نظامِ اسلامی کی آفاقیت و وسعت کو دیکھا جائے تو جہاں وہ مسلم افراد کے لیے وسائل انتاج (پیداواری وسائل) کی ملکیت کو تسلیم کرتا ہے، وہاں پر اپنے زیر سایہ بسنے والے غیر مسلم افراد کے لیے بھی وسائل انتاج کی انفرادی ملکیت کو تسلیم کرتا ہے بلکہ اہل الذمہ کے مذہب و ملت کی آزادی کو اس حد تک تسلیم کرتا ہے کہ ایک مسلمان تو اسلام کی حرام کردہ اشیاء کا مالک ہی نہیں بن سکتا لیکن اگر اسلام کی حرام کردہ کوئی شے غیر مسلم کے ہاں قابل انتفاع اور جائز ہے تو اسلام اپنے زیر سایہ بسنے والے غیر مسلموں کو ان اشیاء کی ملکیت کی اجازت بھی دیتا ہے۔ جیسا کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے ایک حکم صادر فرمایا کہ "جزیہ کی وصولی میں شراب و خنزیر وصول نہ کیا جائے بلکہ اہل الذمہ ان اشیاء کو فروخت کر کے اس کی رقم جزیہ میں ادا کریں۔" (1)
زیر نظر مقالہ میں اہل الذمہ کے لیے ملکیتِ اراضی کے اصول و قواعد بیان کرنا مقصود ہے کیونکہ اسلام ایک ذمی کو آزادی ملکیت اسی طرح دیتا ہے جس طرح ایک مسلم فرد کا حق ملکیت تسلیم کرتا ہے۔
قاعدہ نمبر 1: اسلام کے غلبہ اور قبضہ کے وقت اگر وہاں کے باشندے حاکم وقت سے صلح کر لیں اور شرائطِ صلح میں یہ ہو کہ ان کی زمین ان کی ملکیت رہے گی اور حاکم وقت اس شرط کو تسلیم کر لے تو اس علاقہ کی زمین ان اہل الذمہ کی ملکیت ہی شمار ہو گی۔
جیسا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اہل بحرین سے صلح کی تھی کہ زمین کی ملکیت اُن کی رہے گی، البتہ وہ جب تک اپنے مذہب پر رہیں گے، جزیہ و خراج ادا کریں گے اور جو اسلام قبول کرے گا، اس سے خراج ختم ہو جائے گا اور وہ عشر ادا کرے گا۔
حضرت علاء الدین حضرمی رحمۃ اللہ علیہ اِسی پر عمل کیا کرتے تھے، بحرین کی وصولی کے متعلق ان کا ارشاد ہے:
"كنت اتي الحائط يكون بين الاخوة فيسلم احدهم فاخذ من المسلم العشر ومن الاخر الخراج " (2)
"ایسا باغ کہ جو بھائیوں کے درمیان مشترک ہوتا، ان میں ایک مسلمان ہوتا۔ جب میں وصولی کے لیے آتا تو مسلمان سے عشر اور دوسرے سے خراج وصول کرتا"
کئی ایک معاہدات خود رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ثابت ہیں کہ آپ نے غیر مسلموں سے اس شرط پر صلح کی کہ زمین کی ملکیت اہل صلح کی رہے گی جیسا کہ اہل فدک سے جو معاہدہ ہوا، اس کے الفاظ کچھ یوں ہیں:
" كان اهل فدك قد ارسلوا إلى رسول الله ( رسول الله صلى الله عليه وسلم ) فبايعوه على ان لهم رقابهم ونصف أرضيهم ونخلهم ، ولرسول الله شطر ارضيهم ونخلهم " (3)
"اہل فدک نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک وفد بھیجا جس نے اس شرط پر آپ سے صلح کی کہ انہیں غلام نہیں بنایا جائے گا اور اُن کی زمینیں و باغات اُن کی ملکیت رہیں گے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے آدمی زمین اور آدھے باغات ہوں گے۔"
