لفظ "ہدی" اور پرویز صاحب:
لفظ "ہدی" کے متعلق پرویز صاحب ایک مقام پر فرماتے ہیں:
"ہدی جمع ہے " هدية" جس کے معنیٰ ہیں تحفہ۔ خود قرآن میں ہے بَلْ أَنتُم بِهَدِيَّتِكُمْ تَفْرَحُونَ ﴿٣٦﴾...النمل اس لیے یہ بھی ضروری نہیں کہ ہدی صرف قربانی کے جانور ہی ہوں۔" (قرآنی فیصلے ج1 ص108)
اس چھوٹے سے اقتباس میں "مفکر قرآن" صاحب نے تین لغزشوں کا ارتکاب کیا ہے۔
1۔ ھدی جمع ہے۔
2۔ ھدیة، جس کا معنیٰ تحفہ ہوتا ہے۔ اس کی ہی جمع ہدی ہے۔
3۔ ضروری نہیں کہ ہدی صرف قربانی ہی کے جانور ہوں۔
پہلی لغزش:
پرویز صاحب کی پہلی لغزش یہ ہے کہ انہوں نے "ھدی" کو جمع قرار دیا۔ افسوس ہے کہ جو شخص اٹھتے بیٹھتے اپنے آپ کو قرآنی تحقیق میں عمر کھپا دینے والا محقق ظاہر کرتا رہا، اس نے "ھدی" کے واحد یا جمع ہونے کا فیصلہ قرآنی اساس پر نہیں کیا، بلکہ کسی کی کتاب لغت میں ایسا دیکھا اور مکھی پر مکھی مارتے ہوئے "ھدی" کو جمع قرار دے دیا، حالانکہ کتاب اللہ نے اسے جمع نہیں بلکہ واحد قرار دیا ہے۔ قرآنی آیات اس پر شاہد ہیں:
 ﴿حَتَّىٰ يَبْلُغَ الْهَدْيُ مَحِلَّهُ ... ١٩٦﴾...البقرة
"یہاں تک کہ حرم میں کی جانے والی قربانی اپنے ٹھکانے پر پہنچ جائے۔"
﴿  هَدْيًا بَالِغَ الْكَعْبَةِ ... ٩٥﴾...المائدة
"ہدی کعبہ کو پہنچنے والی۔۔۔"
﴿  وَالْهَدْيَ مَعْكُوفًا أَن يَبْلُغَ مَحِلَّهُ ... ٢٥﴾...الفتح
"ہدی کو روکا کہ وہ اپنے محل پر نہ پہنچ پائے۔"
ان آیات میں " يَبْلُغَ "۔۔۔" بالِغَ "۔۔۔" مَعْكُوفًا "۔۔۔اور۔۔۔" َمحِلَّهُ " میں ضمیر مضاف الیہ۔ یہ سب واحد کے صیغے ہیں، جو "ھدی" کے واحد ہونے پر دلالت کرتے ہیں۔ اگر "ھدی" جمع ہوتی تو " يَبْلُغَ " کی بجائے " تَبلُغَ" ۔۔۔" بَالِغَ" کی بجائے " بالغة"۔۔۔ " معكوفا" کی بجائے " معكوفة"۔۔۔اور۔۔۔" محله" کی بجائے " محلها" کے الفاظ ہوتے، لہذا پرویز صاحب کا " هدىٌ" کو محض کسی کتابِ لغت کی بناء پر جمع قرار دینا اسی تقلیدی روش اور "اندھے کی لاٹھی" کا سہارا لینے کا نتیجہ ہے جس کی تردید میں وہ فخر محسوس کیا کرتے تھے۔
دوسری لغزش:
پرویز صاحب کی دوسری لغزش یہ ہے کہ " هديّةٌ" کی جمع " هدىٌ" کو سمجھتے ہیں۔ " هديّةٌ" کی جمع قرآن پاک میں استعمال نہیں ہوئی، لہذا اس کے لیے کتب لغت کی طرف رجوع ناگزیر ہے۔ اور کتب لغت میں " هديّةٌ"  کی جمع تین طرح وارد ہوئی ہے:
هدايا ۔ هداوى- هداو-
