عیدالاضحیٰ کی آمد آمد ہے اور رؤیتِ ہلال کے بارے میں بحثوں کا سلسلہ پھر سے جاری ہے۔ سرحد کے لوگ اگر اپنی رؤیت کے اعتبار سے دینی تہوار منانے پر مصر ہیں تو دوسری طرف وحدتِ امت کے تقاضے کے طور پر تمام عالم اسلام میں ایک ہی دن مذہبی تہوار بالخصوص عیدیں منانے کا مطالبہ بھی سنائی دے رہا ہے۔ یوں تو صدیوں سے مسلمان رؤیت ہلال پر مبنی اپنی مستقل تقویم Calender پر عمل کرتے آ رہے ہیں، اسی طرح مخصوص تہواروں کے حوالے سے بھی امت مسلمہ کا ایک واضح موقف ہے۔ چنانچہ دیگر اسلامی ممالک میں بھی یہ مسئلہ کچھ اس طرح سے موضوع بحث نہیں جس طرح وطن عزیز میں اس پر گرما گرم بحث ہوتی ہے جس کی کچھ مخصوص علاقائی وجوہات بھی ہیں چنانچہ ضروری ہے کہ اس مسئلے کا پاکستان کے مخصوص پس منظر میں جائزہ قارئین کے سامنے پیش کیا جائے، تاکہ شرعی دلائل اور موقف کے متعلق کسی شک و شبہ کا امکان نہ رہے، اس کے باجود دینی تقاضوں اور حکمتوں سے بے خبر اپنی بانسری الگ بجانے والوں کو کوئی روک نہیں سکتا کہ وہ جو جی میں آئے، کہتے پھریں ۔۔۔
ان ادارتی صفحات میں پہلے تو وہ مراسلت شائع کی جا رہی ہے جو مرکزی رؤیتِ ہلال کمیٹی کے چئیرپرسن مولانا عبداللہ رحمۃ اللہ علیہ اور حافظ صلاح الدین یوسف کے مابین ان مسائل پر ہوئی۔ بعد میں اس مغالطے کی شرعی حیثیت بھی بالاختصار پیش کی گئی ہے کہ "کیا عالم اسلامی میں ایک ہی دن عید منانے کی گنجائش موجود ہے" محدث کو اس موضوع سے خصوصی مناسبت اس لئے بھی ہے کہ ایک طرف مدیر اعلیٰ محدث اگر مرکزی رؤیتِ ہلال کمیٹی کے رکن ہیں تو دوسری طرف حافظ صلاح الدین یوسف صاحب بھی ایک عرصہ یہ ذمہ داری ادا کرتے رہے ہیں۔ اس طرح ہر دو فاضل حضرات رؤیتِ ہلال کے شرعی تقاضوں کے ساتھ ساتھ واقعاتی طور پر پیش آنے والے مسائل سے بھی آگاہی رکھتے ہیں۔ زیرنظر تحریر اگرچہ اس موضوع پر مکمل جامع نہیں اور بہت سے شبہات و اعتراضات کی بابت مزید وضاحت کی ضرورت باقی ہے لیکن ایک بنیادی بحث ہونے کے ناطے میں اس میں کافی اُصولی باتیں آ گئی ہیں، عنقریب اس موضوع کے دیگر تشنہ حصوں کو بھی محدث میں شائع کیا جائے گا۔ اس حوالے سے قارئین کے پاس اگر کوئی استفسارات ہوں تو وہ بھی ارسال کر سکتے ہیں ۔۔۔ (حسن مدنی)
استفتاء مولانا محمد عبداللہ رحمۃ اللہ علیہ (چئیرپرسن مرکزی رویتِ ہلال کمیٹی، پاکستان و خطیب مرکزی جامع مسجد، اسلام آباد)
حامدا و مصليا و مسلما ۔۔۔ السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
حضرات علماء کرام اور مفتیان شرعِ متین سے رؤیتِ ہلال کمیٹی کے باب میں رہنمائی کی درخواست کی جاتی ہے کیونکہ جب سے مجھ پر رؤیتِ ہلال کمیٹی کے چئیر پرسن کی حیثیت سے روزہ اور عید وغیرہ کے چاند کے بارے میں فیصلہ کرنے کی ذمہ داری آن پڑی ہے تو میں نے یہ تہیہ کیا ہے کہ اس ذمہ داری کو شریعت کے مطابق پورا کرنے کی ہر ممکن کوشش کروں گا ۔۔۔ ان شاءاللہ!
