دیکھ کر رنگِ چمن نہ ہو پریشان مالی!!
شبِ تاریک کی طوالت اپنی جگہ ہے، نورِ سحر کا امکاں ابھی باقی ہے۔ ظلم کی سیاہ رات کو دَوام نہیں ہوتا۔ خورشید کی کرنیں گھٹا ٹوپ اندھیروں کا سینہ چیز کر کائنات کے لیے ضوفشانی کا سامنا کیا کرتی ہیں۔ تپتے ہوئے صحرا کی وسعتیں دیکھ کر مایوس نہیں ہونا چاہئے، مسافر عزم و ہمت سے کام لیں تو اُمید کا نخلستان مل ہی جایا کرتا ہے۔ ملتِ اسلامیہ کا شجر اگر آج خزاں گزیدہ ہے تو کیا ہوا، اسلام دشمن لابیاں اپنے زہریلے اور اعصاب شکن پراپیگنڈہ سے مسلمانوں میں مایوسی پھیلا رہی ہیں۔ مایوسی اور قنوطیت ایسے نفسانی امراض ہیں جو قوموں کو ایک دفعہ گر کر دوبارہ اٹھنے کے قابل نہیں چھوڑتے۔ اسلام اپنے ماننے والوں کو﴿ لا تَقنَطوا مِن رَحمَةِ اللَّـهِ ...﴿٥٣﴾...الزمر  کا درس دیتا ہے۔
ملتِ اسلامیہ اپنی نشاۃِ ثانیہ کا آغاز کر چکی ہے، یہ محض خوش اعتقادی نہیں ہے بلکہ ایک اٹل حقیقت ہے۔ اسلام دشمن طاغوتی قوتوں کی بڑھتی ہوئی بہیمیت بذاتِ خود ملتِ اسلامیہ کے سیاسی احیاء کا رستہ روکنے کی احمقانہ کاروائیوں کا حصہ ہے۔ ایشیاء سے نکل کر اسلام یورپ اور امریکہ کی سرزمین میں بڑی تیز رفتاری سے پہنچ رہا ہے۔ اس کے نغمہ توحید سے یہودونصاریٰ کی نیندیں اُڑی جا رہی ہیں۔ اس کے ترانے ہزاروں نہیں، لاکھوں انسانوں کو مسحور کر رہے ہیں۔ جنسی بے راہ روی، حیوانیت اور مادہ پرستی کے عذاب میں مبتلا ہزاروں سلیم الفطرت انسان اسلام کے حلقہ عافیت میں پناہ لے کر اپنی دنیوی و اُخروی زندگی سنوار رہے ہیں۔ پاکستان اور دیگر اسلامی ممالک کے عوام مسلمانوں کی زبوں حالی پر دلِ گرفتہ ہیں، لیکن ادھر مغرب کے کفر کے ایوانوں میں اسلام کے خوش آئند مستقبل کے تصور سے لرزہ طاری ہے۔ وہ اسلام کو دہشت گردی اور بنیاد پرستی کا مذہب قرار دے کر اس کے مسلسل بڑھتے ہوئے اثر کو روکنے کی ناکام کوشش کر رہے ہیں۔ لیکن اسلام کا نورِ سحر ان کے ظلمات مآب ایوانوں پر دستک دے رہا ہے۔
راقم الحروف کا وِجدان کہتا ہے کہ تاریخ اپنے آپ کو ایک دفعہ پھر دہرائے گی۔ قدرت بڑی بے نیازی سے کفر کی حرکتوں پر خَندہ زن ہے۔ اس کے انتقام لینے کا اپنا انداز ہے۔ فرعونوں سے انتقام لینے کی اس کی سنت یہ ہے کہ موسیٰ علیہ السلام کی پرورش اسی کے ہاتھوں سے کرواتی ہے۔ آج بل کلنٹن جو طاقت کے نشہ میں مبتلا ہو کر ہزاروں مسلمانوں پر میزائلوں کی بارش برسا کر ان کے ہنستے بستے گھرانوں کو اجاڑ چکا ہے، اس کی بیٹی چیلسی کالج میں اسلام کو خصوصی مضمون کے طور پر پڑھ رہی ہے۔ اسی اسلام دشمن کلنٹن کی بیوی ہیلری کلنٹن نے آج سے دو سال قبل وائٹ ہاؤس میں عیدالفطر کے بعد دو سو سے زیادہ مسلمانوں کے اعزاز میں عید ملن کی تقریب منعقد کی۔ خود کلنٹن پہلا امریکی صدر ہے جس نے 1998ء کے جنرل اسمبلی کے اجلاس میں پیغمبرِ اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کی دو احادیثِ مبارکہ کا حوالہ دے کر مسلمانوں کو حیران اور یہودیوں کو پریشان کر دیا تھا۔ کون کہہ سکتا ہے کہ امریکی صدر کی دو احادیث دہرانے والی زبان سے اسلام کے سچے کلمہ کے "دو بول" کب نکل جائیں، یہ تو توفیق خداوندی ہے جس کو عطا ہو جائے۔ کیا بعید ہے کہ تاریخ اب کے اپنے آپ کو یوں دہرائے کہ کعبے کو ایک دفعہ پھر صنم خانے سے ہی پاسباں مل جائیں ۔۔ علامہ اقبال تو بہت پہلے فرما چکے ہیں
ہے عیاں یورشِ تاتار کے افسانے سے
پاسباں مل گئے کعبے کو صنم خانے سے
متعصب یورپی و امریکی مصنفین اور جھنجلاہٹ میں مبتلا کلیسا کے کینہ پردر پادری اہل مغرب کو اب تک یہ تسلی دیتے آئے ہیں کہ یورپ اور امریکہ میں اسلام قبول کرنے والے صرف "غیر مہذب" سیاہ فام ہی ہیں اور یہ کہ ان کی معاشی مجبوریوں کا استحصال کر کے دولت کے لالچ میں ان کو مسلمان بنایا جا رہا ہے۔ یہ ان کا خبثِ باطن تھا کہ وہ حقائق کا سامنا کرنے کو تیار نہیں تھے۔ آج امریکہ، برطانیہ، فرانس، جرمنی، سپین اور دیگر یورپی ممالک کے لاکھوں سفید فام اسلام کے دائرے میں داخل ہو چکے ہیں۔ اسلام کی حقانیت اور انسانیت پردر تعلیمات نے یورپ کے طبقہ اشراف کو بھی متاثر کیا ہے۔ امریکیوں کے جدِ امجد اور پہلے صدر جارج واشنگٹن کے پڑپوتے جارج اشقون کے قبولِ اسلام کے ایمان افروز واقعہ کی تفصیلات پاکستانی اخبارات میں چھپ چکی ہیں۔ اس نے اسلام قبول کرنے کا پس منظر بیان کرتے ہوئے لکھا ہے:
"میری افغانستان میں بطور صحافی/کیمرہ مین کے مشہور رسالہ Time کی طرف سے تعیناتی ہوئی۔ وہاں میں نے عام افغان مجاہدین کے اندر جو اسلامی روح محسوس کی، اس نے مجھے متحری کر کے رکھ دیا۔ میں نے دیکھا کہ وہ عین معرکہ جنگ میں وقت آنے پر نمازوں کے لیے کھڑے ہو جاتے۔ وہ کہا کرتے تھے کہ اپنے خالق و مالک کو راضی کرنے کے لیے ہم یہ عبادت کرتے ہیں۔ جب میں انہیں جوش و جذبے کے ساتھ جہاد کرتے دیکھتا کہ نہتے ہوتے ہوئے بھی وہ ایک بڑی فوجی طاقت کے ساتھ لڑ رہے ہیں تو میں اپنے دل میں کہا کرتا کہ یہ لوگ کمزور اور نہتے ہونے کے باوجود اپنے طاقتور دشمن پر یقینا فتح و غلبہ حاصل کر لیں گے، اس لئے کہ ان کے دِلوں میں وہ ایمان موجزن ہے جس سے روسی فوج محروم ہے۔
میں نے قیام افغانستان کے دوران احادیث نبوی صلی اللہ علیہ وسلم کا مطالعہ شروع کر دیا تھا۔ ایک حدیث میں جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے صحابہ رضی اللہ عنہم سے فرمایا کہ "وہ اپنے ایمان کی بدولت کامیاب و کامران ہوں گے" اور ہوا بھی یہی کہ ایمان کی قوت سے افغان مجاہدین بالآخر جدید ترین جنگی سازوسامان سے لیس روسی فوج کو شکست دینے میں کامیاب ہو گئے" (46)
مشہور جرمن مستشرق اور اقبالیات کی ماہر جرمن خاتون ڈاکٹر این میری شمل اسلام کی حقانیت سے متاثر ہو کر بالآخر اسلام لے آئی ہیں۔ "سنڈے ٹیلی گراف" میں شائع ہونے والے ایک مضمون کے مطابق 1989ء سے 1998ء تک برطانیہ میں 20 ہزار لوگ اسلام قبول کر چکے ہیں۔ ان میں ایک سینئر جج لارڈ جسٹس اسکارٹ کا صاجزادہ اور صاجزادی اور ممتاز برطانوی شخصیت سرولیم ولنکس کا بیٹا میتھیو ولنکس (Mathew Vellincs) بھی شامل ہیں۔ برطانوی شہزادی لیڈی ڈیانا کی حادثاتی موت کے بعد اخبارات میں یہ افواہ چھپی تھی کہ لیڈی ڈیانا نے آخری دنوں میں اسلام قبول کر لیا تھا۔ اس خبر کی اگرچہ تصدیق نہیں ہو سکی لیکن ایک فرانسیسی ہفت روزہ میں لیڈی ڈیانا کا جو آخری انٹرویو شائع ہوا تھا، اس میں اس نے اسلام کے معاشرتی نظام کی بے حد تعریف کی تھی کیونکہ اس میں عورت کو باوقار مقام دیا گیا ہے۔ برطانوی شاہی خاندان کے تعیشات بھرے ماحول سے مایوس ہو کر جب لیڈی ڈیانا بے یقینی اور مایوسی کے اندھیروں میں ٹامک ٹوئیاں مار رہی تھی تو مستقبل کے لیے اپنے شوہر کے طور پر قبول کرنے کے لیے اس کی نگاہِ انتخاب ڈاکٹر حسنات اور ڈوڈی الفائد جیسے "مسلمانوں" پر پڑی اور ڈوڈی الفائد جیسے "مسلمانوں" پر پڑی حالانکہ ان سے بڑھ کر جاہ و حشمت والے ہزاروں گورے عیسائی نوجوان اس کی نگاہِ ناز کے قتیل ہونے پر تیار تھے۔
آج سے دو تین سال قبل غالبا 1996ء میں لندن کے ہفت روزہ اکانومسٹ نے "مسلم یورپ" کے عنوان سے تقریبا 50 صفحات پر مشتمل ایک مفصل سروے شائع کیا تھا جس میں یورپ کے مختلف ممالک میں بسنے والے مسلمانوں کا تناسب اور اعداد و شمار شائع کئے گئے تھے۔ اس سروے کے مطابق یورپ میں رہنے والے مسلمانوں کی کل تعداد ڈیڑھ کروڑ کے لگ بھگ ہے۔ امریکی ہفت روزہ "نیوزویک" نے دسمبر 97ء کے شمارے میں “Alien Europ” (اجنبی یورپ) کے عنوان سے فیچر شائع کیا۔ اس میں فیچر نگار نے اپنی تشویش کا اظہار کیا ہے کہ "مسلمان تیزی سے یورپ میں بڑھ رہے ہیں، ان کا اپنا کلچر ہے جو یورپ سے مختلف ہے چنانچہ آج کا یورپ اپنے کلچر سے بیگانہ ہوتا جا رہا ہے" مضمون نگار نے اعدادوشمار کے ساتھ مسلمانوں کا یورپی ملکوں میں تناسب بتایا ہے کہ اٹلی میں 2 فیصد، جرمی میں پانچ فیصد، برطانیہ میں چھ فیصد، پراگ میں 10 فیصد اور سوئٹرز لینڈ میں 6 فیصد مسلمان ہیں۔ فرانس میں مسلمانوں کی تعداد پروٹسٹنٹ عیسائیوں اور یہودیوں سے زیادہ ہے۔ جرمنی میں ترک مسلمانوں کی تعداد 20 لاکھ تک پہنچ چکی ہے۔ اٹلی میں اسلام دوسرا بڑا مذہب بن چکا ہے۔ یہی حال سپین اور بلجیم کا ہے۔ اس مضمون کو پڑھ کر اندازہ ہوتا ہے کہ اہل یورپ اسلام کے بڑھتے ہوئے اثرورسوخ کو دیکھ کر کس قدر حواس باختہ ہو رہے ہیں، یہ سطور ملاحظہ کیجئے ۔۔۔
