ڈاونلوڈ

آن لائن مطالعہ

آن لائن مطالعہ
  • جون
1999
صلاح الدین یوسف

(وزارتِ مذہبی امور کی نئی تجاویز کا ایک جائزہ)

ایک عرصے سے پاکستان میں رویتِ ہلال کا مسئلہ زیر بحث ہے۔ آئے دن اس سلسلے میں نئی تجاویز سامنے آتی ہیں اور بحث کا ایک نیا سلسلہ شروع ہو جاتا ہے، لیکن نتیجہ وہی ڈھاک کے تین پات۔ وجہ اس کی یہ ہے کہ یہ ایک شرعی مسئلہ ہے اور اس کے لئے جو ضروری باتیں تھیں، وہ شریعت نے ہمیں بتا دی ہیں۔ مثلا یہ کہ:
(1)ہلال کا دیکھا جانا ضروری ہے، یعنی اس کے لیے رؤیتِ بصری ضروری ہے، محض سائنسی آلات سے اس کے وجود و عدمِ وجود کا علم کافی نہیں۔
(2) ایک جماعت کا دیکھنا ضروری نہیں، ایک یا دو یا چند افراد کا دیکھ لینا کافی ہے، اگر دیکھنے کی گواہی دینے والے معتبر ہوں تو ان کی رؤیت پورے ملک کے لیے کافی ہو سکتی ہے۔
(3) عیدیں یا رمضان یا حج، جن کی بنیاد رؤیتِ ہلال پر ہے، ان کی حیثیت ملکی تہواروں یا جشنوں کی نہیں ہے، بلکہ دراصل یہ سب ملت اسلامیہ کے شعائر ہونے کے ناطے عبادات میں شامل ہیں۔ اس لیے ان میں وحدت (یعنی پورے عالم اسلام میں ایک ہی دن اِن کا آغاز ہو) مطلوب نہیں ہے، بلکہ ان میں اصل چیز اخلاص اور خشوع و خضوع ہے۔ اور اس کے لیے ہر جگہ علاقائی اجتماعات کافی ہیں جو مسلمانوں کی شان و شوکت کا مظہر ہوں، عالمی وحدت قطعا ضروری نہیں (جیسا کہ ہم محدث، مارچ 99ء کے "فکرونظر" میں اس نکتے کی وضاحت کر چکے ہیں)

  • جون
1999
ثنااللہ مدنی
٭ زندگی میں صرف بعض اولاد کو ہبہ کرنا؟
٭ مسلم قبرستان کو منہدم کر کے وہاں کھیتی باڑی کرنا؟
٭ طلاقِ رجعی کی صورت میں علیحدگی کے بعد دوبارہ نکاح کا حکم؟
٭وسیلہ کے مسائل ٭مسئلہ وراثت اور اس کا حل
٭ اگر میاں بیوی زندہ اور صاحبِ حیثیت (صاحبِ نصاب) ہیں۔ اُن کی اولاد میں 3 بیٹے اور ایک بیٹی ہیں (وہ بھی سبھی شادی شدہ اور صاحبِ نصاب ہیں)۔ میاں بیوی اپنی جائیداد اور دیگر مالی اثاثہ جات میں بیٹی کے حصہ کا تعین کس طرح کریں۔ مزید یہ کہ میاں نے اپنی بیوی کے نام پر کافی جائیداد اور زرعی زمین خرید رکھی ہے۔ اس جائیداد میں میاں اور بیوی اپنی بیٹی کو اس کا حصہ کس طریقہ سے دیں؟
جواب: واضح رہنا چاہئے کہ جائیداد کی بطورِ وراثت تقسیم، انسان کی وفات کے بعد ہوتی ہے زندگی میں نہیں۔ ہاں البتہ آدمی زندگی میں بطورِ ہبہ اپنی اولاد کو جو چاہے دے سکتا ہے، لیکن اس صورت میں راجح مسلک کے مطابق، لڑکے اور لڑکی میں برابری ضروری ہے۔
  • جون
1999
صلاح الدین یوسف
آہ شیخ عبدالعزیز بن عبداللہ بن باز رحمہ اللہ تعالیٰ
علم و عمل اور ہدایت کے آفتابِ عالم کا غروب

