گذشتہ دنوں اعلیٰ تعلیم کے چند طلبہ نے اس بارے میں استفسار کیا کہ کمپیوٹر اور اس سے متعلقہ دیگر اشیاء سے کس طرح علم و تحقیق کے عمل میں فائدہ اٹھایا جا سکتا ہے۔ علاوہ ازیں دیندار طبقہ کے کمپیوٹر سے مستفید ہونے کے کیا امکانات ہیں، اس استفادے کی حدود کیا ہو سکتی ہیں اور کس طرح ان کا حصول ممکن ہے۔ اسی ضمن میں انترنیٹ کا تذکرہ بھی آیا جس کی حیران کن کارکردگی ہر کسی کی زبان پر ہے۔ طلبہ کے استفسار اور دلچسپی کی وجہ غالبا اپنی اعلیٰ تعلیم میں پیش آمدہ اس موضوع پر ٹھوس اور حقائق پر مبنی مواد پیش کر دینے کی حد تک تھی، جس کی رہنمائی انہیں اپنی درسی کتب اور امدادی مواد میں میسر نہ آ سکی۔ راقم الحروف یوں تو عرصہ سے اس موضوع پر لکھنے کا خواہاں تھا کیونکہ واقعتا یہ ایسی معلومت ہیں جن سے ناواقف رہ کر موجودہ دور میں مؤثر کارکردگی پیش نہیں کی جا سکتی۔لیکن طلبہ کے ان سوالات نے مجھے مجبور کر دیا کہ اولین فرصت میں اِس کے مختلف پہلوؤں پر روشنی ڈالوں جو ملتِ اسلامیہ کے لیے عموما اور دین دار کے لئے خصوصا مفید ثابت ہوں۔ موضوع پر بات شروع کرنے سے قبل چند ایک امور کا تذکرہ کرنا مناسب معلوم ہوتا ہے:

(1) کمپیوٹر کا موضوع واقعتا ایسا نہیں جس سے کوئی کوتاہی برتی جائے، نہ ہی دیگر ایجادوں کی طرح صرف یہ ایک نیا اضافہ ہے۔ کمپیوٹر کے فوائد کا اگر جائزہ لیا جائے تو اپنے اثرات، کارکردگی اور دائرہ کار میں شامل کر کے بے شمار سہولتیں مہیا کر کے انسانی دنیا کو یوں گھیر رہا ہے کہ اس کے بعد Computer Aided World کی اصطلاحیں استعمال کی جا رہی ہیں۔  دورِ حاضر میں جو قوم کمپیوٹر سے استفادے کی اہلیت نہیں رکھتی، عالمی برادری میں اس سے کسی کا معاملہ برتنا ممکن نہیں۔ مختصر الفاظ میں آئندہ برسوں میں کمپیوٹر سے جاہل رہ کر انسان کی داخلی حیات متاثر ہو سکتی ہے اور وہ کسی بھی مسلمہ معیار تک پہنچنے کے قابل نہیں رہ جاتا۔ حیرت انگیز امر یہ ہے کہ کمپیوٹر کو عالم وجود میں آئے ابھی صرف دو دہائیاں ہی گزری ہیں۔ 80 کے ابتدائی برسوں میں عام صارف کو کمپیوٹر مہیا گیا، اسی طرح انٹرنیٹ جس کا غلغلہ ہر جگہ سننے میں ملتا ہے کو صارف کی سطح پر متعارف ہوئے فقط تین برس مکمل ہونے کو ہیں لیکن ان تین برسوں میں اپنے اثر و نفود اور دائرہ کار کی وسعت کے حوالے سے انٹرنیٹ نے جہاں دیگر تمام ذرائع ابلاغ کو واضح شکست دے دی ہے وہاں مواصلات، انسانی خدمات کی دنیا میں بھی ایک تہلکہ مچا دیا ہے۔ جن کی تفصیلات آئندہ صفحات میں آپ ملاحظہ فرما سکتے ہیں۔ افسوسناک امر یہ ہے کہ اس موضوع پر دینی صحافت تو کجا اُردو زبان میں بھی کوئی لٹریچر موجود نہیں۔ کافی طویل دورانئے کے بعد اگر کبھی کوئی معلوماتی/علمی مضمون شائع ہوتا ہے تو وہ بھی اس قدر ابتدائی درجے میں کہ بڑے بنیادی امور پر اس میں مباحث میسر آتے ہیں۔ اس لیے اپنے مخصوص دائرہ کار کی ضروریات کی تکمیل کرتے ہوئے بہت ضروری تھا کہ دیندار طبقہ کو اس سے مختلف پہلوؤں سے متعارف کرایا جائے تاکہ اس سے جائز استفادہ کر کے عالمی چیلنجز (Chalanges) کا مقابلہ کیا جا سکے۔

(2) چونکہ کمپیوٹر Latest Sciences میں سے دقیق اور جدید ترین سائنس ہے اس لیے اس میں وقت کے ساتھ ساتھ بعض جدید تصورات (Concepts) سے آگاہی بھی ضروری ہے۔ بعض اُمور کی وضاحت کے لیے اصطلاحات کا استعمال ضروری ہے، جس کی بابت راقم کی کوشش ہو گی کہ اس کو آسان سے آسان انداز میں کسی ٹیکنیکل پیچیدگی کے بغیر سامنے لایا جائے۔ تاکہ استفادہ کا دائرہ کار وسیع ہو سکے ۔۔ ممکن ہے کہ یہ مضامین جہاں عام قاری کے لئے مفید ہوں، وہاں اس کو کمپیوٹر کے بعض ماہرین بھی دلچسپی سے پڑھیں لیکن واضح رہے کہ اس میں قاری کو پیش نظر رکھتے ہوئے بعض باتوں کو کماحقہ وضاحت سے نہیں پیش کیا جا رہا۔ چنانچہ یہ اپنے موضوع کے اعتبار سے تو ایک نئی کاوش ثابت ہو گی لیکن کمپیوٹر سائنس کے حوالے سے ممکن ہے کہ اس میں کوئی تحقیقی مواد پیش نہ کیا جا سکے۔

(3) راقم الحروف کی ان معلومات کا ماخذ کیا ہے، دلچسپی کیا ہے اور کیونکر اس موجوع کا انتخاب کیا گیا ہے، کمپیوٹر سے استفادہ کیوں کیا جائے؟
قارئین کی خدمت میں مؤدبانہ عرض ہے کہ اسلام حکمت، دانائی اور بہتر شے کو قبول کرنے میں بڑا فراخدل واقع ہوا ہے۔ انسانی صلاحتیوں کا بہترین استعمال، فکرِ آخرت کی نفی نہیں بلکہ مظاہر عالم میں وجودِ الہیٰ کی اعلیٰ تر حقیقتوں کا مظہر ہے۔

چنانچہ ہر نئی ایجاد کے بعد ایک مسلمان کا ایمان و ایقان اس رب العالمین پر مزید بڑھ جاتا ہے جس نے اپنی مخلوق انسان کو ایسا باصلاحیت فکرودماغ عطا کیا ہے کہ اسے وہ استعمال کر کے اپنے محدود دائرہ کار اور وسائل سے بھرپور استفادہ کر لے۔ ایک مسلمان اور ملحد کا فرق یہی ہے کہ یہ تجلیات مسلمان کے ایمان و ایقان میں مزید اضافہ کرتی ہیں اور ملحد اسے اپنے ذاتی کمالات سمجھ کر طغیان و سرکشی میں مزید بڑھ جاتا ہے۔ بہرحال علم و ایجاد کا کوئی دین نہیں ہوتا ۔۔ دین تو اس کی بنا پر پیدا ہونے والے رویوں اور افکار و خیالات پر گرفت کرتا ہے، اس کے استفادے کے جائز و ناجائز ہونے میں بحث کرتا ہے۔ جائز حدود میں جدید ایجادات سے استفادہ صرف مباح ہی نہیں بلکہ ان کائناتی مظاہر کی تلاش و تحقیق کا شرعی تقاضا بھی ہے۔ افسوس کہ امت مسلمہ آج سائنس کے میدان میں صرف استفادے پر ہی قانع ہے، کبھی وہ اس عالم ایجادات کی عظیم قائد بھی تھی جس کے طفیل آج یہ تمام علوم اس مقام پر ہیں کہ عقل انسانی دنگ رہ جاتی اور فکر و ذہن متحیر ہو جاتا ہے۔

