(((نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم  کی اصل حیثیت تو اللہ کے رسول  صلی اللہ علیہ وسلم  ہونے کی ہے۔اور آپ کے طرز عمل میں سب سے گہرارنگ وحی کی صورت میں اللہ سے رہنمائی لینے اور اس کو عمل میں لانے کا ہے۔اس اعتبار سے جب ہم مسلمان نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم  کے مختلف کرداروں کا جائزہ لیتے ہیں تواسی بنیادی حقیقت پر ایمان رکھنے کی وجہ سے ہر معاملے کو اللہ کی طرف سے ہدایت کے سپرد کرکے مطمئن ہوجاتے ہیں۔اور ان زمینی حقائق کی جستجو میں نہیں پڑتے جو اللہ تعالیٰ نے اپنی سنت کے طور پر تمام امور دنیا میں جاری کررکھی ہے۔کہ وہ ہرکام کی تکمیل عموماً واقعاتی بنیادوں اور وسیلوں کے ذریعے ہی کرتاہے۔
ایمان واعتقاد کے لیےتو اسی رویہ کی ضرورت ہے لیکن اگر حیات مبارکہ سے اس دور کے واقعات کی درست انجام دہی کے واقعاتی حقائق بھی تلاش کرلیے جائیں تو اس طرح آپ کے طرز عمل کی تشریح مزید آسان اور اس کی افادیت دو چند ہوجاتی ہے۔ہمارا اعتقاد ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم  کا اسوہ مبارکہ آپ کی ہر حیثیت(قاضی،حاکم،سپہ سالار وغیرہ) میں مسلمانوں کے لیے راہ ہدایت اور ذریعہ نجات ہے۔زیر نظر مضمون میں بھی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم  کی ایک حیثیت کا مختصر مطالعہ پیش کا کیا گیا ہے۔(حسن مدنی)))
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم  کی ذات میں ایک حاکم وفرمانروا،سیاست دان اور عظیم مدبر ومنتظم سب کی خصوصیات بدرجہ اتم موجود تھیں۔قرآن کریم کی متعدد آیات اس مضمون کو بیان کرتی ہیں کہ آپ اللہ کی جانب سے مقرر کردی حاکم ہیں اور یہ منصب آپ کو بحیثیت رسول اللہ  صلی اللہ علیہ وسلم  عطا ہوا ہے۔ایسا قطعاً نہیں ہے کہ آپ  ریاست قائم کرکے اس کے حاکم ومدبر اور منتظم از خود بن بیٹھے ہوں یا لوگوں نے منتخب کرکے آپ کو اپنا فرمانروا بنادیا ہو۔
آپ صلی اللہ علیہ وسلم  کی فرمانروائی رسالت سے ہٹ کر کوئی علیحدہ شے نہیں ہے۔اور بطور حاکم آپ کی اطاعت بھی عین اللہ کی اطاعت ہے۔آپ کی بیعت سے منحرف ہونا در اصل اللہ کی حاکمیت کا انکار کرنا ہے ۔یہ بات بھی آپ نے ہی ہمیں بتائی ہے کہ رسول  کی اطاعت اللہ کی اطاعت سے ہٹ کر کوئی اطاعت نہیں ہے بلکہ یہ اللہ کے حکم اور اس کی ہدایات کے تابع ہی ہے۔رسول جو منصب رسالت کا امین ہوتا ہے۔اپنی اطاعت کروانے نہیں بلکہ اللہ کی اطاعت کا مکمل پیغام پہنچانے کا مشن لے کر اللہ کی طرف سے آتا ہے۔قرآن پاک کی اس آیت میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم  کی اطاعت کا حکم موجود ہے:
وَمَا أَرْسَلْنَا مِنْ رَسُولٍ إِلا لِيُطَاعَ بِإِذْنِ اللَّهِ (1)
"ہم نے ہر رسول کر صرف اس لیے بھیجا کہ اللہ کے حکم س اس کی فرمانبرداری کی جائے"
 پھر اطاعت کاذکر کیا:
مَّن يُطِعِ الرَّسُولَ فَقَدْ أَطَاعَ اللَّهَ ۖ (2)
"جس نے رسول کی اطاعت کی ،اس نے گویا اللہ کی فرمانبرداری کی"
اسی طرح نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم  کے ہاتھ پر بیعت کو اللہ نے اپنی بیعت قرار دیا ہے:
إِنَّ الَّذِينَ يُبَايِعُونَكَ إِنَّمَا يُبَايِعُونَ اللَّهَ (3)
"اے نبی صلی اللہ علیہ وسلم ! بلاشبہ جو لوگ آپ کی بیعت کررہے ہیں ،وہ اللہ سے بیعت کررہے ہیں"
قرآن کریم میں ایک جگہ بطور قاضی وحاکم نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم  کی اطاعت کی اس طرح اہمیت بیان کی گئی :
"وَمَا كَانَ لِمُؤْمِنٍ وَلَا مُؤْمِنَةٍ إِذَا قَضَى اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَمْرًا أَن يَكُونَ لَهُمُ الْخِيَرَةُ مِنْ أَمْرِهِمْ ۗ وَمَن يَعْصِ اللَّهَ وَرَسُولَهُ فَقَدْ ضَلَّ ضَلَالًا مُّبِينًا" (4)
"کسی مومن مردوعورت کے لیے یہ بات جائز نہیں کہ جب اللہ اور اس کے  رسول کی معاملے میں فیصلہ فرمادیں دیں تو اس کو اپنے کی امر میں اختیار باقی رہ جائے۔اللہ اور اس کے رسول کی جو بھی نافرمانی کرے،وہ صریح گمراہی میں  پڑ گیا"
اللہ  تعالیٰ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم  کی مخالفت کو اپنے اعمال کو برباد کرنے کے مترادف بتایا ہے۔
يَاأَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا أَطِيعُوا اللَّهَ وَأَطِيعُوا الرَّسُولَ وَلَا تُبْطِلُوا أَعْمَالَكُمْ (5)
"اے ایمان والو! اللہ کی اور اس کے رسول کی اطاعت کرو اور ا پنے اعمال ضائع نہ کرو"
قرآن پاک کے ان تمام ارشادات سے منصب رسالت کی عظمت کا پتہ چلتاہے ۔یہی قرآن کی بیان کردہ خصوصیات وحیثیتیں ہیں جن کے  پیش نظر صحابہ رضوان اللہ عنھم اجمعین   نے آپ کی زندگی کا ایک ایک گوشہ محفوظ کیا۔ قرآن پاک نے حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم  کی ذات کو منبع شریعت کی حیثیت سے پیش کرکے بتلایا ہے کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم  کے تمام مناصب رسالت سے ہی جڑے ہوئے ہیں اور ان کو آپس میں جدا نہیں کیاجاسکتا۔یہی وجہ ہےکہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم  کی ذات قرآن کے ساتھ دوسرا مصدر قانون ہے جہاں سے احکام شریعت ہمیں معلوم ہوتے ہیں۔بحیثیت سیاستدان وحکمران یہی  آپ کی سب سے بڑی خوبی ونشانی ہے۔(6)
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم  نے مدینہ منورہ میں آن کر ر سالت کےساتھ  فرمانروا اور حکمران کی حثییت سے مدنی زندگی کا آغاز کیاکیونکہ مکہ میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم  کی حیثیت حکمران کی سی نہ تھی اور نہ اقتدار وہاں آپ کے پاس تھا۔آپ نے اللہ کی ہدایات کی روشنی میں اپنے حسن وتدبر اور حسن انتظام سے مدینہ میں مثالی سلطنت اور ایسا مثالی معاشرہ کی سیاست میں حکمت اور دوراندیشی نمایاں تھی۔آپ صلی اللہ علیہ وسلم  مذہب کےساتھ ساتھ ریاست کے بھی سربراہ تھے۔اس لحاظ سےآپ کی اکیلی شخصیت میں دینی ودنیاوی ہر دو قسم کا اقتدار جمع  تھا۔لیکن نہ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم  کو پوپ(عیسائیوں کا سب سے بڑا  رہنما) کا سا جھوٹا غرور تھا اور نہ ہی قیصر کی طرح کوئی فوج آپ صلی اللہ علیہ وسلم  کے پاس تھی۔(7)
