آہ شیخ عبدالعزیز بن عبداللہ بن باز رحمہ اللہ تعالیٰ
علم و عمل اور ہدایت کے آفتابِ عالم کا غروب

افسوس ہے کہ 26 محرم الحرام 1420ھ، مطابق 13 مئی 1999ء بروز جمعرات عالم اسلام کی عظیم علمی شخصیت اور سعودی عرب کے مفتی اعظم سماحۃ الشیخ عبدالعزیز بن عبداللہ بن باز ریاض میں انتقال فرما گئے ۔۔۔ انا لله انا اليه راجعون !! دوسرے دن بروز جمعۃ المبارک خانہ کعبہ میں ان کی نمازِ جنازہ پڑھی گئی اور جنة المعلىٰ کے مشہور اور تاریخی قبرستان میں اُن کی تدفین عمل میں آئی۔ علاوہ ازیں سعودی عرب سمیت پورے عالم اسلام کے ہر شہر اور قریے میں شیخ مرحوم کی نماز جنازہ غائبانہ ادا ہوئی اور ان کی مغفرت اور رفع درجات کے لئے دعا کی گئی۔ پاکستان میں بھی ہر جگہ بڑی بڑی مساجد اہل حدیث میں نمازِ جنازہ غائبانہ کا اہتمام کیا گیا۔اس سلسلے میں لاہور میں جامع مسجد قدس اہل حدیث چوک دالگراں میں سب سے بڑا اجتماع ہوا، جس میں مولانا حافظ عبدالرحمٰن مدنی صاحب نے مرحوم کی نمازِ جنازہ پڑھائی اور اُن کی دینی، ملی اور علمی خدمات پر روشنی ڈالی۔
شیخ ابن باز، جو جوانی میں ہی (20 سال کی عمر میں) ظاہری بصارت سے محروم ہو گئے تھے، لیکن اللہ نے ان کو علمی بصیرت اور تفقہ میں اتنا اونچا مقام عطا فرمایا تھا کہ صرف سعودی عرب میں ہی نہیں، بلکہ پورے عالم اسلام میں ان کی علمی عظمت اور فقاہت کا سکہ چلتا تھا۔ اُن کا نام سنتے ہی ہر گردن جھک جاتی اور ہر سر، نگوں ہو جاتا تھا ۔۔۔ رحمه الله رحمة واسعة
اس کی وجہ وہ چند خصوصیات تھیں جن میں وہ اپنے اقران و اماثل میں نہایت ممتاز تھے، اس اعتبار سے ان کی شخصیت واقعی آیۃ من آیات اللہ کی مصداق اور ایک مثالی اور قابل تقلید نمونے کی حیثیت رکھتی ہے۔ جس کی مختصر تفصیل حسبِ ذیل ہے:
(1)اللہ تعالیٰ نے انہیں فکرونظر کی اِصابت کے ساتھ علم و فضل، اِستنباط مسائل کی قوت اور ملکہ اجتہاد سے نوازا تھا۔ آپ علوم و معارف کا ایک بحر بے کراں تھے اور تفقہ اور علمی استحضار میں نہایت ممتاز۔ یہی وجہ ہے کہ ان کے فتاویٰ و مقالات (جو گیارہ جلدوں تک پہنچ چکے ہیں) اجتہاد و تفقہ کے بہترین نمونے ہیں۔ جن میں کسی ایک فقہ کی پابندی کی بجائے کتاب و سنت کی رہنمائی میں توسع سے زیادہ کام لیا گیا ہے، براہِ راست قرآن و حدیث سے رہنمائی لی گئی ہے۔ بڑے بڑے اجتماعات اور مجالس میں شیخ سے ہر قسم کے مختلف سوالات کئے جاتے اور شیخ بروقت ایسے مدلل جواب سے نوازتے کہ آدمی ان کی قوتِ حافظہ، استحضار، ملکہ استنباط اور پرزور اندازِ استدلال سے حیران رہ جاتا۔ چند سال قبل راقم کو بھی جامعہ اُم القریٰ (مکہ مکرمہ) میں اُن کا ایک خطاب سننے اور اس کے بعد سوال و جواب کی نشست سے استفادہ کی سعادت حاصل ہوئی تھی۔ راقم نے حضرت الشیخ کی بابت جیسا کچھ سنا تھا، اُس سے کہیں بڑھ کر پایا۔ تفقہ و اجتہاد کی یہ صلاحتیں، جن سے شیخ مرحوم متصف تھے، بہت کم لوگوں کو ودیعت ہوتی ہیں۔ اس اعتبار سے وہ نہ صرف یہ کہ سعودی عرب کے مفتی اعظم تھے بلکہ در حقیقت عالم اسلام کے مفتی اعظم تھے۔ پورے عالم اسلام میں ان کے فتاویٰ اور تحقیقات کو نہایت اہمیت اور قدر کی نگاہ سے دیکھا جاتا تھا۔ اپنی اسی جلالتِ علمی کی وجہ سے وہ سعودی عرب کے علمی اداروں کی سربراہی پر فائز رہے۔ الجامعة الاسلامية (مدینہ یونیورسٹی) کے وائس چانسلر رہے، رابطہ عالم اسلامی (مکہ مکرمہ) کی مجلس اعلیٰ کے چئیرمین تھے، مکہ مکرمہ کی مساجد کی اعلیٰ عالمی مجلس کے ڈائریکٹر جنرل اور اسلامی فقہی اکیڈمی جدہ کے بھی ڈائریکٹر جنرل رہے۔ اسی طرح ادارہ بحوثِ علمیہ، افتاء و دعوت و ارشاد (ریاض) اور ہئیت کبار العلماء، کے سربراہ تھے۔
(2) علم و فضل کی وسعت کے ساتھ مرحوم دینی غیرت و حمیت اور حق گوئی و بے باکی میں بھی ممتاز تھے۔ جب بھی اور جہاں بھی کوئی منکر دیکھتے، تو شیخ بے قرار ہو جاتے اور اس کے خلاف جو ممکن ہوتا کر گزرتے، اگر وہ اسے حکما روکنے کی طاقت رکھتے، تو وہ اپنی علمی حیثیت کو حاکم وقت کے طور پر استعمال کرتے اور اسے ختم کرنے کی تاکید کرتے۔ ان کی اس دینی غیرت نے سعودی عرب میں اب تک بہت سے منکرات کے فروغ کو روکا ہوا تھا۔ دنیاوی وسائل کی فراوانی سے پیدا ہونے والی خرابیوں کی راہ میں شیخ کا وجود ایک سنگِ گراں، ایک بہت بڑی رکاوٹ اور سدِ مآرب تھا اور جس کی برکت سے سعودی معاشرہ بہت سے معاشرتی بے راہ رویوں سے محفوظ تھا۔ اگر وہ کسی منکر کو حکما روک سکنے کی طاقت نہ رکھتے تو زبان و قلم سے ضرور اس کے خلاف جہاد کرتے۔ لیکن منکر کے مقابلے میں خاموشی یا مداہنت و مصالحت کے وہ قطعا روادار نہ تھے۔ آج اہل علم کی اکثریت میں اس دینی غیرت کا فقدان ہے جس کی وجہ سے عالم اسلام میں منکرات و فواحش کا ایک طوفان برپا ہے، لیکن کوئی اس کے آگے بند باندھنے والا نہیں، حتیٰ کہ علماء قوتِ اظہار سے بھی محروم ہیں اور وہ دینی غیرت، جس نے ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ سے یہ جملہ کہلوایا تھا: اينقص الدين وانا حي "کیا میرے جیتے جی دین میں کمی کر دی جائے گی؟" ۔۔ اب وارثانِ منبر و محراب اور ھاملانِ علوم نبوت میں ناپید مہے۔ حالانکہ علمائے دین کا امتیاز ہی دینی غیرت و حمیت میں مضمر ہے۔ اگر وہ بھی اس امتیازی وصف سے محروم ہو جائیں تو ان میں اور عام آدمیوں میں کیا فرق باقی رہ جاتا ہے؟
(3) تیسری امتیازی خوبی، شیخ کا زہد و ورع اور تقویٰ تھا۔ آج کل کے علماء و داعیان میں اس کی بھی بڑی کمی ہے۔ وہ تقریریں تو بڑی لچھے دار کرتے ہیں، زبان و بیان کے جوہر تو خوب دکھاتے ہیں اور منبر و محراب اور اسٹیج پر تو اسلام پر عظیم الشان خطاب فرماتے ہیں، لیکن ان کا دامن عمل سے خالی ہوتا ہے، وہ صرف گفتار کے غازی ہوتے ہیں، کردار کے نہیں اور
ع            چوں بہ خلوت می روند کار دیگر می کنند
