الحمد لله والصلاة والسلام على رسول الله وعلى آله وصحبه ومن والاه الى يوم الدين
اس مضمون میں روزے سے متعلق ضروری احکام و مسائل بیان کیے گئے ہیں، مثلا ۔۔ روزے کے واجبات و آداب کیا ہیں؟ رمضان المبارک میں کون سی دعائیں مسنون ہیں؟ اس کے فوائد اور فضائل کیا ہیں؟ روزن کن چیزوں سے ٹوٹ جاتا ہے اور کن چیزوں سے نہیں ٹوٹتا؟ اور اسلام میں اس کی اہمیت کیا ہے؟ وغیرہ، مختصر ان باتوں کا ذکر ہو گا۔ وباللہ التوفیق ۔۔
روزے کی اہمیت
روزے کی اہمیت تو اسی سے واضح ہے کہ یہ اسلام کے پانچ ارکان میں سے ایک رکن ہے۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے:
بني الإسلام على خمس: شهادة أن لا إله إلا الله وأن محمداً رسول الله، وإقام الصلاة، وإيتاء الزكاة، وصوم رمضان، وحج البيت
(صحیح بخاری، الایمان، باب، رقم الحدیث 8 ۔ مسلم، الایمان، باب ارکان الاسلام، رقم 16)
"اسلام کی بنیادیں پانچ ہیں: (1) اس بات کی گواہی دینا کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں اور محمد (صلی اللہ علیہ وسلم) اللہ کے رسول ہیں (2) نماز قائم کرنا (3) زکوٰۃ ادا کرنا (4) رمضان کے روزے رکھنا (5) اور بیت اللہ کا حج کرنا (اگر استطاعت حاصل ہو جائے)"
روزے کی تعریف
اس کے لغوی معنی تو رُک جانے کے ہیں اور شرعی اصطلاح میں یہ اللہ کی ایک عبادت ہے جس میں ایک مسلمان اللہ کے حکم سے تمام مفطرات سے طلوع فجر سے غروب شمس تک رکا رہتا ہے۔ مفطرات کے معنی ہیں، روزے کو توڑ دینے والی چیزیں جیسے کھانا، پینا، بیوی سے ہم بستری کرنا۔ یہ ساری چیزیں اگرچہ حلال ہیں لیکن روزے کی حالت میں یہ چیزیں ممنوع ہیں۔ اس لیے اللہ کی رضا کے لیے اللہ کے حکم پر فجر سے لے کر سورج کے ڈوبنے تک ان تمام چیزوں سے بچ کر رہنے کا نام روزہ ہے۔
روزے کا مقصد
اس تعریف اور عمل سے ہی روزے کا وہ مقصد واضح ہو جاتا ہے جو اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم میں روزے کا حکم دیتے ہوئے لَعَلَّكُمْ تَتَّقُونَ (البقرۃ: 183) کے الفاظ میں بیان فرمایا ہے کہ تمہارے اندر تقویٰ پیدا ہو۔ تقویٰ کا مطلب ہے دل میں اللہ کا ڈر اور اس کا خوف اس طرح جاگزین ہو جائے کہ ہر کام کرنے سے پہلے انسان یہ دیکھے کہ یہ جائز ہے یا ناجائز؟ حلال ہے یا حرام؟ اس سے اللہ راضی ہو یا ناراض ۔۔؟
روزے سے یہ تقویٰ کس طرح حاصل ہوتا ہے۔ جب ایک مسلمان روزے کی حالت میں گھر کی چار دیواری کے اندر بھی، جہاں اس کو کوئی دیکھنے والا ہوتا ہے نہ اس کا کوئی مؤاخذہ کرنے والا، کھاتا ہے نہ پیتا ہے اور نہ بیوی سے اپنی جنسی خواہش پوری کرتا ہے، کیوں؟ محض اس لیے کہ اللہ نے روزے کی حالت میں ان چیزوں سے اسے روک دیا ہے۔ تو پورے ایک مہینے کی تربیت سے۔ بشرطیکہ انسان خلوص دل اور کامل اذعان اور شعور سے کوشش کرے، اس کے دل میں اللہ کا خود راسخ ہو جاتا ہے اور یہ بات اس کے ذہن میں نقش ہو جاتی ہے کہ جب روزے کی حالت میں اللہ کے حکم سے حلال چیزوں سے بھی میں اجتناب کر رہا ہوں، تو جو چیزیں اللہ نے ہمیشہ کے لیے حرام قرار دی ہوئی ہیں، ان کا ارتکاب میرے لیے کس طرح جائز ہو سکتا ہے؟ یا اگر مجھے اللہ کی رضا مقصود ہے تو میں اللہ کی نافرمانی والے کام کیوں کروں؟
مختلف حالات اور اعتبارات سے لوگوں کی قسمیں
(1)روزہ ہر عاقل بالغ مسلمان پر فرض ہے جو روزہ رکھنے کی طاقت رکھتا ہے۔
(2) نابالغ بچے پر روزہ فرض نہیں۔ تاہم ان کی طاقت کے مطابق ان سے روزے رکھوائے جائیں، تاکہ ایک تو وہ اس کے عادی ہو جائیں۔ دوسرے ان کے اندر یہ شعور پختہ ہو جائے کہ بالغ ہونے کے بعد روزہ رکھنا ان کے لیے ضروری ہو گا۔ جیسے حکم ہے کہ سات سال کے بچے کو نماز پڑھنے کی تلقین کی جائے اور دس سال کی عمر میں بچے کو ڈانٹ ڈپٹ کر نماز پڑھوائی جائے۔ اس کا مقصد بھی نماز کی اہمیت و فرضیت کا احساس اس کے اندر پیدا کرنا ہے۔
(3) مریض اگر روزہ رکھنے میں تکلیف محسوس کرے یا روزہ رکھنے سے اس کے مرضی میں اضافے کا اندیشہ ہو تو وہ بیماری کی حالت میں روزہ نہ رکھے۔ تاہم چھوٹے ہوئے روزوں کی قضاء بعد میں ضروری ہے۔
(4) یہی حکم ان عورتوں کے لیے ہے جو حمل سے ہوں یا ان کی گود میں شیرخوار بچہ ہو۔ اگر روزہ رکھنے میں وہ تکلیف محسوس کریں یا بچے کی بابت انہیں کوئی اندیشہ ہو یا ڈاکٹر اس قسم کی ہدایت دے، تو حاملہ اور مرضعہ عورتیں روزہ چھوڑ سکتی ہیں، لیکن بعد میں چھوڑے ہوئے روزوں کی قضا ضروری ہے۔
(5) عورتوں کو حیض اور نفاس کے ایام میں روزے رکھنا ممنوع ہیں۔ حیض کا مطلب، ماہواری ہے اور نفاس کا مطلب، زچگی (ولادت) کے ایام ہیں۔ جب تک ولادت کا خون بند نہ ہو جائے، نفاس کی حالت شمار ہو گی۔ اس کی زیادہ سے زیادہ مدت چالیس دن ہے اور کم سے کم کا کوئی تعین نہیں۔ جب بھی خون بند ہو جائے، وہ پاک سمجھی جائیں گی اور غسل چہارت کے بعد ان کے لیے نماز اور روزے کا اہتمام (اگر ماہ رمضان ہو) ضروری ہو گا۔ حیض اور نفاس کی حالت میں چھوڑے ہوئے روزوں کی قضا ضروری ہے۔