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم  کی ذات  گرامی عظیم مدبر ومنتظم بھی تھی اور آپ کی مکی زندگی میں قبل از نبوت دو واقعات آپ کی سیاست اور اجتماعی شعور وتدبیر کی بہترین مثال ہیں۔ان میں سے پہلا واقعہ تو حلف الفضول کا ہے جس کے متعلق نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم  فخریہ یہ بات فرمایا کرتے تھے کہ میں اس معاہدے میں شریک تھا۔(8)
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم  کے سیاسی تدبر کی دوسری شہادت حجر اسود کے نصب کرنے کاواقعہ ہے(9)
جب سب نے اس کو نصب کرنے میں اپنا اپنا حق تفوق پیش کیا تھا۔اس وقت اختلاف ومنافرت ک جو آگ کتنے ہی خرمنوں کو خاکستر کرنے والی تھی وہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم  کے تدبر سے بجھ گئی اوراہل مکہ پر  آپ کی عظمت کے ساتھ ساتھ آپ کی فراست بھی واضح ہوگئی۔(10)
محمد علی کرد آ پ صلی اللہ علیہ وسلم  کے تدبر اور سیاسی بصیرت کا ذکر ان الفاظ میں کرتے ہیں:
"نبوت سے پہلے ہی وہ(اہل مکہ) آپ صلی اللہ علیہ وسلم  کو الامین کہہ کر پکارتے تھے کیونکہ انہوں نے آ پ کی امانت ومروت کو اور آپ  صلی اللہ علیہ وسلم  کی صداقت اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے حسن معاملت کودیکھا اور مبعوث ہونے سے پہلے اکثر اوقات آپ اپنی حکمت سے ان کے پیچیدہ مسائل کا صحیح حل فرمادیا کرتے تھے۔آپ حلف الفضول میں بھی حاضر تھے جب تمام قبائل آپ کے فیصلے پر ہنسی خوشی  راضی ہوگئے۔وہ ا پنے فعل پر خود حیران تھے کہ انہوں نے عمر میں اپنے سے چھوٹے اور مال میں اپنے سے کمتر کی اطاعت کی۔اس طرح ان سب نے تب ہی آپ کو خود پر حاکم ورئیس تسلیم کرلیا تھا"(11)
اعلان نبوت کے ساتھ ہی آپ صلی اللہ علیہ وسلم  کی حثییت قائد تحریک کی ہوگئی۔ جس پر مخالفتوں کے طوفان اٹھے اور مصائب آلام کے پہاڑ ٹوٹے۔معاشرتی مقاطعہ ہوا،اور رفقاء کے لیے عرصہ حیات تنگ کردیاگیا۔لیکن آپ نے کاروان شوق کو ا پنی پیغمبرانہ بصیرت وتدبر اور تائید ایزدی کے ذریعے بچالیا۔اگر آپ ی سیاسی پالیسی وفراست میں ذرہ بھر کمی ہوتی تو مکہ میں تصادم ہوجاتا اور مٹھی بھر مسلمان ختم ہوجاتے۔(12)
آپ صلی اللہ علیہ وسلم  نے انتہائی حکمت سے نامساعد حالات میں اپنی د عوت کو وسعت دی اور  تدبر سے قریش کی ہر  تدبیر اور رکاوٹ کو ناکام بنادیا۔آپ کے سیاسی  تدبر میں تائید  الٰہی کا عنصر حاوی ہوتا۔اسلام کی دعوت کو پھیلانے میں،مختلف قبائل تک جانے اور عمومی انداز  تخاطب اختیار کرنے کے تمام  پہلو آپ کی فراست کی بین دلیل ہیں۔وحی الٰہی کی ہدایت اور پیغمبرانہ بصیرت اپناکام مسلسل سرانجام دیتی رہی۔سیاسی نقطہ ء نظرسے جب آپ نے یہ دیکھاکہ مکہ تحریک کے لیے اچھامرکز نہیں ہوسکتا تو آ پ نے گردوپیش پر نگاہ دوڑائی اور مکہ سے باہر اپنی مرکزیت واجتماعیت اور مسلمانوں کی سیاسی حیثیت کے لیے پہلے حبشہ کی جانب اور  پھر خود مدینہ کی جانب ہجرت کی اور مکی دور میں اہل یثرب کی بعیتیں بھی اسی سیاسی پالیسی کے زمرے میں آتی ہیں۔(13)
آپ کی ہجرت دور رس سیاسی اثرات کی حامل رہی۔آپ صلی اللہ علیہ وسلم  کی صبر واستقامت کی پالیسی اور اپنی قوت کو ایک مرکز پر مجتمع کرنا اور کفار کے لیے ایسے حالات  پیدا کرنا کہ وہ آپے سے باہر ہوکر جارحیت کی روش اختیار کریں،آ پ کے سیاسی تدبر کی بہترین مثالیں ہیں۔