انہی افکار و نظریات پر یقین رکھتے ہوئے راقم نے دینی تعلیم کے بعد اپنے وقت کا ایک معتد بہ حصہ کمپیوٹر پر صرف کرنا شروع کیا۔ جو عنوان اس مضمون کا موضوع ہے، میری دلچسپی بھی کمپیوٹر سے اسی حد تک تھی کہ اسلام کے لیے کس طرح کمپیوٹر کو کام میں لایا جا سکتا ہے۔ گذشتہ چند برسوں میں فرصت کے جملہ اوقات کمپیوٹر پر صرف کر کے، اس کو دلچسپیوں کا محور بنا کر اس موضوع پر کافی قدر معلومات جمع کیں۔ متعدد ممالک کے دوروں میں وہاں سے اسلام کے موضوع پر کمپیوٹر پر ہونے والے کام کو جمع کرتا رہا۔ مثال کے طور پر سعودی عرب کے شہروں، مصر، بیروت، اُردن، مراکش اور امارات و کویت سے اس موضوع پر جو کچھ کام ہو کر مارکیٹ میں آیا ہے اس کا انتخاب (Selections) جہاں میرے پاس موجود ہے وہاں اس کا ایک عمومی جائزہ بھی میں رکھتا ہوں اور ان میں اہم ترین پروگرام بھی بڑی لاگت سے بڑی تعدادمیں "مجلس التحقیق الاسلامی" کے لئے خرید چکا ہوں۔

اسی دلچسپی کی بنا پر دیندار طبقہ میں کمپیوٹر کی ترویج کے لیے مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام ایک مستقل کالج 1995ء میں قائم کیا گیا۔ راقم تین برس سے جس کا پرنسپل ہے اور انٹرنیٹ، نیٹ ورکنگ وغیرہ کا اُستاد رہا ہے۔ اس بنا پر کمپیوٹر سائنس کی تعلیم، کمپیوٹر سے استفادے میں مناسب رویہ اور پیش مدہ مشکلات کا ایک متوازن جائزہ بھی میرے پیش نظر ہے۔ جس کی بنا پر امید ہے کہ کچھ مفید معلومات قارئین کے حصے میں آ سکتی ہے۔

اس تمہید طولانی کے بعد میں اصل موضوع کی طرف آتا ہوں۔ زیر نظر مضمون اسلامی تحقیق میں کمپیوٹر کے استعمال پر مبنی ہے۔ کمپیوٹر پر تحقیق کو فی الوقت تین اقسام میں منقسم کی جا سکتا ہے:
CD کے ذریعے۔۔انٹرنیٹ کے ذریعے۔۔دیگر پروگراموں کے ذریعے

کمپیوٹر کیا ہے؟

کمپیوٹر وہ آلہ ہے جو "دی گئی معلومات کی روشنی میں اپنا کام مکمل کرتا ہے" بظاہر تو یہ ایک بڑا کثیر المعنی جملہ ہے جس کے کوئی محدود معنی نہیں لیکن حقیقت بھی کچھ یوں ہی ہے کہ اپنے کاموں کے تنوع اور خواص کی کثرت کی بنا پر کمپیوٹر کی کوئی معین اور محدود تعریف کرنا مشکل ہے۔ لیکن یہ امر واضح ہے کہ کمپیوٹر صرف ایک مشین ہی ہے جو غوروفکر اور تخلیق وجدت کے وصف سے بالکل عاری ہے۔ لیکن کمپیوٹر میں مطلوبہ طریقے سے اس قدر زیادہ معلومات جمع کی جا سکتی ہیں اور اس قدر تیزی سے ان کو بروئے کار لایا جا سکتا ہے کہ بعض اوقات یوں محسوس ہوتا ہے جیسے یہ کمپیوٹر کا ذاتی کارنامہ ہے۔ جب کہ درحقیقت یہ سب معلومات کی وسعت اور معلومات داخل کرنے والے کی ذہانت و فطانت پر منحصر ہے۔ اس کی مثال آپ یوں سمجھ سکتے ہیں کہ کمپیوٹر میں بےشمار سوالات، مختلف امکانات سے مشروط کر کے داخل کر دئیے جاتے ہیں اور کمپیوٹر سوال ہونے پر اپنی جوابی لائبریری سے اس کا جواب پیش کر دیتا ہے۔ اگر اس سوال کو 25 طریقوں سے پوچھا جائے اور اسی قدر انداز سے وہ جوابات بھی داخل کئے جا چکے ہوں تو ہر ہر شرط کے اضافے پر کمپیوٹر کا جواب مختلف ہو گا اور جوابات کی درست حد بندی اور معلومات کی صحت پر ہی کمپیوٹر کا دارومدار ہو گا۔ انسان کا ذہن دیگر بے شمار محیر آمیز اوصاف کی باوجود صرف حافظے کا اتنا اعلیٰ شاہکار نہیں ہے۔ چنانچہ اگر معلومات اور ہدایات درست دی گئی ہیں تو کمپیوٹر کے جواب میں غلطی کا امکان بہت کم ہوتا ہے۔

مثال کے طور پر کمپیوٹر پر مرض کی تشخیص کا معاملہ ہے اور ڈاکٹر مختلف علامات داخل کر کے مرض کا نام طلب کرتا ہے تو مرض کی یہ تشخیص بھی علاج کے وقت ڈاکٹر کے علامات کو داخل کرنے کے بعد ہوتی ہے۔ اگر ڈاکٹر علاج کے وقت علامات کے وقت علامات کے بارے میں غلطی کا شکار ہوا ہے تو کمپیوٹر بھی سنگین غلطی کرے گا، یہی وجہ ہے کہ کمپیوٹر سے علاج ابھی تک اس قدر مقبولیت حاصل نہیں کر سکا۔

اسی طرح کمپیوٹر کتابت کرتا ہے تو آیا کسی قلم کے ساتھ وہ حروف تحریر کرتا ہے اور ان میں خوشنمائی پیدا کر دیتا ہے۔ ایسا نہیں ہے بلکہ حقیقت یہ ہے کہ تمام حروف اور لکھائی کے تمام اجزاء اس میں پہلے محفوظ کر دئیے جاتے ہیں، کمپیوٹر صرف بٹن دبانے پر پہلے سے کتابت شدہ حرف کو اٹھا کر اس جگہ رکھ دیتا ہے جہاں اس سے طلب کیا گیا ہے۔ اس سے چند باتیں ثابت ہوتی ہیں:

(1)کمپیوٹر صرف حافظے Memory کی مشین ہے جو سارا کام دَو اور دَو، چار کی طرز پر میکینکل انداز میں کر دیتا ہے، اپنی معلومات کو بڑی تیزی سے پیش کرنا اور انہیں ترتیب میں رکھنا اس کا خاصہ ہے۔ چنانچہ دوسرے لفظوں میں یہ حسب کی ایک مشین ہے، اور کیلکولیٹر کی ایک اعلیٰ ترین شکل ہے، جس میں معلومات جمع بھی ہو سکتی ہیں، یہی وجہ ہے کہ عربی زبان میں کیلکولیٹر کو حاسب اور کمپیوٹر کو حاسوب (بہت زیادہ حساب کرنے والا) یا الحاسب الآلى کہتے ہیں (حسابی آلہ)۔ حیران کن امر تو یہ ہے کہ کمپیوٹر کا پورا نطام فقط دو ہندسوں پر کام کرتا ہے جس میں بنیادی حروفِ تہجی بھی داخل نہیں۔ یہ دو ہندسے 0 اور 1 ہیں، باقی ہندسے 2 تا 9 بھی ان کے مختلف امتزاج Combination ہیں۔

(2) یہ سب کام اور جملہ کارکردگی اول تو کمپیوٹر بنانے والے انسان کی مرہونِ منت ہے، پھر اس کے مختلف خواص اس کو تیار کر کے کمپیوٹر پر آفر کرنے والے ادارے کی جدوجہد اور محنت کا نتیجہ ہیں۔ اگر تو اُس نے جامع و مانع انداز میں بڑے وسیع دائرہ عمل میں کمپیوٹر سے استفادہ کیا ہے تو استعمال کرنے پر وہ کام کمپیوٹر بھی خوب تر انداز میں انجام دے گا۔

(3) ٹیپ ریکارڈ کی طرح، کمپیوٹر بھی اسی نوعیت کی ایک مشین ہے۔ جب مختلف کیسٹوں کے ملنے پر ٹیپ ریکارڈ سے مختلف آوازیں سننا ممکن ہے اور کوئی کیسٹ نہ ہو تو خاموشی، عین اس طرح کمپیوٹر بھی مختلف کیسٹیں اور مختلف Application Services مہیا ہونے پر کام کرتا ہے۔ بعض سروسز کتابت کی سہولت دیتی ہیں تو بعض حساب و کتاب کی کمپیوٹر پر جس ریکارڈنگ کے ذریعے کوئی سروس مہیا ہوتی ہے، اسے اصطلاح میں پروگرام Software کہتے ہیں جبکہ کمپیوٹر کے پرزوں کو Hardware، آسان الفاظ میں چھوئے جانیوالے (Tengible) کمپیوٹر کے پرزہ جات Hardware اور اس پر چلنے والی ریکارڈنگ Software کہلاتی ہیں جو چھوئی نہیں جا سکتی۔ اس کو یوں بھی سمجھ سکتے ہیں کہ ٹیپ ریکارڈ کیسٹ میں وہ کیسٹ تو Hardware ہے اور فیتہ پر بھری ہوئی آواز جو کوئی جسم نہیں رکھتی لیکن سنی جا سکتی ہے Software کہلا سکتی ہے۔