افسوس ہے کہ 26 محرم الحرام 1420ھ، مطابق 13 مئی 1999ء بروز جمعرات عالم اسلام کی عظیم علمی شخصیت اور سعودی عرب کے مفتی اعظم سماحۃ الشیخ عبدالعزیز بن عبداللہ بن باز ریاض میں انتقال فرما گئے ۔۔۔ انا لله انا اليه راجعون !! دوسرے دن بروز جمعۃ المبارک خانہ کعبہ میں ان کی نمازِ جنازہ پڑھی گئی اور جنة المعلىٰ کے مشہور اور تاریخی قبرستان میں اُن کی تدفین عمل میں آئی۔ علاوہ ازیں سعودی عرب سمیت پورے عالم اسلام کے ہر شہر اور قریے میں شیخ مرحوم کی نماز جنازہ غائبانہ ادا ہوئی اور ان کی مغفرت اور رفع درجات کے لئے دعا کی گئی۔ پاکستان میں بھی ہر جگہ بڑی بڑی مساجد اہل حدیث میں نمازِ جنازہ غائبانہ کا اہتمام کیا گیا۔اس سلسلے میں لاہور میں جامع مسجد قدس اہل حدیث چوک دالگراں میں سب سے بڑا اجتماع ہوا، جس میں مولانا حافظ عبدالرحمٰن مدنی صاحب نے مرحوم کی نمازِ جنازہ پڑھائی اور اُن کی دینی، ملی اور علمی خدمات پر روشنی ڈالی۔
  • جون
1999
ادارہ
سماحته الشيخ عبدالعزيز بن باز
(مفتی اعظم رحمۃ اللہ علیہ سعودی عرب کے مختصر سوانح حیات)

شیخ عبدالعزیز بن باز رحمہ اللہ کی عظیم المرتبت شخصیت عالم اسلام میں کسی تعارف کی محتاج نہیں۔ وہ مملکت سعودی عرب کے مفتی اعظم، دارالافتاء کے رئیس اور بے شمار اسلامی اداروں کے سربراہ تھے۔ عصر حاضر میں شیخ ابن باز سے عالم اسلام کو جتنا فائدہ پہنچا ہے شاید ہی کسی اور عالم دین سے پہنچا ہو۔ پوری دنیا میں ان کے مقررہ کردہ داعی، ان کے مبعوث علماء کرام، اور ان کے قائم کردہ مدارس و اسلامی مراکز کام کر رہے ہیں اور اسلام کی شمع کو دنیا بھر میں روشن کئے ہوئے ہیں۔
  • جون
1999
عبدالمالک مجاہد
شیخ عبدالعزیز بن عبداللہ بن باز رحمۃ اللہ علیہ
(ایک ممتاز عالم دین، محدث اور فقیہ)

یوں تو محدث کے موجودہ شمارے میں مفتی مرحوم کے بارے میں دو تفصیلی مضامین شامل اشاعت ہیں جن میں ایک مضمون ہمارے محترم مدیر حافظ صلاح الدین یوسف نے بطورِ خاص محدث کے لئے تحریر کر کے دیا ہے جو بہت ہی جامع پیرائے میں شیخ مرحوم کی شکصیت، خدمات کا ایک جامع جائزہ پیش کرتا ہے۔ لیکن شیخ ابن باز کی ذاتِ مبارکہ اور ان کی مساعی دین کو جاننے والا ہر شخص یہ سمجھتا ہے کہ چند ایک مضامین میں آپ ایسی عہد ساز شخصیت کی خدمات کا احاطہ ؎کیا جانا مشکل امر ہے۔ یہی وجہ ہے کہ دو مضامین کی اشاعت کے باوجود بھی ہمیں یہ تشنگی محسوس ہوتی تھی کہ ابھی اس موضوع پر مزید روشنی ڈالی جانی چاہئے۔
  • جون
1999
حسن مدنی
نکاح میں والدین کا کردار اور اولاد کے فرائض