(6) جو شخص روزہ رکھنے پر قادر نہ ہو۔ جیسے کوئی شخص دائمی مریض ہو جس کی صحت یابی کی امید نہ ہو یا بہت بوڑھا آدمی، جس کی طاقت و توانائی ختم ہو چکی ہو۔ یہ دونوں چونکہ روزہ نہیں رکھ سکتے، اس لیے یہ ہر روز ایک مسکین کو کھانا کھلا دیا کریں۔ ان کے لیے اطعام مسکین کا فدیہ روزہ رکھنے کے قائم مقام ہو جائے گا۔
(7) مجنون (پاگل) یا وہ شخص جس کے حوش و حواس مختل ہو جائیں اور اس کے اندر کسی چیز کی تمیز کرنے کا شعور باقی نہ رہے، اسی طرح زیادہ بڑھاپے کی وجہ سے کسی کی عقل ماؤف ہو جائے اور وہ بھی ہوش و تمیز سے عاری ہو جائے۔ ظاہر بات ہے کہ یہ تینوں قسم کے افراد روزہ نہیں رکھ سکتے۔ لیکن یہ فدیہ طعام مسکین کے بھی مکلف نہیں ہیں۔
(8) کسی شخص کو کوئی اضطراری حالت لاحق ہو جائے۔ جیسے کسی ڈوبتے ہوئے شخص کو بچانے کے لیے دریا یا سمندر میں غوطہ زنی کی ضرورت پیش آ جائے۔ یا جلتی آگ میں سے انسانوں کو باہر نکالنے کا کام کرنا پڑ جائے، اس قسم کی اضطراری حالت میں روزہ توڑے بغیر کچھ کرنا مشکل ہو تو روزہ توڑ دینا جائز ہے۔ لیکن بعد میں اس کی قضاء ضروری ہے۔
(9) مسافر، سفر میں دقت محسوس کرے، تو اس کے لیے روزہ چھوڑنا جائز ہے، اس کی قضاء بعد میں ضروری ہے۔ اسی طرح وہ لوگ جو ہمیشہ ہی سفر پر رہتے ہوں۔ جیسے بسوں، ریلوں وغیرہ کے ڈرائیور یا بسلسلہ ملازمت ایک شہر سے دوسرے شہر میں روزانہ سفر کرنے والے حضرات ان کے لیے بھی اگرچہ روزہ چھوڑنا جائز ہے، لیکن روزوں کی قضاء ان کے لیے بھی ضروری ہے۔ اس لیے سفر عارضی ہو یا دائمی، روزہ رکھنے یا نہ رکھنے کی تو رخصت اور اجازت ہے۔ لیکن ان کے لیے روزوں کی معافی نہیں ہے۔ ان کے لیے رمضان کے روزے پورے کرنے ضروری ہیں۔ اگر سفر کی وجہ سے رمضان میں نہیں رکھیں گے تو رمضان کے بعد روزوں کی قضاء ضروری ہے۔
روزے کے ضروری احکام
(1)وجوب نیت: فرض روزوں کے لیے رات کو روزے کی نیت کرنا ضروری ہے۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے:
" مَنْ لَمْ يُجْمِعِ الصِّيَامَ قَبْلَ الْفَجْرِ فَلا صِيَامَ لَهُ"
(سنن ابی داؤد، الصیام، باب النیۃ فی الصوم)
"جس نے فجر سے پہلے پہلے رات کو روزے کی نیت نہ کی، اس کا روزہ نہیں"
رمضان المبارک میں رات کو ہر مسلمان کی نیت ہوتی ہے کہ اس نے صبح روزہ رکھنا ہے، علاوہ ازیں فجر کے طلوع ہونے سے پہلے پہلے اس نے سحری بھی کھانی ہوتی ہے۔ اس اعتبار سے نیت تو بہرحال ہوتی ہی ہے، کیونکہ نیت کا محل دل ہے نہ کہ زبان۔ یہی وجہ ہے کہ روزہ رکھنے کی نیت کے کوئی الفاظ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے ثابت نہیں ہیں۔ اور یہ جو عام کیلنڈروں میں روزے کی نیت کے الفاظ لکھے ہوتے ہیں " بصوم غد نويت من شهر رمضان" بالکل بے اصل ہیں، اس کی کوئی سند نہیں ہے۔ اس لیے ان الفاظ کا پڑھنا گناہ ہے، کیونکہ یہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے ثابت ہی نہیں ہیں۔
(2) روزے کا وقت: طلوع فجر سے غروب شمس تک ہے۔ صبح صادق سے پہلے پہلے سحری کھا لی جائے اور پھر سورج کے غروب ہونے تک تمام مفطرات سے اجتناب کیا جائے۔
(3) سحری ضروری کھائی جائے: بعض لوگ سحری کھانا ضروری نہیں سمجھتے اور رات کو ہی کھا پی کر سو جاتے ہیں یا آدھی رات کو کھا لیتے ہیں۔ یہ دونوں ہی باتیں غلط ہیں۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے:
" فصل ما بين صيامنا وصيام أهل الكتاب، أكلة السَّحَر"
(صحیح مسلم، الصیام، باب فضل السحور، رقم 1096)
"ہمارے اور اہل کتاب کے روزے کے درمیان فرق کرنے والی چیز سحری کا کھانا ہے"
یعنی اہل کتاب سحری نہیں کھاتے اور مسلمان سحری کھا کر روزہ رکھتے ہیں۔ اس لیے سحری ضرور کھانی چاہئے، چاہے ایک کھجور یا چند گھونٹ پانی ہی ہو۔ اس میں برکت بھی ہے اور جسمانی قوت کا ذریعہ بھی۔ اور یہ دونوں چیزین روزہ نبھانے کے لیے ضروری ہیں۔ اسی لیے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے سحری کو غدائے مبارک سے تعبیر فرمایا ہے۔ (سنن ابی داود، الصیام، باب من سمی السحور الغداء)
ایک اور حدیث میں فرمایا:
السحور أكله بركة ؛ فلا تدعوه ولو أن يجرع أحدكم جرعة من ماء ؛ فإن الله عز وجل وملائكته يصلون على المتسحّرين
"سحری کا کھانا باعث برکت ہے اس لیے اسے نہ چھوڑو، چاہے کوئی ایک گھونٹ پانی ہی پی لے کیونکہ اللہ عزوجل اور اس کے فرشتے سحری کھانے والوں پر رحمت بھیجتے ہیں" یعنی اللہ رحمت بھیجتا ہے اور فرشتے رحمت و مغفرت کی دعا کرتے ہیں۔