اسی لیے حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے جب اہل فدک کو جلاوطن کیا تو ان کے حصے کی زمینیں اور باغات خرید کیے جن کی مالیت ساٹھ ہزار درہم تھی۔ (4)
ایسا ہی ایک معاہدہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہودِ وادی القریٰ سے بھی کیا تھا اور جب حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے ان کو جلاوطن کیا تو ان کا حصہ بھی خرید لیا جس کی مالیت نوے ہزار درہم تھی۔ (5)
حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کا ان زمینوں کی خریداری اور قیمت کی ادائیگی کرنا اس بات کی مضبوط دلیل ہے کہ یہ زمینیں اہل الذمہ کی ملکیت تھیں وگرنہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کبھی بھی ان زمینوں کی قیمت ادا نہ کرتے جیسا کہ خیبر کا علاقہ مسلمانوں کی ملکیت تھی تو یہودِ خٰبر کو جلاوطن کرتے ہوئے انہیں کچھ بھی رقم ادا نہ کی گئی۔
لہذا اِن معاہدات کے تناظر میں یہ بات واضح ہوئی کہ صلح کے وقت اگر حاکم وقت اس شرط کو تسلیم کر لے کہ زمین کی ملکیت بدستور غیر مسلم کے پاس رہے گی تو یہ اہل الذمہ کی ملکیت کہلائے گی اور اس پر جملہ احکام اہل الذمہ نافذ العمل ہوں گے۔
قاعدہ نمبر 2: ایک ذمی کسی مسلمان فردسے اس کی مملوکہ زمین خرید لیتا ہے تو کیا اس خریدوفروخت سے وہ ذمی اس خرید کر وہ زمین کا مالک ہو گا؟ ۔۔ فقہِ اسلامی کے عظیم ذخیرہ پر نظر ڈالنے سے اس مذکورہ مسئلہ میں فقہاءِ امت کے دو نظریے سامنے آتے ہیں:
(الف) اہل الذمہ کو مسلمانوں سے زمین خریدنے کا حق نہیں ہے۔
(ب) دوسرا نظریہ یہ ہے کہ جب ایک غیر مسلم ایک مسلمان سے اس کی منقولہ اشیاء خریدنے کا حق رکھتا ہے تو اس طرح غیر منقولہ جائیداد بھی خریدوفروخت کے ذریعے مسلمان سے کسی ذمی کو منتقل ہو سکتی ہے اور وہ ذمی خرید کے بعد اس زمین کا مالک تصور ہو گا۔
پہلے نظریے رکھنے والوں کا خیال یہ ہے کہ اگر ایک مسلم کی زمین غیر مسلم کے ہاں چلی جائے تو اس کا وظیفہ جو کہ عشر کی صورت میں تھا، ختم ہو جائے گا اور یہ غیر مسلم عشر و خراج میں سے کچھ بھی ادا نہ کرے گا۔ عشر چونکہ ایک عبادت ہے جو غیر مسلم سے مطلوب نہیں اور خراج اس لیے کہ معاہدہ ذمہ میں اس کا ذکر نہیں کیونکہ اس وقت یہ زمین اس کی ملکیت میں نہ تھی۔ تو گویا یوں حق مسلمین (عشر و خراج) ضائع ہو گا لہذا اَہل الذمۃ مسلمانوں سے زمین کی خریدوفروخت نہیں کر سکتے۔
جیسا کہ ابن عباس رضی اللہ عنہ سے اہل الذمہ کے اموال کے متعلق سوال ہوا تو جواب دیا " العفو " ۔۔۔ یعنی ان سے صدقہ وصول نہ کیا جائے گا۔ (6)
