3۔ جمہور اہل اصول کا اس امر پر اتفاق ہے کہ عمل بالحدیث تقلید کے زمرے میں نہیں آتا۔ چنانچہ صاحب "فواتح الرحموت" فرماتے ہیں:
" فالرجوع إلى النبى عليه وأله وأصحابه الصلوة والسلام أو إلى الإجماع ليس منه فإنه رجوع إلى الدليل و كذا رجوع العام إلى المفتى والقاضى إلى العدول ليس عذا الرجوع  نفسه تقليدا"[1]
"رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم یا اجماعِ امت کی طرف رجوع کرنا تقلید شمار نہیں ہوتا۔ کیونکہ یہ دلیل کی طرف رجوع ہے۔ اسی طرح ایک عامی کا مفتی کی طرف، اور قاضی کا عادل گروہ کی طرف، رجوع کرنا فی نفسہ تقلید نہیں ہے۔"
علامہ سیف الدین الآمدی رقمطراز ہیں:
"فالرجوع إلى قول النبى عليه السلام و إلى ما أجمع عليه أهل العصرين ممن المجتهدين ورجوع العام إلى قول المفتى وكذلك عمل القاضى بقول العدول لا يكون تقلیدا العدم عروہ عن الحجة الملزمة"[2]
"رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی حدیث اور اس قول کی طرف رجوع کرنا جس پر تمام اہل عصر مجتہدین کا اجماع ہو چکا ہو، عام آدمی کا مفتی کے قول کی طرف رجوع کرنا، اور اسی طرح قاضی کا عادل گواہ کی شہادت پر عمل کرنا تقلید نہیں۔ کیونکہ یہ (مذکورہ صورتیں) عمل لازم کرنے والی دلیل سے خالی نہیں۔"
شیخ الاسلام ابن تیمیہ "المسودۃ" میں فرماتے ہیں:
" فليس المصير إلى الإجماع تقليدا لأن الإجماع دليل وكذلك يقبل قول النبى صلى الله عليه وسلم ولا يقال هو تقليد بخلاف فتيا الفقية"[3]
"اجماع کی طرف رجوع کرنا تقلید نہیں ہے۔ کیونکہ اجماع خود دلیل ہے۔ اسی طرح رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی حدیث کو قبول کیا جاتا ہے اور یہ تقلید کے زمرے میں نہیں آتا، بخلاف فقیہ کے فتویٰ کے۔"
علامہ شوکانی رحمۃ اللہ علیہ "ارشاد الفحول" میں لکھتے ہیں:
"يخرج العمل بقول رسول الله صلى الله عليه وسلم والعمل بالإجماع ورجوع العام إلى المفتى ورجوع القاضى إلى شهادة العدول"[4]
"رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی حدیث اور اجماع پر عمل کرنا نیز ایک عامی کا مفتی، اور  قاضی کا عادل گواہ کی طرف، رجوع کرنا تقلید سے خارج ہے۔"
آگے چل کر علامہ شوکانی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں:
"يخرج عن ذلك قبول رواية الرواة قد دل ّ الدليل على قبولها و وجوب العمل بها و أيضا  ليست قول الراوى بل قوله من رواى عنه إن كان ممن تقوم به الحجة"[5]
"اسی طرح راویوں کی روایت کو قبول کرنا تقلید کے زمرے سے خارج ہے۔ کیونکہ دلیل اسے قبول کرنے اور اس پر عمل کے واجب ہونے پر دلالت کرتی ہے۔ نیز روایت در حقیقت راوی کا اپنا قول تو نہیں، یہ تو اس ہستی کا قول ہے جس سے اس نے یہ قول روایت کیا ہے۔ اگر اس کا قول حجہ شمار ہوتا ہے۔"
اہل علم کے نزدیک عامی سے مراد وہ شخص ہے جس میں اجتہاد کی شرائط نہ پائی جاتی ہوں۔ اس کی دو اقسام ہیں۔
1۔ عالم غیر مجتہد: وہ شخص جو قرآن و سنت کی نصوص کے معانی و مفاہیم سمجھتا ہے مگر اس میں اجتہاد کی اہلیت اور شرائط مفقود ہوں۔
2۔ عامی محض: وہ شخص ہے جو کسی سے پوچھے بغیر دین کے احکام معلوم نہیں کر سکتا۔
پہلی قسم کا عامی اگر خود اپنے مطالعےسے اور دوسری قسم کا عامی کسی بھی عالم سے پوچھ کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی حدیث پر عمل کرے تو اس کے لیے جائز ہے اور یہ تقلید کے زمرے میں نہیں آتا۔ صحاح ستہ کی احادیث عام طور پر اور صحیحین کی بہت سی مرویات خاص طور پر عمل کے لحاظ سے مستفیض اور امت کی تلقی بالقبول کی وجہ سے تواتر کو پہنچی ہوئی ہیں، اور جمہور علماء کے نزدیک علم قطعی کا فائدہ دیتی ہیں۔ ان میں منسوخ اور متعارض احادیث نہ ہونے کے برابر ہیں۔ چنانچہ شیخ الاسلام ابن تیمیہ رحمۃ اللہ علیہ لکھتے ہیں:
"چنانچہ صحیحین کی بہت سی احادیث کے متون، حدیث کا علم رکھنے والوں کے نزدیک لفظی اعتبار سے متواتر ہیں، اگرچہ ان کے سوا دوسرے لوگ اس حقیقت کو نہیں جانتے۔ لہذا صحیحین کی احادیث کے اکثر متون ایسے ہیں جن کے متعلق علمائے حدیث قطعی طور پر جانتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے۔ کیونکہ کبھی تو یہ حدیث ان کے ہاں متواتر ہوتی ہے۔ اور کبھی اس بناء پر اس کے تواتر کا یقین ہوتا ہے کہ اُمت نے متفقہ طور پر اس کی صحت کو قبول کیا ہے۔"[6]
ایک اور مقام پر ابن تیمیہ رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں:
"صحیح مسلک یہ ہے، جس پر اہل علم کی اکثریت گامزن ہے کہ کبھی تو خبر دینے والوں کی کثرت سے علم (یقینی) حاصل ہو جاتا ہے اور کبھی خبر دینے والوں کی صفات، ان کی دینداری اور ان کے ضبط اور حافظہ کی وجہ سے علم یقینی حاصل ہوتا ہے۔ کبھی ایسے قرائن علم یقینی کا باعث بنتے ہیں جو اس خبر کا احاطہ کئے ہوئے ہوں۔ کبھی خبر کے ایک ٹکڑے کے متعلق علم یقینی حاصل ہو جاتا ہے اور دوسرے کے متعلق نہیں ہوتا۔ نیز وہ خبر جس کی صحت کی تصدیق کرتے ہوئے یا اس کے موجبات پر عمل کرتے ہوئے ائمہ حدیث نے اسے قبول کیا ہو، سلف و خلف کے جمہور علماء کے ہاں علم یقینی کا فائدہ دیتی ہے۔ یہ بھی متواتر کے معنیٰ میں شمار ہوتی ہے۔ البتہ اہل علم ایسی حدیث کو "مشہور" اور "مستفیض" کے زمرے میں لے آتے ہیں۔ چنانچہ وہ احادیث کو تین اقسام میں تقسیم کرتے ہیں: متواتر، مشہور اور خبر واحد۔ اگر یہ تقسیم اسی طرح ہو تب بھی صحیحین کے اکثر متون معلوم اور ان کی صحت متق علیہ ہے۔ جن کی صحت کو علمائے حدیث نے قبول کیا ہے اور وہ ان کی صحت پر متفق ہیں۔ اگر تمام فقہاء کسی حکم پر متفق ہو جائیں تو ان کا اتفاق حجت ہے۔ خواہ ان کی دلیل خبر واحد، قیاس یا کوئی عموم ہو۔ اسی طرح علمائے حدیث جب کسی حدیث کی صحت پر متفق ہو جاتے ہیں تو اس سے علم یقینی حاصل ہو جاتا ہے۔ اگرچہ انفرادی طور پر ان سے غلطی کا جواز ہے مگر ان کا اجماع خطاء سے معصوم ہے۔"[7]
ایک مقام پر ابن تیمیہ رحمۃ اللہ علیہ رقم طراز ہیں:
"خبر واحد، جس کو اہل علم کے ہاں قبولیت حاصل ہو، اصحاب امام ابوحنیفہ رحمۃ اللہ علیہ، اصحاب امام مالک رحمۃ اللہ علیہ، اصحاب امام شافعی رحمۃ اللہ علیہ اور اصحاب امام احمد رحمۃ اللہ علیہ کے نزدیک علم یقینی کا فائدہ دیتی ہے۔ یہی مذہب امام ابوالحسن الاشعری کے اکثر اصحاب کا ہے۔ مثلا ابن فوزک اور اسفرائینی وغیرہ۔ اگرچہ یہ حدیث فی نفسہ علم یقینی کا فائدہ نہیں دیتی تاہم محدثین کا قبول کرنے پر اجماع کر لینا ایسے ہی ہے جیسے (کسی فقہی حکم پر) فقہاء کا اجماع۔"[8]
علامہ ابن کثیر رحمۃ اللہ علیہ "مقدمہ ابن الصلاح" کے اختصار میں لکھتے ہیں:
"اُمت نے ان دونوں کتابوں کی صحت کو قبول کیا ہے، سوائے چند مقامات کے، جن پر بعض حفاظِ حدیث نے تنقید کی ہے۔ مثلا دارقطنی رحمۃ اللہ علیہ وغیرہ۔ اس سے ابن الصلاح نے یہ استنباط کیا ہے کہ صحیحین کی احادیث قطعی طور پر صحیح ہیں۔ کیونکہ امت کا اجماع خطاء سے معصوم ہے۔ جس چیز کو امت صحیح سمجھتی ہو اس پر عمل کرنا واجب ہے۔ (حدیث کی صحت پر اُمت کے اجماع سے یہ نتیجہ) لابدی ہے کہ حدیث نفس امری میں صحیح ہو گی۔"[9]
ترقی کے اس دور میں، جبکہ صحیحین اور دیگر کتب صحاح کی اشاعت عام ہے، ایک پڑھے لکھے عامی کو ان احادیث پر عمل کرنا چاہئے اور عامی محض کو کسی عالم سے پوچھ کر حدیث پر عمل کرنا چاہئے۔ گزشتہ سطور میں ہم واضح کر چکے ہیں کہ روایات حدیث پر عمل کرنا تقلید کے زمرے میں نہیں آتا۔ علامہ محمد حیات سندھی رحمۃ اللہ علیہ  رقم طراز ہیں:
"رہا وہ عامی شخص جو عالم ہے اور قرآن و سنت کی نصوص کے معنی جانتا ہے اور درایت بھی رکھتا ہے (اگرچہ وہ مجتہد نہیں) اس کو محدثین کی طرف سے یا ان کی ثقہ، مشہور اور متداول کتب سے کوئی حدیث پہنچ جاتی ہے، تو اس کے لیے اس حدیث پر عمل کرنا جائز ہے۔ خواہ وہ حدیث اس کے مذہب کے خلاف ہی کیوں نہ ہو۔ رہا قاضی ابو یوسف رحمۃ اللہ علیہ کا یہ قول کہ "عامی پر فقہاء کی اقتدا لازم ہے" تو اس سے مراد وہ عامی محض ہے جو احادیث کے معانی وغیرہ نہیں جانتا۔"[10]
مشہور مفسر علامہ اصفہانی رحمۃ اللہ علیہ کے حوالے سے، علامہ صالح بن محمد لانی امام ابن دقیق العید رحمۃ اللہ علیہ سے نقل کرتے ہیں:
"جو اہل علم حامی کے اجتہاد کے قائل ہیں، ان کے نزدیک عامی کا اجتہاد یہ ہے کہ اس زمانے میں جبکہ ایسا فتویٰ غالب آ گیا جو کہ غیر معصوم بشری اختیارات و اجتہادات بلکہ مختلف اور متضاد اجتہاد کی بنیاد پر دیا جاتا ہے۔۔۔ جب وہ کسی مفتی سے سوال کرے، تو اس طرح پوچھے "کیا اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا حکم اسی طرح ہے؟ اگر وہ کہے "ہاں" تو اس پر عمل کرے اور اس سے زیادہ بحث و تمحیص اس پر واجب نہیں۔ اور مفتی کے لیے بھی ضروری نہیں کہ وہ کسی آیت یا حدیث یا استخراج مسئلہ کا حوالہ دے۔ اور اگر وہ کہتا ہے کہ "یہ میری  رائے ہے" یا "فلاں شخص کی رائے ہے یا اس کا مذہب ہے"۔ اور وہ فقہاء میں سے کسی معین شخص کا نام لے یا اسے اس سوال پر جھڑک دے یا خاموش ہو جائے تو اس عامی کے لیے ضروری ہے کہ وہ کسی اور عالم سے مسئلہ پوچھ لے، جو اللہ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم کے مطابق فیصلہ دے۔"[11]
ہماری نظر میں مفتی کے لیے اپنے توے کے بارے میں "یہ اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا حکم ہے" کہنا صرف اسی وقت جائز ہے جب اس کے پاس ناطق ہو، کسی متفق علیہ اصول کے مطابق اس کا استخراج کیا گیا ہو اور اس کی دلیل نہایت قوی ہو۔ اگر اس نے کسی استحسان، مصالح مرسلہ، کسی صحابی کے قول یا کسی امام کی تقلید یا قیاس اور اجتہاد سے یہ فتویٰ دیا ہو تو اسے "اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا حکم" قرار دینا جائز نہیں۔ شریعت صرف قرآن و سنت کی واضح نصوص کا نام ہے۔
بتانا یہ مقصود ہے کہ جب کسی عامی کو حدیث کی صحت کا یقین ہو اور اسے معلوم ہو جائے کہ یہ صحیحین یا صحاح کی حدیث ہے تو اس کو بلاجھجک عمل کرنا چاہئے۔ اس حدیث پر عمل کو اس شرط سے مقید کرنا جائز نہیں کہ چونکہ اس حدیث پر فلاں امام نے عمل نہیں کیا لہذا میں اس پر عمل نہیں کر سکتا۔ یہ نظریہ در حقیقت احادیث صحیحہ کو کسی امام کے عمل پر پیش کرنا ہے، جو انتہائی گمراہ کن نظریہ ہے۔
شیخ عبدالحق محدث دہلوی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں:
"ان کے قول میں تحقیق یہ ہے کہ صوفی کا کوئی مذہب نہیں۔ وہ اپنے مذہب کی اُن روایات کو عمل اور التزام کے لیے اختیار کرے جو زیادہ محتاط اور صحیح احادیث کے موافق ہوں، خواہ یہ روایات اس کے مذہب کی مشہور اور ظاہر روایات نہیں ہیں۔"[12]
شیخ عبدالحق محدث دہلوی رحمۃ اللہ علیہ سے پوچھا گیا کہ "کسی مجتہد کی پیروی کرنے والا کوئی ایسی صحیح حدیث پاتا ہے جو اس کے مذہب کے خلاف ہے، کیا وہ اس پر عمل کرے اور اپنے مذہب کو چھوڑ دے؟"
انہوں نے جواب دیا "اس میں اختلاف ہے۔ چنانچہ متقدمین کہتے ہیں کہ متبوع اور مقتدی تو در حقیقت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہیں اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے سوا باقی سب تابع ہیں۔ اور یہ جان لینے کے بعد کہ یہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی صحیح حدیث ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے علاوہ کسی اور کی متابعت کرنا غیر معقول ہے۔"[13]