اسی طرح نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا معمول اور طریقہ مبارک یہ تھا کہ سحری فجر سے تھوڑی دیر پہلے بالکل آخری وقت میں کھایا کرتے تھے۔ روزے داروں کے لیے اس طریق نبوی کے اپنانے میں بڑے فائدے ہیں۔ مثلا فجر کی نماز میں سستی نہیں ہوتی۔ سحری سے فراغت کے فورا بعد نماز فجر کا وقت ہو جاتا ہے۔ انسان آسانی سے جماعت کے ساتھ نماز پڑھ لیتا ہے۔ اور روزے کی ابتداء اور انتہاء کے درمیان وقفہ کم ہو جاتا ہے، جس سے روزے دار کو سہولت مل جاتی ہے، وغیرہ یہی وجہ ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے صوم و صال یعنی بغیر کچھ کھائے پئے بغیر مسلسل روزے رکھنے سے منع فرمایا ہے۔
(صحیح بخاری، الصیام، باب الوصال، رقم 1063۔ مسلم، باب النہی عن الوصال، رقم 1104)
(4) روزہ کھولنے میں جلدی کرنا: جلدی کا مطلب، سورج کے غروب ہونے سے قبل روزہ کھولنا نہیں ہے، بلکہ سورج کے غروب ہونے کے بعد بلاتاخیر روزہ کھولنا ہے۔ جیسے بعض لوگ سورج غروب ہونے کے بعد اتنا اندھیرا چھا جانے کو ضروری سمجھتے ہیں کہ تارے نظر آنے لگ جائیں۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں یہودونصاریٰ کا یہی معمول تھا۔ اس لیے آپ نے مسلمانوں کو حکم دیا کہ تم یہود و نصاریٰ کے برعکس سورج کے غروب ہوتے ہی فورا روزہ کھول لیا کرو۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
" لَا يَزَالُ النَّاسُ بِخَيْرٍ مَا عَجَّلُوا الْفِطْرَ"
(صحیح بخاری، الصوم، باب تعجیل الافطار، رقم 1957۔ مسلم، الصیام، باب فضل السحور، رقم 1098)
"وہ لوگ اس وقت تک ہمیشہ بھلائی میں رہیں گے جب تک روزہ کھولنے میں جلدی کریں گے"
(5) روزہ کس چیز سے کھولا جائے: حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے:
" كان رسول الله صلى الله عليه وسلم يفطر على رطبات قبل أن يصلي فإن لم تكن رطبات فعلى تمرات فإن لم تكن حسا حسوات من ماء "
(سنن ابی داؤد، کتاب الصیام، باب ما یفطر علیہ)
"نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا معمول تھا کہ نماز مغرب سے پہلے تازہ کھجوروں سے روزہ افطار کرتے، اگر تازہ کھجوریں نہ ہوتیں تو چھواروں سے روزہ کھولتے۔ اگر چھوارے بھی نہ ہوتے تو پانی کے چند گھونٹ نوش فرما لیتے"
ہمارا معمول اس نبوی معمول سے کتنا مختلف ہے۔ ہمارے ہاں افطاری کے وقت انواع و اقسام کے پھل فروٹ کے علاوہ چٹ پٹی اور مصالحے دار چیزوں کی بھی فراوانی ہوتی ہے، جس سے معدے میں بھی گرانی ہو جاتی ہے جو صحت کے لیے مضر ہے۔ ہمیں بھی ان تکلفات کی بجائے سادگی کو ہی اختیار کرنا چاہیئے، اسی میں اخروی اجر و ثواب بھی ہے اور دنیوی فائدہ بھی۔
(6) قبولیت دعاء کا وقت: سارا دن اللہ کی رضا کے لیے بھوک پیاس برداشت کرنے اور اپنی جنسی خواہش پر کنٹرول کرنے کی وجہ سے ایک مومن کو اللہ کے ہاں ایک خاص مقام حاصل ہو جاتا ہے، اس لیے افطاری کے وقت قبولیت دعاء کا بھی بہت امکان ہوتا ہے۔ ایک حدیث میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
" إِنَّ لِلصَّائِمِ عِنْدَ فِطْرِهِ لَدَعْوَةً مَا تُرَدُّ "
(سنن ابن ماجہ، الصیام، باب فی الصائم لا ترد دعوتہ، رقم 1753)
"افطاری کے وقت روزے دار کی دعا رد نہیں کی جاتی"
(7) افطاری کے وقت کون سی دعا پڑھی جائے: اس سلسلے میں ایک دعا یہ مشہور ہے " اللهم لك صمت وعلى رزقك افطرت" یہ مرسل روایت ہے جو محدثین کے نزدیک ضعیف شمار ہوتی ہے۔ ایک دوسری دعاء ہے جو عام کیلنڈروں میں لکھی ہوتی ہے۔ " اللهم لك صمت وبك امنت وعليك توكلت وعلى رزقك افطرت" یہ دعا بالکل بے سند اور بے اصل ہے۔ ایک تیسری دعا ہے جو نبی صلی اللہ علیہ وسلم افطاری کے وقت پڑھتے تھے: " ذهب الضمأ وابتلت العروق وثبت الآجر إن شاء الله"
"پیاس دور ہو گئی، رگیں تر ہو گئیں اور اگر اللہ نے چاہا تو اجر ثابت ہو گیا"
اس کی سند حسن درجے کی ہے۔ (مشکوٰۃ۔ الالبانی 1/621) اس لیے بہتر ہے کہ افطاری کے وقت یہی دعاء پڑھی جائے۔ اگرچہ شیخ البانی نے دوسری مرسل روایت کو بھی شواہد کی بنا پر قابل قبول قرار دیا ہے۔ لیکن بعض دوسرے علماء شیخ البانی کی اس رائے سے متفق نہیں اور وہ اسے ضعیف ہی قرار دیتے ہیں۔ واللہ اعلم
(8) روزہ کھلوانے کا ثواب: نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
" من فطر صائما او جهز غازيا فله مثل اجره"(رواہ البیہقی فی شعب الایمان و محی السنۃ فی "شرح السنۃ" وقال صحیح و قال الالبانی، وہو کما قال مشکوۃ 1/621)
"جس نے کسی روزے دار کا روزہ کھلوایا، یا کسی غازی کو تیار کیا، تو اس کے لیے بھی اس کے برابر اجر ہے"
روزہ کھلوانے کا یہ اجر ہر شخص اپنی طاقت کے مطابق حاصؒ کر سکتا ہے اس کے لیے پرتکلف دعوت کی ضرورت نہیں۔
روزے دار کے لیے حسب ذیل چیزوں سے اجتناب ضروری ہے
(1)جھوٹ سے: جیسے نبی صلی اللہ علیہ سلم نے فرمایا:
"من لم يدع قول الزور والعمل به فليس لله حاجة في أن يدع طعامه وشرابه"(صحیح بخاری، الصوم، باب من لم یدع قول الزور ۔۔۔ رقم 1903)"
