ڈاونلوڈ

آن لائن مطالعہ

آن لائن مطالعہ
  • اپریل
1999
عبدالرشید عراقی
(فروری کے شمارے سے آگے) دوسری قسط
مولانا قاضی محمد سلیمان منصور پوری رحمۃ اللہ علیہ
(12) غایۃ المرام 1891ء : صفحات 144
یہ کتاب مرزا غلام احمد قادیانی کے رسالہ جات "فتح العلام" اور "توضیح المرام" کے جواب میں ہے۔ اس میں رفع عیسیٰ علیہ السلام، آپ کا نزول، اور قانونِ قدرت وغیرہ پر قرآن و حدیث کی روشنی میں بحث کی گئی ہے۔
(13) تائید الاسلام، 1898ء: صفحات 150
یہ غایۃ المرام کا دوسرا حصہ ہے۔ اس میں پہلے مرزا قادیانی کے عقائد پر بحث کی ہے اور بعد میں مرزا قادیانی کی کتاب ازالة الاوهام کے بعض مباحث جیسے مسیح موعود، الہام و مکاشفہ وغیرہ کا جواب دیا گیا ہے۔
(14) مرزا صاحب اور نبوت: صفحات 8
اس رسالہ میں مرزا قادیانی کے دعویٰ نبوت کی تردید کی گئی ہے۔
  • اپریل
1999
عطاء اللہ صدیقی
دیکھ کر رنگِ چمن نہ ہو پریشان مالی!!
شبِ تاریک کی طوالت اپنی جگہ ہے، نورِ سحر کا امکاں ابھی باقی ہے۔ ظلم کی سیاہ رات کو دَوام نہیں ہوتا۔ خورشید کی کرنیں گھٹا ٹوپ اندھیروں کا سینہ چیز کر کائنات کے لیے ضوفشانی کا سامنا کیا کرتی ہیں۔ تپتے ہوئے صحرا کی وسعتیں دیکھ کر مایوس نہیں ہونا چاہئے، مسافر عزم و ہمت سے کام لیں تو اُمید کا نخلستان مل ہی جایا کرتا ہے۔ ملتِ اسلامیہ کا شجر اگر آج خزاں گزیدہ ہے تو کیا ہوا، اسلام دشمن لابیاں اپنے زہریلے اور اعصاب شکن پراپیگنڈہ سے مسلمانوں میں مایوسی پھیلا رہی ہیں۔ مایوسی اور قنوطیت ایسے نفسانی امراض ہیں جو قوموں کو ایک دفعہ گر کر دوبارہ اٹھنے کے قابل نہیں چھوڑتے۔ اسلام اپنے ماننے والوں کو﴿ لا تَقنَطوا مِن رَحمَةِ اللَّـهِ ...﴿٥٣﴾...الزمر  کا درس دیتا ہے۔
  • اپریل
1999
عبدالجبار شاکر
اسلام دین فطرت ہے۔ فطرت خواہ انسان سے متعلق ہو یا کائنات سے، اس میں حسن توازن، تناسب اور اعتدال کا نقش بہت واضح اور نمایاں ہے۔ عدل صفاتِ الہیہ میں ایک ممتاز صفت ہے جس کا اظہار حیات اور آفرینش کے تمام تر مظاہر میں دکھائی دیتا ہے۔ اس کائنات کی مختلف مخلوقات اور مظاہر فطرت، عدل کے باعث موجود و برقرار ہیں۔ انسان چونکہ اشرفُ المخلوقات ہے، اس باعث اسے عدل کو سمجھنے اور اختیار کرنے کی سب سے زیادہ ضرورت ہے۔ انبیاء علیہم السلام کی دعوت میں بھی عدل کا پہلو نمایاں ہے۔ انسان کو اس جہاں رنگ و بو میں جو تمیز اور ارادہ کی قوتیں اور اختیارات بخشے گئے ہیں، عدل کا تقاضا ہے کہ اس کائنات کی صفوں کو لپیٹ کر ایک ایسا دن برپا کیا جائے جہاں اور جب انسانی اعمال کی جزاوسزا کا فیصلہ عدل کے ساتھ کیا جا سکے۔
  • اپریل
1999
عزمی جوابرہ
٭ کیا مسجد میں یا مسجد کے صحن میں قبر بنانا جائز ہے؟