حسن رحمۃ اللہ علیہ بن صالح کا اس کے متعلق فتویٰ یہ ہے:
" اذا اشترى الذمى من ارض المسلمين فلا خراج عليه ولا العشر قياسا على بقية اموالهم كما لا تؤخذ الصدقة من بقية اموالهم فكذلك لا تؤخذ من ارضهم لان الارض مالهم "(7)
"اگر ذمی مسلمانوں کی زمین خرید لے تو اس پر نہ خراج ہے اور نہ عشر، ان کے دیگر اموال پر قیاس کرتے ہوئے۔ جب ان کے دیگر اموال سے صدقہ وصول نہیں کیا جاتا تو زمین سے بھی کچھ نہ لیا جائے گا، اس لئے کہ زمین ان کا مال ہے۔"
شریک رحمۃ اللہ علیہ بن عبداللہ کا اس کے متعلق فتویٰ یہ ہے کہ:
" ان الذمى اذا اخذ الارض العشرية فلا عشر عليه ولا خراج قياسا على السوائم اذا اشتراها الذمى فلا شيئ عليه " (8)
"ذمی اگر عشری زمین خرید لے تو اس پر نہ عشر ہے نہ خراج جس طرح مسلمان کے جانور خریدنے سے ذمی پر کچھ بھی محصول نہیں ہے۔"
اسی لیے امام مالک رحمۃ اللہ علیہ بن انس اور امام احمد بن حنبل رحمۃ اللہ علیہ اہل الذمہ کو مسلمانوں کی زمین خریدنے کی اجازت نہیں دیتے۔ (9)
البتہ دوسرے نظریہ کے حاملین یہ کہتے ہیں کہ خریدوفروخت اہل الذمہ کا بنیادی حق ہے لہذا انہیں اس سے منع تو نہیں کیا جا سکتا، البتہ یہ زمین پہلے عشری تھی یعنی اس کا مسلمان مالک ایک غیر مسلم ہے تو عشر تو وصول نہ ہو گا، البتہ اس سے خراج وصول ہو گا۔
جیسا کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے ایسی صورت میں خراجِ مضاعف (دوگنا خراج) کا حکم دیا۔ (10)
حکم رحمۃ اللہ علیہ بن عتبہ کندی نے بھی یہی فتویٰ دیا کہ اگر ذمی مسلمان سے زمین خریدتا ہے تو اس سے خمس 5/1 وصول کیا جائے گا۔ (11)
خالد حذاء اور اسمعیل بن ابی مسلم ارضِ بصرہ سے جو اہل الذمہ کے پاس ہوتی، اُس سے خمس 5/1 وصول کرتے۔ خالد حذاء امیر بصرہ ہیں اور ارضِ بصرہ باجماع صحابہ عشری زمین ہے (12)
اور یہی رائے مندرجہ ذیل فقہاء کی بھی ہے:
ابن بشر، امام ابوحنیفہ، زفر، سفیان ثوری، عبیداللہ بن حسن، محمد بن حسن شیبانی، عبداللہ بن مبارک، ابویوسف قاضی، امام شافعی، اسحاق بن راہویہ اور امام احمد بن حنبل کی بھی ایک رائے یہی ہے۔ (13) رحمهم الله تعالى
دونوں نظریوں کے دلائل کی روشنی میں یہ بات زیادہ صحیح ہے کہ کسی ذمی کو کسی بھی پیداواری یونٹ کا مالک بننے سے نہیں روکا جا سکتا، الا یہ کہ شرائطِ معاہدہ میں کوئی ایسی شق ہو کہ اِن اِن اشیاء کے مالک نہیں بن سکتے تو اگر معاہدہ میں یہ شرط ہو کہ اہل الذمہ مسلمانوں سے زمین نہیں خرید سکتے تو معاہدہ کی روشنی میں یہ بیع باطل ہو گی جیسا کہ دورِ حاضر میں بعض ممالک کے قوانین میں یہ شامل ہے کہ کسی غیر ملکی کو زمین کی خریداری کا حق نہ ہو گا تو ایسے قوانین نافذالعمل ہوں گے اور ان کی پابندی لازمی ہے۔ کیونکہ تمام مسلمان جو شرائط طے کر لیں، ان کی پابندی ان پر لازم ہے الا یہ کہ کوئی ایسی شرط ہو جو کسی حرام کو حلال یا کسی حلال کو حرام قرار دے۔ (14)