"جس شخص نے جھوٹ بولنا اور جھوٹ پر عمل کرنا نہ چھوڑا، تو اللہ عزوجل کو کوئی ضرورت نہیں کہ ایسا شخص اپنا کھانا پینا چھوڑ دے" یعنی اللہ کے ہاں اس کے روزے کی کوئی اہمیت نہیں۔
(2) لغو اور رفث سے: نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
" لَيْسَ الصِّيَامُ مِنَ الأَكْلِ وَالشُّرْبِ ، إِنَّمَا الصِّيَامُ مِنَ اللَّغْوِ وَالرَّفَثِ ، فَإِنْ سَابَّكَ أَحَدٌ أَوْ جَهِلَ عَلَيْكَ ، فَلْتَقُلْ : إِنِّي صَائِمٌ ، إِنِّي صَائِمٌ " .(صحیح ابن خزیمہ، 3/242، رقم 1996 المکتب الاسلامی بیروت)"
"روزہ صرف کھانا پینا (چھوڑنے کا) نام نہیں ہے۔ روزہ تو لغو اور رفث سے بچنے کا نام ہے اس لیے اگر تجھ کو کوئی سب و شتم کرے یا تیرے ساتھ جہالت سے پیش آئے تو تو کہہ دے میں تو روزے دار ہوں، میں تو روزے دار ہوں"
لغو ہر بے فائدہ اور بے ہودہ کام کو کہتے ہیں جیسے ریڈیو اور ٹی وی کے لچر اور بے ہودہ پروگراموں کا سننا اور دیکھنا ہے۔ تاش، شطرنج اور اس قسم کے دیگر کھیل ہیں۔ فحش ناول، افسانے اور ڈرامے ہیں، وست احباب کے ساتھ خوش گپیاں، چغلیاں، بے ہودہ مذاق اور دیگر ناشائستہ حرکتیں ہیں۔
رفث کا مطلب، جنسی خواہشات پر مبنی باتیں اور حرکتیں ہیں۔ یہ لغو رفث روزے کی حالت میں بالخصوص منع ہیں۔ اس لیے تمام مذکورہ باتوں اور حرکتوں سے اجتناب کیا جائے۔
اسی طرح کوئی لڑنے جھگڑنے کی کوشش کرے، گالی گلوچ کر کے اشتعال دلائے۔ تو روزے دار اس جہالت کے مقابلے میں صبر و تحمل اور درگزر سے کام لے۔ اور دوسرے فریق کو بھی اپنے عمل سے یہ وعظ و نصیحت کرے کہ روزے کی حالت میں بالخصوص جدال و قتال سے بچنا اور برداشت سے کام لینا چاہئے۔
جھوٹ اور جھوٹ پر عمل کرنے سے اجتناب کا مطلب ہے کہ روزے میں نہ جھوٹی بات کرے نہ دجل و فریب پر مبنی کوئی حرکت۔ جیسے دکان میں بیٹھ کر گاہکوں سے جھوٹ بولے یا ان کو دھوکہ اور فریب دینے کی کوشش کرے، جیسا کہ بدقسمتی سے بے شمار دکاندار ان حرکتوں کا ارتکاب کرتے ہیں۔ یہ حرکتیں ہر وقت ہی ممنوع ہیں۔ لیکن روزہ رکھ کر ان حرکتوں کا ارتکاب تو بہت بڑی جسارت اور غفلت شعاری کا عجیب مظاہرہ ہے۔ ایسے ہی لوگوں کی بابت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے:
" كم من صائم ليس له من صيامه إلا الجوع والظمأ، وكم من قائم ليس له من قيامه إلا السهر (رواہ الدارمی وقال الالبانی، اسنادہ جید مشکوۃ للالبانی 1/626)"
"کتنے ہی روزے دار ہیں جن کو سوائے پیاس کے، روزہ رکھنے سے کچھ حاصل نہیں ہوتا اور کتنے ہی شب بیدار ہیں، جن کو بے خوابی کے سوا، شب بیداری سے کچھ حاصل نہیں ہوتا"
روزے دار کے لیے کون کون سے کام جائز ہیں
(1)حالت جناب میں سحری کھا کر روزہ رکھا جا سکتا ہے تاہم نماز کے لیے غسل کرنا ضروری ہے۔ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں:
"أن رسول الله صلى الله عليه وسلم كان يدركه الفجر وهو جنب من أهله ثم يغتسل ويصوم  "
(صحیح بخاری، الصوم، باب الصائم یصبح جنبا، رقم 1926۔ مسلم، الصیام، باب صحۃ صوم من طلع علیہ الفجر وہو جنت، رقم 1109)
"نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو (بعض دفعہ) اس طرح فجر ہوتی کہ آپ ہم بستری کرنے کی وجہ سے جنبی ہوتے، (اسی حالت میں آپ سحری کھا لیتے) اور پھر غسل کر کے روزہ رکھ لیتے"
یعنی جنابت سحری کھانے اور روزہ رکھنے میں مانع نہیں ہے۔ البتہ نماز میں مانع ہے۔ اس لیے نماز سے قبل غسل ضروری ہے۔
(2) روزے دار مسواک کر سکتا ہے اس لیے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
"لولا أن أشقعلى أمتي لأمرتهم بالسواك عند كل صلاة "
(صحیح بخاری، کتاب الجمعۃ، باب السواک یوم الجمعۃ۔ مسلم، کتاب الطہارۃ، باب السواک، رقم 252)
"اگر میری امت پر یہ بات گراں نہ ہوتی تو میں انہیں حکم دیتا کہ ہر نماز کے ساتھ مسواک کریں"
نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان عام ہے جس میں روزے دار اور غیر روزے دار دونوں شامل ہیں۔ اگر روزے کی حالت میں مسواک کرنا صحیح نہ ہوتا، تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم اس کی ضرور وضاحت فرما دیتے اور روزے دار کو مسواک کرنے سے منع فرما دیتے۔ بعض لوگ کہتے کہ روزے دار زوال سے پہلے مسواک کر لیا کرے، لیکن زوال کے بعد نہ کرے۔ لیکن یہ بے اصل بات ہے ہر وضو کے ساتھ مسواک کرنے کی تاکید ہے اور اس سے کسی کو مستثنیٰ نہیں کیا گیا ہے۔ اس لیے روزے دار ہر وقت مسواک کر سکتا ہے۔ اور مسواک ہی کی طرح ٹوتھ پیسٹ کرنا بھی جائز ہے۔
(3) روزے دار کلی بھی کر سکتا ہے اور ناک میں پانی بھی ڈال سکتا ہے۔ تاہم روزے کی حالت میں ناک میں پانی ڈالنے میں احتیاط سے کام لے اور اس میں مبالغہ نہ کرے۔ جب کہ عام حالات میں اس میں مبالغہ کرنے کا حکم ہے۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے:
وبالغ في الاستنشاق إلا أن تكون صائماً (سنن ابی داؤد، باب الصائم یصب علیہ الماء من العطش)
