ڈاونلوڈ

آن لائن مطالعہ

آن لائن مطالعہ
  • اگست
1999
صلاح الدین یوسف
کشمیر کا مسئلہ نیا نہیں، بلکہ قیامِ پاکستان کے ساتھ ہی یہ مسئلہ اُٹھ کھڑا ہوا تھا، جن اُصولوں پر متحدہ ہند کی تقسیم عمل میں آئی تھی، ان میں ایک اُصول یہ بھی تھا کہ مسلم اکثریت کے علاقے پاکستان میں شامل ہوں گے۔ لیکن اس وقت کشمیر میں ڈوگرہ راج نے اس اصول کے برخلاف بھارت کے ساتھ گٹھ جوڑ کر کے اسے پاکستان میں شامل نہیں ہونے دیا۔ اس وقت سے آج تک پاکستان کا بننے والا یہ حصہ ایک متنازعہ صورت میں قائم چلا آ رہا ہے۔
اس مسئلے پر تین جنگیں بھی ہو چکی ہیں لیکن یہ مسئلہ جوں کا توں ہے۔ اس کی ایک وجہ تو قابض ملک بھارت کا وہ رویہ ہے جو عدل و انصاف کے مسلمہ اُصولو ں اور بین الاقوامی ضابطوں کے سراسر خلاف ہے۔ دوسرے، استعمال ملکوں کے مفادات ہیں جو اس وقت قوت کے نشے میں مخمور دنیا کے چودھری بنے ہوئے ہیں، وہ اس کے حل میں رکاوٹ ہیں۔ وہ نہیں چاہتے کہ یہ مسئلہ پاکستان کی خواہش کے مطابق حل ہو۔ تیسرے، بھارت جو نسبتا پاکستان سے بڑا ملک ہے اور کافر ہے، بینُ الاقوامی طاقتیں اسے ناراض کرنا پسند نہیں کرتیں، بلکہ اس کی ناز برداری میں لگی رہتی ہیں۔ چوتھے، خود پاکستانی حکمرانوں کا رویہ بھی اس میں رکاوٹ چلا آ رہا ہے، جس کی مختصر تفصیل حسبِ ذیل ہے:
ہمارے پاکستانی حکمران بدقسمتی سے جہاد کی اہمیت اور جذبے سے عاری ہی رہے ہیں۔
  • اگست
1999
مفتی محمد عبدہ الفلاح
قرآنِ پاک نوع انسانی کے لئے مکمل ضابطہ حیات ہے اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی صداقت پر دائمی معجزہ، اس نے اپنے نزول کے ساتھ تاریخ عالم کا دھارا بدل دیا اور پھر اپنی جامعیت اور گہرائی کے اعتبار سے ہر دور میں انسانی عقل و فکر کے لئے رہنما ہے۔ اس کی زبان معجزانہ ہے اور اندازِ بیان اچھوتا، اس کی تفسیر و تاویل، اِعجاز و اِعراب، تاریخ و جغرافیہ، اُسلوبِ بیان وغیرہ پر جس قدر لکھا جا چکا ہے وہ بھی معجزہ سے کم نہیں۔ ہر دور میں مفسرین نے اپنے خصوصی ذوق اور ماحول کے مطابق اس کی خدمت کی ہے جس سے تفسیر اور علومِ قرآنی کا دائرہ وسیر تع ہو گیا ہے۔ دوسری صدی کے علماء کی تفاسیر پر نظر ڈالیں تو وہ صرف صحابہ و تابعین کے اقوال پر مشتمل نظر آئیں گی مگر اس کے بعد ہر دور میں علوم تفسیر میں اضافہ ہی نظر آتا ہے حتیٰ کہ فی زمانہ یہ علوم اس قدر پھیل چکے ہیں کہ کسی ایک علم پر احاطہ بھی مشکل ہے اور علومِ تفسیر نے اس قدر ارتقائی شکل اختیار کر لی ہے کہ ان کا تاریخی جائزہ بھی بجائے خود ایک اہم موضوع بن چکا ہے۔ ان علوم کے ارتقاء اور ان کی تفصیل سے قطع نظر یہاں پر ہم صرف ان وسائل و عناصر کو موضوعِ سخن بناتے ہیں جو قرآن فہمی میں ممدومعاون ہو سکتے ہیں اور جن کے ملحوظ رکھنے سے قرآن فہمی مشکل ہے اور پھر ان عناصر کی تربیتی حیثیت سے صرفِ نظر کرنا بہت سے گمراہیوں اور لغزشوں کا موقجب بن سکتی ہے
  • اگست
1999
ثنااللہ مدنی
٭ذِکر و اَذکار میں گنتی متعین کر لینے اور تسبیح پھیرنے کا حکم؟
٭ مُحدث میں شائع شدہ دو جوابوں پر اعتراضات کا جائزہ
٭ کاروبار میں شراکت، مالِ وراثت کی تقسیم ۔۔
٭ مسند احمد کی ایک روایت پر سوالات کے جوابات
٭ سوال: ذکر میں اپنی طرف سے گنتی متعین کرنے نیز تسبیح پھیرنے کا کیا حکم ہے؟
جواب: ذکر و اَذکار اور وِرد و وَظائف کے سلسلہ میں اصل یہ ہے کہ کتاب و سنت کی نصوص میں جہاں کہیں تعداد اور وقت کا تعین ہے، وہاں اُن کا اہتمام ہونا چاہئے اور جس جگہ ان کو مطلق چھوڑا گیا ہے وہاں اپنی طرف سے متعین کرنا بدعت کے زمرہ میں شامل ہے۔ صحیح حدیث میں ہے " من أحدث في أمرنا هذا ما ليس منه فهو رد " یعنی "جو دین میں اضافہ کرے وہ اضافہ ناقابل قبول ہے"
مسنون وِرد وظائف میں گنتی سو سے زیادہ منقول نہیں ہے۔ علامہ البانی نے سلسلة الاحاديث الضعيفة میں اس امر کی تصریح کی ہے۔
  • اگست
1999
ارشاد الحق اثری
محترم و مکرم مولانا عبدلرحمٰن مدنی صاحب ۔۔ زادکم اللہ عزا و شرفا
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ                     مزاجِ گرامی!
"محدث" الحمدللہ ہر ماہ باقاعدہ مل رہا ہے بلکہ اس کے وقیع مضامین کی بنا پر اس کے آنے کا انتظار رہتا ہے۔ اللہ سبحانہ و تعالیٰ آپ کی خدمات کو قبول فرمائے اور اس ماہنامہ کے ذریعے جو علمی جہاد آپ کر رہے ہیں، اے شرفِ قبولیت سے نوازے ۔۔ آمین!
گذشتہ ماہ محرم الحرام 1419ھ کے شمارہ 5 میں ایک مضمون کی طرف آپ کی توجہ مبذول کرانا چاہتا ہوں جسے مولانا عبدالرحمٰن عزیز نے "سانحہ کربلا میں افراط و تفریط کا جائزہ" کے عنوان سے رقم فرمایا ہے۔ میرا خیال تھا کہ کوئی رجل رشید اس پر توجہ فرمائے گا مگر اس کے بعد شمارہ نمبر 6 موصول ہوا تو یہ خیال خواب ثابت ہوا یا کسی مہربان نے شائد اس کی ضرورت ہی محسوس نہیں کی۔ اس لئے مجبورا اپنے احساسات کا اظہار آپ کی خدمت میں ارسال کر رہا ہوں۔ اُمید ہے کہ آئندہ شمارہ میں اسے شائع کر دیں گے تاکہ اس موضوع سے متعلق ایک دوسرا پہلو بھی قارئین کرام معلوم کر سکیں۔ (اثری)
  • اگست
1999
خرم علی بلہوری
جماعتِ مجاہدین، جسے شہیدین سید احمد شہید رحمۃ اللہ علیہ اور شاہ اسمعیل شہید رحمۃ اللہ علیہ نے تحریکِ احیاءِ سنت صلی اللہ علیہ وسلم کے نتیجے میں آج سے 175 برس قبل منظم کیا تھا، مسلمانانِ ہند کی تاریخ کا ایک درخشاں باب ہے۔ اس دور میں جب تختِ دہلی پر انگریز اور تحتِ لاہور پر سکھ راج کی حکومت تھی، مسلمانانِ ہند کو منظم کر کے صوبہ سرحد کو اپنا مستقر بنا کر اس تحریک کے سرفروشوں نے ایک نئی سادتانِ شجاعت رقم کی۔ 1826ء سے 1864ء تک پھیلی مجاہدین کی ان سرگرمیوں اور کامیابیوں نے امتِ مسلمہ میں ایک نئی روحِ جہاد پھونک دی۔ اس جہاد کا امتیازی پہلو یہ تھا کہ مجاہدین جن کا ہندوستان بھر سے مالی اِعانت کا ایک منظم جال تھا، نے آزاد علاقوں (صوبہ سرحد کے بعض شہروں) میں اپنا ٹھکانہ بنا کر جہاد کا احیاء کیا، کیونکہ اسی صورت میں وہ جہاں غیروں کی جہادی مقاصد میں دخل اندازی سے محفوظ رہ سکتے تھے وہاں جہاد کے خاطر خواہ نتائج بھی حاصل کر سکتے تھے ۔۔ جہاد اسلام کی بلند ترین چوٹی اور امتِ مسلمہ کی عزت کی ضمانت ہے۔ امتِ مسلمہ کے ساتھ ساتھ آخری دم تک جہاد بھی باقی رہے گا۔