(4) بنیادی طور پر کمپیوٹر امورِ تجارت کے لیے بنایا گیا۔ چنانچہ جس کمپنی کے 90 فیصد کمپیوٹرز دنیا بھر میں استعمال ہو رہے ہیں، اس کا نام ہی (International Business Machine) (بین الاقوامی تجارتی آلہ) یعنی IBM ہے۔ لیکن صرف 10 برس کے قلیل عرصے میں زندگی کے ہر ہر شعبے میں اس کا استعمال مروج ہو گیا اور واقعتا آج انسان سے متعلقہ کوئی شعبہ ایسا نہیں جس میں کمپیوٹر سے استفادہ کیا جاتا ہو چاہے وہ کمپیوٹر مکمل و مروج کمپیوٹر کی صورت میں ہو یا فقط اس جزوی ضرورت کی حد تک مثال کے طور پر پٹرول بھرنے والی مشینوں میں یا ویڈیو گیمز میں صرف اس مصرف کی حد تک کمپیوٹر کے متعلقہ حصے موجود ہیں۔ ہمارے موضوع کی مناسبت سے کمپیوٹر کے چند بنیادی شعبہ جات درج ذیل ہیں:

آلہ کتابت کے طور پر، کتب کو محفوظ کرنے اور پڑھنے کے لیے، ڈیزائننگ کے لیے، بے شمار صفحات میں بحث کو تلاش کے لیے، جملہ ذرائع مواصلات کے طور پر، فوری پیغام رسانی کے لئے، ذریعہ تبلیغ و اشاعت، ذریعہ علم و تحقیق، کتب کی حفاظت اور تدوین کے لیے، دنیا بھر میں کتب اور علوم سے متعلقہ معلومات جمع کرنے کے لیے ٹیلی فون، فیکس، ٹی وی، VCR، ٹیپ ریکارڈ، ڈِش، اخبارات و رسائل، ذریعہ اشاعتِ کتب و رسائل اور اس کے علاوہ بہت سے ۔۔۔

پہلا ذریعہ تحقیق CD-ROM


CD Rom کیا ہے اور اس میں کس قدر گنجائش ہوتی ہے؟

یہ لفظ Compect Disk: Read Only Memory کا مخفف ہے۔ عربی میں جسے أقراص مدمجة کہتے ہیں۔ یعنی ایسی مختصر ترین کیسٹ (Disk) جس کو صرف سنا یا دیکھا جا سکتا ہو، اس میں کوئی محو و اضافہ ممکن نہ ہو۔ عام صارف تک بآسانی میسر آنے والی کمپیوٹر کی یہی وہ سستی ترین اور وسیع ترین گنجائش رکھنے والی کیسٹ ہے جس نے دنیائے کمپیوٹر میں انقلاب بپا کر دیا ہے۔ اس کی وسعت کا اندازہ اس امر سے لگائیے کہ اس میں 680 MB کی گنجائش ہوتی ہے اور ایک MB (کمپیوٹر پر Data کی پیمائش کا پیمانہ)  میں سادہ ترین انداز میں دس لاکھ حروف آ سکتے ہیں۔ جب کہ نسبتا پیچیدہ صورت میں یہ تعداد اس سے 5،10 گنا زیادہ بھی ہو سکتی ہے۔

اس کا مطلب یہ ہوا کہ ایسا صفحہ جس میں اوسطا ہزار سے کچھ زیادہ حروف ہوں، جیسے 100 صفحات ایک MB پر آنے کی گنجائش ہے اور 680 MB کی CD میں 60 ہزار کے لگ بھگ صفحات سما سکتے ہیں۔ یہ تو سادہ ترین پیمائش کے مطابق ہے لیکن اگر چند خاص Tools (سہولتوں) کو استعمال کیا جائے تو یہ تعداد اس سے بہت زیادہ بھی ہو سکتی ہے۔

چند برسوں سے مارکیٹ میں موجود قرآن کریم کے بارے میں ایک CD کے مشمولات (Contents) پر ایک نگاہ ڈال لیں تو اس گنجائش کا بخوبی اندازہ کیا جا سکے گا۔ جیسا کہ میں ذکر کر چکا ہوں کہ کمپیوٹر ٹیپ ریکارڈ اور VCR, TV کے طور پر کام کرتا ہے اور کمپیوٹر پر یہ چیزیں روایتی مشینوں کے مقالے میں کافی اعلیٰ معیار پیش کرتی ہیں۔ چنانچہ اس ایک CD میں مسجد نبوی کے امام شیخ علی عبدالرحمٰن حذیفی کے مکمل قرآن کریم کی 40 گھنٹے کی ریکارڈنگ، 7 زبانوں میں مکمل ترجمہ قرآن، تفسیر قرطبی، تفسیر ابن کثیر اور تفسیر جلالین کا مکمل عربی متن، خوشنما رنگوں میں قرآن کریم کے تمام صفحات کی تصاویر، علم تجوید متعدد کتبِ اصول کے ساتھ جس میں ادائیگی کی مشقیں بھی شامل ہیں وغیرہ صرف ایک CD میں شامل ہیں۔ علاوہ ازیں معجم موضوعاتُ القرآن، معجم الفاظ القرآن، معجم غریب الفاظ القرآن وغیرہ اور دیگر بہت کچھ ۔۔۔ یاد رہے کہ کمپیوٹر ان چیزوں کی پیشکش اور استعمال عام روایتی استعمالات سے بہت جدید تر اور اعلیٰ صورت میں کرتا ہے۔

قارئین کرام! آپ یہ جان کر حیران ہوں گے کہ اس قدر وسیع گنجائش کی حامل اور مفید ایجاد کی مالیت صرف 80 روپے ہے، اس قیمت کا اس تناظر میں بھی جائزہ لیں جو پاکستانی روپے کی دوسری کرنسیوں کے ساتھ تبادلے کی صورت میں درپیش ہے تو یہ قیمت صرف ایک علامتی قیمت ہی رہ جاتی ہے۔ اس کے داخلی وسعت سے قطع نظر اس کا حجم بھی بہت حیران کن ہے۔ یہ صرف 5 اوراق کی موٹائل پر مشتمل 6 مربع انچ میں پلاسٹک سے بنی شے ہے۔ یہی وہ شے ہے جس کی ایجاد سے کمپیوٹر کے پروگراموں کی نشرواشاعت میں تحیر آمیز اضافہ ہوا ہے۔ اس کو مارکیٹ میں متعارف ہوئے ابھی 3 برس سے زیادہ عرصہ نہیں گزرا کہ ہر شے اس پر دستیاب نظر آتی ہے۔ واضح رہے کہ VCR کی کیسٹوں اور ٹیپ ریکارڈکی کیسٹوں کا بھی یہ نعم البدل ثابت ہو رہی ہے۔ اور عالم جدید میں روایتی کیسٹیں تقریبا متروک ہوتی جا رہی ہیں۔ یوں تو اس سے بھی زیادہ وسیع گنجائش کی کمپیوٹر کیسٹیں موجود ہیں، جن میں حالیہ اضافہ موجودہ CD سے 3 گنا زیادہ وسعت یعنی قریبا دو ہزار MB کی CD کی صورت میں سامنے آیا ہے۔ علاوہ ازیں کمپیوٹر کی داخلی کیسٹیں جنہیں کمپیوٹر اصطلاح میں Hard Disk کہتے ہیں میں بھی عام صارف کے استعمال میں 10 ہزار MB تک وسعت رکھنے والی Hard Disk آ چکی ہیں لیکن اپنے حجم، قیمت اور پائیداری کی بدولت CD ROM کا استعمال روز افزوں ہے اور آئندہ چند برسوں کی ضروریات کی تکمیل بخوبی کر سکتا ہے۔

