(فروری کے شمارے سے آگے) دوسری قسط

مولانا قاضی محمد سلیمان منصور پوری رحمۃ اللہ علیہ
(12) غایۃ المرام 1891ء : صفحات 144
یہ کتاب مرزا غلام احمد قادیانی کے رسالہ جات "فتح العلام" اور "توضیح المرام" کے جواب میں ہے۔ اس میں رفع عیسیٰ علیہ السلام، آپ کا نزول، اور قانونِ قدرت وغیرہ پر قرآن و حدیث کی روشنی میں بحث کی گئی ہے۔
(13) تائید الاسلام، 1898ء: صفحات 150
یہ غایۃ المرام کا دوسرا حصہ ہے۔ اس میں پہلے مرزا قادیانی کے عقائد پر بحث کی ہے اور بعد میں مرزا قادیانی کی کتاب ازالة الاوهام کے بعض مباحث جیسے مسیح موعود، الہام و مکاشفہ وغیرہ کا جواب دیا گیا ہے۔
(14) مرزا صاحب اور نبوت: صفحات 8
اس رسالہ میں مرزا قادیانی کے دعویٰ نبوت کی تردید کی گئی ہے۔
حاجی محمد اسحٰق حنیف امرتسری رحمۃ اللہ علیہ
(15) اباطیل مرزا، 1353ھ، صفحات 16
اس میں مرزا قادیانی کے 33 جھوٹ مع حوالہ کتب، اخبار و رسائل جمع کیے گئے ہیں۔
016) بطلانِ مرزا، 1335ھ، صفحات 16
اس میں مرزا قادیانی اور قادیانی مصنفین کی کتابوں سے مرزا قادیانی کا بطلان ثابت کیا گیا ہے۔
مولانا عبداللہ معمار رحمۃ اللہ علیہ
(17) عالم کذباتِ مرزا، 1935ء، صفحات 18
اس رسالہ میں مرزا قادیانی کی پیشن گوئیوں کی تکذیب کی گئی ہے۔
(18) ،غالطاتِ مرزا عرف الہامی بوتل 1935ء، صفحات 38
اس رسالہ میں مرزا غلام احمد قادیانی کے متناقض بیانات کی تردید کی گئی ہے۔
(19) محمدیہ پاکٹ بک 1935ء، صفحات 676
اس پاکٹ بک میں قادیانیت کے تمام اعتراضات کے عقلی و نقلی جوابات دئیے گئے ہیں اور مرزا قادیانی کی تمام پیشن گوئیوں کو دلائل اور شواہد سے خلافِ واقعہ دِکھلایا گیا ہے۔ اس کے علاوہ ختم نبوت، حیاتِ مسیح اور نزولِ مسیح پر دلچسپ بحثیں ہیں۔
(20) اکاذیبِ مرزائے قادیاں، صفحات 8
اسی رسالہ میں مرزا قادیانی کے 25 ایسے اقوال درج کئے گئے ہیں، جو یکسر غلط، باطل اور کذب و افتراء کا مجموعہ ہیں۔
(21) مرزا قادیانی کی راست بیانیوں پر ایک نظر، صفحات 40
مرزا قادیانی کے 40 ایسے اقوال جمع کیے ہیں جو بالکل غلط اور کذب و افترا کا مجموعہ ہیں۔
(22) برہانِ حق 1949ء، صفحات 8
ایک قادیانی مصنف کے پمفلٹ کے جواب میں
مولوی حبیب اللہ کلرل امرتسری رحمۃ اللہ علیہ
(23) عمر مرزا، 1924ء، صفحات 22
اس رسالہ میں مرزا غلام احمد قادیانی کے اس الہام کی تردید کی گئی ہے کہ میری عمر 74 اور 84 برس کے درمیان ہو گی اور دلائل سے ثابت کیا گیا ہے کہ مرزا قادیانی 74 برس سے پہلے واصل جہنم ہوا۔
(24) مرزائیت کی تردید بطرزِ جدید، 1351ھ، صفحات 108
اس رسالہ میں مرزا قادیانی کی قرآن فہمی پر بحث کرتے ہوئے دلائل سے مرزا صاحب کے معجزات کی تردید کی گئی ہے۔