پھر پرویز صاحب نے یہ بھی نہیں سوچا کہ اگر "هدى" ، " هدية" کی جمع ہوتی تو اس کی "یاء" مشدد ہوتی یعنی وہ "هدى" کی بجائے "هدى" ہوتی۔ لیکن قرآن کریم میں یہ لفظ جہاں بھی آیا ہے، بغیر "کسرہ دال" اور بغیر "یائے مشدد" کے آیا ہے۔ ہر جگہ سکون "دال" اور تخفیف "یاء" کے ساتھ "هدى" ہی آیا ہے۔ اس لیے هدية" اور "هدى" کو محض مشابہت کی بناء پر واحد جمع کے رشتے میں منسلک کرنا نری کوتاہ نظری اور جہالت ہے۔ ہاں البتہ" هدى" کا ترجمہ، اسمِ جنس کے طور پر جمع کی صورت میں بھی ممکن ہے، اہل علم نے بھی اسے اس طرح استعمال کیا ہے۔ مگر بجائے خود لفظ "هدى" کتاب اللہ کی روشنی میں جمع نہیں بلکہ واحد ہی ہے۔
تیسری لغزش:
پرویز صاحب کی تیسری لغزش یہ ہے کہ ان کے نزدیک۔۔۔ "یہ ضروری نہیں کہ "هدى" صرف قربانی کے جانور ہی ہوں" حالانکہ "هدى"  کا اطلاق لغۃ عرفا اور شرعا ہوتا ہی اُن قربانی کے جانوروں پر ہے جو حرم میں ذبح کئے جائیں۔ اس پر پہلے تفصیل سے بحث ہو چکی ہے۔ حتیٰ کہ خود پرویز صاحب کی لغات القرآن میں بھی "هدى" سے مراد "بیت اللہ پر ذبح ہونے والے قربانی کے جانور" لیے گئے ہیں۔ یہی معانی دورِ نزول قرآن میں متداول تھے، ہم موصوف کا یہ اقتباس، تکرار کی کوفت کے باوجود دوبارہ ہدیہ قارئین کر رہے ہیں:
"هدىٌ" ور  "هدِىٌّ"  اس جانور کو کہتے تھے جو حج کے موقعہ پر بیت اللہ میں ذبح کرنے کے لیے لے جاتے تھے۔" (لغات القرآن ص1756)
اس کے بعد بھی یہی رٹ لگائے جانا کہ "ضروری نہیں کہ ہدی صرف قربانی کے جانور ہی ہوں۔" ایک بے جا ہٹ دھرمی ہے، جس کی پشت پر تحقیقِ حق کا کوئی مخلصانہ جذبہ نہیں، بلکہ مخالفتِ قربانی کا معاندانہ جذبہ کام کر رہا ہے۔
قربانی پر پرویز صاحب کی تیسری شرط اور اس کا جائزہ:
قربانی کو پرویز صاھب نے جس تیسری شرط کے ساتھ مشروط کیا ہے، وہ ان کے اپنے الفاظ میں یہ ہے:
"قرآن کریم نے بالتصریح کہا ہے کہ اس سے مقصد یہ ہے کہ ان کا گوشت تم خود بھی کھاؤ اور وہاں کے محتاجوں کو بھی کھلاؤ، لہذا صرف اتنے اونٹ ذبح کئے جائیں گے جن کا گوشت کھانے کے کام آ سکے، بنا بریں جس طرح آج کل حج کی تقریب پر لاکھوں کی تعداد میں بھیڑ بکریاں ذبح کر کے زمین میں دبا دی جاتی ہیں اور تمام دنیا میں عید الاضحیٰ کی تقریب پر جانور ذبح کئے جاتے ہیں، قرآن کریم سے اس کی تائید کسی طرح بھی نہیں ہوتی۔" (تفسیر مطالب الفرقان ج3 ص250)
پرویز صاحب کی اس شرط کا جائزہ ہم کئی پہلوؤں سے لے رہے ہیں۔