کا مصداق! ۔۔ یہی وجہ ہے کہ اِن کی زبانیں قوتِ تاثیر سے محروم اور ان کے مواعظ و خطبات اصلاح و انقلاب کی صلاحیت سے عاری ہیں۔ شیخ مرحوم جس طرح علم و فضل کے ذروہ علیا (بلند چوٹی) پر فائز تھے، اسی طرح عمل کے پیکر اور ورع و تقویٰ میں بھی بے مثال تھے۔ ان کی شخصیت اصلاح اور خیر کا جو ایک بڑا ذریعہ تھی، اس میں جہاں اُن کی جلالتِ علمی کا دخل تھا، وہاں اس میں ان کے کردار کی قوت بھی شامل تھی، علم و عمل کی یہ جامعیت ہی ہمارے اسلاف کا طرہ امتیاز تھی اور حضرت الشیخ رحمہ اللہ بھی اس دور میں اس کا ایک بہترین نمونہ تھے ۔۔ كثر الله فينا امثالهم
(4) چوتھی خوبی، ان کے مزاج و طبیعت کی سادگی تھی۔ اللہ نے انہیں بہت اونچے مقام پر فائز کیا تھا، وہ کروڑوں دلوں پر حکمرانی کرنے والے بے تاج بادشاہ تھے۔ دنیاوی وسائل کی بھی کوئی کمی ان کے ہاں نہ تھی، لیکن اس کے باوجود لباس سے لے کر طور اطوار تک ہر چیز میں سادگی نمایاں تھی۔ آج کل کے اہل علم و فضل میں اس خوبی کا بھی فقدان ہے۔ حالانکہ اہل علم کا سرمایہ افتخار سادگی ہی ہونا چاہئے نہ کہ شاہانہ کروفر، اہل دنیا کی سی بودوباش اور اہل ثروت کے سے طور اطوار۔
(5) ایک بڑی خوبی شیخ کی یہ تھی کہ گو انہوں نے اپنی بابت کبھی کسی مسلک و مکتب فکر سے وابستگی کا اظہار نہیں کیا، حتیٰ کہ حنبلیت سے بھی نہیں، جو سعودی عرب کی اکثریت کا مسلک ہے، اور اگر اُن کے اندر ایمان و تقویٰ کی کمزوری ہوتی، تو ضنبلیت سے وابستگی کا اظہار شاید ان کی منصبی مجبوری بھی ہوتی۔ لیکن اللہ تعالیٰ نے انہیں علمی رسوخ کے ساتھ چونکہ ایمان و تقویٰ کے زیور سے بھی آراستہ کیا تھا، اس لئے انہوں نے بھی یہ نہیں سوچا کہ حنبلیت کے برعکس کوئی دوسرا موقف اور نقطہ نظر اختیار کرنے سے کہیں وہ عتابِ شاہی کا مَورِد نہ بن جائیں۔ بلکہ انہوں نے جس مسلک اور موقف کو سچ سمجھا، اس کا برملا اظہار کیا۔ اس کے مطابق ہمیشہ فتویٰ دیا اور اسی رائے کو اختیار کیا جو قرآن و حدیث کے مطابق ہوتی۔ ان کے فتاویٰ اور مقالات میں سارا استدلال قرآن و حدیث سے ہی کیا گیا ہے، کہیں بھی صرف کسی ایک مسلک کے مطابق اپنی رائے کا اظہار نہیں کیا۔ ان کے اس طرزِ عمل نے سعودی عرب میں اہل حدیث مسلک کو بڑا فروغ دیا اور فقہی جمود کے خاتمے میں نہایت مؤثر کردار ادا کیا۔ غالبا اسی کا نتیجہ ہے کہ سعودی حکومت میں بھی اور وہاں کے اکابر علماء میں بھی فقہی جمود نہیں۔ اساتذہ، علماء، محققین اور اصحابِ فتویٰ و قضاء بالعموم فقہی توسع کے حامل ہیں اور ہر مسئلے میں بالخصوص جدید مسائل میں کسی ایک فقہ کی پابندی کرنے کی بجائے تمام فقہی آراء سے استفادہ کرنے اور قرآنی و حدیثیی دلائل کو ترجیح دینے کا رجحان اور طرزِ عمل عام ہے۔ کاش پورے عالم اسلام کے علماء اور اصحابِ درس و افتاء میں یہی ذوق و رجحان عام ہو جائے۔ کیونکہ آج اسی وسعتِ فکرونظر اور عدمِ جمود کی ضرورت ہے۔ اس کے بغیر جدید مسائل کا حل ناممکن ہے نہ فرقہ واریت کا علاج ہی۔ آج جہاں نئے نئے مسائل حل طلب ہیں، وہاں فرقہ وارانہ ذہنیت اور تشدد نے عالم اسلام کو نیم جان کر رکھا ہے اور ان دونوں کا حل اور علاج اسی طرزِ عمل میں ہے جو سعودی حکومت اور وہاں کے اکابر علماء و شیوخ نے اختیار کیا ہوا ہے اور جس کے فروغ اور ترقی میں شیخ ابن باز کے کردار و عمل اور مساعی حسنہ کا بڑا دخل ہے ۔۔ شكر الله سعيه و اجزل جزاءه
