Pages from Muhaddas-175-May-1989

میرے پسندیدہ۔۔

اس صفحہ کو پسند کرنے کے لیے لاگ ان کریں۔

امام الفقہاءوالمحدثین ابو عبدالاللہ محمد بن اسمٰعیل البخاری رحمۃ اللہ علیہ(المتوفیٰ256)علم کی دنیا میں ایک مشہور ومعروف شخصیت ہیں۔ان کی امامت،جلالت،فقاہت اور حدظ واتقان کے سب ہی معترف ہیں۔ہمارے اسلاف میں سے بعض نے ان کی سیرت پر مستقل کئی کتابیں لکھی ہیں۔یہ ایک ناقابلِ تردید حقیقت ہےکہ کوئی کتناہی بلند مرتبت کیوں نہ ہو۔اسے تنقید کا نشانہ ضرور بنایا گیا ہے،وہ تنقید درست ہو یانہ ہو۔لوگوں کے طعن وتشنیع سے کوئی بھی نہیں بچ سکا۔امام ذہبی رحمۃ اللہ علیہ کی کتاب"میزان الاعتدال"میں اور رجال کی دیگر کتابوں میں اس کی متعدد مثالیں مل سکتی ہیں۔امام الفقہاءوالمحدثین بخاری رحمۃ اللہ علیہ بھی تنقید سے محفوظ نہیں رہ سکے۔ان پر بھی ان کے بعض معاصرین اور بعد ولوں نے مختلف انداز سے تعن وتشنیع کیا ہے۔اورتاہنوز کرتے آرہے ہیں۔اگرچہ اس قسم کے مطاعن سے امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ کی عظمت وجلالت اور مقام ومرتبت میں کوئی فرق نہیں پڑتا البتہ بعض کم علم لوگوں کے دلوں میں طرح طرح کو شکوک وشبہات ضرور پیدا ہوجاتے ہیں۔آج ہم اس مجلس میں جس بات کو زیرِ بحث لانا چاہتے ہیں اس کا بھی اسی سے تعلق ہے۔

امام نعمان بن ثابت ابو حنیفہ رحمۃ اللہ علیہ کی طرف سے بے جادفاع اور وکالت کرنیوالوں نے اپنی حقیقت کو پردہ میں رکھنے کی غرض سے ایک غلط اور بےبنیاد شوشہ چھوڑا ہے کہ اگر امام ابو حنیفہ رحمۃ اللہ علیہ پر جرح کی گئی ہے تو کیا ہُوا جِرح سے کون محفوظ ہے۔امام ابو حاتم رحمۃ اللہ علیہ نے بھی امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ جیسی شخصیّت پر جرح کی ہے۔مگر اہل علم جانتے ہیں کہ امام نعمان بن ثابت رحمۃ اللہ علیہ کوفی پرمتعدد محدثین کرام کی واضح اور مفلس جرح ہے۔ہم اس وقت اس بحث میں نہیں پڑنا چاہتے کہ کوفی امام پر کس کس نے جرح کی ہے اور کن لفظوں سے کی ہے؟یہ ایک مستقل اور مخصوص نشست کا محتاج موضوع ہے۔ہم اس وقت ان بعض مدافعین اور وکیلوں کے اس قول کو حقیقت بتانا چاہتے ہیں کہ امام ابو حاتم رحمۃ اللہ علیہ،امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ کے جارح ہیں چنانچہ مولوی سرفرازخان صفدر دیوبندی کے شاگرد مولوی حافظ حبیب اللہ ڈیروی جنہوں نے رفع الیدین کے ترک پر ایک بھاری بھرکم بےفائدہ کتاب"نور الصباح فى ترك رفع اليدين بعد الافتتاح"( یہ کتاب نورالصباح کیا ہے؟ اس پر مختصر مگر جامع تبصرہ مولانا ارشادالحق اثری حفظہ اللہ نے اپنے رسالہ "(عربی)" میں کر دیا ہے۔ یہ رسالہ مکتبہ سلفیہ لاہور سے شائع ہو چکا ہے۔ بندہ ناچیز نے نور الصباح میں ڈیروی صاحب کی پیش کردہ پہلی دلیل پر متعدد اعتراضات لکھ کر بذریعہ رجسٹری ان کو بھیجے۔ مزید یکے بعد دیگرے چار رجسٹریاں بھیجیں۔ انہوں نے ان کو وصول بھی کیا ہے مگر تا ہنوز جواب سے مبہوت ہیں، ایک کا بھی جواب نہیں دیا، باوجودیکہ میں نے بڑی سختی سے جواب کا مطالبہ کیا تھا۔ اعتراضات کی اصل کاپی میرے پاس محفوظ ہے)لکھی ہے وہ اپنی اسی کتاب کےص157میں لکھتے ہیں۔