(الف)۔۔۔سب سے پہلی بات تو یہ غور طلب ہے کہ انہوں نے حج کے عالمگیر اجتماع میں قربانیوں کا مقصد محض "ضیافت خوری" قرار دیا ہے۔ چنانچہ ان کی ساری گفتگو کا مرکزی نقطہ یہی قرار پاتا ہے کہ جب "اجتماعِ حج" ایک "گوشت خوری" کی پارٹی ہے تو اس پارٹی میں اتنے ہی جانور ذبح کئے جانے چاہئیں جو افراد، اجتماع کے پیٹ بھرنے کے لیے کافی ہوں۔ انہوں نے اپنے اس نقطہ نظر کی کئی جگہ وضاحت کی ہے:
"نمائندگان[1] ملت اسلامیہ کے عالمگیر اجتماع میں ہدی کی قربانی اس لیے ہے کہ وہاں وہ لوگ ایک دوسرے کی دعوت کریں۔" (قرآنی فیصلے ج1 ص138)
ایک مقام پر "مشعر الحرام" کی تشریح کرتے ہوئے جناب پرویز صاحب رقمطراز ہیں:
"مشعر کے معنیٰ ہیں وہ مقام جہاں عقل و شعور کی رو سے معاملات پر بحث و تمحیص کی جائے۔ اور چونکہ ان معاملات کا تعلق نظامِ خداوندی سے ہو گا اس لیے اسے حرام یعنی واجب الاحترام بھی قرار دیا۔ یہاں یہ نمائندگان حسب ضرورت دو یا تین دن قیام کریں گے، اس پروگرام کی عملی جزئیات اور ان کے سلسلہ میں باہمی تعاون و تناصر کے سلسلے میں بحث و تمحیص بھی ہو گی اور ایک دوسرے کی ضیافتیں بھی۔۔۔آج دوپہر کا کھانا نمائندگان پاکستان کی طرف سے، رات کا کھانا اہل افغانستان کی طرف سے (وقس علی ذالک) ان ضیافتوں کے لیے وہ جانور ذبح ہوں گے جنہیں یہ لوگ اسی مقصد کے لیے ساتھ لائے تھے یا جو دوسرے لوگوں نے تحفۃ بھیجے تھے۔۔۔" (تفسیر مطالب الفرقان ج3 ص241)
قربانی کی حیثیت کے بارے میں ہمارے اور جناب پرویز صاحب کے نقطہ نظر میں یہ بنیادی اختلاف ہے کہ ان کے نزدیک حج کا اجتماع، "گوشت خوری" کی ایک "بین الاقوامی پکنک پارٹی" ہے۔ جبکہ ہمارے نزدیک یہ اجتماع، سراسر ایک تعبدی امر ہے۔ جس میں دنیا بھر کے مسلمان بیت اللہ کا قصد کر کے آتے ہیں۔۔۔اور یہی بات قرآن کریم نے بھی بیان فرمائی ہے:
﴿وَلِلَّـهِ عَلَى النَّاسِ حِجُّ الْبَيْتِ مَنِ اسْتَطَاعَ إِلَيْهِ سَبِيلًا ... ٩٧﴾...آل عمران "اور لوگوں پر خدا کا حق (یعنی فرض) ہے کہ جو اس گھر تک جانے کا مقدور رکھے وہ اس کا حج کرے۔"
نیز فرمایا:
﴿وَلْيَطَّوَّفُوا بِالْبَيْتِ الْعَتِيقِ ﴿٢٩﴾...الحج
"اور چاہئے کہ وہ اس قدیم گھر (یعنی بیت اللہ) کا طواف کریں۔"
پھر مشرکین کے برعکس، جو غیر اللہ کے استھانوں پر جانوروں کی قربانی دیتے ہیں، اہل ایمان کو یہ حکم ہے کہ وہ آستانہ خداوندی آ کر ان جانوروں کی قربانی دیں جو کسی غیر اللہ کی نہیں بلکہ خود خدا کی پیدا کردہ مخلوق ہیں۔۔۔ارشاد باری تعالیٰ ہے:
﴿وَلِكُلِّ أُمَّةٍ جَعَلْنَا مَنسَكًا لِّيَذْكُرُوا اسْمَ اللَّـهِ عَلَىٰ مَا رَزَقَهُم مِّن بَهِيمَةِ الْأَنْعَامِ ... ٣٤﴾...الحج
