں ۔"

سو آپ کا قول بھی دو وجو ہات کی بناء پر قابل رد ہے۔ پہلی وجہ تو یہ ہے کہ اس میں قرآءت بالمعنی کی اجازت اور اس کو مشروع بتا یا گیا ہے دوسری یہ کہ صحابہ کرام رضوان اللہ عنھم اجمعین پڑھائی ہوئی وجوہ کے ماسوادوسری ہم معنی وجوہ پر بھی قرآءت کر سکتے تھے۔جبکہ یہ دونوں باتیں ایسی ہیں جو قطعاً علم و عقل کی کسوٹی پر پوری نہیں اترتیں ۔(اور ان دونوں نظریات کی مفصل تردید بھی گزر چکی ہے۔)

ان معروضات سے یہ ثابت ہوا کہ ہم نے سبعہ احرف کی تعریف اپنے پاس سے نہیں کر لی یا یہ کو ئی ایسی مراد نہیں جو کہ آج سے پہلے کسی نے اختیار نہ کی ہو اور سلف میں کوئی اس کا قائل نہ ہو۔بلکہ واقعہ یہ ہے کہ سلف محققین پہلے بھی اس قول کو اختیار کرتے رہے لیکن بایں طور کہ ایک مقام پر یہ قول اس طرح کہیں کسی سے منقول نہیں بلکہ متفرق مقامات پر بکھری ہوئی صورت میں موجود ہے حقیقت یہ ہے کہ اس قول اور اس کی جزئیات کو کسی بھی مصنف نے جمع نہیں کیا بلکہ ہر ایک نے اس تفسیر کا کوئی جزاختیار کیا ہے اور کوئی پہلو پکڑا ہے الغرض کسی امام یا محقق نے اس قول کو ایسی مکمل صورت میں نہیں اختیار کیا جس سے مسئلہ حل ہو جا تا اور اس قضیہ کا فیصلہ ہو جا تا بلکہ ہر ایک نے اس میں غور و فکر کے بعد اس کے بعض پہلوؤں کو ہی نقل کیا ہے۔

جہاں تک قرطبی کا سبعہ احرف کے بارے میں آراءجمع کرنے(تفسیر القرطبی : ( 42/1) اور سیوطی کا مختلف(الاتقان : ( 142۔131/1) اقوال ذکر کردینے کا تعلق ہے تو قرطبی اور سیوطی کے اس کام سے مسئلہ کی تحقیق میں کوئی پیش رفت نہیں ہوئی نہ ہی سبعہ احرف کی تعین میں اس سے کو ئی اہم مدد ملی ۔کیونکہ انھوں نےصرف ان اقوال و آراء کے ذکر پر ہی اکتفاء کیا اور مختلف اقوال پر تنقید و تبصرہ کے بعد قول راجح کو دلائل سے ثابت نہیں کیا ۔

ہمارے اس قول پر مزید ایسے دلائل کون سے ہیں جن سے مزید اطمینان حاصل ہو سکے؟اس کے لیے اب ہم اپنے قول پر جز ءاً جزء نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے کلام اور قرآن کی ثابت شدہ قرآءت سے استدلال کریں گے۔

5۔ہمارا قول کہ سبعہ احرف "قرآءت کی ایسی وجوہ ہیں جو کہ متغایر اور متعدد ہیں اور سب کے سب اللہ کی طرف سے نازل ہوئی ہیں۔

اس قول میں اولاً حرف" کے بے شمار معانی میں سے ایک معنی "وجہ" کو ترجیح دی گئی ہےاور ہم نے احرف کی تفسیر وجہ یا وجوہ سے کہ ہے کیونکہ جب ہم حدیث کے الفاظ کا بغور جائزہ لیتے ہیں تو معلوم ہو تا ہے کہ احرف کے معنی میں صرف اور صرف یہی تاویل درست ہو سکتی ہے۔ اس کے بعد ہم نے "وجوہ "کی چار صفات ذکر کی ہیں جن میں سب سے پہلی "متعددۃ"ہے کہ یہ وجوہ متعدد ہیں اس صفت کے ذکر کرنے سے مقصود یہ ہے کہ پہلی کتب اور قرآن کا ابتداء نزول جس طرح ایک وجہ پر ہوا تھا اس طرح اب ان وجوہ کے نازل ہونے کے بعد قرآن ایک وجہ پر نہیں رہا بلکہ متعدد وجوہ پر ہو گیا ہے۔وجوہ کی دوسری صفت ہے "متغایر ہ"۔۔۔اس لفظ کے ساتھ وجوہ میں پائے جانے والے ان اختلافات کی طرف اشارہ مقصود ہے جو ان دوصورتوں میں سے کوئی ایک ہو سکتے ہیں ۔

(1لف) اتفاق معنی کے ساتھ صرف الفاظ میں تبدیلی

(ب) یا الفاظ اور معانی دونوں میں تبدیلی

وجوہ کی اس صفت کے ساتھ دراصل ابن جریر کے اس قول کی تردید بھی مقصود ہے کہ جس میں انھوں نے اختلاف کو صرف اور صرف "ترادف"میں محصور کردیا ہے وجہ اس صفت کے ساتھ مقید کرنے کی یہ ہے کہ مختلف احادیث میں یہ مضمون موجود ہے کہ" جب کبار صحابہ کرام رضوان اللہ عنھم اجمعین اور علم و تفقہ اور علوم قرآنی میں ممتاز اصحاب رسول (مثلاً عمر بن خطاب رضی اللہ تعالیٰ عنہ اور ابی بن کعب رضی اللہ تعالیٰ عنہ ) نے کچھ لوگوں کو مختلف وجوہ پر قرآءت کرتے ہوئے سنا اور بعد میں ان لوگوں کی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے تصدیق بھی کردی تو پہلے پہل ان صحابہ کرام رضوان اللہ عنھم اجمعین کو امر کے قبول کر لینے میں تذبذب کا سامنا ہوا اور وہ فوری طور پر اس کے قبول کرلینے پر اپنے آپ کو آمادہ نہ کر سکے بلکہ بعض کے دل میں شک اور انکار کی سی کیفیت پیدا ہو گئی جس کو بعد میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے بڑی حکمت سے رفع کر دیا"

