٭ذِکر و اَذکار میں گنتی متعین کر لینے اور تسبیح پھیرنے کا حکم؟
٭ مُحدث میں شائع شدہ دو جوابوں پر اعتراضات کا جائزہ
٭ کاروبار میں شراکت، مالِ وراثت کی تقسیم ۔۔
٭ مسند احمد کی ایک روایت پر سوالات کے جوابات
٭ سوال: ذکر میں اپنی طرف سے گنتی متعین کرنے نیز تسبیح پھیرنے کا کیا حکم ہے؟

جواب: ذکر و اَذکار اور وِرد و وَظائف کے سلسلہ میں اصل یہ ہے کہ کتاب و سنت کی نصوص میں جہاں کہیں تعداد اور وقت کا تعین ہے، وہاں اُن کا اہتمام ہونا چاہئے اور جس جگہ ان کو مطلق چھوڑا گیا ہے وہاں اپنی طرف سے متعین کرنا بدعت کے زمرہ میں شامل ہے۔ صحیح حدیث میں ہے " من أحدث في أمرنا هذا ما ليس منه فهو رد " یعنی "جو دین میں اضافہ کرے وہ اضافہ ناقابل قبول ہے"
مسنون وِرد وظائف میں گنتی سو سے زیادہ منقول نہیں ہے۔ علامہ البانی نے سلسلة الاحاديث الضعيفة میں اس امر کی تصریح کی ہے۔ پھر مسنون ذکر دائیں ہاتھ کی اُنگلیوں پر ہونا چاہئے جس طرح کہ سنن ابوداود مع عون المعبود (1/55) میں عبداللہ بن عمرو کی روایت میں راوی ابن قدامہ سے اس کی صراحت موجود ہے اور اس میں حکمت یہ بیان ہوئی ہے کہ قیامت کے روز یہ آدمی کے لیے گواہ بن کر آئیں گی، فرمایا: " وأن يقعدن بالأنامل فإنهن مسؤولات مستنطقات " اور جہاں تک مروجہ تسبیح کا تعلق ہے تو اس بارے میں اہل علم میں اختلاف ہے۔ صاحبِ عون المعبود گٹھلی اور کنکریوں پر ذکر کر کے جواز والی حدیث کی بنا پر منکے والی تسبیح کے جواز کے قائل ہیں اور آپ نے ان لوگوں کی تردید کی ہے جو اس کو بدعت قرار دیتے ہیں۔ چنانچہ فرماتے ہیں:
" وهذا أصل صحيح لتجويز السبحة ، بتقريره صلى الله عليه وسلم فإنه في معناها ، إذ لا فرق بين المنظومة والمنثورة فيما يعد به ، ولا يعتد بقول من عدها بدعة "
"یعنی یہ (گٹھلی وغیرہ والی) حدیث تسبیح کے جواز کے لیے صحیح بنیاد ہے، اس لیے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس فعل کو برقرار رکھا اور تسبیح بھی اس کے ہم معنی ہے۔ پروئے اور غیر پروئے دانوں کے شمار میں لانے میں کوئی فرق نہیں اور اس کے قول کی کوئی حیثیت نہیں جس نے اس کو بدعت قرار دیا ہے" (عون المعبود 1/555،556)