(25) نزولِ مسیح (حصہ اول) 1325ھ، صفحات 42
اس کتاب میں آیت قرآنی وَعِندَهُ عِلْمُ السَّاعَةِ /سورہ زخرف: 25) کی تفسیر کرتے ہوئے احادیثِ نبوی صلی اللہ علیہ وسلم اور اقوال صحابہ و تابعین سے قیامت سے پہلے عیسیٰ علیہ السلام کا آسمان سے نازل ہونا ثابت کیا گیا ہے اور مرزا قادیانی کے دعاویٰ کی تردید کی گئی ہے۔
(26) مرزا غلام قادیانی نبی نہ تھا مع رسالہ غذائے مرزا، 1352ھ، صفحات 22
اس رسالہ میں مرزا قادیانی کے دعویٰ نبوت و رسالت کی بدلائل تردید کی گئی ہے اور آخر میں "غذائے مرزا" مصنفہ بہاءاللہ امرتسری کو بھی شامل کر دیا گیا ہے۔ جس میں مرزا قادیانی کا دعویٰ "بروزی رنگ میں تمام کمالات محمدی مع نبوتِ محمد میرے آئینہ ظلیت میں منعکس ہیں" کی تردید کی گئی ہے۔
(27) بشارتِ احمدی، 1352ھ، صفحات 86
اس کتاب میں پہلے قوی دلائل سے ثابت کیا گیا ہے۔ کہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے بشارت مِن بَعْدِي اسْمُهُ أَحْمَدُ ۖ کے حقیقی مصداق حضرت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہیں۔ اس کے بعد میاں محمود کی دونوں کتابوں "انوارِ خلافت" اور "القول الفیصل" (جس میں آنجہانی مرزا قادیانی کا نبی ہونا ثابت کیا گیا ہے) کی تردید کی گئی ہے۔
(28) مرزا غلام احمد قادیانی اور اس کی قرآن دانی مع رسالہ واقعاتِ نادرہ، 1352ھ، صفحات 28
اس رسالہ میں یہ ثابت کیا گیا ہے مرزا قادیانی نے اپنی کتابوں میں 51 آیاتِ قرآنی غلط لکھی ہیں اور جو شخص آیاتِ قرآن صحیح نہیں لکھ سکتا۔ وہ نبی، مسیح یا مہدی کیونکر ہو سکتا ہے۔
(29) سنت کے معنی مع واقعاتِ نادرہ، 1934ء، صفحات 16
قادیانی امت کے یہ اعتراضات کہ مسلمانوں کے بعض عقائد سنت اللہ اور قانونِ قدرت کے خلاف ہیں۔ اس رسالہ میں اس طرح کے تمام اعتراضات کا رد کیا گیا ہے۔
(30) معجزہ و مسمریزم میں فرق، 1353ھ، صفحات 28
اس رسالہ میں پہلے حضرت مسیح علیہ السلام کے حالات قرآن مجید کی آیات سے لکھے ہیں۔ اس کے بعد معجزہ اور مسمریزم کا فرق واضح کیا ہے اور آخر میں عقائدِ مرزا کی تردید کی گئی ہے۔
(31) حلیہ مسیح مع رسالہ ایک غلطی کا ازالہ، 1353ھ، صفحات 24
اس میں پہلے قرآن و حدیثِ نبوی سے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے رفع و نزول کا ثبوت فراہم کیا گیا ہے۔ اور اس کے بعد آپ کے حلیہ مبارک پر مفصل بحث کرتے ہوئے قادیانی مباحث کی دلائل سےتردید کی ہے
(32) حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا حج کرنا اور مرزا قادیانی کا حج کے بغیر مرنا، 1353ھ صفحات 18