قاعدہ نمبر 3: اہل الذمہ میں سے کوئی فرد غیر آباد زمین کو آباد کرتا ہے تو کیا آباد کاری جو ملکیت زمین کا ایک سبب ہے، اس سے اہل الذمہ بھی زمین کے مالک بن سکتے ہیں؟
فقہاءِ سلف سے اس پر تین مختلف اقوال ہیں: ایک رائے تو ہے کہ اہل الذمہ آباد کاری سے مطلقا زمین کے مالک نہیں بن سکتے قطع نظر کہ وہ زمین جزیرۃ العرب سے ہو یا کسی دوسری علاقہ سے۔ یہ رائے امام شافعی، امام ابوحاتم الرازی، امام ابن حبان اور امام ابن حزم رحمهم الله کی ہے۔ (15)
دوسری رائے: اگر آباد کاری (آبادی) کے قریب غیر آباد کو آباد کر لیں تو حق ملکیت ثابت نہ ہو گا البتہ دُور جنگل میں کوئی قطعہ آباد کر لے تو حق ملکیت ثابت ہو گا۔ اور یہ آباد کار ذمی اس قطعہ ارضی کا مالک بن جائے گا۔ یہ رائے قدیم مالکی ائمہ کی ہے۔ (16)
تیسری رائے یہ ہے کہ جس طرح ایک مسلم کو آباد کاری سے حق ملکیت حاصل ہو جاتا ہے، اسی طرح ایک ذمی کو بھی یہ حق حاصل ہے اور وہ قطع نظر اس کے کہ آبادی کے قریب غیر آباد کو آباد کرے یا دُور جنگل میں البتہ جزیرۃ العرب میں سے اہل الذمہ کو آباد کاری کا حق نہیں ہے کیونکہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی حدیث ہے:
"لأخرجن اليهود والنصارى من جزيرة العرب حتى لا أدع فيها إلا مسلما"
"میں جزیرہ عرب سے یہودونصاریٰ کو ضرور نکالوں گا، حتیٰ کہ مسلمان کے سوا کسی کو اس میں نہ رہنے دوں گا۔" (17)
اسی حدیث کے پیش نظر حضرت عمر رضی اللہ عنہ بن خطاب نے اپنے دورِ خلافت میں یہودِ فدک، یہودِ وادی القری و خیبر کو جلا وطن کر دیا تھا۔
وہ فقہاء جو اہل الذمہ کو آباد کاری کے حق سے محروم رکھنا چاہتے ہیں، مندرجہ ذیل دلائل سے استدلال و اجتہاد کرتے ہیں۔ (ان کے ہاں چونکہ اہل الذمہ کو مطلقا آباد کاری کا حق نہیں دیا گیا اور اگر آباد کاری کر بھی لیں تو اس کے مالک نہیں بن سکتے) ۔۔۔ قرآن مجید میں ارشاد ہے:
﴿وَلَقَدْ كَتَبْنَا فِي الزَّبُورِ مِن بَعْدِ الذِّكْرِ أَنَّ الْأَرْضَ يَرِثُهَا عِبَادِيَ الصَّالِحُونَ ﴿١٠٥﴾...الأنبياء
"زبور میں ذکر کے بعد یہ مذکور ہے کہ زمین کے وارث میرے نیک بندے ہی ہوں گے" (18)
اس آیت کریمہ میں عباداللہ سے مراد مسلمان ہیں۔ ذمی بلاشبہ کفار ہیں لہذا وہ نہ تو وارث بن سکتے ہیں اور نہ آباد کرنے سے مالک بن سکتے ہیں ۔۔ امام ابن حزم رحمۃ اللہ علیہ کا قول ہے:
" لا تكون الارض بالاحياء الا المسلم اما الذمى فلا " (19)
"آباد کاری سے صرف مسلمان ہی مالک بن سکتا ہے، ذمی نہیں"
یہ حضرات حدیثِ رسول اللہ سے بھی استدلال کرتے ہیں کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے آباد کاری کو اجروثواب کا سبب بتایا ہے اور ذمی بوجہ کفر اَجر وثواب کا مستحق نہیں ہے لہذا آباد کاری سے کیونکر اسے ملکیت مل سکتی ہے ۔۔ حدیث کے الفاظ مندرجہ ذیل ہیں:
" من احيا ارضا ميتتة فله اجره وما اكلت العافية فهو له صدقة " (20)
"جو غیر آباد زمین کو آباد کرے، اُس کے لیے اس میں اجر ہے اور جو پرندے کھا جائیں، وہ اس کے لیے صدقہ ہے"
امام ابوحاتم رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ یہ حدیث بڑی دلیل ہے کہ مذکورہ حدیث میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے مخاطب صرف مسلمان ہی ہیں۔ اور ذمی کو یہ حق نہیں کہ وہ آباد کاری کرے کیونکہ "صدقہ" تو صرف مسلمانوں کے لیے ہوتا ہے۔
امام بیہقی رحمۃ اللہ علیہ نے اس حدیث پر یوں عنوان قائم کیا ہے:
" لا يترك الذمى يحيها لان الرسول جعلها لمن احياها من المسلمين " (22)
"ذمی کو آبادکاری کی اجازت نہیں دی جائے گی کیونکہ آنحضرت نے صرف مسلمانوں کو آباد کرنے سے حق ملکیت دیا ہے"
وہ فقہاء جو اہل الذمہ کو آبادکاری کا حق دیتے ہیں اور ان کی رائے میں آبادکاری ملکیت کا ایک ذریعہ ہے اور دارالسلام کا جو بھی باشندہ آباد کاری کرے گا، وہ اس آباد شدہ زمین کا مالک ہو گا ۔۔ مندرجہ ذیل دلائل سے استدلال کرتے ہیں:
(1)آباد کاری جن نصوص سے ثابت ہے، وہ تمام کی تمام عام ہیں اور اس عموم کے ضمن میں دارُالسلام کے تمام باشندے مراد اور شامل ہیں اور اہل الذمہ دارالسلام کے باسی شمار ہوتے ہیں۔ تمام مشروع و جائز طریقہ کار کو اپناتے ہوئے انہیں معاملات کی عام اجازت ہے اور وہ تمام معاملات جو مسلمانوں کے لیے مباح ہیں، اہل الذمہ کے لیے بھی مباح ہیں اور یوں اہل الاسلام و اہل الذمہ میں کوئی فرق نہیں ہے۔ ہاں اہل الذمہ کے لیے یہ شرط ضرور رہے گی کہ انہیں جزیرۃ العرب میں زمین کا حق ملکیت نہ دیا جائے کیونکہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے صریحا اس کی ممانعت فرما دی، ارشاد ہے:
لأخرجن اليهود والنصارى من جزيرة العرب حتى لا أدع فيها إلا مسلما
"میں یہودونصاریٰ کو یقینا جزیرۃ العرب سے نکال دوں گا اور اس میں صرف مسلمان ہی رہیں گے" (23)
بایں وجہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے تمام یہودونصاریٰ کو جزیرۃ العرب سے جلاوطن کر دیا تھا اور یہ اعلان فرما دیا کہ: لا يجتمع في جزيرة العرب دينان " (24)
"جزیرۃ العرب میں دو مذہب جمع نہیں ہو سکتے"
جزیرۃ العرب کے علاوہ باقی دارالسلام میں جہاں بھی اہل الذمہ ہوں اور وہاں پر غیر آباد علاقہ ہو تو آباد کاری کی جملہ شرائط کو مدنظر رکھتے ہوئے انہیں آبادکاری کا حق ہو گا۔ ابن قدامہ مقدسی کا قول ہے:
" الذمى من اهل الدار فيملكها بالاحياء " (25)
