ڈاونلوڈ

آن لائن مطالعہ

آن لائن مطالعہ
  • دسمبر
1999
صفی الرحمن مبارک پوری
 "يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا كُتِبَ عَلَيْكُمُ الصِّيَامُ كَمَا كُتِبَ عَلَى الَّذِينَ مِن قَبْلِكُمْ لَعَلَّكُمْ تَتَّقُونَ "
(اے ایمان والو!تم پر روزہ فرض کیا گیا ہے جس طرح تم سے پہلے لوگوں پر فرض کیا گیا تھا تاکہ تم تقویٰ شعار بن جاؤ)
اللہ تعالیٰ نے انسان میں خیر و شر دونوں کی صلاحیت رکھی ہے اور ہر شخص اپنے اپنے دائرہ اختیار میں اپنے انداز فکر کے مطابق دونوں میں سے کوئی ایک راستہ اختیار کرتا ہے بلکہ مشاہدے اور تجربے کی روشنی میں کہا جا سکتا ہے کہ اکثر لوگوں میں خیر و شر دونوں جمع ہوتے ہیں جو شخص خیر کی راہ اپنا تا ہے اس سے بھی فطری تقاضوں اور بشری کمزوریوں کی بنا پر بہت سی غلطیاں اور لغزشیں سر زد ہو جاتی ہیں اور جو شخص برائی کی راہ اختیار کرتا ہے تو وہ بھی بہت سے مواقع پر اچھے کام کر ڈالتا ہے۔
  • دسمبر
1999
اکرام اللہ ساجد
پاکستان میں عیسائیوں کو مذہبی آزادی اور ہر قسم کا جانی و مالی تحفظ حاصل ہے لیکن اس کا یہ مطلب ہر گز نہیں کہ وہ دین اسلام کی اہانت کے مرتکب بھی ہوں اور مسلمانوں کو ان کے عقائد سے برگشتہ کرنے کی کوشش کریں ۔اب تک ان کی طرف سے توہین رسالت کے متعدد واقعات رونما ہوچکے ہیں اور کسی بھی حکومت کو نہ صرف ان کا خاطر خواہ نوٹس لینے کی توفیق میسر نہیں ہو ئی بلکہ ان کے رد عمل میں مسلم عوام کی طرف سے اگر اضطراب کی کوئی لہر اٹھی تو اسے بھی دبا دیا گیا اور مجرموں کو اس حد تک تحفظ فراہم کیا گیا کہ وہ صاف بچ نکلے اور ان کا بال تک بیکا نہ ہو ا۔یہی وجہ ہے کہ ان کی ہمتیں جوان ہو گئی ہیں ۔اور ان کی طرف سے نت نئی شرارتیں سامنے آرہی ہیں۔ اس کا ایک تازہ ثبوت لاہور کے ایک پادری غلام مسیح کا سوالنامہ ہے جو فوٹو سٹیٹ ہو کر ملک کے طول و عرض میں پھیلایا گیا ہے جس میں اس نے حضرات انبیائے کرام  علیہ السلام   کی شان میں شرمناک گستاخیاں کی ہیں حکمرانوں کا یہ فرض ہے کہ وہ عیسائیوں کی ان حرکات بد کا سختی سے نوٹس  لیں۔ورنہ اگر وہ دین اسلام کی حمایت سے اسی طرح دست کش رہے تو اس کے نتیجہ میں وہ خود بھی رب کی حمایت سے محروم ہو جائیں گے، کیونکہ اللہ کی مدد انہی کے شامل حال ہو تی ہے جو اللہ کے دین کی مدد کریں۔
  • دسمبر
1999
صلاح الدین یوسف
ہم رمضان المبارک کا استقبال کیسے کریں؟
اللہ تعالیٰ نے اس ماہ مبارک کو بہت سے خصائص وفضائل کی وجہ سے دوسرے مہینوں کے مقابلے میں ایک ممتاز مقام عطا کیاہے جیسے:
ا س ماہ مبارک میں قرآن مجید کا نزول ہوا:
شَهْرُ رَمَضَانَ الَّذِي أُنْزِلَ فِيهِ الْقُرْآنُ (البقرہ:2/185)
اس کے عشرہ اخیر کی طاق راتوں میں ایک قدر کی رات(شب قدر) ہوتی ہے جس میں اللہ کی عبادت ہزار مہینوں کی عبادت سے بہتر ہے:
لَيْلَةُ الْقَدْرِ خَيْرٌ مِنْ أَلْفِ شَهْرٍ (القدر 97/3)
"شب قدر ہزار مہینوں سے بہتر ہے"
ہزار مہینے 83 سال اور 4 مہینے  بنتے ہیں۔عام طور پر ایک انسان کو اتنی عمر بھی نہیں ملتی۔یہ امت مسلمہ پر اللہ کا کتنا بڑا احسان ہے کہ اس نے اسے اتنی فضیلت والی رات عطا کی۔
رمضان کی ہر رات کو اللہ تعالیٰ اپنےبندوں کو جہنم سے آزادی عطا فرماتے ہیں۔
اس میں جنت کے دروازے کھول دیے جاتے ہیں اور جہنم کےدروازے بند کردیئے جاتے ہیں۔
سرکش شیاطین کو جکڑ دیاجاتا ہے۔
  • دسمبر
1999
غازی عزیر