میرے عزیز مسلمان بھائیوں اور نماز پڑھنے والو، نمازوں کو قائم کر کے، اس کا خاص اہتمام کرتے اور اس کے ذریعے اللہ کی رضامندی کے متلاشیو! ۔۔ تمہارا بڑے اِہتمام سے نماز پڑھنا اس امر کی دلیل ہے کہ تم اپنے دین کے تقاضے پورے کرنے کی کوشش کرتے ہو، رب کی رضامندی چاہتے ہو۔ تمہیں مساجد میں نماز باجماعت پڑھنے کا اہتمام کرنا چاہئے جیسا کہ نبی کریم کی یہی سنت ہے۔ اس کے ساتھ اس بات کا خاص التزام ضروری ہے کہ مسجد میں، اس کے صحن میں یا اس کے میدان میں کوئی قبر نہ ہو کیونکہ اسلام کی رو سے مسجد اور قبر کبھی یکجا نہیں ہو سکتے۔
٭ ہمارے محبوب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی امت سے فرمایا کہ
"اللہ یہود و نصاریٰ پر لعنت کرے، انہوں نے اپنے انبیاء کی قبروں کو مسجدیں بنا چھوڑا"
  • اپریل
1999
صلاح الدین یوسف
٭ سوال: گذشتہ دنوں لاہور ہائی کورٹ کے ایک جج صاحب نے یتیم پوتے کی وراثت کے بارے میں مختلف ریکارکس دئے ہیں ۔۔ ازراہِ کرم اس ضمن میں صحیح شرعی رائے بتلائیے، تفصیلی دلائل بھی ذکر فرما سکیں تو میں بہت شکر گزار ہوں گا ۔۔ جزاکم اللہ (سمیع الرحمٰن، لاہور)
جواب: اس بارے میں شرعی دلائل یوں ہیں ۔۔ قرآن کریم میں ہے:
﴿لِلرِّجالِ نَصيبٌ مِمّا تَرَكَ الوٰلِدانِ وَالأَقرَبونَ وَلِلنِّساءِ نَصيبٌ مِمّا تَرَكَ الوٰلِدانِ وَالأَقرَبونَ مِمّا قَلَّ مِنهُ أَو كَثُرَ... ﴿٧﴾...النساء
"ماں باپ اور عزیز و اقارب کے ترکہ میں مردوں کا حصہ بھی ہے اور عورتوں کا بھی۔ (جو مال ماں باپ اور اقارب چھوڑ مریں) خواہ وہ مال کم ہو یا زیادہ (اُس میں) حصہ مقرر کیا ہوا ہے۔"
  • اپریل
1999
ادارہ
"محدث" کے گزشتہ شمارے میں ہم نے عرض کیا تھا کہ رؤیتِ ہلال کے مسئلے میں جہاں اختلافِ مطالع کا فرق بہت زیادہ ہو، تو وہاں ایک علاقے کی رؤیت دور دراز کے علاقے کے لیے کافی نہیں ہونی چاہئے۔ اس کے برعکس حنفی مذہب میں ظاہر الروایہ کے مطابق اختلافِ مطالع کی کوئی اہمیت نہیں ہے، اس لیے پاکستان کے بعض احناف کے نزدیک پورے عالم اسلام میں ایک ہی دن عید اور رمضان کا آغاز کیا جا سکتا ہے اور علمائے احناف کا یہ گروہ اِسی پر زور دے رہا ہے۔
اکوڑہ خٹک سے استفتاء اسی سلسلے میں آیا تھا، جس کا مختصر جواب گزشتہ شمارے میں شائع ہو چکا ہے۔ حسن اتفاق سے اس کے معا بعد "جدید فقہی مسائل" میں یہ بحث نظر سے گزری، جو بھارت کے ایک حنفی عالم کی تالیف ہے، اس میں نہ صرف اختلافِ مطالعہ کو معتبر قرار دیا گیا ہے، بلکہ پورے بھارت کے تمام مکاتب فکر کے علماء کا متفقہ فیصلہ بھی نقل کیا گیا ہے جس میں اختلاف مطالع کے اعتبار کو تسلیم کیا گیا ہے۔
یہ گویا ہماری اُس رائے کی تائید ہے جو اکوڑہ خٹک کے مذکورہ استفتاء کے جواب میں گزشتہ شمارے میں ہم نے تحریر کیا تھا۔ اس لیے مناسب معلوم ہوا کہ اسے بھی افادہ عام کے لیے "محدث" میں شائع کر دیا جائے ۔۔ ادارہ