اس رسالہ میں بتایا گیا ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام جب آسمان سے نازل ہوں گے تو حج کریں گے۔ اور مرزا قادیانی کو حج کرنے کی توفیق نہیں ہوئی لہذا یہ مسیح موعود نہیں ہے۔
(33) حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا رفع اور آمدِ ثانی، علامہ ابن تیمیہ رحمۃ اللہ علیہ حرانی کی زبانی، 1352ھ، صفحات 16
مرزا قادیانی اور قادیانی مصنفین نے اپنی اپنی کتابوں میں لکھا ہے کہ حافظ ابن تیمیہ، ابن قیم، ابن عربی اور ابن حزم وغیرہم وفاتِ مسیح کے قائل تھے ۔۔ اس رسالہ میں اس کی تردید کی گئی ہے۔
(34) مرزا قادیانی مثیل مسیح نہیں، 1353ھ، صفحات 16
اس رسالہ میں 24 دلائل سے ثابت کیا گیا ہے کہ مرزا قادیانی مثیل ابن مریم علیہ السلام نہیں ہے۔
(35) حضرت مسیح کی قبر کشمیر میں نہیں ہے، 1351ھ، صفحات 64
اس رسالہ میں دلائل سے ثابت کیا گیا ہے۔ کہ حضرت مسیح علیہ السلام کی قبر سرینگر کشمیر میں نہیں ہے۔ مرزا قادیانی اور قادیانی مصنفین سرینگر میں جو مسیح علیہ السلام کی قبر بتاتے ہیں، وہ شہزادہ یوز آسف کی قبر ہے۔
(36) مرزا قادیانی کی کہانی، مرزا اور مرزائیوں کی زبانی، 1354ھ، صفحات 26
اس کتاب میں مرزا قادیانی کے حالاتِ زندگی، مرزا قادیانی اور قادیانی مصنفین کی کتابوں سے قلمبند کئے گئے ہیں۔ اور دلائل سے ثابت کیا گیا ہے کہ مرزا قادیانی نہ نبی تھا اور نہ مسیح موعود۔
(37) عون المعبود در تردید اوہامِ مرزا محمود، 1354ھ، صفحات 16
یہ کتاب مرزا محمود قادیانی کی کتاب "القول الفیصل" کے جواب میں ہے۔
(38) مرزا غلام احمد رئیس قادیان اور اس کے بارہ نشان، 1352ھ، صفحات 8
مصنف نے اس رسالہ میں مرزا قادیانی کے ایسے 12 نشانوں کی نشاندہی کی ہے اور جس میں یہ نشان ہوں، وہ شریف نہیں ہو سکتا چی جائیکہ نبی ہو۔
مولانا حافظ عبداللہ روپڑی رحمۃ اللہ علیہ(40) مرزائیت اور اسلام، 1954ء، صفحات 64
اس رسالہ میں مسئلہ ختم نبوت پر دلائل دیتے ہوئے لفظ خاتم النبيين کے معانی پر بحث کی گئی ہے۔ اور مرزا قادیانی کے نبی اور مسیح موعود ہونے کی تردید کی گئی ہے۔
مولانا ثناء اللہ امرتسری رحمۃ اللہ علیہ
(41) الہامات مرزا مع جواب آئینہ حق نما، 1904 (طبع ثالث)، صفحات 132
اس کتاب میں مرزا قادیانی کے الہامات اور پیشن گوئیوں کو بدلائل جھوٹا ثابت کیا گیا ہے اور بتایا ہے کہ مرزا قادیانی اپنے دعاویٰ کی روشنی میں کذاب ہے۔
(42) صحیفہ محبوبیہ، 1909ء، صفحات 76
یہ کتاب "صحیفہ آصفیہ" مصنفہ حکیم نورالدین قادیانی کے جواب میں ہے جس میں انہوں نے نظام حیدرآباد دکن کو یہ تبلیغ کی تھی کہ 1908ء میں آپ کے علاقہ میں جو طوفان آیا تھا۔ وہ مرزا صاحب کی پیشن گوئی تھی۔