(1) صوبہ سرحد کے بعض علاقوں میں حکومتی کمیٹی کے فیصلوں پر عمل نہیں ہوتا بلکہ انہوں نے آپس میں اپنی کمیٹیاں بنائی ہوئی ہیں جن کے فیصلوں پر وہ عمل کرتے ہیں۔ ایسی کمیٹیوں کے وجودہ کے بارے میں شریعت کا کیا حکم ہے؟
(2) مذکورہ کمیٹیوں کے فیصلوں کا طریقہ یہ ہے کہ وہ صرف گواہوں کی عدالت پر فیصلہ سنا دیتی ہیں اور اس فیصلہ میں ان کے بقول یہ دیکھنا بھی ضروری نہیں ہے کہ چاند درائتی قواعد کے مطابق نظر آنا بھی ممکن ہے یا نہیں؟ اور اس کی ولادت بھی ہوئی ہے یا نہیں؟ یعنی وہ اُفق پر موجود بھی ہے یا نہیں؟
اب ایسی واضھ بات (جس پر سارے علماء فلکیات متفق ہیں اور ان میں اس پر کوئی اختلاف نہیں پایا جاتا نیز اسی ولادتِ قمر پر سورج گرہن کا بھی انحصار ہے جو لاکھوں کا مشاہدہ ہوتا ہے کہ بالکل اسی وقت ہوتا ہے جس پر ولادتِ قمر کا وقت بتایا جاتا ہے) کو بھی اگر وہ حضرات قابل اعتبار نہیں سمجھتے تو دوسرے درائتی قوانین جن کا درجہ اس قانون سے بھی کہیں کم تر کا ہے، یہ حضرات ان کا کیا خیال رکھ  سکتے ہیں؟ جواب طلب بات یہ ہے کہ کیا ہم اس مسئلے میں ان کی تقلید کر سکتے ہیں کہ صرف گواہوں کی عدالت پر ہی فیصلہ کر دیں اور یہ نہ دیکھیں کہ چاند درائتی قوانین کے مطابق نظر آ سکتا ہے یا نہیں؟ اور وہ اس روز افق پر موجود بھی ہے یا نہیں؟
یہاں مشکل بات یہ ہے کہ اگر ولادتِ قمر سے پہلے چاند کے نظر آنے کا اعلان کر دیا جائے تو اگلے روز چاند کے واضح طور پر آنے کی اُمید نہیں ہوتی جس سے یہ تفاصیل جاننے والے حضرات بہت پریشان ہوتے ہیں اور ان میں بعض شرعِ متین کی توہین کے مرتکب بھی ہو سکتے ہیں۔
مثال کے طور پر رات کو چاند 9:57 پر پیدا ہونے والا تھا، اس لیے اگلے دن باوجود موسم صاف ہونے کے جیسا کہ فلکیات کے ماہرین بتاتے تھے صوبہ سرحد میں کہیں بھی چاند نظر نہیں آیا تھا حالانکہ ہر جگہ اس کے دیکھنے کی پوری کوشش کی گئی تھی اور جیسا کہ توقع تھی کہ چاند کی اطلاع کراچی اور بلوچستان سے آ سکتی ہے چنانچہ وہیں سے شہادتیں وصول ہوئیں اور ان کی شہادتوں پر میں نے چاند کے نظر آنے کا اعلان کیا تھا۔
ان علماء کرام کا مطالبہ ہے کہ ہم بھی اُن کی شہادتوں کو لے کر ان پر فیصلہ کریں جس کے لیے اس دفعہ انہوں نے پوری کوشش کی لیکن ولادتِ قمر سے پہلے چاند کے نظر نہ آنے کا سو فیصد یقین ہونے اور پورے ملک میں چاند کے کہیں اور سے نظر نہ آنے کے باوجود اگر ہم ان کا یہ مطالبہ مان لیں تو کیا شریعت اس فیصلہ کو تسلیم کرے گی؟ اس ضمن میں یہ بھی ایک مشکل ہے کہ چاند نظر آنے یا نہ آنے کا فیصلہ قاضی کی شرح صدر پر ہوتا ہے۔ ایسی بدیہی رکاوٹوں کے ساتھ قاضی کا شرحِ صدر کیسے ممکن ہو سکتا ہے؟
(3) ان کے برعکس دوسری طرف کچھ علمائے کرام یہ فرماتے ہیں کہ ایسی صورت میں جب کہ چاند کی پیدائش ہی نہ ہوئی ہو اور غروبِ شمس کے وقت وہ اُفق پر موجود ہی نہ ہو تو پھر آنے والی شہادتوں پر خوب جرح کر کے تحقیق کی جائے کہ کہیں ان حضرات کو دیکھنے کا سہو تو نہیں ہوا، اس کے بعد فیصلہ قاضی اپنے شرحِ صدر پر کرے۔