علامہ ابوالحسن سندھی رحمۃ اللہ علیہ "فتح القدیر" کے حواشی میں، فتح القدیر کی اس عبارت کہ "عامی کے بارے میں حکم یہ ہے کہ وہ مفتی کے فتویٰ پر عمل کرے" پر لکھتے ہیں:
"اس سے یہ افادہ ہوتا ہے کہ عامی کے لیے کسی معین مذہب کو اختیار کرنا لازم نہیں، کیونکہ وہ اولیٰ و افضل کو معلوم نہیں کر سکتا۔ ورنہ اس میں خواہش نفس کا شائبہ ہو گا۔ جیسا کہ آج کل عوام کا حال ہے۔۔۔ تو اس بارے میں اس پر واجب یہ ہے کہ وہ کسی بھی قابل اعتماد عالم سے مسئلہ پوچھ کر اس پر عمل کرے۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے: ﴿فَاسْأَلُوا أَهْلَ الذِّكْرِ إِن كُنتُمْ لَا تَعْلَمُونَ ﴿٧﴾... الأنبياء اس طرح انہوں نے "البحر المحیط" سے طویل کلام نقل کرنے کے بعد فرمایا ہے: "اس سے معلوم ہوا کہ عامی کا مذہب بغیر کسی مذہب کی قید کے اپنے قابل اعتماد مفتی کے فتویٰ پر ہے۔"[14]
ان طویل اقتباسات سے واضح ہو گیا کہ ایک عامی کو جب یہ معلوم ہو جائے کہ اس مسئلہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی یہ صحیح حدیث موجود ہے تو اسے بلاتامل اس پر عمل کر لینا چاہئے۔ اور اس کا حدیث پر عمل کرنا تقلید کے زمرے میں نہیں آئے گا، بلکہ یہ اتباع کہلائے گا۔ امام اہل سنت امام احمد بن حنبل رحمۃ اللہ علیہ نے مندرجہ ذیل الفاظ میں اتباع کی تعریف کی ہے۔ چنانچہ امام ابوداؤد فرماتے ہیں، میں نے ان کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے:
"اتباع یہ ہے کہ کوئی شخص اس چیز کی پیروی کرے جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور صحابہ کرام رضی اللہ عنہم سے منقول ہے۔ پھر اس کے بعد تابعین رحمۃ اللہ علیہم کے بارے میں اسے اختیار ہے۔"[15]
کوئی بھی عام پڑھا لکھا شخص بخاری مسلم وغیرہ کی احادیث پر نہایت آسانی سے عمل کر سکتا ہے۔ حیرت کی بات ہے کہ مسلمانوں کے ذہن میں یہ بات راسخ کی جا رہی ہے کہ قرآن و سنت ان کے فہم سے بالاتر ہے۔ بالخصوص یہ طرزِ عمل صحیحین کی احادیث کے بارے میں ہے۔ مزید حیرت یہ کہ یہ لوگ صحیحین اور دیگر صحاح کی احادیث پر عمل کرنے سے روکتے ہین مگر اس کے برعکس یہاں کے اہل بدعت نے اپنی بدعات، قبر پرستی اور شرک، پر مبنی عقائد کی تائید کے لیے ہزاروں ضعیف اور موضوع روایات پھیلا رکھی ہیں، یہ اپنی کسی بدعت کی تائید میں خدا جانے کہاں کہاں سے اس قسم کی روایات  ڈھونڈ لاتے ہیں، پھر ان احادیث میں نکتہ آفرینیوں اور موشگافیوں کے لیے "پکی روٹی" پڑھے، دو رکعت کے امام بھی مجتہد مطلق بن بیٹھے ہیں۔ اور ایسے ایسے نکتے نکالتے ہیں کہ حدیث گھڑنے والوں کے بھی وہم و گمان میں نہ ہو گا کہ ان کے بعد آنے والے ان کے متبعین اس قدر ذہین ہوں گے۔۔۔پچاس، سو سال بعد ان کی یہی بدعات "اُمت کا اجتماعی تعامل" اور "اجماع" کا روپ دھار لیں گی۔ اس طرح یہ بدعات شریعت بن جائیں گی۔ اس وقت نہ ہم ان بدعات کی تردید کر سکیں گے نہ خواجہ صاحب! کیونکہ یہ "سوادِ اعظم" کا مسلک بن چکا ہو گا۔
دنیائے اسلام کے تمام شہروں اور بستیوں میں مقلدین حضرات روز مرہ کی زندگی میں پیش آنے والے معاملات میں قرآن و سنت کے احکام معلوم کرنے کے لیے آخر کسی نہ کسی عالم سے مسائل پوچھتے ہیں۔ ہر شہر اور ہر بستی میں مجتہد کا وجود محال ہے۔ اب مسئلہ بتانے والا عالم یو تو خود اپنی طرف سے اجتہاد کرے گا یا اپنے امام کا مسلک روایت کر دے گا۔ پروفیسر صاحب کے نقطہ نظر سے اجتہاد تو اس کے لیے شجر ممنوعہ ہے، اب وہ عامی کس کی تقلید کرے گا؟ وہ اس عالم کی تقلید مقلدین کے مسلک کے مطابق کر نہیں سکتا، کیونکہ وہ مجتہد نہیں ہے۔ مقلدین کے نقطہ نظر سے جب یہ عامی اس مقلد عالم فقہ کے روایت کردہ اپنے امام کے مذہب کے مطابق عمل کرتا ہے تو درحقیقت وہ گاؤں یا شہر کے اس عالم فقہ کی تقلید نہیں کرتا بلکہ وہ اپنے امام ہی کی تقلید کرتا ہے اور اس مقلد عالم فقہ نے اس کے سامنے اس کے امام کا مذہب یا اس کی رائے روایت کی ہے۔
