نام و نسب
مالک نام، کنیت ابو عبداللہ، امام دارالهجرة لقب اور باپ کا نام انس تھا۔ سلسلہ نسب یہ ہے: مالک بن انس بن مالک بن ابی عامر بن عمرو بن الحارث بن غیلان بن حشد بن عمرو بن الحارث (1)
بلاشک آپ رحمۃ اللہ علیہ دارِ ہجرت (مدینہ منورہ) کے امام، شیخ الاسلام اور کبار ائمہ میں سے ہیں۔ آپ حجاز مقدس میں حدیث اور فقہ کے امام مانے جاتے تھے۔ امام شافعی رحمۃ اللہ علیہ نے ان سے علم حاصل کیا اور امام ابوحنیفہ رحمۃ اللہ علیہ بھی آپ کی مجالس علمی میں شریک ہوتے رہے۔
پیدائش و وفات
آپ 93ھ میں پیدا ہوئے۔ آپ کی تاریخ پیدائش میں مؤرخین نے اختلاف کیا ہے لیکن امام ابو زہرہ کی تحقیق کے مطابق زیادہ صحیح تاریخ پیدائش 93ھ ہے۔ آپ رحمۃ اللہ علیہ کا مقام پیدائش مدینۃ النبی ہی ہے۔ (2)
آپ رحمۃ اللہ علیہ 179ھ میں مدینہ منورہ میں ہی فوت ہوئے، چھیاسی سال کی عمر پائی۔ 117ھ میں مسند درس پر قدم رکھا اور باسٹھ برس تک علم و دین کی خدمت انجام دی۔ امام رحمۃ اللہ علیہ کا جسدِ مبارک جنتُ البقیع میں مدفون ہے۔ (3)
امام مالک رحمۃ اللہ علیہ کا مقام
آپ رحمۃ اللہ علیہ امامُ المحدثین بھی ہیں اور رئیس الفقہاء بھی (4) ۔۔۔ امام شافعی رحمۃ اللہ علیہ فرمایا کرتے تھے:
إِذَا جَاءَ الأَثَرُ ،فَمَالِكٌ النَّجْمُ  (5) "جب کوئی حدیث امام مالک رحمۃ اللہ علیہ کی روایت سے پہنچے، اسے مضبوطی سے پکڑو کیونکہ وہ علم حدیث کے درخشاں ستارےہیں۔"
عبدالرحمٰن بن مہدی رحمۃ اللہ علیہ کا قول ہے:
"روئے زمین پر امام مالک سے بڑھ کر حدیثِ نبوی صلی اللہ علیہ وسلم کا کوئی امانت دار نہیں" (6)
امام نسائی رحمۃ اللہ علیہ نے فرمایا: " ما عندى بعد التابعين انبل من مالك، ولا اجل منه، ولا اوثق ولا آمن على الحديث منه " (7)
میرے نزدیک تابعین کے بعد امام مالک سے زیادہ دانشور اور حدیث کے معاملے میں زیادہ ثقہ اور امانتدار کوئی نہیں ہے"
امام جلال الدین سیوطی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے تھے: " جماع الامة على امانته وورعه وفقهه وانه الثبت فى دين الله (8) ۔۔۔ "امت کا آپ کی امانت، للہیت اور فقاہت پر اجماع ہے اور امام مالک اللہ کے دین میں حجت ہیں"
امام شافعی رحمۃ اللہ علیہ کا ارشاد ہے: "امام مالک رحمۃ اللہ علیہ کو جب حدیث کے کسی ٹکڑے میں شک پڑ جاتا تھا تو پوری کی پوری حدیث رد کر دیتے تھے" (9) امام شافعی رحمۃ اللہ علیہ کا یہ بھی قول ہے: " مالك حجة الله تعالىٰ على خلقه بعد التابعين " (10) یعنی تابعین کے بعد امام مالک رحمۃ اللہ علیہ بندوں کے لیے اللہ کی سب سے بڑی حجت ہیں۔ امام شافعی رحمۃ اللہ علیہ کا یہ بھی فرمان ہے: " من أراد الحديث فهو عيال على مالك " (11) امام مالک رحمۃ اللہ علیہ فرمایا کرتے تھے: "مَا أَفْتَيْتُ حَتَّى شَهِدَ لِي سَبْعُونَ أَنِّي أَهْلٌ لِذَلِكَ " (12) یعنی "میں نے فتویٰ دینا شروع نہیں کیا۔ یہاں تک کہ مدینہ کے ستر فقہا نے اس کی شہادت دی کہ میں فتویٰ دے سکتا ہوں۔"
امام ذہبی رحمۃ اللہ علیہ کا بیان ہے کہ "پانچ باتیں جس طرح امام مالک رحمۃ اللہ علیہ کے حق میں جمع ہو گئی ہیں، میرے علم میں کسی اور شخص میں جمع نہیں ہوئیں: (1) اس قدر دراز عمر اور ایسی عالی سند (2) آپ کے حجت اور صحیح الروایہ ہونے پر ائمہ کا اتفاق (3) ایسا عمدہ فہم اور اتنا وسیع علم (4) آپ کی عدالت، اتباعِ سنت اور دین داری پر محدثین کا اتفاق (5) فقہ و فتاویٰ میں آپ کی مسلمہ مہارت" (13)