اور جب یہ قربانی دے لیں تو پھر اس میں سے وہ خود بھی کھائیں اور تنگ دست فقراء کو بھی کھلائیں۔۔۔الغرض، قربانیوں کا اصل مقصد، رضائے الہی کی طلب میں خدا کی عطا کردہ حیوانی دولت کو اسی کے نام پر ذبح کرنا ہے۔ کھلانا اور کھانا وہ اولین مقصد نہیں ہے جس کے لیے یہ قربانی لازم کی گئی ہے۔ جیسا کہ پرویز صاحب نے سمجھا ہے۔ پس جب قربانی و حج کی یہ حیثیت واضح ہو گئی کہ یہ کوئی "اکلِ لحم" کا بین الاقوامی "جسنِ ضیافت" نہیں ہے جس میں شرکت کے لیے چار دانگِ عالم سے "گوشت خوروں' کی ٹولیاں سوئے حرم آ رہی ہیں، بلکہ یہ زائرینِ بیت اللہ کا وہ اجتماع ہے جس میں بیت اللہ کا قصد کرنا، سوئے حرم روانہ ہونا، مناسک حج کو ادا کرنا اور قربانیاں کرنا بجائے خود عبادت ہے۔ جس کا مقصد حصول رضائے الہی اور  تقرب خداوندی ہے۔ جب حج اور قربانی کا اصل مقصود یہ قرار پایا تو اس بات کی کوئی اہمیت نہیں رہ گئی کہ اس سے کس کس پیٹ بھرا؟ بلکہ پیٹ بھرا بھی یا کہ نہیں؟۔۔۔یہاں (بیت اللہ میں) آنے کا مقصد ذبیحوں کے ذریعہ اور دیگر مناسک حج کی ادائیگی کے ذریعہ رضائے الہی اور تقرب خداوندی کا حصول ہے۔ لہذا یہاں اصل اور بنیادی حیثیت اس بات کو حاصل نہیں ہے کہ کتنے لوگوں کے کام و دہن کی لذت کا سامان فراہم کیا گیا؟ بلکہ اس بات کو حاصل ہے کہ طلبِ رضاء الہی میں کتنی قربانیاں دی گئیں اور کس خلوص و للہیت سے دی گئیں؟
(ب)۔۔۔حج میں ہر شخص قربانی کرتا ہے۔ عام حالات میں اگر ہر شخص ایک ایک قربانی بھی کرے تو بھی گوشت اس قدر ہو جاتا ہے کہ شکم سیری کے بعد بھی بچ جاتا ہے۔ اس بچے ہوئے گوشت کو دیکھ کر خدا کے حکم میں ترمیم کرتے وہئے بعض لوگوں پر سے اس قربانی کو ساقط نہیں کیا جا سکتا، جسے خدا تعالیٰ نے شعائر اللہ قرار دیا ہے، اور جسے توحید فی العبادت اور توحید فی الاعتقاد کا سبب قرار دیا ہے۔ لوگوں کے پیٹوں میں یہ گوشت جائے یا نہ جائے خدا کے بندوں کو اس جذبہ تشکر کے اظہار سے روکا نہیں جا سکتا جو خدا کی بخشی ہوئی حیوانی دولت کو اسی کے نام پر ذبح کرنے کے لئے، انہیں تہ دل سے شوق و رغبت دلاتا ہے۔ قربانی کے گوشت کو شکم سیری کی روشنی میں، معاشی ترازو میں تول کر نہیں دیکھا جائے گا، بلکہ اعتقاد و عبادت کے اس ترازو میں وزن کر کے دیکھا جائے گا جو توحید ربوبیت اور توحید عبودیت کا سبب و ذریعہ ہے۔ یہی وجہ ہے کہ قرآن مجید نے قربانی اور توحید کو مقرون و متحد کر کے پیش کیا ہے:
﴿وَلِكُلِّ أُمَّةٍ جَعَلْنَا مَنسَكًا لِّيَذْكُرُوا اسْمَ اللَّـهِ عَلَىٰ مَا رَزَقَهُم مِّن بَهِيمَةِ الْأَنْعَامِ ۗ فَإِلَـٰهُكُمْ إِلَـٰهٌ وَاحِدٌ فَلَهُ أَسْلِمُوا ... ٣٤﴾...الحج