چنانچہ ان احادیث کا یہ مضمون اس بات پر دلالت کرتا ہے کہ ان وجوہ متغایر ہ میں یہ فرق خفیف اور معمولی نوعیت کا نہیں تھا بلکہ ان وجوہ کے ذریعے ایسا واضح فرق رونما ہوا تھا ۔جن سے ایسے اصحابہ کرام رضوان اللہ عنھم اجمعین جو آپ پر ایمان و ایقان کی دولت سے مالا مال تھے کے ذہنوں نے بھی فوری طور پر اس فرق کو قبول کرنے میں پس و پیش کی۔

میرا یہ خیال نہیں کہ اگر وجوہ کے ساتھ پیدا ہونے والے اختلاف کی نوعیت فقط بعض الفاظ کی جگہ دوسرے مترادف الفاظ ادا کردینے تک محدود تھی (مثلاً ھلم کی جگہ تعال اور الینا کی جگہ اقیل ) تو صحابہ کرام رضوان اللہ عنھم اجمعین کو اس کے قبول میں اس قدر مشکل پیش نہ آتی ۔لہٰذاصحابہ کا ان وجوہ کی سماعت کے بعد اس حد تک پریشان ہو جا نا اس بات پر دال ہے کہ یہ تغایر صرف اور صرف ترداف ہی نہ تھا بلکہ اس میں اختلاف کی اور بھی صورتیں موجود تھیں جیسا کہ بعد میں واضح کیا جا ئے گا ۔ان شاء اللہ ۔

وجوہ کی تیسری صفت یہ ہے کہ"یہ اللہ کی طرف سے نازل کردہ ہیں" اس قید کو لگا دینے سے ایسے اہل علم کی تردید مقصود ہے جن کا زعم یہ ہے کہ وجوہ کی یہ رخصت مستقل وجوہ کی صورت میں نہیں بلکہ صرف اس حد تک ہے کہ لوگوں کو الفاظ قرآنی میں آسانی کی غرض سےتصرف کی اجازت دی گئی ہے اور وہ اپنی مرضی سے جو چاہیں تلاوت کرسکتے ہیں یعنی اللہ تعالیٰ کی طرف سے نازل کردہ کوئی مستقل وجوہ نہیں جن کی پابندی بہر طورلازمی ہو۔ جبکہ اس قول کی تر دید میں ہمارا مؤقف یہ ہے کہ یہ وجوہ صرف اور صرف اللہ کی نازل کردہ ہی ہے جن کو جبریل علیہ السلام نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو سکھایا کرتے اور آپ کو خود اس کی حفاظت کرواتے حتی کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم خود اس کی حفاظت کے قابل ہو جا تے۔

بعد ازاں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم خود بنفس صحابہ کرام رضوان اللہ عنھم اجمعین کو ان کی تعلیم دیتے سکھاتے اور ہر صحابی کو اس کے حالات وظروف کی روشنی میں اس کی استعداد اور طاقت زبان اور لہجہ کو مدنظر رکھتے ہوئے (آپ جس وجہ کو مناسب سمجھتے ) اس کی تلاوت کا اختیار دیتے۔

وجوہ کا چوتھا وصف جو ہم نے بیان کیا ہے " وجوه من القراءت"ہے یعنی ان سب وجوہ کا تعلق قرآءت کے ساتھ ہے اور ان میں باہمی اختلاف قرآءت کے ضمن میں ہی ہے۔کیونکہ حدیث میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے یہ الفاظ بصراحت موجود ہیں کہ "مجھے جبریل علیہ السلام نے ایک حرف پر پڑھایا پھر۔۔۔"اسی طرح جبریل علیہ السلام سے نقل کرتے ہوئے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم فر ماتے ہیں کہ "اللہ تعالیٰ آپ کو حکم فر ماتے ہیں کہ اپنی امت کو سات حروف پر قرآن پڑھائیں ۔۔۔الخ "بعض روایات میں یہ الفاظ بھی ہیں کہ "آپ کی امت سات حروف میں سے کسی ایک پر قرآن کی تلاوت کرے"مزیدبرآ ں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے احرف کے ذکر کرنے کے بعد فرمایا کہ" ان سے جو تمھیں آسان معلوم ہواس پر پڑھو"اور"جس حرف پر بھی یہ تلاوت کریں تو خیر کو اور حق کو ہی پہنچیں گے۔

مذکورہ بالا تمام اھادیث میں سبعہ احرف کو پڑھنے اور تلاوت کرنے کا حکم ہے جس سے ثابت ہو تا ہے کہ ان کا تعلق لازماًپڑھنے سے ہی ہے چنانچہ وجوہ کو قرآءت سے مقید کرنے والی متعدد احادیث بھی کتب میں موجود ہیں جن میں سے چند ایک یہ ہیں۔

عمر بن خطاب رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی حدیث میں یہ الفاظ ہیں ۔"میں نے ہشام بن حکیم کو سنا کہ وہ سورہ فرقان کی ایسے حروف (وجوہ)پر تلاوت کر رہے تھے جو کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے نہیں پڑھائےتھے "اسی طرح ابی بن کعب رضی اللہ تعالیٰ عنہ ذکر کرتے ہیں کہ "میں مسجد میں تھا ۔کہ ایک آدمی مسجد میں داخل ہوا اور نماز شروع کردی ۔ سو اس نے ایسےطریقے پر قرآءت کی جس کا میں نے اس پر انکار کیا۔ پھر دوسرا شخص داخل ہوا اور اس نے پہلے سے بھی مختلف قرآءت کی ۔۔۔الخ"

