کشمیر کا مسئلہ نیا نہیں، بلکہ قیامِ پاکستان کے ساتھ ہی یہ مسئلہ اُٹھ کھڑا ہوا تھا، جن اُصولوں پر متحدہ ہند کی تقسیم عمل میں آئی تھی، ان میں ایک اُصول یہ بھی تھا کہ مسلم اکثریت کے علاقے پاکستان میں شامل ہوں گے۔ لیکن اس وقت کشمیر میں ڈوگرہ راج نے اس اصول کے برخلاف بھارت کے ساتھ گٹھ جوڑ کر کے اسے پاکستان میں شامل نہیں ہونے دیا۔ اس وقت سے آج تک پاکستان کا بننے والا یہ حصہ ایک متنازعہ صورت میں قائم چلا آ رہا ہے۔
اس مسئلے پر تین جنگیں بھی ہو چکی ہیں لیکن یہ مسئلہ جوں کا توں ہے۔ اس کی ایک وجہ تو قابض ملک بھارت کا وہ رویہ ہے جو عدل و انصاف کے مسلمہ اُصولو ں اور بین الاقوامی ضابطوں کے سراسر خلاف ہے۔ دوسرے، استعمال ملکوں کے مفادات ہیں جو اس وقت قوت کے نشے میں مخمور دنیا کے چودھری بنے ہوئے ہیں، وہ اس کے حل میں رکاوٹ ہیں۔ وہ نہیں چاہتے کہ یہ مسئلہ پاکستان کی خواہش کے مطابق حل ہو۔ تیسرے، بھارت جو نسبتا پاکستان سے بڑا ملک ہے اور کافر ہے، بینُ الاقوامی طاقتیں اسے ناراض کرنا پسند نہیں کرتیں، بلکہ اس کی ناز برداری میں لگی رہتی ہیں۔ چوتھے، خود پاکستانی حکمرانوں کا رویہ بھی اس میں رکاوٹ چلا آ رہا ہے، جس کی مختصر تفصیل حسبِ ذیل ہے:
ہمارے پاکستانی حکمران بدقسمتی سے جہاد کی اہمیت اور جذبے سے عاری ہی رہے ہیں۔ 1948ء میں اس مسئلے پر پہلی مرتبہ جنگ ہوئی۔ پاکستانی فوج کے ساتھ مجاہدین نے بھی دادِ شجاعت دی اور وہ سرینگر کے قریب پہنچنے والے تھے کہ بھارتی وزیراعظم نہرو نے سلامتی کونسل کے ذریعے سے جنگ بندی کروا دی اور اس وقت اس نے وعدہ کیا کہ کشمیریوں کو حق خود اِرادیت دیا جائے گا اور وہ اپنا فیصلہ کرنے کے مجاز ہوں گے۔ لیکن بعد میں وہ اس وعدے سے مکر گیا اور آج تک یہ وعدہ تشنہ تکمیل ہے۔ دوسری مرتبہ 1965ء میں پھر کشمیر میں جہادی تحریکیں شروع ہوئیں، جس کا مطلب بھارت کو استصوابِ رائے پر مجبور کرنا تھا۔ لیکن بھارت بجائے اس کے کہ اپنا وہ وعدہ پورا کرتا، اس نے رات کی تاریکی میں پاکستان پر حملہ کر دیا اور 17 روز تک یہ پاک بھارت جنگ بھرپور انداز سے جاری رہی اور اس میں وہ اپنے مقاصد حاصل کرنے میں ناکام رہا۔ تاہم اس کا ایک یہ فائدہ اسے ضرور حاصل ہوا کہ کشمیر کی تحریکِ حریت پھر دب گئی۔ تیسری جنگ 1971ء میں ہوئی۔ اس دفعہ اگرچہ براہِ راست اس کا باعث مسئلہ کشمیر نہ تھا، تاہم پس منظر میں اس کی کارفرمائی سے انکار نہیں کیا جا سکتا۔ 