ڈاونلوڈ

آن لائن مطالعہ

آن لائن مطالعہ
  • جنوری
1999
صلاح الدین یوسف
قنوت نازلہ اور پرخلوص دعاؤں کی ضرورت
عالمِ اسلام ایک عرصے سے جس ابتلاء و آزمائش سے دوچار ہے، درد مند، حلقے اس پر سراپا اضطراب ہیں لیکن صورت حال کی پیچیدگی اور مسائل کی سنگینی کچھ اس نوعیت کی ہے کہ کوئی سرا ہاتھ نہیں آتا۔
یہ مسائل دو قسم کے ہیں۔ ایک عالمِ اسلام کے اندرونی اور باہمی مسائل و تعلقات۔دوسرے جارح استعماری طاقتوں کے پیداکردہ مسائل و مشکلات۔
اول الذکر میں ہر مسلمان ملک میں اندرون ملک اسلامی اور غیر اسلامی طاقتوں کی کش مکش اور ان کے درمیان محاذ آرائی اور کئی اسلامی ممالک کا آپس میں باہمی تصادم ہے۔
ثانی الذکر میں سرفہرست کشمیر کا مسئلہ ہے، جہاں کئی سالوں سے بھارتی فوجوں نے کشمیری مسلمانوں کا جینا حرام کر رکھا ہے اور ان پر طرح طرح سے ظلم و ستم کے پہاڑ توڑے جا رہے ہیں۔ دوسرا بیت المقدس کا مسئلہ ہے جو ایک عرصے سے اسرائیل کے غلبہ و تسلط میں ہے اور اسرائیل نے اسے اپنا دارالحکومت قرار دے رکھا ہے اور اس کی ڈھٹائی اور دیدہ دلیری کا یہ حال ہے کہ وہ جب چاہتا ہے کسی بھی عرب علاقے پر چڑھ دوڑتا ہے۔
  • جنوری
1999
غازی عزیر
ذیل میں ہم اس قسم کی بعض احادیث اور ان کے مخالف قرآن ہونے کی حقیقت پر تبصرہ پیش کرتے ہیںؒ
حضرت ابراہیم علیہ السلام کے کذبات ثلاثہ کی حقیقت
قرآن کریم میں حضرت ابراہیم علیہ السلام کے متعلق ارشاد ہوتا ہے:
" وَاذْكُرْ فِي الْكِتَابِ إِبْرَاهِيمَ ۚ إِنَّهُ كَانَ صِدِّيقًا نَّبِيًّا ﴿٤١﴾"(130)
یعنی "حضرت ابراہیم علیہ السلام انتہائی راست باز نبی تھے" لیکن ایک صحیح حدیث میں مروی ہے " لَمْ يَكْذِبْ إِبْرَاهِيمُ عَلَيْهِ السَّلَام إِلَّا ثَلَاثَ كَذَبَاتٍ" (131) یعنی "حضرت ابراہیم علیہ السلام نے صرف تین مواقع پر جھوٹ سے کام لیا تھا" بظاہر یہ حدیث قرآن سے متصادم نظر آتی ہے، لیکن حقیقت یہ ہے کہ زیر مطالعہ حدیث قرآن سے کس طرح متعارض نہیں ہے کیونکہ اس روایت میں جو تین کذب مذکور ہیں ان میں سے دو وقائع کا تذکرہ تو خود قرآن میں موجود ہے
  • جنوری
1999
صلاح الدین یوسف
الحمد لله والصلاة والسلام على رسول الله وعلى آله وصحبه ومن والاه الى يوم الدين
اس مضمون میں روزے سے متعلق ضروری احکام و مسائل بیان کیے گئے ہیں، مثلا ۔۔ روزے کے واجبات و آداب کیا ہیں؟ رمضان المبارک میں کون سی دعائیں مسنون ہیں؟ اس کے فوائد اور فضائل کیا ہیں؟ روزن کن چیزوں سے ٹوٹ جاتا ہے اور کن چیزوں سے نہیں ٹوٹتا؟ اور اسلام میں اس کی اہمیت کیا ہے؟ وغیرہ، مختصر ان باتوں کا ذکر ہو گا۔ وباللہ التوفیق ۔۔
روزے کی اہمیت
روزے کی اہمیت تو اسی سے واضح ہے کہ یہ اسلام کے پانچ ارکان میں سے ایک رکن ہے۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے:
بني الإسلام على خمس: شهادة أن لا إله إلا الله وأن محمداً رسول الله، وإقام الصلاة، وإيتاء الزكاة، وصوم رمضان، وحج البيت
(صحیح بخاری، الایمان، باب، رقم الحدیث 8 ۔ مسلم، الایمان، باب ارکان الاسلام، رقم 16)
  • جنوری
1999
نصیراحمد اختر
اجتماعی ملکیت
اجتماعی ملکیت سے مراد یہ ہے کہ "مملوکہ سے حق انتفاع صرف ایک فرد کو نہیں بلکہ تمام افراد اُمت کے لئے یہ حق انتفاع موجود ہے جس میں کوئی بھی ترجیح کا حق دار نہ ہے۔