"یہ ہمارے شہروں میں بسنے والے مسلمان، ان کو ہم خود یہاں لائے ہیں، اب ان کا یہاں سے نکلنا ناممکن ہے۔ یہ اپنے دین کو چھوڑنے والے نہیں۔ یہ ایک غالب عنصر ہیں۔تہذیبوں کے تصادم میں مسلمان تہذیب مارکیٹ کی تہذیب ہے اور مارکیٹ میں وہی چیز مقام بناتی ہے جو اعلیٰ ہو۔ یہ یورپ کے مستقبل کی تہذیب ہے اور یہ یورپ کا آئندہ دین ہے۔ یورپ کا چہزہ بدل رہا ہے اور مستقبل میں یہ چہرہ ایک اسلامی چہرہ ہو گا۔" (47)
سابق امریکی صدر رچرڈ نکسن نے سوویت یونین کے خاتمے کے بعد مغربی دنیا کو اسلامی خطرے سے خبردار کرتے ہوئے مشورہ دیا تھا کہ وہ مستقبل میں اس خطرے سے نمٹنے کے لیے NATO کو قائم رکھیں۔ اپنی تمام تر اسلام دشمنی کے باوجود دل میں اسلامی تہذیب کی برتری کا قائل تھا۔ اس کے قلم سے یہ الفاظ نکل ہی گئے:
"اگرچہ مسلم دنیا سیاسی ارتقا میں مغرب سے پیچھے ہے (اس وقت دو مسلمان ملکوں میں جمہوری حکومتیں قائم ہیں) لیکن ہماری تہذیب ان کی تہذیب سے خلقی اور فطری اعتبار سے ہرگز برتر نہیں۔ کمیونزم کی اپیل کا مقابلہ کرنے میں مسلم دنیا مغربی اقوام سے زیادہ سخت جان اور قوی ثابت ہوئی اور مغرب کی مادیت اور جنسی اباحیت کو رد کرنے میں اس تہذیب نے جس استقامت کا ثبوت دیا، وہ مسلمانوں کے حق میں جاتی ہے۔" (48)
برطانوی ولی عہد شہزادہ چارلس نے 1997ء/1998ء کے دوران انگلینڈ، سعودی عرب، بنگلہ دیش اور امریکہ کے دورہ جات کے دوران اپنی تقاریر میں اسلامی نظام زندگی اور ثقافت کے بارے میں متواتر تعریفی کلمات کہے۔ ان خطابت کو پریس نے وسیع کوریج دی ۔۔ وہ کھلم کھلا تسلیم کرتا ہے:
"اسلام ہمارے ماضی اور حال کی تمام انسانی جدوجہد اور سرگرمیوں میں حصہ دار رہا ہے۔ اسی کی بدولت ہم نے جدید یورپ تخلیق کیا۔ یہ ہماری اپنی وراثت کا ایک لازمی حصہ ہے، اس سے الگ چیز نہیں۔ اس سے بڑی بات یہ ہے کہ یہ ہمیں آج دنیا کو سمجھنے اور اس میں زندگی بسر کرنے کے لئے ایک ایسے طریقہ کی تعلیم دے سکتا ہے جسے کھو کر عیسائیت افلاس زدہ اور پسماندہ ہو گئی ہے" (49)
ظلم کی گہرائی میں جا کر جائزہ لیا جائے، تو معلوم ہوتا ہے کہ یہ بنیادی طور پر بزدلی سے جنم لیتا ہے کیونکہ ظلم ہمیشہ اپنے سے کم طاقتور پر ہی روا رکھا جاتا ہے اور اپنے سے کم تر کے خلاف طاقت استعمال کرنا ایک بزدلانہ فعل ہے۔ قوت ارتکاز اور جوابی رد عمل دونوں ظالم اور طاقتور کے دل میں قوت کے چھن جانے کا خوف پیدا کرتے ہیں۔ قدرت کی طرف سے ظالم کو اس دنیا میں یہ سزا ملتی ہے کہ وہ سکھ اور چین سے زندگی بسر نہیں کر سکتا۔
اگر اس اصول کو امریکہ اور امریکی قوم پر منطبق کیا جائے تو یہ سپر پاور ہونے کے باوجود کم ظرفوں اور بزدلوں کا ملک ہے۔ امریکی فوج، بزدلِ جوانوں کی فوج ہے۔ امریکی نے آج تک کوئی بھی جنگ اپنے فوجیوں کے عزم و ہمت کے سہارے پر نہیں لڑی، یہ ہمیشہ اپنی ٹیکنالوجی کی برتری کے بل بوتے پر جنگوں میں الجھتا رہا ہے۔ جنگِ عظیم دوم میں امریکی افواج بالکل آخری مراحل میں شامل ہوئیں، جونہی امریکہ کو جانی نقصان سے دو چار ہونا پڑا، اس نے جاپان پر ایٹم بم پھینکنے کی بزدلانہ کاروائی کا ارتکاب کر کے فاتح کا تاج سر پر سجا لیا۔ امریکی قوم ہر اس اقدام سے گھبراتی ہے جہاں موت کا خدشہ پایا جاتا ہو۔ 1991ء کی خلیجی جنگ میں امریکہ کے صرف 72 فوجی ہلاک ہوئے، جب ان کی لاشیں امریکہ پہنچیں تو امریکی ذرائع ابلاغ نے حزن و ملال کی وہ فضا قائم کی کہ جیسے 72 ہزار افراد لقمہ اَجل بن گئے ہوں۔ صومالیہ میں جنرل فرح عدید کے گوریلوں نے چند سال قبل امریکی فوجیوں کو بھیجنے کی بات کی تو امریکی پریس بار بار صومالیہ کے حشر کے مناظر کھینچنا شروع کر دیتا۔ 16 دسمبر 98ء کی چار روزہ جارحیت کے دوران اینگلو امریکن ہوائی جہازوں نے عراق پر رات کے آخری پہر میں حملے کئے تاکہ جانی نقصان کم از کم ہو۔ ایک اسرائیلی اخبار اس بزدلی پر طعنہ دیتے ہوئے لکھتا ہے:
"عراق میں جنگ ہمیشہ تب شروع کرتے ہیں جب تاریکی چھا جائے۔ فوجی مبصرین اس کی وضاحت پیش کرتے ہیں کہ ایسا اس لیے کیا جاتا ہے تاکہ بمباری کرنے والے جہاد ّاینٹیائیر کرافٹ" کے جوابی فائر سے محفوظ رہیں۔ یہ سب باتیں اپنی جگہ، معلوم ہوتا ہے، جدید الیکٹرانک ہتھیاروں سے لڑی جانے والی جنگ کے لئے بھی قرونِ اولیٰ کی تاریکی کی ضرورت پیش آتی ہے" (50)
معروف کالم نگار عبدالقادر حسن لکھتے ہیں کہ عراق پر اینگلو امریکن حملے کے دوران وہ اتفاق سے امریکہ میں تھے۔ امریکی ٹیلی ویثن تھوڑے تھوڑے وقفہ کے بعد اس حملے کی خبریں نشر کر رہے تھے۔ ہر خبر کے آخر میں وہ یہ وضاحت ضرور کرتے کہ امریکہ کا کوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔ امریکہ کی خوف زدہ ذہنیت کے متعلق وہ اظہار خیال کرتے ہوئے لکھتے ہیں:
"امریکہ ان دنوں اپنی بے مثل عالمی حیثیت کو سنبھالنے اور قائم رکھنے کی جدوجہد میں مصروف ہے اور یہ بڑا مشکل وقت ہے۔ اگر امریکی ہر ایک سے پوچھتے ہیں کہ وہ ان کے بارے میں کیا رائے رکھتا ہے تو ان کا یہی اندرونی خطرات کا احساس بولتا ہے جو اسے اپنے اس بے مثل عالمی مقام کی طرف سے لاحق ہوئے ہیں۔ ان کے لیڈروں کو یہ خوف بھی ہے کہ وہ دنیا میں جو کھیل کھیل رہے ہیں، اس کے خطرات سے محفوظ رہنے کے لیے اپنے کسی مخالف کو باقی نہیں رہنے دینا چاہئے ۔۔ امریکہ اپنے بے پناہ اور بے مثال طاقت کے باوجود کمزور صدام حسین پر بار بار جھپٹتا ہے اور ایک فردِ واحد اسامہ بن لادم کو اپنا خطرناک دشمن سمجھتا ہے۔ افسوس کہ امریکہ اس کی خوفزدہ ذہنیت سے فائدہ اٹھانے والا کوئی مسلمان حکمران اور لیڈر موجود نہیں ہے۔" (51)
آل پاکستان ایجوکیشن کانگریس کے ڈائیرکٹر چوہدری مظفر حسین لکھتے ہیں کہ
"شاید انسانی تاریخ کا یہ سب سے بڑا المیہ ہے کہ امریکی قوم فاتح عالم ہونے اور دنیا کی واحد سپر پاور ہونے کے باوجود عین عروج کے زمانے میں حوصلہ ہار چکی ہے اور مایوسی کا شکار ہے۔ خود نکسن کے الفاظ میں: "اندر جو کچھ ہے، مایوس کن ہے" وہ یہ بھی تسلیم کرتا ہے کہ "امریکی معاشرہ ڈرا ڈرا اور سہما سہما ہے اور امامتِ عالم کی ذمہ داریاں سنبھالنے کا حوصلہ نہیں رکھتا" (52)
نہتے بے گناہ عراقی مسلمانوں کے خون سے ہاتھ رنگ کر اپنی جراءت کی دھاک بٹھانے والا بل کلنٹن اندر سے کتنا بزدل، ڈرپوک اور چھوٹے دل کا مالک ہے، اس کا اندازہ آپ اس کے حالیہ انٹرویو سے لگائیں جو اس نے نیویارک ٹائمز کے نمائندے کو دیا۔ نوائے وقت نے کالمی سرخی لگائی:
"اسامہ کا خوف ۔۔ رات بھر جاگتا رہتا ہوں: کلنٹن" اس خبر کا متن یوں شائع ہوا:
"امریکہ اسامہ بن لادن کو صدام حسین سے بڑا خطرہ سمجھنے لگا ہے۔ اس امر کا اندازہ 'نیویارک ٹائمز' میں گذشتہ روز شائع ہونے والے صدر کلنٹن کے انٹرویو سے بھی لگایا جا سکتا ہے جس میں انہوں نے کہا کہ اسامہ بن لادن کیمیائی اور جراثیمی ہتھیار حاصل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ اگلے چند برسوں میں امریکی سرزمین پر کیمیائی یا جراثیمی ہتھیاروں سے حملہ ہو سکتا ہے، حملے کا خطرہ رات کو مجھے جگائے رکھتا ہے۔ کلنٹن نے کہا کہ وہ 1993ء میں ورلڈ ٹریڈ سنٹر میں بم دھماکے کے بعد سے بیالوجیکل دہشت گردی اور دوسرے غیر روایتی ہتھیاروں کے حملے کے بارے میں فکر مند ہیں۔ انہوں نے کہا کہ کوئی خطرناک ملک، بیرونِ ملک امریکی مفادات اور امریکہ کی سرزمین پر دہشت گردی کر سکتا ہے۔" (53)
کچھ عرصہ قبل ریڈرز ڈائجسٹ میں Fear of Death کے عنوان سے مضمون شائع ہوا تھا جس میں بتایا گیا تھا کہ
"امریکی قوم موت کے ڈر میں مبتلا ہے۔ مرنے کا خیال امریکیوں میں اعصابی تشنج پیدا کر دیتا ہے۔ موت کے معمولی خطرہ کے خلاف بھی وہ شدید رد عمل کا اظہار کرتے ہیں۔"
چند سال پہلے ورلڈ ٹریڈ سنٹر کی عمارت میں بم دھماکے کے نتیجے میں چند افراد ہلاک ہوئے تھے تو امریکیوں نے اس واقعہ کو کئی ماہ تک اُچھالا تھا۔ گذشتہ دس برسوں سے جس طرح پاکستان میں دہشت گردی، بم دھماکے اور فرقہ وارانہ قتل و غارت کے واقعات ہوئے ہیں، اگر یہ امریکہ میں ہوتے تو شاید ہزاروں امریکی ان واقعات کی دہشت سے ہی داعمی اجل کو لبیک کہہ جاتے۔