"اور ناک میں خوب اچھی طرح سانس کھینچ کر پانی ڈال، مگر جب کہ تو روزے دار ہو" یعنی روزے کی حالت میں ناک میں پانی ڈالنا تو جائز ہے، کیونکہ وہ وضوء کا ایک حصہ ہے، لیکن اس میں مبالغہ نہیں کرنا، یعنی سانس کھینچ کر پانی ناک کے اندر لے جانے کی کوشش نہیں کرنا۔
(4) روزے دار کے لیے بیوی کا بوسہ لینا اور اس سے مباشرت کرنا (معانقہ کر کے بغل گیر ہونا) جائز ہے۔ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے:
" كان رسول الله صلى الله عليه وسلم يقبل وهو صائم، ويباشر وهو صائم، ولكنه كان أملككم لإربه "
(صحیح بخاری، الصوم، باب المباشرۃ للصائم، رقم 1927۔ مسلم، الصیام، باب بیان ان القبلۃ فی الصوم لیست محرمۃ علی من لم تحرک شہوتہ، رقم 1106)
"رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم روزے کی حالت میں بوسہ لے لیا کرتے تھے، لیکن آپ اپنی حاجت پوری کرنے میں بہت زیادہ قدرت رکھنے والے تھے"
مطلب حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کا یہ ہے کہ آپ کو اپنے جذبات اور خواہشات پر بڑا کنٹرول حاصل تھا۔ اس لیے بیوی سے بوس و کنار کرتے وقت آپ سے یہ اندیشہ نہیں تھا کہ آپ جذبات محبت میں بے قابو ہو کر اس سے تجاوز کر جائیں گے۔
اس سے یہ بات معلوم ہوئی کہ روزے کی حالت میں بیوی سے بوس و کنار اگرچہ جائز ہے۔ لیکن یہ جائز کام صرف وہی شخص کرے جس کو اپنے جذبات پر کنٹرول ہو۔ بصورت دیگر اس سے باز رہے۔ اس بات کو علماء نے اس طرح بیان کیا ہے کہ نوجوان آدمی کے لیے بیوی سے بوس و کنار مکروہ ہے اور عمر رسیدہ شخص کے لیے غیر مکروہ۔ کیونکہ نوجوان سے تجاوز کا خطرہ ہے، بوڑھے آدمی سے تجاوز کا خطرہ نہیں۔
(5) روزے کی حالت میں ایسا ٹیکہ لگوانا جائز ہے جس کا مقصد خوراک یا قوت کی فراہمی نہ ہو بلکہ صرف بیماری کا علاج ہو، علاج کے لیے ٹیکہ بیرونی دوائی کی حیثیت رکھتا ہے، وہ معدے میں جاتا ہے اور نہ اس سے کوئی خوراک ہی حاصل ہوتی ہے۔
(6) اسی طرح روزے کی حالت میں سینگی لگوائی جا سکتی ہے۔ یعنی فصد کے ذریعے سے گندہ خون نکلوایا جا سکتا ہے۔ دانت نکلوایا جا سکتا ہے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے روزے کی حالت میں سینگی لگوائی ہے (بخاری)
(7) آنکھوں میں سرمہ لگانا اور کان یا آنکھ میں دوائی کے قطرے ڈالنا جائز ہے۔ چاہے اس کا اثر حلق میں بھی محسوس ہو۔ لیکن اس سے روزہ نہیں ٹوٹے گا۔ امام بخاری فرماتے ہیں:
" ولم ير أنس والحسن وإبراهيم بالكحل للصائم بأسا "
(صحیح بخاری، باب اغتسال الصائم)
"حضرت انس رضی اللہ عنہ، حضرت حسن رحمۃ اللہ علیہ اور حضرت ابراہیم رحمۃ اللہ علیہ کے نزدیک روزے دار کے لیے سرمہ لگانے میں کوئی حرج نہیں ہے"
(8) روزے دار کھانا چکھ سکتا ہے، بشرطیکہ حلق میں نہ جائے۔ اسی طرح دانتوں میں دوائی ملی جا سکتی ہے۔ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں:
" لا بأس أن يتطعم القدر أو الشيء " (صحیح بخاری، باب اغتسال الصائم)
"روزے دار اگر ہانڈی یا کوئی اور چیز چکھ لے، تو کوئی حرج نہیں"
کن کن چیزوں سے روزہ ٹوٹ جاتا ہے
(1)جان بوجھ کر کھانے پینے سے روزہ ٹوٹ جائے گا۔ البتہ بھول چوک سے کھا لے گا، یا جبر سے کوئی اس کو کچھ کھلا دے گا، تو روزہ برقرار رہے گا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
" إذا نسي فأكل وشرب فليتم صومه فإنما أطعمه الله وسقاه "
(صحیح بخاری، الصوم، باب الصائم اذا اکل او شرب ناسیا، رقم 1933۔ مسلم، الصیام، باب اکل الناسی وشربہ و جماعہ لا یفطر)
"جب کوئی بھول کر کھا پی لے، تو اس کو چاہئے کہ روزہ پورا کر لے (اس کو توڑے نہیں) اس لیے کہ اللہ تعالیٰ نے اس کو کھلایا اور پلایا ہے" حتی کہ بھول کر بیوی سے ہم بستری بھی کر لے گا، تو روزہ نہیں ٹوٹے گا (حوالہ ہائے مذکور)
(2) جان بوجھ کر قے کرنے سے روزہ ٹوٹ جائے گا۔ البتہ طبیعت کی خرابی سے خودبخود قے آ جائے، تو اس سے روزہ نہیں ٹوٹے گا۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
" مَنْ ذَرَعَهُ الْقَيْءُ وَهُوَ صَائِمٌ فَلَيْسَ عَلَيْهِ قَضَاءٌ ، وَمَنِ اسْتَقَاءَ فَلْيَقْضِ "
(سنن ابی داؤد، باب الصائم لیستقئیی عامدا)
"جس کو خود قے آ گئی (اس کا روزہ برقرار ہے) اس پر قضاء نہیں۔ اور اگر اس نے جان بوجھ کر قے کی، تو اس کو چاہئے کہ وہ قضاء دے"
(3) بیوی سے ہم بستری کرے گا تو نہ صرف روزہ ٹوٹ جائے گا، بلکہ اس کو اس کی قضاء کے ساتھ ساتھ کفارہ بھی ادا کرنا پڑے گا، اور وہ کفارہ ایک گردن آزاد کرنا، یا بلاناغہ متواتر دو مہینے کے روزے رکھنا یا ساٹھ مسکین کو کھانا کھلانا ہے (متفق علیہ، کتاب الصوم)
(4) گلوکوز یا خون یا کوئی اور غذائی مواد کسی ذریعے سے اندر داخل کرنے سے روزہ ٹوٹ جائے گا، کیونکہ اس کا مقصد پیٹ کے اندر چیز کا پہنچانا ہے، جو مفطر صوم ہے۔