جب کسی چیز سے امت کے اجتماعی مفادات وابستہ ہوں تو اسے کسی ایک فرد کی ملکیت میں نہیں دیا جا سکتا کہ بڑی بڑی نہریں، دریا، سڑکیں، پل اور آبادی کے اردگرد چراگاہیں اور بڑے بڑے پارک، فوجی ٹریننگ سنٹر وغیرہ ۔۔ امام ابو یوسف رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں:
" الفرات ودجلة لجميع المسلمين فهم فيهما شركاء" (1)
"فرات اور دجلہ تمام مسلمانوں کے لیے ہیں اور سب ان میں برابر کے حصہ دار ہیں"
ہاں اگر اجتماعی مفاد ختم ہو جائے تو حاکم وقت اُمت کے مفاد میں جو مناسب ہو، تصرف کر سکتا ہے مثلا ایک شارعِ عام تھی پھر دوسری شارعِ عام کے وجود سے اس کا مفاد ختم ہو گیا اور اب لوگ اسے استعمال نہیں کر رہے تو حاکم وقت اسے نیلام کر سکتا ہے اور وہ اس طرح انفرادی ملکیت کی طرف بھی منتقل ہو سکتی ہے۔
  • جنوری
1999
شیخ عبید اللہ رحمانی مبارکپری
شیخ الحدیث مولانا عبیداللہ رحمانی رحمۃ اللہ علیہ (متوفی جنوری 94ء) ماضی قریب کی ایک انتہائی سربرآوردہ علمی شخصیت تھے علم و عمل میں اسلاف کے جانشین اور برصغیر پاک و ہند کی جماعت کی علمی آبرو اور ان کے لیے سرمایہ افتخار۔ انکے فتاویٰ علم و تحقیق کا بہترین نمونہ ہوتے تھے جو اخبارات کی فائلوں میں بکھرے ہوئے ہیں۔ ضرورت ہے کہ ان کو مرتب اور یکجا کر کے شائع کیا جائے تاکہ ایک تو وہ دستِ برد زمانہ سے محفوظ ہو جائیں اور دوسرے عوام و خواص اُن سے استفادہ کر سکیں۔
  • جنوری
1999
عبدالرشید عراقی
ولادت: حافظ شمس الدین ابو عبداللہ بن احمد بن عبدالہادی ابن قدامہ مقدسی حنبلی 714ھ میں پیدا ہوئے۔ (1)
اساتذہ و تلامذہ: حافظ ابن عبدالہادی نے اپنے دور کے نامور اساتذہ دن سے جملہ علوم اسلامیہ کی تحصیل کی۔ اور تمام علوم میں کمال پیدا کیا۔ آپ نے حافظ ابوالحجاج یوسف بن عبدالرحمین مزی رحمۃ اللہ علیہ (م 742ھ) سے تحصیل حدیث کی۔ اور دو سال تک آپ حافظ مزری کی خدمت میں رہے۔ جس کا نتیجہ یہ ہوا کہ خاص طور پر فن حدیث و رجال میں اقران پر فائق تر ہو گئے۔ اس کا اندازہ اس سے ہو سکتا ہے کہ علل و رجال میں حافظ شمس الدین ذہبی رحمۃ اللہ علیہ (م 748ھ) اور آپ کے استاد حافظ مزی آپ سے استفادہ کیا کرتے تھے۔ (2)
  • جنوری
1999
عطاء اللہ صدیقی
مضبوط جلد میں درمیانے سائز کے 456 صفحات/قیمت: 180
سفید کاغذ، بہترین طباعت اور دیدہ زیب کمپوزنگ
ملنے کا پتہ: ادارہ خواتین میگزین، چیمبرلین روڈ، لاہور
 
گذشتہ چار صدیوں کے دوران مغرب کے چشمہ ظلمات سے ضلالت اور گمراہی کے جتنے بھی فتنہ پرور فوارے پھوٹے ہیں ان میں "آوارگی نسواں" کا فتنہ اپنی حشر سامانیوں اور تہذیبی ہلاکتوں کی وجہ سے سب فتنوں سے بڑا فتنہ ہے۔
سیکولر ازم، لبرل ازم، سوشلزم، فاش ازم جیسے باطل نظریات نے مغرب کی مذہبی اساس کو ریزہ ریزہ کر دیا تھا لیکن ان کی یلغار سے خاندانی اقدار اور سماجی قدریں بڑی حد تک محفوظ رہیں۔ مردوزن کے سماجی رشتوں کی وجہ سے قائم خانگی توازن خاصی حد تک قائم تھا لیکن "عورت ازم" (Feninism) کے ہوش ربا فتنہ نے خاندانی نظام کی عمارت کو اس قدر زمین بوس کر دیا ہے کہ مغرب میں سماجی ادارے کے طور پر خاندان کا تصور تک معدوم ہوتا جا رہا ہے۔