مندرجہ بالا واقعات کے تذکرہ کا مقصد یہ ہے کہ ہمیں امریکہ کی سپرپاور حیثیت سے غیر ضروری طور پر مرعوب و وحشت زدہ نہیں ہونا چاہئے۔ پاکستان میں ایک مخصوص مغرب زدہ لابی گاہے بگاہے امریکہ کی قوت کا رعب ڈال کر پاکستانی قوم کے "مورال" کو پست کرنے کی مہم میں مصروف رہتی ہے۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ امتِ مسلمہ کا مورال بلند رکھا جائے۔ امریکہ سپر طاقت ضرور ہے، بہرحال ربِ کائنات ہرگز نہیں ہے۔ مسلمانوں کو محض اپنے رب سے ڈرنا چاہئے۔ امریکی قوت کے متعلق بہت سے Myths بھی قائم کر لیے گئے ہیں۔ اگر واقعی امریکی اس قدر طاقتور ہوتے کہ ان کا مقابلہ ناممکن ہوتا تو اب تک فیڈل کاسترو، معمر قذافی، صدام حسین، ایرانی قیادت اور طالبان کا وجود قائم نہ ہوتا۔ مادی قوت کے مقابلے میں ایمانی قوت بدرجہا بہتر ہے۔ حالیہ برسوں میں ملائیشیا کے وزیراعظم مہاتیر محمد نے امریکی پالیسیوں کی شدید مخالفت کر کے جراءت و عزیمت کی شاندار مثالیں قائم کی ہیں، اِس کے ساتھ ہی وہ اپنے ملک کو معاشی ترقی دینے میں بھی کامیاب رہے ہیں۔
رنگ گردوں کا ذرا دیکھ تو عنابی ہے!!
امتِ مسلمہ میں بیداری کی نئی لہر بے حد امید افزا ہے۔ ذرا بیسیویں صدی کا وہ دور ذہن میں لائیے جب 1923ء میں خلافتِ عثمانیہ کے خاتمہ کے بعد سوائے حرمین شریفین کے باقی تمام مشرقِ وسطیٰ کے ممالک استعمال غاصبوں کے قبضہ میں چلے گئے تھے۔ امتِ مسلمہ، مرکزِ قیادت سے محروم کے بعد شدید مایوسی کا شکار تھی۔ ترکہ کا وہ علاقہ جو مصطفیٰ کمال پاشا نے آزاد کرایا تھا، وہ بھی سیکولر طبقہ کے زیر حکومت تھا جو اسلام دشمنی میں انگریزوں سے بھی بڑھ کر تھے۔ ہندوستان کے مسلمانوں کی بے دلی، حزن و ملال اور رنج و محن دیکھا نہ جاتا تھا۔ استعماری تسلط سے آزادی ملنے کا دور دور تک امکان نہ تھا۔ مراکش سے لے کر انڈونیشیا کے جزائر شرق الہند تک کے مسلمان ذلت آمیز غلامی کی زنجیر میں جکڑے ہوئے تھے۔
لیکن مایوسی کے ان اندھیروں میں بھی ایک شخص نورِ سحر کی نوید اور غلامی کی جکڑ بندی میں کسی ہوئی ملتِ اسلامیہ کی نشاۃِ ثانیہ کی خوشخبری سنا رہا تھا۔ اس وقت بہت سے لوگوں نے اس کی صدا کو "مجذوب کی بڑ اور غیر حقیقت پسندانہ رجائیت پسندی" کا نام دیا تھا۔ لیکن آنے والے حالات اس کے قول کی صداقت پر گواہ ہیں۔ وہ شخص حکیم الامت، ملتِ اسلامیہ کے اجتماعی ضمیر کا بے باک ترجمان اور اسلام کی حقانیت پر کامل یقین رکھنے والا اقبال ہی تھا۔ اس کی اردو کی پہلی شاعری کی کتاب "بانگ، درا" کی نظؐ "جوابِ شکوہ" کے درج ذیل بند پر غور فرمائیے جو اس نے خداوند ذوالجلال کی زبانی مسلمانوں کو پیغام کی صورت میں کہا           ع
دیکھ کر رنگ چمن ہو نہ پریشان مالی
کوکب غنچہ سے شاخیں ہیں چمکنے والی
خس و خاشاک سے ہوتا ہے گلستان خالی
گل بر انداز ہے خونِ شہدا کی لالی
رنگ گردوں کا ذرا دیکھ تو عنابی ہے
یہ نکلتے ہوئے سورج کی تنک تابی ہے
آج بیسیوں صدی کے اختتام پر (1999ء) ملتِ اسلامیہ کا موازنہ مندرجہ بالا حالات سے کیجئے تو صورتِ حال امید افزا اور قدرے خوشگوار نظر آتی ہے۔ سوائے چند چھوٹے سے خطوں کے مسلمان یورپی استعمار کے براہِ راست سیاسی تسلط و قبضے سے آزاد ہیں۔ حال ہی میں سنٹرل ایشیاء کی مسلمان ریاستیں روس کے غاصبانہ قبضے سے آزاد ہوئی ہیں، دس سال پہلے ان کی آزادی کسی کے وہم و گمان میں بھی نہ تھی۔ یورپ میں پہلی مسلمان ریاست بوسنیا ستم بار حالات کے باوجود دنیا کے نقشے پر ظہور پذیر ہو چکی ہے۔ پوری اسلامی دنیا میں اسلام کی نشاۃِ ثانیہ کی علمبردار تحریکیں زور پکڑ رہی ہیں۔ الجزائ میں "اسلامک نیشنل فرنٹ" چند سال قبل استعمال سیکولر ایجنٹوں کو انتخابی شکست سے دو چار کر چکا ہے، اگرچہ یورپی استعمال نے اپنی وضع کردہ جمہوریت کے اصولوں کی خلاف ورزی کرتے ہوئے انہیں حکومت سے محروم ہی رکھا ہے لیکن تابہ کے! اتاترک کے ظالم سیکولر طبقہ کو نجم الدین اربکان کی رفاہ پارٹی ذلت آمیز شکست دینے کے بعد ایک دفعہ حکومت بنانے میں بھی کامیاب ہو چکی ہے۔