اور علامہ سیوطی رحمۃ اللہ علیہ نے اس کے جواز پر مستقل ایک رسالہ تصنیف کیا جو الحاوى للفتاوى میں مطبوع ہے۔ دوسری طرف شیخ ابن باز رحمۃ اللہ علیہ ایک سوال کے جواب میں فرماتے ہیں کہ شریعتِ مطہرہ میں ہمیں مسبحة (تسبیح کی مالا) کے ساتھ تسبیح کرنے کے جواز کی کوئی اصل معلوم نہیں ہو سکی چنانچہ صرف مسنون پر اکتفا کرنا چاہئے اور وہ یہ ہے کہ تسبیح صرف اُنگلیوں پر پڑھی جائے اور دوسرے سوال کے جواب میں فرماتے ہیں کہ انگلیوں کو استعمال کرنا افضل ہے جس طرح نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا معمول تھا۔ بہت سارے اہل علم نے تسبیح کے استعمال کر مکروہ سمجھا ہے کیونکہ یہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے عمل کے خلاف ہے۔
سعودی عرب کے بزرگ ترین عالم دین شیخ ابن عثیمین نے اس کے عدمِ استعمال پر چند وجوہ بیان کی ہیں جن کا خلاصہ یہ ہے:
(1)ایسا کرنا تعلیم نبوی صلی اللہ علیہ وسلم کے خلاف ہے کیونکہ آپ نے پوروں پر تسبیح کی تلقین فرمائی ہے
(2) اکثر اوات اس میں ریاکاری پائی جاتی ہے بالخصوص وہ لوگ جو اس کو ہار کی طرح گلے میں لٹکا لیتے ہیں
(3) بایں صورت غالبا آدمی کا دل و دماغ حاضر نہیں ہوتا اور وہ صرف منکوں پر اعتماد کر کے مقصد اعلیٰ کی طرف توجہ نہیں دیتا یا غفلت کا شکار ہو جاتا ہے۔
اس بنا پر میرے خیال میں افضل یہ ہے کہ آدمی مسبحة پر تسبیح نہ کرے بلکہ انگلیوں کے پوروں پر تسبیح کرے اور صاحبِ کتاب السنن والمبتدعات محمد عبدالسلام خضر نے بھی منکے پر منکا ڈالنے کو ریاکاری اور سُمعہ (دکھلاوا) میں شمار کیا ہے فصل فى الرياء لطقطقة بالمسبحة
میرے خیال میں بھی افضل یہ ہے کہ آدمی انگلیوں پر تسبیح کرے جس طرح حدیث میں نص موجود ہے۔ ہاں البتہ اگر کوئی شخص عددِ منصوص کو قائم نہ رکھ سکتا ہو تو بامر مجبوری حدیث النوى والحصى کی بنا پر مسبحة کو استعمال میں لانے کی گنجائش ہے لیکن حدیثِ ہذا ضعیف ہے مشکوٰۃ بتحقیق الالبانی (2/715)۔ اس بنا پر صرف منصوص پر اکتفا کرنا چاہئے اور وہ عدد غالبا کم تعداد میں ہے جس کا احاطہ کرنا ممکن ہے۔ پھر عام حالات میں ذکر اذکار کا سلسلہ بلاتعیین تعداد کسی نہ کسی صورت میں جاری رہنا چاہئے، مطلقا ترک کر دینا درست عمل نہیں ہے۔
٭ سوال: محرم/مئی 99ء کے محدث میں آپ نے نمازِ تسبیح کو عام حالات میں سنت قرار دیا ہے، مگر سعودیہ کے تمام علماء بشمول شیخ ابن باز رحمۃ اللہ علیہ نمازِ تسبیح کو بدعت قرار دیتے ہیں۔ ازراہِ کرم مزید وضاحت فرمائیے۔ علاوہ ازیں سابقہ شوہر سے نکاح کے بارے میں سوال کا جواب بھی ناکافی معلوم ہوتا ہے جس سے مریض دل کوئی بھی فائدہ اٹھا سکتا ہے۔ (محمد اختر، ریاض)