"ہم نے ہر قوم کے لیے قربانی (یا طریق عبادت و قربانی) کا ایک طور طریقہ ٹھہرایا تاکہ وہ ان چوپایوں پر اللہ کا نام لے کر ذبح کریں جو اس نے ان کو عطا فرمائے ہیں۔ سو تمہارا الہ وہی ایک الہ ہے، سو تم اسی کے سامنے جھکو۔"[2]
(ج)۔۔۔عین حج کے موقعہ پر حرم پاک میں روئے زمین سے آنے والے حاجیوں کا مشغولِ عبادت ہونا اور ان ہی دنوں میں خارج از ھرم پوری امت کا نسک و نحر کے ذریعہ ان کا شریک حال ہونا، ان میں ایک ہی دین و ملت اور ایک ہی تہذیب و ثقافت کے علمبردار ہونے کا وہ جذبہ و احساس پیدا کرتا ہے، جس کے مقابلے میں ہر مادی نقصان ہیچ ہے، صرف اسلام ہی نہیں، ہر قوم کے قومی تہوار، افراد قوم میں وحدت کا وہ شعور پیدا کرتے ہیں جو ان کے قومی تشخص کو اجاگر کرتا بلکہ نشوونما دیتا رہتا ہے۔ اس قیمتی شعور و احساس کو معاشی اخراجات کے گز سے نہیں ناپا جا سکتا۔ آج مسیحیت پوری دنیا میں پھیلی ہوئی ہے۔ مسیحی افراد وطنی، لونی، لسانی، نسلی اور معاشی طور پر کئی ایک طبقوں اور حصوں میں بٹے ہوئے ہیں۔ شاید ان کے درمیان (مسیحیت کے نام کے علاوہ) کوئی قدر مشترک عملا باقی نہیں ہے، ماسوا اس تہوار جو وہ "کرسمس" کے نام پر مناتے ہیں۔ سال بھر کے بعد، یہ تہوار اگر روئے زمین پر پھیلے ہوئے تمام عیسائیوں میں ایک مذہب و ملت کے افراد ہونے کا احساس پیدا کر دیتا ہے تو ان کے ہاں یہ احساس نایسی نعمت گرانمایہ ہے کہ وہ اس کے مقابلے میں اس پر اٹھنے والے مصارف کو کوئی اہمیت نہیں دیتے۔ اگر آپ کسی مسیحی سے یہ کہیں کہ۔۔۔" جناب آپ اس تہوار پر جس قدر رقم خرچ کرتے ہیں اسے آپ رفاہ عامہ کے کام میں صرف کر کے اپنی قوم کی بہتر خدمت کر سکتے ہیں، لہذا اس تہوار کو منانا چھوڑ دین"۔۔۔تو وہ آپ کی معاشی میزان میں تلی ہوئی اس نصیحت کو آپ کے منہ پر دے مارے گا۔ ہندوؤں سے زیادہ زر پرست اور روپے پیسے پر جان دینے والی قوم کون سی ہو سکتی ہے؟ یہ لوگ بھی اپنے تہواروں پر اٹھنے والی رقوم کو اقتصادیات کے ترازو میں تولنے کے لیے آمادہ نہیں ہیں، کیونکہ یہ تہوار ان میں یکجہتی کا احساس اور وحدت کا شعور پیدا کرتے ہیں، لیکن ہمارے مہربان یہ وعظ فرماتے نہیں تھکتے کہ:
"ہر سال جتنے جانور ذبح کئے جاتے ہیں اگر ان کی قیمت حکومت کے حوالہ کر دی جائے تو سینکڑوں رفاہ عامہ کے کام ہو سکتے ہیں۔"