اساتذہ
امام مالک رحمۃ اللہ علیہ کے اساتذہ بہت زیادہ ہیں، ان میں زیادہ معروف نافع مولیٰ ابن عمر، زھری، ابوالزناد، عبدالرحمٰن بن قاسم، ایوب سختیانی اور ثور بن زید وغیرہ ہیں۔ آپ نے صرف موطا میں جن شیوخ سے روایت کی ہے، ان کی تعدادپچانوے ہیں۔ یہ سب اساتذہ مدنی ہیں۔ موطا کے علاوہ باقی اساتذہ کی تعدادنو صد (900) ہے۔ (14)
تلامذہ
امام مالک رحمۃ اللہ علیہ سے روایت کرنے والوں کی تعداد بھی بہت زیادہ ہے۔ حافظ ابن کثیر کے مطابق حدث عنه خلق من الائمة (15) "ائمہ میں سے ایک جم غفیر نے آپ سے شرفِ تلمذ کیا" حافظ ذہبی کے مطابق " حدث عنه امم لا يكادون يحصون " (16) یعنی امام صاحب سے اتنے لوگوں نے روایت کی ہے جن کا شمار تقریبا ناممکن ہے۔ ان سے روایت کرنے والوں کی تعداد تیرہ سو سے زائد بتائی گئی ہے۔ (17) امام محمد رحمۃ اللہ علیہ، امام شافعی رحمۃ اللہ علیہ اور امام ابو یوسف رحمۃ اللہ علیہ بھی ان کے تلامذہ میں شامل ہیں۔ (18)
اخلاق و عادات
امام مالک رحمۃ اللہ علیہ آں حضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا بے حد ادب کرتے تھے۔ جب نامِ مبارک زبان پر آتا، چہرہ کا رنگ متغیر ہو جاتا (19) ابو نعیم رحمۃ اللہ علیہ نے حلية الاولياه میں خود امام مالک سے روایت کی ہے کہ ہارون الرشید نے چاہا کہ موطا کو خانہ کعبہ میں آویزاں کیا جائے اور تمام مسلمانوں کو فقہی احکام میں اس کی پیروی پر مجبور کیا جائے۔ لیکن امام صاحب رحمۃ اللہ علیہ نے جواب دیا:
" لا تفعل فإن أصحاب رسول اللّه صلى اللّه عليه وسلم اختلفوا في الفروع ، وتفرقوا في البلدان ، وكل مصيب فقال : وفقك اللّه يا أبا عبد اللّه "
"ایسا نہ کریں! ۔۔۔ خود صحابہ رضی اللہ عنہم فروع میں اختلاف کرتے تھے اور وہ ممالک میں پھیل چکے ہیں (20) اور ان میں سے ہر شخص حق پر ہے (یا درست راہ پر ہے) تو ہارون رشید نے کہا کہ: اللہ تعالیٰ آپ کو توفیق عطا فرمائے، اے ابو عبداللہ!"
امام مالک رحمۃ اللہ علیہ کی بے تعصبی و بے نفسی، بلکہ عالی ظرفی اور رواداری سے ہمیں بھی سبق سیکھنا چاہئے۔
مقامِ عزیمت و استقامت
امام مالک ان اربابِ صدق و صفا میں سے تھے جنہیں کوئی طاقت حق گوئی سے نہیں روک سکتی تھی۔ منصور عباسی کے زمانے میں امام مالک رحمۃ اللہ علیہ نے فتویٰ دیا کہ جبری طلاق (طلاقِ مکرہ) یعنی ليس على مستكرة طلاق واقع نہیں ہوتی۔ گورنرِ مدینہ کو اندیشہ دامن گیر ہوا کہ اس فتویٰ کی زد، ابو جعفر منصور کی بیعت پر پڑے گی، جس نے جبرا اپنی رعیت سے بیعت لی تھی۔ اس نے امام ممدوح کو دارُالامارات میں طلب کیا اور آپ کی رفعت شان کو بالائے طاق رکھتے ہوئے ستر کوڑے لگوائے، مشکیں اس زور سے کس دی گئیں کہ ہاتھ بازو سے جدا ہو گیا، لیکن اس تکلیف و کرب کے عالم میں آپ اونٹ کی پیٹھ پر کھڑے ہو گئے (جس پر آپ کو تذلیل و تشہیر کے لیے سوار کرایا گیا تھا) اور بلند آواز سے پکارتے بھی جاتے تھے کہ
"جو مجھ کو جانتا ہے، وہ جانتا ہے، جو نہیں جانتا وہ جان لے کہ مالک بن انس ہوں، فتویٰ دیتا ہوں کہ طلاقِ جبری (مکرہ) درست نہیں"
اس واقعہ سے ان کی عزت و عظمت گھٹنے کی بجائے بڑھ گئی۔ تازیانوں کی ضربات سے شان کا رعب، داب اور جلال و جمال دو چند ہو گیا۔ امام ممدوح نے بعد میں گورنر کے معافی طلب کرنے پر فراخ دلی سے کام لیتے ہوئے معاف کر دیا۔ (21)
طریق فتویٰ و اجتہاد
1۔ امام مالک رحمۃ اللہ علیہ اپنے اجتہاد میں قرآن کریم کے بعد احادیثِ نبوی پر اعتماد کرتے تھے جس حدیث کی سند کو صحیح سمجھتے، اسی سے مسائل کا استنباط کرتے۔
2۔ امام مالک رحمۃ اللہ علیہ اہل مدینہ کے تعامل کو یعنی جس حدیث پر فقہائے مدینہ کا عمل اور اتفاق ہو خصوصی اہمیت کا حامل سمجھتے ہیں۔
3۔ پھر اقوالِ صحابہ کی طرف رجوع بھی کرتے ہیں
4۔ نص کی عدم موجودگی میں قیاس سے کام لیتے۔ کبھی کبھار مصالح مرسلہ (مصلحتِ عامہ) کے اصول کے ذریعے اجتہاد کرتے، جن کا مقصد معاشرتی مفاسد کو دور کر کے شرعی مقاصد کی حفاظت کرنا ہے۔ (22)
موطا اور اس نام کی نسبت
اس کا زمانہ تصنیف خلیفہ منصور کے زمانہ 136ھ سے شروع ہوتا ہے اور خلیفہ مہدی کے زمانے 158ھ میں کتاب کی شکل میں متداول ہوا۔
موطا کی تصنیف کا تعلق اس زمانے کے مسلمانوں کی اجتماعی اور سیاسی زندگی سے ہے، وسیع اسلامی سلطنت کے اطراف و اکناف میں قاضی اور مفتی جو شرعی احکام نافذ کرتے، ان میں اختلاف پایا جاتا تھا اور اس زمانے کے اہل سیاست یہ سمجھتے تھے کہ فیصلوں میں استحکام نہیں، اس بنا پر وہ چاہتے تھے کہ خلیفہ ایک جامع الاحکام کتاب مقرر کر دے جس کے مطابق سارے مقدمات کے فیصلے کیے جائیں اور اس کے خلاف فیصلہ کرنے کا امتناعی حکم جاری کر دے۔ (23)
موطا کے بارے میں امام مالک رحمۃ اللہ علیہ خود فرماتے ہیں:
"میری کتاب میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی حدیث ہے، صحابہ رضی اللہ عنہم کے اقوال ہیں پھر تابعین کے، اور رائے یعنی اجماع اہل مدینہ ہے، میں اِن سے باہر نہیں نکلا" (24)
امام مالک رحمۃ اللہ علیہ نے موطا کو فقہی ابواب پر مرتب فرمایا ہے۔ انہوں نے صرف احادیثِ مرفوعہ پر اکتفا نہیں کیا بلکہ اس میں اقوالِ صحابہ اور فتاویٰ تابعین کو بھی جمع کر دیا۔
اسلوبِ موطا
امام مالک رحمۃ اللہ علیہ اس کے اندر باب کا موضوع بیان کرتے ہیں، اس کے مطابق حدیث درج کرتے ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ اقوالِ صحابہ، تابعین اور اکثر مواقع پر عمل اہل مدینہ کا بھی ذکر کرتے ہیں۔ بعض دفعہ ذاتی طور پر فقہی آراء پر روشنی ڈالتے ہیں۔ مثلا آپ کا یہ فتویٰ:
"امام مالک سے پوچھا گیا اگر حائضہ عورت کو طہر کے وقت پانی میسر نہ ہو تو کیا وہ تیمم کرے؟ آپ رحمۃ اللہ علیہ نے فرمایا: ہاں اس کی مثال جنبی کی طرح ہے، اگر پانی میسر نہ ہو" (25)
موطا کے لغوی معنی "روندا ہوا"، "تیار کیا ہوا" اور "نرم اور سہل بنایا ہوا" ہے۔
شاہ ولی اللہ رحمۃ اللہ علیہ کے مطابق "موطا کے معنی روندے ہوئے، چلے ہوئے کے ہیں جس طرف عام ائمہ، علماء اور اکابر چلے ہوں اور سب نے اس کے متعلق گفتگو کی ہو اور اتفاق بھی کیا ہو" (26)
مدینہ منورہ میں نقدِ حدیث اور علم رجال میں امام مالک رحمۃ اللہ علیہ کو حجت و سند تسلیم کیا گیا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ دس ہزار احادیث کے ذخیرے میں سے انہوں نے اپنی کتاب "موطا" کی حدیثیں منتخب کیں۔ اور پھر ہر سال نقدوجرح کی کسوٹی پر پرکھتے رہے اور بالآخر موجودہ انتخابِ موطا پر نظر ٹھہری۔
امام مالک نے فرمایا کہ چار قسم کے آدمیوں کی روایت قبول نہ کرو:
"(ا) ایسے احمق سے جس کی حماقت واضح ہو (ب) جھوٹے شخص کی روایت (ج) ہوا و ہوس کا بندہ (د) ایسے عبادت گزار بوڑھے انسان کی روایت جس کو معلوم نہ ہو کہ وہ کیا بیان کر رہا ہے۔" (27)
