ولادت: حافظ شمس الدین ابو عبداللہ بن احمد بن عبدالہادی ابن قدامہ مقدسی حنبلی 714ھ میں پیدا ہوئے۔ (1)
اساتذہ و تلامذہ: حافظ ابن عبدالہادی نے اپنے دور کے نامور اساتذہ دن سے جملہ علوم اسلامیہ کی تحصیل کی۔ اور تمام علوم میں کمال پیدا کیا۔ آپ نے حافظ ابوالحجاج یوسف بن عبدالرحمین مزی رحمۃ اللہ علیہ (م 742ھ) سے تحصیل حدیث کی۔ اور دو سال تک آپ حافظ مزری کی خدمت میں رہے۔ جس کا نتیجہ یہ ہوا کہ خاص طور پر فن حدیث و رجال میں اقران پر فائق تر ہو گئے۔ اس کا اندازہ اس سے ہو سکتا ہے کہ علل و رجال میں حافظ شمس الدین ذہبی رحمۃ اللہ علیہ (م 748ھ) اور آپ کے استاد حافظ مزی آپ سے استفادہ کیا کرتے تھے۔ (2)
آپ کے اساتذہ میں شیخ الاسلام حافظ ابن تیمیہ رحمۃ اللہ علیہ (م 728ھ) کا نام بھی لکھا ہے۔ آپ کافی عرصہ تک حافظ ابن تیمیہ رحمۃ اللہ علیہ کی صحبت میں رہے۔ اور ان سے مستفیض ہوتے رہے۔ 721ھ میں امام فخر الدین رازی رحمۃ اللہ علیہ 606ھ صاحب تفسیر کبیر کی کلامی کتاب الاربعين کا کچھ حصہ پڑھا اور حافظ ابن تیمیہ نے اس پر تعلیقات بھی لکھیں۔ (3)
حافظ ابن عبدالہادی فن رجال اور علل حدیث میں خاص مہارت اور بصیرت رکھتے تھے۔ اصولِ حدیث، اصولِ فقہ اور علوم حدیث میں بھی کامل دستگاہ حاصل تھی۔ مذاہبِ اسلامیہ میں خاص طور پر تفقہ حاصل کیا تھا ۔۔ حافظ ابن رجب بغدادی رحمۃ اللہ علیہ (م 975ھ) لکھتے ہیں:
" ولازم الشيخ تقى الدين ابن تيمية مدة وقرا عليه قطعة من الاربعين فى اصول الدين للرازي"
"شیخ الاسلام ابن تیمیہ کی صحبت میں عرصہ تک رہے اور ان سے امام رازی کی کتاب الاربعین فی اصول الدین کا ایک حصہ پڑھا"
تصنیفات
حافظ ابن عبدالہادی نے 48 سال کی عمر پائی۔ اور اس مختصر سی عمر میں آپ نے 70 سے زائد علمی و تحقیقی اور جامع کتابیں تصنیف کیں ۔۔ مولانا سید ابوالحسن ندوی لکھتے ہیں کہ:
"علامہ ابن عبدالہادی نے کم عمر پانے کے باوجود تصانیف کی ایک بڑی تعداد یادگار چھوڑی ہے جو صفحات کی تعداد کے لحاظ سے اہمیت رکھتی ہیں اور حسن تصنیف اور مواد کے لحاظ سے بھی" (5)
حافظ ابن رجب رحمۃ اللہ علیہ (م 795ھ) نے جن اہم تصنیفات کا ذکر ذیل طبقات الحنابلہ میں کیا ہے، ان کا یہاں تذکرہ کیا جاتا ہے ۔۔ ان کی تعداد 16 ہے۔
(1) تنقيح التحقيق فى احاديث التعليق: حافظ عبدالرحمٰن بن علی جوزی رحمۃ اللہ علیہ (م 597ھ) نے التحقیق فی احادیث التعلیق کے نام سے ایک کتاب لکھی۔ اور اس میں ان احادیث کو جمع کیا، جن کا تعلق احکام سے تھا۔ حافظ ابن عبدالہادی نے اس پر تنقیح، تہذیب، ترتیب اور مزید تحقیق کی۔
(2) المحرر الاختصار الالمام: علامہ تقی الدین ابن دقیق العید رحمۃ اللہ علیہ (م 702ھ) کی کتاب المام فی احادیث الاحکام کا بہت عمدہ اختصار ۔۔ یہ کتاب طبع ہو چکی ہے۔