میرا سوال یہ ہے کہ کیا صوبہ سرحد کی غیرحکومتی کمیٹی کے علمائے کرام کی بات کو اس طرح تسلیم کیا جائے اور درائتی مسلمہ قواعد کو ترک کر کے صرف عادل شواہد پر فیصلہ کیا جائے یا دوسرے علماء کرام کی بات مانی جائے کہ مسلمہ درائتی قواعد کے مطابق جس دن غروبِ آفتاب سے پہلے چاند کی ولادت نہ ہوئی ہو یا چاند اس دن سورج مغرب ہونے سے پہلے غروب ہو چکا ہو تو اُس دن چاند نظر آنے کی جملہ شہادتوں کو قبول نہ کیا جائے۔ اس میں ہماری رہنمائی فرمائیں اور اپنی تحقیق اور حتمی رائے قرآن و حدیث کی روشنی میں عطا فرمائیں۔ یہ چونکہ پورے ملک کا مسئلہ ہے اس لیے درخواست ہے کہ اس پر ترجیحی طور پر توجہ فرما کر جلد جواب سے سرفراز فرمائیں، میں آپ کا ممنون ہوں گا۔ جزاکم اللہ
جواب مولانا حافظ صلاح الدین یوسف
گرامی قدر مولانا محمد عبداللہ صاحب چئیرمین مرکزی رؤیتِ ہلال کمیٹی، پاکستان
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ! ۔۔ آپ کے سوالات کے مختصر جوابات حسبِ ذیل ہیں:
(1)جس ملک میں سرکاری طور پر رؤیتِ ہلال کے لیے کوئی کمیٹی یا ادارہ نہ ہو، وہاں اس کام کے لیے اپنے طور پر کمیٹی بنا لینا جائز بلکہ ضروری ہے۔ لیکن جہاں سرکاری طور پر ایسا انتظام موجود ہو اور وہ کمیٹی حکومتی اثر و نفود سے بھی پاک اور آزادانہ کام کرنے کا اختیار رکھتی ہو، تو وہاں اپنے اپنے طور پر کمیٹیوں کا قیام محل نظر ہے۔ اس طرح محاذ آرائی اور انتشار ہو گا، جسے اسلام نے سخت ناپسند کیا ہے۔
حکومتِ پاکستان اگرچہ اسلامی حکومت کے جملہ تقاضے پورے نہیں کرتی، تاہم اس کا یہ مطلب بھی نہیں کہ اگر وہ اسلام کے کسی تقاضے کو پورا کرتی ہے تو اس میں بھی اس کے ساتھ تعاون کرنے سے گریز کیا جائے۔ بلکہ ایسی صورت میں "ما لا يدرك كله لا يترك كله" کے اصول کے تحت، اس کے اچھے اور مفید کام کی تحسین کرنی چاہئے اور اس میں تعاون بھی کرنا چاہئے۔ حکومت کے بعض مفید اور مستحسن کاموں میں ایک کام رویتِ ہلال کمیٹی کا قیام اور اسے آزادانہ طور پر کام کرنے کا اختیار دینا بھی ہے۔
یہ ٹھیک ہے کہ عہدِ صحابہ و تابعین میں اس قسم کی کمیٹیوں کا وجود نہیں تھا، لیکن اس دور میں اگر اس کی ضرورت محسوس نہیں کی گئی، تو اب جبکہ حالات اس کا تقاضا کرتے ہوں، ان کا قیام ناجائز نہیں ہو گا، کیونکہ یہ ایک انتظامی ضرورت اور معاملہ ہے، انتظامی معاملات میں جائز اور ناجائز کی بحث ہی سرے سے غلط ہے جب کہ اس سے شریعت کی کسی نص کی مخالفت نہ ہوتی ہو۔ اور راقم کے خیال میں زیر بحث کمیٹی کے قیام اور طریق کار سے کسی نص شرعی کی مخالفت نہیں ہوتی۔
راقم خود بھی مرکزی رویتِ ہلال کمیٹی کا رُکن رہا ہے، اس لیے یہ بات خود اس کے تجربہ و مشاہدہ کا حصہ ہے کہ یہ کمیٹی بالکل آزادانہ کام کرتی ہے۔ حکومت بالواسطہ یا بلا واسطہ کسی طرح بھی مداخلت نہیں کرتی، علماء یعنی اراکین کمیٹی تمام صوبوں کی ذیلی کمیٹیوں سے رابطہ کرتے ہیں اور ان سے معلومات حاصل کرتے ہیں یا لوگ اَز خود ان کو اطلاعات فراہم کرتے ہیں۔ پھر وہ علماء ان اطلاعات کی روشنی میں اپنے طور پر فیصلہ کرتے ہیں۔ کسی بھی مرحلے میں حکومت اس میں دخل انداز نہیں ہوتی۔ بنا بریں یہ مرکزی کمیٹی اور ذیلی کمیٹیاں اپنے مقصدِ وجود اور طریق کار کے لحاظ سے بالکل صحیح ہیں، ان میں شرعا کوئی قباحت نہیں ہے۔