(6) شیخ کی چھٹی خوبی، اُن کا اعتدال و توازن تھا، جس کی ہر جگہ اور ہر معاملے میں شدید ضرورت ہے۔ سعودی عرب، جس کی بنیاد اگرچہ اسلام پر ہے اور اس کے بانی موجودہ حکمرانوں کے والد شاہ عبدالعزیز رحمہ اللہ تعالیٰ نے بڑے اخلاص اور سختی کے ساتھ اس ملک میں اسلامی نظام کو نافذ اور رائج کیا تھا، لیکن اب وسائل دنیا کی فراوانی اور جدید ترقیات کے اپنانے کے جذبہ جنون نے بتدریج موجودہ حکمرانوں میں اسلام کے معاملے میں وہ شدت باقی نہیں رہنے دی ہے جو ان کے والد مرحوم کے اندر اور اس مملکت کے ابتدائی دور میں تھی۔ اس کے نتیجے میں حکومتی سطح پر کچھ مداہنت اور کمزوری کے مظاہر سامنے آئے ہیں جو خالص دینی ذہن رکھنے والوں کے لئے بجاطور پر تشویش و اضطراب کا باعث ہیں۔ اس کے رد عمل میں شدت سے اسلام کے ساتھ وابستہ رہنے والوں کے دو رویے سامنے آئے۔ ایک فریق نے حکومت کی مداہنت پر مبنی پالیسی کو شدید تنقید کا نشانہ بنا ڈالا اور اس کے خلاف خم ٹھونک کر مقابلے میں آ گیا، حتیٰ کہ ان کے امیر نے مہدویت کا دعویٰ کر کے خانہ کعبہ تک پر قبضہ کرنے کی ٹھان لی، جس کے نتیجے میں اس فریق کی ایک بڑی قوت ضائع ہو گئی۔ یہ فریق جس کی پالیسی کے نتیجے میں آج سے تقریبا 19 سال قبل حرم کا حادثہ فاجعہ پیش آیا، سننے میں آیا ہے کہ شرارتی لوگ نہیں تھے بلکہ اسلام کے معاملے میں مخلص اور خود اپنی ذاتی زندگیوں میں اسلام پر کاربند تھے۔ اگرچہ ان کے بیشتر افراد کم عمر نوجوان تھے اور صالح و پاکباز، مگر ان کی جذباتیت، شدت پسندی اور اعتدال و توازن سے محرومی نے ان مخلص اور صالح نوجوانوں سے تاریخ اسلام کا ایک سیاہ باب رقم کروا دیا۔ علاوہ ازیں اس غلط اقدام سے انہوں نے اپنی ساری قوت بھی خود اپنے ہاتھوں ختم کر ڈالی۔
اس کے برعکس ایک دوسرا فریق ہے جو اسلام کے معاملے میں اُن سے کم مخلص نہیں اور اس پر عمل کرنے میں بھی اُن سے پیچھے نہیں۔ لیکن اس نے حکومت سے ٹکراؤ اور تصادم کا راستہ نہیں اپنایا، بلکہ اعتدال و توازن کی پالیسی اختیار کی، یعنی الدين النصيحة (دین خیر خواہی کا نام ہے) کے مطابق اپنے دائرے میں رہتے ہوئے خیرخواہی کا حق بھی ادا کیا اور منکرات کے ازالے کی اپنی سی سعی بھی کی، لیکن حریفانہ اور رقیبانہ طور پر نہیں، بلکہ حلیفانہ اور خیرخواہانہ انداز میں۔ اس کے نتیجے میں اس کی قوت و توانائی نہ صرف برقرار رہی بلکہ روز افزوں ہے اور حکومت بھی اسلام کے معاملے میں محتاط پالیسی اپنانے پر مجبور رہی اور ہے۔ حکومت اس فریق کی پالیسی کی وجہ سے اسلامی ذہن رکھنے والوں کے جذبات کا پاس کرنے پر مجبور ہے اور اسے نظرانداز کرنے کی جراءت سے محروم!