چنانچہ یہ تمام الفاظ اس بارے میں صریح ہیں کہ احرف کالازمی تعلق قرآءت سے ہی ہے جس طرح کہ ابی بن کعب نے احرف کو" قرآءت "سے بھی تعبیر کیا ہے اس کی دلیل یہ بھی ہے کہ ہمیں ایسی کوئی روایت مل نہیں سکی جو اس امرکو ثابت کرتی ہو کہ احرف کا تعلق وجوہ قرآءت کے ماسوا سے ہے۔ اسی طرح ایسی بھی کوئی روایت نہیں جو وجوہ کو قرآءت کے ساتھ مقید کرنے پر مزید کسی قید کا تقاضا کرے ۔اس قید پر سب سے بڑی دلیل یہ ہے کہ احرف کے نزول کی وجہ اور بنیادی حکمت کا بھی یہی تقاضا ہے کہ اس کا تعلق قرآءت سے ہو۔ لہٰذا سبعہ احرف کو اس مفہوم سے بدل کر کسی دوسرے مفہوم میں ڈھالنے کی کوششیں بے جاتصرف اور بلا دلیل من مانی کے زمرے میں آتی ہیں۔

احرف کی یہی تفسیر رخصت کے لحاظ سے زیادہ قابل قبول ہے کیونکہ اصل مشقت تو قرآءت میں ہی ہے۔لہٰذا اللہ تعالیٰ نے قرآءت کی مختلف وجوہ (منزلہ) کی اجازت عطا کر دی اور مکلف کو ان میں سے کسی ایک کو اختیار کرنے کی اجازت دی کہ اس کی زبان پر جو وجہ بسہولت ادا ہوسکے اور اس کے لہجہ اور لغت کے مطابق ہو اس کو اختیارکرکےسویہی وہ اختیارہےجس کا شارح حکیم نے امت کے لیے ارادہ کیا ہے ۔

وجوہ میں اس تعددکی وجہ سے معانی میں اختلاف یازیادتی کی قسم کا جو اثر مرتب ہوتا ہےاس طرح کلام میں اغراض و مقاصد کے لحاظ سے جو تبدیلیاں پیش آتی ہیں اور انواع تغایر و اختلاف میں جوکچھ رونما ہو تا ہے اسی طرح ان سبعہ احرف کے ذریعہ اعجاز اور اسرار بلاغت کا جو انکشاف ہو تا ہے اور عرب کی فصیح لغات سے جس قدر آشنائی اور ان کے کلام سے آگاہی حاصل ہوتی ہے۔۔۔تو۔

مذکورہ بالا تمام اصنافاس سے حاصل ہونے والے فوائد اور ان کی اقسام کو ہم سبعہ احرف کی ذیلی بحثوں میں شمارکرتے ہیں ان کا اس کے مفہوم کے ادراک اور اس کی تفسیر کی بحث اور اس سے مرادکی جستجو سے کوئی اہم تعلق نہیں بلکہ یہ تمام چیزیں اس کے مفہوم اور تفسیر کوسمجھنے میں ایک خارجی حیثیت رکھتی ہیں ۔

2۔ سبعہ احرف کی تو ضیح کے ضمن میں ہم نے ان الفاظ کو ذکر کیا تھا کہ"ان متعدد و متغایر وجوہ میں سے کسی ایک پر بھی قرآن کی تلاوت ہو سکتی ہے اور اس تلاوت کی مثال بعینہ وہی ہے۔جیسا کہ کوئی منزل قرآن کی تلاوت کرے ۔"یہ بات نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے اس قول(ابی بن کعب کی دوسری حدیث صفحہ 44(محدث جلد 23 شمارہ 4)) سے مترشح ہو تی ہے کہ آپ نے فر ما یا :"ان میں سے جس پر بھی تم قرآءت کرو گے تو حق و صواب کو ہی پاؤ گے۔"یعنی قرآن مجید کو ہی ۔اس مفہوم کے اخذ پر آپ کا ایک قول(حضرت ابی کی حدیث بروایت جریر صفحہ 46(محدث جلد 23شمارہ 4)) بالکل صریح بھی ہے "کہ جس نے ان حروف سے کسی ایک پر پڑھا تو گویا اس نے قرآن پر ہی تلاوت کی" یعنی اس نے قرآن ہی تلاوت کیا۔ یہی وجہ ہے کہ ابن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے بھی یہ الفاظ مروی ہیں کہ آپ نے فر ما یا کہ" جو آدمی کسی ایک حرف پر تلاوت کرتا ہوتو اسے چاہیے کہ اس کو اس سے بے رغبتی کرتے ہوئے ترک نہ کرے اسی طرح ایسا شخص جو نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے سکھائے ہوئے حروف میں سکی اور پر قرآءت کرتا ہو تو وہ بھی اس کو ہر گز بے رغبتی سے ترک نہ کرے کیونکہ جس کسی نے بھی قرآن کے ایک حصہ (آیت) کا انکار کیا گویا وہ پورے قرآن کے انکار کا مرتکب ہوا۔( حدیث ابن مسعود (مسند احمد) (ابن جریر ) پہلے گزر چکی ہے ۔(ص: 53))

چنانچہ یہ تمام نازل شدہ وجوہ قرآن ہی ہیں اور سب ہی شافی و کافی ہیں اور ان وجوہ کے مابین کسی قسم کا امتیاز یا ترجیح روا رکھنا قرآن سے دوری ہےکیونکہ ان وجوہ کے مجموعہ پر ہی قرآن قائم ہے یعنی ان سب کو ملا کر ہی قرآن کریم متکون ہوتا ہے یہی وجہ ہے کہ مصاحف کی کتابت کے وقت حضرت عثمان رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اس بات کی شدید خواہش کی کہ تمام وجوہ کو ہر ہر کلمہ میں جمع کردیا جائے یعنی ایک ہی مصحف میں تمام وجوہ یکجا ہو جا ئیں تاکہ بعد میں آنے والے کسی امتی کو ان میں سے بعض کو بعض وجوہ پر ترجیح دینے اور امتیاز روا رکھنے کا وہم بھی نہ ہو۔

3۔ہمارا یہ قول کہ" سبعہ احرف میں لفظ سبعہ عدد ہی مراد ہے"کی وجہ مختلف حدیث کے الفاظ ہیں کیونکہ احادیث میں سات کے عدد کی صراحت ہے۔بلکہ تمام احادیث کے راوی حدیث کے اس جزء" على سبعة أحرف."