نشرواشاعت کا یہ اس قدر وسیع اور سستا ترین ذریعہ ہے کہ اَن گنت کتب و علوم CD پر منتقل ہو چکے ہیں۔ بڑے بڑے عظیم انسائیکلوپیڈیا (دائرۃ المعارف) اور کثیر جلدوں پر مشتمل کتب صرف 80 روپے کی مالیت رکھنے والی CD پر منتقل ہو کر گھر گھر میں پہنچ رہی ہیں۔ انسائیکلوپیڈیا بریٹانیکا، امریکانا، World Atlas، سمعی و بصری انسائیکلوپیڈیاز اور ہر موضوع پر بے شمار کتب اور انسائیکلوپیڈیاز اس میں بآسانی دستیاب ہیں۔ ادارہ محدث کی کمپیوٹر لائبریری میں CD پر موجود کتب پر ایک نظر ڈالنے سے آپ کو یہ اندازہ لگانے میں آسانی ہو گی، ان CD میں موجود کتب کا اجمالی خالہ کچھ یوں ہے:
1۔ 8 مختلف قراء کی آواز میں مکمل قرآن کریم کی تلاوت
2۔ عربی کی تقریبا 15 متداول تفاسیر مکمل عربی متن کے ساتھ جن میں ہر تفسیر کی کتابی ضخامت 5 جلد سے زیادہ ہے۔
3۔ 500 کتبِ متونِ حدیث جن میں سے بعض کتابی صورت میں بھی دستیاب نہیں اور معروف شروحِ کتب حدیث 20 کے قریب مکمل صورت میں مثلا فتح الباری، عون المعبود، تحفۃ الاحوذی وغیرہ
4۔ دو لاکھ رواۃِ حدیث کے مکمل حالاتِ زندگی اور ان پر ائمہ جرح و تعدیل کی تفصیلی آراء
5۔ عربی کی مشہور و متداول لغات مثلا لسان العرب، القاموس المحیط، المورد، الرائد وغیرہ
6۔ ہر فقہی مسلک کی بنیادی کتبِ فقہ و اصول فقہ جن کی تعداد 200 کے قریب ہے۔
7۔ امہاتُ الکتب کے انگریزی تراجم
CD-Rom سے استفادہ کی نوعیت
جیسا کہ پہلے ذکر کیا جا چکا ہے کہ کمپیوٹر پروگرام کا معیار اس امر پر منحصر ہے کہ اس کو بنانے والی کمپنی یا افراد نے کس حد تک جامع مانع اور مفید انداز میں اس کو تیار کیا ہے اور اس میں کیا سہولتیں استعمال کرنا ممکن بنایا ہے۔ مجموعی طور پر یہ کہا جا سکتا ہے کہ ترقی یافتہ دنیا کے تیار کردہ CD پروگرامز کا معیار اور سہولتیں، اسلامی نوعیت کے پروگراموں سے کافی بہتر ہوتی ہیں۔

یوں تو اسلامی نوعیت کے CDs بھی بعض یورپین کمپنیاں تیار کرتی ہیں لیکن اپنے صارفین کی محدودیت اور تیار کرنے والوں کی ذاتی لا علمی کی بنا پر ان کا معیار مجموعی طور پر عام CD جیسا نہیں ہوتا۔ کسی موضوع پر تیار ہونے والے پروگراموں کو اگر خود اس کے ماہر ہی تیار کریں تو وہ زیادہ گنجائشیں اور سہولتیں بہم پہنچا سکتے ہیں۔ علاوہ ازیں استعمال کنندگان کی کثرت، دلچسپی اور  ذو فہم ہونے سے بھی بنانے والی کمپنیوں کو کافی تجاویز حاصل ہوتی ہیں اور کافی آمدن اور شوق و ذوق پیدا ہوتا ہے۔ یہ ایک اجتماعی نوعیت کا تبصرہ ہے جبکہ انفرادی طور پر بعض ایسے CD پر بھی پیش کئے جا سکتے ہیں جن کا اعلیٰ ترین معیار، علمی ثقاہت اور پیچیدہ مسائل کے حل میں کمپیوٹر سے استفادہ کی مہارت قابل ستائش ہے۔ اس ضمن میں بطورِ مثال مصر کی معروف کمپنی شركة الصخر کا نام لیا جا سکتا ہے۔[1]
CD سے استفادہ کی نوعیت کیا ہے ۔۔ تو اس بارے میں عرض ہے کہ کمپیوٹر
اپنی بنیادی خصوصیت کے مطابق ڈھونڈنے اور تلاش کر لینے میں بہت تیز رفتار واقع ہوا ہے۔ یہ تلاش Searchدو طرح سے کی جا سکتی ہے:
(1)کسی امتیازی لفظ کی بنا پر
کمپیوٹر میں تمام کتبِ حدیث اور معروف کتبِ فقہ محفوظ کر دی گئیں ہیں۔ آپ کسی لفظ یا کلمہ کے ذریعے کسی حدیث کو تلاش کرنا چاہتے ہیں۔ مثال کے طور پر "الحكمة ضالة المؤمن " کا جملہ کس کس مقام پر موجود ہے۔ آپ یہ دیکھنا چاہتے ہیں تو اس عبارت کو فقط کمپیوٹر میں درج کر دیں اور کمپیوٹر سیکنڈوں میں دئیے گئے دائرہ کار میں اس لفظ کو تلاش کر کے آپ کے سامنے رکھ دے گا کہ یہ لفظ فلاں فلاں مقام پر آیا ہے، ایک بٹن دبانے پر اس مقام کا پورا متن بھی دیکھا جا سکتا ہے۔
لفظ اور مستقل کلمہ کو تلاش کرنے کا ایک تو بہت سیدھا طریقہ یہ ہے جس کے لیے دو تین سیکنڈ سے زیادہ درکار نہیں ہوتے۔ اس میں اس کلمہ کو معین حرکات کے ساتھ مثلا الحكمة میں صرف ة کے ضمہ (پیش) کے ساتھ آنے والے کلمات کو تلاش کرنا بھی ممکن ہے۔ اسی طرح اس کے مادة (Root) کے تمام حروف کو ڈھونڈنا بھی ممکن ہے مثلا الحكمة کو درج کر کے الحكم ،احكام ،محكم وغیرہ سب کو بھی تلاش کیا جا سکتا ہے۔

جہاں کلمہ چند الفاظ پر مشتمل ہو جائے یعنی جملہ ہو تو وہاں مستقل اسی خاص ترتیب کی پابندی کے ساتھ، یا درمیان میں فاصلے کے ساتھ بھی دیکھا جا سکتا ہے۔ مثال کے طور پر آپ نماز میں تشہد کی دعا کو دیکھنا چاہیں کہ وہ ذخیرہ احادیث میں کہاں کہاں آئی ہے تو صلاة، تشهد اور دعا کے تین حروف لکھ کر یہ طلب کر سکتے ہیں کہ یہ تینوں کلمات جہاں مجتمع ہوں تو وہ سامنے لائے جائیں۔ یہاں یہ بھی ممکن ہے کہ اگر وہ مسلسل اس ترتیب میں موجود ہوں یا ان کی یہ ترتیب نہ ہو، اسی طرح ان کے درمیان اگر دیگر حروف کا فاصلہ ہو تو کس قدر فاصلہ کو آپ دیکھنا چاہیں گے۔ یا صلاۃ اور تشہد کے مابین 5 دیگر الفاظ (یا جو آپ حد بندی کر دیں) آ جائیں تو تب بھی وہ مقامات ذکر کئے جائیں یا اس سے بھی زیادہ فاصلہ کے باوجود آپ کے لیے وہ مقام مطلوب ہے۔

لفظ کے ذریعے بحث (Search) کی یہ سب صورتیں ہیں جو بڑی تیز رفتاری سے نتائج مہیا کر دیتی ہیں۔ یہ صورت لغات، اعلام اور امتیاز الفاظ کے ڈھونڈنے کی صورت میں بہت مفید ہے جبکہ کمپیوٹر سے پہلے تک کسی لفظ کے لغوی معنی و مفہوم، کسی راوی کے حالات تک پہنچنے یا کسی اصطلاح کے مستدل و مراد تک رسائی میں کافی وقت صرف ہوتا اور بیسیوں کتابیں کنگھالنا پڑتی تھیں۔ اب یہ تمام کام آپ سے صرف چند منٹوں کے فاصلے پر موجود ہیں۔ کمپیوٹر میں درج کر کے فوری نتائج حاصل کئے جا سکتے ہیں اور اس کو پرنٹر کے ذریعے طبع بھی کیا جا سکتا ہے۔

(2) موضوع وار تلاش Subject-wise Search

الفاظ کے ذریعے تلاش کرنا سادہ کام کے لئے کافی معاون ہے لیکن جہاں کسی موضوع پر کوئی ذخیرہ دلائل جمع کرنا ہو، اُس پر مختلف شرعی آراء دیکھنے کی ضرورت ہو اور قدرے پیچیدہ بحث مطلوب ہو تو الفاظ کے ذریعے تلاش کافی مشکل ہو جاتی ہے۔ اس مقصد کے لیے کمپیوٹر میں کافی زیادہ بڑے اسلامی ذخیرہ کتب کی ترتیب بندی کر کے ان کا موضوع وار انڈیکس تیار کیا گیا ہے اور اس کو کمپیوٹر میں جمع کیا جا چکا ہے۔ مثال کے طور پر معجم موضوعات القرآن، معجم موضوعات الحدیث وغیرہ کے انداز پر ذخیرہ قرآن و حدیث کو مرتب کیا گیا ہے۔ یہی صورت مسسائل فقہیہ پر ائمہ کی رائے اور ان کے دلائل کی ہے۔

اس کو کمپیوٹر میں داخل کرنے کے لیے طریق کار یوں بنایا گیا ہے وسیع مطالعہ کے بعد پہلے ہزاروں فقہی موضوعات معین کر لئے گئے ہیں، فقہی موضوعات کی تعیین میں جہاں کتبِ حدیث کے موضوعات سے استفادہ کیا گیا ہے وہاں کتبِ فقہ کے متداول موضوعات کو بھی شامل کر لیا گیا ہے۔ بعد ازاں احادیث و آیات کو اس مقصد کے لیے تیار شدہ مختلف کتابوں کی روشنی میں متعدد امکانی موضوعات کے تحت جمع کر دیا گیا ہے۔ اکثر اوقات یوں ہوتا ہے کہ ایک حدیث متعدد موضوعات میں مفید ہوتی ہے چنانچہ اس حدیث کو ان بیسیوں موضوعات کے تحت مربوط (Link) کر دیا جاتا ہے۔ تمام ذخیرہ نصوص سے اسی طرح ہی کیا گیا ہے۔ چنانچہ اب اگر کوئی محقق کسی موضوع پر شرعی نصوص کا تقاضا کریں تو اس موضوع کی موجودگی کے بعد اس کے تحت تمام مربوط نصوص چند لمحات میں میسر آ جاتی ہیں۔