  • اپریل
1999
نصیراحمد اختر
نظامِ اسلامی کی آفاقیت و وسعت کو دیکھا جائے تو جہاں وہ مسلم افراد کے لیے وسائل انتاج (پیداواری وسائل) کی ملکیت کو تسلیم کرتا ہے، وہاں پر اپنے زیر سایہ بسنے والے غیر مسلم افراد کے لیے بھی وسائل انتاج کی انفرادی ملکیت کو تسلیم کرتا ہے بلکہ اہل الذمہ کے مذہب و ملت کی آزادی کو اس حد تک تسلیم کرتا ہے کہ ایک مسلمان تو اسلام کی حرام کردہ اشیاء کا مالک ہی نہیں بن سکتا لیکن اگر اسلام کی حرام کردہ کوئی شے غیر مسلم کے ہاں قابل انتفاع اور جائز ہے تو اسلام اپنے زیر سایہ بسنے والے غیر مسلموں کو ان اشیاء کی ملکیت کی اجازت بھی دیتا ہے۔ جیسا کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے ایک حکم صادر فرمایا کہ "جزیہ کی وصولی میں شراب و خنزیر وصول نہ کیا جائے بلکہ اہل الذمہ ان اشیاء کو فروخت کر کے اس کی رقم جزیہ میں ادا کریں۔"
  • اپریل
1999
عبدالرحمن عزیز
عیدالاضحیٰ کے موقع پر قربانی ملتِ اسلامیہ کی اہم عبادت اور شعار ہے۔ قربانی کے جانور کی عمر کے بارے میں حدیث نبوی ہے کہ "تم مسنة جانور ہی ذبح کیا کرو، اگر یہ ملنا مشکل ہو جائے تو بامر مجبوری بھیڑ کا جذعة بھی ذبح کیا جا سکتا ہے" (صحیح مسلم) مسنة عربی زبان میں سال بھر یا اس سے زیادہ عمر کی بکری کے لئے بولا جاتا ہے۔ جبکہ جذعة کا اطلاق چھ ماہ سے سال تک کی عمر کی بکری، بھیڑ کے لئے کیا جاتا ہے۔ یہاں یہ بات بھی واضح رہے کہ مختلف جانوروں کی عمر کے اعتبار سے اس اصطلاح کا اطلاق ان پر مختلف انداز سے ہوتا ہے چنانچہ مسنة بکری کے لئے ایک سال یا اس سے زیادہ، گائے کے لئے دو سال یا اس سے زیادہ، اونٹ کے لئے 5 سال یا اِس سے زیادہ پر بولا جاتا ہے چنانچہ علماء نے مسنة سے اونٹ، گائے اور بھیڑ، بکری سے ہر ایک کا دو دانتا جانور مراد لیا ہے
  • اپریل
1999
صلاح الدین یوسف
حکومت اور اعلیٰ عدالتوں کے فاضل ججوں کی طرف سے تسلسل اور تکرار کے ساتھ یہ بات کہی جا رہی ہے کہ عوام کو فوری انصاف مہیا کیا جانا ضروری ہے۔ بلکہ اس سلسلے میں دونوں طرف سے بعض اقدامات کئے جانے کا بھی دعویٰ کیا جا رہا ہے۔ جیسے وزیراعظم بہ اصرار یہ کہہ رہے ہیں کہ انہوں نے کراچی میں فوجی عدالتیں فوری طور پر عدل و انصاف مہیا کرنے اور امن و امان قائم کرنے کے لیے قائم کی تھیں۔ اسی طرح سپریم کورٹ کا ایک حالیہ فیصلہ اس کی واضح مثال ہے جو اس نے وفاقی محتسب کے فیصلوں پر صدرِ مملکت کی نظر ثانی کے سلسلے میں دیا ہے جس پر ابھی مزید گفتگو عدالت میں ہو گی۔ جو یہ ہے کہ وفاقی محتسب نے ایک شخص محمد طارق پیرزادہ کے حق میں ایک فیصلہ 17 اکتوبر 1993ء کو دیا تھا۔