عیدالاضحیٰ کے موقع پر قربانی ملتِ اسلامیہ کی اہم عبادت اور شعار ہے۔ قربانی کے جانور کی عمر کے بارے میں حدیث نبوی ہے کہ "تم مسنة جانور ہی ذبح کیا کرو، اگر یہ ملنا مشکل ہو جائے تو بامر مجبوری بھیڑ کا جذعة بھی ذبح کیا جا سکتا ہے" (صحیح مسلم) مسنة عربی زبان میں سال بھر یا اس سے زیادہ عمر کی بکری کے لئے بولا جاتا ہے۔ جبکہ جذعة کا اطلاق چھ ماہ سے سال تک کی عمر کی بکری، بھیڑ کے لئے کیا جاتا ہے۔ یہاں یہ بات بھی واضح رہے کہ مختلف جانوروں کی عمر کے اعتبار سے اس اصطلاح کا اطلاق ان پر مختلف انداز سے ہوتا ہے چنانچہ مسنة بکری کے لئے ایک سال یا اس سے زیادہ، گائے کے لئے دو سال یا اس سے زیادہ، اونٹ کے لئے 5 سال یا اِس سے زیادہ پر بولا جاتا ہے چنانچہ علماء نے مسنة سے اونٹ، گائے اور بھیڑ، بکری سے ہر ایک کا دو دانتا جانور مراد لیا ہے (شرح نووی رحمۃ اللہ علیہ لسملم) اسی طرح جذعة کا اطلاق بھیڑ بکری کے لئے چھ ماہ سے سال تک کی عمر کے لئے اور زکوٰۃ کا نصاب بتاتے ہوئے اس لفظ کا اطلاق بکری کے دوسرے سال میں داخل ہونے پر بھی کیا گیا ہے (دیکھئے مسند احمد، حدیث 4180) اور گائے کے دوسرے و تیسرے سال کے لئے اور اونٹ پر عمر کے پانچویں سال کے لئے بھی کیا گیا ہے۔ بہرحال قربانی کے حوالے سے جذعة  کا اطلاق صحیح قول کے مطابق سال بھر کی عمر پر کیا جاتا ہے ۔۔۔
یہاں یہ سوال بھی پیدا ہوتا ہے کہ حدیث میں جذعة کے " من الضان " سے مشروط ہونے کے بعد کیا بھیڑ کے علاوہ دوسرے جانوروں کے لئے مسنة (دو دانتا) میسر نہ آنے کی صورت میں جذعہ کی قربانی دی جا سکتی ہے؟ تو قاضی عیاض رحمۃ اللہ علیہ وغیرہ نے ظاہر کلام پر محمول کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ گنجائش بکری، گائے اور اونٹ کے لئے نہیں صرف بھیڑ کے لئے ہے جبکہ جمہور علماء نے اِس شرط کو استحباب پر محمول کیا ہے۔
بہرحال زیرنظر مضمون میں محقق نے جہاں جذعة من الضان کی تحقیق پیش کی ہے وہاں اس اَمر کا بھی احساس دلایا ہے کہ جذعة کی قربانی مجبوری کی حالت میں ہی کی جائے جبکہ قربانی کے جانور کی اصل عمر مسنة یعنی دو دانتا ہی ہے ۔۔ جانوروں کی عمر کے بارے مزید تفصیل کے لئے دیکھئ عونُ المعبود شرح سنن ابوداود زیر حدیث: 2415 اور شرح نووی لصحیح مسلم زیر حدیث: 3631)
چونکہ اس بحث میں ساری بات چیت جانور کی عمروں کے حوالے سے کی گئی ہے چنانچہ اسی رنگ میں علماء کی آراء درج کر دی گئی ہیں جبکہ درحقیقت جانوروں کے بارے میں عمروں کی بحث سرے سے ہی ایک مشکل اور ناقابل عمل طریقہ ہے کیونکہ جانوروں کی عمروں کا معین حساب و کتاب کسی خطے میں بھی اہتمام سے نہیں رکھا جاتا چنانچہ یہ سیدھا سادا اُصول زیادہ واضح اور قابل عمل ہے کہ "دو دانتا جانور ہی قربانی کے لئے تلاش کیا جائے، اگر دو دانتا نہ مل سکے تو صرف بھیڑ کے لئے کچھ گنجائش موجود ہے ورنہ اس سے احتراز کرنا چاہئے" ۔۔۔ (حسن مدنی)
معروف دینی درسگاہ دارُالحدیث، اوکاڑہ کی طرف سے ایک اشتہار "فضائل و مسائل قربانی" (متربہ: مولانا محمد عبداللہ یوسف) نظر سے گزرا ۔۔ اس کے دوسرے کالم پر عنوان "قربانی کا جانور" کے تحت صحیح مسلم کی مشہور حدیث " لا تذبحوا إلا مسنة ... الحديث " عن جابر رضی اللہ عنہ درج کرنے کے بعد لکھا ہے کہ جذعة کا نصف ہوتا ہے، اور ہمارے ملک میں مسنة ڈیڑھ سال کا ہوتا ہے، اس لیے جذعہ نو ماہ کا ہو گا۔ چند سال پیشتر ایک اور فاضل مولانا محمد بن عبداللہ شجاع آبادی نے اپنے پمفلٹ میں جذعة آٹھ ماہ کا تحریر فرمایا تھا ۔۔ ماضی قریب میں جامعہ تعلیم الاسلام، ماموں کانجن، فیصل آباد سے بھی ایک اشتہار اسی عنوان سے شائع ہوا جس میں جذعہ 6 ماہ کا قرار دیا گیا۔