ائمہ کے کسی موضوع پر اقوال و آراء کے ساتھ بھی یہی کیا گیا ہے۔ اس مقصد کے لئے جہاں متعدد ائمہ کے نام معین کر کے ان کے جملہ اقوال کو اس کے تحت جمع کر دیا گیا ہے وہاں مختلف موضوعات سے بھی ان کو مربوط کیا گیا ہے۔ اس مقصد کے لئے برے وسیع پیمانے پر کتب کی تحلیل یا تجزی پر عمل درآمد کیا گیا ہے۔ مثال کے طور پر کسی ایک کتاب کو ایک ماہر عالم کے حوالے کر کے اس سے تقاضا کیا گیا کہ وہ دیگر امدادی کتب کی روشنی میں اس کتاب کی تحلیل کر دے۔ جہاں جہاں ائمہ کے اقوال آئیں وہاں ان کو ایک مسلسل نمبر کے تحت لا کر ان کو علیحدہ جمع کر لے، جہاں ان کے دلائل موجود ہوں وہاں اس امام کے اور کتاب کے حوالے کے ساتھ اس کو دوسری ترتیب میں درج کر لے۔ یوں تو یہ کام بھی بڑا دقیق، وسیع اور محنت طلب ہے لیکن اس سے بھی زیادہ مشکل کام اتنے بہت سارے مواد کو مرتب رکھنا اور ضرورت پڑنے پر انہیں سامنے لانا ہے۔ یہی وہ خدمت ہے جو کمپیوٹر سے لی جا رہی ہے۔ واضح سی بات ہے کہ کمپیوٹر میں اگر مواد کو محفوظ کرنے کی اس قدر وسیع گنجائش موجود ہے تو لامحالہ اس کو بہتر انداز میں ترتیب میں رکھنے اور بَر موقع اس کو پیش کرنے کی سہولت بھی ہونی چاہئے۔ اور اس کام میں کمپیوٹر بہت مثالی کارکردگی پیش کرتا ہے۔

اس ضمن میں توجہ طلب بات یہ ہے کہ حضرت انسان نے کمپیوٹر کو مواد میسر کرنے یا داخل کرنے میں کوئی غلطی تو نہیں کھائی۔ موضوعات کے تحت اندراج میں دو امور کا خیال رکھنا بھی ضروری ہے: ایک تو CD بنانے والے ادارے نے کس قدر دِقت سے موضوعات تیار کئے ہیں، وہ موضوعات محدد ہیں یا عام، استعمال کنندہ کے طرزِ فکر کے قریب ہیں یا نہیں، مثال کے طور پر کوئی صاحب کسی ایک موضوع میں اپنے مطلوب تک پہنچنا چاہتے ہیں اور تیار کنندہ نے اس موضوع کو کسی اور ترتیب میں ذکر کر رکھا ہے۔ چنانچہ اس کے لیے تیار کنندہ کی طرف سے اپنی مصنوعات کی ایک دلیل Guide بڑے واضح انداز میں موجود ہونی چاہئے جو اسی CD میں موجود ہو، تاکہ استعمال کنندہ اس کے مطابق CD سے صحیح اور بروقت استفادہ کر سکے۔

دوسرے، یہ امر ملحوظ رہے کہ تیار کنندہ نے اس میں کس قدر کوالٹی کنٹرول کا اہتمام کیا ہے۔ اس قدر زیادہ مواد کو درست انداز مین پیش کر دینا واقعتا جان جوکھوں کا کام ہے۔ ایسا تو نہیں کہ کمپیوٹر کو ہدایات دیتے ہوئے کوئی کوتاہی ہو گئی اور سارا کام دھرا کا دھرا رہ جائے، اب کوئی فلاں امام کے اقوال طلب کرتا ہے تو کمپیوٹر کسی اور کے اقوال سامنے لے آئے، ان غلطیوں کا صرف امکان نہیں بلکہ قوی امکان نظر آتا ہے۔ اس لئے تیار کنندہ کی علمی ثقاہت، فنی مہارت اور معیار کی طرف خاص توجہ کو پیش نظر رکھ کر ہی ان جدید مصنوعات سے کماحقہ مستفید ہوا جا سکتا ہے۔ اس ضمن میں استعمال کنندگان کا مسلسل جوابی رابطہ (Feed Back) ان مسائل پر جلد قابو پانے میں بہت مفید ثابت ہو سکتا ہے۔

گذشتہ سال کویت کی وزارتِ اوقاف کے تحت 60 ہزار فقہی موضوعات پر مبنی ایک انسائیکلوپیڈیا جس میں مختلف موضوعات پر ائمہ کے اقوال، دلائل اور اُصول وغیرہ باحوالہ جمع کر کے ایک CD میں پیش کر دئیے گئے ہیں۔ متعدد اہم کتب میں موجود عبارتوں کو جدا جدا کر کے ایک فنی ترتیب کے ساتھ پیش کر کے محققین کے کام اور بحث و جستجو میں بہت سی آسانی پیدا کر دی گئی ہے۔ مثال کے طور پر اب شروطِ نکاح کا موضوع دے کر اس پر جملہ دلائل قرآنیہ و حدیثیہ کے ساتھ ساتھ تمام ائمہ کی آراء اور موقف بمعہ دلائل جو بے شمار امہاتِ کتب میں بکھرے ہوئے تھے، ایک بٹن کے بعد پردہ سکرین پر آپ کے سامنے صرف لمحہ بھر میں میسر آ سکتے ہیں۔ اسی طرح کسی ذیلی (فروعی) مسئلہ پر ذخیرہ احادیث کے تمام تر دلائل بھی چند منٹوں میں حاصل کئے جا سکتے ہیں۔ جہاں اس کے ساتھ ساتھ حدیث کی صحت و ضعف کی جملہ بحوث، رواۃ کا تفصیلی اور فنی تذکرہ اور علماء کی اس حدیث پر آراء وغیرہ بھی موجود ہوں گی۔

موضوع وار کتب کو کمپیوٹر کی CD میں پیش کر دینا واقعتا علم کی ایک بہت بڑی خدمت ہے۔ لیکن یہ امر واضح ہے کہ اصل کمال کمپیوٹر کا نہیں اور اصل سوال دلائل کا نہیں بلکہ ان کی انڈیکسنگ کر کے داخل کرنے والے حضرات کی علمی ثقاہت اور اعلیٰ اہتمام کا ہے۔ اگر یہ حضرات معلومات کو داخل کرنے کے عمل میں غلطی کرتے ہیں تو کمپیوٹر بھی لامحالہ غلطی ہی کرے گا، اس کا کام تو صرف اس مواد کو تیز رفتاری سے پیش کر دینا ہے۔

چونکہ یہ تمام تر CD ابھی صرف گذشتہ سال بھر کے عرصے میں منظر عام پر آئے ہیں اور ان کو استعمال کرنے والے بھی محدود ہیں، اس لیے ان سے استفادہ میں بڑا محتاط رہنا پڑتا ہے۔ جوں جوں اس کے استعمال کنندگان میں اضافہ ہو گا توں توں اس کے نقائص اور اغلاط کی نشاندہی ہو کر زیادہ بہتر صورت میں ان سے استفادہ کیا جا سکے گا۔ فی الوقت ان سے تیز رفتاری تحقیق کے لیے استفادہ تو کیا جا سکتا ہے، لیکن ان پر سو فیصد اعتماد کرنا مناسب رویہ نہیں۔ واقعتا ان CD میں بیشتر ایسی غلطیاں موجود ہیں جو کثرت کے ساتھ ساتھ بڑی فاش بھی ہیں۔ اگر معلومات کا داخل کنندہ کسی قول کو درج کرنے میں غلطی کھا جاتا ہے اور چیکنگ کرنے والے حضرات بھی اس سے صرفِ نظر کر جاتے ہیں تو تب یہ قول بالکل بدل ہو جائے گا۔ واقعتا اس قدر وسیع اور کثیر کام میں ہر ہر مقام پر چیکنگ کا وہ اعلیٰ معیار قائم رکھنا مشکل امر ہے جو کسی چھوٹے درجے کے کام میں آسانی سے ہو جاتا ہے۔ اسی طرح مشینری کی وجہ سے بھی غلطیوں کے امکانات بڑھ جاتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ کمپیوٹرز کی بڑی کمپنیاں اپنے پروگرام باقاعدہ پیش کرنے سے قبل تجرباتی بنیادوں پر تقریبا چھ ماہ تک صارفین کو مہیا کرتی ہیں تاکہ کسی امکانی کوتاہی کی وجہ سے کمپنی کے نام اور اعتماد کو ٹھیس نہ لگے۔ صارفین کی کثرت کی وجہ سے ان کے لیے تو یہ تجرباتی دورانیہ (Experimental Period) ممکن ہے لیکن اسلامی موضوعات والے پروگراموں کے بارے میں اس طرح آسانی سے یہ کام بھی ممکن نہیں۔ اس کے باوجود ان عالمی کمپنیوں کے پروگرام بھی سال بھر تک مختلف تبدیلیوں اور ارتقاءات کا تختہ مشق بن کر تدریجا کسی مستند مقام تک پہنچتے ہیں۔ کمپیوٹر کی داخلی پیچیدگی اور ہدایات کی اَن گنت تعدادبھی اس کی اہم وجہ ہے جس کو کنٹرول کر لینا بڑے ہمت اور جان جوکھوں کا کام ہے۔