"ذمی دارالسلام کا فرد ہے، آبادکاری سے مالک بن جائے گا"
ابن نجیم رحمۃ اللہ علیہ کا قول ہے:
" ويملك الذمي بالإحياء كالمسلم ; لأنهما لا يختلفان في سبب الملك " (26)
"مسلمان کی طرح ذمی بھی آبادکاری سے مالک بن جائے گا کیونکہ ان کے اسباب ملکیت ایک ہیں"
اور یہی رائے راجح ہے کیونکہ یہ اسلام کے قواعدِ تشریعیہ کے موافق اور نصوص کے مفاہیم سے ہم آہنگ ہے۔ چونکہ اہل الذمہ حکومتِ وقت کو جزیہ ادا کر کے جان و مال کا تحفظ اور آزادی کسبِ معاش کا معاہدہ کرتے ہیں چنانچہ حدودِ معاہدہ میں رہتے ہوئے انہیں تمام مشروع طریقوں سے وسائل انتاج کا حق تملک حاصل ہو گا، الا یہ کہ معاہدہ میں یہ شرط ہو کہ اہل الذمہ غیر آباد علاقہ کو آباد نہ کریں گے اور اگر کریں گے بھی تو حق تملک نہ دیا جائے گا، صرف حق انتفاع ہو گا تو اس شرط کی وجہ سے وہ اس حق سے دستبردار ہوں گے۔ اگر معاہدہ میں کوئی ایسی شرط نہیں تو اسے حق آبادکاری سے محروم کرنا یقینا عدل کے منافی ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
1۔ السنن الكبرى از ابوبکر احمد بن حسین رحمۃ اللہ علیہ بیہقی: ص 206، ج9
2۔ المسند از امام احمد بن حنبل رحمۃ اللہ علیہ: ص 52، ج5
3۔ كتاب الاموال از ابوعبید قاسم رحمۃ اللہ علیہ بن سلام: ص 15
4۔ الاحكام السلطانية از ماوردی رحمۃ اللہ علیہ، علی بن محمد ص 170
5۔ السنن الكبرى از بیہقی رحمۃ اللہ علیہ: ص 135، ج1
6۔ كتاب الاموال از ابوعبید: ص 93
7۔ احكام اهل الذمة از محمد بن ابی بکر ابن قیم جوزی رحمۃ اللہ علیہ: ص 141، ج1
8۔ المبسوط از محمد بن اسمعیل سرخسی: ص6، ج3
9۔ كتاب الاموال از ابوعبید: ص 92 ۔۔ احکام اہل الذمہ از ابن قیم رحمۃ اللہ علیہ: ص 142، ج1             10۔ ایضا
11۔ كتاب الخراج از یحییٰ بن آدم، قرشی: ص 30
12۔ الهداية از علی بن ابی مکرم مرغینانی، ص 157، ج2
13۔ تفصیل کے لئے: كتاب الخراج از ابویوسف یعقوب بن ابراہیم: ص 121 ۔۔ كتاب الخراج از یحییٰ بن آدم: ص 30
14۔ سنن ابوداود از امام ابوداود سلیمان بن اشعث: ص 304، ج3
15۔ كتاب الام از امام محمد بن ادریس شافعی: ص14، ج4
16۔ المنتقى من اخبار المسندة از عبداللہ بن علی ابن جارود: ص 29، ج6
17۔ كتاب الاموال از ابوعبید: ص99
18۔ القرآن الكريم : 105/21
19۔ المحلي بالآثار از علی بن احمد ابن حزم: ص 109، ج9
20۔ سنن دارمى از عبداللہ بن عبدالرحمٰن دارمی: ص 267، ج2
21۔ صحيح ابن حبان از محمد بن حبان: ص 320، ج7
22۔ السنن الكبرى از امام بیہقی رحمۃ اللہ علیہ: ص 143، ج6
23۔ كتاب الاموال از ابوعبید ص 99                  24۔ ایضا
25۔ الشرح الكبير از عبدالرحمٰن بن محمد ابن قدامہ: ص 374، ج3
26۔ البحر الرائق از زین العابدین ابن نجیم: ص 239، ج8