"بعض متعصبین نے حضرت امام اعظم رحمۃ اللہ علیہ پر جرح کی ہے اور یہ جرح ہرذیشان شخصیت پرہوئی ہے۔حضرتس امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ بھی جرح سے محفوظ نہیں رہے،چنانچہ امام ابو حاتم رحمۃ اللہ علیہ امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ کو متروک الحدیث قراردیتے ہیں۔"(مقدمۃنصب الرایۃ ص58)

ایک اور مقام پرلکھتے ہیں:"امام ابو حاتم رحمۃ اللہ علیہ و نسائی رحمۃ اللہ علیہ متشدد ومتعنت ہیں۔"نصب الرایۃص58میں ہےکہ امام ابو حاتم رحمۃ اللہ علیہ نے حضرت امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ پر جرح کی ہے اور متروک الحدیث تک کہہ دیا ہے۔"

(نور الصباح ص110)

آگے بڑھنے سے پہلے مناسب معلوم ہوتاہےکہ مقدمہ نصب الرایہ کی عبارت کو بھی ایک نظر دیکھتے چلیں۔مشہور متعصب ومتعسف حنفی شیخ محمد زاہد بن حسن کوثری جنہوں نے علامہ زیلعی حنفی کی کتاب"نصب الراية فى تخريج احاديث الهداية"پرایک طویل مقدمہ لکھاہے مقدمہ کے آخر میں"كلمة فى كتب الجرح والتعديل"عنوان کے تحت ص58پرلکھتے ہیں:

"كتب الحرج والتعديل لابن ابى حاتم فبعد ان ترى فيه كلامة فى البخارى شىخ حفاظ الامة ,تركه ابوزرعة وابوحاتم تعلم مبلغ تهوره"

"امام ابو حاتم رحمۃ اللہ علیہ کی کتاب الجرح والتعدیل میں جب آپ شیخ حفاظ الامۃ امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ کے بارے میں ان کا(یعنی ابن ابی حاتم رحمۃ اللہ علیہ کا کلام ملاحظہ کریں گے کہ امام ابوزرعہ رحمۃ اللہ علیہ اور امام ابو حاتم رحمۃ اللہ علیہ نے امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ کو ترک کردیا تھا،تو آپ کو امام ابن ابی حاتم رحمۃ اللہ علیہ کے ساقط کلام کا اندازہ ہو جائے گا۔"

قارئینِ کرام!آپ کوثری اور ڈیروی کے اس کلام سے یقیناََ چونک گئے ہونگے۔کہ امام ابو حاتم رحمۃ اللہ علیہ نے امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ کو متروک الحدیث کہا ہے اور متروک الحدیث واقعی محدثینِ کرام کی اصچلاح میں ایک شدید جرح ہے۔مگر حقیقت یہ ہےکہ امام ابو حاتم رحمۃ اللہ علیہ اور امام ابوزرعۃ رحمۃ اللہ علیہ نے امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ پر جرح کی ہے اور نہ ہی انہیں متروک الحدیث کہا ہے۔یہ کوئی امام کی طرف سے بےجادفاع کرنیوالوں کی عجلت کا ثمرہ ہے۔ہماری ناقص معلومات کے مطابق محدثین کرام مٰن سے کسی نے بھی امام ابو حاتم رحمۃ اللہ علیہ کو امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ کا جارح نہیں قراردیا۔کوثری پہلا شخص ہے جس نے یہ غلط تاثر دیا ہے اور کوثری کی محدثین سے دشمنی اہلِ علم کے ہاں کوئی ڈھکی چھپی بات نہیں۔کوثری کی اندھی تقلید میں ڈیروی نے اُسے اور بھی بُرے رنگ میں پیش کیا ہے۔

اب آئیے ہم آپ کو حقیقتِ حال واضح کریں کہ بات کچھ اور تھی،جسے عاقبت نااندیش لوگوں نے ایک دوسرے رنگ میں پیش کیا ہے۔امام ابن ابی حاتم رحمۃ اللہ علیہ نے کتاب"الجرح والتعديل ج7 ص191 طبع بيروت"میں امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ کا ترجمہ،ان لفظوں میں ذکر کیاہے۔