چنانچہ راقم کی رائے میں ان CDs کو زیادہ سے زیادہ استعمال کر کے متعلقہ اداروں کو اس کی درستگی کی زیادہ سے زیادہ تجاویز ارسال کی جائیں تاکہ ان کا معیار مسلمہ اور ثقہ ہو سکے۔ فی الوقت یہ پروگرام ایک دلیل Key سے بڑھ کر نہیں جو آپ کو صرف امکانات مہیا کرتے ہیں، اس کی حتمی تعیین کتب کی روشنی میں ہی انجام پذیر ہو سکتی ہے۔ واضح تر الفاظ میں مطلوبہ مواد کی تیز رفتار تلاش کے باوجود وہاں موجود حوالہ جات کو طبع کر کے ان کو اصل کتب سے کنفرم کیا جانا اشد ضروری ہے۔ لیکن ان پروگراموں کا Key کے طور پر استعمال کیا جانا بھی ایک حیرت انگیز سہولت ہے جس نے ایک بہت بری درد سری اور محنت و مشقت کو کم کر دیا ہے۔

کیا کمپیوٹر کتب کی جگہ لے سکتا ہے؟

یہاں یہ سوال بھی اہم ہے کہ آیا کمپیوٹر پر پیش کردہ کتب جنہیں اصطلاح میں " المكتبات الاليكترونية " یا Digital Library کہا جاتا ہے اور جس کی بعض خصوصیات محیر العقول ہیں، جس میں مالیت کی بچت، تلاش میں آسانی، حجم کی کمی اور بےشمار مواد کی جمع بندی وغیرہ نمایاں ہیں لیکن اس کے ساتھ ساتھ علم و سائنس کو اس کے ذریعے بعض ایسے وساوس اور اندیشوں کا بھی سامنا ہے جو کتاب کی اہمیت کو دو چند کر دیتی ہیں۔ مثال کے طور پر یہ امر مسلمہ ہے کہ کمپیوٹر میں غلطی کا امکان بہرصورت دیگر وسائل اشاعت کی بابت بہت زیادہ ہے۔ اسی طرح تحریفِ کتب بھی قدرے آسانی سے ممکن ہے۔ مشین پر ہونے کے ناطے اس کی پائیداری سادہ وسائل اشاعت کے مقابلے میں قدرے کم ہے۔ کتاب کو ہر طرح سے ہر صورتحال میں پڑھا جا سکتا ہے، لیکن کمپیوٹر کے لیے بہرحال مخصوص شرائط و صورتحال ضروری ہیں جو ہر ہر جگہ اور ہر ہر موقعہ پر بآسانی دستیاب نہیں ہوتیں۔
کاغذ کی ایجاد سے لے کر آج تک انسان کو کاغذ پر پڑھنے کی جو روایتی تربیت اور عادت ہو چکی ہے۔ پردہ سکرین پر اس کو بدلنے میں بھی کافی وقت لگے گا۔ ان وجوہات کی بنا پر یہ کہا جا سکتا ہے کہ کمپیوٹر علم و تحقیق کے لیے ایک اضافی وسیلہ تو ہے لیکن کاغذ و کتاب کا نعم البدل نہیں ہو سکتا۔

ایک غور طلب اَمر

کمپیوٹر پر تلاش و تحقیق کے حوالے سے پیش کردہ مندرجہ بالا مبحث سے یہ امر بخوبی واضح ہو جاتا ہے کہ صرف 3 سال قبل عالم وجود میں آنے والی ایجاد CD پر اس قدر زیادہ سہولیات ممکن ہیں اور دنوں کا کام لمحات میں ممکن ہوتا نظر آ رہا ہے تو آئندہ چند برس کے عرصے میں جہاں جملہ کتب کو یہ کمپیوٹر اپنے احاطہ میں لے لے گا وہاں اس سے غافل رہ جانے والے حضرات اپنے معاصرین کی بہ نسبت بڑی کمتر کارکردگی پیش کر سکیں گے۔

ہمارے پیش نظر موضوع ایسا ہے جو کمپیوٹر کی عالمگیر وسعت کے مقابلے میں ایک انتہائی مختصر اور محدود نوعیت کا ہے یعنی "اسلامی علم و تحقیق اور کمپیوٹر" لیکن اس موضوع پر دو تین برسوں میں اس قدر کام کیا جا چکا ہے جس کی ایک جھلک پیچھے گزر چکی ہے تو جدید علوم کی بابت اندازہ لگانا کوئی مشکل نہیں کہ ان میں کیا کچھ پیش کیا جا چکا ہو گا جبکہ وہ اس نوعیت کے علوم بھی ہیں جو کمپیوٹر کے موجدین کی ذاتی دلچسپی کے حامل ہیں۔ چنانچہ ان علوم میں ارتقاء کی رفتار آئندہ برسوں میں بہت تیز تر ہوتی نظر آتی ہے۔

یہاں اس اَمر کی طرف اشارہ ضروری معلوم ہوتا ہے کہ اب تک کتابوں کی چھان بین اور مطلوبہ مواد تک رسائی کو ہی نصفُ العلم سمجھا جاتا تھا۔ ذخیرہ کتب میں سے ایک موضوع پر جملہ مواد میسر آ جانے پر عموما اس موضوع کی واضح اور متوازن صورت سامنے آ جاتی ہے۔ لیکن اب جدید کمپیوٹر کے تناظر میں یہ کوئی کام نہیں رہے گا کہ مطلوبہ مواد تک کیونکر پہنچا جائے۔ بلکہ مطلوبہ مواد تک ہر عام سی اہلیت رکھنے والا شخص بھی رسائی کر سکے گا۔

اس سے واضح ہوتا ہے کہ آئندہ دور تلاش و جستجو کا نہیں بلکہ تخلیق و تحقیق کا ہو گا اور وہ حضرات دنیا میں نمایاں ہوں گے جو صرف جمع و تدوین پر اکتفا کی بجائے تحقیق و تخلیق کا عمل انجام دیں گے۔ دوسرے لفظوں میں آئندہ صدی تخلیق یعنی Creation کی صدی ہے۔ کمپیوٹر نے آ کر Search اور تلاش کا باب ہر کم علم و زود علم کے لیے کھول دیا اور آسان کر دیا ہے۔ آئندہ مقابلہ، اس مواد سے بہتر نتائج اَخذ کرنے اور اس کو زمانے کے چیلنجز سے بہتر طور پر ہم آہنگ کرنے کا ہے۔ یوں تو یہ اصول ہر ہر موضوع زندگی میں اثر انداز ہو رہا ہے کیونکہ علم کے اس قدر ارتقاء اور وسائل علم کی اس قدر فراوانی کے بعد انسان کا مقابلہ معلومات کا مقابلہ نہیں رہے گا بلکہ فکروعقل کی برتری اور قوتِ متخیلہ و تحقیقیہ کی فوقیت پر نتیجہ پذیر ہو گا۔ علماء اور دیندار طبقہ کو زمانے کی اس بدلتی روش کو دیکھتے ہوئے اس کی ابھی سے تیاری اور پیش بندی کر لینا چاہئے ورنہ لادین قوتوں کے تسلط کا عرصہ مزید دراز ہو سکتا ہے۔

Digital Publication یعنی الیکٹرانک اشاعتِ علم

کمپیوٹر کی آمد کے بعد یہ بالکل ایک جدید تصور ہے جس پر ترقی یافتہ قومیں بڑی یکسوئی سے عمل درآمد شروع کر چکی ہیں۔ کمپیوٹر کی لگاتار قیمتیں کم ہونے کی وجہ سے یہ اندازہ لگانا چنداں مشکل نہیں کہ آئندہ چند برسوں میں ہر ذمہ دار گھرانہ میں ایک کمپیوٹر ضرور موجود ہو گا۔ ترقی یافتہ قوموں میں فی الوقت یہ صورتحال رونما ہو چکی ہے۔ مواصلات اور ابلاغیات کے باب میں حیرت انگیز تبدیلیوں اور نئے رجحانات کے بعد "گلوبل ولیج" کا تصور پورا ہونے کو ہے۔ آئندہ اوراق میں انٹرنیٹ کے ضمن میں جہاں اس موضوع پر تفصیل سے روشنی ڈالی جائے گی وہاں کمپیوٹر پر اشاعتِ کتب کا موضوع بھی خصوصیت سے قابل توجہ ہے۔