پر مکمل طور سے متفق ہیں اسی بناء پر یہ الفاظ حدیث کے متواتر لفظی کامقام رکھتے ہیں علاوہ ازیں سات کے عدد کی تحدید پر اور بھی دلائل ہیں جن میں سے ایک تویہ ہے کہ ابن عباس کی حدیث کے مطابق ان حروف کی تعداد اور درجہ بدرجہ اللہ تعالیٰ کی طرف سےبڑھائی گئی ہے۔ حدیث کے الفاظ یہ ہیں کہ" مجھے جبریل علیہ السلام نے ایک حرف پر قرآن پڑھایا میں ہمیشہ اس سے حروف میں زیادتی کا خواہشمند رہا اور وہ بھی اس میں اضافہ کرتے رہے(حکم الٰہی کے ساتھ ) حتیٰ کہ یہ اضافہ سات حروف تک جا پہنچا۔

حضرت ابی بن کعب رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی حدیث میں اس سے مزید وضاحت اور تفصیل موجود ہے کہ "اللہ تعالیٰ آپ کو حکم دیتے ہیں کہ اپنی امت کو ایک حرف پر قرآن سکھائیے تو آپ سے میں نے زیادتی کا مطالبہ کیا تاکہ امت کے لیےآسانی ہو۔۔۔الخ (دیکھئے حضرت ابی بن کعب رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی احادیث کے ضمن میں)چنانچہ ان احادیث کی روشنی میں(کہ جب درجہ بدرجہ اضافے کا سوال کیا جا رہا ہو) سبعہ احرف سے تحدید عدد مراد نہ لینے کی کوئی وجہ بھی نہیں ہے اور تحدید مراد نہ لینے کی صورت میں تمام تدرج بے معنی ہو کر رہ جاتا ہے۔چنانچہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا ایک مرتبہ دوسری مرتبہ تیسری مرتبہ مسلسل مطالبہ کرتے رہنا اور باربار بارگاہ الٰہی میں مراجعت کرنا وغیرہ سب کے سب مکمل طور پر اس امر پر اول ہیں کہ سبعہ احرف میں سبعہ تحدید ہی مراد ہو۔

محققین میں سے بعض حاذق علماء نے عدد کی تحدید اور تقید کرنے والی عبارت (علی سبعہ احرف) سے ایک لطیف نکتہ اخذ کیا ہے کہ کیا وجہ ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے جب بھی احرف کی تقید یا تحدید کا قصدکیا ہے تو صرف "علی"کے حرف کا انتخاب کیا اور کسی دوسرے حرف کو کسی بھی مقام پر استعمال نہیں کیا عین ممکن ہے کہ اس حرف کے ہی خاص استعمال سے آپ شرط کا مفہوم واضح کرنے کا قصد رکھتے ہوں ۔سو مفہوم شرط کومحذوف سمجھنے کی صورت میں عبارت یوں ہوگی کہ۔

إِنَّ اللَّهَ يَأْمُرُكَ أَنْ تَقْرَأَ أُمَّتُكَ الْقُرْآنَ باأَحْرُفٍ متعدده علي الا تتجاوز سبعة ا حرف"

یہ نکتہ بڑاہی لطیف اور دقیق ہے کیونکہ پیچھے ذکر کئے گئے۔صریح قرائن و آثار بھی اس کی ہی تصدیق کرتے ہیں ۔( انظر فتح الباری : (28/9) ہمارا یہ قول کہ: (یہاں سبعہ سے عددمراد ہے)کا مطلب دراصل یہ ہے کہ نہیں"آئمہ فن میں سے اس قول کو ابو عبید ابو الفضل رازی ابن قتیبہ اور ابو حاتم الجستانی نے اختیار کیا ہے اسی طرح محدثین قرآء اور اصولیوں کی ایک بڑی تعداد بھی اس کی قائل ہے۔ اس قول کی مخالفت میں سوائے اس رائے کے جوابن جریر کی کلام سے سمجھی جاسکتی ہے کوئی اور رائے موجود نہیں ۔چنانچہ ابن جریر کی اس ضمن میں رائے اور اس کی تردید اسی طرح قاضی عیاض کی رائے کا ابطال بھی گزشتہ اوراق میں گزر چکا ہے۔

جس شخص کو قرآن کریم کی قرآءت سے کچھ تعلق اور لگاؤ ہے اور وہ اس کی تحقیق کا خواہاں رہتا ہے اس سے یہ بات مخفی نہیں کہ قرآن کریم قرآءت اور روایت کے اعتبار سے دو اقسام پر منقسم ہے۔

مواضع اتفاق : قرآن کریم کے ایسے مقامات جہاں فقط ایک ہی وجہ پڑھی جاسکتی ہو اور ان میں کسی دوسری صورت کے پڑھنے کی کوئی روایت موجود نہیں ۔قرآن کے اکثراور اہم حصہ کی یہی صورت ہے۔

مواضع اختلاف : ایسے مقامات قرآنی جہاں دویا اس سے زائد وجوہ پر (زیادہ سے زیادہ سات پر) قرآءت کرنا جائز ہو۔

