اللہ تعالیٰ نے انسان کو اپنی عبادت کے لیے پیدا کیا ہے اس لیے ہر انسان کو چاہیے کہ وہ اپنی زندگی کا ہر لمحہ اس کی رضا کے مطابق گزارے اور اس کا تقرب حاصل کرنے کی کوشش کرتا رہے۔تاہم اللہ تبارک وتعالیٰ نے بعض ایسے خوبصورت مواقع بھی عطا کیے ہیں جس میں اس کی عبادت کا اجر عام دنوں سے بہت زیادہ بڑھ جاتا ہے ۔

ایسے مبارک اوقات میں ذوالحجہ کے دس دن بھی شامل ہیں جن کی فضیلت قرآنِ کریم اور احادیث میں وارد ہے۔اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں:

{وَالْفَجْرِ  وَلَيَالٍ عَشْرٍ} (الفجر:۱،۲) ''قسم ہے فجر کی اور دس راتوں کی۔''

امام ابن کثیرؒ اس کی تفسیر کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ اس سے مراد ذوالحجہ کے دس دن ہیں۔

اور اِرشادِ ربانی ہے:{وَيَذْكُرُوا اسْمَ اللَّهِ فِي أَيَّامٍ مَعْلُومَاتٍ} (الحج:۲۸)

'' ا ن معلوم دِنوں میں اللہ کے نام کا ذکر کریں۔''

ابن عباسؓ کا قول ہے: ''أیام معلومات سے مراد ذوالحجہ کے ہی دس دن ہیں۔''

امام بخاریؒؒ اپنی صحیح میں ابن عباسؓ سے روایت لائے ہیں کہ نبی 1 نے فرمایا:

ما العمل في أیام أفضل من ھذہ قالوا: ولا الجهاد؟ قال:ولا الجهاد إلا رجل خرج یخاطر بنفسه وماله فلم یرجع بشيء (صحیح بخاری:۹۶۹)

''(ذوالحجہ) کے دِنوں میں کئے گئے اعمال سے کوئی عمل افضل نہیں۔صحابہؓ نے عرض کی: جہادبھی نہیں؟ آپؐ نے فرمایا: جہاد بھی نہیں، مگر وہ شخص جواپنی جان اور مال لے کر اللہ کے رستے میں نکلا اور کسی چیز کے ساتھ واپس نہ لوٹا۔''

اِن ایام میں مستحب افعال

ایک مسلمان کو یہی زیبا ہے کہ وہ اس عام بھلائی کے موسموں کا سچی توبہ کے ساتھ استقبال اور خیرمقدم کرے۔کیونکہ دنیاو آخرت میں اگر کوئی خیر سے محروم ہوتا ہے تو صرف اپنے گناہوں کی وجہ سے۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:

{وَمَا أَصَابَكُمْ مِنْ مُصِيبَةٍ فَبِمَا كَسَبَتْ أَيْدِيكُمْ وَيَعْفُو عَنْ كَثِيرٍ}

''تمہیں جو کچھ مصیبتیں پہنچتی ہیں وہ تمہارے اپنے ہاتھوں کی کمائی کابدلہ ہے، وہ تو بہت سی باتوں سے درگزر فرمالیتاـہے۔ '' (الشوریٰ:۳۰)

گناہ دِلوں پرقدیم اثرات چھوڑ جاتے ہیں۔ جس طرح زہرجسموں کونقصان پہنچاتا ہے اور جسم سے ان کانکالنا ضروری ہوجاتا ہے بعینہٖ گناہ بھی دلوں پر مکمل طور پر اثر چھوڑتے ہیں، اسی طرح سیاہ کاریاں الگ کھیتی اُگا دیتی ہیں اورگناہوں کی دوسری آلائشوں کو بھی دعوت دیتی ہیں، جس سے ان کی نمو ہوتی رہتی ہے حتیٰ کہ ان آلائشوں کو انسان کے لئے دلوں سے نکالنا یا علیحدہ کرنا انتہائی دشوار ہوجاتا ہے۔ لہٰذا مسلمانو!سچی توبہ کرتے ہوئے،سیاہ کاریوں اورگناہوں سے دامن بچاتے ہوئے اللہ سے بہ اصرا ربخشش طلبی کے ساتھ ان ایام کا استقبال کیجئے اور اللہ عزوجل کے ذکر پر ہمیشگی اختیار کرلیں۔ ہم میں سے کوئی نہیں جانتا کہ اچانک کب اس کو موت کا بلاوا آجائے اور وہ اس دنیاے فانی سے کوچ کرجائے۔

اَب ہم ان چند نیک اعمال کا ذکر کرتے ہیں:

A عام نیک اعمال کثرت کے ساتھ بجا لانا

آپ نے فرمایا:ما من أیام أعظم عند اﷲ ولا أحب إلیه العمل فیھن من ھذہ الأیام العشر(مسند احمد:۲؍۷۵ )

اور وہ نیک اعمال جن کے بارے میں عام طور پر لوگ غفلت کاشکار رہتے ہیں،ان میں قرآن کی تلاوت، بہت زیادہ صدقہ کرنا، مساکین پر خرچ کرنا، أمربالمعروف ونھی عن المنکر پر عمل کرنا وغیرہ شامل ہیں۔

B نماز

فرائض کی طرف جلدی کرنا، پہلی صف کے لئے سعی کرناپسندیدہ اعمال ہیں۔ اسی طرح نوافل زیادہ سے زیادہ ادا کئے جائیں، کیونکہ اللہ کے قرب کے لئے کئے جانے والے اعمال میں یہ سب سے افضل عمل ہے۔ ثوبانؓ کا بیان ہے کہ میں نے رسول 1کو فرماتے ہوئے سنا:

علیك بکثرة السجود ﷲ فإنك لا تسجد ﷲ سجدة إلارفعك اﷲ بھا درجة، وحط عنك بھا خطیئة (صحیح مسلم:۴۸۸)

''اللہ کے آگے کثرت سے سجدہ ریز ہوا کر، اللہ کے آگے تیرے ایک سجدہ کرنے سے اللہ تیرا ایک درجہ بلندکردے گا اور تیری ایک خطا کو مٹا دے گا۔''

نمازکے لئے مکروہ اوقات کے علاوہ یہ نیک عمل ہروقت کیا جاسکتا ہے۔

C روزے

حدیث میں ہے کہ کان رسول اﷲ! یصوم تسع ذي الحجة،ویوم عاشوراء،وثلاثة أیام من کل شھر (سنن ابوداود:۲۴۳۷)

''آپ تسع ذي الحجۃ، دس محرم اور ہرمہینے کے تین دن (ایامِ بیض) کے روزے رکھتے تھے۔''

حضرت حفصہؓ فرماتی ہیں :

أربع لم یکن یدعھن رسول اﷲ ﷺ: صیام عاشوراء، والعشر، وثلاثة أیام من کل شھر، والرکعتین قبل الغداة (مسند احمد:۶؍۲۸۷)

''رسول اللہ1 چار کام نہیں چھوڑتے تھے، عاشورا کا روزہ، عشرہ ذوالحجہ کے روزے، اور ہر مہینے کے تین دن (ایام بیض)کے روزے اور فجر کی دو سنتیں۔''

اور آپؐ کا فرمان ہے:ما من عبد یصوم یوما في سبیل اﷲ إلا باعد اﷲ بذلك الیوم وجھه عن النار سبعین خریفا (صحیح بخاری:۲۸۴۰،صحیح مسلم:۱۱۵۲)

''جو آدمی اللہ کے رستے میں ایک دن کا روزہ رکھتا ہے، اللہ اس کے اور جہنم کے درمیان ستر سال کی دوری ڈال دیتے ہیں۔''

نبی کریم ؐ کا عرفہ کے روزہ کو ذوالحجہ کے دس دنوں میںخاص کرنے کی وجہ اس کی فضیلت کوظاہرکرنا تھا جیساکہ آپؐ نے فرمایا: صیام یوم عرفة أحتسب علی اﷲ أن یکفر السنة التي قبله والتي بعدہ ( صحیح مسلم:۱۱۶۲) ''عرفہ کے دن کاروزہ رکھنا،مجھے اُمید ہے کہ اللہ تعالیٰ اسے ایک سال قبل اور ایک سال بعد کے گناہوں کا کفارہ بنا دے۔''

D حج و عمرہ کی ادائیگی

نبیؐ کا فرمان ہے:والحج المبرور لیس له جزاء إلا الجنة(صحیح بخاری:۷۷۶)

''حج مبرور کی جزا تو صرف جنت ہے۔''

اور فرمایا:من حج ھذا البیت فلم یرفث ولم یفسق رجع کیوم ولدتہ أمه

''جس شخص نے اللہ کے گھرکا حج کیا اور بے ہودگی و فسق سے بچا رہا تو اس حالت میں لوٹے گا جیسے آج ہی ماںکے بطن سے پیدا ہوا ہو۔'' (صحیح بخاری:۱۸۲۰)

E تکبیر، تہلیل اورتحمید

ابن عمرؓ کی روایت پہلے گزر چکی ہے کہ نبی1 نے فرمایا:

''اِن دِنوں میں کثرت کے ساتھ تہلیل، تکبیر اور تحمید کیا کرو۔''

