افسوس ہے کہ 30 جون 1999ء کو تقریبا صبح 6 بجے معروف عالم، بلند پایہ مدرس، شیخ الحدیث والتفسیر مولانا محمد عبدہ الفلاح رِحلت فرما گئے، انا لله وانا اليه راجعون
جامعہ سلفیہ فیصل آباد میں، جس کے محلہ حاجی آباد میں مرحوم کی رہائش تھی، نمازِ ظہر کے بعد ان کی نماز جنازہ ادا کی گئی، پہلی نماز ان کے فاضل تلمیذ حافظ عبدالعزیز علوی صاحب شیخ الحدیث جامعہ سلفیہ نے پڑھائی۔ اس کے تھوڑی ہی دیر بعد مرحوم کے ایک اور فاضل شاگرد مولانا حافظ ثناءاللہ مدنی شیخ الحدیث جامعہ لاہور الاسلامیہ (رحمانیہ) نے دوسری مرتبہ نماز جنازہ پڑھائی، جو لاہور سے قدرے تاخیر سے پہنچے تھے۔ نمازِ جنازہ کے بعد مرحوم کا جنازہ ان کے گاؤں سرواں چک 540 گ ب تحصیل سمندری ضلع فیصل آباد لے جایا گیا جہاں 6 بجے شام ان کی تدفین عمل میں آئی۔
نمازِ جنازہ میں جامعہ کے طلباء و اساتذہ کے علاوہ گوجرانوالہ، لاہور، فیصل آباد اور دیگر شہروں سے بکثرت علماء اور احباب، جماعت شریک ہوئے۔
مرحوم اپنی عمر طبعی گزار کر ہی دنیائے فانی سے دارالبقا کو روانہ ہوئے ہیں۔ وفات کے وقت تقریبا 82 سال ان کی عمر تھی، چند سالوں سے ضعف و نقاہت میں کافی اضافہ ہو گیا تھا، جس کی وجہ سے خواہش کے باوجود وہ علم و تحقیق اور تصنیف و تالیف کا کوئی خاص کام نہیں کر سکے۔ چند سال قبل کچھ عرصہ وہ مجلس التحقیق الاسلامی، لاہور میں بھی رہے اور یہاں صحیح بخاری کے عربی حواشی پر نظرثانی کے علاوہ انہوں نے صحیح مسلم کے عربی حواشی تحریر کرنے شروع کئے تھے، لیکن وہ کام بھی ضعف و کبر سنی کی وجہ سے زیادہ دیر جاری نہ رہ سکا۔ بالآخر 30 جون کو ان کی زندگی کا آفتاب غروب ہو گیا غفرالله له وارحمه ۔ ذیل میں ان کے مختصر حالاتِ زندگی اور ان کی بعض خودنوشت یادداشتین پیش کی جا رہی ہیں۔ ادارہ
مختصر حالاتِ زندگی اور تدریسی و تصنیفی خدمات
آپ کی ولادت قریہ وٹو مراڑ تحصیل مکسر ضلع فیروز پور میں 1917ء کو ہوئی۔ قمری مہینوں کے مطابق یہ تاریخ 17 رمضان المبارک 1336ھ تھی۔ آپ کے والدِ محترم کا نام نظام الدین واصل خان تھا۔
حصولِ تعلیم
آپ نے ابتدائی تعلیم اپنے گاؤں کے پرائمری سکول میں حاصل کی اور مڈل کی تعلیم کے دوران سکول کو خیربار کہہ دیا اور دینی تعلیم کے حصول میں مشغول ہو گئے۔ ابتدائی دینی تعلیم اپنے گاؤں اور اس کے قریب ایک قریہ بودیمال (بڈھیمال) میں حاصل کی۔ اس کے بعد مزید تعلیم کے لئے حافظ عبدالمنان وزیرآبادی کے شاگرد، حافظ محمد عبداللہ کھپیانوالی کی درس گاہ میں استفادہ کرتے رہے۔ آپ نے اعلیٰ تعلیم مدرسہ عالیہ دہلی سے حاصل کی۔ اور علم حدیث حضرت حافظ محمد محدث گوندلوی کے حلقات میں شرکت کر کے حاصل کیا۔
تدریس
ابتدائی طور پر تدریس کا آغاز اپنے گاؤں وٹو مراڑ کے ایک مدرسہ سے کیا۔ پھر اس کے بعد آپ نے جامعہ محمدیہ گوجرانوالہ، مدرسہ تعلیم الاسلام اوڈانوالہ، دارالحدیث رحمانیہ دہلی، تقویۃ الاسلام شیش محل روڈ لاہور، دارالحدیث، عام خاص باغ ملتان، جامعہ محمدیہ اوکاڑہ، جامعہ اہل حدیث لاہور اور جامعہ سلفیہ فیصل آباد میں تدریسی فرائض سرانجام دئیے۔
تخصص آپ ابتداء میں علومِ آلیہ: عربی ادب و قواعد، عقائد و کلام اور منطق و فلسفہ کا زیادہ ذوق رکھتے تھے اور درسِ نظامی میں شامل ایسی کتابوں کی تدریس میں خصوصی مہارت کے حامل رہے لیکن بعد ازاں انہی علوم نے انہیں قرآنِ کریم سے خاص شغف مہیا کر دیا تو قرآنِ کریم کے تفسیری کام سے گزرتے ہوئے علومِ حدیث کی طرف مائل ہوئے۔ ان کی عمر کا بیشتر حصہ حدیث اور محدثین کے بارے میں تدریس و تصنیف کرتے ہوئے گزرا۔ آپ ہمارے مشہور دینی مدارس میں 'شیخ الحدیث' کے منصب پر فائز رہے اور اسی مناسبت سے اِفتاء کا فریضہ بھی انجام دیتے رہے۔
مربی اساتذہ کرام
آپ کے اساتذہ کرام میں سے چند مشہور نام مندرجہ ذیل ہیں:
استاذُ الاساتذہ حضرت العلام حافظ محمد گوندلوی، شیخ الحدیث مولانا محمد اسمعیل سلفی، مولانا عبدالغنی، مولانا محمد رمضان، مولانا محمد عبداللہ کھپیانوالی، مولانا سلطان محمود گجراتی، مولانا اشفاق الرحمٰن کاندھلوی، مولانا عبدالرحمٰن کابلی مجذوب اور مولانا  فخر الحسن وغیرہم
تلامذہ
آپ کے شاگردوں میں سے چند قابل ذکر یہ ہیں: مولانا ہدایت اللہ ندوی، مولانا صوفی محمد، مولانا محمد اسحٰق، مولانا محمد یعقوب جہلمی، مولانا حافظ ثناءاللہ مدنی، مولانا حافظ عبدالرحمٰن مدنی، مولانا عبدالسلام کیلانی، حافظ عبداللہ امجد چھتوی، مولانا عبدالقادر ندوی، مولانا حافظ عزیز الرحمٰن لکھوی، قاضی محمد اسلم سیف رحمۃ اللہ علیہ، مولانا عبدالرشید نومسلم، حافظ عبدالرشید گوھڑوی، مولانا ولی محمد، مولانا محمد یوسف وغیرہ
اہم تالیفات
(1) حاشیہ قرآنِ کریم بنام اشرفُ الحواشی
(2) اردو ترجمہ مفرداتُ القرآن از امام راغب اصفہانی
(3) مآثر الکرام احسان الہند میر غلام علی آزاد بلگرامی 1200ھ تصحیح و حواشی فارسی مع تکمیل مؤلفات و فہارس رجال مع مراجع شائع کردہ مکتبہ احیاء العلوم الشرقیہ
(4) جلد ثالث ترجمان القرآن، مولانا آزاد کی تکمیل اور جمع و ترتیب
(5) سیرتِ ابن حجر و تراجم رجالِ اسانید ابن حجر جو انہوں نے مقدمہ فتح الباری میں ذکر کی ہیں۔
(6) الارشاد الی محمات الاسناد از شاہ ولی اللہ محدث دہلوی کی تحقیق و حواشی (زیر طبع)
نوٹ: مرحوم نے ایک مناسبت سے اپنی علمی زندگی کے بارے میں مختصرا ایک تحریر بھی فرمائی تھی۔ جو سیرتِ حافط ابن حجر رحمۃ اللہ علیہ کے بارے میں آپ کے تیار کردہ کتابچہ کے شروع میں طبع بھی ہوئی۔ ثقاہت کے اعتبار سے خودنوشت کو زیادہ اہمیت حاصل ہوتی ہے، اسی لئے ہم اسی کو شائع کرتے ہیں ۔۔ ادارہ
خودنوشت سوانح شیخ الحدیث مفتی محمد عبدہ الفلاح فیروز پوری
پس منظر: راقمُ الحروف نے الصحيحين اور السنن الاربعة پر تفصیلی مقالے تحریر کئے جو بالاقساط ماہنامہ محدث لاہور(1) میں شائع ہو چکے ہیں۔مولانا محمد یوسف آف راجووال شیخ الحدیث وبانی جامعہ کمالیہ راجووال مقالہ صحیح بخاری سے متاثر ہوئے اور موصوف نے اس کی طباعت و نشر کے سلسلہ میں راقم کو خط لکھا۔ راقم نے ان کے مکتوب سے متاثر ہو کر فرحتِ قلب کے ساتھ ان کو اجازہ ملک دیا جوابا مولانا نے تحریر فرمایا کہ الصحيحين کے دیباچہ میں مؤلف کے ترجمہ کا ہونا ضروری ہے۔ اس لئے آپ خود ہی اپنا مختصر تعارف لکھ دیں تاکہ اس کے دیباچہ میں شامل کر دیا جائے۔ راقم کچھ عرصہ تو متامل رہا پھر بالآخر مولانا موصوف کی حوصلہ افزائی کے پیش نظر اس کی ابتدا کر ہی دی۔
آبائی گاؤں
میرا مولد قریہ وتو مراڑ تحصیل مکسر ضلع فیروز پور ہے اور ہمارے گاؤں کے پڑوس میں ایک قریہ صغیرہ تھا جو اہل علم کا گاؤں تھا اور بودیمال (بڈھیمال) کے نام سے معروف تھا۔ موجودہ چک 36 ستیانہ روڈ، فیصل آباد اسی قریہ صغیرہ کا دوسرا عنوان ہے۔ میرے والد محترم رحمۃ اللہ علیہ کا نام نظام الدین واصل خان تھا۔ میری اصل برادری تحصیل فاضلکا (فیروزپور مشرقی پنجاب) ہیڈ سلیمان کی باسی تھی جو منتقل ہو کر گاؤں وٹو مراڑ میں رہائش پذیر ہو گئی یہاں گزران کے لئے کچھ زراعتی زمین مل گئی۔
والدہ کی روایت کے مطابق میری ولادت 17 رمضان المبارک 1336ھ (1917ء) ہے۔ والد مرحوم صرف ناظرہ قرآن پڑھے ہوئے تھے تاہم پنج وقتہ مسجد کے نمازی تھے۔ میرے ننھیال ضلع حصار سوتر کے علاقہ میں 'ناگوکی' کے رہنے والے تھے۔ ان کا تعلق چوہان برادری سے تھا، بڑی بارعب شخصیت کے مالک تھے اور اچھے خاصے زمیندار تھے۔ قرآن پاک ترجمہ کے ساتھ پڑھتے جس کے حاشیہ پر کامل تفسیر حسینی تھی، وہ قرآن مجھے وِرثہ میں ملا تھا ۔۔ سوتر کا علاقہ مولوی نور محمد سوتروی مؤلف 'شہباز' کا وطن تھا اور 'ناگوکی' کے قریب سے دریا گھاگھرا بہہ رہا تھا۔ مولوی نور محمد نے شہباز میں اس علاقہ کی جہالت اور گمراہیوں کا ذکر کیا ہے اور مراجع دستیاب نہ ہونے کی وجہ سے ایک مقام پر لکھتے ہیں:
سوتر دیوچہ قسمت ساڈی جتھے کال کتاباں
اور ایک مقام پر شہباز کی مدح و ثناء میں لکھتے ہیں:
سوتر والی نال دے وچ نور ترائے بیڑے
نور دے وِچ قصور نہیں کوئی پر منظور نہیں کر دے بہیڑے
یہ علاقہ جہالت اور رسومِ شرکیہ کا گڑھ تھا اور وجودیہ، اتحادیہ اور حلولیہ وغیرہ گمراہ فرقے پائے جاتے تھے۔ مولانا عبداللہ حکیم آف منڈی جہانیاں کا گاؤں بھی روڑی تحصیل سرسہ تھا اور ان کے والد محترم صوفی سلیمان روڑی کے رہنے والے تھے۔ حکیم عبداللہ صاحب تحریکِ اہل حدیث کے سلسلہ میں لکھتے رہتے تھے۔ تحصیل سرسہ میں دو عالم تھے: ایک مولانا نور محمد مؤلف شہباز اور دوسرے میرے دادا جی جمال الدین اور یہ دونوں پکے حنفی مقلد تھے، باقی سب اہل بدعت تھے۔ تحصیل سرسہ میں سب سے پہلے میرے والد مولوی محمد سلیمان اہل حدیث ہوئے جنہوں نے امام  عبدالجبار غزنوی کی بیعت کی اور حافظ محمد لکھوی سے مستفیض ہوئے۔
ننھیال کے پڑوس، روڑی میں مولوی سلیمان کی ملاقات کے لئے جاتا رہا ہوں اور مرحوم مجھے وظائف و اَوراد کی بھی تلقین کیا کرتے، مولوی نور محمد سوتروی سید کمال الدین دہلوی کے مرید تھے جو وحدۃ الوجود کے قائل تھے اور یہی چیز تھی جس کی شناعت (برائی) مولوی نور محمد کے دل میں کھٹکتی رہی اور انہوں نے اپنے پیر کے ساتھ مناظرہ کیا اور یہ فیصلہ شاہ عبدالعزیز کے پاس پہنچا تو انہوں نے سید کمال کے حق میں فیصلہ دیا اور وہ فیصلہ جو شہ عبدالعزیز کے ہاتھ کا ہے، سید کمال الدین کے پوتے کے پاس محفوظ ہے۔
حصولِ تعلیم
میری تعلیم گاؤں کے پرائمری سکول میں ہوئی، مڈل کے اثنا میں سکول کو خیربد کہہ دیا اور دینی تعلیم کے حصول میں مشغول ہو گیا۔ گاؤں میں مولوی محمد رمضان سے ترجمہ قرآن شروع کر لیا۔ مولوی صاحب تفسیر محمدی پر دیکھ کر ترجمہ پڑھاتے اور پنجابی نظم میں تفسیر بھی پڑھتے اور اس کے بعد قاضی محمد حسین مجھے بودیمال مولوی عبدالغنی صاحب کے پاس چھوڑ آئے۔ پرائمری سکول میں مولوی عبدالرحمٰن مدرس آف امین والا تحصیل ضلع فیروز پور (مشرقی پنجاب) تھے جن کے صاجزادے چودھری خلیل الرحمٰن ایڈووکیٹ ہیں جو لاہور ہائیکورٹ کے جج بھی رہے۔ قیامِ پاکستان کے بعد چوہدری صاحب کی رہائش گاہ (ماڈل ٹاؤن، لاہور) میں مولوی عبدالرحمٰن صاحب سے ملاقات ہوئی اور راقم الحروف نے ان کو اشرفُ الحواشی بطور ہدیہ پیش کیا جس پر وہ خوش ہوئے اور خوشی کے آنسو رونے لگے اور مجھے بطورِ یادگار حمائل غزنوی امرتسر عطا کی۔
بودیمال مختصر سا قریہ تھا وہاں پر کچھ مولوی صاحب تھے جو دینی تعلیم میں دلچسپی لیتے تھے اور تقریبا سب ہی مولانا عطاءاللہ لکھوی کے تلمیذ تھے۔ بعض نے دوسرے مدارس میں تعلیم بھی حاصل کی تھی اولا مشہور تر عالم مولانا عبدالرحمٰن نطام الدین تھے جو مولانا عبدلوہاب صدری دہلوی سے حدیث پرھتے تھے اور عبدالوہاب صدری حضرت میاں سید نزیر حسین دہلوی کے تلمیذ تھے پس مولوی عبدالرحمٰن بیک واسطہ میاں صاحب کے تلامذہ سے شمار ہوئے اور گالبا مدرسہ رحمانیہ کی وجہ تسمیہ بھی مولاناہی کی ذات تھی۔
کچھ عرصہ کے بعد راقم الحروف مولانا محمد عبداللہ صاحب کھپیانوالی کے درس میں چلا گیا۔ مولانا خدا رسیدہ بزرگ اور حافظ عبدالمنان وزیر آبادی کے تلمیذ تھے۔
اس کے بعد گردشِ ایام نے دہلی پہنچا دیا اور مدرسہ عالیہ دہلی میں داخلہ مل گیا۔ مدرسہ عالیہ فتح پوری دیوبندی ہے۔ اس میں عربی فاضل، منشی فاضل اور پینل امتحانات وغیرہ ہوتے ہیں۔ اس مدرسہ میں میرے اہل حدیث رفیق مفتی عبدالقادر بلتستانی بھی پڑھتے تھے اور میرے اساتذہ میں مولانا سلطان محمود گجراتی صدر مدرس مدرسہ عالیہ مولانا اشفاق الرحمٰن کانھدلوی، مولانا عبدالرحمٰن کابلی مجذوب اور مولانا فخر الحسن دیوبندی تھے۔ تین سال کے بعد وہاں سے فراغت کے بعد واپس وطن چلا آیا آئندہ سال کے لئے بعض دوستوں نے مشورہ دیا کہ کسی اہل حدیث محدث کے پاس رہ کر حدیث پڑھنا ضروری ہے چنانچہ بندہ حسبِ مشورہ مولانا محمد گوندلوی رحمۃ اللہ علیہ کے پاس چلا گیا اور ان پر رفقاء کے ساتھ بخاری شریف کی قراءۃ کی اور دیگر کتب بھی پڑھیں اور سال کے خاتمہ پر سنوی امتحان امتیاز کے ساتھ پاس کیا۔ ناظم مدرسہ استاذِ محترم ابوالخیر محمد اسمعیل سلفی نے میری سند کی پشت پر خاص طور پر اپنے دستخطوں کے یہ جملہ رقم فرمایا: " قد فاز الاقران " (اپنے ساتھیوں پر فوقیت حاصل کی) جو میرے لئے بہت بڑا اِعزاز تھا۔
تدریس
فراغت کے بعد اپنے گاؤں وٹو مراڑ چلا آیا اور مدرسہ کا افتتاح کر دیا۔ حسن اتفاق سے چند ممتاز طلبہ جمع ہو گئے جن میں مولانا ہدایت اللہ ندوی، مولانا صوفی محمد آف آرائیانوالہ اور مولانا محمد اسحٰق آرائیانوالہ خاص طور پر قابل ذکر ہیں۔
پھر جب استاذِ محترم حافظ محمد گوندلوی رحمۃ اللہ علیہ قتل کے ایک جھوٹے کیس میں گرفتار ہوئے تو بندہ کو استاذِ محترم سلفی صاحب نے گوجرانوالہ تدریس کے لئے بلا لیا، وہاں پر اُن کی ضمانت اور رہائی تک درس دیتا رہا۔ میرے درس میں اس وقت پیر محمد یعقوب جہلمی بھی شامل تھے جو ترمذی اور حماسہ پڑھتے تھے آئندہ سال کے لئے اوڈانوالہ چلا گیا۔ مدرسہ تعلیم الاسلام میں جلالین، نور الانوار، قطبی وغیرہ کتابیں میرے سپرد ہوئیں۔ جلالین، نورالانوار اور قطبی میں مولانا محمد یعقوب، مولوی محمد یوسف سفیر مدرسہ، مولانا خدا بخش وغیرہ شریک رہے اور کافیہ ابن حاجب میں مولوی عبدلقادر ندوی اور ان کے رفقاء شریک تھے۔ آئندہ سال کے لئے واپس اپنے گاوں چلا آیا اور عزم کر لیا کہ اپنے گاؤں میں ہی رہوں گا تاہم گوجرنوالہ سے استاذِ محترم مولانا محمد اسمعیل سلفی کا مکتوبِ گرامی پہنچا کہ آئندہ سال دارالحدیث رحمانیہ دہلی چلے جائیں کیونکہ میں ان سے طے کر آیا ہوں چنانچہ ہفتہ عشرہ میں دارُالحدیث سے خط بھی پہنچ گیا جس کے جواب میں رضامندی کا خط لکھ دیا گیا اور رمضان المبارک کے بعد میں دہلی دارالحدیث میں چلا گیا۔
دہلی سے تو بندہ مانوس تھا کیونکہ عرصہ تین سال تک تعلیم حاصل کرتا رہا مگر رحمانیہ کا ماحول میرے لئے اجنبی تھا تاہم رحمانیہ میں کچھ پنجابی طلبہ کی وجہ سے وحشت جاتی رہی اور جمعہ کی شام کو کھانے پر جمع ہوئے تو اساتذہ سے بھی متعارف ہو گیا۔
مولانا عبیداللہ رحمانی سے بالمشافہ یہ میرا پہلا تعارف تھا۔ رحمانی صاحب اس سال 'سیرتِ بخاری رحمۃ اللہ علیہ' کے دوسرے ایڈیشن کی تیاری میں مصروف تھے۔ بندہ بھی اس کام میں شریک ہو گیا اور شارحین بخاری کے وفیات بقیدِ سنین جمع کرنے لگ گیا۔ عجلت کی وجہ سے یہ کام گو مکمل نہ ہو سکا تاہم آئندہ ایڈیشن میں بعض وفیات کا اضافہ ہو گیا، مزید پھر نہیں ہو سکا۔ مجلہ محدث میں اس حوالے کچھ مقالات (2) بھی شائع ہوئے۔ اس طرح علمی ماحول میں وقت گزرتا رہا۔ دارالحدیث رحمانیہ میں پنجابی علماء آتے تو بعض کی مہمان نوازی کا شرف بھی حاصل ہو جاتا۔ چنانچہ بھوجیاں سے مولوی عبدالرحمٰن خان اِ کبیر مولانا عبداللہ بھوجیانی حج کے فارموں کے سلسلہ میں اپنے دو تین رفقاء کے ساتھ آئے تو مجھے میزبانی کا شرف ملا۔ اسی طرح ایک مرتبہ مولانا عطاءاللہ صاحب بھوجیانی اور مولانا محمد اسحٰق بھٹی تشریف لائے پھر قاضی عبیداللہ آف کوٹ کپور بمع رفقاء تشریف لائے اور انہوں نے مولانا ابوالکلام آزاد سے ملاقات کی تو بندہ بھی ان کے ساتھ تھا، اسی کو غالبا بھٹی صاحب نے ریاستی وفد کہا ہے۔ رحمانیہ میں ہی مجاہدِ کبیر مولانا فضل الہیٰ وزیرآبادی سے ملاقات ہوئی جس کا ذکر ایک مکتوب میں کر چکا ہوں۔
بہرحال دارالحدیث رحمانیہ کے وہ ایامِ باغ و بہار لد گئے اور اس کی رونقیں خزاں ہو گئیں۔ جمعیت اہل حدیث کی تاریخ میں واقعہ ایک شاندار مؤسسہ (ادارہ) تھا جس نے علمی رونق کو قائم رکھا۔ 1938ء میں شیخ عطاءالرحمٰن دہلوی اللہ تعالیٰ کو پیارے ہو گئے پھر ان کے منجھلے صاجزادے شیخ عبدالوہاب نے اس کا اہتمام سنبھالا اور دارالحدیث اپنی سابقہ شون و شوکت کے ساتھ تعلیمی خدمات سر انجام دیتا رہا۔ شیخ عبدالوہاب وجع دار شخصیت کے مالک تھے اور مولانا سید محمد داؤد گزنوی کے ساتھ برخوردارنہ تعلقات تھے۔ غالبا 1949ء میں دارالعلوم، شیش محل روڈ، لاہور تشریف لائے تھے اور اساتذہ کے تعارف کے سلسلہ میں انہوں نے غزنوی رحمۃ اللہ علیہ صاحب سے فرمایا: ہاں میں ان (محمد عبدہ الفلاح) کو پہچانتا ہوں یہ ہمارے دارالحدیث دہلی میں مدرس رہ چکے تھے۔
الگرض راقم الحروف نے سید غزنوی کی طلب پر تقویۃ الاسلام لاہور میں تدریس شروع کر دی۔ مدرسہ کے ہال میں ہم پر پہلا حملہ مچھر اور کھٹمل نے کیا جس سے سوائے پنکھے کے بچاؤ کی صورت نہ تھی۔ بالآخر مولانا غزنوی نے رات کو پال کے اندر فرش پر اجتماعی نیند کی اجازت دے دی۔
حدیث کے اسباق مولانا محمد عطاءاللہ بھوجیانی صاحب کے پاس تھے  جو کہ شیخ الحدیث تھے اور معقولات کی کتابیں مولانا شریف اللہ سواتی کے سپرد تھیں، باقی آدابِ عربیہ (نظم و نثر) راقم الحروف کے ذمہ تھیں اور درسِ نظامی کا یہ سلسلہ اچھے طریق سے چلتا رہا۔ بالآخر تقریبا 1953ء میں راقم الحروف ٹائیفائد سے بیمار ہو گیا اس کے بعد تدریس کے قابل نہ رہا اور مولانا غزنوی سے فراغت کے لئے طالبِ اجازت ہوا۔
مولانا سید غزنوی رحمۃ اللہ علیہ بااُصول شخص تھے، انہوں نے فرمایا: "دیکھئے مولانا صاحب! آپ نے مدرسہ سے سبکدوش ہونا ہے تو استعفیٰ لکھ دیجئے تاکہ مدرسہ میں ریکارڈ ہے۔ چنانچہ بندہ نے اس بیماری کی حالت میں دو چار سطروں میں درخواست لکھ دی کہ مجھے مدرسہ سے فارغ کر دیا جائے۔ مولانا غزنوی رحمۃ اللہ علیہ صاحب نے باقاعدہ تحریری طور پر میرا استعفیٰ منظوع فرما لیا اور مجھے ایک ملفوف دے دیا جس میں لکھا تھا کہ "میں آپ کا استعفیٰ منظور کرتا ہوں اور آپ کی پانچ سالہ خدمات کا اعتراف کرتا ہوں۔ دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ جناب کو صحت عطا فرمائے اور آپ دوبارہ تدریس کے لائق ہو جائیں۔" چنانچہ مولانا کی وہ تحریر تبرکا میرے پاس محفوظ ہے یہاں پر اس کا عکس دے دیا ہے تاکہ تحریر محفوظ ہو جائے۔
عکس تحریر مولانا سید داود غزنوی رحمۃ اللہ علیہ
(عکس پی ڈی ایف کے صفحہ نمبر 69 پر ہے۔)
اس طرح راقمُ الحروف نے پانچ چھ ماہ کا عرصہ اپنے چک 34، اوکاڑہ میں گزارا۔ اس رمضان المبارک سے قبل آئندہ سال کے لئے ملک عبدالعزیز ملتانی میرے چک میں آئے اور دارالحدیث ملتان کے لئے وعدہ لے گئے۔ چنانچہ آئندہ سال دارالحدیث ملتان عام خاص باغ میں صدرُ المدرسین اور شیخ الحدیث کی سند حاصل ہو گئی اور یہی وہ سال تھا کہ حافظ عزیز الرحمٰن لکھوی اور قاضی محمد اسلم صاحب میرے تلامذہ میں شامل ہو گئے اور انہوں نے صحیح بخاری کے ساتھ کچھ اسباق بھی شروع کر لئے۔
رفیقین جمعیت طلبہ اہل حدیث کے بالترتیب صدر اور ناظم اعلیٰ تھے چنانچہ سال کے خاتمہ پر انہوں نے جمعیت طلبہ کی سالانہ کانفرنس کا پروگرام میاں چنوں میں بنا دیا اور مجھے صدارت کے لئے پیشکش کی۔ بندہ نے اس پیشکش کو قبول کر لیا اور خطبہ صدارت کی تیاری شروع کر دی جو کانفرنس کے اجلاس میں پڑھ کر سنایا گیا اور مطبوعہ صورت میں تقسیم بھی ہوا۔ آئندہ سال کے لئے جامعہ محمدیہ اوکاڑہ کے ناظم نے روک لیا اور میں نے بھی چک کے نزدیک ہونے کی وجہ سے اس کو سہولت خیال کر کے منظور کر لیا۔
مگر ہوتا وہی ہے جو منظورِ خدا ہو، انہی دنوں مرکزی جمعیت اہلحدیث نے جامعہ سلفیہ کے افتتاح کا پروگرام بنا لیا اور مجھے اساتذہ میں شامل کرنے کی تجویز بھی زیرغور آئی۔ پہلے سال تو جامعہ کا درجہ تکمیل اس وقت کے تدریسی پروگرام کے مطابق لاہور ہی میں شروع کر دیا گیا اور لاہور مین جماعت کے لائق ترین اساتذہ کی موجودگی میں بیرونِ لاہور سے کسی مدرس کی ضرورت نہ تھی۔ استاذِ محترم علامہ محمد اسماعیل سلفی، مولانا محمد حنیف ندوی، مولانا محمد عطاءاللہ حنیف بھوجیانی اور سید داؤد غزنوی ایسے لائق اور اصحابِ مسانید کی موجودگی میں کسی دوسرے کو دعوت دینا بھی گستاخی ہی تھی اور پھر مذکورہ اصحاب کا معاملہ پیشہ وَر مدرسین کی طرح نہ تھا بلکہ ان سب حضرات نے جماعتی خدمت سمجھ کر رضاکارانہ طور پر وقت دینا قبول کیا تھا، ورنہ ان کی اس خدمت کا نہ تو کچھ معاوضہ دیا جا سکتا تھا اور نہ ہی یہ اصحابِ عزت و اِحترام معاوضہ کے متعلق کچھ سوچ ہی سکتے تھے۔ اسباق کی تقسیم کے مطابق سال بھر لیکچرز کا یہ سلسلہ چلتا رہا اور آئندہ سال کے لئے نئے پروگرام بھی بنتے رہے اور راقم الحروف سے بھی اوکاڑہ مراسلت ہوتی رہی۔ یہ بعض مکتوبات لاہور سے اوکاڑہ پہنچانے میں مولانا عبدالعظیم انصاری نے سعادت کے فرائض سر انجام دئیے۔ مرکزی حجرات کے یہ مکاتیبِ گرامی میری خاص فائل میں محفوظ ہیں۔ یہ مراسلات کافی تعداد میں ہیں جن میں سید محمد داؤد غزنوی مرحوم، استاذِ محترم شیخ الحدیث مولانا محمد اسمعیل صاحب سلفی مرحوم اور مولانا محی الدین صاحب قصوری ناظم تعلیماتِ مرکزیہ کے خطوط خصوصی اہمیت رکھتے ہیں اور جماعتی پالیسی کے وضع کرنے اور جامعہ سلفیہ کے تدریسی منہج کو درست رکھنے میں معاون ہو سکتے ہیں ۔۔۔ 10 مئی 1957ء کے "الاعتصام" میں اعلان ہوا:
"جامعہ سلفیہ میں ممتاز علماء کی شرکت فرمائی" شیخ الجامعہ مولانا حافظ محمد صاحب گوندلوی، مولانا شریف اللہ صاحب اور مولانا محمد عبدہ الفلاح صاحب کی خدمات حاصل کر لی گئیں۔
یہ اعلان مولانا محی الدین احمد قصوری ناظم تعلیماتِ مرکزی جمعیت اہل حدیث مغربی پاکستان کی طرف سے تھا جس میں اساتذہ کا تعارف بھی تھا۔ اس سال درجہ اعلیٰ کے ساتھ درجہ ثانویہ بھی رواں دواں تھا۔ طلبہ کے تاثرات نہایت سنجیدہ اور عمدہ تھے۔ راقم الحروف کے متعلق پروفیسر غلام نبی صاحب وہ مکتوب دیکھ سکتے ہیں جو موصوف نے یٰسین چودھری صاحب مدیر جامعہ جامعہ کے نام لکھا اور انہوں نے متعلقہ حصہ مجلہ اہل حدیث میں اشاعت کے لئے بھیج دیا (تاریخ مجریہ یاد نہیں) جامعہ کے متعلق پورا ریکارڈ عاجز کے پاس موجود ہے جو الاعتصام میں شائع ہوا۔ راقم الحروف عرض گزار ہے کہ جامعہ سلفیہ ایک تحریک ہے جس کے ذمے جماعتی تنظیم کو مضبوط کرنا اور رِجالِ کار مہیا کرنا ہے جو ہر خلا کو پر کر سکیں۔ اس کے بعد میں قاضی محمد اسلم سیف[1] اور پروفیسر غلام نبی سے گزارش کروں گا کہ وہ ان اوراق کو مکمل کر دیں جو میں نے ان کے سپرد کئے ہیں۔ والسلام    محمد عبدہ الفلاح (فروری 1995ء)
مفتی محمد عبدہ الفلاح کے محدث میں شائع ہونے والے مقالات
(1) مقالات برموضوع صحيح بخارى و سنن اَربعه
٭ امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور الجامع الصحیح (جنوری 93ء)
٭ صحیح بخاری، روایات اور شرح (اپریل 93ء)
٭ حدیث معلق اور صحیح بخاری (اگست 93ء)
٭ امام ابوداود رحمۃ اللہ علیہ اور سنن ابوداود (جون 94ء)
٭ امام نسائی رحمۃ اللہ علیہ اور سنن نسائی (جنوری 94ء)
٭ امام ترمذی رحمۃ اللہ علیہ اور جامع ترمذی (اکتوبر 94ء)
٭ امام مالک اور مؤطا کا تعارف، مؤطا امام محمد رحمۃ اللہ علیہ سے تقابل (دسمبر 94ء)
(2) تذکرہ علماءِ کرام
٭ حافظ عبداللہ محدث روپڑی رحمۃ اللہ علیہ (اگست 93ء)
٭ مولانا محمد ابراہیم آروی رحمۃ اللہ علیہ (نومبر 94ء)
اسی شمارہ میں آپ کا ایک وقیع مضمون "قرآن فہمی کے بنیادی اُصول" بھی شامل اشاعت ہے۔

[1] عجب اتفاق ہے کہ قاضی اسلم سیف رحمۃ اللہ علیہ دو برس قبل مولانا کی زندگی میں ہی داعی اجل کو لبیک گئے۔ اب مولانا کے حسب ارشاد یہ ذمہ داری آپ کے شاگردِ رشید پروفیسر غلام نبی صاحب کو ہی بجا لانی ہے جو ان کے استاذِ مکرم کی سوانح ہونے کے ساتھ جماعت کی علمی تاریخ بھی ہے۔ ہم پروفیسر صاحب سے اس مبارک کام کی جلد تکمیل کی توقع کرتے ہیں۔ ادارہ