(5) حیض اور نفاس سے روزہ ٹوٹ جائے گا۔ چاہے کسی وقت بھی اس کا آغاز ہو۔
(6) حالت بیداری میں استمناء بالید (مشت زنی) یعنی ہاتھ سے منی خارج کرنے سے یا بیوی کے ساتھ بوس و کنار کرنے سے منی کا انزال ہو جائے، تو روزہ ٹوٹ جائے گا۔ تاہم احتلام (یعنی خواب میں منی خارج ہو جانے) سے روزہ نہیں ٹوٹے گا، کیونکہ یہ غیر اختیاری فعل ہے۔ جب کہ پہلی صورتیں اختیاری ہیں۔
(7) نکسیر پھوٹ جائے یا کسی اور وجہ سے خون بہہ جائے، تو اس کمی کو دور کرنے کے لیے خون چڑھانے سے روزہ ٹوٹ جائے گا۔ گویا جسم سے خون کا نکلنا مفسد صوم نہیں البتہ خون چڑھانا مفسد صوم ہے۔
قضاء کے بعض مسائل
(1)جو روزے بیماری، سفر یا حیض و نفاس کی وجہ سے رہ جائیں۔ رمضان کے بعد بلاتاخیر جلد سے جلد رکھنے چاہئے۔ تاہم ان کے لیے تواتر ضروری نہیں۔ یعنی وقفے وقفے سے بھی وہ پورے کیے جا سکتے ہیں۔
(2) جس طرح کوئی شخص فوت ہو جائے اور اس کے ذمے کچھ فرض نمازیں ہوں۔ تو ان کی ادائیگی ضروری نہیں۔ اسی طرح کوئی شخص زندگی میں روزہ رکھنے کی قوت سے محروم ہو جائے، تو اس کی طرف سے زندگی ہی میں اس کے بدلے ایک مسکین کو روزانہ کھانا کھلانا تو ضروری ہے (جیسا کہ پہلے گزرا) تاہم اس کی طرف سے روزوں کی قضاء ضروری نہیں۔
(3) البتہ کسی کے ذمے نذر کے روزے ہوں اور وہ زندگی میں نہ رکھ سکا، تو ان کی قضاء ورثاء کے لیے ضروری ہے۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے:
" من مات وعليه صيام صام عنه وليه "
(صحیح بخاری، باب من مات وعلیہ صوم، رقم 1952۔ مسلم، باب قضاء الصیام عن المیت، رقم 1147)
"جو شخص فوت ہو جائے اور اس کے ذمے روزے ہوں، تو وارث اس کی طرف سے روزے رکھے"
اس حدیث میں فوت شدہ شخص کے ذمے رہ جانے والے روزوں کی قضائی کا جو حکم ہے، دوسری روایات سے معلوم ہوتا ہے، کہ اس کا تعلق نذر کے روزوں سے ہے نہ کہ رمضان کے روزوں سے۔ تاہم بعض علماء نے اس میں دو قسم کے افراد کو اور شامل کیا ہے۔ ایک وہ بیمار، جس کو رمضان کے بعد بحالت صحت روزوں کی قضاء کا موقع ملا، لیکن اس نے تساہل سے کام لیا اور روزے نہ رکھے، حتیٰ کہ فوت ہو گیا۔ دوسرا وہ شخص، جس کے روزے سفر کی وجہ سے رہ گئے۔ رمضان کے بعد اسے روزے رکھنے کا موقع ملا، لیکن اس نے بھی تساہل کی وجہ سے روزے نہیں رکھے، حتی کہ فوت ہو گیا۔ ان دونوں کے ذمے بھی فرض روزے رہ گئے جن کی ادائیگی ان کے ورثاء کی ذمہ داری ہے۔
بے نمازی کا روزہ مقبول نہیں
آج مسلمانوں میں نماز جیسے اہم فریضے سے غفلت عام ہے۔ حالانکہ یہ ایسا فریضہ ہے کہ جس سے کفر و اسلام کے درمیان فرق و امتیاز ہوتا ہے۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے:
" العهد الذي بيننا وبينهم الصلاة فمن تركها فقد كفر "
(ترمذی، الایمان، باب ماجاء فی ترک الصلاۃ، رقم 2621)
"وہ عہد جو ہمارے (مسلمانوں) اور کافروں کے درمیان ہے، وہ نماز ہے، جس نے نماز کو ترک کر دیا، اس نے کفر کا ارتکاب کیا"
گویا نماز دین کا ستون ہے جس پر دین اسلام کی عمارت استوار ہوتی ہے۔ لیکن مسلمان اتنی شدید غفلت میں مبتلا ہیں کہ بہت سے لوگ روزہ رکھنے کے باوجود نماز نہیں پڑھتے۔ یاد رکھیے! اس طرح روزہ رکھنے کا بھی کوئی فائدہ نہیں۔ جب بے نمازی پر کفر کا حکم لگایا گیا ہے، تو کفر کے ساتھ روزہ رکھنے کا کیا مطلب؟ کافر کا تو کوئی عمل مقبول ہی نہیں۔ پھر بے نمازی کا روزہ کیوں کر قبول ہو گا؟
قیام اللیل یعنی نماز تراویح کے بعض مسائل
(1)نبی صلی اللہ علیہ وسلم ہمیشہ قیام اللیل یعنی نماز تہجد کا اہتمام فرماتے تھے۔ لیکن ایک رمضان میں آپ نے تہجد کی یہ نماز تین دن باجماعت ادا فرمائی۔ آپ کے ساتھ صحابہ نے بھی نہایت ذوق شوق کے ساتھ تین دن یہ نماز پڑھی۔ چوتھے دن بھی صحابہ قیام اللیل کے لیے آپ کے منتظر رہے۔ لیکن آپ حجرے سے باہر تشریف نہیں لائے۔ اور اس کی وجہ آپ نے یہ بیان فرمائی کہ مجھے یہ اندیشہ لاحق ہو گیا کہ کہیں رمضان المبارک میں یہ قیام اللیل تم پر فرض نہ کر دیا جائے۔ اس لیے اس کے بعد یہ قیام اللیل بطور نفلی نماز کے انفرادی طور پر ہوتا رہا۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم اور حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کے عہد میں یہی معمول رہا۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے اپنے دور خلافت میں حضرت تمیم داری اور حضرت ابی بن کعب رضی اللہ عنہ کو حکم دیا کہ وہ رمضان میں اس قیام اللیل کا باجماعت اہتمام کریں۔ چنانچہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے حکم پر دوبارہ اس سنت کا احیاء عمل میں آیا، جسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے خواہش کے باوجود، فرض ہو جانے کے خوف سے، چھوڑ دیا تھا۔
(2) اس سے معلوم ہوا کہ یہ قیام اللیل فرض یا سنت مؤکدہ نہیں ہے، بلکہ اس کی حیثیت نفلی نماز کی ہے۔