ان وجوہ مقروء ۃ کے شمار اور تعین سے قبل لازم ہے کہ چند چیزیں آپ پر واضح ہوں ۔

1۔قرآءت کے ضمن میں ایسا نہیں ہے کہ ہر وہ روایت جو کسی نے بیان کی یا کسی جگہ لکھی ہوئی مل گئی۔پھر سند صحیح سے کوئی روایت ثابت ہوگئی تو اس کو قرآءت میں شامل کر لیا جائےگا بلکہ علماء اسلام کا اس امر پر اتفاق ہے کہ قرآن کریم کی کسی قرآءت کے ثبوت کے لیے اولین شرط یہ ہے کہ وہ متواتر ذریعے سے ثابت ہو۔ اس شرط کے ماسوا کسی قرآءت کو قرآن میں شامل کر لینے کا تصور بھی نہیں کیا جا سکتا ۔چنانچہ جب تک کسی بھی روایت میں تواتر نہ پا یا جائے وہ قرآن ہر گز نہیں بن سکتااس شرط کے بعد علماء کی اکثریت اس امر پر بھی متفق ہے کہ وہ متواتر ذریعے سے ثابت ہونے والی قرآءت مصاحف عثمانی کے رسم کے مطابق بھی ہو ۔تاکہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم پر آخری دور میں جو قرآءت منسوخ ہوئیں ان سے بھی قرآن کو محفوظ رکھا جاسکے اور اس بات کو یقینی بنایا جائے کہ فقط وہی قرآءت پڑھنی جائز ہیں جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے آخری حیات طیبہ میں ثابت فرمادیں ۔

ان دوشروط کے بعد آپ دیکھیں گے کہ کسی قدر قرآءت ایسی بچ جاتی ہیں جو ان شروط پر پوری اترتی ہیں بلکہ جملہ قرآءت کو تواتر کی شرط پر پورا کرتے ہوئے آپ کو معلوم ہو گا کہ ان قرآءت کا دسویں سے بھی کم حصہ باقی رہ جاتا ہے حالانکہ کتب میں قرآءت کی تعداد کافی زیادہ ہے مثال کے طور پر آیت "ملک یوم الدین " میں ابو حیان نے قرآءت کی(البحر المحیط : (20/1)) وجوہ(البحر المحیط : (20/1))ذکر کی ہیں۔اور (عبدالطاغوت)میں ابو حیان نے لفظ "عبد "میں (نفس المصدر : (519/3۔))قرآءت ابن خالویہ نے(مختصر فی شواذا القرآن : (ص33)) اور ابن جنی نے(المحتسب: (214/1)) 10قرآءت ذکر کی ہیں اسی طرح " فَلَا تَقُل لَّهُمَا أُفٍّ "میں لفظ (أُفٍّ )میں ابو حیان نے (شواذا القرآن : (ص76))40لغات ابن خالویہ نے 11وجوہ اور ابن جنی نے 8و(المحتسب : (18/2))جوہ کو ذکر کیاہے۔

چنانچہ ان تین آیات میں اسانید کی چھان پھٹک اور شروط کو پورا کرتے ہوئے یہ معلوم ہو گا کہ:

4۔(ملک) کے لفظ میں متواتر قرآءتیں دو ہیں ایک تو مالک یعنی "میم "کے بعد الف کے ساتھ۔ یہ عاصم کسائی یعقوب اور خلف کی قرآءت ہے اور دوسری قرآءت ملک الف کے بغیر ہے یہ قرآءت نافع ابو عمرو ،ابن عامر، اور ابو جعفرکی ہے۔

5۔(عبد الطاغوت ) میں بھی متواتر وجوہ صرف دو ہی ہیں ایک تو (عبد الطاغوت)"یعنی عین اور دال پر فتحہ باء پر ضمہ اور طاغوت کی ت پر کسرہ یہ حمزہ کی قرآءت ہے اور دوسری قرآءت ہے( عبد الطاغوت )۔۔۔یعنی عین با اور دال کے فتحہ کے ساتھ طاغوت (کو مفعول بناتے ہوئے ) ت پر نصب یہ قرآءت ہے باقی دس آئمہ کی۔( راجع في ذلك ا تحاف فضلاء البشر :للدمياطي البناء)

6۔ أُفٍّ لفظ قرآن میں تین مقامات پر آیا ہے سورہ اسراءانبیاء اور احقاف میں اس میں تین وجوہ قرآءت جائز ہیں پہلی وجہ ہے (أُفٍّ) میں ف پر شد اور دو زیروں کے ساتھ یہ نافع کی روایت ہے حفص کی عاصم سے روایت ہے اور ابو جعفر کی بھی یہی روایت ہے۔ دوسری وجہ فاء پر فتحہ بغیر تشدیدکے۔ یہ ابن کثیر ابن عامر اور یعقوب کی قرآءت ہے۔ جبکہ اس میں تیسری وجہ وفاء کے کسر ہ سے بغیر تنوین کے ہے۔اور یہ باقی دس قرآءت ہے۔

سو اس راستے کو اختیار کرنے پر آپ کو بخوبی معلوم ہو سکے گا کہ قرآن میں اختلاف قرآءت والے مقامات میں بھی سات سے زیادہ وجوہ کبھی ممکن نہیں۔