لہذا امام مالک رحمۃ اللہ علیہ صرف اسی بات پر اکتفا نہ کرتے تھے کہ راوی عادل ہے، یاد رکھنے والا ہے بلکہ یہ بھی ضروری ہے کہ راوی جو کچھ بیان کرتا ہے، اس کا وزن اور اس کی حیثیت سے بھی باخبر ہو جس سے وہ بیان کرتا ہے۔ اسی طرح امام مالک رحمۃ اللہ علیہ نے بہت سے متقی پرہیز گار لوگوں سے روایت نہیں کی، اس لیے کہ وہ ضابط نہیں تھے۔ امام مالک رحمۃ اللہ علیہ سے پوچھا گیا کہ آپ اہل عراق سے حدیث کیوں نہیں لیتے؟
کہا: "اس لیے (28) کہ جب وہ ہمارے شہر آتے ہیں تو میں انہیں دیکھتا ہوں کہ وہ غیر ثقہ سے بھی حدیث لے لیتے ہیں، تو میں نے سوچا یہی حال ان کا اپنے شہر میں ہو گا۔" (29)
امام مالک بہ حیثیتِ فقہ
یہ ظاہر ہے کہ امام مالک رحمۃ اللہ علیہ کے زمانے میں بلکہ دوسری صدی ہجری کے تین چوتھائی حصے تک فقہ کےوہ اصطلاحی معنی نہیں قرار پائے تھے جو آج مشہور و معروف ہیں بلکہ عملی امور اور احوال میں وہی لوگ فتویٰ دیتے تھے جو ان روایات کے حامل تھے اور جس کا نام انہوں نے علم رکھا تھا اور جن کی وجہ سے وہ لوگوں کو فقہ کا شوق دلاتے تھے، یعنیی "وہ روایات جو امام مالک رحمۃ اللہ علیہ نے پورے جوش سے فراہم کی تھیں اور جن کو اپنی کتاب موطا میں مدون کر دیا تھا۔"
اسی طرح لفظ "رائے" اس زمانے تک حجاز میں ان اصطلاحی معنوں میں مستعمل نہ تھا جو آج کل لیے جاتے ہیں، بلکہ رائے کے معنی تھے "سمجھنا اور خوبی کے ساتھ پالینا" نہ کہ قیاس اور استنباط اور فقہی احکام کے استخراج میں عقل کو کام میں لانے کی قوت کا نام۔ امام مالک رحمۃ اللہ علیہ نے خود تصریح کی ہے کہ رائے سے مراد "میری رائے" نہیں بلکہ ان کے ہاں رائے سے مراد ائمہ سلف کی ایک جماعت کی رائے ہے۔
امام مالک رحمۃ اللہ علیہ کا قول ہے کہ میں الامر المجتمع کہتا ہوں تو اس سے مراد وہ قول ہے جس پر اہل علم و فقہ کا بغیر کسی اختلاف کے اجماع ہو اور جب میں الامر عندنا کہتا ہوں تو اس سے مراد وہ بات ہے جس پر ہمارے ہاں کے لوگوں کا عمل ہو اور جس کے مطابق احکام جاری ہوں اور جن کو عالم و جاہل سب جانتے ہوں۔ جس چیز کے بارے میں ببلدنا کہتا ہوں تو اس سے مراد وہ شے ہے جس کو میں اقوالِ علماء میں سے پسند کرتا ہوں نیز ان کا قول ہے کہ " میں اپنے اجتہاد میں اہل مدینہ کے مذہب اور ان کی رائے (اجماع) سے باہر قدم نہیں رکھتا۔" (30)
روایاتِ موطا (موطا کے نسخے)
ابولقاسم بن محمد شافعی رحمۃ اللہ علیہ کا کہنا ہے کہ موطا کے متعدد نسخے ہیں جن میں گیارہ زیادہ معروف ہیں اور چار ایسے ہیں جو مقبولیت اور شہرت کے بامِ عروج پر پہنچے:
موطا یحییٰ بن یحییٰ مصمودی، موطا ابن بکیر، موطا ابی مصعب اور موطا ابن وہب اور جب مطلق موطا کا نام لیا جائے تو اس سے مراد یحییٰ بن یحییٰ مصمودی کی روایت  ہی ہوتی ہے۔ (31)
موطا میں روایات کی تعداد:
مجموعی احادیث و آثار                                1720
مسند (مرفوع) احادیث                             600
مرسل                                                     222
اقوال صحابہ (موقوف)                             613
اقوالِ تابعین (مقطوع)                             285 (32)
موطا کی اہمیت اور مقبولیت
جمہور علماء نے طبقاتِ کتب حدیث کے اندر طبقہ اولیٰ میں موطاِ مالک کو شمار کیا ہے۔ حضرت شاہ ولی اللہ رحمۃ اللہ علیہ اور شاہ عبدالعزیز رحمۃ اللہ علیہ نے کتبِ حدیث کے پانچ طبقات قائم کیے ہیں جن میں موطا کو طبقہ اول میں رکھا گیا ہے بلکہ شاہ ولی اللہ رحمۃ اللہ علیہ موطا کو تمام کتبِ احادیث پر مقدم اور افضل سمجھتے ہیں۔ (33)
موطا کے بارے میں علماء و محدثین کی آراء
حافظ ابو زرعہ رازی رحمۃ اللہ علیہ جو صحیحین (بخاری و مسلم) دونوں ہی سے بخوبی واقف ہیں، ان کو موطا کی صحت کا اس درجہ یقین ہے کہ فرماتے ہیں:
لو حلف رجل بالطلاق على حديث مالك فى الموطا انها صحاح لم يحنث
"اگر کوئی شخص اس پر طلاق کا حلف اٹھا لے کہ موطا میں امام مالک رحمۃ اللہ علیہ نے جو حدیثیں بیان کی ہیں، صحیح ہیں تو وہ حانث (قسم توڑنے والا) نہ ہو گا۔ (34)
امام شافعی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں:
" ما على ظهر الارض كتاب بعد كتاب الله اصح من كتاب مالك " (35)
"روئے زمین پر کتاب اللہ کے بعد مالک رحمۃ اللہ علیہ کی کتاب سے بڑھ کے کوئی کتاب صحیح نہیں"
اگرچہ بعض علماء کہتے ہیں: انما قال ذلك قبل وجود كتاب البخارى و مسلم (36)
"امام شافعی رحمۃ اللہ علیہ کا یہ قول بخاری رحمۃ اللہ علیہ و مسلم رحمۃ اللہ علیہ کی کتابوں کے عالم وجود میں آنے سے پہلے کا ہے۔"
حافظ ذہبی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں: ان للموطا لوقعا فى النفوس و مهابة فى القلوب لا يوازيها شيىء (37) بلاشبہ موطا کی لوگوں میں جو وقعت اور دلوں میں جو ہیبت ہے اس کا کوئی چیز مقابلہ نہیں کر سکتی۔
حافظ ابوجعفر بن زبیر غرناطی رحمۃ اللہ علیہ نے بھی موطا کی شان میں اظہارِ خیال کیا ہے (38)
قاضی ابوبکر القبس میں لکھتے ہیں: هذا اول كتاب الف فى شرائع الاسلام (39)
"شرائع اسلام کے بارے میں یہ پہلی کتاب تھی جو تالیف ہوئی"
حضرت سفیان کا قول ہے: اول من صنف الصحيح مالك والفضل للمتقدم (40)
"سب سے پہلے صحیح احادیث امام مالک نے جمع کی ہیں اور فضیلت پہلے کو ہی ہے"
شاہ عبدالعزیز دہلوی رحمۃ اللہ علیہ کا خیال ہے کہ
"موطا صحیحین کے لیے بمنزلہ ماں کے ہے کیونکہ امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ و مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اسی سے طریق روایت، تمیز رجال اور استنباط کا علم سیکھا۔ حقیقت یہ ہے کہ موطا کو صرف حدیث و فقہ کے زر و جواہر پر مشتمل ایک گنجینہ سمجھنا (41) غلط ہے۔ یہ ہماری تہذیب و ثقافت کی اولین، مستند ترین اور مکمل ترین دستاویز ہے جو ہم تک پہنچی ہے۔ اس میں جہاں احادیث کو جمع کیا گیا ہے وہاں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ عہدِ صحابہ میں زندگی کا چلن کیسا تھا اور اسلام کے مرکز ثانی (مدینہ منورہ) میں جو مرکزِ انوارِ نبوت اور مبدا وحی بھی ہے، اسلام کو کس رنگ میں پیش کیا گیا، کس طرح سمجھا گیا اور اس کے احکام و مسائل کی کیا وہ فقہی شکل تھی جو صحابہ نے اپنائی۔ یعنی یہ دستاویز اس تاریخی اہمیت کی حامل ہے کہ اس کا تعلق عہدِ نبوی سے بہت قریب کا ہے۔ اس میں چالیس چالیس روایات ایسی ہیں جن میں امام صاحب اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے درمیان صرف دو روایوں کا واسطہ ہے۔ اب روایات کو اصطلاحِ محدثین میں ثنايات سے تعبیر کیا جاتا ہے۔" (42)
قاضی عیاض رحمۃ اللہ علیہ نے نظم کے اندر موطا کو احادیث اور صحت کے اعتبار سے اصح اور استدلال و استنباط کے لحاظ سے اثبت بھی کہا ہے:
إذا ذكرت كتب العلوم فحيهل
بكتب الموطأ من تصانيف مالك
أصح أحاديثا وأثبت حجة
وأوضحها في الفقه نهجا لسالك
عليه مضى الإجماع من كل أمة
على رغم خيشوم الحسود المماحك
فعنه فخذ علم الديانة خالصا
ومنه استفد شرع النبي المبارك
وشد به كف الصيانة تهتدي
فمن حاد عنه هالك في الهوالك  (43)

جب آپ علوم اسلامیہ کی طرف توجہ کریں تو سب سے پہلے امام مالک کی موطا کو لیں، جس کی احادیث سب سے صحیح اور قاطع دلائل ہیں، اور واضح فقہی مسائل کا منبع ہیں، ہر تند خو حاسد کی ناک خاک آلود ہونے کے باوجود ہر زمانہ میں اس کی صحت و حجت پر اجماع رہا ہے ۔۔۔
اس سے دین کا علم سیکھو اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی لائی ہوئی شریعت کے لئے اسی سے فائدہ اٹھاؤ، اور اسے محفوظ کرنے کے لیے مضبوطی سے تھام لیں تو ہدایت پا جاؤ گے، اور جس نے اس سے علیحدگی اختیار کی تو وہ ہلاکت گاہوں میں ہلاکت ہو جائے گا"
موطا پر بہت لوگوں نے کام کیا ہے، یہاں چند شروح اور اختصارات کے نام درج کیے جاتے ہیں:
1۔ مشارق الانوار از قاضی عیاض: یہ موطا اور صحیحین کی شرح ہے۔
2۔ کشف الغطاء عن الموطا از جلال الدین سیوطی: بڑی مفصل اور جامع شرح ہے۔
3۔ تنویر الحوالک از علامہ سیوطی 911ھ: کشف الغطاء کا خلاصہ ہے۔
4۔ القبس از ابن العربی: ابن حزم رحمۃ اللہ علیہ کہتے ہیں کہ میں نے ایسی اعلیٰ کتاب نہیں دیکھی۔
5۔ اوجز المسالک از محمد زکریا: 6 جلدوں میں چھپی ہے، حنفی مسلک کی ترجمان ہے۔
6۔ المنتقى از ابوالولید الباجی 474ھ: ابن عبدالبر کی شرح التمهيد کا اختصار ہے۔
7۔ كتاب التمهيد از ابن عبدالبر مالکی 463ھ: بہت ہی جامع اور مکمل شرح ہے۔
8۔ شرح زرقانی از محمد زرقانی مالکی: یہ نفیس شرح ہے، اکثر حصہ فتح الباری سے ماخوذ ہے۔
9۔ المصفى از شاہ ولی اللہ دہلوی رحمۃ اللہ علیہ 1176ھ: فارسی ترجمہ اور تعلیقات ہیں۔
10۔ المسوىٰ از شاہ ولی اللہ دہلوی رحمۃ اللہ علیہ: اپنے مرتبہ نسخے پر عربی تعلیقات ہیں۔
11۔ التعليق الممجد علیٰ موطا امام محمد از مولانا عبدالحی لکھنوی: موطا کی شرح ہے۔
12۔ اضاءة الحالك من الفاظ موطا مالک از محمد حبیب اللہ شنقیطی:
13۔ دليل السالك الیٰ موطا امام مالک از محمد حبیب اللہ شنقیطی:
یہ دونوں کتابیں 1354ھ میں اکٹھی شائع ہو چکی ہیں، ان میں بہت مفید معلومات ہیں۔
موطا کے دیگر نسخوں کی تفصیلی معلومات کے لیے ملاحظہ ہو: مقدمہ اوجز المسالک اور التعليق الممجد اور شاہ عبدالعزیز کی کتاب بستانُ المحدثين
اب ہم موطا سے بعض مثالیں پیش کرتے ہیں:
(ا)مرتد کو (حد کے طور پر) قتل کرنے سے پہلے توبہ طلب کرنے کے سلسلہ میں جو کچھ آیا، اس میں امام مالک رحمۃ اللہ علیہ کے احادیث سے نتیجہ نکالنے کے سلسلے میں آپ نے فرمایا کہ حدیث ہے: مَنْ غَيَّرَ دِينَهُ فَاضْرِبُوا عُنُقَهُ  (44) "جس نے اپنا دین بدل دیا، اس کی گردن مار دو۔"
اس حدیچ کے جو معنی ہم سمجھ سکتے ہیں (واللہ اعلم) وہ یہ ہے کہ جو شخص اسلام سے دوسرے دین میں چلا گیا جیسے زنادقہ وغیرہ، جب ان پر غلبہ حاصل ہو جائے تو ان کو قتل کر دو اور ان سے توبہ کا مطالبہ نہ کرو، اس لیے کہ یہ لوگ کفر چھپاتے تھے اور اسلام کا اعلان (اظہار) کرتے تھے لہذا ان سے توبہ طلب نہ کی جائے، ان کے قول کا بھی اعتبار نہ کیا جائے۔ لیکن جو شخص اسلام سے دوسرے دین کی طرف نکل گیا اور یہ ظاہر ہو گیا تو اس سے توبہ طلب کی جائے، توبہ کر لی تو خیر ورنہ اس کو قتل کر دیا جائے۔ اور مَنْ غَيَّرَ دِينَهُ میں وہ لوگ شامل نہیں جو نصرانیت سے یہودیت، یہودیت سے نصرانیت کی طرف گئے یا کسی دین کو چھوڑ کو دوسرے دین میں یا اسلام میں داخل ہو گئے بلکہ گردن اڑانے کا حکم صرف ان لوگوں کے لیے ہے جو دین اسلام سے نکل کر کسی دوسرے دین میں چلا گیا۔