جواب: نمازِ تسبیح کی صحت میں اہل علم کا اختلاف ہے۔ علماء کی ایک جماعت نے اس حدیث کو ضعیف قرار دیا ہے جن میں سے ابن العربی، نووی نے شرح المهذب میں، ابن قیم، ابن عبدالہادی، مزی، ابن حجر نے التخليص میں اور ابن جوزی نے اس کو موضوعات میں شمار کیا ہے اور کہا ہے کہ اس میں موسیٰ بن عبدالعزیز مجہول ہے۔ جبکہ دوسرے گروہ نے اس کو صحیح یا حسن کہا ہے ان میں سے ابوبکر الآجری، ابو محمد عبدالرحیم مصری، حافظ ابوالحسن مقدسی، ابوداود صاحبِ سنن، مسلم صاحبِ صحیح، حافظ صلاح الدین اعلائی  خطیب، ابن صلاح، سبکی، سراج الدین بلقینی، ابن مندہ، حاکم، منذری، ابو موسیٰ مدینی، زرکشی اور نووی نے تہذیب الاسماء واللغات میں، ابو سعید سمعانی، حافظ ابن حجر نے الخصال المكفرة اور اَمالی الاذکار میں، ابو منصور دیلمی، بیہقی، دارقطنی اور دیگر اہل علم رحمہم اللہ نے بھی اس پر صحت یا تحسین کا حکم لگایا ہے۔
علامہ ابوالحسن عبیداللہ مبارکپوری رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ "میرے نزدیک حق اور درست بات یہ ہے کہ ابن عباس رضی اللہ عنہ کی حدیث ضعیف نہیں چہ جائیکہ اس پر من گھڑت یا جھوٹی ہونے کا حکم لگایا جائے بلکہ بلا شبہ میرے نزدیک یہ حسن درجہ سے کم نہیں بلکہ یہ بھی بعید نہیں کہ شواہد کی بنا پر اس حدیث کو صحیح لغیرہ قرار دیا جائے۔" پھر آپ نے معترضین کے اعتراضات کا جائزہ پیش کر کے اس کو قابل حجت قرار دیا ہے۔ (مرعاۃ المفاتیح 2/253) حدیثِ ہذا پر تفصیلی گفتگو کے لیے ملاحظہ ہو کتاب اللآلئ المصنوعة از علامہ سیوطی اور تحفۃ الاحوذی۔
علامہ الابانی حفظہ اللہ مشکوٰۃ کے حاشیہ پر فرماتے ہیں:
" فان للحديث طرقا وشواهد كثيرا يقطع الواقف فان للحديث اصلا اصيلا خلافا لمن حكم عليه بالوضع او قال انه باطل "
"اس حدیث کے بہت سارے طرق اور شواہد ہیں جن پر مطلع ہونے والا اس نتیجہ پر پہنچتا ہے کہ یقینا اس حدیث کی اصل موجود ہے بخلاف اس کے جس نے اس پر من گھڑت ہونے کا حکم لگایا ہے یا کہا کہ یہ حدیث باطل ہے۔"
مزید فرماتے ہیں کہ علامہ ابوالحسنات لکھنؤی نے الاثار المرفوعه في الاخبار الموضوعه (ص 353،374) میں کافی تحقیق کی ہے۔ جو شخص مزید تفصیل چاہتا ہے اسے اس کی طرف رجوع کرنا چاہئے اور اس مسئلہ پر جو کچھ لکھا گیا ہے، ان سب سے کفایت کرتی ہے۔ (1/419)