(2) صوبہ سرحد کی غیر سرکاری کمیٹیوں کا طرزِ عمل صحیح نہیں ہے، اسی لیے ان کی تقلید نہیں کی جا سکتی۔ یہ ٹھیک ہے کہ چاند کے اثبات کے لیے رؤیت (دیکھا جانا) ضروری ہے، اس کے بغیر چاند کا تحقق ممکن ہی نہیں۔ لیکن اس کا یہ مطلب بھی نہیں کہ رصد اور فلکیات کا جو علم ہے اور جو صدیوں کے تجربات و مشاہدات پر مبنی ہے، اسے سرے سے کوئی اہمیت ہی نہ دی جائے۔ بلکہ ہم جس طرح طلوع و غروبِ آفتاب، زوال اور طلوعِ فجر وغیرہ میں علم رصد پر اعتبار کرتے ہیں اور اسی علم کی بنیاد پر مذکورہ اوقات کا تعین کرتے اور انہیں تسلیم کرتے اور اس کی بنیاد پر دائمی اوقات نامے بنائے ہوئے ہیں، اسی طرح جب علم رصد کی رُو سے غروبِ شمس کے وقت چاند کی ولادت ہی متحقق نہ ہو، تو یہ ممکن نہیں ہے کہ اس وقت چاند اُفق پر نظر آ جائے۔
اللہ تعالیٰ اگرچہ اسباب کا پابند نہیں ہے لیکن اس کی مشیت و حکمت کے تحت نظامِ کائنات اسباب کے مطابق ہی چل رہا ہے۔ کائنات کی آفرینش سے لے کر آج تک اس میں تبدیلی نہیں آئی ہے۔ چاند کی ولادت اس کے وجود و ظہور کا سبب ہے، جب تک یہ سبب (ولادت) نہ ہو گا، چاند اُفق پر نظر ہی نہیں آ سکتا۔ اور رصد و فلکیات کا علم اسی سبب کے جاننے کا نام ہے، وہ اس علم کی رُو سے چاند کی رفتار کا جائزہ لیتا ہے، اس کی ولادت کا تعین کرتا ہے اور بتلاتا ہے کہ وہ اُفق پر کب ظاہر ہو سکتا ہے۔ اس لیے اس علم کا انکار کیا جا سکتا ہے، نہ اس سے استفادے کو ممنوع قرار دیا جا سکتا ہے بلکہ جس طرح ہم طلوع و غروبِ آفتاب کے اوقات کے تعین میں اس علم پر اعتماد کرتے ہیں، ہمیں چاند کی ولادت و عدمِ ولادت اور اس کے امکانِ ظہور و عدمِ امکانِ ظہور میں بھی اس کی معلومات کو تسلیم کرنا چاہئے۔
بنا بریں مسلمہ درایتی قواعد کی رو سے جن دن غروبِ آفتاب سے پہلے چاند کی ولادت نہ ہوئی ہو یا چاند اس دن سورج غروب ہونے سے پہلے غروب ہو چکا ہو تو اس دن یقینا چاند نظر آنے کا کوئی امکان نہیں ہو گا۔ لیکن اس دن اگر کچھ لوگ دعویٰ کریں کہ انہوں نے چاند دیکھا ہے تو ان کا یہ دعویٰ سخت محل نظر ہو گا، کیونکہ یہ دعویٰ ایسا ہی ہو گا جیسے سورج غروب ہو چکا ہو لیکن دعویٰ کرنے والے دعویٰ کریں کہ ابھی غروب نہیں ہوا۔ یا سورج نکل چکا ہو، لیکن دعویٰ کرنے والے دعویٰ کریں کہ سورج ابھی نہیں نکلا۔ ایسی صورت میں یقینا رؤیت ہلال کا دعویٰ کرنے والوں کی اچھی طرح جانچ پڑتال کرنی چاہئے۔ محض چند لوگوں کی گواہی پر رؤیت کا فیصلہ کر لینا صحیح نہیں ہو گا۔ بالخصوص جب کہ زیر بحث معاملے میں مخصوص علاقوں کے لوگوں کی گواہی بھی، تجربات و واقعات کی رُو سے مشکوک ہو۔
(3) یہ ایک نہایت قابل غور معاملہ ہے کہ ہر سال یہ مسئلہ صرف صوبہ سرحد کے لوگوں کی وجہ سے اختلاف و افتراق کا باعث بنتا ہے۔ ایسا کیوں ہے؟ ۔۔۔ دوسرے صوبوں میں ایسا کیوں نہیں ہوتا؟
