٭ زندگی میں صرف بعض اولاد کو ہبہ کرنا؟
٭ مسلم قبرستان کو منہدم کر کے وہاں کھیتی باڑی کرنا؟
٭ طلاقِ رجعی کی صورت میں علیحدگی کے بعد دوبارہ نکاح کا حکم؟
٭وسیلہ کے مسائل ٭مسئلہ وراثت اور اس کا حل

٭ اگر میاں بیوی زندہ اور صاحبِ حیثیت (صاحبِ نصاب) ہیں۔ اُن کی اولاد میں 3 بیٹے اور ایک بیٹی ہیں (وہ بھی سبھی شادی شدہ اور صاحبِ نصاب ہیں)۔ میاں بیوی اپنی جائیداد اور دیگر مالی اثاثہ جات میں بیٹی کے حصہ کا تعین کس طرح کریں۔ مزید یہ کہ میاں نے اپنی بیوی کے نام پر کافی جائیداد اور زرعی زمین خرید رکھی ہے۔ اس جائیداد میں میاں اور بیوی اپنی بیٹی کو اس کا حصہ کس طریقہ سے دیں؟
جواب: واضح رہنا چاہئے کہ جائیداد کی بطورِ وراثت تقسیم، انسان کی وفات کے بعد ہوتی ہے زندگی میں نہیں۔ ہاں البتہ آدمی زندگی میں بطورِ ہبہ اپنی اولاد کو جو چاہے دے سکتا ہے، لیکن اس صورت میں راجح مسلک کے مطابق، لڑکے اور لڑکی میں برابری ضروری ہے۔
چنانچہ صحیح حدیث میں ہے کہ حضرت نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: جب میرے والد نے مجھے ایک غلام ہبہ کر کے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اس پر گواہ بنانا چاہا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: "اس ہبہ سے رجوع کرو"
اور دوسری روایت میں ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: کیا تو نے اپنی باقی اولاد کو بھی اس کے مثل ہبہ کیا ہے؟ کہا: نہیں، تو فرمایا: "اللہ سے ڈرو اور اولاد میں عدل کرو" ۔۔ حدیث کے الفاظ "اس کے مثل ہبہ کیا ہے یا اس کے مثل دیا ہے" سے معلوم ہوتا ہے کہ اس بارہ میں ذكور و اناث میں فرق نہیں۔ کیونکہ اولاد کا لفظ لڑکے اور لڑکیوں، دونوں کو شامل ہے اور بعض روایات میں یہ بھی الفاظ ہیں کہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
"کیا تجھے یہ بات خوش کرتی ہے کہ تیری اولاد تیرے ساتھ برابر نیکی کرے؟ کہا: ہاں، فرمایا: پس میں اس ہبہ پر شہادت نہیں دے سکتا۔"
اس واقعہ نبوی صلی اللہ علیہ وسلم سے معلوم ہوا کہ والدین کا صرف لڑکی کو بطور ہبہ کوئی شے دینا اور لڑکوں کو محروم کر دینا یا اس کے برعکس کرنا غیر درست فعل ہے۔ سب اولاد کے ساتھ برابر سلوک ہونا چاہئے بعض کے صاحبِ حیثیت ہونے سے مسئلہ کی نوعیت میں کوئی فرق نہیں پڑتا تاہم اگر کوئی ٹھوس سبب ایسا پیدا ہو جائے جس سے صرف بعض اولاد کو عطیہ دینا پڑ جائے تو اس صورت میں بعض کو دینے میں کوئی حرج نہیں۔ مثلا کوئی دائم المرض ہو، مقروض ہو تو اس صورت میں ان کو خصوصی ہبہ کیا جا سکتا ہے، حافظ ابن حجر رحمۃ اللہ علیہ نے فتح الباری (شرح صحیح بخاری) میں اس امر کی تصریح کی ہے۔
