٭ کیا مسجد میں یا مسجد کے صحن میں قبر بنانا جائز ہے؟
میرے عزیز مسلمان بھائیوں اور نماز پڑھنے والو، نمازوں کو قائم کر کے، اس کا خاص اہتمام کرتے اور اس کے ذریعے اللہ کی رضامندی کے متلاشیو! ۔۔ تمہارا بڑے اِہتمام سے نماز پڑھنا اس امر کی دلیل ہے کہ تم اپنے دین کے تقاضے پورے کرنے کی کوشش کرتے ہو، رب کی رضامندی چاہتے ہو۔ تمہیں مساجد میں نماز باجماعت پڑھنے کا اہتمام کرنا چاہئے جیسا کہ نبی کریم کی یہی سنت ہے۔ اس کے ساتھ اس بات کا خاص التزام ضروری ہے کہ مسجد میں، اس کے صحن میں یا اس کے میدان میں کوئی قبر نہ ہو کیونکہ اسلام کی رو سے مسجد اور قبر کبھی یکجا نہیں ہو سکتے۔
٭ ہمارے محبوب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی امت سے فرمایا کہ
"اللہ یہود و نصاریٰ پر لعنت کرے، انہوں نے اپنے انبیاء کی قبروں کو مسجدیں بنا چھوڑا"
یعنی وہاں مساجد تعمیر کر لیں اور قبر کے گرداگرد عبادت کرنے لگے۔
٭ ایک دوسری حدیث میں ہے
"اللہ یہودونصاریٰ کو ہلاک کرے، انہوں نے اپنے انبیاء کی قبروں کو سجدہ گاہ بنا لیا"
٭ تیسری حدیث میں یوں ہے کہ
"اللہ کی لعنت ہو یہودونصاریٰ پر، جنہوں نے اپنے انبیاء کی قبروں کو مسجدیں بنا لیا"
٭ حضرت عائشہ فرماتی ہیں: "جو کام یہودونصاریٰ نے کیا، اس سے بچنا اشد ضروری ہے۔"
٭ بخاری و مسلم کی ایک اور حدیث میں ہے کہ "کسی صحابی نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے حبشہ کی سرزمین میں عیسائیوں کے کسی گرجا (کنیسا) کا ذکر کیا اور اس میں موجود تصاویر کے بارے میں بتایا تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: "ان لوگوں میں جب کوئی نیک آدمی فوت ہو جاتا تو اس کی قبر پر مسجد بنا لیتے، پھر اس میں یہ مجسمے نصب کر دیتے۔ یہ لوگ اللہ کے ہاں بدترین مخلوق ہیں"
٭ ایک اور حدیث جسے امام مسلم نے روایت کیا ہے کہ نبی اکرم نے اپنی وفات سے قبل 5 چیزوں کی (خصوصیت سے) تاکید کی:
"خبردار رہو کہ تم سے پہلے لوگوں میں سے بعض نے اپنے انبیاء کی قبروں کو سجدہ گاہ (مساجد) بنا لیا، میں تمہیں اس سے روکتا ہوں"
مسلمان بھائیو! یہی وجہ ہے کہ علماء اہل السنت والجماعت کہتے ہیں کہ مساجد میں قبریں بنانا حرام ہے، نہ صرف حرام بلکہ کبیرہ گناہوں میں سے ہے کیونکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے روکتے ہوئے ایسا کرنے والوں کی لعنت، ہلاکت اور اللہ کی رحمت سے دوسری کی بددعا دی ہے۔ انہی کے بارے میں آپ نے "اللہ انہیں ہلاک کرے، یہ سب سے بدترین مخلوق ہیں اللہ کے ہاں" جیسا الفاظ استعمال فرمائے۔یہی وجہ ہے کہ تمام مسلکوں (مذاہبِ اربعہ) کی رُو سے یہ کام حرام ہے اور سب ائمہ کرام مسجد میں قبہ بنانے کے حرام ہونے پر متفق ہیں۔ مشہور شافعی فقیہ حافظ ابن حجر ہیثمی نے اپنی کتاب الزواجر عن اقتراب الكبائر میں اس کو کبیرہ گناہوں میں شمار کیا ہے۔
کیا نبی کریم کا روضہ مبارک مسجدِ نبوی میں ہے؟