(43) شہادتِ مرزا ملقب بہ عشرہ مرزائیہ، 1909ء، صفحات 32
اس رسالہ میں 10 شہادتوں سے مرزا غلام احمد قادیانی کے مسیح موعود ہونے کی تردید کی گئی ہے۔
(44) فاتح قادیان، 1912ء، صفحات 70
17 تا 21 اپریل 1912ء میں مولانا ثناءاللہ اور منشی قاسم علی قادیانی کے مابین بقام لدھیانہ ایک مناظرہ ہوا تھا۔ یہ رسالہ اس مناظرہ کی روداد ہے۔ اس مناظرہ میں مولانا امرتسری نے مبلغ تین سو روپے بطورِ انعام حاصل کیے تھے۔
(45) عقائد مرزا، 1906ء، صفحات 8
اس رسالہ میں بانی قادیانیت کے چند دعاویٰ اور عقائد کو ان کی اصل عبارت مع حوالہ جات پیش کیا گیا ہے۔
(46) چیستانِ مرزا، 1928ء، صفحات 8
اس رسالہ میں مرزا قادیانی کے الہامات و اقوال میں تضاد بتایا گیا ہے۔
(47) مرقع قادیانی، 1917ء، صفحات 58
مرقع قادیانی کے نام سے مولانا ثناءاللہ نے 1907ء میں ماہورا رسالہ جاری کیا تھا جو مرزا قادیانی کے انتقال تک جاری رہا۔ بعد میں اس کے منتخب مضامین کو کتابی شکل میں شائع کرنے کا پروگرام بنایا گیا۔ یہ مرقع قادیانی کی پہلی جلد ہے۔
(48) فرارِ قادیانی، 1917ء، صفحات 8
1917ء میں روس میں انقلاب آیا اور قادیانیوں نے اس کو مرزا صاحب کی پیشن گوئی قرار دیا۔ اس رسالہ میں اس کی تردید کی گئی اور بتایا گیا کہ مرزا قادیانی کی تصریح کے مطابق اس پیشن گوئی کا تعلق انقلابِ روس سے نہیں ہے۔
(49) تاریخ مرزا، 1919ء، صفحات 64
یہ کتاب مرزا قادیانی کی سوانح حیات ہے جو اس کی تالیفات سے ماخوذ ہے اور اس کی زندگی کے تمام گوشوں کو اجاگر کرتی ہے۔
(50) نکاتِ مرزا، 1926ء، صفحات 40
مارچ 1925ء میں قادیان میں علمائے دیوبند کا ایک جلسہ ہوا۔ جس میں انہوں نے مرزا قادیانی کے "معارفِ قرآنیہ" کو تنقید کا نشانہ بنایا۔ اس پر خلیفہ قادیان نے علمائے دیوبند کو اپنے مقابل تفسیر نویسی کا چیلنج کیا مگر علماءِ دیوبند نے خاموشی اختیار کی۔ مولانا امرتسری رحمۃ اللہ علیہ نے اس چیلنج کو قبول کیا اور یہ کتاب تالیف کی، لیکن قادیانیوں کی طرف سے کوئی جواب نہ آیا۔
(51) محمد قادیانی، 1928ء، صفحات 24
اس رسالہ میں یہ بتایا گیا ہے کہ حضرت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کیا کام کیے۔ اور ان کے بروز محدثانی قادیانی نے کیا کام کئے۔ تاکہ ان کے کاموں کی مطابقت یا عدمِ مطابقت سے مرزا صاحب کے صدق و کذب کا ثبوت ہو سکے۔
(52) فیصلہ مرزا، 1921ء، صفحات 40
مرزا قادیانی نے 15 اپریل 1907ء کو "مولوی ثناءاللہ سے آخری فیصلہ" کے نام سے ایک اشتہار شائع کیا تھا۔ جس میں یہ دعا کی تھی کہ جھوٹا، سچے کی زندگی میں مر جائے۔ چنانچہ جھوٹا (مرزا قادیانی) سچے (مولانا ثناءاللہ) کی زندگی میں واصل جہنم ہوا۔ یہ رسالہ اسی اشتہار کے جواب میں لکھا گیا۔
(53) ناقابل مصنف مرزا، 1943ء، صفحات 60
اس کتاب میں مرزا قادیانی کی تین کتابوں پر تنقید کی گئی ہے۔ "براہین احمدیہ"، "آئینہ کمالات اسلام" اور "چشمہ معرفت" اور بتایا ہے کہ مرزا قادیانی تصنیف کے وصف سے ناآشنا تھے۔
(54) بہاءاللہ اور مرزا، 1933ء، صفحات 76
اس رسالہ میں بتایا گیا ہے کہ مرزا قادیانی نے اپنے دعاویٰ میں وہی طریقہ اختیار کیا ہے۔ جو بہاءاللہ ایرانی نے اختیار کیا تھا۔ کتاب میں دونوں کے حالات بھی بیان کئے گئے ہیں۔
(55) علم کلامِ مرزا: 1932ء، صفحات 80
اس میں مرزا قادیانی کی پہلی تصنیف "براہین احمدیہ" کا علم کلام کی حیثیت سے جائزہ لیا گیا ہے۔
(56) عجائباتِ مرزا: 1933ء، صفحات 24
اس رسالہ میں مرزا قادیانی اور ان کے صاجزادے میاں محمود کی تحریرات متعلقہ "عمر دنیا اور پیدائش مرزا" پر تبصرہ کیا گیا ہے۔
(57) اباطیل مرزا: 1934ء، صفحات 16
یہ رسالہ 5 مضامین کا مجموعہ ہے: (1) آہ نادر شاہ، کہاں گیا! (2) حلف مؤکد بعذاب (3) زلزلہ بہار (4) نکاحِ آسمانی (5) تقریر لائل پور، ان مضامین میں مرزا کا کذب ثابت کیا گیا ہے۔
(58) تحفہ احمدیہ: 1939ء، صفحات 52
اس رسالہ میں مرزا قادیانی کی پیشن گوئی بابت نکاحِ آسمانی کو مرزا قادیانی اور قادیانی مصنفین کی تحریروں کی روشنی میں باطل قرار دیا گیا ہے۔
(59) مکالمہ احمدیہ: 1939ء، صفحات 52
قادیانی امت 1914ء میں دو فرقوں میں بٹ گئی: لاہوری و قادیانی۔ لاہوری فرقہ مرزا قادیانی کو مجدد اور مسیح موعود تسلیم کرتا ہے اور قادیانی اس کو نبی و رسول مانتا ہے۔ مولانا امرتسری رحمۃ اللہ علیہ نے اس کتاب میں دونوں فرقوں کی تحریروں کو جمع کیا ہے۔
(60) لیکھ رام اور مرزا: 1942ء، صفحات 16
اس رسالے میں مولانا امرتسری رحمۃ اللہ علیہ نے مرزا قادیانی کی پیشن گوئی بابت "لیکھ رام کا قتل" جھوٹی ثابت کی ہے۔
(61) مراق مرزا: 1920ء، صفحات 14
اس رسالے میں پہلے مرضِ مراق کی تشریح کی ہے اور اس کے بعد مرزا صاحب کے اقوال سے خود ان کا، ان کی بیوی کا اور ان کے بیٹے کے مراقی ہونے کا ثبوت فراہم کیا گیا ہے۔
(62) نکاحِ مرزا: 1919ء، صفحات 20
اس رسالہ میں مرزا قادیانی کی آسمانی منکوحہ "محمدی بیگم" سے متعلق تمام پیشن گوئیوں کو غلط ثابت کیا گیا ہے۔
(63) فتح ربانی در مباھثہ قادیانی: 1916ء، صفحات 88
یہ کتاب اس مناظرہ کی روداد ہے جو مولانا ثناءاللہ رحمۃ اللہ علیہ اور مولوی غلام رسول آف واجیکی (قادیانی) کے مابین 29،30 اپریل 1916ء بمقام امرتسر "حیات اور وفاتِ مسیح اور صداقتِ مرزا" کے موضوع پر ہوا تھا۔
(64) فسخ نکاحِ مرزائیاں ؎: 1924ء، صفحات 24