٭ کیا شادی شدہ بھائی بھی اپنی جائیداد اور مالی اَثاثہ جات میں سے اپنی اکلوتی بہن کو حصہ دینگے؟
جواب: اس صورت میں بہن کے بھائی شرعا، اس کو حصہ دینے کے پابند نہیں۔ یہ ان کی مرضی پر منحصر ہے، اگر وہ کچھ دینا چاہیں تو حسبِ منشا دے سکتے ہیں۔
٭ قبرستان کو مسمار کر کے اس جگہ پر کھیتی باڑی کرنے، پھل کے درخت لگانے، مکان بنانے کا کیا حکم ہے۔ اسی طرح کھیت کی آمدنی کھانا اور اس مکان میں قرآن پڑھنے یا نماز پڑھنے کی قرآن و حدیث کی رو سے کیا شرعی حیثیت ہے؟
جواب: مسلمانوں کے قبرستان کو مسمار کر کے اس کی جگہ کھیتی باڑی یا پھل وغیرہ کے درخت لگانا یا مکان تعمیر کرنا، ناجائز ہے کیونکہ اس میں مسلمانوں کی توہین ہے اور یہ اکرامِ مسلم کے منافی فعل ہے ہاں البتہ مشرکین کی قبروں کو اُکھاڑا جا سکتا ہے۔ چنانچہ امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ نے اپنی صحیح میں ان الفاظ سے باب کا عنوان قائم کیا ہے: هل تنبش قبور مشركى الجاهلية ويتخذ مكانها مساجد؟ جس سے مقصود یہ ہے کہ "مشرکوں کی قبروں کو مسمار کر کے وہاں مسجدیں تعمیر کرنا جائز ہے۔"
پھر آپ رحمۃ اللہ علیہ نے اس واقعہ سے استدلال کیا ہے جس میں مسجدِ نبوی صلی اللہ علیہ وسلم کو مشرکون کی قبروں کی جگہ بنایا گیا تھا۔ حافظ ابن حجر رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں: أي دون غيرها من قبور الأنبياء وأتباعهم لما في ذلك من الإهانة لهم ، بخلاف المشركين فإنهم لا حرمة لهم (ج1، ص 524) یعنی
"مشرکوں کی قبروں کو مسمار کرنا جائز ہے، اس لیے کہ ان کی کوئی عزت نہیں لیکن انبیاء اور ان کے پیروکاروں کی قبروں کو مسمار کرنا ناجائز ہے کیونکہ اس میں ان کی توہین کا پہلو ہے۔"
فقہ حنفی میں ہے کہ: سئل القاضي الإمام شمس الأئمة محمود الأوز جندى فى مسجد لم يبق له قوم وخرب ما حوله واستغنى الناس عنه، هل يجوز جعله مقبرة ؟ قال لا .و سئل هو أيضا عن المقبرة في القرى إذا اندرست ولم يبق فيها أثر الموتى لا العظم ولا غيره هل يجوز زرعها واستغلالها ؟ قال لا , ولها حكم المقبرة . كذا في المحيط فلو كان فيها حشيش يحش و يرسل الدواب فيها كذا فى البحر الرائق (عالمگیری)
حاصل اس کا یہ ہے کہ "بوسیدہ قبرستان پر بھی کاشت وغیرہ نہ کی جائے۔ بلکہ ایسی جگہ کو اپنی اصلی حالت میں ہی بدل دیا جائے اور اگر کوئی صورت پیدا نہ ہو سکے تو پھر اس کی آمدنی اوقاف میں صرف کر دی جائے۔"
٭ کسی انسان کی وفات کے تقریبا ایک ہفتہ بعد گھر والے، اہل محلہ اور گاؤں کے عام لوگوں کو کھانے کی دعوت دیتے ہیں ۔۔ قرآن و حدیث میں اس کا کیا حکم ہے؟ (محمود الحسن سلیم، سکردو)
جواب: کھانے کی ایسی مجالس میں شرکت نہیں کرنی چاہئے، اس لیے کہ یہ طریق کار سنت نبوی صلی اللہ علیہ وسلم سے ثابت نہیں۔ صحیح حدیث میں ہے " من أحدث في أمرنا هذا ما ليس منه فهو رد "
یعنی "جو دین میں اضافہ کرے وہ اضافہ مردود (ناقابل قبول) ہے۔"
یاد رہے کہ سوئم، دسواں، بیسواں، چالیسواں، چھ ماہی، برسی وغیرہ سب بدعات کے زمرے میں شامل ہیں۔ شرح المنهاج للقووی رحمۃ اللہ علیہ اور حنفی فقہ کی کتابوں میں ہے " اتخاذ الطعام فى اليوم الثالث والسادس والعاشر والعشرين وغيرها بدعة مستقبحة "
یعنی "تیسرے، چھٹے، دسویں اور بیسویں وغیرہ دنوں میں کھانا کھلانا قبیح بدعات ہیں۔"
٭ طلاقِ رجعی کی صورت میں علیحدگی کے بعد دوبارہ نکاح کا حکم اور طریقہ کیا ہے؟ (ڈاکٹر خالد غوری)
جواب: سوال سے ظاہر ہوتا ہے کہ دوبارہ نکاح، طلاقِ رجعی کے اثنا میں (یعنی ایک یا دو طلاق کے بعد) پڑھا گیا ہے لہذا یہ نکاح درست ہے، صحیح بخاری کے باب من قال "لا نكاح الا بولي" کے تحت امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ نے حضرت معقل رضی اللہ عنہ بن یسار کی ہمشیرہ کا واقعہ نقل کیا ہے کہ اُن کے شوہر نے طلاقِ رجعی کے بعد رجوع کرنا چاہا تو معقل رضی اللہ عنہ رکاوٹ بن گئے۔ اس پر اللہ نے قرآن کی آیت وَإِذَا طَلَّقْتُمُ النِّسَاءَ فَبَلَغْنَ أَجَلَهُنَّ فَلَا تَعْضُلُوهُنَّ أَن يَنكِحْنَ أَزْوَاجَهُنَّ إِذَا تَرَاضَوْا بَيْنَهُم بِالْمَعْرُوفِ ۗ نازل ہوئی۔ معقل رضی اللہ عنہ نے اللہ کے فرمان کے سامنے اپنا سر جھکا دیا اور دوبارہ اپنی ہمشیرہ کا نکاح کر دیا۔ یہ واقعہ اس امر کی واضح دلیل ہے کہ طلاقِ رجعی کی صورت میں زوجین دوبارہ رشتہ ازدواج میں منسلک ہو سکتے ہیں۔[1]
٭سوال: کیا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا وسیلہ لیا جا سکتا ہے؟ جیسے تمام لوگ کہتے ہیں کہ وہ ہمارے لئے واسطہ یا وسیلہ ہیں جس طرح آدم علیہ السلام کا وسیلہ بنے تھے جیسا کہ "فضائل اعمال" میں لکھا ہے کہ جب آدم علیہ السلام نے آنکھ کھولی تو اللہ کے نام کے ساتھ محمد صلی اللہ علیہ وسلم کا نام تھا، آدم علیہ السلام نے اللہ کو اس نام کا واسطہ دیا تو اُن کی بخشش ہو گئی؟
جواب: وسیلہ کی دو قسمیں ہیں: مشروع اور ممنوع
مشروع وسیلہ کی بھی تین قسمیں ہیں:
(1)مومن کا اللہ سے اس کی برتر ذات اس کے اسماء حسنیٰ اور صفات عالیہ کے ذریعے وسیلہ چاہنا
(2) مومن کا اپنے اعمالِ صالحہ کے ذریعہ وسیلہ چاہنا
(3) مومن کا اللہ تعالیٰ سے اپنے حق میں مومن بھائی کی دعا کے ذریعہ وسیلہ چاہنا
ان تینوں قسموں کی مشروعیت پر بے شمار دلائل کتاب و سنت میں موجود ہیں۔
اور وسیلہ کی تین قسمیں وہ ہیں جو ممنوع ہیں:
(1)کسی ذات اور شخص کو وسیلہ بنانا، مثلا کسی مخصوص آدمی کا نام لے کر کہے کہ اے اللہ! میں تیری بارگاہ میں فلاں شخص کو وسیلہ بنا کر پیش کرتا ہوں کہ تو اس کے وسیلہ سے میری حاجت پوری فرما دے اور وسیلہ لینے والے کے دل میں فلاں شخص سے اس شخص کی ذات مراد ہو
(2) کسی کے جاہ و حق، حرمت اور برکت کا وسیلہ لینا مثلا وسیلہ لینے والا کہے: اے اللہ فلاں شخص کا تیرے پاس جو مرتبہ ہے اس کو وسیلہ بناتا ہوں، یا فلاں شخص کا تجھ پر جو حق ہے، اس کو وسیلہ بناتا ہوں یا اس شخص کی حرمت اور برکت کو وسیلہ بناتا ہوں کہ تو میری حاجت پوری فرما دے
(3) کسی کے وسیلہ سے اللہ پر قسم کھانا مثلا کہنے والا کہے: اے اللہ! فلاں شخص کے وسیلہ سے تجھ پر قسم کھاتا ہوں کہ تو میری حاجت پوری فرما دے۔
ممنوع وسیلہ کو حلال سمجھنے والے انہی تین طریقوں وے وسیلہ لیتے ہیں جبکہ حقیقت یہ ہے کہ تینوں ہی طریقے باطل اور اصول دین کے مخالف ہیں (کتاب "مشروع اور ممنوع وسیلہ کی حقیقت")
اس سے معلوم ہوا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا وسیلہ بنانا تو ناجائز ہے لیکن نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی اِتباع کو وسیلہ بنانا جائز ہے۔ کیونکہ اتباع عمل صالح ہے نیز یہ قصہ کہ آدم علیہ السلام نے خطا کی معافی کے لئے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات کا وسیلہ لیا، من گھڑت واقعہ ہے جس کی کوئی اصل نہیں اس میں راوی عبدالرحمٰن بن زید بالاتفاق ضعیف ہے۔ کثرت سے غلطیاں کرتا ہے اور ابوحاتم بن حبان کا قول ہے: "عبدالرحمٰن بے خبری میں احادیث اُلٹ پھیر کے بیان کرتا تھا، اس نے مرسل کو مرفوع بنا دیا اور موقوف کو مسند قرار دے دیا۔"
خود حاکم نے اپنی كتاب الضعفاء میں اس کو ضعیف قرار دیا ہے۔ علامہ ابن تیمیہ رحمۃ اللہ علیہ نے تعجب کا اظہار کیا ہے کہ حاکم نے اس روایت کو کیسے ذکر کر دیا جبکہ خود انہوں نے اپنی کتاب المدخل میں کہا ہے کہ عبدالرحمٰن بن زید بن اسلم اپنے والد سے موضوع احادیث کی روایت کرتا تھا تاہم احادیثِ صحیحہ کی رو سے اور قرآنی شہادت بھی یہ ہے کہ آدم علیہ السلام کی خطا ان کے توبہ و استغفار کی وجہ سے معاف ہوئی ہے نہ کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات کو وسیلہ بنانے سے ۔۔ ارشاد باری تعالیٰ ہے:
﴿رَبَّنَا ظَلَمْنَا أَنفُسَنَا وَإِن لَّمْ تَغْفِرْ لَنَا وَتَرْحَمْنَا لَنَكُونَنَّ مِنَ الْخَاسِرِينَ ﴿٢٣﴾...الأعراف
"ان دونوں نے کہا: اے ہمارے رب ہم نے اپنی جانوں پر ظلم کیا اور اگر تو نے ہم کو نہ بخشا اور ہم پر رحم نہ کیا تو ہم نقصان اٹھانے والوں میں ہوں گے"
امام ابوحنیفہ رحمۃ اللہ علیہ کا فرمان ہے کہ
"کسی کے لئے جائز نہیں کہ اللہ کو اس کی ذات کے سوا کسی اور ذریعہ سے پکارے" (درِ مختار)
٭ سوال: ہمارا ایک بھائی فوت ہو گیا ہے جس کے اولاد نہیں ہے اور وہ سرکاری ملازم تھا۔ جس کے واجبات تقریبا 175000 (ایک لاکھ، پچھتر ہزار) ہیں۔ جس میں حصہ دار چار بھائی، ایک بہن، والدہ اور ایک بیوہ ہے۔ چاروں بھائیوں میں سے ایک بھائی پہلے فوت ہو چکا ہے جس کے دو بچے اور ایک بچی اور ایک بیوہ ہے۔ ازراہِ کرم شرعی تقسیم وراثت سے آگاہ فرمائیں۔ (نور محمد ولد اسمعیل، شیخوپورہ)
جواب: چار بھائیوں میں سے ایک بھائی چونکہ صاحبِ ترکہ سے پہلے انتقال کر چکا ہے، اس لئے وہ وارث نہیں بنتا۔ لہذا اس کی بیوہ اور اولاد بھی وارث نہیں رہتی۔
اس صورت میں بیوہ کے لئے چوتھا حصہ ہے اس لئے کہ میت کی اولاد نہیں، قرآن میں ہے: وَلَهُنَّ الرُّبُعُ مِمَّا تَرَكْتُمْ إِن لَّمْ يَكُن لَّكُمْ وَلَدٌ ۚ "اگر تمہاری اولاد نہ ہو تو تمہاری عورتوں کا اس میں چوتھا حصہ ہے" ۔۔ اور چھٹے حصے کی حق دار والدہ ہے، قرآن میں ہے فَإِن كَانَ لَهُ إِخْوَةٌ فَلِأُمِّهِ السُّدُسُ "اور اگر میت کے بھائی بھی ہوں تو ماں کا چھٹا حصہ ہے"
اور باقی ترکہ تین بھائیوں اور بہن پر لِلذَّكَرِ مِثْلُ حَظِّ الْأُنثَيَيْنِ
"ایک لڑکے کا حصہ دو لڑکیوں کے حصے کے برابر ہے" کے اصول پر تقسیم ہو گا۔

[1] اس آیت اور واقعہ سے بعض لوگ نکاح میں عورت کے لئے ولی کی رضامندی کی عدمِ ضرورت پر بھی دلیل لیتے ہیں جبکہ امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اسی واقعے اور آیت کریمہ کو نکاح میں وَلی کی ضرورت پر دلیل بنا رہے ہیں۔ استدلال بالکل واضح ہے کہ اگر نکاح میں ولی کی کوئی اہمیت نہ ہوتی تو اللہ تعالیٰ سیدھے سبھاؤ عورتوں کو حکم دیتا کہ تم اپنا نکاح کر لو، ولیوں کی رضامندی کی فکر نہ کرو۔ علاوہ ازیں آیت کے نزول کے بعد اس واقعہ سے صحابہ نے جو سمجھا، وہی اس آیت کا مفہوم ہے۔ حدیث میں آتا ہے کہ معقل نے اپنی بہن کا نکاح کر دیا، (صحیح بخاری) نہ کہ معقل کی بہن نے ازخود اپنی شادی رچالی۔ علماء کی کثیر جماعت نے یہی موقف اپنایا ہے اور امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ کے عجب قوی استدلال کی تائید کی ہے۔ یاد رہے کہ یہ واقعہ کسی کنواری لڑکی کا نہیں بلکہ أيم (شوہر دیدہ) کا ہے، اس لحاظ سے یہ کنواری لڑکی کے لئے بالاولی ولی کی رضامندی کی ضرورت کو اُجاگر کرتا ہے۔ (حسن مدنی)