افغانستان میں بے سروپا مجاہدین اسلام کے ہاتھوں روسی استعمار کی ذلت آمیز شکست اب تاریخ انسانی کا عبرت آموز واقعہ بن چکا ہے۔ اب طالبان نے وہاں اسلامی حکومت کے قیام کی بنیاد رکھ دی ہے۔ ایران میں آیت اللہ خمینی کے پیروکاروں نے امریکی ایجنٹ شہنشاہِ ایران کو جس طرح بے آبرو ہو کر ملک سے فرار ہونے پر مجبور کیا، وہ بیسیویں صدی میں استعاری مغرور چہرے پر ایک سبق آموز اور ناقابل فراموش طمانچہ ہے۔
سوڈان میں اسلام پسندوں نے لادین گماشتوں کو نکال باہر کیا ہے، مصر اور افریقہ کے کئی ممالک میں اخوان المسلمین استعماری ایجنٹوں کے ساتھ پنجہ آزمائی میں مصروف ہیں، ان کی قوت میں روز بروز اضافہ ہو رہا ہے۔ پاکستان، امریکہ اور اس کے حواری یورپ کی دھمکیوں کے باوجود ایٹمی دھماکہ کر کے ان کے غرورِ انا کے شیش محل کو چکنا چور کر چکا ہے۔ آج سے پندرہ بیس سال قبل ایک ترقی پذیر مقروض ملک کی طرف سے اس جسارت کا صدور ناممکن تصور کیا جاتا تھا۔ سنٹرل ایشیاء کی نو آزاد مسلم ریاستوں میں جہادی تحریکیں سر اٹھا چکی ہیں، ایک وقت آئے گا، وہ سابقہ سوویت یونین کی نیم اشتراکی باقیات پر مبنی موجودہ قیادت کا بوریا بستر گول کرنے میں کامیاب ہو جائیں گے (ان شاءاللہ) ۔۔۔ تمام مسلم ممالک میں جہاں کہیں یورپی ایجنٹ حکومت کے ایوانوں پر مسلط ہیں، انہیں اپنے اقتدار کو طول دینے میں سخت مشکلات کا سامنا ہے۔
۔۔۔ اُمتِ مسلمہ کے لیے لائحہ عمل ۔۔۔

اگر امت مسلمہ کی قیادت، جارح یورپی اقوام اور امریکی استعمار کی چیرہ دستیوں، ظالمانہ استحصال اور ثقافتی غلامی سے اپنے آپ کو محفوظ رکھنے میں سنجیدہ ہے تو اسے سر جوڑ کر مشترکہ حکمتِ عملی وضع کرنا ہو گی۔ مجوزہ حکمتِ عملی کے لیے درج ذیل نکات کو بنیاد بنایا جا سکتا ہے:
(1)OIC، مؤتمر اسلامی، خلیج کونسل اور اسلامی ممالک کے درمیان اتحاد و اشتراکِ عمل کو پروان چڑھانے والی دیگر تنظیموں اور اداروں کی تشکیل نو کی جائے، ان کو اس حد تک فعال بنایا جائے کہ وہ امتِ مسلمہ کو درپیش مسائل اور بحران کے دوران بروقت راہنمائی و قیادت کے فرائض انجام دے سکیں۔ ان تنظیموں کے فیصلہ جات محض سفارشات تک ہی محدود نہ ہوں بلکہ ان پر عمل درآمد کو یقینی بنایا جائے۔ خلاف ورزی کرنے والے رکن مسلم ممالک کے خلاف اجتماعی تادیبی رد عمل کا متفقہ طریقہ کار وضع کیا جائے۔
(2) ملتِ اسلامیہ کے اجتماعی مفادات کی پاسداری کے لیے مسلمان ممالک باہمی تنازعات کے منصفانہ حل کے لئے ایثار و قربانی کے جذبہ کے تحت فوری طور پر مشترکہ لائحہ عمل وضع کریں۔ اس مقصد کے لیے متحارب فریق ممالک کی رضامندی سے ثالثی کمیٹیاں تشکیل دی جائیں، جو سربراہانِ مملکت و حکومت پر مشتمل ہوں۔ مسلمان ملکوں کو اپنے معاملات امریکہ، یورپ یا اقوامِ متحدہ کی مداخلت کے بغیر خود ہی نمٹانے کی روایات کو فروغ دینا چاہئے۔
(3) مذکورہ بالا اداروں کے باوجود یا انہیں ختم کر کے اقوامِ متحدہ کی طرز پر "مسلم اقوامِ متحدہ" تشکیل دی جائے جس کے ذیلی ادارے مسلم عدالت انصاف، مسلم سیکورٹی کونسل اور دیگر کمیشنز تشکیل دئیے جائیں۔ "مسلم اقوامِ متحدہ" کا چارٹر مسلم ممالک کے اجتماعی نظریات و افکار کی روشنی میں ترتیب دیا جائے۔ پہلے دس سال کے لیے پانچ اہم مسلمان ممالک مثلا پاکستان، ایران، سعودی عرب، ملائیشیا اور قازقستان پر مشتمل ایک اعلیٰ اختیاراتی کمیٹی تشکیل دی جائے جو مشرقِ وسطیٰ میں مسلم ممالک کے درمیان مصالحت کے لیے اہم کردار ادا کرے۔
(4) NATO کی طرز پر مسلمان ملکوں کی جغرافیائی اور نظریاتی سرحدوں کے دفاع اور کسی بھی مسلم ملک کے متنازع فیہ علاقے میں کسی بھی طرح کی گڑ بڑ کو عارضی کنٹرول میں لینے کے لیے "مسلم افواجِ متحدہ" کا قیام عمل میں لائا جائے۔
(5) مغرب کی ثقافتی استعماریت اور عقلی نو آبادیات کا مؤثر توڑ کرنے کے لیے "مسلم براڈ کاسٹنگ" کے نام سے جامع اور وسیع ادارے کا قیام عمل میں لائا جائے، جس کے زیر نگرانی ٹیلی ویثن، ریڈیو مختلف زبانوں میں پروگرام نشر کریں۔ اسی طرح "مسلم نیوز ایجنسی" قائم کی جائے جس کے ذمے مسلم ممالک میں بولی جانے والی زبانوں میں اخبارات کے اجرا اور دیگر لٹریچر کی اشاعت شامل ہو۔ یہ امتِ مسلمہ کے مشترکہ مؤقف کے مؤثر ابلاغ اور اسلام دشمن ذرائع ابلاغ کے زہریلے پراپیگنڈہ کے بھرپور جواب کا فریضہ ادا کرے۔