اسی طرح جب ایک عالم اہل حدیث کسی عالم سے کوئی مسئلہ پوچھتا ہے اور وہ عالم اس کو جواب میں بخاری یا مسلم کی حدیث سنا دیتا ہے تو یہ اس عالم کی تقلید شمار نہ ہو گی۔ کیونکہ وہ عالم حدیث تو اس عامی کے سامنے حدیث روایت کر رہا ہے۔ نیز عامی دلیل کی اتباع کر رہا ہے۔ لہذا یہ اتباع در حقیقت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی اتباع ہو گی۔
نیز امام ابوحنیفہ رحمۃ اللہ علیہ نے عام طور پر حماد بن ابی سلیمان رحمۃ اللہ علیہ سے اور امام مالک رحمۃ اللہ علیہ نے ابن شہاب زہری رحمۃ اللہ علیہ، ہشام بن عرو رحمۃ اللہ علیہ اور نافع وغیرہم سے حدیث قبول کی ہے، اگر محض حدیث روایت کرنے سے امام ابوحنیفہ رحمۃ اللہ علیہ حماد رحمۃ اللہ علیہ کے مقلد نہیں، اور امام مالک رحمۃ اللہ علیہ، زہری رحمۃ اللہ علیہ، ہشام رحمۃ اللہ علیہ اور نافع رحمۃ اللہ علیہ کے مقلد نہیں کہلا سکتے، تو کسی عالم حدیث سے حدیث پوچھنے والا عامی اہل حدیث اس عالم کا مقلد کیسے کہلا سکتا ہے؟۔۔وہ تو اس روایت حدیث کا پابند ہے اور روایت پر عمل کرنا بالاتفاق تقلید کے زمرے میں نہیں آتا۔
یہ تو تھے عام مسائل۔۔۔ رہے مشکل مسائل، تو ان میں اہل حدیث عوام ایسے صاحبِ فتویٰ کی طرف رجوع کرتے ہیں جس میں فتویٰ دینے کی مطلوبہ شرائط اور اہلیت موجود ہوتی ہے۔ جبکہ گزشتہ صفحات میں ہم یہ واضح کر چکے ہیں کہ مفتی کی طرف رجوع کرنا تقلید کے زمرے میں نہیں آتا۔
ہم جناب پروفیسر ابوالکلام خواجہ سے عرض کرتے ہیں کہ قرآن و سنت کے احکام کی معرفت حاصل کرنا، ائمہ اربعہ رحمۃ اللہ علیہم کے مقلد فقہاء کی تخریجات کی معرفت حاصل کرنے سے کہیں زیادہ آسان ہے۔ نیز یہ مقلد فقہاء جس استعداد اور جن اصولوں کی بنیاد پر اپنے امام سے منقول متعارض آراء میں سے کسی ایک کو راجح قرار دیتے ہیں، اسی استعداد اور انہی اصولوں کی مدد سے ائمہ اربعہ رحمۃ اللہ علیہم اور دیگر فقہائے اہل سنت کے کسی ایک امام کے قول اور اجتہاد کو ترجیح دی جا سکتی ہے۔ اسی طرح اسی استعداد سے رسول اللہ رحمۃ اللہ علیہ سے منقول احادیث اور صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کی تعبیرات میں سے بھی کسی ایک کو ترجیح دی جا سکتی ہے۔
4۔۔۔یہ صحیح ہے کہ امام الہند شاہ ولی اللہ رحمۃ اللہ علیہ سے قبل ہند میں عمل بالحدیث کا مسلک بہت شاذ تھا۔ ہند میں حدیث کی اشاعت اورعمل بالحدیث کا قابل ذکر دور شاہ ولی اللہ رحمۃ اللہ علیہ کی تجدیدی مساعی کے بعد شروع ہوا۔ ان دنوں عامل بالحدیث گروہ کا کوئی مسلمہ نام نہیں تھا۔ وہ امتیاز کے طور پر "اہل حدیث" کہلوا لیتے تھے۔ کیونکہ شروع ہی سے اس قسم کا مسلک رکھنے والوں کو اہل حدیث یا اصحاب الحدیث وغیرہ کہا جاتا تھا۔ رہا انگریزوں کو "وہابیوں" یا "اہل حدیث" حضرات کا سرپرست قرار دینا، تو یہ گویا سکھوں اور پھر انگریزوں کے خلاف امیر المومنین سید احمد شہید رحمۃ اللہ علیہ اور ان کے ساتھیوں کی ایک صدی کی جنگ کو جھٹلانا ہے۔۔۔ہند میں شاہ ولی اللہ رحمۃ اللہ علیہ نے عمل بالحدیث کی منہاج کو زیادہ واضح، اور اشاعت حدیث نے آسان تر کر دیا تھا۔۔۔یہ تدریج و ارتقاء کا دور تھا۔ بہت سے عامل بالحدیث حضرات "حنفی مع القول بالترجیح" کہلواتے تھے۔ امام ابن تیمیہ رحمۃ اللہ علیہ، حافظ ابن قیم رحمۃ اللہ علیہ، علامہ محمد بن اسماعیل صنعانی رحمۃ اللہ علیہ اور علامہ شوکانی رحمۃ اللہ علیہ کی کتب کی اشاعت عام سے یہ تدریج اپنے اختتام کو پہنچی۔