1۔مواخات مدینہ:۔
بحیثیت سیاستدان آپ صلی اللہ علیہ وسلم  کے تدبر وفراست کی عملی آزمائش مدینہ میں پیش آئی کہ آپ نے انتہائی مشکل حالات  میں اپنی خداداد بصیرت سے سلامتی کی  راہیں نکال لیں۔مدینہ میں آپ نے شہریت کی کامل تنظیم کا آغاز کیاجس میں آپ کو منتظم ریاست کادرجہ حاصل ہوگیا۔مستحکم معاشرت اور پرسکون اجتماعیت کے لیے آ پ نے شاندار اقدامات کیے۔آپ صلی اللہ علیہ وسلم  نے مدینہ میں قیام کے ساتھ ہی ایسے اقدامات کئے جن سے آپ  کی سیاسی حیثیت اُبھر کر سامنے آگئی۔(14) لیکن آپ صلی اللہ علیہ وسلم  کے تمام اقدامات کاواحد منشا یہ تھا کہ اصل حکومت اور راج اللہ کا ہی ہو۔(15)
اس کے بعد دوسر امسئلہ مسلمانوں کی آباد کاری کا تھا۔مدینہ میں مسلمانوں کی عدوی اکثریت تھی اور انصارمدینہ کا یاک مضبوط گروہ تھا۔آپ صلی اللہ علیہ وسلم  کے ساتھ آنے والے مہاجر مسلمانوں میں اور انصار میں ہم آہنگی یکجہتی اوراستحکام کابڑا مسئلہ آپ نے اپنی سیاسی حکمت عملی سے طے کیا اور مسلم معاشرت کی بنیاد اس مواخات کے اصول پر مضبوط کردی جو انصار ومہاجرین کے مابین طے ک گئی تھی۔(16) یہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم  کی حکمت کی سب سے اہم مثال ہے۔جس سے مسلم معاشرے میں استحکام ہوا اور اسے جارحیت کے خلاف مجتمع  ہوکر لڑنے میں مدد دی۔  بحیثیت حکمران آپ کی فکر بے مثال تھی۔جسے آپ نے ایک نئی فکر کی طرح اس وقت نظری اور دور اندیشی کے بعد قائم کیا کہ ارباب دانش کو آ پ صلی اللہ علیہ وسلم  کی اصابت فکر کے سامنے سرجھکائے بنا چارہ نہ رہا۔مدینہ میں قائم ہونے والے اس جدید مستقر کو آپ نے ایسی وحدیث میں منسلک کردیا جو آج تک عرب کے وہم وخیال میں بھی نہ آسکتی تھی۔(17)
مواخات مدینہ سے رسول  صلی اللہ علیہ وسلم  کو کافی اطمینان حاصل ہوگیا۔کیونکہ مدینہ کے منافقین اوس خزرج قبائل می پھوٹ ڈالنے کے لیے تدابیر کررہے تھے۔اسی طرح مدینہ میں منافقوں نے مہاجروانصار کے مابین اختلاف ومنافرت  پھیلانے کی مہم بھی شروع کررکھی تھی مگر معاہدہ مواخات نے ان کی چالیں ختم کردیں۔(18)ان حالات میں اس معاہدہ مواخات کی حکمت اور سیاست کی اہمیت تسلیم کئے بغیر چارہ نہیں رہتا۔مسلمانوں کےدرمیان منافق عبداللہ بن ابی کی وجہ سے اختلاف پھیلایا جارہاتھا کہ وہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم  کی آمد کے وقت بادشاہ  بننے والاتھا۔آپ صلی اللہ علیہ وسلم  کی فراست وسیاست ہی تھی جس نے منافقین ویہود کی تمام ریشہ دوانیوں کے خلاف مسلمانوں کو سیسہ پلائی د یوار بنادیا۔(19)
2۔میثاق مدینہ:۔
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم  کی سیاسی پالیسی کی دوسری اہم مثال میثاق مدینہ ہے۔مواخات میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم  نے اہالیان مدینہ کو مستحکم کیا۔اب اہل مدینہ کو بیرونی خطرات سے بچانے کے لیے مسلم اور غیر مسلم کوخاص نکتے پر جمع کیا کیونکہ یہ اس وقت کی شدید ضرورت تھی کہ اہل مدینہ خواہ مسلم ہوں یا یہود،متفق ہوں۔اور ان کے باہمی اختلافات کو ہوانہ ملے۔ اوربیرون مدینہ کے لوگ بھی مدینہ پر حملہ کرنے کی جراءت نہ کریں۔آپ صلی اللہ علیہ وسلم  کےسیاسی تدبر سے مدینہ کو حفاظت وسکون کے حالات میسر آئے۔(20)
