ڈاونلوڈ

آن لائن مطالعہ

آن لائن مطالعہ
  • مارچ
1999
صلاح الدین یوسف
عیدالاضحیٰ کی آمد آمد ہے اور رؤیتِ ہلال کے بارے میں بحثوں کا سلسلہ پھر سے جاری ہے۔ سرحد کے لوگ اگر اپنی رؤیت کے اعتبار سے دینی تہوار منانے پر مصر ہیں تو دوسری طرف وحدتِ امت کے تقاضے کے طور پر تمام عالم اسلام میں ایک ہی دن مذہبی تہوار بالخصوص عیدیں منانے کا مطالبہ بھی سنائی دے رہا ہے۔ یوں تو صدیوں سے مسلمان رؤیت ہلال پر مبنی اپنی مستقل تقویم Calender پر عمل کرتے آ رہے ہیں، اسی طرح مخصوص تہواروں کے حوالے سے بھی امت مسلمہ کا ایک واضح موقف ہے۔ چنانچہ دیگر اسلامی ممالک میں بھی یہ مسئلہ کچھ اس طرح سے موضوع بحث نہیں جس طرح وطن عزیز میں اس پر گرما گرم بحث ہوتی ہے جس کی کچھ مخصوص علاقائی وجوہات بھی ہیں چنانچہ ضروری ہے کہ اس مسئلے کا پاکستان کے مخصوص پس منظر میں جائزہ قارئین کے سامنے پیش کیا جائے، تاکہ شرعی دلائل اور موقف کے متعلق کسی شک و شبہ کا امکان نہ رہے، اس کے باجود دینی تقاضوں اور حکمتوں سے بے خبر اپنی بانسری الگ بجانے والوں کو کوئی روک نہیں سکتا کہ وہ جو جی میں آئے، کہتے پھریں ۔۔۔
  • مارچ
1999
حافظ ثناء اللہ مدنی
٭ وسیلہ کا لغوی و شرعی معنی اور وسیلہ مشروع و ممنوع کی قسمیں
٭ دعا کے بعد چہرے پر ہاتھوں کو پھیرنا
٭ کیا امام زہری رحمۃ اللہ علیہ مجروح ہیں
٭ متهم بالزنا  کی امامت کا حکم
٭ مسئلہ وراثت اور اس کا حل