مقامِ حیرت و تعجب ہے کہ محققین، مدرسین اور مصنفین پیدا کرنے والے اِدارے جذعة کی عمر کا تعین نہیں کر سکے جس کی بنا پر لوگ ضحوا بالثنايا (دو دانت جانور کی قربانی کرو) کی بجائے نعمت الاضحية الجذعة من الضان (اچھی قربانی بھیڑ کا جذعہ ہے) کا راگ اَلاپنے لگے۔ مجھ ایسے طفل مکتب کو اس سلسلے میں خامہ فرسائی کی جراءت تو نہ ہونی چاہئے تھی تاہم محققین سے معذرت کے ساتھ اپنی تحقیق عرض کئے دیتا ہوں، اُمید ہے کہ اصحابِ علم و تحقیق اس پر غور فرمائیں گے:
(1)فتح الباری شرح صحیح البخاری پارہ 23، ص 324 پر مرقوم ہے کہ
" الجذعة من الضان ما اكمل السنة وهو قول الجمهور "
"یعنی جذعہ من الضان وہ ہے جو ایک سال پورا کر لے اور جمہور کا یہی قول ہے"
(2) بذل المجهود شرح ابوداود ص 71، ج4 پر مرقوم ہے کہ
" فى اللغة ما تمت له سنة "
"لغت میں جذعہ اسے کہتے ہیں جس پر ایک سال پورا ہو گیا ہو"
(3) مسلمہ اور مستند، لغت کی مشہور کتاب مجمع البحار ص 181، ج1 پر ہے
" الجذع من الضان ما تمت له سنة"
" الجذع من الضان وہ ہے جو ایک سال پورا کر لے"
واضح رہے کہ جذعہ من الضان (بھیڑ کا جذعہ) اس کی قربانی اس وقت جائز ہے جب مسنة (دو دانتا جانور) لینا یا ملنا مشکل ہو۔ جیسا کہ حدیث میں ہے " إلا أن يعسر عليكم فتذبحوا جذعة من الضان " سے اظہر ہے چنانچہ
(4) صاحبِ سبل السلام زیر حدیث رقم فرماتے ہیں کہ
" والحديث دليل على انه لا يجزى الجذعة من الضان فى حال من الاحوال الا عند تسعر المسنة "
"یہ حدیث اس بات پر دلیل ہے کہ عام حالات میں جذعہ جائز نہیں ہاں مگر تنگی کے وقت جب مسنة نہ ملے"
(5) نیز فرماتے ہیں: حكى عن ابن عمر والزهرى انه لا يجزى الجذعة من الضان ولو مع التعسر
"حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ اور امام زہری رحمۃ اللہ علیہ سے یہ بیان کیا گیا ہے کہ بھیڑ کا جذعہ کفایت نہیں کرتا، چاہے مسنة جانور ملنا مشکل ہو" (یاد رہے دنبہ، چھترا بھی بھیڑ میں داخل ہے)
(6) حافظ ابن حجر رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ
أن الجذع لا يجزي مطلقا سواء كان من الضأن أم من غيره ، وممن حكاه عن ابن عمر ابن المنذر في الإشراف ، وبه قال ابن حزم وعزاه لجماعة من السلف وأطنب في الرد على من أجازه
"بھیڑ کا جذعة مطلقا قربانی کے لئے کفایت نہیں کرتا، چاہے وہ بھیڑ ہو یا کوئی اور جانور ۔۔۔ یہ بات ابن منذر رحمۃ اللہ علیہ نے حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے اپنی کتاب اشراف میں نقل کی ہے اور یہی ابن حزم رحمۃ اللہ علیہ کا قول ہے جس کو انہوں نے سلف کی ایک جماعت کی طرف منسوب کیا ہے اور اس کو جائز سمجھنے والوں کی آپ رحمۃ اللہ علیہ نے کھل کر تردید کی ہے"
(7) اسی طرح صاحب تحفة الاحوذى مولانا عبدالرحمٰن مبارکپوری رحمۃ اللہ علیہ، ایک سوال کے جواب میں فرماتے ہیں کہ قربانی انہی جانوروں کی جائز ہے جو مسنة اور ثنى ہیں یعنی دودھ کے اگلے دو دانت گر چکے ہوں اور وہ جانور جن کے دودھ کے دانت نہ گرے ہوں، ان کی قربانی ہرگز جائز نہیں۔ (تحقیق مسنہ ص 24، مصنف مولانا سامرودی)
(8) اسی طرح مولانا محمد بن ابراہیم میمن جونا گڑھی رحمۃ اللہ علیہ اخبارِ محمدی مجریہ 15 فروری 1938ء کے ص 6 پر راقم فرماتے ہیں کہ "پس سننا چاہئے کہ اس جانور کی قربانی صحیح اور درست ہے جو کہ دو دانتا ہو یعنی اگلے دو دانت گر چکے ہوں۔"
(9) اسی اخبار کے ص 7 پر رقم فرماتے ہیں "بہرحال اس بیان سے واضح ہوا کہ قربانی کے جانور کا دو دانتا ہونا ضروری ہے خواہ وہ ایک سال کا ہو یا کم کا۔"
امیدِ واثق ہے کہ علماء کرام ان سطور پر ضرور غور فرمائیں گے ۔۔۔ ہذا ما عندی واللہ اعلم بالصواب