(د)۔۔۔قربانی کو ایمان و اعتقاد اور عبادت و اطاعت ایزدی کے ترازو میں تولنے کی بجائے اقتصادیات کے ترازو میں وزن کرنے کی روش فی الواقعہ مادیت پر ایمان کا کرشمہ ہے، مادہ پرستی میں ڈوبے ہوئے ذہن قربانی کو قومی دولت کا "ضیاع" نہ سمجھیں تو کیا سمجھیں؟ مادیت کی یہ عینک جس کی بھی آنکھوں پر چڑھی ہے اس نے تمام اسلامی احکام و ہدایات کو اسی رنگ میں دیکھا ہے۔ انہیں صرف قربانی پرہی اعتراض نہیں، اسلام کی ہر روایت اور دین کی ہر عبارت پر اعتراض ہے، انہیں جس طرح قربانی کی صورت میں معاشی نقصان نظر آتا ہے اسی طرح نماز کی صورت میں بھی معاشی مضرت نظر آتی ہے۔ ان کے نقطہ نظر سے روزانہ پانچ نمازوں پت اگر اڑھائی گھنٹے بھی صرف ہوں تو بارہ کروڑ کی آبادی روزانہ تین کروڑ گھنٹے "ضائع" کر دیتی ہے۔۔پھر سال بھر میں جو وقت نماز پڑھنے والے "ضائع" کرتے ہیں اس کا حساب خود لگا لیجئے۔۔اسی معاشی منطق سے سو ویٹ روس نے اشتراکی انقلاب کے بعد تاخت و تاراج ہونے والے علاقوں کے مسلمانوں کو نماز کے معاشی نقصانات سمجھائے تھے۔ یہ وہی ذہنیت ہے جس کے تحت مصطفیٰ کمال نے ترکی میں پچیس سال تک حج کرنے پر پابندی لگائے رکھی، کیونکہ حجاج کرام کے حج کرنے کی صورت میں زرِ مبادلہ کا نقصان ہوتا تھا۔۔۔اور یہی وہ ذہنیت تھی جس کے تحت حبیب بورقیبہ نے روزوں کی مخالفت کی۔۔۔درج ذیل اقتباس ملاحظہ ہو:
“The influence of Islam in the modern world has weakened to such an alarming extent that the President of Tunisia Habib Bourguiba, in a nation-wide speach, delivered over the radio on February 18, 1960, dared publically to attack on the fasting of Ramazan, blaming it for hindering Tunisia’s economic development “Fasting may be intended to purify the spirit by enfeebling the body, what I need are strong bodies to the western standard of living.” President Bourguiba argued that the struggle for economic develpoment excuses workers from the Ramazan fasting. He then bitterly denounced the Rector of Zaitonia University for refusing to consider the economic growth of Tunisia more important than the Ramazan.” (Islam Versus West By Maryam Jameela. P.42)