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم  جب مدینہ  تشریف لائے تو مدینہ میں مرکزی نظام نہ تھا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم  کی اس وقت متعدد فوری سیاسی ضرورتیں حسب ذیل تھیں:
1۔اپنے اور مقامی باشندوں کے حقوق وفرائض کا تعین
2۔مہاجرین مکہ کے توطن اور گزر بسر کاانتظام
3۔شہر کے غیر مسلم عربوں اور خاص کر یہودیوں سے سمجھوتہ
4۔شہر کی سیاسی تنظیم وفوجی مداخلت کااہتمام
5۔قریش مکہ سے مہاجرین کو  پہنچائے گئے جانی ومالی نقصانات کا بدلہ(21)
انہی اغراض ومقاصد کے لیے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم  نے مدینہ آنے کے چند ماہ بعد ہی ایک دستاویز مرتب  فرمائی جس کامقصد شہر مدینہ کو پہلی دفعہ شہری مملکت ،قرار دینا اور اس کا انتظام ودستور مرتب کرنا تھا۔(22)
اس دستاویز کے ذریعے جسے ڈاکٹر حمیداللہ فرض اور حکم قرار دیتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم  نے مدینہ کی شہری ریاست کو ایک مستحکم نظم سیاست دیا اور اس کے لیے خارجی مسائل سے نبٹنے کے لیے بنیاد قائم کی۔(23) اور اس سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم  کو ایک منتظم اعلیٰ اور سیاست دان وحکمران کی حیثیت ملی جو آپ کی زبردست کامیابی تھی۔بقول محمد حسین ہیکل:
"یہ تحریری معاہدہ ہے جس کی رو سے حضرت محمد  صلی اللہ علیہ وسلم  نے آج سے تیر ہ سوسال قبل ایک باضابطہ انسانی معاشرہ قائم کیا جس سے شرکائے معاہدہ میں سے ہر گروہ اور فرد کو ا پنے اپنے عقیدے کی آزادی کا حق حاصل ہوا۔انسانی زندگی کی حرمت قائم ہوئی،اموال کو تحفظ کی ضمانت مل گئی،ارتکاب جرم پر گرفت اور مواخذہ نے دباؤڈالا اور معاہدین کی یہ بستی(مدینہ) اس میں رہنے والوں کےلیے امن گہوارہ بن گئی۔غور فرمائیے کہ سیاسی اور مذہبی زندگی کو ارتقاء کا کتنا بلند مرتبہ حاصل ہوا۔کہ جہاں سیاست اور مدنیت  پر دست استبداد مسلط  تھا اور دنیا  فساد وظلم کا معمل بنی ہوئی  تھی وہاں باہم شیر وشکر اور ایک دوسرے کے ہمدرد ومعاون بن  گئے۔"(24)
یہ تاریخی معاہدہ تھا جو اپنے نتائج کے اعتبار سے بجائے خودفتح عظیم کی حیثیت رکھتا تھا اور جس تک قریش کو لانے اور اس سلسلے کے جملہ پر پیچ مراحل کو  طے کرنے میں حضور صلی اللہ علیہ وسلم  نے ایسی سیاسی حکمت اور قائدانہ بصیرت کا مظاہرہ کیا۔جس سے بعد  والوں کو تاقیامت رہنمائی ملتی رہے گی۔یہ مصلحت حضور صلی اللہ علیہ وسلم  کی سیاست کا ایک بے مثل شاہکار ہے۔(25)
میثاق مدینہ کو حکمت سے لاگو کرنے سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم  نے اسلامی سیاست کی بنیاد مضبوط کی۔آپ کے پیش نظر اب صالح معاشرے کا قیام اوردینی حکومت قائم کرناتھا۔جس کامقصد دعوت دین اصلاح اخلاق اور تذکیہ نفس تھا(26) اور قرآن نے بھی اسلامی ریاست کا یہی مقصد بیان کیاہے:
"الَّذِينَ إن مَكَّنَّاهُمْ فِي الأرْضِ أَقَامُوا الصَّلاَةَ وَآتَوُا الزَّكَاةَ وَأَمَرُوا بِالْمَعْرُوفِ وَنَهَوْا عَنِ الْمُنْكَرِ وَلِلَّهِ عَاقِبَةُ الأمُورِ" (27)
"یہ لوگ ،اگر ہم انہیں زمین میں اقتدار عطا کریں تو یہ نماز قائم کریں اور زکواۃ کریں گے نیکی کا حکم دیں گے اور برائی سے روکیں گے اور سب کاموں کا انجام کار اللہ کی طرف ہی ہے۔"
یہ آیت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم  کی سیاست کی حکمت اور حکومت کے طریق کار کو متعین کرتی ہے۔آپ کی قائم کردہ حکومت عصبیت ونسلی شعور کی جگہ دینی وحدت کی بنیاد پر قائم تھی جو منفرد  پر حکمت ریاست تھی۔منتظم سیاست وریاست کے طور پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم  کے کارناموں کو دو حصوں میں تقسیم کیاجاسکتا ہے:
1۔اُمورداخلہ
2۔امورخارجہ۔(28)
اُمور داخلہ :۔
امور داخلہ میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم  نے خصوصی توجہ امن ،استحکام اور اخلاقی  تربیت کی طرف رکھی اور ان امور کو جس سلیقے سے ملحوظ خاطر رکھا ،وہ سیاسی تدبر وفراست کا بین ثبوت ہیں۔
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم  کی حکمت عملی میں سب سے زیادہ اہمیت اشاعت اسلام کو حاصل تھی ۔آپ نے مدینہ  میں تعلیم کے مراکز قائم کیے۔مختلف علاقوں میں تربیت یافتہ معلم بھیجے۔علوم دینیہ کو فروغ دیا اور جن علاقوں کو فتح کیا،وہاں لوٹ مار اور قتل وغارت کی بجائے امن وآشتی کے اصولوں کو پیش نظر  رکھا تاکہ تبلیغ دین اور اشاعت اسلام کامبارک مشن آگے بڑھ سکے۔فتح مکہ پر آپ  صلی اللہ علیہ وسلم   نے جس صبر وتحمل سے کام لیا،وہ اسی اشاعت اسلام کے جذبے کا  اثر تھا۔(29) اسی طرف طائف کے مقام پر جو مصائب برداشت کئے اور  ان ظلم  توڑنے والوں کے لیے جو دعاء رحمت کی وہ اسی مشن کی تکمیل تھی۔(30)
اس کے بعد بطور حکمران وسیاستدان  اگلا مرحلہ شہری ریاست کو اندرونی خلفشار سے بچانے اور اسے استحکام بخشنے کا تھا۔جس میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم  نے مواخات کے علاوہ میثاق مدینہ اور دوسرے قبائل سے معاہدے کیے جس سے مخالفتوں میں کمی آئی۔ان معاہدوں کی حکمت یہ بھی تھی کہ جو شخص ،قبیلہ یا گروہ اور خاندان مسلمان ہو وہ مدینہ یامضافات مدینہ میں آبسے  تاکہ آبادی بڑھنے سے فوجی وسیاسی حالات محفوظ ہوں۔(31)
اس کے بعد نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم  نے ایک سیاسی  تدبیر کی کہ نو مسلموں کو اعزاز بھی دیئے۔آپ نے پیغمبرانہ بصیرت سے انہیں معزز ہی رکھا اور اس اصول کو اس طرح بیان فرمایا:
"تم میں سے عہد جاہلیت کے معزز اسلام لانے پر بھی معزز ہی ہوں گے بشرط یہ کہ وہ دین اسلام کی سمجھ حاصل کرلیں"(32)
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم  کی داخلی سیاست کا ایک اہم جزواحترام انسانیت تھا۔آپ نے کشت وخون سے گریز کی  پالیسی پر عمل کیا۔اگرچہ آپ نے دفاع اور اسلام کی بلندی کے لیے جنگیں کیں لیکن ان کی نوعیت مختلف تھی۔بقول ڈاکٹر حمیداللہ:
"عہدنبوی صلی اللہ علیہ وسلم  میں دس سال میں دس لاکھ مربع میل کا علاقہ فتح ہوا جس کی آبادی یقیناً کئی لاکھ تھی۔اس طرح روزانہ  تقریباً 274 مربع میل کے اوسط سے فتوحات ہوئی جن میں ایک دشمن ماہانہ قتل ہوا۔یہ اس حکمت کا اصول ہے جو  آپ صلی اللہ علیہ وسلم  کے پیش نظر انسانی خون کےاحترام کی تھی۔"(33)
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم  کی داخلی سیاست کا ایک قابل ذکر پہلو معاشرتی تطہیر تھی کہ مدینہ کو  آپ نے مفسد اور بگاڑ پیدا کرنے و الے عناصر سے پاک کیا۔
آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم  کے کاموں  میں دینی ودنیاوی ہر دوزخ موجود تھے۔آپ کی حکومت اور آپ کی سیاست کلی طور پر دینی اثرات وررجحانات کے تابع تھی۔
نبی  صلی اللہ علیہ وسلم  کی وزارت بھی حکمت سے پر تھی اور حکومت بھی ۔آپ نے ملکی تقسیم بھی کی اور وزارتی بھی۔افسروں کو بھی منتخب کیا جن کو  تنخواہ جاتیں اور ان کا احتساب بھی کیا۔
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم  نے پولیس کو بھی منظم کیا اور بطور سیاست دان آپ کا مرکز حکومت مسجد نبوی صلی اللہ علیہ وسلم  تھی۔ آپ تمام وفود قبائل سے یہیں ملاقات فرماتے۔گورنروں اور عمائدین حکومت کو ہدایات مسجد نبوی  صلی اللہ علیہ وسلم  سے روانہ کی جاتیں۔دین ودنیاوی معاملات طے کئے جاتے ۔ہر قسم کی سیاسی ومذہبی تقاریر کا انعقاد مسجد نبوی صلی اللہ علیہ وسلم  میں ہی ہوتا۔
اُمور خارجہ:۔
بطور حکمران وسیاست دان سب سے پہلے اُمور داخلہ میں ر یاست کے استحکام کا بندوبست کیا۔آپ نے وہ تمام طریقے اپنائے جن سے استحکام ملت ممکن تھا۔پھر اس کے بعد آپ نے سیاسی حکمت عملی سے دشمن کی قوت کو توڑا۔اس سلسلے میں آپ نے پہلی تدبیر یہ کہ کہ مشرکین پرآپ نے معاشی دباؤ ڈالا اسی طرح اہل مکہ کے حلیفوں سے تعلقات استوار کیے۔آپ کے مختلف معاہدوں  پر نظر ڈالی جائے تو آپ کی سیاست کا یہ اصول بڑا موثر ہے۔بیعت  عقبہ میں مدینہ والے در اصل قریش سے صلح کے لیے آئے تھے ۔میثاق مدینہ مین بھی یہی جذبہ کافرما تھا جو آپ کی سیاست خارجہ کاشاہکار ہے۔(34)
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم  کی سیاست کا اہم شاہکار اس کے بعد صلح حدیبیہ ہے ۔جب مسلمانوں کو دو خطرے تھے۔آپ نے مکہ کی طرف سے جنگ کو اس صلح کے ذریعے بند کردیا کہ ان کو جانبدار کردیا اور اس معاوضے میں تجارتی  راستہ کھول دیا،یہ زبردست فتح تھی جو مسلمانوں کو ملی۔
مسلمانوں کے حالات کے مطابق سیاست دانی کااقتضاء یہی ہوسکتا تھا کہ دونوں میں سے کسی ایک دشمن سے صلح کرلی جائے اور دوسرے کے مقابلے میں اس کو دوست یاطرفدار بنالیا جائے کہ دوسرا خود ہی ہتھیار ڈال دے اور مکہ سے صلح خیبر کے بجائے اس لیے کی گئی کہ مکہ مسلمانوں کے لیے رعایتوں کا متقاضی تھا۔صلح حدیبیہ سفارتی سرگرمی کا پیش خیمہ تھی جو بعد میں  فتح مکہ کی بنیاد بنی۔(35)
حضور  صلی اللہ علیہ وسلم  کی سیاست خارجہ کا بہت بڑا اصول اپنی دعوت کو وسیع کرنا تھا چنانچہ اس کے لیے آپ نے دو طریقے اختیار فرمائے:
1۔دعوتی خطوط
2۔تبلیغ کی  راہ میں حائل ہونے والوں کا انتظام