اس بحث کے بعد ہم سیوطی کے اس قول کے بارے میں اپنا نقطہ نظر پیش کرتے ہیں جن میں انھوں نے کہا کہ "اس اصول پر اشکال یہ پیدا ہو تا ہے کہ قرآن میں بعض کلمات ایسے بھی ہیں جو سات سے زیادہ وجوہ پر تلاوت کئے جاسکتے ہیں "(دیکھیں صفحہ : 171) اس قول کے بارے میں یہی کہا جا سکتا ہےکہ یہ قول تحقیق سے بعید ہے اور حقیقت سے اس کا کو ئی واسطہ نہیں ۔حیرانگی والی بات یہ ہے کہ قول رابع پر تعاقب سے صرف دو تین سطر پہلے سیوطی نے قول ثالث پر جن الفاظ کے ساتھ تعاقب کیا ہے ان کے یہ دونوں تعاقب بھی باہم متضاد ہیں تیسرا قول یہ ہے کہ سبعہ حروف سے مراد سبعہ قرآءت ہیں اس پر سیوطی کا تعاقب یہ ہے کہ قرآن کریم میں کوئی بھی ایسا کلمہ نہیں (سوائے چند ایک کلمات کے) جو سات وجوہ پر پڑھا جا سکتا ہو۔اور وہ چند کلمات بھی انتہائی کم ہیں۔

بطور مثال عبد الطاغوت اور "فَلَا تَقُل لَّهُمَا أُفٍّ "

کے کلمات ایسے ہیں جن میں سات وجوہ جائز ہیں ۔لہٰذا سیوطی کا تیسرےقول پر تعاقب اور چوتھےقول پر تعاقب دونوں باہم متناقض ہیں کہ ایک جگہ وہ ایسے کلمات کا وجوہ بتا رہے ہیں جن میں سات سے زیادہ وجوہ بھی ممکن ہیں جبکہ اس سے چند سطریں قبل سات حروف والے کلمات کی تعداد بھی بہت محدود کہہ رہے ہیں۔

2۔کوئی شخص پھر بھی ہمارے قول پر سیوطی کے ان اقوال سے یہ اعتراض کرسکتا ہے۔چنانچہ جواب میں ہم کہتے ہیں کہ :سب سے پہلے تو قرآن میں ایسا کلمہ ہی کوئی نہیں جس کو سات وجوہ پر پڑھا گیا ہو۔جس کی وجہ یہ ہے کہ سبعہ حروف میں سے ایک اہم تعداد کو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم پر عرضہء اخیرہ میں منسوخ کردیاگیاتھا اور اس کے بعد نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نےجبریل پر دو مرتبہ قرآن کی تلاوت کرکے بذریعہ نص قرآن کی آخری قراءت کو ثابت کردیا اور آیات کی ترتیب ،گنتی اور منزل وجوہ کی حتمی تعین کردی۔چنانچہ اس میں کوئی بھی ایسا حرف باقی نہیں رہاجو مواضع اختلاف میں چھ وجوہ سے زیادہ پر تلاوت ہوسکے۔لہذا اب قرآن میں کوئی بھی کلمہ ایسا نہیں ہے۔جس میں چھ سے زیادہ متواتر وجوہ کی تلاوت جائزہو۔سوائے ان متواتر روایات کے ذریعے ثابت ہونے والی وجوہ کے جوقراءت اربعہ نے روایت کی ہیں اور جنھیں اتحاف فضلاء البشر" میں"البناء" نے ذکر کیا ہے۔ان روایات کی اسانید اگرچہ حد تواتر کونہیں پہنچتیں اور علماء ان پر شاذ قراءت کا حکم لگانے میں متفق ہیں تاہم یہ قراءت صحیح الاسناد ہیں اوراہل فن کےہاں معلوم طرق سے مروی ہیں ان قراءت کو شامل کرکے ہم مروی وجوہ کی تعداد کسی بھی حرف میں سات تک کرسکتے ہیں ۔لیکن ان کے شامل ہونے کے بعدبھی کوئی ایسا کلمہ نہیں جس میں پھر بھی سات سےزیادہ وجوہ ممکن ہوں۔مثال کے طور پر سورۃ البقرہ(الآیۃ رقم 98) میں جبرئیل اور میکائیل کے کلمات ہیں۔

جبرئیل میں 5 متواتر وجوہ پر قراءت صحیح ہے۔

1۔ج اور راء کےکسرہ کے ساتھ۔ہمزہ کو حذف کرنے اوریاء کو باقی رکھنے کی صورت میں! یہ نافع،ابوعمرو،ابن عامر اور حفص کی عاصم سے روایت ہے۔جبریل

2۔ج کے فتحہ اور راء کے کسرہ کے ساتھ،یا ء کو باقی رکھتے ہوئے ہمزہ کے حذف کی صورت میں ابن کثیر مکی کی یہ روایت ہے۔جبریل

3۔جیم اور راء کے فتحہ کے ساتھ،ہمزہ مکسورہ کےاثبات اور یائے ساکنہ کے ساتھ یہ حمزہ ،کسائی اورخلف کی مختار قراءت ہے۔جبرئیل

4۔تیسری صورت لیکن ہمزہ مکسورہ کے بعد یاء کے حذف کے ساتھ یہ قراءت ہے یحییٰ بن آدم کی ابی بکر بن عیاش عن عاصم کے طریق سے۔جبریل

5۔پانچویں قراءت حمزہ کی ہے جس میں وقف کے ساتھ ساتھ ہمزہ کی،تسہیل بین بین"ہے۔

یہاں دو وجوہ ایسی اور بھی ہیں جن پر قراءت نہیں کی جاسکتی:پہلی وجہ کو حسن بصری نے روایت کیا ہے جس کی صورت یہ ہے کہ یا ء کے حذف اور ہمزہ مکسور سے قبل الف کے اثبات یعنی "جبرائیل" دوسری صورت"ابن محصن"کی"مبہج"سے مروی ہے جو کہ جیم وراء کے فتحہ ،ہمزہ مکسورہ اور لام مشدد کے ساتھ ہے۔یعنی جبرئیل

یہ جملہ وجوہ ملا کر سات ہوئیں۔جن میں صرف 5 وجوہ متواتر ہیں۔

اسی طرح"میکال" میں 4وجوہ متواتر ہیں۔:میکائل:یعنی الف کے ہمزہ ہو،لیکن ہمزہ کے بعد"ی" موجود نہ ہو دوسری وجہ یہ ہے کہ میکال کو بروزن مثقال کےمیکال پڑھا جائے۔تیسری وجہ ہمزہ اور یاء دونوں کے اثبات کے ساتھ یعنی میکائیل اور اس کی چوتھی وجہ حمزہ کے نزدیک وقف کی حالت میں ہمزہ کو تسہیل سے پڑھنا ہے۔

یہاں ابن محیصن کے لئے ایک وجہ اور بھی ہے جو کہ پڑھی نہیں جاتی اور وہ ہے کہ میکائیل کو ہمزہ کے ساتھ یاء کے بغیر اور لام کی تشدید سے یعنی میکل پڑھا جائے اور یہ مبہچ کے طریقے سے ابن محیصن سے مروی ہے۔

3۔تیسری بات یہ ہے کہ ہم نے سبعہ احرف یا سبعہ وجوہ کو ایک کلمہ ک ساتھ خاص اور مقید کردیا ہے یعنی سات وجوہ کے ہونے کو کسی کلمہ واحدہ کے ساتھ مخصوص کیا ہے۔دوسرے لفظوں میں کسی بھی کلمہ واحدہ میں زیادہ سے زیادہ سات وجوہ ہوسکتی ہیں۔لیکن چند ایک کلمات کو ملا لینے سے وجوہ کی تعداد کافی زیادہ ہوسکتی ہے۔چنانچہ سبعہ وجوہ کے ساتھ کلمہ واحد کی شرط سے دراصل اُن بے شمار طرق سے ان وجوہ کو ممتاز کرنا مقصود ہے جنھیں مختلف کلمات کے جوڑنے کے بعد قراء ثابت کرتے ہیں۔آپ بھی جب متعدد کلمات کو جوڑ کر وجوہ قراءت کا اندازہ کریں گے تو وجوہ کے باہم ضرب کھانے سے یہ بھی ممکن ہے کہ وجوہ کی تعداد ایک جملہ یا عبارت میں 100 تک بھی جاپہنچے۔

چنانچہ اس حسابی جدول اور ضرب کےعمل کے نتیجے میں قراء کرام سورۃ الفاتحہ کو سورۃ البقرہ سے ملانے کی صورت میں 17 وجوہ(قارن بما فی غیث النفع :(ص 28)) بتاتے ہیں۔

اسی طرح کسی بھی صورت کے خاتمے پر عموماً وجوہ کی یہ تعداد بہت بڑھ جاتی ہے لیکن خیال رہے کہ وجوہ میں یہ طریقہ سلف کے راستے سے ہٹ کرہے بلکہ ایسا کرنا ایک بدعت ہے۔اور اس کی ابتداء پانچویں صدی ہجری کے بعد ہوئی ہے۔

پانچویں صدی ہجری سے قبل کوئی اس طرح وجوہ کے جدول حسابی اورضرب وغیرہ سے نہ تھا۔لہذا اس طریقہ کو محققین اختیار نہیں کرتے اور انہوں نے اس کو مستحسن نہیں گردانا سوائے اس کے کہ تعلیم مقصود ہو کیونکہ قراءت کی تعلیم کے دوران ان کی مشق اور اجراء کے لیے یہ طریقہ از حد مفید ہے۔جس کی وجہ یہ ہے کہ متعلم دوران حفظ کسی صورت کے ختم ہوجانے کی حالت میں ایک ایک کرکے ان قراءت کے اجراء کو مکمل نہیں کرسکتا بلکہ مختصر وقت کے پیش نظر اس کو جملہ وجوہ وروایات کو جمع کرکے پڑھنا ہوتا ہے۔

اس تمام بحث کی وضاحت کے لئے جس سے یہ بحث جلد ذہن نشین ہوجائے،ہم درج ذیل مثال سے اسی معاملہ کو واضح کرتے ہیں،جس طرح"الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ * مَالِكِ يَوْمِ الدِّينِ "

ہے۔اس عبارت میں الرحیم کی یاء کے لئے بحالت وقف مد سے تین وجوہ پڑھی جاسکتی ہیں یعنی یاتو یہاں قصر ہو یا توسط،یا پھر اشباع!

اس کے بعد الرحیم کی میم اور ملک کی میم کے مابین دو صورتیں بحالت وصل ہیں۔ادغام کے ساتھ یا پھر عدم ادغام سے نیز ہر دو حالتوں میں یہ بھی ملحوظ رہے کہ ملک میں بھی دو طریقے (یعنی الف کے ساتھ یابغیر الف کے ) جائز ہیں۔

چنانچہ اب جب آپ ان سب وجوہ کی(صرف انہیں وجوہ کا اہتمام کرتے ہوئے جن کو ہم نے ذکر کیا ہے) جمع کریں تو سات وجوہ بنتی ہیں۔

لیکن یہ سات وجوہ ایک کلمہ میں نہیں۔بلکہ دو کلمات کو ملانے کی صورت میں ہیں۔کیونکہ کلمہ"رحیم" کی اپنی وجوہ تو صرف تین یعنی بصورت مدعارض ہیں جبکہ" مَالِكِ " کی ذاتی وجوہ صرف دو(الف اور بغیر الف کے) ہیں۔اور دونوں کلموں کو ملانے پر دو وجہیں مزید ہیں۔چنانچہ کسی کلمہ کی وجوہ کو گنتے ہوئے(کہ آیا وہ سات سے زیادہ ہیں یا کم؟) دوسرے کلمہ کے ساتھ ملنے کے وجہ سے پیدا ہونیوالی وجوہ کو ساتھ نہیں شامل کیا جائے گا بصورت دیگر آپ قراء کے حسابی جدولوں(جو کہ طلسم افلاک کے مشابہ ہے) میں واقع ہوجائیں گی۔