امیر المومنین سید احمد شہید رحمۃ اللہ علیہ کی تحریک جہاد کی تاریخ سے معمولی واقفیت رکھنے والا طالب علم بھی یہ جانتا ہے کہ اس تحریک میں دونوں قسم کے لوگ شامل تھے۔ یہاں تک کہ اس تحریک کے روح رواں شاہ اسماعیل شہید رحمۃ اللہ علیہ بھی تقلید جامد کے سخت خلاف تھے۔ ان کے وہ افکار، جو اس وقت تک منظر عام پر آئے ہیں، مسلک تقلید کی نفی کرتے ہیں۔ بلکہ انہوں نے بعض ایسے مسائل پر، جو احناف اور عامل بالحدیث حضرات کے درمیان مابہ امتیاز تھے، کتابیں اور رسائل تحریر کئے۔ جن میں انہوں نے عمل بالحدیث کی تائید کی۔ اور ان نظریات اور مساعی سے عمل بالحدیث کے مسلک کو فروغ ملا۔[16] خود اس تحریک کے سربراہ امیر المومنین سید احمد شہید رحمۃ اللہ علیہ نے تصوف و طریقت میں صدیوں سے رائج مقلدانہ اور جامد نظریات اور مشاغل کو یکسر رد کر کے اس کو حرکت کی راہ پر ڈال دیا۔ گویا سید  احمد شہید رحمۃ اللہ علیہ کی تحریک جہاد کے ساتھ عمل بالحدیث کے مسلک کی اشاعت ہوئی۔ مولانا ولایت علی رحمۃ اللہ علیہ، مولانا عنایت علی رحمۃ اللہ علیہ، صادق پور اور عظیم آباد کے دیگر علماء اور رؤساء نے اس تحریک آزادی کے لیے جو قربانیاں دی ہیں، انہیں کون فراموش کر سکتا ہے؟ شیخ الکل مولانا سید نذیر حسین محدث دہلوی رحمۃ اللہ علیہ نے مولانا ولایت علی رحمۃ اللہ علیہ سے متاثر ہو کر ہند میں اپنے آپ کو اشاعت حدیث کے لیے وقف کر دیا تھا۔ انہوں نے عملا اگرچہ جہاد بالسیف میں حصہ نہیں لیا، تاہم اپنے بے شمار شاگردوں کو بغرضِ جہاد سرحد بھجوایا، ان سے خفیہ خط و کتابت کرتے رہے اور ان کو مالی مدد بھی فراہم کرتے رہے۔[17]
سید صاحب رحمۃ اللہ علیہ نے اپنی زندگی ہی میں سرحد سے مولانا ولایت علی رحمۃ اللہ علیہ کو دکن، مدراس اور بنگال وغیرہ میں تبلیغ وغیرہ کے لیے مامور فرمایا۔[18] وہ ہندوستان میں رہ کر تحریک جہاد کے لیے افرادی قوت اور مالی اعانت فراہم کرتے رہے، سید صاحب رحمۃ اللہ علیہ اور ہندوستان کے مسلمانوں کے درمیان رابطے کا کام کیا۔ سید احمد شہید رحمۃ اللہ علیہ کی شہادت کے بعد جب اسلامیانِ ہند پر مایوسی کے آثار نمودار ہوئے تو انہوں نے سئہ 1846ء (سئہ 1264ھ) میں سرحد میں آ کر مجاہدین کی قیادت کی۔
تنظیم و تبلیغ کے دوران جب مولانا ولایت علی رحمۃ اللہ علیہ کو حج کی سعادت نصیب ہوئی تو علامہ محمد بن علی شوکانی رحمۃ اللہ علیہ سے تفسیر اور حدیث کی سند لی اور ان کی بعض کتب ساتھ لائے[19] بنا بریں سید احمد شہید رحمۃ اللہ علیہ کی غیبوبت کے مسئلے میں مولانا عبیداللہ سندھی رحمۃ اللہ علیہ نے علامہ شوکانی رحمۃ اللہ علیہ کو زیدی قرار دے کر اس غیبوبت کے ڈانڈے زیدیت سے ملا دئیے۔ حالانکہ زیدی کسی امام غائب کے قائل نہیں۔ مولانا علایت علی رحمۃ اللہ علیہ تبلیغ و وعظ میں "بلوغ المرام" کا درس دیا کرتے تھے اور اپنے ملنے والے معتقدمین کو "بلوغ المرام" کے مطالعہ کی تلقین کیا کرتے تھے۔[20]
تاریخ کے اوراق میں یہ بات ثبت ہے کہ سید صاحب رحمۃ اللہ علیہ کے حج کے دوران میں سید صاحب کے رفقاء میں مولانا عبدالحی رحمۃ اللہ علیہ اور مولانا منصور الرحمن رحمۃ اللہ علیہ نے (سئہ 1237ھ) مکہ مکرمہ میں علامہ شوکانی رحمۃ اللہ علیہ سے ملاقات کی اور علامہ شوکانی رحمۃ اللہ علیہ نے دونوں کو "اتحاف" ایک ایک نسخہ تحفۃ دیا۔[21] مولانا عبدالحی رحمۃ اللہ علیہ عمل بالحدیث کا مسلک رکھتے تھے۔