امام بخاری ؒکا بیان ہے کہ''کان ابن عمر وأبوھریرة یخرجان إلی السوق في أیام العشر یکبِّران ویکبر الناس بتکبیرھما'' (صحیح بخاری قبل حدیث ۹۶۹)

''حضرت عبداللہ بن عمر اور ابوہریرہ رضی اللہ عنہما ذوالحجہ کے پہلے دس دنوں میں بازار میں نکل جاتے اور تکبیریں بلند کرتے اور لوگ بھی ان کے ساتھ تکبیریں کہنے میں مل جاتے۔''

ایک اور مقام پر فرماتے ہیں:

''وکان عمر یکبر في قبته بمنی فیسمعه أھل المسجد فیکبرون ویکبر أھل الأسوق حتی ترتجَّ منٰی تکبیرا'' (صحیح بخاری قبل حدیث ۹۷۰)

''حضرت عمرؓ منیٰ میں اپنے خیمہ میں تکبیریں بلند کرتے جسے مسجد کے لوگ سنتے اور تکبیریں کہتے اور بازار والے بھی تکبیریں کہناشروع کردیتے حتیٰ کہ منیٰ تکبیروں سے گونج اٹھتا۔''

ابن عمرؓ اِن دِنوں میں منیٰ میں تکبیریں کہتے اور ان کی تکبیریں کہنے کا یہ سلسلہ نمازوں کے بعد، بستر پر، خیمہ میں، مجلس میں اور چلتے پھرتے، سارے دِنوں میں جاری رہتا۔

مردوں کے لئے اونچی آواز میں تکبیریں کہنا مستحب ہے، جیساکہ حضرت عمرؓ، عبداللہ بن عمرؓ اور ابوہریرہ ؓسے ثابت ہے جبکہ عورتیں یہ تکبیرات پست آواز میںکہیں۔ اُمّ عطیہ فرماتی ہیں:

۔۔۔حتی نخرج الحیض فیکن خلف الناس فیکبرن بتکبیرھم ویدعون بدعائھم ۔۔۔ (صحیح بخاری:۹۷۱)

'' حتیٰ کہ ہم حیض والیوں کو بھی عیدگاہ کی طرف نکالیں اور وہ لوگوں کے پیچھے رہیں ان کی تکبیروں کے ساتھ تکبیریں کہیں اور ان کی دعاؤں کے ساتھ دعائیں کریں۔''

ہم مسلمان ہیں اور ہمارا فرض بنتا ہے کہ ہم ایسی سنت جو اَب متروک ہوتی جا رہی ہے کا احیا کریں، وگرنہ قریب ہے کہ یہ سنت جس پرسلف صالحین کاربند تھے، اہل خیر و اصلاح کو بھی بھلا دی جائے۔ تکبیر دو طرح ہے : a مطلق bمقید

اللجنۃ الدائمۃ للإفتا کے ایک فتویٰ میں اس کی صراحت یوں کی گئی ہے:

''عیدالاضحی میں تکبیر مطلق اور تکبیر مقید دونوں مشروع ہیں۔ ذی الحجہ کے مہینہ کے شروع سے ایامِ تشریق کے آخر تک تکبیروں کو تکبیر مطلق کہتے ہیںجبکہ تکبیر مقید یہ ہے کہ عرفہ کے دن صبح کی نماز کے بعد سے لے کر ایامِ تشریق کے آخری دن عصر تک فرض نمازوں کے بعد تکبیرات کہی جائیں۔ اس عمل کی مشروعیت پر اجماع اور صحابہؓ کا عمل دلیل ہے۔''(۱۰؍۳۱۷ )

تکبیرات کے الفاظ

a اﷲ أکبر، اﷲ أکبر،اﷲ أکبر کبیرًا (بیہقی:۳؍۳۱۶)

b اﷲ أکبرکبیرا، اﷲ أکبرکبیرا،اﷲ أکبروأجل،اﷲ أکبروﷲ الحمد ( مصنف ابن ابی شیبہ:۲؍۱۶۷)

c اﷲ أکبر،اﷲ أکبر،لا إله إلا اﷲ واﷲ أکبر،اﷲ أکبر وﷲ الحمد (ایضاً)

عید کی نماز اَدا کرنا

اسی عشرہ کے آخری دن عید الاضحی ہوتی ہے۔ عید الاضحی کی نماز کے لیے بغیر کچھ کھائے پیئے تکبیریں پڑھتے ہوئے عید گاہ کی طرف جانا سنت ہے اور آپؐ کا یہ عمل تھا کہ آپؐواپس آ کر قربانی کرتے اور اس کا گوشت کھاتے۔

اللہ تعالیٰ ہمیں ان اَیام سے بھرپور فائدہ اٹھانے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین