جماعتِ مجاہدین، جسے شہیدین سید احمد شہید رحمۃ اللہ علیہ اور شاہ اسمعیل شہید رحمۃ اللہ علیہ نے تحریکِ احیاءِ سنت صلی اللہ علیہ وسلم کے نتیجے میں آج سے 175 برس قبل منظم کیا تھا، مسلمانانِ ہند کی تاریخ کا ایک درخشاں باب ہے۔ اس دور میں جب تختِ دہلی پر انگریز اور تحتِ لاہور پر سکھ راج کی حکومت تھی، مسلمانانِ ہند کو منظم کر کے صوبہ سرحد کو اپنا مستقر بنا کر اس تحریک کے سرفروشوں نے ایک نئی سادتانِ شجاعت رقم کی۔ 1826ء سے 1864ء تک پھیلی مجاہدین کی ان سرگرمیوں اور کامیابیوں نے امتِ مسلمہ میں ایک نئی روحِ جہاد پھونک دی۔ اس جہاد کا امتیازی پہلو یہ تھا کہ مجاہدین جن کا ہندوستان بھر سے مالی اِعانت کا ایک منظم جال تھا، نے آزاد علاقوں (صوبہ سرحد کے بعض شہروں) میں اپنا ٹھکانہ بنا کر جہاد کا احیاء کیا، کیونکہ اسی صورت میں وہ جہاں غیروں کی جہادی مقاصد میں دخل اندازی سے محفوظ رہ سکتے تھے وہاں جہاد کے خاطر خواہ نتائج بھی حاصل کر سکتے تھے ۔۔ جہاد اسلام کی بلند ترین چوٹی اور امتِ مسلمہ کی عزت کی ضمانت ہے۔ امتِ مسلمہ کے ساتھ ساتھ آخری دم تک جہاد بھی باقی رہے گا۔
شہیدین رحمۃ اللہ علیہم اور ان کے رفقائے گرامی قدر مسلمانانِ ہند میں جہاد کا جذبہ بیدار کرنے کے لئے جو کوششیں بروئے کار لائے ان مبارک کوششوں میں سے ایک زیرنظر رسالہ ترغيب الجهاد کی صورت میں ہمارے سامنے ہے۔ جسے سید احمد رحمۃ اللہ علیہ کے رفیق جہاد مولوی خرم علی بلہوری رحمۃ اللہ علیہ نے تحریکِ جہاد کے آغاز میں عوام کو جہاد کی ترغیب دینے کے لئے تحریر کیا تھا۔ یہ رسالہ اس موضوع پر مفید عوام ہونے کے ساتھ ساتھ خصوصی تاریخی مناسبت بھی رکھتا ہے۔ بڑی بوسیدہ حالت میں اس کا مخطوطہ میسر آنے پر اس کو تحقیق و تکمیل اور مروجہ اُردو کے قالب میں ڈھال کر 'محدث' کے اَوراق پر محفوظ کیا جا رہا ہے۔ اللہ تعالیٰ امتِ مسلمہ کو جہاد ایسی مبارک تحریک کے احیاء کی توفیق بخشے اور ہمارے حکمرانوں کو اس کی سرپرستی کرنے کی ایمانی قوت سے نوازے ۔۔ آمین! (حسن مدنی)
مخطوطہ کا مختصر تعارف: جهاد کے موضوع پر لکھے ہوئے اس قلمی نسخے پر نہ تو مصنف کا نام ہے اور نہ ہی کاتب کا۔ میں نے اس مخطوط کا ذکر جامعہ سلفیہ، فیصل آباد کے انچارج لائبریری جناب اشرف جاوید سے کیا تو ان کی حیرت انگیز یادداشت نے میری رہنمائی کی اور مجھے ایوب قادری مرحوم کی کتاب "اُردو نثر کے ارتقا میں علماء کا حصہ" دیکھنے کا مشورہ دیا۔ اس کتاب میں مولانا خرم علی بلہوری رحمۃ اللہ علیہ کے تذکرہ میں رسالہ ترغیبُ الجہاد کا ذکر کیا گیا ہے۔ یہ قلمی تحریر مولانا عبدالخالق قدوسی شہید کی ملکیت تھی۔ قادری مرحوم نے ایک اور مخطوطہ کا مطالعہ بھی کیا جو رضا لائبریری، رام پور میں موجود ہے۔
مشفق خواجہ صاحب نے اپنی کتاب جائزہ مخطوطات اردو میں مزید دو نسخوں کی نشاندہی فرمائی ہے۔ ایک صولت پبلک لائبریری، رام پور میں ہے۔ دوسرا کراچی میں قاضی فضل عظیم کے پاس ہے۔ قادری مرحوم نے قدوسی نسخے اور مشفق خواجہ صاحب نے قاضی فضل عظیم کے نسخے سے اقتباسات بھی درج کئے ہیں۔
میرا ملکیتی مخطوطہ 23*15 سائز کے تیرہ ورق/چوبیس صفحات پر مشتمل ہے۔ ہر صفحہ پر اوسطا تیرہ سطریں ہیں۔ کاغذ دبیز اور مٹیالا ہے۔ خط اچھا اور حالت بہترین ہے۔ قدیم طرزِ تحریر میں لکھا ہوا ہے۔ معروف اور مجہول 'یے' میں امتیاز نہیں کیا گیا۔ دو چشمی "ے" اور کہنی دار "ہے" میں بھی کوئی فرق نہیں، گاف پر ایک ہی مرکز ڈالا گیا ہے اور لفظوں کو جوڑ کر لکھا گیا ہے۔ پونے دو سو سال پرانے طرزِ تحریر میں لکھے ہوئے اس مخطوطے کو پڑھنے میں دِقت محسوس ہوتی ہے لیکن مفہوم آسانی سے سمجھ میں آ جاتا ہے کیونکہ ہندی کا کوئی لفظ استعمال نہیں کیا گیا اور تعجب یہ کہ ایسا کوئی لفظ بھی مطالعہ میں نہیں آیا جو موجودہ زمانے میں متروک ہو چکا ہو۔
میں نے نقل تیار کرتے وقت معمولی سا تصرف یہ کیا ہے کہ عبارت کو جدید طرزِ تحریر میں تبدیل کر دیا ہے۔ ایوب قادری مرحوم اور مشفق خواجہ صاحب نے جو اقتباسات درج فرمائے ہیں، ان میں اور میرے زیرمطالعہ نسخہ کی عبارت میں چند مقامات پر اختلاف ہے، اسے بیان کر دیتا ہوں:
قدوسی مخطوطے کی عبارت ہے کہ "حضرت سید صاحب صرف اسلام کی حفاظت کے واسطے تھوڑے مسلمانوں کو لے کر "جبکہ اس رسالہ میں آپ پڑھیں گے کہ "حضرت سید صاحب صرف اسلام کی حمایت کے واسطے نہ ملک و مال کی طمع سے، اللہ پر بھروسہ کر کے چند مسلمانوں کے ساتھ کابل اور قندھار و پشاور کی طرف گئے"
قاضی فضل عظیم اور قدوسی رسالہ پانچ ابواب پر مشتمل ہے۔ شائع ہونے والے مخطوطہ کے چھ باب اور ایک فصل (خاتمہ) ہے۔قاضی اور قدوسی رسالہ کی اختتامی عبارت میں کوئی خاص فرق نہیں جو اس طرح ہے۔ "ہر چند جہاد کا حال مختصر بیان ہو چکا تا آخر" دیکھئے ایوب قادری مرحوم کی کتاب "اردو نثر کے ارتقا میں علماء کا حصہ" صفحہ 153،154 مشفق خواجہ کی کتاب "جائزہ مخطوطات" (اردو) صفحہ 142 تا 146
اس رسالہ میں آپ پڑھیں گے کہ "اے مسلمانو! جب تم نے ترغیبِ جہاد کے ثواب سنے تا آخر"
قاضی فضل عظیم کی تحویل میں جو مخطوطہ ہے، اس پر بھی کاتب کا نام نہیں لیکن مشفق خواجہ صاحب نے خط کی مدد سے قاضی محمد حسن رضا کا نام متعین کیا ہے جو مصنف کے رشتہ دار تھے۔
مصنفِ رسالہ کے مختصر سوانح
مشفق خواجہ صاحب کی کتاب جائزہ مخطوطاتِ اردو، مولانا غلام رسول مہر کی کتاب جماعت مجاہدین، محمد ایوب قادری کی کتاب اردو نثر کے ارتقاء میں علماء کا حصہ، مولوی رحمٰن علی کی کتاب تذکرہ علمائے ہند ترجمہ محمد ایوب قادری اور ابویحییٰ امام خان نوشہروی کی کتاب تراجم علمائے حدیث ہند کی مدد سے رسالہ ترغيب الجهاد کے عالی قدر مصنف مولوی خرم علی بلہوری کی سوانح حیات کا مختصر خاکہ لکھنے پر اکتفا کروں گا:
مولوی خرم علی بلہوری مضافات کانپور میں پیدا ہوئے۔ امام نوشہروی نے لکھا ہے کہ بلہور لکھنؤ کے نواح میں ہے۔ پہلے مقلد تھے، منع قراۃ فاتحہ خلف الامام پر رسالہ لکھا، جب شاہ اسمعیل شہید کی مصابحت نصیب ہوئی تو اتباع سنت کا رنگ چڑھ آیا اور سید احمد شہید کے خلفاء کے مرتبہ پر فائز ہوئے۔ اساتذہ میں مولانا مرزا احسن علی صغیر محدث لکھنؤی اور مولانا نور لکھنؤی کے نام قابل ذکر ہیں۔ دہلی میں شاہ عبدالعزیز محدث دہلوی کے حلقہ درس میں شامل ہو کر حدیث کی سند لی۔ ایک سو مجاہدین کا دستہ لے کر سرحد پہنچے۔ سید شہید نے انہیں واپس بھیج دیا تاکہ ہندوستان میں دعوت و تبلیغ کا کام جاری رہے۔ ان کا انتقال 1273ھ (1856ء) کو قصبہ آسیون میں ہوا اور وہیں دفن ہوئے۔ صرف امام خان نوشہروی نے سن وفات 1260ھ لکھا ہے۔ شاعر بھی تھے۔ مشہور نظم 'جہادیہ' لکھی جس کی طباعت پر انگریزوں نے پابندی لگا دی تھی۔ (علی ارشد)
ترغیبُ الجھاد

اس قادرِ مطلق کے لئے بے شمار حمد جو پربت کو رائی کرے اور رائی کو پربت کرے۔ جو مچھر سے نمرود کو مروا ڈالے اور جس کی مدد سے موسیٰ فرعون ایسے ظالم بادشاہ کو ملک مصر سے نکالے، جس قوم کو چاہے ملک کا مالک بنا دے اور پھر جب چاہے تو ایک پل میں مٹا دے اور تحفہ درود اُن کے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر جنہوں نے پہلے کافروں کو نرمی سے سمجھایا۔ جب نہ سمجھے، تب جہاد کیا اور ان کی آل اور اصحاب پر، جنہوں نے تلوار کے زور سے عرب سے عجم تک کو اسلام سے آباد کیا۔
اب ہندوستان میں کفر کا بہت غلبہ ہو گیا ہے۔ سکھ قوم لاہور وغیرہ میں مدت سے حاکم ہیں اور بہت ظلم کرتی ہیں۔ ہزاروں مسلمانوں کے ناحق خون کر ڈالے اور ہزاروں کو بےعزت کیا، اذان کہنا، گائے ذبح کرنا بالکل موقوف کر دیا۔ جب ان کا ظلم حد سے گزرا تو حضرت سید احمد صاحب صرف اسلام کی حمائت کے واسطے نہ ملک، مال کی طمع سے، اللہ پر بھروسہ کر کے چند مسلمانوں کے ساتھ کابل اور قندھار و پشاور کی طرف گئے اور اس طرف مسلمانوں کو غفلت سے جگایا اور ہمت دلائی، بارے ہزاروں مسلمان اللہ کی راہ میں مستعد ہوئے جبکہ 20 جمادی الاولیٰ 1242ھ (1826ء) سے کفار سکھ سے جہاد شروع ہو گیا ہے۔
حضرت سید صاحب کی خوش نیتی سے حق تعالیٰ نے چار بار لشکرِ اسلام کو پے درپے فتح دی اور کافروں کو شکستِ فاش ہوئی۔ لیکن پھر بھی مسلمان تھوڑے ہیں، نہ ان کے پاس ملک، نہ مال اور کافر صاحبِ ملک و مال، جس کی فوج ہی تین لاکھ سوار اور پیادہ۔ اب مسلمانوں پر فرض ہے کہ جلد لشکرِ اسلام میں ملیں، شریک ہوں۔ لیکن ہندوستان کے اکثر مسلمان جہاد کے مضمون سے خبردار نہیں کہ جہاد کس کو کہتے ہیں اور یہ ہم پر فرض ہے یا نہیں؟ جہاد کا کتان ثواب ہے اور اس میں نہ جانا کتنا عذاب؟ تو اس واسطے اس خیرخواہِ اسلام کے دل میں آیا کہ قرآن مجید اور حدیث شریف سے تھوڑا جہاد کا حال لکھوں اور اس کا ترجمہ ہندی زبان میں کروں تاکہ سب مسلمان اس کو سمجھیں اور جہاد کے لیے مستعد ہو جائیں۔ الحمدللہ میرا اِرادہ پورا ہوا اور یہ رسالہ ترغیبُ الجہاد چند روز میں تیار ہو گیا۔ حق تعالیٰ سے امید ہے کہ اس رسالے کو اپنی رحمت سے مقبل کرے اور مسلمان اس کو پڑھ کر گھر بار کی محبت کو چھوڑ کر اللہ کی راہ میں تیار ہو جائیں۔ آمین یا رب العالمین!
پہلا باب ۔۔ جہاد کی فرضیت
کافروں کو مستعد ہو کر دین اسلام سکھانا، جب نہ مانیں تو ان سے جان و مال سے لڑنا، اس کو شریعت میں جہاد کہتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں:
﴿كُتِبَ عَلَيْكُمُ الْقِتَالُ وَهُوَ كُرْهٌ لَّكُمْ ۖ وَعَسَىٰ أَن تَكْرَهُوا شَيْئًا وَهُوَ خَيْرٌ لَّكُمْ ۖ وَعَسَىٰ أَن تُحِبُّوا شَيْئًا وَهُوَ شَرٌّ لَّكُمْ ۗ وَاللَّـهُ يَعْلَمُ وَأَنتُمْ لَا تَعْلَمُونَ ﴿٢١٦﴾...البقرة
"اے مسلمانو! تم پر کافروں سے لڑنا فرض کیا گیا ہے اور وہ تمہارے نفس کو برا لگتا ہے اور بہتیری چیزوں کو برا کہتے ہو حالانکہ وہ تمہارے حق میں بہتر ہیں اور بہتیری چیزوں کو تم اچھا سمجھتے ہو حالانکہ وہ تمہارے حق میں بد ہیں اور اللہ خوب جانتا ہے اور تم نہیں جانتے۔"
یعنی جہاد کرنا تمہارے حق میں بہت بہتر ہے کہ سب دوسرے دین والوں پر غلبہ ہو لیکن تمہارے نفس کو بہ سبب تکلیفِ جان و مال برا لگتا ہے، جیسے بیمار کو کڑوے علاج برے لگتے ہیں مگر جب کڑوی دوا کھا لی جائے تو اچھا ہو جاتا ہے اور اللہ کی راہ میں نہ جانا تم کو اچھا لگتا ہے، جیسے ہیضہ کے مریض کو کھانا پینا اچھا لگتا ہے مگر اس کے حق میں کھانا پینا برا ہے۔ آخر کار اللہ ہر چیز کو خوب جانتا ہے، تم کیا جانو؟ تو جب آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے دور میں جہاد فرض ہوا تو حق تعالیٰ نے جہاد کا ثواب بیان فرمایا اور بہشت کا وعدہ کیا اور سب اہل ایمان دنیا سے جھک گئے اور جان و مال سے جہاد کے لئے مستعد ہو گئے۔ اس آیت سے صاف معلوم ہوا کہ مسلمانوں کو جہاد کرنا فرض ہے، مشقت کے خیال سے اس میں سستی کرنا بہتر نہیں۔
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: الجهاد واجب عليكم مع كل أمير برا كان أو فاجرا والصلاة واجبة عليكم خلف كل مسلم برا كان أو فاجرا وإن عمل الكبائر
"تم پر ہر مسلمان سردار کے ساتھ جہاد واجب ہے وہ نیک ہوں یا بدکار۔" (سنن ابوداود، کتاب الجہاد)
یعنی جیسے ہر مسلمان کا نماز پڑھنا درست ہے خواہ امام متقی ہو خواہ فاسق، اسی طرح جہاد کرنا فرض ہے، مسلمان سردار کے ساتھ ضروری ہے۔ سردار کا معصوم ہونا کچھ ضروری نہیں جیسے شیعہ کہتے ہیں۔ ایسے سبب مدام دولتِ جہاں سے محروم ہیں۔ اس حدیث سے یہ بھی معلوم ہوا کہ سردار کے بغیر مثل بلوائی اور ہلڑ کے جہاد درست نہیں۔ مسلمانوں سے اولا، ایک شخص کو اپنا امام اور سردار بنا لینا چاہئے۔
قال النبى صلى الله عليه وسلم الجهاد ماض منذ بعثني الله إلى أن يقاتل آخر أمتي الدجال
"رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جہاد ہمیشہ جاری رہے گا جب سے مجھے اللہ نے پیغمبر بنایا ہے یہاں تک کہ میری پچھلی اُمت دجال سے لڑے گی"
بعض جاہل یوں کہتے ہیں کہ جہاد پیغمبر اور ان کے صحابیوں کے بعد ختم ہو گیا۔ اب جہاد کا زمانہ نہیں۔ اس حدیث سے معلوم ہوا کہ یہ بات غلط ہے بلکہ جہاد امتِ محمدی صلی اللہ علیہ وسلم تک جاری رہے گا اور کسی کے مٹانے سے نہیں مٹے گا۔
دوسرا باب ۔۔ جہاد کے لئے نہ جانے کا وَبال
﴿قُلْ إِن كَانَ آبَاؤُكُمْ وَأَبْنَاؤُكُمْ وَإِخْوَانُكُمْ وَأَزْوَاجُكُمْ وَعَشِيرَتُكُمْ وَأَمْوَالٌ اقْتَرَفْتُمُوهَا وَتِجَارَةٌ تَخْشَوْنَ كَسَادَهَا وَمَسَاكِنُ تَرْضَوْنَهَا أَحَبَّ إِلَيْكُم مِّنَ اللَّـهِ وَرَسُولِهِ وَجِهَادٍ فِي سَبِيلِهِ فَتَرَبَّصُوا حَتَّىٰ يَأْتِيَ اللَّـهُ بِأَمْرِهِ ۗ وَاللَّـهُ لَا يَهْدِي الْقَوْمَ الْفَاسِقِينَ ﴿٢٤﴾...التوبة
اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں: "اے محمد صلی اللہ علیہ وسلم! آپ کہہ دیں کہ اگر تمہارے باپ اور بیٹے اور بھائی اور بیویاں اور برادری اور مال جو کمائے ہیں اور سوداگری جس کے بند ہونے سے ڈرتے ہو اور حویلیاں جو پسند رکھتے ہو، تمہیں اللہ سے اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے اور اس کی راہ میں لڑنے سے زیادہ پیاری ہیں، تو انتظار کرو کہ اللہ کا اپنا فیصلہ آن پہنچے اور اللہ بے حکم لوگوں کو راہ نہیں دیتا"
اس آیت سے صاف معلوم ہوا کہ جو لوگ ماں، باپ، بیوی، لڑکی، مال، کاروبار اور مکانوں کی محبت میں پڑے ہیں اور جہاد میں شریک نہ ہوں گے ان کو عذابِ الہیٰ (قحط اور بیماری وبا وغیرہ) ضرور ہو گا اور وہی لوگ فاسق اور ہدایتِ الہیٰ سے بے نصیب ہیں۔ ایک اور مقام پر اللہ فرماتا ہے: (التوبہ: 38)
﴿يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا مَا لَكُمْ إِذَا قِيلَ لَكُمُ انفِرُوا فِي سَبِيلِ اللَّـهِ اثَّاقَلْتُمْ إِلَى الْأَرْضِ ۚ أَرَضِيتُم بِالْحَيَاةِ الدُّنْيَا مِنَ الْآخِرَةِ ۚ فَمَا مَتَاعُ الْحَيَاةِ الدُّنْيَا فِي الْآخِرَةِ إِلَّا قَلِيلٌ ﴿٣٨﴾...التوبة
"ایمان والو! تمہیں کیا ہوا ہے جب کہے اللہ کی راہ میں کوچ کرو تو زمین پر ڈھے جاتے ہو کیا آخرت چھوڑ کر دنیا کی زندگی پر ریجھے، آخرت کے حساب سے دنیا کا جینا کچھ نہیں مگر تھوڑا"
کچھ نہیں دنیا کے مزے جیسے یہاں مٹی کا کھیل، جس کی کچھ حقیقت اور پائیداری نہیں سو اس چند روزہ دنیا پر ریجھنا اور آخرت کو جس کو کبھی فنا نہیں چھوڑنا، نادانوں کا کام ہے۔
﴿إِلَّا تَنفِرُوا يُعَذِّبْكُمْ عَذَابًا أَلِيمًا وَيَسْتَبْدِلْ قَوْمًا غَيْرَكُمْ وَلَا تَضُرُّوهُ شَيْئًا ۗ وَاللَّـهُ عَلَىٰ كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ ﴿٣٩﴾...التوبة
اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ "اگر جہاد میں نہ نکلو گے تو تم کو دکھ والا عذاب کرے گا اور بدل لائے گا تمہارے سوا اور لوگ اور تم اس کا کچھ نہ بگاڑو گے، اللہ ہر چیز پر قادر ہے"
پھر اگر تم جہاد میں نہ جاؤ گے، سستی کرو گے تو اور لوگوں سے اپنے دین کو غالب کرے گا اور تم اپنی سستی کی وجہ سے سخت عذاب میں پرو گے۔
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک بار آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک عرب قبیلہ کو جہاد کی دعوت دی۔ ان لوگوں نے جہاد پر جانا قبول نہ کیا، اس برس اللہ تعالیٰ نے ان پر پانی نہ برسایا۔ اس لئے ان پر قحط پڑا
﴿فَرِحَ الْمُخَلَّفُونَ بِمَقْعَدِهِمْ خِلَافَ رَسُولِ اللَّـهِ وَكَرِهُوا أَن يُجَاهِدُوا بِأَمْوَالِهِمْ وَأَنفُسِهِمْ فِي سَبِيلِ اللَّـهِ وَقَالُوا لَا تَنفِرُوا فِي الْحَرِّ ۗ قُلْ نَارُ جَهَنَّمَ أَشَدُّ حَرًّا ۚ لَّوْ كَانُوا يَفْقَهُونَ ﴿٨١﴾...التوبة
اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ "خوش ہیں پیچھے رہنے والے، بےشبہ رہ کہ خلاف رسول اور اللہ کے اور برا لگا کہ اللہ کی راہ میں اپنے مال اور جان سے لڑیں، اور بولے منافقوں اور ناسمجھوں کا کام ہے اور کہنے لگے کہ اس گرمی میں (جہاد کو) نہ نکلنا۔ کہہ دیجئے کہ جہنم کی آگ اس سے شدید گرم ہے کاش کہ یہ سمجھتے ہوتے۔" (سورہ توبہ: 81)
سچے مسلمانوں کا یہ طریق نہیں، اس واسطے کہ سچے مسلمان تو جب آتش دوزخ کی گرمی اور عذاب کا دھیان کرتے ہیں تو جہاد کی راہ کی سب تکلیفیں بھول جاتے ہیں اور سب مشکلیں آسان ہو جاتی ہیں۔ اللہ کی راہ میں نہ کچھ گرمی، سردی ان کو روکے، نہ برسات قدم ہٹائے۔ ہر چند یہ آیتیں حضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے وقت میں اُن لوگوں پر اتری تھیں لیکن جہاد تو قیامت تک جاری ہے۔ پھر جو ان کی طرح جہاد میں سستی کرے گا وہ بھی انہیں میں گنا جائے گا ۔۔ مطلب کام سے، نہ کہ نام سے!!
حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: "پچھلے زمانہ میں قوم ہو گی، جہاد کو کچھ نہ سمجھیں گے اور رب نے یہ ٹھانا کہ جو بندہ اس کو ملے گا ایسی سمجھ والا تو اس کو ایسے ماروں گا کہ ویسے سخت مار تمام عالم میں کسی کو نہیں" (ابن عساکر)
اس حدیث سے معلوم ہوا کہ جہاد کا انکار کرنا اور جہاد کرنے والوں پر ہنسنا جیسے کہ اس زمانہ میں بعض ہندی بھی کرتے ہیں، نہایت برا ہے کیونکہ جہاد غلبہ دین کا سبب ہے۔ جو اس پر ہنسا وہ معاذاللہ دین محمدی صلی اللہ علیہ وسلم کا منکر ہوا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ما ترك قوم الجهاد فى سبيل الله الا سلط الله عليهم ذلا لا ينزعه حتى يرجعوا دينهم
"لوگ اللہ کی راہ میں لڑنا چھوڑیں گے تب اللہ ان کو ذلیل کرے گا۔ اور یہ ذلت ان سے اس وقت تک دور نہ ہو گی جب تک وہ اپنے دین میں نہ لوٹیں"
حضرت نے سچ فرمایا کہ جب جس نے جہاد چھوڑا، وہی ذلیل اور بے قدر ہوئے جیسے ہندوستانی لوگ کہ نااتفاقی اور عیش و آرام کے سبب ذلیل اور ناخیر (بے فائدہ) ہو رہے ہیں۔
تیسرا باب ۔۔ جہاد کی خوبی اور ثواب
﴿وَمَن يُقَاتِلْ فِي سَبِيلِ اللَّـهِ فَيُقْتَلْ أَوْ يَغْلِبْ فَسَوْفَ نُؤْتِيهِ أَجْرًا عَظِيمًا ﴿٧٤﴾...النساء
اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ "جو لڑے گا اللہ کی راہ میں، پھر مارا جائے یا غالب ہو تو ہم جلد اس کو دیں گے بڑا ثواب" (النساء: 74)
﴿الَّذِينَ آمَنُوا وَهَاجَرُوا وَجَاهَدُوا فِي سَبِيلِ اللَّـهِ بِأَمْوَالِهِمْ وَأَنفُسِهِمْ أَعْظَمُ دَرَجَةً عِندَ اللَّـهِ ۚ وَأُولَـٰئِكَ هُمُ الْفَائِزُونَ ﴿٢٠﴾يُبَشِّرُهُمْ رَبُّهُم بِرَحْمَةٍ مِّنْهُ وَرِضْوَانٍ وَجَنَّاتٍ لَّهُمْ فِيهَا نَعِيمٌ مُّقِيمٌ ﴿٢١﴾...التوبة
اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ "جو لوگ ایمان لائے اور گھر چھوڑ آئے اور اللہ کی راہ میں اپنے مال و جان سے لڑے، اللہ کے پاس ان کا بڑا درجہ ہے اور وہ مراد کو پہنچے۔ ان کو ان کا رب اپنی طرف سے مہربانی اور رضامندی اور باغوں کی خوشخبری دیتا ہے جن میں ان کو ہمیشہ کا آرام ہو گا اور وہ ان میں ہمیشہ رہا کریں گے اور اللہ کے پاس تو بڑا ثواب ہے۔" (التوبہ: 20 تا 22)
یہ مرتبہ حق تعالیٰ نے حضرت کے اصحاب کو تین کاموں کے بدلے دیا: ایمان لانے پر اور خدا کی راہ میں ہجرت کرنے سے اور جہاد کرنے پر، اب جو کوئی ان کے سے کام کرے گا اور ہجرت کر کے جہاد میں شریک ہو گا، اس پر بھی اللہ کی وہی رحمت ہو گی۔ سبحان اللہ، جان بھی اسی کی اور مال بھی لیکن جو اپنی خوشی سے اس کی راہ میں جان اور مال حاضر کرتا ہے تو اس پر اللہ اپنے کیا کیا کرم کرتا ہے۔ اب ایسے قدردان مالک کو پا کر، گھر بار کی محبت میں پڑا رہے اور اس کی راہ میں سستی کرے تو وہ بڑا نادان ہے اور نہایت بے نصیب!
﴿انفِرُوا خِفَافًا وَثِقَالًا وَجَاهِدُوا بِأَمْوَالِكُمْ وَأَنفُسِكُمْ فِي سَبِيلِ اللَّـهِ ۚ ذَٰلِكُمْ خَيْرٌ لَّكُمْ إِن كُنتُمْ تَعْلَمُونَ ﴿٤١﴾ ...التوبة
"اے مسلمانو! نکلو ہلکے ہو اور بوجھل، اور اس کی راہ میں اپنے مال اور جان سے لڑو"
یعنی اہل عیال کی طرف سے ہلکے ہو یا بوجھل، سواری ملے یا نہ ملے، ہتھیار ہوں یا نہ ہوں، جوان ہو یا بوڑھے، دبلے ہو یا موٹے۔ غرض کہ تم کو آسان ہو یا مشکل، جہاد ضرور کرنا ہے۔ حضرت سعید بن مسیب رضی اللہ عنہ بیمار تھے۔ جب وہ جہاد کو چلے تو لوگوں نے کہا کہ یا حضرت! تم بیمار ہو اور معذور، جہاد میں تمہارا جانا ضروری نہیں۔ فرمایا کہ قرآن میں ہلکے یا بوجھل کو جہاد کا حکم ہے اگر مجھ سے لڑائی نہ ہو سکی تو میں لوگوں کے اسباب کی رکھوالی کروں گا اور مسلمانوں کی جماعت بڑھے گی۔ اگر مسلمان ہزار ہیں تو ہزار اور ایک ہو جائیں گے ۔۔ تفسیر نیشاپوری میں یوں روایت ہے کہ ایک ضعیف، جس کی پلکیں بڑھاپے کے باعث لٹک پڑی تھیں، وہ جہاد کو جانے لگا۔ کسی نے کہا کہ تم نہایت ضعیف ہو تم پر جہاد لازم نہیں، بولے کہ اللہ نے ہلکے اور بوجھل سب کو جہاد کا حکم کیا ہے، سبحان اللہ! اسلام اس کا نام اور مسلمان اس کو کہتے ہیں
﴿إِنَّ اللَّـهَ اشْتَرَىٰ مِنَ الْمُؤْمِنِينَ أَنفُسَهُمْ وَأَمْوَالَهُم بِأَنَّ لَهُمُ الْجَنَّةَ ۚ يُقَاتِلُونَ فِي سَبِيلِ اللَّـهِ فَيَقْتُلُونَ وَيُقْتَلُونَ ۖ وَعْدًا عَلَيْهِ حَقًّا فِي التَّوْرَاةِ وَالْإِنجِيلِ وَالْقُرْآنِ ۚ وَمَنْ أَوْفَىٰ بِعَهْدِهِ مِنَ اللَّـهِ ۚ فَاسْتَبْشِرُوا بِبَيْعِكُمُ الَّذِي بَايَعْتُم بِهِ ۚ وَذَٰلِكَ هُوَ الْفَوْزُ الْعَظِيمُ ﴿١١١﴾...التوبة
اللہ تعالیٰ نے فرمایا "اللہ مسلمانوں سے ان کی جان اور مال کو اس قیمت پر مول لے چکا کہ ان کے لئے بہشت ہے، اللہ کی راہ میں لڑتے ہیں، پھر مارتے ہیں اور مرتے ہیں۔ اس کے ذمہ کا تورات، انجیل اور قرآن میں وعدہ ہو چکا، اور کون اللہ سے زیادہ قول کا پورا ہے۔ سو خوشیاں کرو اس معاملے پر جو تم نے کیا ہے اور اس سے اور بھی بڑی مراد ملے۔" (سورہ توبہ: 111)
اس آیت سے معلوم ہوا کہ روزِ اول سے مسلمان اپنے جان اور مال کو بہشت کے بدلے بیچ چکا ہے اور معلوم ہے کہ جو جس چیز کو بیچے وہ اپنے اختیار سے نکل جاتی ہے۔ اب صاف معاملہ کی بات ہے کہ اپنے جان اور مال کو اللہ کی راہ میں بے حیلہ اور بلا تکرار حاضر کریں اور اپنی قیمت کو لیں، سبحان اللہ! عجیب قسمت اس جان اور مال کی، جس کا اللہ خریدار ہو اور جس کی قیمت بہشت ہے۔
﴿إِنَّمَا الْمُؤْمِنُونَ الَّذِينَ آمَنُوا بِاللَّـهِ وَرَسُولِهِ ثُمَّ لَمْ يَرْتَابُوا وَجَاهَدُوا بِأَمْوَالِهِمْ وَأَنفُسِهِمْ فِي سَبِيلِ اللَّـهِ ۚ أُولَـٰئِكَ هُمُ الصَّادِقُونَ ﴿١٥﴾...الحجرات
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے "مؤمن وہ ہیں جو اللہ پر اور رسول پر یقین لائے، پھر شک میں نہ پڑے اور اللہ کی راہ میں اپنے مالوں سے اور جانوں سے لڑے، وہی لوگ سچے ہیں۔"
اس آیت سے معلوم ہوا کہ جو لوگ جہاد میں اپنے جان اور مال سے سستی کریں، وہ سچے مؤمن نہیں، بلکہ زبانی کلامی کے مسلمان ہیں!!
اي اعمال افضل قال الايمان بالله قال ثم ماذا قال الجهاد قال ثم ماذا قال حج مبرور (صحیح مسلم، کتاب الایمان)
پیغمبر سے پوچھا گیا کہ یا حضرت! سب کاموں میں سے کون سا افضل ہے؟ حضرت نے فرمایا کہ "سب سے بہتر اکیلے اللہ پر ایمان لانا، اس کے بعد جہاد کرنا، اس کے بعد حجِ مقبول کرنا ہے۔"
معلوم ہوا کہ ایمان کے بعد جہاد ہی سب کاموں سے بہتر بلکہ حج سے بھی افضل ہے۔
عن أبي هريرة قال مر رجل من أصحاب رسول الله صلى الله عليه وسلم بشعب فيه عيينة من ماء عذبة فأعجبته لطيبها فقال لو اعتزلت الناس فأقمت في هذا الشعب ولن أفعل حتى أستأذن رسول الله صلى الله عليه وسلم فذكر ذلك لرسول الله صلى الله عليه وسلم فقال لا تفعل فإن مقام أحدكم في سبيل الله أفضل من صلاته في بيته سبعين عاما ألا تحبون أن يغفر الله لكم ويدخلكم الجنة اغزو في سبيل الله من قاتل في سبيل الله فواق ناقة وجبت له الجنة
"ایک پیغمبر کا یار پہاڑ کی گھاٹی میں نکلا جس میں میٹھے پانی کا ایک چشمہ تھا، اسے یہ مقام پسند آیا اور اس نے کہا کہ کاش میں سب آدمیوں کو چھوڑ کر، خدا کی بندگی کے لئے یہاں قیام کر لوں۔ مگر میں یہ کرنے کا نہیں جب تک حضرت حکم نہ دیں گے، پھر اس نے پیغمبر خدا سے یہ ذکر کیا، حضرت نے فرمایا: "ایسا نہ کر! بےشک اللہ کی راہ میں کھڑا ہونا یعنی جہاد کرنا، گھر میں ستر برس کی نماز پڑھنے سے بہتر ہے۔ کیا تم نہیں چاہتے کہ اللہ تم کو بخش دے اور بہشت میں لے جائے۔ لڑا کر، اللہ کی راہ میں جو لحظہ بھر لڑا تو اس کو بہشت واجب ہو گئی۔"
