شیخ الحدیث مولانا عبیداللہ رحمانی رحمۃ اللہ علیہ (متوفی جنوری 94ء) ماضی قریب کی ایک انتہائی سربرآوردہ علمی شخصیت تھے علم و عمل میں اسلاف کے جانشین اور برصغیر پاک و ہند کی جماعت کی علمی آبرو اور ان کے لیے سرمایہ افتخار۔ انکے فتاویٰ علم و تحقیق کا بہترین نمونہ ہوتے تھے جو اخبارات کی فائلوں میں بکھرے ہوئے ہیں۔ ضرورت ہے کہ ان کو مرتب اور یکجا کر کے شائع کیا جائے تاکہ ایک تو وہ دستِ برد زمانہ سے محفوظ ہو جائیں اور دوسرے عوام و خواص اُن سے استفادہ کر سکیں۔
حضرت شیخ الحدیث مرحوم کی تدریسی، علمی اور افتاء و تحقیق کی گوناگوں خدمات کا دائرہ بہت وسیع ہے۔ لیکن ان سب میں ان کی عظیم ترین اور نمایاں خدمت "مشکوٰۃ المصابیح" کی مفصل عربی شرح مرعاة المفاتيح ہے، جس کی تکمیل اگرچہ وہ نہیں فرما سکے تاہم جتنا حصہ وہ لکھ گئے ہیں، ناقص ہونے کے باوجود، وہ ان کی علمی عظمت کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ رحمه الله تعالىٰ وشكر مساعيه واجزل جزاءه
مرحوم چونکہ اپنی علمی اہمیت کی وجہ سے عوام و خواص کا مرجع تھے، اس لیے اہل علم و فضل کے ساتھ ان کی خط و کتابت کا بھی ایک وسیع سلسلہ تھا۔ حضرت مرحوم کے یہ مکاتیب بھی وعظ و نصیحت کے علاوہ علوم و معارف کا گنجینہ ہوتے تھے۔ بنا بریں ان کے مکتوبات بھی اس لائق ہیں کہ انہیں جمع اور شائع کیا جائے۔ ہمیں حضرت مرحوم کے دو خط میسر آئے ہیں جو حضرت مولانا عبدالغفار حسن حفظہ اللہ کے نام ہیں۔ ہم انہیں تبرکات علمیہ کے طور پر "محدث" میں شائع کر رہے ہیں۔ اس اشاعت میں ان کا ایک مکتوبِ گرامی شامل ہے، دوسرا مکتوب ان شاءاللہ آئندہ شمارے میں اشاعت پذیر ہو گا۔ ہم مولانا عبدالغفار حسن صاحب دام ظلہ کے بھی ممنون ہیں کہ انہوں نے ادارہ "محدث" کو یہ ارمغانِ علمی عطا فرمائے۔ ہم امید کرتے ہیں کہ حضرت مولانائے محترم بھی اور دیگر حضرات بھی اہل علم و فضل کے نادر عملی خطوط سے ادارے کو نوازیں گے، تاکہ انہیں افادہ عام کے لیے "محدث" میں شائع کیا جائے۔ والله الموفق والمعين (ادارہ)


مکرمی و محترمی جناب مولانا عبدالغفار حسن صاحب حفظه الله وتولاه

السلام علیکم ورحمة اللہ وبرکاته ۔۔ آپ کا خط مرقومہ 17 ربیع الثانی 1409ھ بمطابق 27/نومبر 1988ء یہاں 10 دسمبر 1988ء کو موصول ہوا تھا۔ خط بہت طویل ہونے کے ساتھ حواشی اور ترکات و استدراکات سے مزین ہے۔ خط کی صورت دیکھ کر طبیعت بہت خوش ہوئی مگر افسوس ہے کہ اپنی ہر قسم کی کمزوری کی وجہ سے کئی مجلس میں اسے پورا پڑھ سکا۔ سخت افسوس اور ندامت اس بات پر ہو رہی ہے کہ باوجود دلیِ خواہش اور کوشش کے آج سے پہلے جواب لکھوانے کی نوبت نہیں آئی۔ إِنَّا لِلَّـهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ آپ جواب کا انتظار کرتے کرتے مایوس ہو گئے ہوں گے، اللہ کرے یہ عریضہ کسی طرح حسبِ خواہش جلد لکھوا کر سپردِ ڈاک کر دوں۔
