٭ سوال: گذشتہ دنوں لاہور ہائی کورٹ کے ایک جج صاحب نے یتیم پوتے کی وراثت کے بارے میں مختلف ریکارکس دئے ہیں ۔۔ ازراہِ کرم اس ضمن میں صحیح شرعی رائے بتلائیے، تفصیلی دلائل بھی ذکر فرما سکیں تو میں بہت شکر گزار ہوں گا ۔۔ جزاکم اللہ (سمیع الرحمٰن، لاہور)
جواب: اس بارے میں شرعی دلائل یوں ہیں ۔۔ قرآن کریم میں ہے:
﴿لِلرِّجالِ نَصيبٌ مِمّا تَرَكَ الوٰلِدانِ وَالأَقرَبونَ وَلِلنِّساءِ نَصيبٌ مِمّا تَرَكَ الوٰلِدانِ وَالأَقرَبونَ مِمّا قَلَّ مِنهُ أَو كَثُرَ... ﴿٧﴾...النساء
"ماں باپ اور عزیز و اقارب کے ترکہ میں مردوں کا حصہ بھی ہے اور عورتوں کا بھی۔ (جو مال ماں باپ اور اقارب چھوڑ مریں) خواہ وہ مال کم ہو یا زیادہ (اُس میں) حصہ مقرر کیا ہوا ہے۔"
اس آیتِ کریمہ سے جہاں یہ معلوم ہوا کہ وراثت میں مرد اور عورت دونوں کا حصہ ہے، نیز وہ چھوٹے ہوں یا بڑے، ہر صورت میں وارث ہوں گے۔ وہاں اس آیت سے وراثت کا اصول بھی معلوم ہوا، اور وہ ہے اقربيت ۔ یعنی صرف قریب ترین افراد وارث ہوں گے، محض قرابت کافی نہیں۔ کیونکہ قرابت میں تو بڑی وسعت ہے، اس میں اول تو حد بندی ہی نہایت مشکل بلکہ ناممکن ہے۔ ثانیا، اس طرح کی تقسیم سے کسی کو بھی معقول ورثہ ملنے کی امید نہیں اور یوں وراثت ایک کارِ بے خیر بن کر رہ جاتی۔ اس لیے وارث صرف وہ ہوں گے جو مرنے والے کے قریب ترین ہوں اور ان کے ہوتے ہوئے بعید کے لوگ وارث نہیں ہوں گے۔ پھر اللہ تعالیٰ نے ان قریب ترین افراد کی وضاحت بھی آئندہ رکوع میں فرما دی ہے اور اُن کے مقررہ حصے بھی بیان کر دئیے ہیں۔ ان کو اصحابُ الفروض کہا جاتا ہے۔
اسی طرح نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک اور اُصول، حدیث میں بیان فرمایا: "أَلْحِقُوا الْفَرَائِضَ بِأَهْلِهَا، فَمَا أَبْقَتَ الْفَرَائِضُ فَلِأَوْلَى رَجُلٍ ذَكَرٍ" (صحیح بخاری، الفرائض، باب میراث الولد بین ابیہ وامہ، مسلم، الفرائض، باب1، رقم 1615) "جن کے حصے (قرآن مجید) میں مقرر ہیں، وہ اُن کو دو۔ جو باقی بچے، تو وہ مردوں میں سے قریب ترین مرد کے لیے ہے" ۔۔۔ اس حدیث میں یہ دوسری اصولی رہنمائی دی گئی ہے کہ اصحابُ الفروض میں تقسیم کے بعد بقیہ مال ان لوگوں میں تقسیم ہو گا جو مردوں میں سے قریب ترین ہو گا، اس کو اصطلاحِ شریعت میں عصبة کہا جاتا ہے۔
گویا قرآن میں بھی اقرب (اسم تفضیل) کا صیغہ استعمال کیا گیا ہے اور حدیث میں بھی اولیٰ کا لفظ بولا گیا ہے، جو بعض دفعہ احق (زیادہ حق دار) کے معنی میں بھی آتا ہے لیکن یہاں یہ اقرب ہی کے معنی میں ہے۔ کیونکہ یہاں اگر دوسرے معنی مراد لیے جائیں تو پھر یہ حدیث قرآن کے بیان کردہ اصول کے ہی خلاف ہو جائے گی۔ اس اعتبار سے قرآن کریم اور حدیث رسول دونوں اس بات پر متفق ہیں کہ وراثت کی بنیاد اقربيت (سب سے زیادہ قریب ہونا) ہے نہ کہ احقيت (سب سے زیادہ مستحق ہونا) ۔۔۔ اس سے یہ معلوم ہوا کہ اقرب کے ہوتے ہوئے ابعد مستحق وراثت نہیں ہو گا۔ اگر اقربیت کی بجائے احقیت کو بنیاد بنایا جاتا، تو یہ بنیاد بھی نہایت کمزور اور غیر فیصلہ کن ہوتی اور وراثت کی تقسیم نزاع و جدال کا باعث بنی رہتی۔ کیونکہ ہر وارث یا رشتے دار ہی کسی نہ کسی وجہ سے اپنا استحقاق زیادہ ثابت کرنے پر زور صرف کرتا، کوئی بیماری کو، کوئی کاروباری نقصان یا کمی کو، کوئی زیادہ عیال داری یا زیادہ ذمے داریوں کو یا اس طرح کے دیگر اسباب و وُجوہ کو اپنے استحقاق کی بنیاد بناتا، جس کو تسلیم کرنا یا کرانا فساد و نزاع کا مستقل باعث ہوتا۔
اس لیے اللہ تعالیٰ نے فرمایا﴿ لا تَدرونَ أَيُّهُم أَقرَبُ لَكُم نَفعًا...﴿١١﴾...النساء"تم نہیں جانتے کہ تمہیں نفع پہنچانے کے اعتبار سے کون تمہارے زیادہ قریب ہے"۔ اس کا علم صرف اللہ ہی کو ہے۔ بنا بریں شریعتِ اسلامیہ نے وراثت کی تقسیم میں انسانوں کے ظن و تخمین یا استحقاق کے دعوؤں کو بنیاد بنانے کی بجائے اقربيت کے اصول کو اختیار کیا جس میں نزاع و جدال کا امکان نہیں۔ کیونکہ وہ رشتے واضح ہیں جن میں کوئی ابہام یا اشکال نہیں اور ان کے حصے بھی مقرر کر دئیے تاکہ مال کی کمی بیشی میں بھی اختلاف نہ ہو اور بچے ہوئے مال کی دوبارہ تقسیم کے لیے بھی ایک دوسرا اُصول بیان فرما دیا تاکہ اس میں بھی کوئی جھگڑا نہ ہو۔
قرآن و حدیث کے بیان کردہ اِسی اُصول اقربيت کی رو سے تمام علماء و فقہاء اور محدثین کا اِس امر پر اتفاق ہے کہ بیٹے بیٹیوں کی موجودگی میں یتیم پوتے پوتیاں اور نواسے نواسیاں وارث نہیں ہوں گی، کیونکہ بیٹے بیٹیاں اقرب ہیں اور پوتے، نواسے ان کی نسبت سے ابعد ہیں۔ اب رہا مسئلہ دادا یا نانا کی وراثت کے وقت اگر یتیم پوتے یا نواسے ہوں، تو ان کو اس سے محروم رکھنا نہایت سنگ دلی کا مظاہرہ ہے، اس کا کیا حل شریعتِ اسلامیہ میں ہے؟ تو اس کا ایک حل تو اگلی آیت میں ہی بیان کر دیا گیا ہے کہ ورثاء میں سے جو رشتے دار وراثت کے حق دار نہیں لیکن وہ مستحق امداد ہیں، تو تقسیم کے وقت ان کو بھی ان کی دلجوئی اور ہمدردی کے طور پر کچھ دو۔ اسے عام طور پر اخلاقی ہدایت سمجھ کر نظر انداز کر دیا جاتا ہے، لیکن یہ رویہ صحیح نہیں۔ کمالِ ایمان کے نلیے کمالِ اخلاق ضروری ہے اور ایک کاملُ الایمان یا کمالِ ایمان کی خواہش رکھنے والے کو اخلاقی ہدایت پر بھی عمل کرنے کی کوشش کرنی چاہئے نہ کہ اسے نظرانداز کرنے کی۔ علاوہ ازیں ایک تہائی 3/1 مال کی وصیت کرنے کی بھی اجازت بلکہ تاکیدی حکم ہے۔ جس شخص کی زندگی میں یتیم پوتوں یا نواسوں کا مسئلہ پیدا ہو جائے، اس کے لیے دو راہیں کھلی ہیں ایک یہ کہ ان کو بطورِ ہبہ جائیداد میں سے کچھ حصہ دے دے یا مالی تعاون فراہم کر دے۔ اسے اپنی زندگی میں اپنی جائیداد اور اپنے اموال میں ہر قسم کا تصرف کرنے کا حق حاصل ہے۔ بشرطیکہ اس میں ورثاء کو ان کے حق سے محروم کرنے کی بدنیتی شامل نہ ہو۔ کسی وجہ سے اگر ایسا کرنا ممکن یا مفید نہ ہو تو دوسرا راستہ وصیت کرنے کا ہے، ایک تہائی مال میں سے ان کے لیے وصیت کی جا سکتی ہے اور ایسی حالت میں ایسے صاحبِ حیثیت شخص کو جس کے یتیم پوتے، نواسے ہوں، اپنا حق وصیت اسے ضرور استعمال کرنا چاہئے۔ کیونکہ وصیت کرنے کا حکم ہے جسے بعض علماء نے فرض بھی کہا ہے۔
حافظ ابن حزم نے اس کی فرضیت پر مدلل بحث کی ہے۔ اس سلسلے میں انہوں نے ایک بات تو یہ لکھی ہے کہ " الوصية فرض على كل من ترك مالا" صاحبِ حیثیت آدمی کے لیے وصیت کرنا فرض ہے" اِس کی دلیل میں اُنہوں نے یہ حدیث پیش کی ہے:
ما حق امرئ مسلم له شيء يوصي فيه يبيت ليلتين إلا ووصيته عنده مكتوبة
"کسی مسلمان کے یہ لائق نہیں کہ اس کے پاس کچھ مال ہو جس میں وہ وصیت کر سکتا ہو، تو اس کو دو راتیں بھی نہیں گزارنی چاہئیں، بجز اس کے کہ اس کی وصیت اس کے پاس لکھی ہو"
مطلب یہ ہے کہ وصیت کرنے کا مسئلہ اتنا اہم اور عجلت طلب ہے کہ ایک مسلمان کو اس میں ذرا بھی غفلت کا مظاہرہ نہیں کرنا چاہئے اور اسے فورا ضبط تحریر میں لے آنا چاہئے اور فوری طور پر تحریر کرنے کا مطلب یہ ہے کہ جو معاملات وصیت طلب ہوں، حزم و احتیاط کا تقاضا یہ ہے کہ ان کو اپنے سینے میں مستور رکھنے کی بجائے، وصیت کے ذریعے سے انہیں ظاہر کر کے ان پر گواہ مقرر کر دئیے جائیں۔ تاکہ اگر اسے اچانک موت آ جائے، تو یہ فرضِ وصیت اس کے ذمے باقی نہ رہے۔
دوسری بات انہوں نے یہ لکھی ہے کہ
فمن مات ولم يوص ففرضٌ أن يُتصدق عنه بما تيسر ، ولا بد ; لأن فرض الوصية واجب
"جو شخص بغیر وصیت کئے مر گیا، تو ضروری ہے کہ اس کی طرف سے اس کی استطاعت کے مطابق، صدقہ کیا جائے ۔۔۔ یہ ایک فرض ہے، کیونکہ وصیت کرنا فرض ہے"
صدقے کا مطلب یہی ہے کہ ضرورت مندوں پر اس کے مال میں سے کچھ نہ کچھ ضرور خرچ کیا جائے اور شریعت کا یہ حکم واضح ہی ہے کہ صدقے کے اولین مستحق، انسان کے اپنے قرابت مند ہیں۔ اس اعتبار سے اگر مرنے والے کے قرابت مندوں میں یتیم پوتے، نواسے ہوں گے، تو اس کے مال میں سے جو کچھ اللہ کی رضا کے لئے خرچ کرنا ہو گا، اس کے اولین مستحق یہ یتیم رشتے دار ہی ہوں گے اور ہونے چاہئیں، نہ کہ کوئی اور ۔۔۔
تیسری بات حافظ ابن حزم نے یہ لکھی ہے: " فرضٌ على كل مسلم أن يوصي لقرابته الذين لا يرثون " ہر مسلمان پر یہ فرض ہے کہ وہ ان اہل قرابت کے حق میں وصیت کرے جو وارث نہ بنتے ہوں" ۔۔۔ اس کی دلیل انہوں نے قرآن کی اس آیت کو بنایا ہے
﴿كُتِبَ عَلَيكُم إِذا حَضَرَ أَحَدَكُمُ المَوتُ إِن تَرَكَ خَيرًا الوَصِيَّةُ لِلوٰلِدَينِ وَالأَقرَبينَ بِالمَعروفِ ... ﴿١٨٠﴾...البقرة
"تم پر فرض ہے کہ جب تم میں سے کسی کو موت آنے لگے اور وہ مال چھوڑ کر جا رہا ہو، تو وہ والدین اور اہل قرابت کے لئے بھلائی کے ساتھ وصیت کرے"