"دورِ جدید میں اسلام کا اثر و رسوخ، اس قدر چونکا دینے کی حد تک کمزور پڑ گیا ہے کہ تیونس کے صدر حبیب بورقیبہ نے اپنی ایک قومی سطح کی تقریر میں، جو 18 فروری سئہ 1960 کو ریڈیو پر نشر کی گئی تھی، رمضان کے روزوں پر کھلم کھلا حملہ کرنے کی جراءت کی۔ اس نے ماہِ رمضان پر یہ الزام لگایا کہ روزے تیونس کی اقتصادی ترقی میں رکاوٹ ڈالتے ہیں۔۔۔اس نے کہا۔۔۔ "ہو سکتا ہے کہ روزوں کا مقصد، جسم کو کمزور بنا کر روح کو خالص اور طاقتور بنانا ہو، مگر مجھے جس چیز کی ضرورت ہے وہ ایسے مضبوط اور قوی جسم ہیں جو اس ملک میں انقلاب برپا کر سکیں اور ہمارے معیارِ زندگی کو مغرب کی سطح تک بلند کر سکیں۔" ۔۔۔صدر حبیب بورقیبہ نے استدلال کرتے ہوئے کہا کہ اقتصاری ترقی کی جدوجہد، کارکنوں کو رمضان کے روزوں سے سبکدوش کر دیتی ہے، اس کے بعد اس نے زیتونہ یونیورسٹی کے سربراہ کو اپنی شدید لعنت ملامت کا نشانہ بنایا، کیونکہ اس نے رمضان کی نسبت تیونس کی معاشی ترقی کو زیادہ اہمیت دینے سے انکار کر دیا تھا۔" (اسلام بمقابلہ مغرب (انگریزی) از مریم جمیلہ ص42)
یہ ہے وہ مادہ پرستانہ ذہنیت جس کے تحت قربانی کی مخالفت کی جا رہی ہے۔ اس ذہنیت کا یہ کرشمہ ہے کہ وہ دین اسلام کے ایک ایک حکم کو اقتصادی مصالح کے ترازو میں تولتی ہے، اور جو فرمان خداوندی اس میزان میں پورا نہیں اترتا، یہ ذہنیت اسے کالعدم قرار دینے کے لیے راہیں تلاش کرتی ہے۔ اگر قربانی کی مخالفت میں اس مادہ پرستانہ ذہنیت کو اختیار کر لیا جائے تو اس کا نتیجہ یہ نکلے گا کہ آج قربانی کا انکار کیا تو کل نماز کا انکار ہو گا۔۔۔پرسوں روزوں کی باری آئے گی، اس کے بعد حج سے ہاتھ دھونے پڑیں گے، الغرض پوری اسلامی تہذیب، اقتصادی مصلحتوں کے خراد پر چڑھ جائے گی اور بالآخر چھل چھلا کر وہ ایسی شکل اختیار کرے گی کہ ماسوائے اسلام کے اسم کے کوئی دینی چیز باقی نہ رہے گی اور بالآخر اسمِ اسلام بھی مٹ جائے گا۔۔۔لیکن یہ ان لوگوں کی بھول ہے:
﴿وَاللَّـهُ مُتِمُّ نُورِهِ وَلَوْ كَرِهَ الْكَافِرُونَ ﴿٨﴾...الصف
آج کے اس دورِ انحطاط میں، اگر ہم اعمال صالحہ کی روح سے محروم ہیں تو کم از کم یہ اعمال کے قالب تو موجود ہی ہیں اور غنیمت بھی۔۔۔بقولِ اقبال:
رگوں میں وہ لہو باقی نہیں ہے     وہ دل وہ آرزو باقی نہیں ہے
نماز و روزہ و قربانی و حج                یہ سب باقی ہیں تو باقی نہیں ہے
مگر "منکرینِ قربانی" جس ذہنیت کی آڑ میں یہ کھیل کھیلنا چاہتے ہیں، اس سے ان کا مقصود ان اعمال کی روح ہی نہیں ان کا وجود بھی مٹا دینے کا ہے۔۔۔ "أعاذنا الله من ذلك"