اعتکاف رمضان المبارک کا ایک اہم عمل ہے۔جس کے مسائل اکثر لوگ پوچھتے رہتے ہیں بعض مساجد کی انتظامیہ معتکف حضرات کی سرگرمیوں سے شاکی بھی ہوتی ہے۔ذیل میں مسجد کے انتظام وانصرام سے وابستہ ایک صاحب نے تفصیلی طور پر چند چیزوں کے بارے میں علماء سے استفسار کیا ہے کہ ان امور کی قرآن وسنت کی روشنی میں شرعی حیثیت کی وضاحت کی جائے۔ان استفسارات میں سے راقم کی نگاہ میں اہم نکات صرف یہ ہیں:
1۔کیا مسجد میں چھوٹے بڑے حتیٰ کہ غیر روزہ دار بچوں کا  جمع کرنا جائز ہے؟
2۔کیامعتکف(اعتکاف کرنے والے) کے لیے ان بچوں کے ساتھ مشغول ہونا درست ہے؟
3۔کیا تمام اہل خاندانکا کسی تقریب کے مثل مسجد میں جمع ہوکر کھانا پینا درست ہے؟
4۔بچوں کا مسجد میں شوروغوغا کرنا اور اپنی چیخ پکار سے نمازیوں اور اعتکاف کرنے والوں کو اذیت دینا کیسا ہے؟
5۔معتکفین کا اپنے اہل خانہ کے ساتھ دیر تک گفتگو بلکہ گپ شپ  میں مصروف رہنا کیا ہے؟
6۔ایسے بچوں کا مسجد میں لانا جو وہاں  پیشاب کردیتے ہوں ،کیسا ہے؟
7۔معتکف کے لیے بچوں کو ابتدائی اردو یا قرآن وغیرہ کادرس دینا کیسا ہے؟
8۔بچوں کے ساتھ پیارومحبت کرنا کیسا ہے؟
9۔معتکف کے لیے معلمی،خیاطی یا جلد سازی کرنے کا کیا حکم ہے؟
  • دسمبر
1999
طاہرہ بشارت
(((نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم  کی اصل حیثیت تو اللہ کے رسول  صلی اللہ علیہ وسلم  ہونے کی ہے۔اور آپ کے طرز عمل میں سب سے گہرارنگ وحی کی صورت میں اللہ سے رہنمائی لینے اور اس کو عمل میں لانے کا ہے۔اس اعتبار سے جب ہم مسلمان نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم  کے مختلف کرداروں کا جائزہ لیتے ہیں تواسی بنیادی حقیقت پر ایمان رکھنے کی وجہ سے ہر معاملے کو اللہ کی طرف سے ہدایت کے سپرد کرکے مطمئن ہوجاتے ہیں۔اور ان زمینی حقائق کی جستجو میں نہیں پڑتے جو اللہ تعالیٰ نے اپنی سنت کے طور پر تمام امور دنیا میں جاری کررکھی ہے۔کہ وہ ہرکام کی تکمیل عموماً واقعاتی بنیادوں اور وسیلوں کے ذریعے ہی کرتاہے۔
ایمان واعتقاد کے لیےتو اسی رویہ کی ضرورت ہے لیکن اگر حیات مبارکہ سے اس دور کے واقعات کی درست انجام دہی کے واقعاتی حقائق بھی تلاش کرلیے جائیں تو اس طرح آپ کے طرز عمل کی تشریح مزید آسان اور اس کی افادیت دو چند ہوجاتی ہے۔ہمارا اعتقاد ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم  کا اسوہ مبارکہ آپ کی ہر حیثیت(قاضی،حاکم،سپہ سالار وغیرہ) میں مسلمانوں کے لیے راہ ہدایت اور ذریعہ نجات ہے۔زیر نظر مضمون میں بھی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم  کی ایک حیثیت کا مختصر مطالعہ پیش کا کیا گیا ہے۔(حسن مدنی)))
  • دسمبر
1999
شفیق کوکب
فکرو نظر:۔
ارشاد الحق اثری مولانا ۔دینی تعلیم و تحقیق اور عصری تقاضےدسمبر98،2تا6۔
صلاح الدین یوسف حافظ ۔المیہ کارگل کااسلامی حل!اگست 99،2تا8۔
صلاح الدین یوسف حافظ۔افغانستان سوڈان پر امریکی جارحیت طالبان کوگزارشات،ستمبر98۔2تا5۔
صلاح الدین یوسف حافظ۔تحریک نفاذ  شریعت محمدی مالاکنڈڈویژن،فروری 99۔2تا7۔
صلاح الدین یوسف حافظ ۔دینی مدارس مقاصد اور پس منظر خدمات مئی 95۔2تا9۔
صلاح الدین یوسف حافظ۔عالم اسلم کو درپیش سنگین مسائل ،جنوری99۔2تا3۔
صلاح الدین یوسف حافظ۔مدارس دینیہ غلط فہمیوں اور شبہات کا ازالہ ،جولائی95۔2تا10۔
صفی الرحمٰن مباکپوری مولانا۔ر مضان کا مقصد۔۔۔اللہ کا تقویٰ ۔دسمبر99۔2تا3۔
ظفر علی راجا ڈاکٹر۔ذاتی معاملہ اور قانون ۔جولائی96۔2تا5۔
محمود الرحمٰن فیصل ڈاکٹر ۔چیچنیا ۔۔۔جہاد آزادی ۔جنوری95 2تا9۔
محمود الرحمٰن فیصل ڈاکٹر ۔مالاکنڈ میں نفاذ شریعت کی حقیقت ۔مارچ 95۔2تا12۔