اس ساری بحث سے معلوم ہوا کہ جن علماء نے صلاۃِ تسبیح کو بدعت قرار دیا ہے، ان کا نظریہ مرجوح ہے بلکہ بدلائل قویہ اس کا مسنون ہونا ثابت ہے۔ مزید تفصیل کے لیے ملاحظہ ہو اجوبة الحافظ عن احاديث المصابيح فى آخر المشكوة بتحقيق الالبانى حفظه الله
(2) سوال ہذا کے جواب کو امریکی عدالت کی خلع کی کاروائی کے پس منظر میں دیکھنا چاہے جو نفس بحث میں موجود ہے۔ اس کے ضمن میں ذکر ہوا ہے کہ اگر یہ عورت سابقہ شوہر سے نکاح کرنا چاہے تو بھی کر سکتی ہے شرعا کوئی رکاوٹ نہیں، مقصد یہ ہے کہ خلع کی صورت میں رجوع نہیں ہو سکتا البتہ دوبارہ نکاح کی گنجائش موجود رہتی ہے۔
لہذا جواب میں کوئی ایسا ابہام نہیں جس سے بیمار دل فائدہ اٹھا سکتا ہو۔ امید ہے تھوڑی سی وضاحت تشفی کے لیے کافی ہو گی۔
٭ والد کے ساتھ بیٹے کی کاروباری شراکت، قرضہ کی موجودگی میں وراثت کی تقسیم؟
جواب: صورتِ سوال سے طاہر ہے کہ اصلا کاروبار کا تعلق متوفی سے ہے اور محنت میں بڑا بھائی بھی شریک ہے۔ میت کے کل ترکہ سے اولا اس کا قرضہ اتارا جائے، پھر بڑے بھائی کو اس کی محنت کا معقول معاوضہ دینا چاہئے پھر بقیہ مال ½ کی نسبت سے لڑکوں اور لڑکیوں میں تقسیم کر دینا چاہئے یعنی فی کس لڑکی کےلیے ایک حصہ اور لڑکے دو حصے۔
قرض کی ادائیگی کا تعلق جملہ جائیداد سے ہوتا ہے چنانچہ جیسے بھی ممکن ہو ہر صورت قرض ادا ہونا چاہئے اور قرض اُتارنے میں تعاون کرنا وَتَعَاوَنُوا عَلَى الْبِرِّ کی قبیل سے ہے جو باعثِ اجروثواب فعل ہے۔ جائیداد منقولہ ہو یا غیر منقولہ اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا کیونکہ ترکہ کی میت کی طرف نسبت ایک جیسی ہے اور شادیوں کے اخراجات چونکہ حوائج و ضروریات کی قبیل سے ہیں جو کسی شمار میں نہیں آتے لہذا ترکہ میں ان کا حساب نہیں ہو گا۔ مرحوم نے اولاد کی شادیوں پر اپنی خوشی سے جو کچھ خرچ کیا اس کے ذمہ دار وہ ہیں اور جو کچھ بعد میں شادی پر خرچ ہوا اس کا ذمہ دار خرچ کرنے والا ہے۔ ہاں اگر اس کی بھی ذمہ داری والد نے قبول کی تھی تو پھر ذمہ دار قرار پا سکتے ہیں ورنہ نہیں۔ نیز بہنوں کو چاہئے کہ رب العالمین کی تقسیم کے مطابق اپنا حصہ وصول کر لیں اور اگر برضا و رغبت کسی کو کچھ دینا چاہیں تو ممانعت بھی نہیں ہے۔
٭ میت کا ترکہ 5 بیٹیوں، 3 بیٹوں اور شوہر میں کس طرح تقسیم ہو گا جبکہ والدہ کی وفات کے بعد ایک بیٹی کی بھی وفات ہو چکی ہے۔ اس بیٹی کا ترکہ کس طرح تقسیم ہو گا؟
جواب: ورثاء کے شرعی حصص ملاحظہ فرمائیں:
کل حصص: 44

شوہر

لڑکی

لڑکی

لڑکی

لڑکی

لڑکی

لڑکا

لڑکا

لڑکا

11

3

3

3

3

3

6

6

6

پانچ بیٹیوں سے ایک بیٹی جو مرحومہ کے بعد فوت ہوئی، اس کی وراثت کا حق دار صرف باپ ہے (جو میت کا شوہر ہے) کیونکہ باپ کی موجودگی میں بھائی اور بہنیں وراثت سے محروم ہوتے ہیں۔
٭ سوال: مسند احمد رحمۃ اللہ علیہ کی اس روایت کے بارے میں مفتیانِ کرام و محدثین عظام کیا فرماتے ہیں:
حدثنا عبدالله حدثني ابي حدثنا زيد بن الحباب حدثني حسين بن واقد حدثنا عبد الله بن بريدة قال دخلت أنا وأبي على معاوية فأجلسنا على الفرش ثم أتينا بالطعام فأكلنا ثم أتينا بالشراب فشرب معاوية ثم ناول أبي ثم قال: ما شربته منذ حرمه رسول الله صلى الله عليه وسلم. ثم قال معاوية: كنت أجمل سباب قريش وأجوده ثغرا وما شيء كنت أجد له لذة كما كنت أجده وأنا شاب غير اللبن أو إنسان حسن الحديث يحدثني.
"عبداللہ بن بریدہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں اور میرے والد بریدہ رضی اللہ عنہ حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کی خدمت میں حاضر ہوئے، انہوں نے ہمیں زمین پر بٹھایا پھر ایک مشروب منگوایا جسے حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ نے پیا اور میرے والد نے لینے کے بعد کہا کہ میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے حرام کر دینے کے بعد سے اس کو نہیں پیا۔ پھر معاویہ رضی اللہ عنہ کہنے لگے میں قریش کا سب سے خوبصورت دانتوں والا حسین ترین نوجوان تھا۔ جوانی میں جس طرح مجھے اشیاء میں لذت محسوس ہوتی وہ آج نہیں، سوائے دودھ کی لذت کے یا کسی خوش گفتار انسان کی بات سننے کے" (مسند احمد بن حنبل: جلد 5/ ص 347)
براہِ مہربانی درج ذیل اُمور کی مع حوالہ جات وضاحت فرمائیں:
1۔ محدثین کے نزدیک اس روایت کی اِسنادی حیثیت کیا ہے؟
2۔ وہ کون سا مشروب ہے جو حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی ممانعت کے باوجود حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ نے تناول فرمایا؟
3۔ ما شربته میں شربت کا فاعل کون ہے؟ (خورشید احمد، اسلام آباد)
جواب: اِس حدیث کی سند کے بارے میں حافظ نورُالدین ہیثمی کہتے ہیں: ورجاله رجال الصحيح "اس حدیث کے راوی صحیح کے راوی ہیں۔" (مجمع الزوائد 5/42 طبع دارالکتاب بیروت)
2۔ احتمال ہے کہ یہ انگور کی شراب کے علاوہ نبیذ ہو اور معاویہ رضی اللہ عنہ نے اُسے اس قدر پیا ہو جس سے نشہ نہ آتا ہو۔ حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ اور عمر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے اور امام ابو حنیفہ رحمۃ اللہ علیہ کا مذہب بھی یہی ہے کہ انگور کے علاوہ جس شے کی زیادہ مقدار سے نشہ پیدا ہوتا ہو اُس کی اُس قدر مقدار حلال ہے جو نشہ آور نہ بنتی ہو۔ معاویہ ان لوگوں سے ہیں جن کا مسلک ہے کہ اگر قلیل مقدار نشہ آور نہ ہو تو اس کا پینا جائز ہے۔
جبکہ جمہور اور بہر سارے صحابہ رضی اللہ عنہم کا مسلک اس سے مختلف ہے کہ جس کی زیادہ مقدار نشہ آور ہو اس کی قلیل مقدار بھی حرام ہے۔ انہی میں سے حضرت بریدہ بھی ہیں۔
3۔ ما شربته میں شربت کا فاعل بریدہ رضی اللہ عنہ ہیں۔ (ملاحظہ ہو فتح الربانی: 17/115)
٭ سوال: ہمارا چھوٹا بھائی مقبوضہ کشمیر میں شہید ہوا، اس کے دو چھوٹے بچے (بیٹا اور بیٹی) ہیں اب اس کی بیوہ نے ہمارے دوسرے چھوٹے بھائی سے شادی کر لی ہے۔ کیا اب بھی شہید بھائی کے بچے یتیم ہیں اور ان سے یتیموں جیسا سلوک ہونا چاہئے؟ یا اب یتیمی ختم ہو گئی ہے؟
جواب: یتیم کا زمانہ ماں کے آگے شادی کرنے سے ختم نہیں ہوتا بلکہ اس کی حد بچوں کا بالغ ہونا ہے، بچے جب سن بلوغت کو پہنچ جائیں تو یتیمی کا دور اختتام پذیر ہو جاتا ہے۔ امام راغب رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ: اليتم انقطاع الصبى عن أبيه قبل بلوغه (المفردات: کتاب الیاء ص 550)
"بچے کا اپنی بلوغت سے قبل ہی اپنے باپ سے جدا ہو جانے کا نام یتیمی ہے۔"