زمانے کی نبض بھانپتے ہوئے اور دورِ جدید کے تقاضوں کا سامنا کرتے ہوئے شدید ضرورت اس امر کی ہے کہ دینی لٹریچر بھی بہت زیادہ تعداد میں کمپیوٹر پر لایا جائے۔ جہاں اس کی لاگت حیرتناک حد تک انتہائی کم ہے وہاں اس کا طریقہ بھی بہت سادہ ہے۔ بڑے افسوس کا مقام ہے کہ ہماری قومی زبان اردو میں جو عام پاکستانی قوم کی زبان ہے، کوئی ایسی قابل ذکر CD موجود نہیں جس پر کوئی دینی لٹریچر موجود ہو۔ اول تو اس کا وجود ہی ناپید ہے، ثانیا ایسے Tools بھی بڑے نادر ہیں جن کے ذریعے اردو میں CD تیار کی جا سکیں۔ جب کہ حقیقت یہ ہے کہ اردو اپنے دامن میں دینی لٹریچر کا ایک عظیم ذخیرہ سمیٹے ہوئے ہے جن میں سے بعض کی مثال بھی دیگر زبانوں کے لٹریچر حتیی کہ عربی میں بھی موجود نہیں۔ اردو جو جنوبی ایشیا کی مسلمان قوم کے رابطہ کی واحد زبان ہے، سے یہ صرفِ نظر ایک سنگین قومی غفلت بلکہ جرم ہے۔

CD-Rom کے بارے میں جیسا کہ ابتدائی طور پر ذکر کیا جا چکا ہے کہ یہ ایسی مختصر حجم والی کیسٹ ہے جس میں محو و اضافہ ممکن نہیں۔ آخری جملہ کا مطلب یہ نہیں کہ اس میں کچھ ریکارڈ ہی نہیں کیا جا سکتا بلکہ یہ ہے کہ ایک بار ریکارڈ کرنے کے بعد اس کو مٹایا یا تبدیل نہیں کیا جا سکتا۔ چنانچہ بڑی کم قیمت میں بازار میں ایسے آلات میسر ہیں جن سے CD پر مطلوبہ ریکارڈنگ کی جا سکتی ہے۔ اور جیسا کہ میں ذکر کر چکا ہوں کہ اس کی ریکارڈنگ کے بعد مجموعی لاگت 100 روپے سے بھی زیادہ نہیں بنتی۔ چنانچہ اول تو پرنٹنگ پریس کی صورت میں جو یہ مشکل موجود تھی کہ کسی کتاب کو چند نسخوں کی تعداد میں شائع کرنا بڑا مہنگا پڑتا تھا، اب یہ صورت یہاں نہیں ہے۔ بلکہ ایک کتاب کے 5 یا 10 نسخے بھی تقریبا اسی قیمت پر تیار ہو سکتے ہیں جس پر ہزاروں نسخے۔

جہاں تک مواد پیش کرنے کا تعلق ہے تو انگریزی اور عربی میں CD کی تیاری کوئی پیچیدہ مسئلہ نہیں۔ گذشتہ دنوں کراچی کے ایک ادارے نے Urdu98 کے نام سے ایک پروگرام متعارف کرا کے اردو کا مسئلہ بھی بڑی حد تک حل کر دیا ہے۔ لیکن فی الوقت اس پروگرام کی قیمت 15 ہزار کے لگ بھگ ہے جو آئندہ چند ماہ میں کافی کم ہونے کا امکان ہے۔ علاوہ ازیں اردو پبلشنگ کے ممتاز پروگرام Inpage کے نئے ورژن 2 کی صورت میں بھی اس مسئلے کا مستقل حل ہو جانے کا قوی امکان ہے۔

اس امر کی ضرورت بہرحال موجود ہے کہ پیش کئے جانے والے مواد کو پڑھنے کے قابل صورت میں لایا جائے یعنی اس کی کمپیوٹر کتابت کی جائے۔ اس کتابت کے بعد اس کو کمپیوٹر CD کی شکل میں لانا اور اس کو تلاش و بحث کے قابل بنانا چنداں مشکل نہیں۔ عربی اور انگریزی میں تو یہ سہولت بھی موجود ہے کہ کتاب اگر مطبوع صورت میں موجود ہے تو کمپیوٹر از خود اس کو پڑھ کر ٹائپ کر لیتا ہے۔ جس کے لیے 10 ہزر کی مالیت کا فقط ایک سکینر درکار ہوتا ہے۔

بعض لوگ یہ بھی کہتے سنائی دیتے ہیں کہ کمپیوٹر مہنگا ہونے کی وجہ سے اس سے استفادہ مشکل ہے۔ اس بارے میں عرض ہے کہ فی الوقت بہترین اور اعلیٰ کمپیوٹر کی مالیت صرف تیس ہزار کے لگ بھگ ہے اور اس میں وہ سب کام کئے جا سکتے ہیں جن کا ذکر گذشتہ اوراق میں گزرا ہے۔ کمپیوٹر پر کتب کو لانے کے پروگرام اس قدر کثرت سے اور معیاری سہولتوں کے ساتھ مارکیٹ میں آ چکے ہیں کہ اگر کسی زبان میں مواد موجود ہو تو معمولی سی محنت سے اس کو بڑے عالمی معیار پر CD میں پیش کیا جا سکتا ہے۔ اس کے طریقہ کار کی ٹریننگ کے لیے کیس بھی کمپیوٹر آپریٹر کو فقط ایک ہفتہ درکار ہے۔ قارئین کی فنی اصطلاحات سے ناواقفی کی وجہ سے اور ایک عمومی تبصرہ ہونے کے ناطے اس طریق کار کو یہاں ذکر نہیں کیا جا رہا، خواہشمند حضرات اس بارے میں رابطہ کر کے مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام قائم کمپیوٹر انسٹیٹیوٹ میں اس کی ہفتہ بھر میں ٹریننگ بھی حاصل کر سکتے ہیں۔ یہ اَمر پیش نظر رہے کہ اگر کوئی ادارہ اس کام کا خواہاں ہے تو اسے بہرطور اس کام کے لیے کچھ افراد کو یکسو ضرور کرنا ہو گا کیونکہ یہ ایک مستقل کام ہے جس کے تقاضے اور رجحانات خصوصی توجہ و اہتمام کے متقاضی ہیں۔

المختصر کتاب کی ٹائپنگ اور پروف ریڈنگ کے بعد اس کو CD کی مشکل میں لے آنا کوئی اہم مسئلہ نہیں، چنانچہ دینی اداروں کو جہاں طباعتِ کتاب پر توجہ دینی چاہئے وہاں اس سے 20 گنا کم لاگت میں CD پر کتاب کی تیاری کو بھی مدنظر رکھنا چاہئے۔ لاگت کے اس فرق کی موٹی سی وجہ یہ ہے کہ CD کی اپنی مالیت کچھ نہیں جب کہ کتاب میں کاغذ، اشاعت و جلد بندی کی صورت میں وسائل طباعت کے اخراجات ہی بذاتِ خود بہت بڑھ جاتے ہیں۔ علاوہ ازیں ایک ہی CD میں ہزاروں اوراق سما سکتے ہیں اور محفوظ ہو سکتے ہیں۔ جس طریق کار کی طرف راقم اشارہ کر رہا ہے اس کے ذریعے جہاں کسی کتاب کا مطالعہ CD یا انٹرنیٹ کے ذریعے ممکن ہو گا وہاں اس میں الفاظ کے ذریعے بحث (Seacrh) بھی ممکن ہو گی۔ لیکن موجوع وار بحث کے انداز پر CD کی تیاری کے لئے پوری کتاب کی انڈیکسنگ ضروری ہے۔

کتابوں کی حفاظت بذریعہ کمپیوٹر

علم و تحقیق کا جب تذکرہ ہو تو وہاں مخطوطات Manuscripts کا ذکر بھی آتا ہے۔ گذشتہ برسوں میں ان کی حفاظت اور تصور کے لیے مائیکرو فلم متعارف کرائی گئی، جو ایک بڑی مالیت کی متقاضی ہے۔ لیکن کمپیوٹر کے ساتھ ایک آلہ لگایا جاتا ہے جو تصویر کو کمپیوٹر میں داخل کرنے کے کام آتا ہے، اس کو Scanner کہتے ہیں۔ اس کے ذریعے جہاں کتب کو مکمل تصویر کی صورت میں اٹھا کر کے CD میں محفوظ کیا جا سکتا ہے وہاں ان کتب کو کمپیوٹر پڑھ کر اَز خود ٹائپ بھی کر سکتا ہے جس میں بعد ازاں ہر اضافے کی گنجائش اور ہر طرح کی تبدیلی اور محو و اضافہ ممکن ہوتا ہے۔ اگر اس کی مکمل تصویر لی جائے تو ایک CD میں اس طرح کم و بیش 5،6 ہزار صفحات سما سکتے ہیں۔ اور بطور عبارت کے محفوظ کیا جائے تو 50 ہزار صفحات بھی سما سکتے ہیں۔ اس طرح عبارت Text اور تصویر کی صورت میں محفوظ کرنے میں 10:100 کی نسبت ہے۔