لہذا امام مالک رحمۃ اللہ علیہ نے اس حدیث سے جو معنی اخذ کیا ہے وہ یہ کہ "تغیر دین سے مراد اسلام سے دوسرے دین میں نکل جانا ہے اور اس میں دیگر دین مراد نہیں ہیں کہ کوئی شخص ایک دین سے دوسرا دین بدل لے، اور اگر یہ عام ہوتا تو اس شخص پر بھی یہی حکم ہوتا جو شرک سے نکل کر اسلام میں دخل ہوا ہے اور یہ غیر معقول بات ہے۔"
(2) یہاں ہم یہ مثال پیش کر رہے ہیں کہ امام مالک نے صحابہ کے فتوؤں اور ان کے فیصلوں سے بھی استفادہ کیا اور انہیں موطا میں درج کیا ہے۔ مثل مرضِ موت میں ہی مریض کے طلاق دینے پر بیوی کی میراث کے سلسلہ میں لکھا ہے "اگرچہ اس کو طلاق بائن ہو گئی ہو" ۔۔۔ حضرت عبدالرحمٰن بن عوف رضی اللہ عنہ نے اپنی بیوی کو مرض میں چلاق دے دی تو حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے اس عورت کو عدت پوری ہونے پر وارث بنایا۔ (45) اسی بارے میں امام مالک رحمۃ اللہ علیہ نے بہت سی مثالیں پیش کی ہیں اور بیوی کو وارث قرار دیا ہے اگرچہ اس کی عدت پوری ہو جائے اور دوسرے سے نکاح کر لیا ہو۔ تفصیل کے لیے ملاحظہ ہو موطا (46)
(3) امام مالک رحمۃ اللہ علیہ نے صغار صحابہ کے اقوال سے بھی استدلال کیا ہے اور اہل مدینہ کے عمل سے بھی اور بچوں کی شہادت کے متعلق بھی اظہار خیال کیا ہے:
" أن عبد الله بن الزبير كان يقضي بشهادة الصبيان فيما بينهم من الجراح" (47)
"عبداللہ بن زبیر بچوں کی شہادت پر فیصلے دیتے تھے جو ان کے آپس کے زخموں (جھگڑوں) سے متعلق ہوں۔"
اس کو اور اجماع اہل مدینہ کو بنیاد بنا کر امام مالک رحمۃ اللہ علیہ کہتے ہیں کہ بچوں کی گواہی آپس کے معاملات کے لیے قابل قبول ہے۔ چنانچہ امام مالک رحمۃ اللہ علیہ نے اہل مدینہ کے اجماع اور حضرت عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ کے عمل سے استدلال کیا ہے۔ (48)
(4) اجماعِ اہل مدینہ سے بھی امام مالک رحمۃ اللہ علیہ نے استدلال کیا ہے اس کے لیے مثال ملاحظہ کیجئے۔ ہمارے ہاں یہ بات متفق علیہ ہے کہ بیٹوں کی موجودگی میں سگے بھائی وارث نہیں ہوں گے اور اگر پوتا موجود ہو تب بھی سگے بھائی قطعا وارث نہیں ہوں گے اور باپ کی موجودگی میں بھی وہ (بھائی) وارث نہیں ہوں گے۔ اگر متوفی کے دادا نہ ہوں اور دادا کی بیٹی یا نواسی ہو وہ (بھائی) بطورِ عصبہ وارث ہوں گے ۔۔۔ تفصیل کے لیے ملاحظہ ہو: موطا۔(49)
اس مسئلہ کے اندر بھی امام مالک رحمۃ اللہ علیہ صرف اجماعِ اہل مدینہ سے استدلال کرتے ہیں پھر اسی اجماع کی بنیاد پر وہ فروع کے مسائل کو حل کرتے ہیں۔
(5) امام مالک رحمۃ اللہ علیہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے فتوؤں سے استدلال کرتے ہیں اور انہیں بطور استحسان لیتے ہیں۔
جیسا کہ مفقود الخبر خاوند کے بارے میں امام مالک کا موقف ہے۔
حضرت عمر رضی اللہ عنہ کا فتویٰ ہے کہ اگر کسی عورت کا خاوند گم ہو جائے، معلوم نہ ہو کہ وہ کہاں گیا ہے تو وہ عورت چار سال تک انتطار کرے۔ اس کے بعد چار سال دس دن کی عدت گزار کر دوسری شادی کر سکتی۔ عدت گزارنے کے بعد اگر اس عورت نے شادی کر لی اور اس خاوند (ثانی) کے ساتھ خلوتِ صحیحہ ہوئ یا نہ ہوئی (دونوں صورتوں میں) پہلے خاوند کو کوئی حق حاصل نہیں۔ ہاں اگر اس عورت کی شادی نہیں ہوئی ہو تو پہلا خاوند اس کا زیادہ حقدار ہو گا۔ اس باب میں اور بھی مسائل کا تذکرہ کیا ہے۔