امیر المومنین سید احمد شہید رحمۃ اللہ علیہ نے ہند کے مختلف حصوں میں دعوت اصلاح اور تحریک جہاد کے لیے جو مختلف داعی مقرر کئے تھے، ان میں نواب صدیق حسن خان رحمۃ اللہ علیہ کے والد ماجد اولاد حسن قبوجی رحمۃ اللہ علیہ بھی شامل تھے۔[22] یہ چند ان مشہور لوگوں کے نام ہیں جو اہل حدیث مسلک رکھتے تھے اور جنہوں نے تحریک جہاد میں اپنا سب کچھ قربان کر دیا۔
امیر المومنین سید احمد رحمۃ اللہ علیہ اور شاہ اسماعیل رحمۃ اللہ علیہ کی شہادت کے بعد اور ہند میں سئہ 1857ء میں جنگِ آزادی کی ناکامی اور ہند پر انگریزوں کے مکمل تغلب کے بعد مسلمانوں پر ہر طرف مایوسی کے بادل چھا گئے۔ مجاہدین تحریک جہاد کے پس منظر میں کام کرنے والے ہندوستانی علماء کے خلاف جن میں زیادہ تر تعداد ان علماء کی تھی جو مسلکِ تقلید نہ رکھتے تھے، پروپیگنڈے کا طوفان اٹھ کھڑا ہوا۔ ان کو بغاوت کے مقدمات میں ملوث کیا گیا۔ مجاہدین کو روپیہ اور افرادی قوت کی بہم رسانی کے الزامات میں ان کو موت اور کالے پانی کی سزائیں ملیں۔ عظیم آباد کے مشہور خاندان کو بھی کالے پانی کی سزائیں ہوئیں اور ان کی جائیدادیں ضبط کر لی گئیں۔ انگریزوں نے ہند کے مسلمانوں کو ان کے اثرات سے بچانے کے لیے ان کو "وہابی" مشہور کر دیا۔ اس زمانے[23] میں "وہابی" اور انگریزوں کا "باغی" ہم معنی الفاظ تھے۔ تب ان غیر منظم عامل بالحدیث موحدین کو انگریزوں کے عتاب اور نفرت سے بچانے کے لیے مولانا محمد حسین بٹالوی مرحوم نے عدالت میں درخواست دی کہ انہیں "وہابی" نہ کہا جائے۔ کیونکہ وہ محمد بن عبدالوہاب نجدی رحمۃ اللہ علیہ کے مقلد نہیں ہیں، بلکہ وہ "اہل حدیث" ہیں۔ اور انہیں "اہل حدیث" کے نام سے یاد کیا جائے۔ غالبا درخواست گزاروں میں بہت سے اہل حدیث علماء کے نام تھے۔
جہاں تک مولانا محمد حسین بٹالوی رحمۃ اللہ علیہ کے رسالہ "الاقتصاد فی مسائل الجہاد" کا تعلق ہے، ہم نے اس کا مطالعہ نہیں کیا۔ لہذا ہم اس کے مشمولات کے بارے میں تبصرہ کرنے سے گریز کرتے ہیں۔ البتہ توضیح کے طور پر ابوالکلام خواجہ صاحب سے عرض کرتے ہیں کہ:
اولا: اگر مولانا محمد حسین بٹالوی رحمۃ اللہ علیہ نے نسخِ جہاد پر رسالہ لکھا ہے تو اس رسالہ کے مشمولات کو اہل حدیث علماء کی اکثریت نے کبھی قبول نہیں کیا۔ اور تحریک جہاد کو باقاعدہ سئہ 1947ء کے بعد جہاد کشمیر تک جاری رکھا۔ بعض علماء نے اس رسالے پر تنقید بھی کی۔ ان کے اس نظریے کو اہل حدیث اور تمام امت مسلمہ نے رد کر دیا۔ طعنہ دینے کی بات تو تب ہوتی، جب اہل حدیث حضرات نے اس رسالے سے متاثر ہو کر چمرکنڈ اور یاغستان سے انگریزوں کے خلاف کاروائیاں بند کر دی ہوتیں یا ہندوستان سے مجاہدین کے لیے چندہ اکٹھا ہونا بند ہو گیا ہوتا۔ خواجہ صاحب نے جس کتاب "طائفہ منصورہ" وغیرہ سے یہ معلومات حاصل کی ہیں، اس کے مصنف کی دیانت کا یہ عالم ہے کہ اس نے مولانا مسعود عالم ندوی رحمۃ اللہ علیہ کی کتاب کے ایک صفحے سے رسالہ "الاقتصاد فی مسائل الجہاد" کے بارے میں مولانا مسعود عالم رحمۃ اللہ علیہ کا تبصرہ تو اخذ کر لیا۔ مگر اس کے ساتھ ہی اگلے صفحے پر مولانا مسعود عالم ندوی رحمۃ اللہ علیہ مرحوم نے صادق پور کے عزیمت کے پیکر اہل حدیث خاندان کو جو خراج تحسین پیش کیا ہے، اسے نظر انداز کر دیا۔ یہ وہ خاندان ہے جن کی عزیمت اور جدوجہد نے سرحد میں جماعت مجاہدین کے وجود کو برسوں تازہ خون مہیا کئے رکھا۔ پھر اس کے ساتھ ہی مولانا مسعود عالم ندوی رحمۃ اللہ علیہ نے قرونِ اولیٰ کے مسلک اہل حدیث کا ذکر کیا ہے۔ جس کو نظر انداز کر کے ہمارے محقق دوست نے سرے سے مسلک اہل حدیث ہی کا انکار کر دیا ہے۔ اسی قسم کی تحقیق ان کی پوری کتاب کے مضامین کے اندر صاف جھلکتی ہے۔ اپنے مسلک کی تائید کے لیے انہوں نے جن کتب حدیث سے ضعیف احادیث اخذ کر کے ان کا ضعف ظاہر کئے بغیر انہیں نقل کیا ہے، وہیں ان کے مسلک کے خلاف صحیح ترین احادیث بھی موجود ہیں۔ بہرحال ہم اپنے عزیز دوست سے عرض کریں گے کہ وہ اہل حدیث ، سید احمد شہید رحمۃ اللہ علیہ اور جماعت مجاہدین کے بارے میں "طائفہ منصورہ" وغیرہ قسم کی کتابوں کے حوالے سے جاننے کی بجائے، اس موضوع پر محققین کی لکھی گئی کتب کا براہ راست مطالعہ فرمائیں۔