  • اگست
1999
حسن مدنی
محدث کے گذشتہ شماروں میں راقم نے کمپیوٹر کے حوالے سے مضامین کا ایک سلسلہ شروع کیا تھا، جس کے بارے میں قارئین سے آراء طلب کی گئی تھیں کہ آیا اِن مخصوص نوعیت کے مضامین کو جاری رکھا جائے یا نہیں۔ یہ امر میرے لئے باعثِ مسرت ہے کہ صرف دو مضامین کی اشاعت پر جس کثرت سے قارئین نے اپنا رد عمل ریکارڈ کرایا، اس سے قارئین کی اس موضوع سے دلچسپی کھل کر سامنے آ گئی۔ مختلف علمی و تحقیقی اداروں سے ان شمارہ جات کی اس قدر زیادہ طلب رہی کہ اب یہ شمارے ادارہ کے ریکارڈ میں بھی تقریبا ناپید ہو چکے ہیں۔ بہرحال یہ ہمارے قارئین کی علمی دوستی اور اس رجحان کی ایک طرح ترجمانی ہے کہ اسلام اور علم و تحقیق سے وابستہ حضرات ایسے موضوعات سے غافل نہیں بلکہ وہ کچھ جاننا چاہتے اور ان جدید وسائل علم سے استفادہ کرنے کے شدید خواہش مند ہیں۔
  • اگست
1999
ادارہ
افسوس ہے کہ 30 جون 1999ء کو تقریبا صبح 6 بجے معروف عالم، بلند پایہ مدرس، شیخ الحدیث والتفسیر مولانا محمد عبدہ الفلاح رِحلت فرما گئے، انا لله وانا اليه راجعون
جامعہ سلفیہ فیصل آباد میں، جس کے محلہ حاجی آباد میں مرحوم کی رہائش تھی، نمازِ ظہر کے بعد ان کی نماز جنازہ ادا کی گئی، پہلی نماز ان کے فاضل تلمیذ حافظ عبدالعزیز علوی صاحب شیخ الحدیث جامعہ سلفیہ نے پڑھائی۔ اس کے تھوڑی ہی دیر بعد مرحوم کے ایک اور فاضل شاگرد مولانا حافظ ثناءاللہ مدنی شیخ الحدیث جامعہ لاہور الاسلامیہ (رحمانیہ) نے دوسری مرتبہ نماز جنازہ پڑھائی، جو لاہور سے قدرے تاخیر سے پہنچے تھے۔ نمازِ جنازہ کے بعد مرحوم کا جنازہ ان کے گاؤں سرواں چک 540 گ ب تحصیل سمندری ضلع فیصل آباد لے جایا گیا جہاں 6 بجے شام ان کی تدفین عمل میں آئی۔
نمازِ جنازہ میں جامعہ کے طلباء و اساتذہ کے علاوہ گوجرانوالہ، لاہور، فیصل آباد اور دیگر شہروں سے بکثرت علماء اور احباب، جماعت شریک ہوئے۔
  • اگست
1999
وصی اللہ مدنی
" مؤسسة الملك فيصل الخيرية " مملکتِ سعودی عرب کی مؤقر تنظیم ہے جس کے زیر اہتمام ہر سال عالم اسلام اور بیرونی دنیا کے مفکرین اُدباء، اَطباء اور علماءِ دین کو ان کی دعوتی، تبلیغی تصنیفی، سماجی اور رفاہی خدمات پر 'شاہ فیصل ایوارڈ' دیا جاتا ہے۔
سعودی عرب منطقہ عَسِير کے امیر شاہ خالد فیصل کے حسبِ ارشاد شعبان المعظم 1397ھ میں اس تنظیم کا قیام عمل میں لایا گیا۔ 1977ء میں اس تنظیم کے ذمہ داروں نے 'شاہ فیصل ایوارڈ' عالم اسلام کے نمایاں خدمات والے حضرات کو دئیے جانے کی قرارداد منظور کی اور " جائزة الملك فيصل العالمية " کا رئیس شاہ خالد فیصل کو مقرر کیا۔
شاہ فیصل ایوارڈ عالم اسلام میں اپنی نوعیت کا پہلا گرانقدر ایوارڈ ہے جو 1399ھ مطابق 1979ء میں پہلی بار دیا گیا اور اس وقت سے اب تک اس ایوارڈ کا سلسلہ جاری ہے۔ اب تک 157 افراد کو یہ ایوارڈ دیا جا چکا ہے۔ مختلف حوالوں سے نمایاں کارکردگی پیش کرنے والے حضرات کو اس ایوارڈ کے لئے منتخب ہونے پر تعریفی سند کے ساتھ ساتھ ساڑھے سات لاکھ سعودی ریال کا نقد انعام بھی دیا جاتا ہے۔