آپ کو معلوم ہونا چاہئے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو مسجدِ نبوی صلی اللہ علیہ وسلم میں نہیں بلکہ آپ کے اس حجرہ مبارکہ میں دفن کیا گیا تھا جو مسجد کے ساتھ تھا۔ اور آپ کی قبر مبارک خلیفہ ولید بن عبدالملک کے دور میں  (89ھ کے قریب) مسجد میں داخل کی گئی جب کہ مدینہ میں کوئی صحابی رسول باقی نہ رہا۔ عظیم تابعی حضرت سعید بن جبیر رحمۃ اللہ علیہ نے اس وقت اس اَمر کی شدید مخالفت کی۔ یہاں یہ امر ملحوظ رہے کہ مسجدِ نبوی حضرت عمر کے دور میں اور حضرت عثمان کے دورِ مبارک میں بھی وسیع کی گئی۔ لیکن دونوں صحابہ کرام نے حجرہ مبارکہ کی بجائے باقی اطراف سے وسیع کرنے پر ہی اکتفا کیا۔ چنانچہ حجرہ مبارکہ، ولید کے دور میں مسجد میں داخل کیا گیا اور یہ بات ولید کی غلطیوں میں سے ہے۔ آج مسلمانوں میں کسی فتنہ کے ڈر سے اس غلطی کو صحیح حالت پر لوٹایا نہیں جاتا ۔۔ اسی طرح بعض مساجد میں قبروں کی موجودگی سے بھی قطعا دھوکہ نہیں کھانا چاہئے۔ جن کے بارے میں بعض کم علموں کا گمان یہ ہے کہ یہ صحابہ کرام کی قبریں ہیں ۔۔ گذشتہ احادیث و فرامین کی موجودگی میں یہ بات واضح ہو چکی ہے کہ یہ عمل ایسا ہے جس کو اللہ کبھی پسند نہیں فرماتا، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے احکامات کی بھی صریح خلاف ورزی ہے۔
مسلمانوں کو کیا کرنا چاہئے؟
(1)باجماعت نماز کا خاص اہتمام کریں اور اس کے لیے ایسی مساجد میں جائیں جہاں قبر نہ ہو۔ اس طرح اس عظیم گناہ کی مخالفت کر کے اس کو ختم کرنے میں آپ حصہ دار بن جائیں گے۔
(2) اپنے مسلمان بھائیوں کے تعاون اور اہل علم کی تائید کے ساتھ اس میت کے گھر والوں کو احیاءِ سنت پر راضی کریں۔ اور قبر کو مسجد سے باہر نکال کر مسلمانوں کے قبرستان میں دفن کرنے کی ترغیب دیں (جس کی قبر مسجد میں یا مسجد کے صحن میں بنی ہوئی ہے) ۔۔ کیونکہ مسلمانوں کے قبرستان میں ہی میت کے دفن ہونے میں اس کی عزت و توقیر ہے جیسا کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت بھی یہی ہے کہ آپ اپنے دور میں فوت ہونے والوں کو بقيع میں دفن فرمایا کرتے۔ الا یہ کہ کسی شرعی حکم کی بنا پر قبرستان میں دفن نہ کرنا ہو جیسا کہ شہیدِ (معرکہ) کے بارے میں ہے کہ اس کو وہاں دفن کرو جہاں اس کی شہادت ہوتی ہے اور انبیاء وہاں دفن کیے جاتے ہیں جہاں ان کی روح جسدِ انسانی سے رخصت ہوتی ہے جیسا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو آپ کے گھر میں دفن کیا گیا ۔۔
(3) اگر مسجد یا مسجد کے صحن سے قبر کا نکالنا ناممکن ہو یا کوئی عذر حائل ہو جائے تو ضروری ہے کہ مسجد اور قبر کے درمیان ایک بلند دیوار کھڑی کر دی جائے جس سے قبر مسجد یا صحن سے نکل جائے۔ اس دیوار میں مسجد کی طرف کوئی دروازہ یا داخل ہونے کا راستہ بھی نہیں ہونا چاہئے۔
اللہ ہمیں اور آپ کو دین پر ثابت قدمی کی توفیق بخشے اور اسلام کی حالت میں ہمیں موت آئے۔ اور لاکھوں درودوسلام ہوں ہمارے نبی کریم محمد صلی اللہ علیہ وسلم پر، آپ کی آل و اولاد پر اور آپ کی تمام امت پر ۔۔