اس رسالہ میں 80 علمائے اسلام کا متفقہ فتویٰ درج کیا گیا ہے جس میں یہ ثابت کیا گیا ہے کہ مرزائی خارج عن الاسلام ہیں اور ان کے ساتھ نکاح صحیح نہیں۔
(65) شاہِ انگلستان اور مرزائے قادیان: 1921ء، صفحات 12
اس رسالہ میں یہ ثابت کیا گیا ہے کہ جب لارڈ کرزن واسرائے نے 1806ء میں بنگال کو (مغربی اور مشرقی) دو حصوں میں تقسیم کیا۔ اور 1911ء میں جارج پنجم اس کی منسوخی کے سلسلہ میں ہندوستان آیا تو اس سے خدا کی جانب سے مرزا قادیانی کی تکذیب ہوئی۔
(66) تعلیماتِ مرزا: 1930ء، صفحات 72
اس کتاب میں مولانا ثناءاللہ امرتسری رحمۃ اللہ علیہ نے مرزا قادیانی کی تعلیمات کے 4 ابواب (اختلافاتِ مرزا، کذب مرزا، نشاناتِ مرزا اور اخلاقِ مرزا) کو نقل کر کے مرزا کی 74 عبارتوں کی روشنی میں تضاد دکھایا۔
(67) ہفواتِ مرزا: صفحات 10
اس رسالہ میں مرزا قادیانی کے عقائد اور تناقضات بیان کئے گئے ہیں۔
(68) ثنائی پاکٹ بک: 1934ء، صفحات 96
یہ پاکٹ بک قادیانیت کا بخیہ ادھیڑتے ہوئے دوسرے تمام مخالفین اسلام یعنی دہریہ، عیسائی، ہندو، فرقہ بہائیہ، شیعہ، اہل قرآن اور نیچریہ کی جامع اور مختصر تردید ہے۔
(69) آفت اللہ: 1920ء (پنجم)، صفحات 8
یہ رسالہ مولوی محمد علی لاہوری کے رسالہ "آیت اللہ" کے جواب میں ہے۔ جس میں انہوں نے اشتہار "آخری فیصلہ" کے متعلق تاویلیں کی تھیں۔
(70) قادیانی مباحثہ دکن: 1923ء، صفحات 240
یہ رسالہ اس مناظرہ کی روداد ہے جو مولانا ثناءاللہ امرتسری رحمۃ اللہ علیہ اور قادیانی علماء کی مابین بمقام سکندر آباد (دکن) 31 جنوری 1933ء کو ہوا تھا۔
(71) عشرہ کاملہ: 1934ء، صفحات 150
اس کتاب میں 10 فصلیں قائم کی ہیں اور ہر فصل میں دس دس دلائل ہیں۔ اس طرح پورے 100 دلائل سے عام فہم پیرائے میں قادیانی مذہب کی حقیقت قادیانی کتابوں سے بے نقاب کی گئی ہے۔
(72) تفسیر نویسی کا چیلنج اور فرار: 1931ء، صفحات 48
1925ء میں مرزا محمود نے علمائے دیوبند کو تفسیر نویسی کا چیلنج دیا لیکن علمائے دیوبند نے خاموشی اختیار کی۔ مولانا ثناءاللہ امرتسری رحمۃ اللہ علیہ نے اس چیلنج کو قبول کیا لیکن قادیانی خلیفہ نے راہِ فرار اختیار کی۔
(73) قادیانی نبی کی تحریر فیصلہ کن ہے یا میرا حلف؟ : 1940ء، صفحات 36
یہ رسالہ سیٹھ عبداللہ الٰہ دین قادیانی (سکندر آباد، دکن) کے پمفلٹ "صداقتِ احمدیت" کے جواب میں ہے۔
(74) ضرورتِ مسیح: 1932ء، صفحات 24
یہ رسالہ مرقع قادیانی کا خاص نمبر (ج4، شمارہ 8) ہے۔ اس میں ظہورِ مہدی اور علاماتِ مسیح بیان کر کے مرزا قادیانی کے کذب کو واضح کیا گیا ہے۔
مولانا محمد ابراہیم میر سیالکوٹی رحمۃ اللہ علیہ
(75) شہادۃ القرآن (2 جلد) ج اول 1330ھ (ثانی)، ج دوم 1340ھ (ثالث) : صفحات 336 (3 جلد)