(3) الصارم المنكى فى الرد على السبكي: علامہ تقی الدین سبکی رحمۃ اللہ علیہ 771ھ نے امام ابن تیمیہ رحمۃ اللہ علیہ کی تردید میں شفاء السقام فی زیارۃ خیر الانام کے نام سے 9 فصلوں میں ایک رسالہ لکھا تھا۔ جس میں امام ابن تیمیہ کے مسئلہ زیارتِ قبر نبوی صلی اللہ علیہ وسلم پر تنقید کی تھی۔ حافظ ابن عبدالہادی رحمۃ اللہ علیہ نے شفاء السقام کی تردید میں "الصارم" لکھی اور محدثانہ نقطہ نظر سے بحث کی۔ علامہ خیر الدین نعمان بن محمود آلاسی رحمۃ اللہ علیہ (م 1317ھ) کتاب الصارم کے بارے میں لکھتے ہیں:
" هو كتاب يدل على كمال اطلاعه فى الرجال وغزارة علمه" (6)
"یہ کتاب مصنف کی رجال میں وسعتِ نظر اور ان کے غزرات علم پر شاہد ہے"
علامہ سبکی کی کتاب شفاء السقام کے بارے میں مولانا انور شاہ کشمیری رحمۃ اللہ علیہ (م 1351ھ) لکھتے ہیں کہ:
"مجھے سبکی کے رسالے میں کمزور روایات کے کے سوا کچھ نہیں ملا" (7)
حافظ ابن عبدالہادی کی کتاب الصارم المنكى فى الرد على السبكي کے بارے میں حافظ ابن رجب رحمۃ اللہ علیہ (م 795ھ)، حافظ محمد بن ابوبکر شافعی رحمۃ اللہ علیہ (م 842ھ) اور محی السنۃ مولانا سید نواب صدیق حسن خاں قنوجی رئیس بھوپال رحمۃ اللہ علیہ 1317ھ نے اپنی اپنی کتابوں میں ذکر کیا ہے۔ (8)
" الصارم المنكى فى الرد على السبكي (م1319ھ) میں مطبع خیریہ مصر سے شائع ہوئی۔ صفحات کی تعداد 238 ہے۔" (9)
(4) العقود الدرية فى مناقب شيخ الاسلام ابن تيمية رحمة الله عليه: اس کتاب میں حافظ ابن عبدالہادی نے امام ابن تیمیہ کے حالات خصائص کے ساتھ ساتھ ان کی دعوتِ توحید و سنت کو ان کی سی تحریریں بھی اس کتاب میں محفوظ ہو گئی ہیں۔ (10)
حافظ ابن عبدالہادی کی دوسری علمی کتابیں
ان کتابوں کے علاوہ حافظ ابن عبدالہادی نے جو علمی کتابیں مرتب فرمائیں، ان کے نام یہ ہیں:
$11.                 الاحكام الكبرىٰ
$12.                 كتاب العمدة فى الحفاظ
$13.                 تعليقه الثقات
$14.                 احاديث الصلوٰة على النبى صلى الله عليه وسلم
$15.                 الاعلام فى ذكر مشائخ الائمة الاعلام اصحاب الكتب السنة
$16.                 تعليق على السنن البيهقى
$17.                 منتقى من تهذيب الكمال للمزى
$18.                 منتخب من مسند الامام احمد بن حنبل
$19.                 منتخب من البيهقى
$110.            منتخب من سنن ابى داؤد
$111.            شرح الفيه لابن مالك
$112.            الرد على ابى حيان النحوى
وفات: حافظ ابن عبدالہادی نے 10 جمادی الاولیٰ 744ھ عصر کی اذان سے پہلے انتقال کیا۔
حافظ ابن کثیر رحمۃ اللہ علیہ لکھتے ہیں کہ:
"ان کے والد احمد بن عبدالہادی نے مجھے بتایا کہ آخری الفاظ جو ان کی زبان پر جاری ہوئے وہ یہ تھے: " اشهد ان لا اله الا الله واشهد ان محمدا رسول الله، اللهم اجعلنى من التوابين واجعلنى من المتطهرين"
ان کے جنازہ میں شہر کے فضلاء، علماء، قضاء، تجار عوام شامل تھے۔ اور بہت بڑا ازدحام تھا اور اس کے علاوہ ایک خاص قسم کی نورانیت اور رونق تھی۔ (12)
حافظ ابن عبدالہادی معاصرین کی نظر میں
حافظ ابن عبدالہادی کے علم و فضل، زہد و ورع، حفظ و ضبط، عدالت و ثقاہت، امانت و دیانت، تقویٰ و طہارت، ایمان و یقین اور علمی تبحر کے بارے میں ان کے اساتذہ کرام اور ان کے معاصرین نے اعتراف کیا ہے ۔۔ حافظ ابوالحجاج مزی رحمۃ اللہ علیہ (م 744ھ) فرماتے ہیں کہ:
"جب کبھی بھی ان سے ملنا ہوتا، کوئی نہ کوئی فائدہ حاصل تھا" (13)
حافظ شمس الدین ذہبی رحمۃ اللہ علیہ (م 748ھ) لکھتے ہیں:
"وہ بڑے فقیہ ماہر، اچھے قاری، محدث، حافظ، مبصر، نحوی، صاحب علوم و فنون تھے۔ انہوں نے مجھ سے حدیث سنی اور کتابت کی اور میں نے بھی ان سے استفادہ کیا" (14)
حافظ ابن کثیر رحمۃ اللہ علیہ (م 774ھ) لکھتے ہیں کہ:
"انہوں نے وہ علمی درجہ حاصل کیا۔ جن تک بڑے بڑے معمر علماء و اساتذہ عام طور پر نہیں پہنچتے۔ حدیث، نحو، صرف، فقہ، تفسیر، اصول فقہ، اصولِ حدیث، تاریخ، قراءۃ اور تمام علوم میں ان کو کمال حاصل تھا۔ ان کے بہت سے مفیس مجموعے اور تصنیفات ہیں۔ وہ اسمائے رجال اور طرقِ حدیث کے بہت اچھے حافظ، جرح و تعدیل کے فن سے خوب واقف، علل حدیث کے مبصر اور اس کی بہت اچھی سمجھ رکھنے والے تھے۔ علماء کے ساتھ بہت اچھے طریقہ سے علمی مذاکرہ کرتے۔ ذہن نہایت سلیم تھا، طریقہ سلف پر اللہ تعالیٰ نے ان کو استقامت عطا فرمائی تھی۔ اور کتاب و سنت کے اتباع کی توفیق دی تھی۔ اعمال صالحہ پر صبر و ثبات سے قائم رہے" (15)
حوالہ جات
(1) ابن کثیر البدایہ والنہایہ ج14 ص 210
(2) ابن حجر عسقلانی الدررالکامنۃ جلد 2 ص 332
(3) محمد عطاءاللہ حنیف حیاتِ ابن تیمیہ ص 768
(4) ابن رجب ذیل طبقات الحنابلہ ص 426
(5) ابوالحسن علی ندوی، تاریخ دعوت و عزیمت ج2 ص 406
(6) محمد عطاءاللہ حنیف حیاتِ ابن تیمیہ ص 769
(7) محمد انور شاہ کشمیری العرف الشذی ص 162
(8) ابن رجب ذیل طبقات الحنابلہ ج2 ص 426، 429/ابن کثیر البدایہ والنہایہ ج14 ص 210/ابن حجر الدررالکامنۃ ج2 ص 231ھ/محمد بن ابوبکر شافعی الرد الوافر ص 15،30/نواب صدیق حسن، اتحاف النبلاء ص 371، 372
(9) محمد عطاءاللہ حنیف، حیاتِ ابن تیمیہ ص 269/ابوالحسن علی ندوی تاریخ دعوت و عزیمت ج2 ص 406
(10) مولانا محمد عطاءاللہ حنیف، حیات ابن تیمیہ ص 769
(11) ابن رجب، ذیل طبقات الحنابلہ ج2 ص 431، 429
(12) ابن کثیر البدایہ والنہایہ ج14 ص 210
(13) ابن حجر الدرر الکامنۃ ج3 ص 222
(14) شمس الدین ذہبی تذکرۃ الحفاظ ج4 ص 18
(15) ابن کثیر البدایہ والنہایہ ج14 ص 210