نہایت افسوس کے ساتھ مرقوم ہے کہ میری حالت بدستورِ سابق چل رہی ہے بلکہ بتدریج انحطاط اور ضعف بڑھتا جا رہا ہے کمر پر خاص طور پر اتنا اثر پڑ گیا ہے کہ کئی مہینے سے سنن و فرائض سب بیٹھ کر پڑھنا پڑتا ہے۔اپنی مسجد جو چند قدم کے فاصلے پر ہے، اس کے سوا کہیں بھی چل کر نہیں جا سکتا۔ رکشہ پر بھی جانا مشکل ہو گیا۔ کئی برس سے بنارس اور کئی مہینوں سے مئو بھی نہیں جا سکتا والحمدلله على كل حال! دعا فرماتے رہیں کہ اللہ تعالیٰ مزید کمزوری سے محفوظ رکھ کر ہر حال میں صبر و شکر، تقدیر اور اپنی مشیت و رضا پر راضی اور زبان و قلب کو اپنے ذکر و فکر سے تروتازہ اور معمور رکھے! آمین
اپنی اسی مجبوری کی وجہ سے مرعاة المفاتيح  کی تسوید و تبیض تو درکنار، استفتاء بھی بغیر جواب کے واپس کر دینا پڑتا ہے، ضروری خطوط کے جوابات بمشکل لکھوا پاتا ہوں۔ إِنَّا لِلَّـهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ ! مجھے قوی امید تھی کہ مولوی عبدالرحمٰن سلمہ مرعاة  کی تسوید میں کئی سال پہلے معاونت کے تجربے کی بناء پر اس کام کو یکسوئی اور دلچسپی کے ساتھ شروع کر کے جاری رکھنے کی ہمت و کوشش کریں گے، مگر صد افسوس کہ بادلِ نخواستہ ان کے ذمہ مقامی و بیرونی جماعتی مصروفیات اتنی زیادہ ہو گئی ہیں کہ ان کو گھر میں ایک دن بھی اطمینان سے بیٹھنے کا موقع نہیں ملتا۔ مدرسه عربيه دارالتعليم کی نظامت، مرکزی جمعیت اہل حدیث ہند، ادارہ اصلاح المساجد بمبئی کی رکنیت، دینی تعلیمی کونسل اُترپردیش (لکھنو) کی نائب صدارت کی بنا پر ان کی میٹنگوں میں شرکت کے لیے سفر کرتے رہنے سے ان کی صحت بھی بہت متاثر ہو گئی ہے ۔۔ اللہ تعالیٰ ان کے حال پر رحم فرمائے!
ان حالات میں گھر پر مرعاة  کی تکمیل کی بظاہر کوئی صورت نظر نہیں آتی جس کا قلب و دماغ پر بڑا اثر پڑ گیا ہے۔ ناظم صاحب جامعہ سلفیہ بنارس کی صحت پر بھی اختلاج وغیرہ کی وجہ سے اتنا اثر پڑ گیا ہے کہ وہ مبارکپور تک کا سفر کرنے سے معذور ہو رہے ہیں۔ اللہ تعالیٰ ان کی صحت بہتر کر دے۔ کاش ان سے ملاقات کی جلد کوئی سبیل نکل آتی تاکہ بالمشافہ گفتگو کے ذریعہ جامعہ کے مناسب اور اہل، منتخب اساتذہ سے اس کام کے انجام دلوانے کے بارے میں مشورہ ہو کر کوئی قطعی فیصلہ ہو جائے۔ آئندہ جیسی کچھ صورت حال ہو گی اور جو کچھ طے پائے گا، اس سے آپ کو مطلع کرنے کی کوشش کی جائے گی۔
امید ہے آپ کی صحت پہلے سے بہتر ہو گی۔ اللہ کرے آپ کے زیر تصنیف رسالے مثلا عظمتِ حدیث، حجیتِ حدیث، انتخابُ الاحادیث، حکمتِ حدیث اور رسالہ ضیاء السنہ کے منتخب مضامین کا مجموعہ وغیرہ سب جلد طبع ہو کر شائقین کے ہاتھوں میں پہنچ جائیں۔ اور انہیں امید سے زیادہ حسن قبول حاصل ہو۔ صد افسوس ہے کہ والد مرحوم کے بسلسلہ ملازمت صادق پور، پٹنہ، مدرسہ عالیہ مئو پھر مدرسہ سراج العلوم بونڈیہار پھر مدرسہ رحمانیہ دہلی میں مقیم رہنے کی وجہ سے گھر پر آنے والے کسی رسالہ کی فائل محفوظ نہیں ہے ۔۔ نہ ہی اس مدتِ زمانہ میں اپنے علماء کے مختلف فیہ مسائل پر شائع ہونے والے رسالے موجود ہیں، إِنَّا لِلَّـهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ!