1965ء ایوب خاں کی اور 1971ء میں یحییٰ خان کی حکمرانی تھی۔ ان دونوں حکمرانوں نے بھی جہاد کو کوئی اہمیت نہ دی، جس کی وجہ سے جنگ کے باوجود قضیہ کشمیر وہیں کا وہیں رہا۔ بلکہ 1972ء میں بھٹو صاحب نے شملہ معاہدہ کر کے کشمیریوں کی زنجیر غلامی کو اور کس دیا اور شعلہ جہاد کو سرد کر دیا۔ پھر جب افغانستان میں جہاد کا معرکہ سرگرم ہوا، اور وہاں اللہ نے جہادی قوتوں کو کامیابی سے ہمکنار اور روس جیسی سپر پاور کو شکست سے دوچار کیا، تو اس کے نتیجے میں ایک مرتبہ پھر کشمیریوں نے انگڑائی لی، جہاد کا شعلہ مستور پھر بھڑکا اور خاکستر میں دبی ہوئی چنگاریاں پھر شعلوں میں تبدیل ہو گئیں۔ اور یوں 1989ء میں کشمیر میں پھر جہاد کا آغاز ہو گیا۔ پاکستان نے بھی ہمیشہ کی طرح، اس دفعہ بھی اسے اخلاقی امداد بہم پہنچائی، جو اس کا فریضہ بلکہ فریضے کا ایک حصہ تھا، کیونکہ پاکستان کا اصل فریضہ تو کشمیریوں کو حق خود ارادیت دلوا کر اُنہیں پاکستان سے الحاق کا موقعہ فراہم کرناتھا۔ اس کے لئے اسے کشمیریوں کو صرف اخلاقی امداد ہی مہیا کر دینا کافی نہیں، بلکہ انہیں مادی اور عسکری امداد بھی فراہم کرنا ضروری ہے اور پاکستان کا ایسا کرنا ہرگز کشمیر میں مداخلت نہیں ہے، بلکہ اپنے فرض کی ادئیگی ہے۔ کیونکہ کشمیر بھارت کا حصہ نہیں، بلکہ اُصولی طور پر پاکستان کا حصہ ہے اور کشمیری پاکستانیوں کے بھائی ہیں، نسلی اعتبار سے بھی اور اسلامی و مذہبی نقطہ نظر سے بھی۔ اس لئے پاکستان کا ان کی حمایت میں لڑنا اور ان کی تحریکِ جہاد کو تقویت پہنچانا ضروری اور اس سے اغراض و تغافل، اپنے فرض میں کوتاہی ہے۔
یہی وجہ ہے اس دفعہ اس جہاد میں پاکستان کی جہادی تنظیموں نے بھی بھرپور حصہ لیا اور پاکستانی فوج نے بھی اپنے مخصوص دائرے میں اُس سے خوب تعاون کیا۔ بنا بریں بھارت کی 7 لاکھ فوج بھی کشمیریوں کے جذبہ حریت کو کچلنے میں ناکام رہی، بلکہ بھارتی فوجوں کی مزاحمت اور ان کا ظلم و ستم مجاہدین کے جذبہ جہاد کو فزوں تر کرتا اور اس شعلہ مستور کو ہوا دیتا رہا
بڑھتا ہے ذوقِ جرم یاں ہر سزا کے بعد