اسی طرح(فَتَلَقَّى آدَمُ مِنْ رَبِّهِ كَلِمَاتٍ) کی مثال ہے اس مقام پر فرش(۔"فُرش" قراء کی اصطلاح میں قراءت میں ہونے والی ایسی تبدیلی کو کہتے ہیں جو اکثر تبدیلیوں کے لئےقراء کے وضع کئے ہوئے اصول وضوابط قراءت کے تحت نہیں آسکی۔یعنی قراء نے متعدد بار واقع ہونے والی تبدیلیوں کے لئے استقراء کے بعد کے بعدکچھ مخصوص قواعد(مثلاً مدو قصر،تحقیق ،تسہیل وابدال اور فتح وامالہ وغیرہ) وضع کئے ہیں تاکہ ان قواعد کے ذریعے قراءت کا احاطہ کیا جاسکے۔لیکن جو تبدیلی کسی ایسے ضابطے کے تحت نہ آسکے اور فردافردا اس کو یاد کیاجائے،اسے فرش کہا جاتاہے۔) میں سے " آدَمُ " کے لفظ پر نصب اور" كَلِمَاتٍ "رفع ہے۔یہ ابن کثیر مکی کی قراءت ہے جبکہ دوسروں نے اس کے برعکس پڑھا ہے۔سو اس مقام پر دو وجوہ تو یہ ہوئیں۔پھر " فَتَلَقَّى "کے الف میں تین وجوہ(فتح،امالہ اور تقلیل) پڑھی جاتی ہیں،علاوہ ازیں" آدَمُ " کے لفظ میں الف میں بھی تین وجود یعنی طول،توسط قصر ہیں۔چنانچہ اس جملہ کی مجموعی وجوہ 10 ہوئیں۔لیکن وجوہ کو یوں جمع کرنا صحیح نہیں،نہ ہی قراء اسکی اجازت دیں گے بلکہ اگر ان کے حساب اور طریقے پر چلا جائے اور ہر کلمہ کی وجوہ کو باہم ضرب دیں تو آپ کے سامنے وجوہ کی ایک بڑی تعداد آجائے گی جس کے بعد آپ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے اس فرمان کہ"میری امت پر آسانی فرمائیے"( انظر غیث النفع:(ص47)) کو بھولنا چاہیں گے۔

الغرض ایک جملہ میں وجوہ کی تعداد ان گنت ہوسکتی ہے یعنی غیر محدود ہے لیکن ایک ہی کلمہ میں انفرادی طور پر وجوہ کی تعداد سات سے ہر گز بڑھ نہیں سکتی بلکہ واقعہ تو چھ سے زیادہ نہیں ہے۔جیساکہ تفصیل گزرچکی۔

اس کی ایک اور مثال لیں:( وَسَارِعُوا إِلَىٰ مَغْفِرَةٍ مِّن رَّبِّكُمْ ) اس جملہ میں " وَسَارِعُوا " کی واو میں دو وجوہ متواترہ ہیں ایک تو واو کے ساتھ اور دوسری واو کے حذف کی صورت میں۔نافع،ابن عامراور ابو جعفر نے بغیر واو کے وَسَارِعُوا پڑھا ہے۔جبکہ باقی دس قراء نے واود کےساتھ پڑھا ہے۔دوسرے کلمہ یعنی وَسَارِعُوا میں بھی دو وجوہ ہیں ایک تو امالہ جو کہ کسائی سے منقول ہے اور دوسرا عدم امالہ کے ساتھ تلاوت کرنا۔مزید برآں سارعوا کو آگے ملانے کی صورت میں بھی مد منفصل (ایسی مد کو کہتے ہیں جس میں سبب مد اور حرف مد ایک کلمہ میں نہ ہوں) ہے اور مد منفصل میں بھی دو وجہیں ہیں ایک تو قصر اور دوسری طول۔قصر کی مقدار ایک الف کے برابر ہے ایک الف کا اندازہ کسی اُنگلی کو دوباہ کھولنے اور بند کرنے سے لگایا جاتاہے۔یعنی گھڑی کے تقریباً دو سیکنڈ اس کی مدت ہے۔مد کے مراتب میں بھی قراء میں اختلاف ہے کہ قصر،توسط ،اور اشباع کی مدت کتنی ہے؟لیکن بہرحال یہ مراتب وجوہ میں داخل نہیں کیونکہ ہر قاری کی ادا کے مطابق اس کا اندازہ ہے۔چنانچہ مد(چاہے کسی مرتبہ سے ہو) کوایک ہی وجہ شمار کیا جائے گا اور اس کے مقابل قصر ہے۔الغرض(وَسَارِعُوا ) کے لئے کل چھ وجوہ ہوئیں لیکن ہر دو وجوہ دوسری دو وجوہ سے علیحدہ ہیں اور دوسرے کلمہ میں ہیں اور ان کو آپس میں اکھٹا کرکے شمار نہیں کیاجائے گا ،بلکہ اکیلے کلمہ وَسَارِعُوا میں صرف دو وجوہ ہیں باقی تو ساتھ ملانے کی صورت میں ہیں۔

(ألئن)سورہ یونس میں دو مقام پر آیا ہے کہ اوردوسرے ہمزہ میں تین وجوہ پڑھی گئی(تسہیل بین بین اور الف سے بدل کرمدوقصر ،دوسری وجہ ہے ہمزہ کی حرکت لام کونقل کرنا اور تیسری وجہ سکتہ یابغیر سکتہ کے پڑھنا۔)

چنانچہ دوسرے ہمزہ میں جو کہ ہمزہ وصل ہے کل تین وجوہ ہوئیں لیکن قراء ہر وجہ میں مد کی وجوہ کا بھی اضافہ کرتے ہیں چاہے وہ مدعارض وقفی ہوجو بحالت ہوتی ہے یا مد بدل نتیجہً اس کلمہ میں دسیوں مرکب وجوہ بن جاتی ہیں۔( قارن بالبد ورالزاھرہ:(ص 144))