اس حدیث سے کئی کام کی باتیں معلوم ہوئیں: اول جو عابد، زاہد جنگل یا بستی میں گوشہ یا چلہ کئے ہوئے ہیں، ان کو لازمی ہے کہ جب کافروں سے لڑائی شروع ہو تو گوشہ/چلہ چھوڑ کر جہاد میں شامل ہو جائیں، اس واسطے کہ گوشہ گری اور عبادت کرنا صرف اللہ کی رضا مندی اور ثواب کے واسطے ہے اور حضرت صاحب نے فرمایا ہے کہ "جہاد میں کھڑا ہونا ستر برس کی نماز سے بہتر ہے۔" دوسری بات یہ کہ جہاد سے گناہ معاف ہو جاتے ہیں، تیسری یہ کہ جو ایک لحظہ بھر لڑا، وہ ضرور بہشتی واجب ہو گیا۔
حدیث میں ایک واقعہ یوں ذکر ہوا ہے کہ "ایک شخص بڑا مالدار تھا، حضرت کے پاس آیا اور کہنے لگا کہ اے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم! مجھے وہ کام بتلائیے جس سے مجھے مجاہدوں کے برابر ثواب ملے۔ حضرت نے فرمایا: تیرے پاس کتنا مال ہے؟ اس نے کہا: چار ہزار اشرفیاں، حضرت نے فرمایا: اگر تو سب خدا کی راہ میں دے تو بھی مجاہدوں کی خوبی کی گرد کے برابر نہ پہنچے۔ اور ایک دوسرا آیا تو اس نے کہا کہ اے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم! مجھ کو وہ کام بتلائیے جس کے سبب سے مجھے مجاہدوں کے برابر ثواب ملے، تو حضرت نے فرمایا کہ اگر تو رات بھر کھڑا ہو کر نماز پڑھا کرے اور دن بھر روزہ رکھے تو بھی ان کی نیند اور سونے کے برابر نہ سمجھا جائے" (سنن سعید بن منصور)
سبحان اللہ! جب مجاہدوں کی جوتی کی گرد اور نیند کا یہ رتبہ ہے کہ چار ہزار اشرفیاں خرچ کرنے سے اور رات بھر نماز پڑھنے اور دن بھر کے روزہ سے بہتر ہے تو ایک لڑائی پر عبادت کا ثواب خدا ہی جانے کہ کیا ہو گا۔ اس حدیث سے معلوم ہوا کہ کوئی مالی یا بدنی عبادت ہرگز جہاد کے برابر نہیں۔
قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّه عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّ أَبْوَابَ الْجَنَّةِ تَحْتَ ظِلَالِ السُّيُوفِ
حضرت نے فرمایا: "بلاشبہ بہشت کے دروازے تلواروں کے سائے تلے ہیں۔"
قَالَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَنْ اغْبَرَّتْ قَدَمَاهُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ حَرَّمَهُ اللَّهُ عَلَى النَّارِ
آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ "جس کے دونوں پیر اللہ کی راہ میں گرد سے بھرے تو اس پر اللہ نے دوزخ حرام کر دی" (صحیح بخاری)
یعنی جس کے پیروں پر جہاد کی خاک پڑی اگرچہ وہ زخمی اور شہید نہ ہوا ہو تو بھی اس پر دوزخ کی آنچ حرام ہو گئی اور مسند احمد میں روایت ہے کہ حضرت نے فرمایا ہے کہ
"راہِ خدا میں جس کے زخم لگے گا، حق تعالیٰ قیامت کو اسے شہیدوں پر مہر کرے گا، پھر اس پر زعفران کے مثل نور ہو گا، اور مشک کے مانند اس کی خوشبو ہو گی۔ اس زخمی کو اس مہر سے دوسرے لوگ پہچان لیں گے۔ کہیں گے: دیکھوں فلاں شخص پر شہیدوں کی مہر ہے۔"
قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّه عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَكَفَّلَ اللَّهُ لِمَنْ جَاهَدَ فِي سَبِيلِهِ لَا يُخْرِجُهُ مِنْ بَيْتِهِ إِلَّا جِهَادٌ فِي سَبِيلِهِ وَتَصْدِيقُ كَلِمَتِهِ بِأَنْ يُدْخِلَهُ الْجَنَّةَ
آنحضرت نے فرمایا: "اللہ اس شخص کو جنت میں داخلے کی ضمانت دیتا ہے جس نے اللہ کی راہ میں جہاد کیا اور اس کو گھر سے جہاد فی سبیل اللہ اور تصدیق کلمۃ اللہ کے سوا کسی امر نے نہیں نکالا ۔۔"
مسلمانوں کا جہاد میں کسی طرح کا نقصان نہیں، اگر مارے گئے تو بہشت ہے اگر جیتے رہے تو ثواب اور مال ہے۔
چوتھا باب ۔۔ شہادت کے ثواب اور شہیدوں کا مرتبہ
﴿وَلَا تَحْسَبَنَّ الَّذِينَ قُتِلُوا فِي سَبِيلِ اللَّـهِ أَمْوَاتًا ۚ بَلْ أَحْيَاءٌ عِندَ رَبِّهِمْ يُرْزَقُونَ ﴿١٦٩﴾ فَرِحِينَ بِمَا آتَاهُمُ اللَّـهُ مِن فَضْلِهِ وَيَسْتَبْشِرُونَ بِالَّذِينَ لَمْ يَلْحَقُوا بِهِم مِّنْ خَلْفِهِمْ أَلَّا خَوْفٌ عَلَيْهِمْ وَلَا هُمْ يَحْزَنُونَ ﴿١٧٠﴾  يَسْتَبْشِرُونَ بِنِعْمَةٍ مِّنَ اللَّـهِ وَفَضْلٍ وَأَنَّ اللَّـهَ لَا يُضِيعُ أَجْرَ الْمُؤْمِنِينَ ﴿١٧١﴾...آل عمران
"اور جو لوگ اللہ کی راہ میں مارے گئے انہیں تو مردہ نہ سمجھ، بلکہ وہ زندہ ہیں اپنے رب کے پاس روزی پاتے ہیں، خوشی کرتے ہیں اس پر جو دیا اللہ نے اپنے فضل سے، ان لوگوں کی طرف جو ابھی نہیں پہنچے اور پیچھے ہیں۔ اس واسطے کہ انہیں اس پر نہ کچھ در ہے اور نہ غم، خوش ہوتے ہیں اللہ کی نعمت سے اور فضل سے اور اس سے کہ اللہ ضائع نہیں کرتا مزدوری مؤمنوں کی"
سنن ابوداود میں روایت ہے کہ حضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابیوں سے فرمایا کہ
"جو تمہارے بھائی اللہ کی راہ میں شہید ہوئے، ان کی روحوں کو اللہ سبز چڑیوں کے پیٹ میں رکھے، وہ بہشت میں سیر کرتے ہیں اور اس کے میوے کھاتے، پیتے اور عرش کے نیچے سونے کی قندیلوں میں آرام کرتے ہیں۔ جب یہ رتبے انہوں نے پائے تو کہنے لگے: کوئی ہماری طرف سے ہمارے مسلمان بھائیوں کو پیغام پہنچا دے کہ ہم تو یہاں زندہ ہیں، بہشت میں چین کرتے ہیں تو وہ لوگ بھی دنیا کی محبت چھوڑ کر جہاد میں مستعد ہو جائیں اور سستی نہ کریں۔ تو اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ ہم تمہارا پیغام ان کے پاس پہنچا دیں گے، تب یہ آیت اتاری اور شہیدوں کا مرتبہ بیان فرمایا۔"
اس آیت سے معلوم ہوا کہ شہیدوں کا مرنا، ایک طرح کی زندگی ہے۔ اور مُردوں کے خلاف کھانا پینا اور بہشت کی خوشی اور عیش پورے ہیں اور لوگوں کو اگرچہ اولیاء ہوں قیامت کے بعد بہشت ملے گی
حضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ "قیامت میں لوگ حساب دینے کو کھڑے ہوں گے تو ان کا ایک گروہ کندھوں پر خون سے ٹپکتی تلواریں رکھے، بہشت کے دروازے پر ہجوم کریں گے۔ پوچھا جائے گا کہ یہ کون لوگ ہیں؟ تو کہا جائے گا کہ یہ شہید ہیں، اسی لئے زندہ تھے۔" (طبرانی)
اس حدیث سے معلوم ہوا کہ شہیدوں پر حساب نہیں ہو گا۔ قیامت میں سب لوگ اپنے حال میں گرفتار ہوں گ جبکہ شہید بڑی شان سے بے خوف تلواریں لئے سیر کرتے پھریں گے۔
قال النبى صلى الله عليه وسلم يشفع الشهيد فى سبعين من بيته
حضرت نے فرمایا کہ "شہید اپنے گھر کے ستر افراد کو بخشوا دے گا۔"
اس حدیث سے معلوم ہوا کہ جو شخص جہاد کا ارادہ کرے، اس کے ماں، باپ، بیوی، لڑکوں کے حق میں بہتر ہے کہ اس کو نہ روکیں۔ اس لئے کہ اگر جیتا رہا تو پھر ان کے گھر میں رہا اور اگر شہید ہوا تو ان سب کو بخشوائے اور عذابِ دوزخ سے بچائے گا اور گھر میں پڑا رہا تو آخر ایک دن مر جائے گا، پھر یہ رتبہ اس کو اور ان کو کاہے کو ملے گا۔
قال النبى صلى الله عليه وسلم ان للشهيد عند الله ست خصال : يغفر له في أول دفعة , ويرى مقعده من الجنة , ويجار من عذاب القبر , ويأمن من الفزع الأكبر , ويوضع على رأسه تاج الوقار , الياقوتة منها خير من الدنيا وما فيها , ويزوج اثنتين وسبعين زوجة من الحور العين , ويشفع في سبعين من أقاربه
"شہید کو اول یہ کہ پہلی بات کئے ہوئے سب گناہ معاف ہو جاتے ہیں، دوسرے یہ کہ اپنا بہشت کا مکان دیکھ لیتا ہے، تیسرے یہ کہ عذابِ قبر سے پناہ میں ہوتا ہے، چوتھے یہ کہ قیامت کے بڑے خوف سے نڈر ہو گا اور اس کے سر پر عزت کی تاج رکھا جائے گا، جس کا ایک یاقوت دنیا بھر کی قیمت سے بہتر ہے۔ پانچویں یہ کہ اس کے نکاح میں بہتر حوریں بڑی آنکھوں والی ہوں گی، چھٹے یہ کہ اپنی برادری کے ستر آدمی بخشوا دے گا۔" (جامع ترمذی، کتاب فضائل الجہاد)
عن ابى هريرة ان رسول الله صلى الله عليه وسلم قال الشهيد لا يجد من القتال الا كما يجد احدكم القرصة يُقرصها
حضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ "شہید قتل ہونے کی کچھ تکلیف نہیں پاتا مگر جیسا کہ تم کو چیونٹی کاٹتی ہے" ۔۔ شہیدوں کے جو مرتبے بہشت میں ہیں سو بے شمار ہیں۔ یہ عجب اللہ کا احسان ہے کہ ان کو شہادت کے وقت بھی کچھ تکلیف نہیں ہو گی۔
پانچواں باب ۔۔ جہاد میں مال خرچنے کا ثواب
﴿وَلَا يُنفِقُونَ نَفَقَةً صَغِيرَةً وَلَا كَبِيرَةً وَلَا يَقْطَعُونَ وَادِيًا إِلَّا كُتِبَ لَهُمْ لِيَجْزِيَهُمُ اللَّـهُ أَحْسَنَ مَا كَانُوا يَعْمَلُونَ ﴿١٢١﴾...التوبة
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے "اور نہیں خرچ کرتے تھوڑا یا زیادہ اور نہیں گزرتے کوئی میدان مگر لکھا جاتا ہے، ان کے واسطے کہ بدلہ دے اللہ ان کو بہتر کاموں کا جو کرتے تھے"
یعنی جو کچھ مال جہاد میں خرچ ہوتا ہے تھوڑا یا بہت اور جس میدان میں کہ غازی لوگ چلتے ہیں ان سب کو فرشتے لکھ جاتے ہیں، حق تعالیٰ اس کا بہتر ثواب دے گا۔
﴿وَمَا لَكُمْ أَلَّا تُنفِقُوا فِي سَبِيلِ اللَّـهِ وَلِلَّـهِ مِيرَاثُ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ﴾...الحديد
"اور تم کو کیا ہوا ہے کہ اللہ کی راہ میں مال خرچ نہ کرو گے اور اللہ ہی کو زمین اور آسمان کی میراث ہے۔" (الحدید: 10)
یعنی حقیقت میں ہر چیز کا مالک اللہ ہے لیکن ظاہری طور پر تھوڑے دن کے لئے تم کو مالک مال کا بنایا ہے۔ اگر آج زندگی میں اپنی خوشی سے مال کو راہِ خدا میں نہ خرچو گے تو آخر ایک دن اس کو چھوڑ کر مر جاؤ گے، پھر یہی مال اللہ کا ہو گا، مگر افسوس کہ تم اس ثواب سے محروم رہے، جیسے خزانے کا سانپ!
أن النبي صلى الله عليه وسلم قال من لم يغز أو يجهز غازيا أو يخلف غازيا في أهله بخير أصابه الله بقارعة قبل يوم القيامة
حضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا "جو شخص نہ لڑا، نہ اس نے غازی کا سامان درست کیا اور غازی کے پیچھے نہ اس کے گھر کی اچھی طرح خبر لی تو اس پر اللہ تعالیٰ قیامت سے پہلے پہلے عذاب ڈالے گا"
مرنے کے بعد قیامت میں عذاب ہوتا ہے لیکن جہاد میں نہ جانا اور نہ غازی کا سامان کرنا اور نہ اس کے گھر کی خبر گیری کرنا ۔۔ یہ سخت گناہ ہے اور قیامت سے پہلے اس پر اللہ کا عذاب نازل ہو گا۔
قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّه عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَنْ أَرْسَلَ بِنَفَقَةٍ فِي سَبِيلِ اللَّهِ وَأَقَامَ فِي بَيْتِهِ فَلَهُ بِكُلِّ دِرْهَمٍ سَبْعُ مِائَةِ دِرْهَمٍ ، وَمَنْ غَزَا بِنَفْسِهِ فِي سَبِيلِ اللَّهِ وَأَنْفَقَ فِي وَجْهِ ذَلِكَ فَلَهُ بِكُلِّ دِرْهَمٍ سَبْعُ مِائَةِ أَلْفِ دِرْهَمٍ ، ثُمَّ تَلَا هَذِهِ الْآيَةَ وَاللَّهُ يُضَاعِفُ لِمَنْ يَشَاءُ
حضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ "جس نے اللہ کی راہ میں خرچ بھیجا اور اپنے گھر میں رہا تو اس کو ایک درہم کے بدلے سات سو درہم کا ثواب ملے گا اور جو خود اللہ کی راہ میں جا کر لڑا اور اپنے اوپر اس کو خرچ کیا تو اس کو ایک درہم کے بدلے سات ہزار درہم کا ثواب ملے گا۔ پھر حضرت نے اپنی بات کی تائید میں یہ آیت پڑھی کہ اللہ بڑھاتا ہے جس کے واسطے چاہے جہاد کے ثواب۔" (ابن ماجہ، جہاد)
اور نیک کاموں میں خرچ کرنے سے ایک کے دس ملیں اور جہاد میں خرچ کرنا سب کاموں سے افضل کہ ایک کے سات سو ہوتے ہیں۔ ایسا نفع کسی سوداگری میں نہیں! زہے قسمت اس مسلمان مال دار کی جو ایسے راہ میں مال خرچ کرے اور بڑا کم بخت اور بے نصیب ہے کہ جو اپنے پیغمبر کی یہ حدیث سنے اور مال دار ہونے کے باوجود اس کی راہ میں نہ خرچے۔ اور معلوم ہونا چاہئے کہ جہاد میں مال خرچنا کئی طرح سے ہوتا ہے یعنی اپنی ذات اور اپنے گھوڑے پر خرچ کرنا یا جو غازی جہاد کو جاتے ہیں، ان کو کپڑے بنا دینا، ہتھیار دینا، سواری دینا اور کچھ سامانِ سفر بنا دینا، راہ کا خرچ کچھ نقد حوالے کرنا، یہ سب کام فی سبیل اللہ ان سب کاموں میں ایک کے بدلے اللہ سات سو کا ثواب دیتا ہے۔
چھٹا باب ۔۔ غازیوں کی مدد اور خدمت گزاری
قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَنْ أَعَانَ مُجَاهِدًا فِي سَبيلِ اللَّهِ أَوْ غَارِمًا فِي عُسْرَتِهِ أَوْ مُكَاتَبًا فِي رَقَبَتِهِ أَظَلَّهُ اللَّهُ فِي ظِلِّهِ يَوْمَ لَا ظِلَّ إِلَّا ظِلُّهُ
حضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا "جو شخص جہاد کرنے والوں کا کام کرے، ۔۔۔ اسے اللہ اپنے سایہ میں رکھے گا، جس دن کوئی سایہ نہ ہو گا، سوائے خدا کے سایہ کے"
یعنی روزِ قیامت کوئی سایہ نہ ہو گا، آفتاب سر پر آ جائے گا، گرمی کی شدت کی وجہ سے سارے سروں کے بھیجے اُبلنے لگیں گے۔ ایسی سختی میں غازیوں کی خدمت کرنے والے، سایہ خدا میں ہوں گے اور کتاب شفاءُال صدور میں یہ حدیث ہے کہ حضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے یوں فرمایا کہ جو "غازیوں کو کھانا کھلائے گا، اللہ تعالیٰ اس کے واسطے اتنا بڑا دسترخوان بچھا دے گا کہ جس سے تمام جن اور آدمی آسودہ ہو جائیں گے اور جو غازیوں کو پانی پلائے گا، اس کو اللہ تعالیٰ بہیشت میں نہر دے گا، جس کا پاٹ مشرق اور مغرب کے برابر اور اس کے کناروں پر، سونے کے بنگلے، جن میں حوریں رہیں گی اور جو غازیوں کو خرچ دے گا اور اس کی میزبانی کرے گا، وہ ایسے گناہ سے پاک ہو گاجیسے ابھی ماں کے پیٹ سے پیدا ہوا ہے"
شفاءالصدور میں یہ بھی روایت ہے کہ حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ نے فرمایا "جو جہاد کے واسطے تلوار دے گا تو قیامت کے دن، اس کی زبان ہو گی اور وہ کہے گی کہ میں فلاں کی تلوار ہوں، ہمیشہ اس کے واسطے جہاد کرتی رہی۔ اور جو شخص راہِ خدا میں کپڑا دے گا تو اس کو بہشت کا کپڑا ملے گا"
اور حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے یوں روایت ہے کہ "میرے نزدیک حج کرنے سے جہاد میں ایک گھوڑا دینا افضل ہے"
اور حضرت کعب الاحبار رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ "جو چیز راہِ خدا میں دے، اسے کم نہ جانے کہ ایک شخص کو مجاہد کو سوئی دینے سے بہشت ملے"
اب مسلمانوں پر لازم ہے کہ جہاد والوں کی خدمت کریں، بڑا آدمی اپنی طاقت کے مطابق، غریب اپنی مقدور کے موافق، غرض کہ جس سے جو ہو سکے کرے کہ ان دونوں میں بہشت مفت ہاتھ لگتی ہے۔
خاتمہ ۔۔ جہاد کے رغبت دلانے کا ثواب
قال رسول الله صلى الله عليه وسلم يدخل الجنة والناس فى شدة الحساب من امرنا بالجهاد وحرض عليه (شفاء الصدور)
حضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ "وہ شخص پہلے بہشت میں داخل ہو گا، حالانکہ لوگ حساب کی شدت میں ہوں گے، جس نے لوگوں کو جہاد کرنے کا حکم دیا اور رغبت دلائی"
سبحان اللہ! جہاد کا کیا مرتبہ ہے جو اس کا لوگوں کا شوق دلائے گا اس کو بھی بلاحساب بہشت ملے گی۔
عن على قال من حرض اخاه على الجهاد كان مثل اجره وكان بكل خطوة فى ذلك عبادة سنة
حضرت علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ "جو اپنے مسلمان بھائی کو جہاد کا شوق دلائے گا، اس کو مجاہد کے برابر حصہ ملے گا اور جتنی دور جہاد کا شوق دلانے کے لئے سفر کرے گا تو ہر ہر قدم پر ایک ایک برس کی عبادت کا چواب پائے گا۔"
اے مسلمانو! جب تم نے ترغیبِ جہاد کے ثواب سنے تو جس کے پاس یہ رسالہ پہنچے، اس پر ضروری ہے کہ اس کو دیگر مسلمانوں کے سامنے پڑھے اور اچھی طرح اس کا مطلب بیان کرے اور اس کی بہت نقلیں تیار کر کے جا بجا شہر بشہر روانہ کرے اور اسے مشہور کرے۔ جتنے مسلمان اس کو سن کر جہاد پر مستعد اور تیار ہوں گے، ان کے برابر اللہ تعالیٰ بتلانے والے کو بھی ایسا ثواب عطا کرے گا، جس کی حد کی انتہا نہیں ۔۔ آمین یا رب العالمین!
دو ٹونک ساحل تالاب بعد قمر ۔۔ شہر ربیع الاول 1244 ہجری (1828ء)
(اگلے دو صفحات پر "تعقبات" کے عنوان سے فضیلتِ جہاد پر عربی اور فارسی زبان میں لکھا گیا ہے)