جس وقت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم  نے اعلان نبوت فرمایا،اس وقت حجاز میں قبائلی نظام تھا۔جس میں مرکزیت کا تصور بھی نہ تھا۔صرف دو پڑوسی سلطنتیں ایران اور روم تھیں۔رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم  نے اندرون ملک کے استحکام کے بعد بیرون ملک دعوتی خطوط لکھنے شروع کیے۔آپ کا طریق کار یہ تھا کہ اپنا خط ایک سفیر کو دے کر روانہ فرماتے اور مکتوب الیہ کے رد عمل کا انتظار کرتے۔
ان سفراء کے انتخاب میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم  نے اہلیت وشخصیت کے ساتھ زبان د انی اور زبان آوری کابھی خصوصی لحاظ رکھا۔(36) اس کے علاوہ خارجہ سیاست میں آپ نے تالیف قلبی کو بھی ملحوظ نظر رکھا اور زکواۃ کوتالیف قلبی کے لیے استعمال کیا۔یہ رعایت اس لیے تھی کہ اسلام دل میں گھر کرلے گا تو جہاد بھی ہوگا اور زکواۃ کی ادائیگی بھی۔غرض قرآن نے عملی سیاسیات کی جو اہم ودروس تعلیم دی اور حکمران کو جو صوابدید کا حق دیا وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم  میں پوری طرح نظر آتا ہے۔
آپ کی  سیاست کا سب سے عظیم شاہکار فتح مکہ ہے جو آپ کی دس سالہ مدنی سیاست کا وہ عظیم نتیجہ تھا جس کی بنیاد صلح حدیبیہ کوبنایاگیا تھا ۔اس میں بھی تالیف قلبی کا پہلو تھا۔(37)
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم  بطور سیاستدان وحکمران عظیم مقنن اور منتظم ومدبر تھے۔آپ نے آنے والوں کے لیے قابل اتباع نمونہ عمل چھوڑا۔آپ نے قرآن کی بیان کردہ سیاست کو عملی سیاست بنایااور آپ کے قائم کردہ اصول سیاست آج  بھی اس معاشرہ کو اس عروج کی بلندی پر پہنچا سکتے ہیں۔افسوس ہے ان مسلمانوں پر جو ان کو چھوڑ کر مغربی تقلید میں گوشہ عافیت تلاش کررہے ہیں!
حوالہ جات:۔
1۔القرآن الکریم۔4ـالنساء:64
2۔القرآن الحکیم :4(النساء):80۔
3۔القرآن الحکیم۔48(الفتح):10۔
4۔ القرآن الحکیم۔33(الاحزاب):36)
5۔ القرآن الحکیم۔47(محمد):33۔
6۔خالد علوی،حفاظت حدیث ،ص۔50۔
7۔خالد علوی ،انسان کامل ص۔360۔
8۔ابن سعد طبقات الکبریٰ ج1 ص128۔
9۔ابن ہشام سیرۃ النبویہ ج1 ص209۔
10۔محمد حسین ہیکل،حیات محمد صلی اللہ علیہ وسلم  ص281۔
11۔محمد علی کرد ،السلام والحضارۃ العربیۃ۔ص332۔
12۔سیرۃ النبویۃ ج1 ص310۔339۔
13۔طبقات الکبریٰ،ج،ص 203۔207۔
14۔انسان کامل ص366۔
15۔ڈاکٹر حمیداللہ صدیقی،عہد نبوی میں نظام حکمرانی۔ص295۔
16۔طبقات الکبریٰ ج1 ص 239۔
17۔حیات محمد  صلی اللہ علیہ وسلم  ص 481۔
18۔ایضا۔ص 484۔
19۔سیرۃ النبویہ ج2ص 232۔
20۔ایضا۔ص148۔
21۔عہدنبوی میں  نظام حکمرانی ص82۔
22۔طبقات الکبریٰ ج2 ص29۔
23۔ عہدنبوی میں  نظام حکمرانی ص82۔
24۔حیات محمد صلی اللہ علیہ وسلم  ص227۔
25۔نعیم صدیقی،محسن انسانیت ص517۔
26۔عبدالرحمان عزابک تاجدار دو عالمؐ ص 161۔
27۔القرآن الکریم۔22(الحج)۔41۔
28۔مولانا حامد الانصاری۔مسلمانوں کانظام حکومت ۔ص81۔
29۔سیرۃ النبویہ ج4 ص55۔
30۔ایضاً ج2 ص60۔
31۔انسان کامل ص378۔
32۔امام مسلم الجامع الصحیح ج7۔(کتاب الفضائل) ص265۔
33۔عہد نبوی میں نظام حکمرانی ص265۔
34۔ایضا ص۔269۔
35۔ڈاکٹر محمد حمیداللہ صدیقی رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم  کی سیاسی زندگی ص89۔
36۔الاسلام والحضارۃ العربیہ ص100۔
37۔عہد نبوی میں نظام حکمرانی ص261۔