امام مالک رحمۃ اللہ علیہ نے حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے فتویٰ کی روشنی میں اپنا موقف اپنایا ہے اور امام مالک رحمۃ اللہ علیہ نے اس بات سے رجوع کیا ہے کہ اگر خاوند سے خلوتِ صحیحہ نہیں ہوئی تو پہلا خاوند ہی حقدار ہو گا۔ (50)
ان مثالوں سے واضح ہوا کہ موطا فقہ کی کتاب بھی ہے اور حدیث کی بھی، لیکن جو احادیث اس میں بیان کی گئی ہیں، اُن کو لانے سے یہ غرض ہے کہ ان سے فقہی مسائل کا استنباط کیا جائے اور ان سے استدلال کیا جائے اور ان کے مقتضا کے موافق احکام و مسائل حل کیے جائیں۔
امام صاحب رحمۃ اللہ علیہ صرف احادیث پر اکتفا نہیں کرتے بلکہ صحابہ کرام کے فیصلے کی روشنی میں مسائل حل کرتے ہیں اور اس رائے کو قبول کرتے ہیں جو زیادہ مصالح (مصلحتِ عامہ) کے قریب تر پاتے ہیں اور اس سلسلہ میں اہل مدینہ کے اجماع سے بھی استدلال کرتے ہیں۔
بہرحال موطا فقه السنة کے لیے بہترین مجموعہ کی حیثیت رکھتی ہے۔ اس مجموعہ سے استفادہ کرنا فقیہ اور محدث دونوں کے لیے ضروری ہے۔
حوالہ جات
1۔ ابن کثیر، البدایۃ والنہایۃ: 10/174
2۔ محمد ابو زہرہ، امام مالک (اردو ترجمہ) : ص 34
3۔ الاستاذ محمد ابو شبہہ، اعلام المحدثین: ص 52
4۔ محمد الزرقانی، شرح الزرقانی: مقدمہ 1/3
5۔ محمد الزرقانی، شرح الزرقانی: مقدمہ 1/3
6۔ محمد الزرقانی، شرح الزرقانی: مقدمہ 1/3
7۔ تنویر الحوالک: 1/3
8۔ تنویر الحوالک: 1/3
9۔ النووی، تہذیب الاسماء: 2/76
10۔ تنویر الحوالک: 1/3 ۔۔۔ 11۔ البدایۃ والنہایۃ: 10/174 ۔۔۔ 12۔ البدایۃ والنہایۃ: 10/174 ۔۔۔ 13۔ الذہبی، تذکرۃ الحفاظ: 14۔ شرح الزرقانی: مقدمہ 1/2۔3 ۔۔۔ 15۔ البدایۃ والنہایۃ: 10/174 ۔۔۔ 16۔ الذہبی، تذکرۃ الحفاظ: 1/187 ۔۔۔ 17۔ مقدمہ اسعاف الموطا، 1/187 ۔۔۔ 18۔ مقدمہ اوجز المسالک: ۔۔۔ 19۔ الزاوی، مناقب مالک، ص 33 ۔۔۔ 20۔ محمد ابو شہبہ: اعلام المحدثین، ص 50 ۔۔۔ 21۔ ابن عبدالبر، الانتقاء، ص 43-44 ۔۔۔ 22۔ محمد ابو شہبہ: اعلام المحدثینء، ص 47 ۔۔۔ 23۔ اردو دائرہ معارف اسلامیہ، 18/378 ۔۔۔ 24۔ اردو دائرہ معارف اسلامیہ، 18/ 378 اور ابو شہبہ: اعلام المحدثین، ص 53 ۔۔۔ 25۔ موطا مع شرح الزرقانی، 1/118 (طہر الحائض)
26۔ المسویٰ شرح موطا مقدمہ، ص 6
27۔ ابن عبدالبر: الانتقاء، ص 16 اردو دائرہ معارف اسلامیہ، 18/379
28۔ المدارک، ص 166
29۔ المدارک، ص 166
30۔ ترتیب المدارک، 1/194
31۔ قاضی عیاض: ابوشہبہ: اعلام المحدثین، ص 56/ حنیف ندوی: مطالعہ حدیث، ص 193
32۔ قاضی عیاض: ابوشہبہ: اعلام المحدثین، ص 57
33۔ مقدمہ المسوی شرح موطا
34۔ السیوطی: تزیین الممالک (طبع خیریہ ۔ مصر) ص 44
35۔ السیوطی: تزیین الممالک (طبع خیریہ ۔ مصر) ص 43
36۔ مقدمہ ابن الصلاح/ و تقی الدین: محدثین عظام، ص 101
37۔ مقدمہ التعلیق الممجد علی موطا امام محمد
38۔ تدریب الراوی/ قوت المغتذى علی جامع الترمذی، ص5
41۔ بستان المحدثین، ص 24
42۔ حنیف ندوی: مطالعہ حدیث، ص 193
43۔ مقدمہ شرح الزرقانی، ص 9
44۔ شرح الزرقانی علی موطا الامام مالک، 4/14/ -15
45۔ شرح الزرقانی علی موطا الامام مالک، 3/195
46۔ شرح الزرقانی، 3/396
47۔ شرح الزرقانی، 3/396
48۔ شرح الزرقانی، 3/105
49۔ شرح الزرقانی، 3/199،200