«محمد بن اسمعيل البخارى ابو عبدالله قدم عليهم الرى سنة مائتين وخمسين روى عن عبدان المروزى ابى همام الصلت بن محمد والفريابى وابن ابى اويس سمع منه ابى وابوذرعة ثم تركا حديثه عند ماكتب اليهما محمد بن يحيي النيسابورى انه اظهر عندهم ان لفظه بالقرآن مخلوق»

ابو عبداللہ محمد بن اسمٰعیل بخاری رحمۃ اللہ علیہ سئہ250ھ میں مقام رے آئے۔عبدان مرزوی رحمۃ اللہ علیہ،ابو ہمام صلت بن محمد رحمۃ اللہ علیہ،فریابی رحمۃ اللہ علیہ اور ابنِ ابی اویس رحمۃ اللہ علیہ سے احادیث روایت کیں۔ان سے میرے والد(ابو حاتم رحمۃ اللہ علیہ)اورابوزرعہ رحمۃ اللہ علیہ نے سماع کیا۔پھر جب امام محمد بن یحییٰ نیشاپوری رحمۃ اللہ علیہ نے ابو حاتم رحمۃ اللہ علیہ اورابوزرعہ رحمۃ اللہ علیہ کی طرف لکھاکہ امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ نے ہمارے ہاں"لفظى بالقرآن مخلوق"عقیدہ کا اظہار کیا ہے تو انھوں نے حدیث ترک کردی۔"

قارئین کرام!غور کریں کہ امام ابنِ ابی حاتم کے پیش کردہ اس ترجمہ میں کونسی ایسی عبارت ہے جس کا مفہوم یہ ہوکہ امام ابو حاتم رحمۃ اللہ علیہ اورابوزرعہ رحمۃ اللہ علیہ نے امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ کو متروک الحدیث قراردیاہے۔جیسا کہ ڈیروی تاثر دینا چاہتے ہیں۔صرف اتنی سی بات ہے کہ امام محمد بن یحییٰ ذھلی رحمۃ اللہ علیہ کے خط لکھنے کی وجہ سے ان دونوں نے سماع ترک کردیاتھا۔اوریہ بات معمولی طالبِ علم بھی جانتا اور سمجھتا ہے کہ کسی استاذ سے ترکِ سماعِ حدیث،شیخ کے متروک الحدیث ہونے کو متلزم نہیں،امام ابو حاتم رحمۃ اللہ علیہ وابوزرعہ رحمۃ اللہ علیہ کے ہمعصر امام مسلم بن الحجاج القشیری رحمۃ اللہ علیہ محمد بن یحییٰ ذہلی رحمۃ اللہ علیہ سے سماعِ حدیث کرتے تھے۔جب امام ذہلی رحمۃ اللہ علیہ نے فرمایا:

"الا من قال لفظى بالقرآن مخلوق فلا يحضرنا فقام مسلم من المجلس"تذكرة الحفاظ ج2ص589"

علامہ ابنِ خلکان رحمۃ اللہ علیہ دفیات الاعیان ج5ص195-194میں لکھتے ہیں:

"فلما كان يوم مجلس محمد بن يحيى قال فى آخر مجلسه الا من قال باللفظ قلا يحل له ان يحضر مجلسنا فاخذ مسلم الرداء فوق عمامته وقام على رءؤس الناس وخرج من مجلسه و جمع كل ما كتب منه وبعث به على ظهر حمال الى باب محمدبن يحي فاستحكمت بذلك الوحشة ونخلف عنه وعن زيارته لفظى بالقرآن مخلوق"

کا قائل ہے وہ ہماری مجلس میں نہ آیاکرے امام مُسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اپنی پگڑی کے اوپر چادر لی اور لوگوں کی موجودگی میں اُٹھ کھڑے ہُوئے اور امام ذہلی رحمۃ اللہ علیہ کی مجلس سے چل دئیے۔اورپھر جو کچھ بھی امام ذہلی سے احادیث لکھی تھیں وہ ایک آدمی کی پیٹھ پر رکھ کر ان کی طرف بھجوادیں۔اسی وجہ سے ان کے مابین چپقلش مستحکم ہوگئی اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ آئندہ کے لیے امام ذہلی رحمۃ اللہ علیہ کی زیارت سے بھی محروم رہ گئے۔