حافظ ابن حزم فرماتے ہیں کہ "یہ فرض ہے (جیسا کہ آیت سے مستفاد ہے) تاہم اس سے ماں باپ اور وہ اہل قرابت نکل گئے جو وارث ہیں، اور اس فرض میں صرف وہ باقی رہ گئے جو غیر وارث، رشتے دار ہوں گے اور جب یہ ایسا حق ہے جو ان (غیر وارث رشتے داروں) کے لئے ضروری ہے، تو پھر میت کے مال میں سے اتنا حصہ نکالنا واجب ہے جو اُن کا حق ہے، اگر میت نے اس کے نکالنے کا حکم نہ کر کے ظلم کا ارتکاب کیا ہے" ۔۔۔ حافظ ابن حزم کی اس عبارت کا مطلب یہ ہے کہ غیر وارث رشتے دار اگر امداد کے مستحق ہوں اور مرنے والے نے اُن کے لیے وصیت نہ کی ہو جو اُن کا ایک حق واجب تھا، تو یہ اُس کی کوتاہی ظلم ہے۔ اِس ظلم کا اِزالہ اسی طرح ہو سکتا ہے کہ اِس کے مال میں سے ضرورت مندوں کا حق ضرور نکالا جائے اور پھر باقی مال ورثاء اپنے اندر تقسیم کریں ۔۔۔
(تفصیل کے لئے ملاحظہ ہو المحلى، کتاب الوصایا، مسئلہ نمبر 1751،1752،1753)
حافظ ابن حزم کی ان تصریحات سے، جو قرآن و حدیث کی روشنی میں کی گئی ہیں، یتیم پوتوں اور نواسوں کا مسئلہ بآسانی حل ہو جاتا ہے کہ اول تو ہر صاحبِ حیثیت کو ہبہ اور عطیہ کے طور پر اپنی زندگی میں ہی کچھ دے دینا چاہئے بصورتِ دیگر ان کی بابت ضرور وصیت کر کے دنیا سے جانا چاہئے اور اس کا طریقہ یہ ہے کہ وہ وصیت لکھ کر ضرور اپنے پاس رکھے اور اگر مرنے والے سے اس میں کوتاہی ہو گئی ہو، تو ورثاء (چچا/تایاؤں اور پھوپھیوں) کی ذمے داری ہے کہ وہ سب سے پہلے اس کا اِزالہ کریں اور اپنے طور پر اس کے مال میں سے ضرورت مندوں (یعنی یتیم بھتیجوں اور بھانجوں) پر ایک حصہ خرچ کریں۔
عام لوگ اس میں کوتاہی کریں تو حکومت کی ذمہ داری ہے کہ وہ اس سلسلے میں اپنا فرض ادا کرے اور یتیموں کے ساتھ ہونے والی ناانصافیوں کا تدارک اور ازالہ کرے، کیونکہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے: " أنا وارث من لا وارث له " (ابوداؤد، حاکم بحوالہ صحیح الجامع، رقم 1474) "میں اس کا وارث ہوں جس کا کوئی وارث نہیں" اس حدیث کی رو سے ہر مسلمان حکمران کا فریضہ ہے کہ وہ اپنی مملکت میں یتیموں اور بے سہارا افراد کی کفالت کا معقول اور آبرو مندانہ انتظام کرے۔ حکومت اصحابُ المال کے لئے ضروری قرار دے کر مرنے والے کے مال میں سے ثلث (3/1) یا اس میں سے مناسب حصہ یتیموں کے لئے الگ کیا جائے اور پھر مال کی تقسیم عمل میں لائی جائے۔
مصر میں اس کو قانونی حیثیت حاصل ہے، حافظ ابن حزم کی مذکورہ تصریحات کی روشنی میں اس کے لئے قانون سازی کی جا سکتی ہے اور یہاں بھی مصر کی طرح کا قانون نافذ کیا جا سکتا ہے۔ علاوہ ازیں غریبوں، یتیموں کی کفالت کے لئے حکومت بیتُ المال کا انتظام کرے، جہاں سے معاشرے کے معذور اور بے سہارا افراد کو مدد مل سکے۔ اسلام نے یتیموں کی کفالت اور خبرگیری کی بڑی فضیلت بیان فرمائی ہے، اس کی رو سے ایک اسلامی معاشرے میں یتیموں کا مسئلہ نہایت خوش اسلوبی سے حل ہو جاتا ہے اور وہ صورتیں دیکھنے میں نہیں آ سکتیں جو بدقسمتی اور اسلامی تعلیمات کے اعراض کی وجہ سے ہمارے معاشرے میں عام ہیں۔