(6) مغرب کی فکری محکومی سے چھٹکارا پانے کے لئے یونیسکو کی طرز پر "اسلامی سائنس اینڈ ایجوکیشن آرگنائزیشن" قائم کی جائے۔ جس کے بنیادی مقاصد میں اسلامی تہذیب و ثقافت کا فروغ مسلم ممالک کے سائنس دانوں کی نگرانی میں جدید سائنسی تجربہ گاہوں کا قیام، دفاعی پیداوار کے لیے مشترکہ سرمایہ کاری کے تحت صنعتی اداروں اور کارخانوں کا قیام اور سائنس و ٹیکنالوجی کے فروغ کے لئے مسلم ممالک کے درمیان مشترکہ لائحہ عمل کی تیاری وغیرہ شامل ہوں۔
(7) یورپی برادری کی طرز پر "مسلم برادری" کا قیام عمل میں جائے، جو مسلم ممالک کے درمیان تجارت، لین دین کو فروغ دے۔ یورو کرنسی کے طرز پر مسلم ممالک کے لیے درہم یا دینار یا کسی اور متفق علیہ نام کے تحت واحد کرنسی کا اجرا بھی مسلم کمیونٹی کے مقاصد میں شامل ہو۔
(8) اسلامی معیشت کے اصولوں کی روشنی میں غیر سودی معاشی، مالیاتی اور بینکاری نظام کے احیا و اجرا کے لیے "مسلم مالیاتی فنڈ" کا قیام عمل میں لائا جائے۔ اس مشترکہ فنڈ سے حاجت مند مسلم ممالک کو قرضہ جات کی فراہمی وغیرہ کی جائے تاکہ وہ امریکہ اور یورپ کے استحصالی قرضوں کے نظام سے محفوظ رہ سکیں۔ مسلمان ملک، امریکہ اور یورپ کے ملکوں سے اپنی دولت نکال کر "مسلم مالیاتی فنڈ" میں جمع کرائیں تاکہ ان کی دولت سے غیر مسلم فائدہ نہ اٹھا سکیں۔
(9) صدر انور سادات نے جس طرح 1973ء کی فلسطین اسرائیل جنگ کے فورا بعد خود پیش قدمی کرتے ہوئے اسرائیل کے ساتھ کیمپ ڈیوڈ سمجھوتہ پر دستخط کئے تھے، اسی طرح عراق، سعودی اور کویت کے رہنما خلیج کے تنازعہ کو حل کرنے کے لیے پیش قدمی کر کے خیر سگالی کا مظاہرہ کریں۔
اگر یہ پیش قدمی صدر صدام حسین کی طرف سے ہو تو اس کا بے حد سازگار تاثر قائم ہو گا، انہیں ذاتی اَنا اور جھوٹے تکبر سے بالاتر رہتے ہوئے ملت اسلامیہ کے اجتماعی مفاد اور خطے میں مستقل امن و امان کے قیام اور باہمی غلط فہمیوں اور عدم اعتماد کے ازالہ کے لیے مصالحاتی جذبے کا اظہار کرنا چاہئے۔ اسی طرح امریکی استعمار کی خلیج میں موجودگی کا ظاہری جواز بھی باقی نہیں رہے گا۔
(10) مسلمان ممالک کو حتیٰ الامکان مختلف علاقوں میں مصروفِ عمل جہادی تحریکوں کی اخلاقی، مالی اور عملی امداد و سرپرستی کرنی چاہئے کیونکہ یہ تحریکیں امتِ مسلمہ کی بقا اور ترقی کی جنگ لڑ رہی ہیں۔
(11) مسلم ممالک کے راہنماؤں کو اپنے ملک میں نفاذِ شریعت کے عملی نفاذ کے لیے سازگار حالات کے قیام اور قوتِ نافذہ کی تشکیل کے لیے کردار ادا کرنا چاہئے۔ انہیں احساس کر لینا چاہئے کہ ان کا مستقبل تہذیبِ مغرب سے نہیں بلکہ اسلامی شریعت سے وابستہ ہے۔
(12) کسی بھی مسلم ممالک کے خلاف جارحیت کی صورت میں تمام مسلم ممالک کو بیک آواز ہو کر مؤثر احتجاج کرنا چاہئے۔ احتجاج کے فوری مظاہرے کے طور پر مسلمان ممالک کو جارح ملک سے اپنے سفیروں کو فورا واپس بلا لینا چاہئے، اپنے ملک میں موجود جارح ملک کے سفارتی اہلکاروں کو تا حکم ثانی ملک سے نکل جانے کا حکم دینا چاہئے اور جارح ملک کے ساتھ درآمدات و برآمدات کو عارضی طور پر معطل کر دینا چاہئے۔
(13) مسلمان ممالک کو یورپ اور امریکہ میں اسلام کی نشرواشاعت کے لیے وسیع نیٹ ورک قائم کرنا چاہئے۔ ان ممالک میں مسلمانوں کی تعداد جس تناسب سے بڑھے گی، اس تناسب سے ان استعماری ممالک کے لیے امتِ مسلمہ کے خلاف جارحیت کے ارتکاب کا امکان کم ہو جائے گا۔ ہر ملک میں مسلمانوں پر مشتمل تنظیمیں قائم کی جائیں جو امتِ مسلمہ کے مفادات کے تحفظ کے لیے مؤثر آواز اٹھا سکیں۔ یہ تنظیمیں اسلام دشمن صیہونی و عیسائی لابیوں کی سرگرمیوں پر کڑی نگاہ رکھیں اور ان کے توڑ کے لیے جوابی اقدامات کریں۔