اس واقعہ کو تقریباََ انہی لفطوں سے حافظ ابنِ حجر رحمۃ اللہ علیہ نے"هدى السارى فى مقدمة فتح البارى ص491"میں بھی ذکر کیا ہے۔اس واقعہ کو پیش کرنے سے یہ مقصود ہے کہ امام ابو حاتم رحمۃ اللہ علیہ اورابوزرعہ رحمۃ اللہ علیہ نے جن کے کہنے پر امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ سے سماعِ حدیث ترک کردیاتھا خود اسی امام سے امام مسلم بن الحجاج رحمۃ اللہ علیہ نے بھی سماع ترک کردیاتھا۔توکیا اس وجہ سے امام ذہلی رحمۃ اللہ علیہ کو بھی متروک الحدیث قراردیاجاسکتا ہے؟کوثری وڈیروی صاحبان کیا یہ بتاسکتے ہین کہ کسی محدث نے امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے ترکِ سماع کے باعث امام ذہلی کو متروک الحدیث کہاہے؟اگرنہیں کہا اور یقیناََ نہیں کہا تو آخر اس کی وجہ؟

پھر اس طور پر بھی غور کریں کہ امام ذہلی رحمۃ اللہ علیہ کی جس بات کے پیشِ نظر امام ابو حاتم رحمۃ اللہ علیہ وابوزرعہ رحمۃ اللہ علیہ نے امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ سے ترکِ سماع کیا تھا وہ امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ میں سرےسے تھی بھی یاکہ نہیں؟امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ کو جب یہ معلوم ہواکہ میرے بارے میں بعض لوگ یہ پروپیگنڈاکررہے ہیں تو انھوں نے سختی سے اس کا انکار کیا۔امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ کے دوسرے شاگرد امام محمد بن نصرمروزی رحمۃ اللہ علیہ فرماتےہیں:

"سمتعه يقول من زعم انى قلت : لفظى بالقرآن مخلوق فهو كذاب فانى لم اقله فقلت له يا ابا عبدالله قد خاص الناس فى هذا فاكثروا فقال ليس الا ما اقول لك"

میں نے امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ سے سنا انھوں نے فرمایاجویہ کہتا ہےکہ میں"لفظى بالقرآن مخلوق"کاقائل ہُوں تو وہ جُھوٹا ہے۔میں نے یہ نہیں کہا ہے۔مروزی رحمۃ اللہ علیہ کہتے ہیں،میں نے کہا اے ابو عبداللہ لوگ تو اس بارے میں بہت کچھ باتیں کررہے ہیں۔انھوں نے فرمایا،میں نے آپ سے جو کہہ دیا ہے کہ میں اس کا قائل نہیں ہوں۔"

اس سے معلوم ہُوا کہ جس بات کے پیشِ نطر امام ابو حاتم رحمۃ اللہ علیہ وابوزرعہ رحمۃ اللہ علیہ نے امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ سے ترکِ سماع کیا تھا وہ محض پروپیگنڈاتھا۔

ہماری یہ توضیح اس پر موقوف ہےکہ اگر ہم امام ابنِ ابی حاتم رحمۃ اللہ علیہ کے نقل کردہ کلام کو امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ کے بارے میں جرح تسلیم کرلیں۔مگر حقیقت یہ ہےکہ اس سے نہ تو جرح ثابت ہوتی ہے اور نہ ہی اس بات کا ثبوت مِلتا ہےکہ امام ابو حاتم رحمۃ اللہ علیہ وابوزرعہ رحمۃ اللہ علیہ نے کبھی بھی امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ کے بارے میں کلام کیا ہے۔بلکہ اس کے برعکس یہ دونوں امام رحمۃ اللہ علیہم،امام بخاری کے مدّاح اور اُن کے حق میں اچھی رائے اور خیالات رکھنے والوں میں سے ہیں حافظ ابنِ حجر رحمۃ اللہ علیہ"ذكر طرف من ثناء اقرانه طائفة من اتباعه عليه"کے عنوان کے تحت سب سے پہلے انہی دونوں اماموں سے امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ کے بارے مین ثناءنقل کی ہے وہ لکھتے ہیں:

" قال ابو حاتم الرازى لم تخرج خراسان قط احفظ من محمد بن اسمعيل ولا قدم منها الى العراق اعلم منه"هدى السارى ص484

"امام ابو حاتم رحمۃ اللہ علیہ نے فرمایا خراسان کی زمین نے محمد بن اسمٰعیل(بخاری رحمۃ اللہ علیہ)سے زیادہ صاحبِ حفظ نہیں نکالا،اورخراسان سے عراق کی طرف اُن سے زیادہ صاحبِ علم نہیں آیا۔"