٭ سوال: ان سوالات کے جوابات قرآن و حدیث کی روشنی میں دے کر عنداللہ ماجور ہوں:
(1) وسیلہ کسے کہتے ہیں؟
(2) وسیلہ کتنے قسم کا ہے ۔۔ جائز وسیلے کون کون سے ہیں اور ناجائز وسیلے کون کون سے؟
(3) وسیلہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ثابت ہے یا نہیں؟
(4) مکمل اور شرعی وسیلے کے بارے میں دیگر معلومات (طاہر اعظم، بلتستان)
  • مارچ
1999
عطاء اللہ صدیقی
بیسویں صدی محیر العقول سائنسی ایجادات، علمی تحقیقات و اکتشافات کے بے نظیر کارناموں کی صدی ہے۔ اس صدی کے ایک ایک عشرے کے دوران انسانی تہذیب و تمدن اور علوم و فنون میں جو تیز رفتار ترقی دیکھنے میں آئی، وہ معلوم انسانی تاریخ کے پورے عرصہ کی اجتماعی ترقی کے مقابلے میں بھی زیادہ ہے۔ لیکن سیاسی اور اخلاقی ترقی کی رفتار کا جائزہ لیا جائے تو اکیسویں صدی کی دہلیز پر پہنچی روشن خیال یک قطبی دنیا اٹھارویں اور انیسویں صدی کی استعماری ظلمتوں میں ابھی تک محصور دکھائی دیتی ہے۔ آزادی، مساوات، جمہوریت اور بنیادی انسانی حقوق کے ضخیم دفاتر کی روشنائیاں، وحشت و بربریت، ظلم و ناانصافی، جارحیت و بہیمیت کی سیاہیوں کا اثر زائل کرنے میں کامیاب نہیں ہو سکیں۔ ظلم و جبر کے بوجھ تلے سسکتی انسانیت آج بھی ابلیسیت کے ہاتھوں زخم خوردہ ہے۔ سائنسی ایجادات نے زماں و مکاں کے فاصلے سمیٹ کر دنیا کو "انسانی بستی" کی شکل تو عطا کر دی ہے لیکن وائے افسوس! انسانی قلوب کے فاصلوں کو ختم نہیں کر سکی۔ یہی وجہ ہے کہ یہ "عالمی بستی" بھی عملا ایک روایتی بستی سے مختلف نہیں ہے، اس میں بھی طاقت و وسائل پر قابض وڈیرے موجود ہیں اور ذلت و پستی کی گہرائی میں ڈوبے ہوئے ہاری بھی باقی ہیں۔ عالمی وڈیرہ سائنسی ترقی کے تکبر میں اندھا ہو کر کمزور ہاریوں کو جب چاہے، وحشت و بربریت کا نشانہ بنا ڈلے، مگر اس کے ظالم ہاتھوں کو روکنے والا کوئی نہیں۔
  • مارچ
1999
حسن مدنی
گذشتہ دنوں اعلیٰ تعلیم کے چند طلبہ نے اس بارے میں استفسار کیا کہ کمپیوٹر اور اس سے متعلقہ دیگر اشیاء سے کس طرح علم و تحقیق کے عمل میں فائدہ اٹھایا جا سکتا ہے۔ علاوہ ازیں دیندار طبقہ کے کمپیوٹر سے مستفید ہونے کے کیا امکانات ہیں، اس استفادے کی حدود کیا ہو سکتی ہیں اور کس طرح ان کا حصول ممکن ہے۔ اسی ضمن میں انترنیٹ کا تذکرہ بھی آیا جس کی حیران کن کارکردگی ہر کسی کی زبان پر ہے۔ طلبہ کے استفسار اور دلچسپی کی وجہ غالبا اپنی اعلیٰ تعلیم میں پیش آمدہ اس موضوع پر ٹھوس اور حقائق پر مبنی مواد پیش کر دینے کی حد تک تھی، جس کی رہنمائی انہیں اپنی درسی کتب اور امدادی مواد میں میسر نہ آ سکی۔ راقم الحروف یوں تو عرصہ سے اس موضوع پر لکھنے کا خواہاں تھا کیونکہ واقعتا یہ ایسی معلومت ہیں جن سے ناواقف رہ کر موجودہ دور میں مؤثر کارکردگی پیش نہیں کی جا سکتی۔لیکن طلبہ کے ان سوالات نے مجھے مجبور کر دیا کہ اولین فرصت میں اِس کے مختلف پہلوؤں پر روشنی ڈالوں جو ملتِ اسلامیہ کے لیے عموما اور دین دار کے لئے خصوصا مفید ثابت ہوں۔ موضوع پر بات شروع کرنے سے قبل چند ایک امور کا تذکرہ کرنا مناسب معلوم ہوتا ہے:
  • مارچ
1999
حمیداللہ عبدالقادر
نام و نسب
مالک نام، کنیت ابو عبداللہ، امام دارالهجرة لقب اور باپ کا نام انس تھا۔ سلسلہ نسب یہ ہے: مالک بن انس بن مالک بن ابی عامر بن عمرو بن الحارث بن غیلان بن حشد بن عمرو بن الحارث (1)
بلاشک آپ رحمۃ اللہ علیہ دارِ ہجرت (مدینہ منورہ) کے امام، شیخ الاسلام اور کبار ائمہ میں سے ہیں۔ آپ حجاز مقدس میں حدیث اور فقہ کے امام مانے جاتے تھے۔ امام شافعی رحمۃ اللہ علیہ نے ان سے علم حاصل کیا اور امام ابوحنیفہ رحمۃ اللہ علیہ بھی آپ کی مجالس علمی میں شریک ہوتے رہے۔
پیدائش و وفات
آپ 93ھ میں پیدا ہوئے۔ آپ کی تاریخ پیدائش میں مؤرخین نے اختلاف کیا ہے لیکن امام ابو زہرہ کی تحقیق کے مطابق زیادہ صحیح تاریخ پیدائش 93ھ ہے۔ آپ رحمۃ اللہ علیہ کا مقام پیدائش مدینۃ النبی ہی ہے۔ (2)
آپ رحمۃ اللہ علیہ 179ھ میں مدینہ منورہ میں ہی فوت ہوئے، چھیاسی سال کی عمر پائی۔ 117ھ میں مسند درس پر قدم رکھا اور باسٹھ برس تک علم و دین کی خدمت انجام دی۔ امام رحمۃ اللہ علیہ کا جسدِ مبارک جنتُ البقیع میں مدفون ہے۔ (3)