شیخ ابن باز رحمہ اللہ اِسی دوسرے فریق سے تعلق رکھتے تھے۔ انہوں نے اگرچہ کبھی مداہنت کا راستہ اختیار نہیں کیا اور نهى عن المنكر کا فریضہ نہایت بے خوفی سے ادا کیا۔ حتیٰ کہ اگر بادشاہ کے روبرو بھی کسی منکر کے خلاف بات کرنے کا مرحلہ آیا، تو وہاں بھی اس کے خلاف آواز بلند کرنے میں کوئی کمزوری نہیں دکھائی۔ لیکن انہوں نے یہ سارے کام اعتدال و توازن اور ایک خاص حکمتِ عملی کے تحت کئے، خیرخواہی کے انداز میں کئے اور تصادم اور حریفانہ کشمکش کے بغیر کئے۔ اس کا فائدہ یہ ہوا کہ اس فریق کی قوت بحمداللہ موجود اور برسرکار ہے، حکومت اس کے جذبات و افکار کا احترام کرنے پر مجبور ہے اور یوں دونوں کے باہمی تعاون سے، بعض مسائل میں اختلاف کے باوجود، نہ صرف سعودی عرب کے اندر بلکہ پورے عالم اسلام بلکہ دنیائے کفر سمیت پوری دنیا میں اسلام کی دعوت و تبلیغ، اس کی نشرواشاعت اور رشد و ہدایت کا اتنا عظیم کام ہو رہا ہے کہ اس کی مثال نہیں ملتی۔ شیخ رحمہ اللہ کی یہ پالیسی اور حکمتِ عملی بھی اسلامی ذہن رکھنے والوں کے لئے ایک بہترین نمونہ اور قابل تقلید مثال ہے۔ اسلام کی تعلیمات کا تقاضا بھی یہی ہے کہ حکومت کے مقابلے میں باغیانہ روش اور تصادم کا راستہ نہ اپنایا جائے کہ اس سے فساد میں اضافہ ہی ہوتا ہے اور موہوم یا مفروضہ نتائج کبھی حاصل نہیں ہوتے۔
(7) شیخ کی ایک خوبی، عالم اسلام کے مسلمانوں اور ان کے معاملات و مسائل میں بھرپور دلچسپی اور ان کے ساتھ گہری ہمدردی کی تھی۔ اس اعتبار سے ان کا معاملہ
خنجر چلے کسی پہ، تڑپتے ہیں ہم امیر
سارے جہاں کا درد ہمارے جگر میں ہے
کا آئینہ دار تھا۔ یہی وجہ تھی کہ دنیا بھر کے لوگ اپنے دینی اور دنیاوی معاملات لے کر ان کی خدمت میں آتے، شیخ نہ صرف ان سب کی باتیں سنتے، بلکہ عملی طور پر جو کچھ کر سکتے تھے، وہ خود بھی کرتے اور جو کچھ حکومت کے دوسرے اداروں میں کروا سکتے تھے، ان سے کرواتے۔ خود سعودی حکومت کی پالیسی بھی مسلمانانِ عالم کے مفادات کے تحفظ پر ہی مبنی ہے یوں شیخ کا یہ طرزِ عمل حکومت کی پالیسی ہی کا ایک تسلسل اور اس پر عمل بھی تھا اور اس محاذ پر دونوں کا باہمی تعاون مسلمانانِ عالم کے مفادات کے تحفظ اور ان کی فلاح و بہبود کا ضامن تھا۔
(8) شیخ کی ایک خوبی، بدعات و محدثات سے سخت نفرت تھی یہی وجہ ہے کہ مختلف بدعات و محدثات کے رد میں ان کے متعدد مقالے ہیں، جن میں سے بعض کتابچے کی شکل میں بھی شائع ہوئے ہیں
(9) حضرت الشیخ رحمۃ اللہ کی یہ اور اس قسم کی دیگر بہت سی خوبیاں ہی تھیں، جنہوں نے انہیں عوام و خواص حتیٰ کہ شاہی دربار تک میں بھی ہر دلعزیز اور مقبول بنا رکھا تھا۔ ہر چھوٹا بڑا، امیر اور غریب حتیٰ کہ ایک پاکباز مومن اور ایک فاسق و فاجر شخص بھی شیخ کا یکساں احترام کرتا تھا۔ طبقہ علماء میں مقبولیت کی یہ وسعت اور بے پناہی بہت ہی کم دیکھنے میں آئی ہے۔ پھر مقبولیت کا یہ عالم سعودی عرب تک محدود نہ تھا، بلکہ پورے عالم عرب، افریقہ، بلکہ پورے عالم اسلام تک وسیع تھا۔ پوری دنیا سے لوگ کشاں کشاں، والہانہ وارفتگی اور نہایت ذوق و شوق کے ساتھ شیخ کی زیارت کے لئے حاضر ہوتے اور ان کی زیارت سے مشرف ہو کر شاداں و فرحاں واپس لوٹتے۔
راقم کو بھی ایک مرتبہ ریاض میں ان کی رہائش گاہ پر ملاقات کے اس منظر کا مشاہدہ کرنے کی سعادت حاصل ہوئی ہے۔ اہل علم و فضل کا ایک جم غفیر تھا جو مختلف ملکوں اور علاقوں کے افراد پر مشتمل تھا۔ حضرت الشیخ نے نہ صرف سب کو شرفِ زیارت بخشا، بلکہ ہر شخص نے فردا فردا ملاقات، جبہہ بوسی اور مصافحہ کرنے کی سعادت حاصل کی۔شیخ ہر ایک سے خیریت اور ملک کا نام پوچھتے۔ کوئی شناسا ہوتا تو دیگر حالات و کوائف بھی معلوم کرتے۔ آخر میں سب کی قہوے کے ساتھ ضیافت کی جاتی یا کھانے کے اوقات میں شیخ اپنے ساتھ کھانے کے بڑے دسترخوان پر شریک فرماتے۔ افراد و وفود کی آمد اور ملاقات کا یہ سلسلہ بھی ایک مستقل سلسلہ تھا، لوگ اتنی کثرت اور ذوق و شوق کے ساتھ بادشاہوں کے پاس بھی نہ جاتے ہوں گے جتنی کثرت اور اپنائیت کے ساتھ لوگ شیخ کی زیارت اور جبہہ بوسی کے لئے حاضر ہوتے تھے
بہرحال شیخ کی خوبیاں اور کمالات اتنے متنوع اور زیادہ ہیں کہ مجھ جیسا ہیچ مرز اُنہیں بیان کرنے پر قادر نہیں۔ اللہ تعالیٰ نے انہیں مجموعہ کصائل حمیدہ، گنجینہ کمالاتِ فائقہ اور گوناگوں مناقب و محامد کا حامل بنایا تھا وليس لله بمستنكر ۔۔۔ ان يجمع العالم فى واحد
"اللہ کے لئے کوئی مشکل نہیں کہ کسی شخص میں ایک دنیا جلوہ گر فرما دے"
ان کی وفات یقینا عالم اسلام کے لئے ایک سانحہ عظیم ہے، ان کی وفات سے عالم اسلام ایک بطل جلیل، قائدِ عظیم، فقیہ و محدث، متکلم و مفکر، مرشد و مربی، مشفق و مہربان باپ اور خیرخواہ عظیم رہنما سے محروم ہو گیا ہے ۔۔ فانا لله انا اليه راجعون
ايتها النفس اجملى جزعا ۔۔۔ فان ما تحذرين قد وقعا
"اے جان! جس قدر ہو سکے غم و اندوہ کا تذکرہ کر لے، جس سے تو ڈرتا تھا، آج واقع ہو گیا"
اللهم اغفرله وارحمه وافسح له فى قبره وارفع درجته فى العليين