(3) یہ بھی معلوم ہوا کہ عہد رسالت و عہد صحابہ میں اسے قیام اللیل کہا جاتا تھا یعنی تہجد کی نماز۔ جس سے یہ بات واضح ہوتی ہے کہ نماز تہجد کا وقت عشاء کی نماز کے بعد سے لے کر رات کے آخری پہر، طلوع فجر تک ہے۔ اس وقت کے دوران کسی بھی وقت اسے پڑھا جا سکتا ہے۔
(4) وقت کی اسی وسعت اور گنجائش کی وجہ سے اس نماز تہجد کو رمضان المبارک میں عشاء کی نماز کے فورا بعد پڑھ لیا جاتا ہے تاکہ کم از کم رمضان میں زیادہ سے زیادہ لوگ قیام اللیل کی فضیلت حاصل کر سکیں۔ اور اسی وجہ سے اس کی جماعت کا بھی اہتمام ہوتا ہے، کیونکہ فردا فردا ہر شخص کے لیے اس کا پڑھنا مشکل ہے۔
(5) بعد میں اس قیام اللیل کو تراویح کا نام دے دیا گیا اور اسے رمضان کی مخصوص نماز سمجھا جانے لگا۔ حالانکہ یہ رمضان کے ساتھ مخصوص ہے اور نہ یہ رمضان کی کوئی مخصوص نماز ہی ہے۔ یہ قیام اللیل یا نماز تہجد ہی ہے جس کا پڑھنا سارا سال ہمیشہ ہی مستحب اور اہل صلاح و تقویٰ کا معمول رہا ہے۔ اس لیے اسے اول وقت میں اور باجماعت پڑھنے یا نیا نام رکھنے کی وجہ سے، تہجد سے مختلف نماز سمجھنا بالکل بے اصل اور بلا دلیل بات ہے۔
(6) نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا قیام اللیل یا نماز تہجد میں کتنی رکعت پڑھنے کا معمول تھا؟ اس کی وضاحت صحیح بخاری و مسلم میں حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے منقول ہے کہ وہ وتر کے علاوہ آٹھ رکعت اور وتر کے سمیت گیارہ رکعت ہے۔
" كان النبي صلى الله عليه وسلم لا يزيد في رمضان ولا غيره على إحدى عشرة ركعة "
(صحیح بخاری، التہجد، باب قیام النبی فی رمضان وغیرہ، رقم 1147، مسلم، صلاۃ المسافرین، باب صلاۃ الرجل و عدد رکعات النبی صلی اللہ علیہ وسلم، رقم 739)
"نبی صلی اللہ علیہ وسلم رمضان اور غیر رمضان میں گیارہ رکعات سے زیادہ نہیں پڑھتے تھے"
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہ نے یہ وضاحت ابوسلمہ رضی اللہ عنہ کے اس سوال پر فرمائی تھی کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی رمضان میں (رات کی نماز) کس طرح ہوتی تھی، اس سوال کے جواب میں کہا گیا کہ گیارہ رکعات ہی آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہمیشہ پڑھا کرتے تھے، تو رمضان کے ساتھ غیر رمضان کا ذکر کر کے یہ بات سمجھا دی کہ جو غیر رمضان میں آپ کی تہجد کی نماز ہوتی تھی، وہی رمضان میں آپ کی تراویح ہوتی تھی۔
نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے تین راتیں جو باجماعت قیام اللیل فرمایا، ان میں بھی آپ نے آٹھ رکعات اور تین وتر ہی پڑھائے۔ (قیام اللیل، للمروزی، اول کتاب قیام رمضان، ص 55 المکتبہ الاثریہ، سانگلہ ہل)
حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے حضرت تمیم داری اور حضرت ابی بن کعب رضی اللہ عنہ کو باجماعت پڑھانے کا جو حکم دیا، وہ بھی گیارہ رکعتوں کا ہی تھا جو صحیح سند سے ثابت ہے (مؤطا امام مالک، باب ماجاء فی قیام رمضان 1/115، طبع بیروت)
(7) رمضان کے قیام اللیل یا تراویح میں 20 رکعتوں کا معمول سنت نبوی کے خلاف ہے اور اس کے ثبوت میں جتنی روایات پیش کی جاتی ہیں، وہ سب ضعیف ہیں۔ جس کا اعتراف علمائے احناف کو بھی ہے۔ تفصیل کے لیے ملاحظۃ ہو مؤطا امام محمد، باب قیام شہر رمضان، ص 138، طبع مصطفائی 1297ھ نصب الرایہ، علامہ زیلعی حنفی، ج2 ص 153 طبع المجلس العلمی، دابھیل، سورت، بھارت، مرقاۃ المفاتیح ملا علی قاری حنفی ج3 ص 192، 194 مکتبہ امدادیہ ملتان، عمدۃ القاری شرح صحیح بخاری، علامہ بدرالدین عینی حنفی، ج7 ص 177 طبع منیریہ، مصر۔ امام ابن ہمام حنفی، فتح القدیر، شرح ہدایہ، ج1 ص 334۔ حاشیہ صحیح بخاری، مولانا احمد علی سہارنپوری، ص 154، ج1 امام ابن نجیم حنفی، البحر الرائق 2 ص 72۔ علامہ طحطاوی حنفی، حاشیہ در مختار، ج1 ص 295۔ رد المختار (فتاویٰ شای) علامہ ابن عابدین حنفی، ج1 ص 495۔ سید احمد حموی حنفی، حاشیہ الاشباہ، ص 9 علامہ ابوالسعود حنفی، شرح کنز الدقائق، ص 265 حاشیہ کنز الدقائق، مولانا محمد احسن نانوتوی، ص 36۔ مراقی الفلاح، شرح نور الایضاح، ابوالحسن شرنبلالی، ص 247۔ شیخ عبدالحق محدث دہلوی، ما ثبت فی السنۃ ص 292۔ مولانا عبدالحئی لکھنوی حنفی نے اپنے متعدد حواشی میں اس کی صراحت فرمائی ہے مثلا عمدۃ الرعایۃ ج1 ص 207۔ تعلیق المجد ص 138۔ تحفۃ الاخیار ص 28، طبع لکھنو حاشیہ ہدایۃ ج1 ص 151 طبع قرآن محل کراچی، مولانا انور شاہ کشمیری کی صراحت کے لیے ملاحظہ ہو فیض الباری۔ ج1 ص 420۔ العرف الشذی، ص 309۔ کشف الستر عن صلاۃ الوتر ص 27۔ شاہ ولی اللہ محدث دہلوی، مصفی شرح موطا فارسی مع مسوی، ص 177 طبع کتب خانہ رحمیمیہ دہلی، 1346،ھ وغیرہا من الکتب۔