اس کی وجہ بعض علماء اہل سرحد کا دوسرے صوبوں کے مقابلے میں، زیادہ دین دار بتلاتے ہیں۔ لیکن دوسری طرف وہ یہ بھی تسلیم کرتے ہیں کہ یہاں بعض علاقے ایسے ہیں کہ وہ یوں ہی شور مچا دیتے ہیں: "چاند ہو گیا اور کل عید ہے یا روزہ ہے۔" راقم جب مرکزی رویتِ ہلال کمیٹی کا رکن تھا تو صوبہ سرحد کے دو نمائندے اس میں شامل تھے، وہ دونوں اختلافِ مسلک کے باوجود اِس بات پر متفق تھے کہ رؤیتِ ہلال کے بارے میں سرحد کے لوگوں کا کوئی اعتبار نہیں ہے۔ وہ یوں ہی چاند ہونے کا اعلان کر دیتے ہیں۔
مرکزی رؤیتِ ہلال کمیٹی کے موجودہ چئیرمین مولانا عبداللہ صاحب[1] نے اس سال اس امر کا ذاتی مشاہدہ حاصل کیا ہے۔ ان کا بیان ہے کہ 29 شعبان 1418ھ کو، جب کہ سرحد میں یکم رمضان تھی، اور وہاں 28 شعبان کو 30 آدمیوں نے چاند دیکھنے کی شہادت دی تھی اور اسی بنا پر وہاں مقامی کمیٹی نے روزے رکھنے کا اعلان کیا تھا۔ میں نے وہاں کے بعض علماء سے کہا کہ آج آپ کے حساب سے رمضان کی دوسری رات ہے اور آج چاند واضح اور صاف نظر آنا چاہئے۔ جب کہ فلکیات والوں کا کہنا یہ تھا کہ آج چاند بلوچستان اور سندھ کے بعض علاقوں میں ممکن ہے نظر آ جائے، اس کے علاوہ کہیں نظر آنے کا امکان نہیں ہے۔ چنانچہ میں ان علمائے سرحد کو لے کر ایک پہاڑ پر چڑھ گیا، ہمارے ساتھ سینکڑوں آدمی اور بھی تھے، لیکن بسیار کوشش کے باوجود چاند نظر نہیں آیا۔ بلکہ پورے سرحد سمیت کہیں بھی نظر نہیں آیا، اور تھوڑی دیر کے بعد صرف بلوچستان سے چاند دیکھے جانے کی اطلاع ملی، جس کی بنیاد پر مرکزی رؤیتِ ہلال کمیٹی نے چاند کے ہونے کا فیصلہ اور اعلان کیا۔ اس ایک واقعے نے دونوں باتوں کا فیصلہ کر دیا۔
(i) رؤیتِ ہلال کے بارے میں اہل سرحد کی گواہی معتبر نہیں اور جو علماء مرکزی رؤیتِ ہلال کمیٹی اور اس کے طریق کار سے ہٹ کر اپنے طور پر رؤیت کا فیصلہ کرتے ہیں، یہ صحیح نہیں ہے اور ان کا یہ طرزِ عمل مستقل انتشار و اختلاف کا باعث ہے۔
(ii) اہل فلکیات کی رائے کو قرار واقعی اہمیت نہ دینا بھی غلط ہے۔ فلکیات کا یہ علم صدیوں کے مسلسل تجربات و مشاہدات پر مبنی ہے، اس سے استفادہ کرنا اور اس سے وابستہ افراد کی رائے کو اہمیت دینا ضروری ہے۔ نیز اس کا شریعت سے کوئی تصادم بھی نہیں ہے، اس لیے ان کی رائے کو آسانی سے جھٹلانا ممکن ہے، نہ جھٹلانے کی ضرورت ہی ہے۔ البتہ اگر کبھی (کسی نادرِ صورت میں) واقعی اہل فلکیات کی رائے مشاہدے کے خلاف ہو تو مرکزی رؤیتِ ہلال کمیٹی قرائن و شواہد اور گواہوں، گواہیوں کی حیثیت کا تعین کر کے اس کے خلاف فیصلہ سنا سکتی ہے۔ یہ نہ کوئی مشکل بات ہے، نہ اس سے فلکیات کی بے اعتباری کا اثبات ہوتا ہے۔
کیا پورے عالم اسلام میں عید ایک ہی دن منائی جا سکتی ہے؟