یہ حیات مسیح علیہ السلام پر ایک بہت عمدہ اور بے نظیر کتاب ہے۔ اور صرف آیت قرآنی إِنِّي مُتَوَفِّيكَ وَرَافِعُكَ إِلَيَّ کی تفسیر ہے۔ اور مصنف علام نے دلائل سے حضرت مسیح علیہ السلام کا جسد عنصری کے ساتھ آسمان پر اٹھایا جانا ثابت کیا ہے۔
(76) الخبر الصحيح عن قبر المسيح : 1325ھ، صفحات 24
اس رسالہ میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی قبر اور آپ کے مدفن مقدس کے متعلق قرآنی آیات احادیثِ نبوی صلی اللہ علیہ وسلم اور اقوالِ سلف سے مرزا قادیانی کے اس قول کی نفی کی گئی ہے کہ حضرت مسیح علیہ السلام کی قبر سری نگر، کشمیر میں ہے۔
(77) ختم نبوت اور مرزائے قادیان: صفحات 8
مرزا قادیانی نے آیت سورہ فاتحہ صِرَاطَ الَّذِينَ أَنْعَمْتَ عَلَيْهِمْ سے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد بھی نبوت جاری رہنے کی دلیل پکڑی ہے ۔۔ یہ رسالہ اس کی تردید میں ہے۔
(78) رسائل ثلاثہ: 1939ء، صفحات 110
یہ کتاب تین مضامین کا مجموعہ ہے: (1) امامِ زمان (2) مہدی منتظر (3) مجددِ دوراں اور اس کی کتاب ۔۔ مرزا قادیانی کی دعاویٰ کی تردید کی گئی ہے۔
(79) نزول الملائکہ والروح علی الارض: صفحات 24
اس رسالہ میں مرزا قادیانی کے ان عقائد کا رد کیا گیا ہے، جو نزول ملائکہ سے متعلق ہیں۔
(80) مرزا غلام احمد قادیانی کی بدکلامیاں: صفحات 80
اس رسالہ میں مرزا قادیانی کی بدکلامیوں کا تذکرہ ہے۔
(81) قصص ختم النبوة لعموم الدعوة وجامعة الشريعة : صفحات 32
اس رسالہ میں پہلے ختم نبوت پر بحث کی ہے اور اس کے بعد مرزائے قادیان کے دعاویٰ کی تردید کی ہے اور اس کے متعلق بھی بحث کی ہے کہ نبوت کا سلسلہ حضرت آدم علیہ السلام سے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم تک کیوں جاری رہا۔
(82) سلم العلوم الی الاسرار الرسول: 1905ء، صفحات 48
مرزا قادیانی نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے معراجِ جسمانی کا انکار کیا ہے اور اس ضمن میں حضرت مسیح علیہ السلام کے رفع الى السماء کا انکار کیا ہے ۔۔ یہ رسالہ اسی کے جواب میں ہے۔
(83) صدائے حق: 1932ء، صفحات 16
اس رسالہ میں مرزا قادیانی کے اس دعویٰ کی تردید کی ہے کہ آپ علیہ السلام فوت ہو گئے ہیں اور ساتھ ہی اس کی توضیح کی ہے کہ قادیانی (مرزا) نہ مہدی موعود ہے نہ نبی و رسول بلکہ دجال اور شیطان ہے۔
(84) دکنی چھٹی: 1941ء، صفحات 8
یہ رسالہ مولوی غلام رسول (قادیانی) کے ایک پمفلٹ کے جواب میں ہے۔
(85) قادیانی حلف کی حقیقت: 1935ء، صفحات 8
اس رسالہ میں اشتہار مرزا قادیانی "مولوی ثناءاللہ سے آخری فیصلہ" پر بحث ہے۔