افسوس ہے کہ تاریخ ابن خلدون اور الملل والنحل للشهرستانى یہاں موجود نہیں ہیں۔ اس لیے مسیلمہ کذاب کی طرف منسوب استدلال کے بارے میں فی الحال کچھ لکھنے سے معذور ہوں۔ بظاہر یہ حکایت بے بنیاد معلوم ہوتی ہے۔ واللہ اعلم!
مصنف و مؤلف اور طابع و ناشر کی اجازت کے بغیر کتاب کا فوٹو لے کر اس کی طباعت اور نشرواشاعت کی وَبا عام ہو رہی ہے۔ عرب ممالک کے علاوہ ہمارے ہندوستان میں بھی مختلف حیلوں سے یہ کام ہو رہا ہے۔ حقِ تصنیف کے جواز و عدم جواز کے بارے میں علماءِ دیوبند کے درمیان اختلاف ہے، مولانا تھانوی وغیرہ عدم جواز کے قائل ہیں اور حال کے بعض علماء دیوبند جواز کی طرف گئے ہیں۔ شیخ عمر فلاتہ کے خسر شیخ عبدالرحمٰن افریقی نائب مدیر دارالحدیث مدینہ نے بالمشافہ گفتگو کے موقع پر صاف و صریح لفظوں میں کہا کہ مصنفِ کتاب سے اجازت لینے اور اس کو بطورِ معاوضہ کے کوئی نقد رقم یا طبع کردہ کتاب کے مطلوبہ نسخوں کے دینے کی کوئی وجہ نہیں ہے، تصنیف کردہ کتاب بمنزلہ قدرتی چشمہ جاریہ کے ہے۔ ہر شخص کو اس سے فائدہ اٹھانے کا حق و اختیار ہے جس کی زمین میں یہ چشمہ جاری ہو، اس چشمہ سے انتفاع سے روکنے یا اس کا معاوجہ لینے کا کوئی حق نہیں رکھتا۔ مرعاة المفاتيح  کے طابع و ناشر جامعہ سلفیہ بنارس کے ناظم اور اس کی منتظمہ کمیٹی ہے۔ مجھے یقین ہے کہ انہوں نے کسی دوسرے کو اس کی طباعت اور نشرواشاعت کی اجازت نہیں دی ہے اور نہ ہی میں نے کسی کو اس کا حق دیا ہے۔ پاکستان میں جو کچھ ہو رہا ہے، وہاں کے لوگوں کی دھاندلی اور ایک طرح کی غارت گری ہے۔
افسوس ہے کہ ہمارے کتب خانہ میں درج ذیل کتب موجود نہیں ہے۔ کاش کوئی صاحب خیر اس خلا کر پر کرنے کی کوشش فرمائے:
(1)صحیح ابن حبان (2) دلائل النبوة للبيهقى (3) کتاب الاسماء والصفات مکمل
(4) تعلیق التعلیق علی البخاری مکمل (5) طبقات الصوفیاء (6) کتاب الثقات لابن حبان
مولانا عبدالوکیل خطیب اور ان کے چھوٹے بھائی مولانا عبدالجلیل فیصل ندوی کو خوب جانتا ہوں۔ خطیب صاحب عمر کے تقاضے سے غایت درجہ کمزور ہو جانے کی اور ان کے چھوٹے بھائی مولانا فیصل ندوی کے انتقال کر جانے کی خبر بڑے افسوس کا باعث ہوئی۔ اللہ تعالیٰ اول الذکر بزرگ کو قوت و طاقت اور صحت و عافیت عطا فرما کر عرصہ دراز تک ان سے دینی خدمات لیتا رہے، اور ثانی الذکر کو اپنی رحمت اور مغفرت سے نوازے اور پسماندگان کو صبر و شکر کی توفیق عطا فرمائے۔ یہ مختصر عریضہ ازہر سلمہ سے دو مجلسوں میں لکھوایا گیا ہے۔ وہ آپ کو ہدیہ سلام عرض کر رہے ہیں۔ ان کے ابا مولوی عبدالرحمٰن سلمہ اسلام پور ضلع صاحب گنج (بہار) میں رؤیتِ ہلال سے متعلق علماءِ اہل حدیث کی طلب کردہ مجوزہ اہم کمیٹی میں شرکت کے لیے صاحب گنج گئے ہوئے ہیں۔ ان شاءاللہ کل یا پرسوں واپس آ جائیں گے۔ آپ کی صحت اور موجودہ حالت اگر اجازت دے تو جلد جواب لکھنے کی زحمت گوارہ فرمائیں۔ اندرونِ خانہ سب خورد و کلاں کو دعاء و سلام عرض ہے ۔۔ فقط والسلام