امام الہند شاہ ولی اللہ رحمۃ اللہ علیہ نے تحقیق و تعبیر کا دائرہ فقہ حنفی کی حدود سے بڑھا کر ائمہ اربعہ رحمۃ اللہ علیہم کی تعبیرات تک پھیلا دیا تھا۔ اہل حدیث علماء نے اسے مزید وسعت دے کر اسے ائمہ اربعہ رحمۃ اللہ علیہم کی فقہ تک محدود نہیں رکھا۔ ان کا نظریہ یہ ہے کہ حق صرف ائمہ اربعہ رحمۃ اللہ علیہم میں محصور نہیں ہے، اسے دوسرے فقہاء کی تعبیرات میں بھی دیکھنا چاہئے۔۔۔ان کا نقطہ نظر یہ ہے کہ قرآن و سنت کی نصوص کو ائمہ اربعہ رحمۃ اللہ علیہم کی آراء کی میزان پر پیش کرنے کی بجائے قرآن و سنت کی نصوص کو بنیاد بنایا جائے اور ائمہ اربعہ رحمۃ اللہ علیہم کے علاوہ دیگر تمام ائمہ سلف کی تشریحات و توضیحات کی مدد سے قرآن و سنت کی تعبیر کی جائے۔ ان اصولوں کے اندر رہتے ہوئے کیا ہوا اجتہار بے لگام نہیں ہو سکتا۔ یہ مشاہدہ ہے کہ ائمہ اربعہ رحمۃ اللہ علیہم کے بعد جتنے مجتہدین گزرے ہیں ان میں بہت کم مجتہدین نے تفرد اختیار کیا ہے۔ جہاں کہیں کوئی مجتہد ہمیں تفرد اختیار کرتا رکھائی دیتا ہے تو در حقیقت قرآن و سنت کے مضبوط دلائل اس کے ساتھ ہوتے ہیں۔[24] ورنہ امت مسلمہ کا اجتماعی عمل ایسے اجتہاد کو رد کر دیتا ہے۔

[1] فواتح الرحموت جلد 2 ص400
[2] الاحکام فی اصول الاحکام جلد 4 ص297
[3] بحوالہ المدخل الی مذہب الامام احمد لابن بدران ص389
[4] ارشاد الفحول ص265
[5] ارشاد الفحول ص265
[6] مجموع فتاویٰ ابن تیمیہ رحمۃ اللہ علیہ جلد 18 ص41
[7] مجموع فتاویٰ ابن تیمیہ رحمۃ اللہ علیہ جلد 18 ص48
[8] مجموع فتاویٰ ابن تیمیہ رحمۃ اللہ علیہ جلد 18 ص41
[9] اختصار علوم الحدیث (مع الباعث الحثیث) لابن کثیر رحمۃ اللہ علیہ ص35، مقدمۃ ابن الصلاح ص24 ص25
[10] ایقاظ ہمم اولی الابصار للفلانی ص38
[11] ایقاظ ہمم اولی الابصار ص39
[12] ایقاظ ہمم اولی الابصار ص55
ایقاظ ہمم اولی الابصار ص55[13]
[14]  بحوالہ ایقاظ ہمم اولی الابصار ص57
[15] ایقاظ ہمم اولی الابصار ص113
[16] تذکرہ رجال از ایوب قادری۔ ضمیمہ تواریخ عجیب مولانا جعفر تھانیسری ص253
روئیداد مجاہدین ہند۔ محمد خواص خاص۔ مکتبہ رشید لاہور ص350 بحوالہ "ہندوستان کی پہلی اسلامی تحریک"
[17]  سرگزشت مجاہدین۔ مولانا غلام رسول مہر ص165
[18] سرگزشت مجاہدین ص215، جماعت مجاہدین ص58-59، روئیداد مجاہدین ص257
[19] ہندوستان میں وہابی تحریک۔ ڈاکٹر قیام الدین احمد (مترجم) ص141
[20] سید احمد شہید رحمۃ اللہ علیہ۔ مولانا غلام رسول مہر ص815
[21] سرگزشت مجاہدین ص217
سید احمد شہید ص224[22]
[23] جماعت مجاہدین۔ مولانا غلام رسول مہر ص58 ص60ص255ص64 سرگزشت مجاہدین ص384
[24] مثلا امام ابن تیمیہ رحمۃ اللہ علیہ نے ایک ہی وقت میں دی ہوئی تین طلاق کو ایک ہی شمار کیا ہے۔ بظاہر یہ تفرد نظر آتا ہے۔ مگر قرآن و سنت کے نہایت مضبوط دلائل نیز عصری تقاضے ان کے ساتھ ہیں۔ مسلمان فقہاء اور مسلمان قانون ساز ادارے ان کے اس "تفرد" کو رد کرنے کی بجائے اسے بتدریج اختیار کرتے چلے جارہے ہیں۔ اس کے برعکس امام ابوحنیفہ رحمۃ اللہ علیہ کے چند فتاویٰ میں تفرد ہے، جسے خود ان کے اصحاب اور متبعین نے ترک کر دیا۔ امام داؤد ظاہری رحمۃ اللہ علیہ اور ابن حزم رحمۃ اللہ علیہ نے بعض فتاویٰ میں تفرد اختیار کیا، مگر ان پر عمل متروک ہے۔