حالیہ چند دنوں بعض اسلام بیزار خواتین کے اسلامی شعائر کا مذاق اڑانے اور اسلام کے خاندانی نظام پر حملہ کرنے کی مذموم کوششوں کے بعد مسئلہ نکاح کے اسلامی احکام نمایاں کرنے کی ضرورت محسوس ہوئی ہے۔ عدالتِ عالیہ کے مسلسل فیصلہ جات نے بھی اس ضرورت کو اجاگر کیا ہے ۔۔ اس خاص مرحلہ پر چند مخصوص احکامِ اسلامیہ کی بجائے بیسیوں ایسے عوام اور رویے ہیں جن کو پیش نظر رکھنا ضروری ہے جن میں اسلامی دلایت عامہ و خاصہ کا تصور، حضانت و کفالت کے مسائل، صلہ رحمی اور اطاعتِ والدین کے احکام، اولی الامر کی ذمہ داریاں اور اولاد کے فرائض کے ساتھ ساتھ اسلامی معاشروں میں صدیوں سے چلے آنے والی قدروں کو بھی اہم حیثیت حاصل ہے۔
  • جون
1999
عطاء اللہ صدیقی
جنسی آوارگی کو انسانی جبلت قرار دینے والا مغرب، اسلامی اور ایشیائی معاشروں میں غیرت و حمیت کے تصور کے معروضی اِدراک سے اگر معذور ہے تو یہ امر تعجب کا باعث نہیں ہونا چاہئے کیونکہ رویپ کی زبانوں میں کوئی بھی لفظ ایسا نہیں ہے جسے صحیح معنوں میں "غیرت" کا مترادف قرار دیا جا سکے۔ لیکن پاکستان میں انسانی حقوق کے انتھک منادوں کی طرف سے "غیرت کے نام پر قتل" کے لئے سزائے موت کا اگر مطالبہ کیا جاتا ہے تو یقینا اسے ان کی مریضانہ مغرب زدگی سے تعبیر کیا جانا چاہئے۔
گذشتہ کئی برسوں سے مغرب کے سرمائے سے پاکستان میں چلائی جانے والی انسانی حقوق کی علمبردار NGOs کی طرف سے مسلسل یہ مطالبہ کیا جاتا رہا ہے کہ غیرت کے نام پر قتل کے لئے سزائے موت کا قانون تشکیل دیا جائے۔ اگست 1997ء میں سپریم کورٹ کے معزز جج اسلم ناصر زاہد کی سربراہی میں قائم کردہ "خواتین حقوق کمیشن" نے مفصل سفارشات پیش کیں تو اس میں ایک سفارش یہ کی گئی:
"غیرت کے مسئلہ پر قاتلانہ واردات کو قانون کے تحت "قتل عمد" قرار دیا جائے اور اس کے لئے مناسب قانون بنایا جائے" (رپورٹ، باب نمبر 6)
  • جون
1999
ادارہ
حافظ عبدالرحمٰن مدنی، معاونِ سپریم کورٹ کے وضاحتی مراسلات اور بیانات

سپریم کورٹ (شریعت اپلیٹ بنچ) میں زیرسماعت مشہور مقدمہ سود میں حافظ عبدالرحمٰن مدنی عدالتِ عظمیٰ کے معاون کی حیثیت سے پیش ہو رہے ہیں۔ آپ نے 3 مئی اور 6 مئی کے دوران مکمل مذکورہ موضوع پر اپنی بحث پیش کی لیکن بعض اخبارات کے نمائندوں کی غفلت یا کم علمی کی وجہ سے رپورٹ نہ صرف خلط ملط ہوئی بلکہ موقف کچھ کا کچھ بن گیا۔ حافظ صاحب موصوف نے اسلام آباد سے ان خبروں کا نوٹس لیتے ہوئے دو مراسلات اور اپنا وضاحتی بیان دفتر محدث کے ذریعے روزنامہ اخبارات کے نام جاری کیا جو شاید اخبارات نے اپنے بعض صحافتی مصالح کی بنا پر تفصیل سے شائع کرنا مناسب نہ سمجھا۔ لہذا ہم ادارہ محدث کی طرف سے اخباروں کے مدیران کے نام دونوں مراسلات اور وضاحتی بیان شائع کر رہے ہیں ۔۔ (حسن مدنی)