چند دن گزرے، ایک استفتاء دارالعلوم حقانیہ، اکوڑہ خٹک سے علماء کرام کے نام موصول ہوا ہے جس کا تعلق اس امر سے ہے کہ "پورے عالم اسلام میں ایک ہی دن عید ہو اور ایک ہی دن روزے کا آغاز و اختتام ہو"۔ فاضل مستفتی نے، جو ایک عالم دین، محقق اور مفتی ہیں، اپنے دلائل میں یہ ثابت کرنے کی سعی کی ہے کہ احناف، مالکیہ اور حنابلہ کے نزدیک اختلافِ مطالع کی کوئی حیثیت نہیں ہے اس لیے عالم اسلام کے کسی ایک خطے میں اگر رؤیتِ ہلال کا اثبات ہو جائے، تو اسے پورے عالم اسلام کے لیے تسلیم کر کے تمام اسلامیانِ عالم ایک ہی دن عیدالفطر و عید الاضحیٰ منائیں اور ایک ہی دن روزوں کا آغاز و اختتام کریں۔
لیکن ہمارے فہم و شریعت کی رو سے ایسا کرنا صحیح نہیں۔ اس کی ایک وجہ تو یہ ہے کہ عیدین اگرچہ مسلمانوں کے ملی تہوار ہیں۔ لیکن یہ دوسرے مذاہب کے سے ملی تہوار نہیں، جن میں وہ لوگ تہوار کی سرمستی میں ہر چیز کو فراموش کر دیتے ہیں حتی کہ تمام اخلاقی قدروں اور ضابطوں اور تمام بندھنوں سے آزاد ہو جاتے ہیں۔ اسلام میں ایسا نہیں ہے۔اسلام میں عیدیں کا آغاز بھی اللہ کی تکبیر و تحمید اور اس کی بارگاہ میں دوگانہ ادا کر کے اس کے سامنے عجزونیاز کے اظہار سے ہوتا ہے اور پھر کسی بھی مرحلے میں اس آزاد روی کی اجازت نہیں ہے جس کا مظاہرہ عیدین کے موقعوں پر دوسرے لوگوں کی دیکھا دیکھی اور نقالی میں، جاہل مسلمانوں اور شریعت سے ناآشنا لوگوں کی طرف سے کیا جاتا ہے کہ وہ بھی خدا فراموش اور اخلاقی حدود سے بے نیاز ہو جاتے ہیں۔
اسلام میں عیدین کی حیثیت ملی تہوار کے علاوہ عبادت کی بھی ہے۔ اور رمضان المبارک تو ہی عبادات کا خصوصی مہینہ۔ اس لئے ان میں وحدت کا اہتمام غیر ضروری ہے۔ جس طرح عالم اسلام میں بلکہ ایک ملک میں بھی نمازوں کے اوقات میں فرق و تفاوت ہے، اور اسے وحدت کے منافی نہیں سمجھا جاتا، تو عالم اسلام میں رؤیتِ ہلال کے حساب سے الگ الگ دن عیدین اور رمضان کے آغاز کو، عالم اسلام کی وحدت کی منافی کیوں سمجھا جائے؟ اپنے اپنے حساب سے ہر ملک میں الگ الگ عید منائی جا سکتی ہے اور رمضان کے روزے رکھے جا سکتے ہیں۔ شریعت نے ایسا کوئی حکم دیا ہے اور نہ اس کا کوئی اہتمام ہی کیا ہے کہ مسلمان زیادہ سے زیادہ ایک ہی دن عید منائیں اور ایک ہی دن روزے رکھیں۔ بلکہ اس کے برعکس یہ حکم دیا گیا ہے صُومُوا لِرُؤْيَتِهِ ، وَأَفْطِرُوا لِرُؤْيَتِهِ  (صحیح مسلم، کتاب الصیام) "چاند دیکھ کر روزہ رکھو اور چاند دیکھ کر روزے بند کرو"۔ جس کا صاف مطلب یہ ہے کہ جب تک ہر ملک میں اس کے حساب سے رؤیتِ ہلال کا اثبات نہ ہو جائے، نہ رمضان کا آغاز کرنا صحیح ہے اور نہ روزے ختم کر کے عید کا اہتمام کرنا مناسب ہے۔
جیسے ہر ملک اور علاقے میں جب تک صبح صادق نہ ہو جائے، فجر کی نماز نہیں پڑھی جا سکتی اور جب تک سورج غروب نہ ہو جائے مغرب کی نماز نہیں پڑھی جا سکتی، اسی طرح رؤیتِ ہلال کا مسئلہ بھی ہے۔ یہ بھی طلوع و غروب شمس کی طرح اختلافِ مطالع کے اعتبار سے مختلف ہو سکتا ہے اور ہوتا ہے، اس میں یکسانیت و وحدت پیدا کی جا سکتی ہے اور نہ اس کا ہمیں کوئی حکم ہی دیا گیا ہے۔ چودہ صدیوں سے عالم اسلام میں اپنے اپنے حساب سے عیدین اور رمضان کا اہتمام ہوتا چلا آ رہا ہے، اسے کبھی بھی وحدت و یک جہتی کے منافی نہیں سمجھا گیا۔ اب ایسا کرنا کیوں کر وحدت کے منافی ہو جائے گا؟