مندرجہ بالا تجاویز پر عملدرآمد مشکل ضروری ہے لیکن ناممکن نہیں ہے۔ اس مقصد کے لیے سب سے اہم شرط ملتِ اسلامیہ کے لیے مخلص قیادت کا سامنے آنا یا لانا جانا بے حد ضروری ہے آج جو یورپی ریاستیں واحد کرنسی کے نظام میں مربوط نظر آتی ہیں، ماضی قریب میں باہم جنگ و جدال میں برسرپیکار رہی ہیں۔ برطانیہ، اٹلی اور جرمنی جنگِ عظیم اول و دوم میں ایک دوسرے کے دشمن تھے اور آج بھی بعض ممالک کے درمیان چھوٹے موٹے اختلافات قائم ہیں، لیکن وہ مشترکہ پلیٹ فارم پر جمع ہو گئے ہیں۔ مسلمان ملکوں کے درمیان اتحاد نہ ہونے کی ایک اہم وجہ امریکہ اور یورپی ممالک کا منفی کردار بھی ہے۔ وہ کبھی نہیں چاہیں گے کہ امتِ مسلمہ میں اتحاد قائم ہو لیکن مسلم ممالک بہت سارے اقدامات مذکورہ قوتوں کی شدید مخالفت کے باوجود کر چکے ہیں، مثلا ایرانی انقلاب، طالبان کی حکومت کا قیام، ملائیشیا میں بیرونی سرمائے پر پابندی، پاکستان کی طرف سے ایٹمی دھماکہ وغیرہ۔ تو آخر کیا وجہ ہے کہ بھرپور مخلصانہ جدوجہد کے ذریعے وہ مندرجہ بالا بظاہر خواب نما اہداف کو پایہ تکمیل تک نہ پہنچا سکیں۔
آخر میں ایک دفعہ پھر ہم درخواست کریں گے کہ مسلمان جدید استعمار کا مقابلہ کرنے کے لیے عزم و ہمت سے کام لیں۔ ظلم کو دوام نہیں ہوتا۔ ان شاءاللہ اکیسویں صدی'اسلام کی صدی' ہے۔ عالمی حالات بے حد تیزی سے اس پیشن گوئی کو حقیقت کی شکل دینے کے لئے آگے بڑھ رہے ہیں۔ برطانیہ کا شہرہ آفاق ادیب جارج برنارڈشا تو بہت پہلے پیشن گوئی کر چکا ہے کہ
"مغربی دنیا اسلام کی طرف آ رہی ہے اور مستقبل میں محمد صلی اللہ علیہ وسلم کا دین یورپ میں مقبول ہو کر رہے گا۔ درحقیقت یہ دین آج بھی یورپ میں پسندیدہ ہے۔ دراصل قرونِ وسطیٰ میں عیسائی طبقے نے اپنی ناواقفیت یا پھر گھناؤنے تعصب کی بنا پر اسلام کی تصویر کو زیادہ سے زیادہ بھیانک بنا کر پیش کیا تھا۔ میرے نزدیک یہ فرض ہے کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو انسانیت کا نجات دہندہ قرار دیا جائے۔ مجھے پورا یقین ہے کہ ان جیسا آدمی اگر آج دنیا کی قیادت سنبھال لے تو وہ یقینا ساری مشکلات کے حل میں کامیاب ہو سکے گا اور دنیا کو امن و فلاح سے بہرہ یاب کر دے گا ۔۔ آج دنیا ان چیزوں کی کتنی محتاج ہے۔" (54)
شاعر مشرق علامہ اقبال کے حساس دل پر معلوم ہوتا ہے، یہ اشعار مصلحتِ خداوندی کے تحت مسلمانوں کو روشن مستقبل کی نوید دینے کے لیے القاء ہوئے تھے۔ علامہ صاحب اگر آج زندہ ہوتے تو امتِ مسلمہ میں نئی بیداری کی لہر دیکھ کر جھوم جھوم اٹھتے ۔۔ فرماتے ہیں:
دلیل صبح روشن ہے ستاروں کی تنک تابی
اُفق سے آفتاب ابھرا گیا دورِ گراں خوابی
مسلمان کو مسلمان کر دیا طوفانِ مغرب نے
تلاطم ہائے دریا ہی سے ہے گوہر کی سیرابی
کتابِ ملت بیضا کی پھر شیرازہ بندی ہے
یہ شاخِ ہاشمی کرنے کو ہے پھر برگ پیدا
اگر عثمانیوں پر کوہِ غم ٹوٹا تو کیا غم ہے
کہ خون صد ہزار انجم سے ہوتی ہے سحر پیدا (55)
علامہ صاحب کس تیقن سے اسلام کے نورِ سحت کے طلوع ہونے کی پیشن گوئی فرماتے ہیں۔ ان کے یہ الفاظ تو ہر مسلمان کے لوحِ قلب پر کندہ کرنے کے قابل ہیں:
آسمان ہو گا سحت کے نور سے آئینہ پوش
اور ظلمت شب کی سیماب پا ہو جائے گی
پھر دلوں کو یاد آ جائے گا پیغامِ سجود
پھر جبین خاکِ حرم سے آشنا ہو جائے گی
شب گریزاں ہو گی آکر جلوہ خورشید سے
یہ چمن معمور ہو گا نغمہ توحید سے!
حوالہ جات ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
(46) صغریٰ خاکوانی/ "آنے والی صدی اسلام کی صدی ہے" : ماہنامہ میثاق لاہور، نومبر 1998ء
(51) عبدالقادر حسن/ "غیر سیاسی باتیں" : روزمانہ جنگ لاہور، 28 دسمبر 1998ء
(52) چوہدری مظفر حسین/ "امریکی معاشرے کی موجودہ سیاسی اور اخلاقی حالت پر سابق امریکی صدر رچرڈ نکسن کا نوحہ: ماہنامہ میثاق لاہور، اکتوبر 1998ء
(53) صفحہ 3: روزنامہ نوائے وقت لاہور، 24 جنوری 1999ء ۔۔۔ بحوالہ نیویارک ٹائمز
(54) بیگم صغری خاکوانی/ "آنے والی صدی اسلام کی ہے"
(55) طلوعِ اسلام، بانگِ درا
(47) Christopher Dicky: “Alien Europe” New Week, Dec. 15, 1997.
(48) Richard Nixon, Beyand Peace Randam House, NY 1994.
(49) Prince of Wales, The American Jpurnal of Islamic Social: (V.10, No.4) Washington D.C
(50) How to Market Desert Forzvi Baral, in Haartez: Dec. 20, 1998 Tal Aviv. Reproduced in the Friday Times, Dec. 25, 1998.