تصویر کی صورت محفوظ کرنے میں موجود عبارت کو الفاظ و کلمات کی مدد سے تلاش نہیں کیا جا سکتا بلکہ صرف بعینہ محفوظ ہی کیا جاتا ہے اور واقعتا مخطوطات کو بعینہ محفوظ کرنا ہی ضروری ہوتا ہے۔ مائیکروفلم کی بہ نسبت یہ ایک بہت سستا اور آسان حل ہے۔ مائیکروفلم کی طرح اس کا حجم بھی بہت مختصر ہے لیکن اس کی حفاظت و اہتمام کے تقاضے اتنے زیادہ نہیں بلکہ مائیکروفلم کی بہ نسبت یہ زیادہ پائیدار واقع ہوئی ہے

آڈیو CD-Rom

CD کا استعمال دیگر سمعی و بصری مقاصد کے لیے بھی متداول ہے لیکن اپنے موضوع سے قدرے علیحدہ ہونے کی وجہ سے اس کی تفصیلات کسی اور موقع پر پیش کی جا سکتی ہیں۔ چونکہ بعض دینی ادارے آڈیو کیسٹس کا اہتمام کرتے ہیں اس لیے بالاختصار اس موضوع پر چند نکات درج ذیل ہیں:
آڈیو کیسٹس کے حوالے دو طرح کی CDs زیر استعمال ہیں:
(1)ایک صورت تو اس CD کی ہے جو کافی برسوں سے آڈیو CD کے طور پر زیراستعمال ہے۔ یہ صرف آڈیو کیسٹ کی ایک قدرے اعلیٰ شکل ہے جس میں آواز کا معیار عام ٹیپ ریکارڈ کی کیسٹ سے بہتر ہے لیکن اپنی گنجائش کے لحاظ سے یہ بھی گھنٹہ بھر کی ریکارڈنگ ہی محفوظ کرتی ہے۔ اس کو سننے کے لیے کمپیوٹر ضروری نہیں بلکہ جدید ٹیپ ریکارڈ جس میں اس کی سہولت موجود ہو کو بھی استعمال کیا جا سکتا ہے۔
(2) CD کی دوسری صورت دراصل مفید اور قابل استعمال شے ہے لیکن یہ صرف کمپیوٹر میں استعمال ہو سکتی ہے۔ اس میں مختلف طریقوں سے 100 گھنٹوں کے قریب ریکارڈنگ ہو سکتی ہے۔ اس کی مالیت اور طریق کار بعینہ وہی ہے جو کتب کی CD کا ہے۔
ریکارڈنگ کرنے اور ماسٹر کیسٹ تیار کرنے والے حضرات کافی بڑی مالیت سے مخصوص آلات خریدتے ہیں جن کے ذریعے آواز کی Editing کی جاتی ہے۔ یعنی اس میں معیار اور گونج وغیرہ پیدا کی جاتی ہے۔ کمپیوٹر میں چند بڑے سادہ سافٹ وئیرز کی مدد سے بڑے اعلیٰ معیار کا آڈیو سٹوڈیو تیار کیا جا سکتا ہے اور اس کی CD تیار کر کے یا آڈیو کیسٹ تیار کر کے مارکیٹ میں پیش کی جا سکتی ہیں۔
جدید ٹیکنالوجی کے استعمال میں صارف اور تیار کنندہ ہر دو کے لئے بچت ہے۔ آڈیو کیسٹ کا اہتمام کرنے والے اداروں کو اس ٹیکنالوجی کی طرف توجہ دینا ضروری ہے ۔۔۔
(آئندہ مضمون میں دوسرے حیرت انگیز وسیلہ علم و تحقیق "انٹرنیٹ" پر گفتگو ملاحظہ فرمائیے!)


[1] صخر کمپنی جو 80 کی دہانی میں خصوصی اسلامی کمپیوٹرز بھی تیار کرتی تھی، سعودی، مصری اور جاپانی قوم کی اجتماعی کاوشوں کا حاصل ادارہ ہے۔ سعودی عرب کی سرمایہ کاری Financing مصر کے وسائل انسانی Human Resources اور جاپان کی ٹیکنیکل مہارت اور نگرانی کی صورت میں تشکیل پذیر ہونے والا یہ ادارہ جس کا صدر دفتر قاہرہ میں ہے، علم اسلامی عربی کی زیادہ تر کمپیوٹر ضروریات کی تکمیل کر رہا ہے۔ اور بجا طور پر "اسلامی کمپیوٹنگ" کا اعلیٰ ترین ادارہ کہلایا جا سکتا ہے۔ اس ادارے کے زیر اہتمام عام عربی کمپیوٹر پروگرام کے ساتھ ساتھ باقاعدہ اسلامی کمپیوٹنگ کی ایک مضبوط ذیلی برانچ قائم ہے۔ صخر کمپنی کے Computer Softwares کا اعلیٰ ترین معیار اور وسیع تر دائرہ کار ان کی اعلیٰ ٹیکنیکل مہارت کا منہ بولتا ثبوت ہیں۔ کویت، امارات، سعودی عرب اور اس خطے کی کمپیوٹر ضروریات اور زیادہ تر یہی ادارہ پوری کر رہا ہے حتی کہ بعض اہم ترین کمپیوٹر پراجیکٹ بھی اس کے تعاون کے بغیر ناقابل تکمیل تصور کئے جاتے ہیں۔ مثال کے طورپر کویت کی وزارتِ اوقاف کے تحت تیار کیا جانے والے الموضوعة الفقيهة کو CD کی صورت میں صخر کمپنی کے فنی تعاون کے ذریعے ہی لایا گیا ہے۔ اسی طرح اقتصادِ اسلامی پر تیار کردہ اسلامی سافٹ وئیر کو مشہور عربی کمپنی دلة البركة الصخر کمپنی کے فنی تعاون سے ہی پایہ تکمیل کو پہنچایا ہے۔ یوں تو مختلف اسلامی سافٹ وئیرز کمپنیز کا تعارف ایک مستقل جداگانہ موضوع ہے لیکن ضروری تعارف کی حد تک یہاں وہ تبصرہ مختصرا پیش کیا جاتا ہے:

صخر کمپنی کی علمی ثقاہت اور فنی مہارت تو ایک مسلمہ امر ہے، جس کی جملہ تفصیلات انٹرنیٹ پر www.sakhr.com کے پتے پر ملاحظہ کی جا سکتی ہیں۔ اس کے بعد بیروت کی شركة العريس کا نام آتا ہے۔ یہی وہ کمپنی ہے جس نے ایک عرصہ تک کمپیوٹر عربی پبلشنگ کے اعلیٰ ترین سافٹ وئیر ابجد کو تیار کر کے عربی مارکیٹ پر اپنا قبضہ جمائے رکھا۔ بنیادی طور پر یہ کمپنی دو دیندار بھائیوں کی کاوشوں کا نتیجہ ہے۔ صخر کمپنی جو کسی اسلامی تشخص کی بجائے صرف مارکیٹ کی ضروریات کی بہتر تکمیل کی پالیسی پر کام کرتی ہے، کے برعکس اس کمپنی کا دائرہ کار صرف اسلامی پروگراموں تک محدود ہے۔ زیادہ تر متونِ کتب اس کمپنی نے CD پر فراہم کئے ہیں۔ لیکن افسوس کہ یہ وہ صرف متونِ کتب کی پیشکش پر ہی انحصار کر رہی ہے، اس کے تیار کردہ CDs میں متن کی ثقاہت اور فنی مہارت میں بہتری کی بہت گنجائش موجود ہے۔ بہرحال دوسرے نمبر پر اس کمپنی کی پراڈکٹس مارکیٹ میں بڑی تعدادمیں میسر ہیں۔ اپنے موضوع کی نسبت سے اس کے زیادہ تر صرف علماء کرام اور دیندار حضرات ہی ہیں۔ افسوس کہ اسلامی کمپیوٹر کے طور پر گنتی کی چند ایک کمپنیوں کے علاوہ عالمی معیار کی کوئی مزید کمپنیاں نہیں ہیں۔ ان میں پبلشنگ کے زیادہ تر پروگرام بیروت اور برطانیہ میں، کمپیوٹر استعمال کے عام عربی پروگرام تقریبا تمام ہی امریکہ کی کمپنی Microsoft میں اور عام عربی قوم کی علاقائی ضروریات کے سافٹ وئیرز مصر اور عرب امارات میں تیار ہو رہے ہیں۔ یہ پراگرام زیادہ تر ریاض، امارات اور بیروت میں دستیاب ہوتے ہیں۔