پاک فوج اور مجاہدین کے باہم تعاون کا نقطہ عروج کارگل اور دراس وغیرہ کی چوٹیوں پر قبضہ تھا یہ سارا علاقہ اصل میں تو پاکستانی تھا جو 1948ء کے جہاد میں حاصل کیا گیا تھا، لیکن 1965ء کی جنگ میں اسے بھارت نے ہتھیا لیا تھا، پھر شملہ معاہدے نے بھارتی قبضے کو اور مضبوط کر دیا۔ اس جہاد میں، جو دس سال سے جاری ہے، یہ علاقہ پاک فوج کی حکمتِ عملی اور مجاہدین کی ہمت و جراءت سے دوبارہ پاکستان کے قبضے میں آ گیا۔ کارگل اور دراس بٹالک وغیرہ کی یہ چوٹیاں کئی لحاظ سے اہمیت کی حامل ہیں۔
اولا، یہ پاکستانی علاقہ ہے، بھارتی نہیں (جیسا کہ وضاحت کی گئی) اس لئے پاکستان کا اس پر قبضہ کر لینا، اپنی حدود سے تجاوز نہ تھا، بلکہ اپنے علاقے کا واگزار کرانا اور کھوئے ہوئے حصے کی بازیافت تھا۔
ثانیا، یہ اس جہاد کے نتیجے میں حاصل ہوا تھا، جو دس سال سے جاری ہے، جس کی بنیاد یہ ہے کہ یہ کشمیر کا سارا علاقہ کشمیریوں کا ہے۔ بھارت کی حیثیت ایک غاصب اور قابض ملک کی ہے، ایک غاصب سے مالکوں اور حق داروں کا غصب شدہ چیز کو حاصل کر لینا مداخلت کاری نہیں بلکہ اپنے حق کی وصولی ہے۔ کشمیری جہاد کے ذریعے سے جتنا بھی علاقہ ایک غاصب فوج سے چھین لیں، یہ ان کا جائز اور قانونی حق ہے۔
ثالثا، کنٹرول لائن مسلمہ بین الاقوامی سرحد نہیں کہ اسے تقدس کا درجہ حاصل ہو۔ بلکہ یہ ایک عارضی انتطام اور حل تھا کہ جنگ بندی کے وقت جو جہاں ہے وہیں رہے، اس سے آگے نہ بڑھے۔ لیکن کب تک؟ ہمیشہ کے لئے؟ نہیں، ہمیشہ کے لئے نہیں۔ کیونکہ عارضی انتظام دائمی نہیں ہوتا بلکہ محدود اور مؤقت ہوتا ہے۔ یہ عارضی انتطام ایک وعدے کا مظہر ہے اور وہ ہے سلامتی کونسل کی نگرانی میں استصوابِ رائے کے انعقاد کا۔ یعنی بھارت نے وعدہ کیا تھا کہ وہ کشمیریوں کو اپنے رائے کے اظہار کا موقع دے گا کہ وہ پاکستان کے ساتھ الحاق چاہتے ہیں یا بھارت کے ساتھ؟ پاکستان اور کشمیری عوام نے جو فرق دوم ہے اس وعدے پر اعتبار کر کے "سٹیٹس کو" کو تسلیم کیا تھا اور سلامتی کونسل ایک ضامن اور ثالث کی حیثیت سے تیسرا فریق تھا۔ جب فریق اول اور فریق ثالث اپنا وعدہ پورا کرنے اور کرانے پر آمادہ نہ ہوں، تو فریق دوم کو یہ پورا حق حاصل ہے کہ وہ ایسی کاروائی کرے کہ جس سے مذکورہ بنیادوں پر اسے فریق اپنی ذمہ داریاں ادا کرنے پر مجبور ہو جائیں اور اس عارضی انتطام کی بجائے مستقل بنیادوں پر اسے حل کریں۔ کارگل کی چوٹیوں کو سر کرنے میں یہی مقصد کارفرما تھا کہ دنیا کی توجہ اس طرف مبذول کی جائے تاکہ وہ بھارت کو اس کی ہٹ دھرمی سے ہٹا کر حق و انصاف کے مطابق اس مسئلے کو حل کرنے پر آمادہ کرے
رابعا، یہ چوٹیاں اپنی بلندیوں کی وجہ سے مذکورہ مقصد کے حصول کے لئے بڑی مفید تھیں کیونکہ سیاچین کا وہ پاکستانی علاقہ جس پر بھارت نے 1984ء میں قبضہ کیا تھا اور اب وہاں اس کی پچاس ساٹھ ہزار فوج مستقل طور پر موجود ہے، اس تک پہنچنے کا واحد راستہ وہی ہے جو ان پہاڑوں کے دامنوں اور وادیوں سے گزرتا ہے۔ علاوہ ازیں ان بلند چوٹیوں پر موجود مجاہدین کے خلاف بھارت کوئی کامیاب کاروائی بھی نہیں کر سکتا، جیسا کہ مجاہدین کے دو ماہ کے قبضے سے بھارت کی یہ ناکامی واضح ہو کر سامنے آئی۔ بھارت نے زمینی اور فضائی دونوں قسم کی جنگی کاروائیوں کے ذریعے سے ہر ممکن کوشش کی کہ وہ مجاہدین پو کرئی ایسی کاری ضرب لگائے کہ وہاں سے مجاہدین کا قبضہ ختم ہو جائے، لیکن وہ اس میں سخت ناکام رہا۔ اس اعتبار سے مجاہدین کے لئے یہ ایک نہایت محفوط مقام اور حکمتِ عملی کے اعتبار سے ایک مؤثر ہتھیار تھا۔ وہ سیاچین کو جانے والی ہر رسد اور کمک کو آسانی سے نشانہ بنا سکتے تھے اور یوں کچھ عرصے تک بھارت کا سیاچین تک پہنچنے کا واحد راستہ مسدود کر کے وہ ہزاروں بھارتی فوجیوں کو موت و حیات کی کشمکش میں مبتلا کر کے غاصب و ظالم بھارت سے اپنے جائز مطالبات منوانے یا بھارت کو حق و انصاف کا اہتمام کرنے پر مجبور کر سکتے تھے۔
خامسا، مجاہدین کی اس کاروائی سے دنیا کے سامنے واضح ہو گیا کہ بھارتی افواج اپنی کثرت کے باوجود پاکستانی فوج اور مجاہدین کا مقابلہ نہیں کر سکتیں۔ اس کا گھمنڈ خاک میں مل گیا، اس کی بڑائی کا بت پاش پاش ہو گیا اور جنوبی ایشیا میں اس کی بالادستی کا خواب بکھر کر دہ گیا۔ اس بنا پر بھارت کا سیکورٹی کونسل میں نشست حاصل کرنے کا خواب بھی چکنا چور ہو گیا۔
سادسا، اس فتح و ظفر سے پاکستان کا سر افتخار سے بلند ہو گیا، مجاہدین کی دھاک بیٹھ گئی اور پاکستان کو اقوامِ دنیا میں ایک خاص عظمت و وقار کا مقام حاصل ہوا۔
غاصب و ظالم بھارت کے مقابلے میں یہ کامیابیاں اللہ کی خاص مہربانی اور اس کا فضل و کرم تھا، اب ان حاصل شدہ کامرانیوں کا تحفظ نہایت ضروری تھا تاکہ اس دشمن کے حوصلے مستقبل میں بھی پست رہیں جو نہایت عیار اور مکار ہونے کے علاوہ بین الاقوامی استعمار کا آلہ کار اور اس کا لاڈلا بھی ہے۔ اور جو نہ صرف کشمیر پر اپنا ناجائز تسلط برقرار رکھنا چاہتا ہے بلکہ پاکستان کے وجود کو بھی ختم کرنا اس کے مذموم مقاصد میں شامل ہے۔ علاوہ ازیں بھارت کے 20،22 کروڑ مسلمان شہری بھی، جو آج تک بھارتی ظلم و جارحیت کا شکار چلے آ رہے ہیں سکھ کا سانس اسی وقت لے سکتے تھے جب پاکستان مضبوط اور ناقابل تسخیر ہو۔
گویا اللہ تعالیٰ نے پاکستان کو بھارت پر جو عظمت و برتری عطا فرمائی تھی، اس کا تحفظ اس لئے ضروری تھا کہ بھارت مرعوب اور خوف زدہ رہے تاکہ:
٭وہ کشمیر کا مسئلہ بھی حق و انصاف کے مطابق حل کرنے پر آمادہ ہو۔
٭ پاکستان کے بارے میں جو مکروہ عزم وہ اپنے سینے میں چھپائے ہوئے ہے، اسے دل سے نکال دے اور پورے شرحِ صدر سے پاکستان کا وجود تسلیم کر کے ایک امن پسند ہمسائے کی طرح پاکستان سے معاملہ کرے۔
٭ بینُ الاقوامی طاقتوں کے بھرے اور غرے میں آ کر بالادست بننے کا خواب دیکھنا چھوڑ دے۔
٭ بھارتی مسلمانوں کو وہ تمام شہری حقوق دے جو ان کا مسلمہ حق ہے اور ان پر ظلم و ستم کا سلسلہ بند کر دے لیکن افسوس موجودہ حکمران بھی سابقہ حکمرانوں کی طرح ہی بزدل ثابت ہوئے اور اپنی بزدلی کی وجہ سے حاصل شدہ کامیابیوں کے ثمرات سے بہرہ ور ہونے کی بجائے اپنی کامیابیوں کو ناکامی میں، عزت و افتخار کو ذلت میں اور بلندیوں کو پستی میں تبدیل کر دیا، اپنی کلاہِ عظمت کو داغ دار کر لیا اور کشمیر کے قضیے کے حل کی طرف پیش رفت کے سنہری موقعے کو نہ صرف ضائع کر دیا، بلکہ آئندہ کے لئے اس کے امکانات کو مزید مخدوش بنا دیا۔
موجودہ حکمرانوں نے اعلان واشنگٹن سے کیا پایا؟ کچھ بھی نہیں ۔۔ البتہ کھو بہت کچھ دیا!!
٭ اپنی عظمت و فتح کھو دی ۔
٭ دشمن پر واضح برتری کھو دی۔
٭ قضیہ کشمیر کے حل  کا امکان ضائع کر دیا۔
٭ پاکستان کے وجود کو خطرات سے دوچار کر دیا۔
٭ دشمن کے حوصلے بلند کر دئیے۔
٭ بھارت کے کروڑوں مسلمانوں کے حق میں پھوٹنے والی اُمید کی کرن ختم کر دی۔
٭ دنیا کے سامنے اپنا جارح اور مداخلت کار ہونا تسلیم کر لیا۔
٭ اُن مجاہدین کا اعتماد کھو دیا جنہوں نے سرفروشی اور شجاعت کی لازوال داستانیں رقم کیں۔
٭ پاک فوج کے ولولوں اور جذبوں کی قدر افزائی کی بجائے، ان کی ناقدری کی اور انہیں احساسِ شکست سے دوچار کر دیا۔
٭ اور ۔۔ طوقِ غلامی کو اور مضبوط اور اپنی بے دست پائی کو آشکارا کر دیا۔
ایں کار از تو آید و مرداں چنیں کنند
ان "کامیابیوں" کو دیکھ کر ۔۔ آپ بھی شرمسار ہو، ہمیں بھی شرمسار کر!!
پس چہ باید کرد
اب ناکامی اور ذلت کا یہ تیر، جو حکمرانوں نے اعلان واشنگٹن کی صورت میں چلایا ہے، واپس تو نہیں آ سکتا۔ لیکن اگر حکمران اب بھی ہوش میں آ جائیں اور قرآنی فیصلے کو تسلیم کر لیں اور اس کے مطابق اپنا نصبُ العین متعین کر کے مناسب اقدامات بروئے کار لائین تو مذکورہ نتائج و مضمرات کا اِزالہ کیا جا سکتا ہے۔ وہ قرآنی فیصلہ یہ ہے کہ وہ اس پسپائی کو ایک وقتی حربہ سمجھ کر دشمن سے بھرپور جنگ کی تیاری کریں۔ کیونکہ حکمرانون کی سب سے بڑی دلیل یہ ہے کہ اگر ہم یہ پسپائی اختیار نہ کرتے تو بھارت پاکستان پر حملہ کر دیتا، جب کہ ہمارے اقتصادی حالات جنگ کے متحمل نہیں تھے۔ ہمیں جنگ سے اس سے کہیں زیادہ نقصانات اُٹھانا پڑتے جو موجودہ اقدام سے ہمیں اٹھانا پڑے ہیں۔ (؟؟؟؟) آئندہ کے لئے ایسی حکمتِ عملی اور پالیسی تیار کرنی چاہئے تھی جو جنگ سے گریز کی بجائے بھرپور جنگ کی تیاری کی آئینہ دار ہوتی۔ حکمرانوں نے ایک غلطی تو یہ کی کہ قوم کو اعتماد میں لئے بغیر اتنا بڑا فیصلہ ازخود کر لیا، جو نص قرآنی وَأَمْرُهُمْ شُورَىٰ بَيْنَهُمْ (سورۃ الشوریٰ) "مسلمانوں کے معاملات باہمی مشورے سے طے ہوتے ہیں" کے خلاف ہے۔ لیکن اب دوسرا اِقدام مشاورت سے طے ہو سکتا ہے اور مشاورت سے ہی طے ہونا چاہئے۔ تاکہ اُس قرآنی وعید سے ہم بچ سکیں جو پسپائی اختیار کرنے والوں کے لئے بیان کی گئی ہے۔ قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ نے اہل ایمان سے خطاب کر کے فرمایا ہے:
﴿إِذا لَقيتُمُ الَّذينَ كَفَروا زَحفًا فَلا تُوَلّوهُمُ الأَدبارَ ﴿١٥﴾ وَمَن يُوَلِّهِم يَومَئِذٍ دُبُرَهُ إِلّا مُتَحَرِّفًا لِقِتالٍ أَو مُتَحَيِّزًا إِلىٰ فِئَةٍ فَقَد باءَ بِغَضَبٍ مِنَ اللَّـهِ وَمَأوىٰهُ جَهَنَّمُ ... ﴿١٦﴾...الأنفال
"اے مسلمانو! جب کافروں سے تمہارا مقابلہ ہو، تو پیٹھ پھیر کر مت بھاگو، (یاد رکھو!) جو اس دن پیٹھ پھیر کر بھاگے گا تو یقینا وہ اللہ کے غضب کا مستحق اور جہنمی ہو گا۔ تاہم پیچھے ہٹنے کی دو صورتیں جائز ہیں: لڑائی کے لئے پینترا بدلنا مقصود ہو یا اپنی جماعت کی طرف پناہ حاصل کرنا ۔۔۔"
یعنی جب معرکہ کارزار گرم ہو تو اس میں حصہ لینے والے مجاہدوں اور سپاہیوں کو پیٹھ پھیر کر بھاگنے کی اور میدانِ کارزار سے پیچھے ہٹنے کی اجازت نہیں ہے۔ ہاں لڑنے والے اگر یہ محسوس کریں کہ وہ اس مقام پر یکہ و تنہا رہ گئے ہیں، اس لئے پیچھے ہٹ کر اپنے ساتھیوں سے جا ملیں اور ان کی معیت و جمعیت کے ساتھ لڑیں یا وہ دیکھیں کہ ان کی اختیار کردہ تدبیر اور حکمت عملی مؤثر ثابت نہیں ہو رہی ہے، اس لئے اس میں تبدیلی ناگزیر ہے، چنانچہ وہ نئی حکمت عملی یا نئی چال چلنے کے لئے پیچھے ہٹیں تو پیچھے ہٹنے کی یہ دونوں صورتیں جائز ہیں۔ کیونکہ ان کا مقصد اصل میں راہِ فرار اختیار کرنا نہیں ہے بلکہ زیادہ مفید اور مؤثر طریق کار اختیار کرنا ہوتا ہے۔