(87) کشف الحقائق یعنی روداد مناظراتِ قادیانیہ، صفحات 141
یہ کتاب اس مناظرہ کی روداد ہے جو علمائے اہل حدیث اور قادیانی علماء کے مابین جون 1923ء میں سیالکوٹ میں ہوا تھا۔
(88) فیصلہ ربانی بر مرزائے قادیانی: 1933ء، صفحات 12
یہ رسالہ پنجابی نظم میں ہے کہ مرزا قادیانی بموجب دعائے خود مرضِ ہیضہ میں مبتلا ہو کر واصل جہنم ہوا۔
(89) تردید مغالطات مرزائیت نمبر 2: 1954ء، صفحات 8
یہ رسالہ مرزا قادیانی کے دعاوی کی تردید میں ہے۔
(90) قادیانی مذہب: 1948ء، صفحات 16
یہ رسالہ ایک قادیانی مصنف کے پمفلٹ "ہمارا مذہب" کے جواب میں ہے۔
مولانا ابوالقاسم سیف بنارسی رحمۃ اللہ علیہ
(91) اظہارِ حقیقت: 1934ء (ثانی)، صفحات 16
یہ رسالہ مرزا قادیانی کے دعویٰ مسیح موعود، مہدی اور نبی و رسول ہونے کی تردید میں ہے۔
(92) رد مرزائیت: 1352ھ، صفحات 32
اس رسالہ میں مرزا قادیانی کے دعویٰ مسیح موعود کی تردید کرتے ہوئے مسئلہ ختم نبوت پر بڑی عالمانہ بحث کی گئی ہے۔
(93) قضائے ربانی بر دعائے قادیانی (الہیٰ فاصلہ) : 1352ھ، صفحات 20
اس رسالے میں قادیانی اشتہار "مولوی ثناءاللہ کے ساتھ آخری فیصلہ" پر قطعی اور فیصلہ کن بحث کی گئی ہے اور اس کے متعلق تمام قادیانی، لاہوری تحریروں کا جواب دیا گیا ہے۔
(94) مولوی غلام احمد ربانی کے بعض جوابات پر ایک نظر: 1325ھ، صفحات 32
یہ رسالہ ختم نبوت کے متعلق بعض قادیانی مصنفین کی تحریروں کے جواب میں لکھا گیا۔
(95) جواب دعوت: 1325ھ، صفحات 32
یہ رسالہ ایک قادیانی مصنف کے پمفلٹ "دعوۃ الی الحق" کے جواب میں ہے جس میں لفظ توفى ، نزول ابن مریم اور اختِ ہارون پر روشنی ڈالی ہے۔
(96) معیارِ نبوت: 1352ھ، صفحات 16
اس رسالہ میں اولا نبی کی بشریت کو قرآن مجید سے ثابت کیا ہے اور پھر معیارِ نبوت کی تعریف کی ہے۔ پھر آں حضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی 10 پیشین گوئیاں اور مرزا قادیانی کی 10 پیشین گوئیاں لکھ کر جائزہ لیا گیا ہے اور حق و باطل کو واضح کیا گیا ہے۔
(97) نورِ اسلام بجواب ظہورِ اسلام: 1943ء، صفحات 96
یہ کتاب ایک قادیانی مصنف کے رسالہ "ظہورِ اسلام" کی تردید میں ہے۔ جس میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے فوت ہو جانے پر بحث کی گئی تھی۔ مولانا بنارسی رحمۃ اللہ علیہ نے دلائل سے قادیانی تحریروں کا جواب دیا ہے۔
(98) دفع اوہام از ظہورِ امام: 1934ء، صفحات 24
یہ رسالہ قادیانیوں کے رسالہ "ظہورِ امام" کے جواب میں ہے جس میں انہوں نے قرآن مجید کی 12 آیات سے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے وفات پا جانے کو ثابت کیا تھا۔
(بقیہ آئندہ