ان تمام مذکورہ کتابوں میں سے بعض میں اگرچہ بعض صحابہ کے عمل کی بنیاد پر 20 رکعات تراویح کا جواز یا استحباب ثابت کیا گیا ہے، لیکن دو باتیں سب نے متفقہ طور پر تسلیم کی ہیں کہ تراویح کی مسنون تعداد 8 رکعات اور وتر سمیت گیارہ رکعات ہی ہیں نہ کہ بیس یا اس سے زیادہ، دوسری بات یہ کہ 20 رکعات والی حدیث بالکل ضعیف اور ناقابل اعتبار ہے۔
(8) تراویح نفلی نماز ہے اور ایک مومن نوافل ادا کرتا ہے تو اس سے اس کا مقصد اللہ کی رضا اور اس کا خصوصی قرب حاصل کرنا ہوتا ہے۔ لیکن عام مساجد میں جس طرح قرآن مجید تراویح میں پڑھا اور سنا جاتا ہے اور جتنی سرعت اور برق رفتاری سے رکوع، سجود اور قومہ وغیرہ کیا جاتا ہے۔ کیا اس طرح قرآن کریم اور نماز کا حلیہ بگاڑنے سے اللہ کے قرب کی توقع کی جا سکتی ہے؟ نہیں، ہرگز نہیں۔ تیزی اور روانی میں قرآن کریم کے سارے اعجاز، فصاحت و بلاغت اور اس کے انذار و تبشیر کا بیڑا غرق کر دیا جائے، اور اسی طرح نماز کی ساری روح مسخ کر دی جائے اور پھر امید رکھی جائے کہ ہمیں اجر و ثواب ملے گا، اللہ راضی ہو جائے گا اور ہم اس کے قرب خصوصی کے مستحق ہو جائیں گے۔ یہ سراسر بھول اور فریب نفس ہے، شیطان کا بھکاؤ اور اس کا وسوسہ ہے، ہماری نادانی اور جہالت ہے۔
اگر ہم چاہتے ہیں کہ رمضان کے قیام اللیل (تراویح) کی وہ فضیلت ہمیں حاصل ہو جو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے بیان فرمائی ہے کہ:
" من قام رمضان إيمانا واحتسابا، غفر له ما تقدم من ذنبه  "
(بخاری، باب فضل من قام رمضان، رقم 2009)
"جس نے ایمان و احتساب کے ساتھ رمضان (کی راتوں) میں قیام کیا، اس کے پچھلے گناہ معاف ہو جائیں گے"
تو اس کے لیے ضروری ہے کہ قرآن مجید میں حسن تجوید اور ترتیل کا اور اسی طرح نمازوں میں ارکانِ اعتدال کا اہتمام کریں، جیسا کہ ان دونوں باتوں کی تاکید ہے۔ اس کے بغیر قرآن کا پڑھنا سننا کار ثواب ہے، اور نہ تراویح و شبینوں کے اہتمام کی ہی کوئی اہمیت ہے۔
آخری عشرہ اور اعتکاف
رمضان المبارک کے آخری عشرے کی بڑی اہمیت ہے۔ ایک تو اس میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم نہ صرف خود شب بیداری کا خصوصی اہتمام فرماتے، بلکہ اپنے گھر والوں کو بھی جگاے۔ دوسرے ۔۔ اس میں لیلۃ القدر بھی آتی ہے جس کی فضیلت خود قرآن کریم میں یہ بیان کی گئی ہے۔ تیسرے، اس میں اعتکاف بھی کیا جاتا ہے، جس کا نبی صلی اللہ علیہ وسلم اتنا اہتمام فرماتے تھے کہ ایک مرتبہ آپ اعتکاف نہیں بیٹھ سکے تو آپ نے شوال کے مہینے میں دس دن کا اعتکاف فرمایا۔ اور جس سال آپ کی وفات ہوئی، اس سال آپ نے دس دن کی بجائے 20 دن اعتکاف فرمایا۔
*اعتکاف دس دن مسنون ہے، تاہم اپنی فراغت کے حساب سے کمی بیشی بھی جائز ہے۔
*اس کا آغاز 20 رمضان کی شام سے ہوتا ہے معتکف مغرب کے وقت مسجد میں آ جائے اور رات مسجد میں گزارے اور صبح نماز فجر کے بعد اپنی جائے اعتکاف میں داخل ہو۔
صدقہ الفطر کے ضروری مسائل
رمضان کے آخر میں صدقۃ الفطر بھی ضروری ہے۔ حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے:
" فرض رسول الله زكاة الفطر من رمضان صاعا من تمر أو صاعا من شعير على العبد الحر والذكر والأنثى والصغير والكبير من المسلمين وأمر بها أن تؤدى قبل خروج الناس إلى الصلاة "
(صحیح بخاری، الزکاۃ، باب فرض صدقۃ الفطر۔ مسلم، الزکاۃ، باب زکاۃ الفطر علی المسلمین، رقم 984)
"رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے زکاۃ الفطر مقرر فرمائی ہے، ایک صاع کھجور یا ایک صاع جَو، غلام ہو یا آزاد، مرد ہو یا عورت، چھوٹا ہو یا بڑا، یہ ہر مسلمان پر فرض ہے۔ اور آپ نے یہ بھی حکم دیا کہ اسے نماز عید کے لیے نکلنے سے پہلے ادا کیا جائے۔
اس حدیث سے حسب ذیل مسائل معلوم ہوئے۔
(1)صدقۃ الفطر کے لیے حساب نصاب یا صاحب حیثیت ہونا ضروری نہیں ہے۔ یہ ہر مسلمان پر فرض ہے، امیر ہو یا غریب، غریب بھی صدقۃ الفطر ادا کرے، اللہ تعالیٰ دوسرے لوگوں کے ذریعے سے اسے اس پر پھر لوٹا دے گا۔
(2) ہر چھوٹے بڑے حتی کہ غلام اور نوکر چاکر پر بھی فرض ہے۔ ان کے بڑے اور آقا چھوٹوں اور ماتحتوں کی طرف سے صدقۃ الفطر ادا کریں۔
(3) اس کی مقدار ایک صاع ہے۔ اور ایک صاع حجازی ڈھائی کلو کا ہوتا ہے۔ ہر شخص کی طرف سے ڈھائی کلو غلہ ادا کیا جائے۔ بہتر ہے کہ کوئی جنس نکالی جائے لیکن اس کی قیمت ادا کرنا بھی جائز ہے۔
(4) اس کے مستحق وہی لوگ ہیں جو زکوۃ کے مستحق ہوں، مساکین و غرباء اور یتیم و بیوگان وغیرہ۔
(5) اسے نماز عید کے لیے نکلنے سے پہلے ادا کیا جائے۔ بعض لوگ عید گاہ پہنچ کر وہاں ادا کرتے ہیں ایسا کرنا صحیح نہیں ہے۔
(6) اسے عید سے دو تین دن قبل بھی ادا کیا جا سکتا ہے۔ حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ اسے عید الفطر سے ایک یا دو دن پہلے ادا کر دیا کرتے تھے۔ كانوا يُعطون قبل الفطر بيوم أو يومين (صحیح بخاری، باب صدقۃ الفطر علی الحر والمملوک، کتاب الزکاۃ، رقم 1511)