بنا بریں حکومت اگر سمجھتی ہے کہ کارگل کی وہ صورت حال جو اعلان واشنگٹن سے قبل تھی، وہ پاکستان کے لئے یا کشمیر کے کاز کے لئے مفید نہیں تھی۔ اس کی بجائے کوئی دوسرا رستہ یا طریقہ یا حکمت عملی اختیار کی جائے تو زیادہ بہتر ہو گی اور اس عارضی پسپائی اور واپسی میں ملک و ملت کا مفاد مضمر ہے، تو حکومت کو اولا تو دلائل سے اپنا یہ نقطہ نظر ثابت کرنا چاہئے اور پھر نئی حکمتِ عملی کے خطوط واضح کر کے اس کے لئے مؤثر اقدمات کا آغاز ہونا چاہئے۔ یہی وہ موقف اور طریقہ ہے جسے اختیار کر کے حکومت عوام کے غیظ و غضب سے بھی بچ سکتی ہے اور عنداللہ بھی سرخرو ہو سکتی اور اس وعیدِ قرآنی سے محفوظ رہ سکتی ہے جو مذکورہ آیت میں بیان کی گئی ہے۔
لیکن افسوس ہے کہ حکومت کی طرف سے جیسے پہلے اقدام سے پہلوتہی کی جا رہی ہے، دوسرے اقدام کی بابت بھی کسی اہتمام کا کوئی امکان نظر نہیں آ رہا ہے۔ یعنی اعلانِ واشنگٹن کے بعد وزیراعظم صاحب نے قوم سے خطاب تو فرمایا ہے لیکن کارگل کی معرکہ آرائی سے پیدا ہونے والی سنگینی اور خطرناکی کی وضاحت سے وہ ابھی تک گریزاں ہیں۔ حتیٰ کہ قومی اسمبلی میں بھی اس کی تفصیل بیان کرنے کی ضرورت اُنہوں نے محسوس نہیں کی، حالانکہ اسمبلی کا اجلاس اسی مقصد کے لئے بلایا گیا تھا اور اپوزیشن اور ارکانِ اسمبلی کا شدید مطالبہ تھا کہ میاں نواز شریف خود ان تمام حالات و واقعات کی وضاحت کریں جن کی وجہ سے انہوں نے امریکہ جانے کا فیصلہ اور یکطرفہ طور پر مجاہدین کو واپس بلانے پر آمادگی کا اظہار کیا۔ ظاہر بات ہے کہ جب وہ اپنے پہلے اقدام ہی کی وضاحت نہیں کر رہے ہیں تو ان سے دوسرے اقدام (جنگ کی بھرپور تیاری) کی امید کیوں کر کی جا سکتی ہے؟
یہ صورتِ حال یقینا نہایت خطرناک اور غضب الہیٰ کو دعوت دینے کے مترادف ہے۔ اگر قوم نے بھی حکومت کی اس بزدلانہ پالیسی اور غضبِ الہیٰ کو دعوت دینے والی پسپائیت کے خلاف مؤثر احتجاج نہ کیا، تو وہ بھی عنداللہ برابر کی مجرم ٹھہرے گی۔ بنا بریں ضروری ہے کہ قوم اپنے شعور اور بلوغت کا ثبوت دے اور اعلانِ واشنگٹن کے خلاف ایسا بھرپور احتجاج کرے کہ حکمران اس کو واپس لینے پر مجبور اور بھارت کے ساتھ مقابلے کا عزم کرنے پر تیار ہو جائیں۔
اس مرحلے پر قوم اور حکومت نے اگر اپنے عزم جہاد او جذبہ سرفروشی کا یہ کہہ کر اظہار نہ کیا:
سرفروشی کی تمنا اب ہمارے دل میں ہے
دیکھنا ہے زور کتنا بازوئے قاتل میں ہے
تو یاد رکھئے کہ دشمن کے حوصلے بہت بلند ہو جائیں گے، جس سے قضیہ کشمیر کا حل بھی ناممکن ہو جائے گا، بھارتی مسلمانوں کا مستقبل بھی مزید تاریک ہو جائے گا اور خود پاکستان کی بقاء اور سلامتی بھی خطرات سے دوچار رہے گی، اس لئے کہ:
تقدیر کے قاضی کا یہ فتویٰ ہے ازل سے
ہے جرمِ ضعیفی کی سزامرگِ مفاجات
وما علينا الا البلاغ