حافظ ابن حجر رحمۃ اللہ علیہ نے تہذیب التہذیب ج9ص54مین اور خطیب بغدادی رحمۃ اللہ علیہ نے تاریخِ بغدادج2،صفحہ23میں اس قول کو ذکرکیاہے۔

امام ابوزرعۃ رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں؛

"فمارأيت خراسانيا افهم منه"(تہذیب التہذیب ج نو9،ص55۔)میں نے خراسانیوں میں امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ سے بڑھ کر زیادہ صاحبِ فہم نہیں دیکھا۔

محمد بن حریث فرماتے ہیں کہ میں نے امام ابوزرعۃرحمۃ اللہ علیہ سے عبد اللہ بن لہیعہ رحمۃ اللہ علیہ کے بارے مین پُوچھا تو انہوں نے فرمایا"تركه ابوعبدالله"امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ نے اُسے ترک کردیا ہے مطلب یہ کہ جب امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ نے اُسے ترک کردیاہے تو یہ ثقہ کیسے؟

یہ دلائل مقتضی ہیں کہ امام ابوحاتم رحمۃ اللہ علیہ وابوزرعہ رحمۃ اللہ علیہ امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ کو متروک الحدیث سمجھتے تھے اور نہ ہی ان پر کسی اور طرح سے جرح کرتے تھے۔یہ محض کوثری اور ڈیروی کا امامین پر الزام ہے۔اگر ہم اُسے جرح تسلیم کرلیں تو جس کوفی امام سے کوثری اور ڈیروی صاحبان نے بےجادفاع کیا ہے خود ان کے بارے میں یہی کلمات ثابت ہیں۔چنانچہ یہی امام ابنِ ابی حاتم رحمۃ اللہ علیہ"كتاب الجرح والتعديل ج8ص449"میں امام نعمان بن ثابت ابو حنیفہ رحمۃ اللہ علیہ کے ترجمہ میں امام صاحب کے شاگردوں کا تذکرہ کرتے ہُوئے لکھتے ہیں:

"ثم تركه ابن المبارك بآخرة سمعت ابى يقول ذلك"

امام عبداللہ ابن مبارک رحمۃ اللہ علیہ نے آخر میں ابوحنیفہ رحمۃ اللہ علیہ کو ترک کردیاتھا(بلکہ ڈیروی صاحب کے ہاں ترجمہ یوں ہوناچاہیے کہ ابن المبارک رحمۃ اللہ علیہ نے ابوحنیفہ رحمۃ اللہ علیہ کو متروک الحدیث قراردیا)۔میں نے اپنے والد(ابو حاتم رحمۃ اللہ علیہ)سے سُنا انھوں نے یہ فرمایا۔

امام ابن المبارک رحمۃ اللہ علیہ کے اس قول کے پیشِ نظر محدثینِ کرام میں سے کسی نے بھی امام ابو حنیفہ رحمۃ اللہ علیہ کو متروک الحدیث نہیں قراردیا۔اگرچہ امام ابو حنیفہ رحمۃ اللہ علیہ کے جملہ جارحین میں ابن المبارک رحمۃ اللہ علیہ بھی شامل ہیں اور وہ جرح بھی معقول ہے۔

خلاصہ کلام یہ ہےکہ کوثری نے"نصب الرایہ"کے مقدمہ مٰن،اورڈیروی نے"نور الصّباح"مین جو یہ تاثر دینے کی کوشش کی ہے کہ امام ابوحاتم رحمۃ اللہ علیہ نے امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ کو متروک الحدیث کہا ہےیہ بالکل غلط ہے۔نہ صرف یہی بلکہ یہ اور اس قسم کی دیگر چند باتیں محدثین دشمنی کا مظہرہیں۔ہماری اس مختصر توضیح سے بھی ڈیروی صاحب کی کتاب"نورالصباح"کے مافیہ کا اندازہ لگایا جاسکتا ہے۔موصوف نے کئی ایسے رواۃ جو واقعی متروک الحدیث بھی ہیں ان کو ثقہ ثابت کرنے کی پوری کوشش کی ہے۔گرچہ اس عمل میں ان کو کتنے ہی پاپڑ کیوں نہیں بیلنے پڑے۔مگر دوسری طرف رفع الیدین کی روایات کے متفقہ ثقہ رواۃ کی تضعیف میں کوئی کسرنہیں چھوڑی۔حالانکہ یہ اہلِ علم کا شیوا نہیں ہے۔

"وما علينا الاالبلاغ