بعض جلیل القدر علمائے احناف نے تو صرف پاکستان کی حد تک بھی ایک ہی دن عید منانے کو شرعی لحاظ سے غیر ضروری قرار دیا ہے ۔۔ چنانچہ وہ لکھتے ہیں:
"اگرچہ شرعی حیثیت سے اس کی کوئی اہمیت نہیں کہ پورے ملک میں عید ایک ہی دن منانے کا کوئی اہتمام نہیں ہوا اور ملک کے وسیع و عریض ہونے کی صورت میں شدید اختلافاتِ مطالع کی مشکلات بھی اس میں پیش آ سکتی ہیں۔ لیکن پاکستان کے عوام اور حکومت کی اگر یہی خواہش ہے کہ عید پورے پاکستان میں ایک ہی دن ہو تو شرعی اعتبار سے اس کی بھی گنجائش ہے۔ شرط یہ ہے کہ عید کا اعلان پوری طرح شرعی ضابطہ شہادت کے تابع ہو" (جواہر الفقہ، مفتی محمد شفیع مرحوم: جلد اول، ص 397،398)
اس تحریر پر مولانا مفتی محمد شفیع کے علاوہ، مولانا ظفر احمد عثمانی، مولانا محمد یوسف بنوری اور مولانا مفتی رشید احمد صاحب کے بھی دستخط ہیں اور یہ تحریر 1386ھ (آج سے 32 سال پہلے) کی ہے۔ اس میں مذکورہ عبارت کے بعد شہادت کا وہ ضابطہ بیان کیا گیا ہے جس کے مطابق مرکزی رؤیت ہلال کمیٹی چاند کے ہونے یا نہ ہونے کا فیصلہ کرتی ہے۔ ہم نے یہ اقتباس صرف اس لیے پیش کیا ہے کہ اس میں صرف ایک ملک کے اندر بھی عید کی وحدت کو غیر ضروری قرار دیا گیا ہے، چہ جائیکہ عالم اسلام میں ایک ہی دن عید کا اہتمام ضروری قرار دیا جائے۔ دوسرے، اختلافِ مطالع میں بہت زیادہ فرق کی صورت میں رؤیتِ ہلال میں جو مشکلات ہیں، اس کا بھی اعتراف ہے۔ جس کے صاف معنی یہ ہیں کہ اختلافِ مطالع میں بہت زیادہ فرق کو نظر انداز کرنا صحیح نہیں ہے۔ اس لیے کسی ایک ملک کی حد تک، تو عیدین و رمضان میں وحدت کا اہتمام ممکن ہے اور صحیح بھی ہو سکتا ہے کیونکہ اس کے مختلف علاقوں میں مطالع کا اختلاف زیادہ نہیں ہوتا، تھوڑا بہت جو اختلاف ہے اسے ناقابل اعتبار قرار دیا جا سکتا ہے لیکن جن ملکوں کے درمیان مطالع کا بہت زیادہ اختلاف اور فرق ہے، اسے کیوں کر ناقابل اعتبار دیا جا سکتا ہے؟ اس کے لیے جب تک کوئی معقول شرعی دلیل نہیں ہو گی، اسے تسلیم کرنا مشکل ہے۔
عہدِ صحابہ رضی اللہ عنہم کی ایک نظیر
علاوہ ازیں اس کی ایک دوسری وجہ عہد صحابہ کی ایک نظیر ہے جس سے اسی موقف کی تائید ہوتی ہے جو مذکورہ سطور میں پیش کیا گیا ہے ۔۔ وہ واقعہ حسب ذیل ہے:
"حضرت کریب رحمۃ اللہ علیہ (تابعی) بیان کرتے ہیں کہ مجھے ام الفضل نے حضرت معاویہ رضی اللہ عنہا کے پاس شام بھیجا۔ میں وہاں گیا اور اپنا کام پورا کیا اور ملک شام میں ہی میری موجودگی میں وہاں رمضان کا چاند ہو گیا اور یہ جمعہ کی رات تھی۔ پھر جب میں مہینے کے آخر میں مدینہ واپس آیا، تو مجھ سے حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ نے پوچھا کہ تم نے وہاں چاند کب دیکھا تھا، میں نے بتلایا کہ جمعہ کی رات کو۔ انہوں نے پوچھا، تم نے خود دیکھا تھا؟ میں نے کہا: ہاں میں نے بھی اور دوسرے لوگوں نے بھی دیکھا اور اس کے مطابق ہی لوگوں نے اور حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ نے روزے رکھے تھے۔ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ نے فرمایا، لیکن ہم نے تو یہاں (مدینے میں) ہفتے کی رات کو چاند دیکھا تھا، چنانچہ ہم تو پورے تیس روزے رکھیں گے یا پھر (29 رمضان کو) ہم چاند دیکھ لیں۔ تو میں نے کہا: کیا آپ کے لیے حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کی رؤیت اور ان کا روزہ رکھنا کافی نہیں ہے؟ انہوں نے فرمایا: "نہیں، ہمیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس طرح ہی حکم دیا ہے" ۔۔۔ (صحیح مسلم، کتاب الصیام، باب بيان أن لكل بلد رؤيتهم وأنهم إذا رأوا الهلال ببلد لا يثبت حكمه لما بعد عنهم)
۔۔ صحیح مسلم میں اس واقعے پر باب کا جو عنوان دیا گیا ہے، اس کا ترجمہ ہی یہ ہے:
"اس بات کا بیان کہ ہر علاقے کے لیے ان کی اپنی رؤیت ہے، نیز یہ کہ جب کسی علاقے کے لوگ چاند دیکھ لیں تو یہ رؤیت ان لوگوں کے حق میں ثابت نہیں ہو گی جو اُن سے دور ہوں گے۔"
اور امام نووی رحمۃ اللہ علیہ بھی اس حدیث کے تحت لکھتے ہیں:
وانما راوه لان الرؤية لا يثبت حكمها فى حق البعيد
"حضرت ابن عباس نے حضرت کریب رحمۃ اللہ علیہ کی رؤیت کو اس لیے تسلیم نہیں کیا کہ رؤیت کا حکم دور والے لوگوں کے حق میں ثابت نہیں ہوتا۔"
امام ترمذی رحمۃ اللہ علیہ نے بھی یہ واقعہ اپنی سنن ترمذی کے ابوابُ الصوم میں نقل کیا ہے اور انہوں نے بھی اس پر یہ عنوان قائم کیا ہے: "باب ما جاء لكل اهل بلد رؤيتهم"
"اس بات کا بیان کہ ہر علاقے کے لیے ان کی اپنی رؤیت ہے"
بہرحال اِس میں واضح طور پر موجود ہے کہ صحابی رسول صلی اللہ علیہ وسلم حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ نے مدینے والوں کو لیے شام کی رؤیت کا اعتبار نہیں کیا، جس سے اسی موقف کا اثبات ہوتا ہے کہ پورے عالم اسلام کے لیے کسی ایک ہی علاقے کی رؤیت کافی نہیں ہے۔ اور احادیث سے بھی اسی کی تائید ہوتی ہے کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے: لَا تَصُومُوا حَتَّى تَرَوْا الْهِلَال وَلَا تُفْطِرُوا حَتَّى تَرَوْهُ فَإِنْ أُغْمِيَ عَلَيْكُمْ فَاقْدُرُوا لَهُ " (صحیح مسلم، کتاب الصیام: باب وجوب صومِ رمضان ۔۔)
"اور اس وقت تک روزہ نہ رکھو، جب تک چاند نہ دیکھ لو اور اس وقت تک روزہ رکھنا بند نہ کرو، جب تک چاند نہ دیکھ لو، اگر بادل چھا جائے تو پھر (تیس دن کا) اندازہ پورا کرو"
بہرحال اس تفصیل سے مقصود اس نکتے کی وضاحت ہے کہ رؤیتِ ہلال کے اثبات میں اس حد تک تو وسعت اختیار کرنے کی گنجائش موجود ہے جس کی تائید میں علم ہئیت و جغرافیہ دانوں کے صدیوں کے تجربات ہیں۔ لیکن محض یہ جذبہ کہ پورے عالم اسلام میں ایک ہی دن عید اور رمضان کا آغاز ہو، اس کی کوئی شرعی اور عقلی دلیل نہیں ہے۔ اس لیے یہ جذبہ اچھا اور مخلصانہ ہونے کے باوجود ناقابل عمل ہے، کیونکہ یہ شرعی اور عقلی دلیل سے محروم ہے۔ هذا ما عندى والله اعلم بالصواب

[1] مولانا محمد عبداللہ مرحوم مورخہ 19 دسمبر 1998ء کو دہشت گردی کے ایک واقعہ میں شہید کر دئیے گئے۔ (محدث)