(ر) ۔۔۔ رہا پرویز صاحب کا یہ فرمان کہ۔۔۔"جس طرح آج کل حج کی تقریب پر لاکھوں کی تعداد میں بھیڑ بکریاں ذبح کر کے زمین میں دبا دی جاتی ہیں۔۔۔" تو یہ بھی ان کی لاعلمی تھی۔ آج ہر شخص حج پر جا کر خود دیکھ سکتا ہے کہ پرویز صاحب کے اس بیان میں صداقت و حقیقت کا کتنا عنصر پایا جاتا ہے۔ تضیعِ لحم کے بارے میں وہاں سرے سے یہ بات ہے ہی نہیں جو "مفکرِ قرآن' صاحب نے بیان کی ہے۔ ممکن ہے ماضی میں کبھی ایسا ہوا ہو، مگر اب تو دورِ حاضر کے جدید ترین وسائلَ نقل و حمل نے اس گوشت کو آن کی آن میں دنیا بھر کے مستحقین تک پہنچانے کا بندوبست کر ڈالا ہے۔ گزشتہ سال جو لوگ حج سے فارغ ہو کر آئے ہیں وہ جانتے ہیں کہ حجاج کرام کی ضروریات سے فاضل گوست کو فضائی سروس کے ذریعہ افغان مہاجرین تک پہنچا دیا گیا تھا۔ لیکن میں کہتا ہوں کہ اگر بالفرض قربانی کا گوشت وہاں واقعی ضائع ہی ہو رہا ہو، تب بھی ایک مسلمان کے لیے۔۔۔بشرطیکہ وہ حقیقتا مسلمان ہو۔۔۔یہ کہاں جائز ہے کہ وہ اس بات کو "قربانی" کے عدمِ جواز کا بہانہ بنا ڈالے جس کو اللہ تعالیٰ نے "شعائر اللہ" قرار دیا ہے، جس کے متعلق قرآن مجید نے "لكم فيها خير"[3] کہا ہے اور جس کے کر ڈالنے کا حکم دیا گیا ہے۔
قربانی پر ایک اور اعتراض اور اس کا جائزہ:
"قربانی" پر، پرویز صاحب نے اپنے اس اعتراض کو مختلف انداز میں بہت تکرار کے ساتھ دہرایا ہے، جس کا خلاصہ یہ ہے کہ:
قرآن کریم نے قربانیوں اور ذبیحوں کو کہیں بھی عید الاضحیٰ کے ساتھ نتھی نہیں کیا ہے، پھر آپ ہر گلی کوچے میں عید الاضحیٰ کے موقعہ پر یہ قربانیاں کیوں کرتے ہیں؟ (خلاصہ عبارت قرآنی فیصلے و تفسیر مطالب الفرقان)
اس اعتراض کا جواب تو بہت تفصیل سے دیا جا چکا ہے، مگر یہاں پرویز صاحب کے مزاج کا ایک اور رنگ ملاحظہ فرمائیے اور یہ بھی دیکھئے کہ قربانی کی مخالفت کا جذبہ، ان کے حواس و مشاعر پر کس قدر غلبہ پا چکا ہے؟ ورنہ وہ قرآنی نقطہ نظر سے "قربانی" کو "عید الاضحیٰ" کے ساتھ وابستہ کرنے میں ہم پر کیا اعتراض کرتے، بلکہ خود ہمارے اس اعتراض کی زد میں آ جاتے کہ "آپ" عید الاضحیٰ" کے وجود کو تسلیم کر کے "اضحیٰ" کا انکار کیسے کرتے ہیں؟"
غور فرمائیے! پرویز صاحب "قربانی" کے تو قائل نہیں ہیں۔ مگر نفس "عید الاضحیٰ" کے قائل ہیں۔ جب وہ ہمیں یہ کہتے ہیں کہ ۔۔۔"آپ قربانی کو عید الاضحیٰ کے ساتھ مقرون کیوں کرتے ہیں؟"۔۔۔تو ان کو "عید الاضحیٰ" کے وجود پر تو کوئی اعتراض نہیں ہوتا، مگر "اضحیٰ" پر وہ یہ اعتراض کرتے ہیں کہ اسے "قربانی کی عید" کے ساتھ وابستہ کیوں کیا جاتا ہے؟ حالانکہ قرآن کریم میں نہ تو عید الاضحیٰ ہی کا وجود ہے اور نہ ہی عید الفطر کا (ملاحظہ ہو قرآنی فیصلے ج1 ص85 اور ص158) اور نہ ہی نفس "عید الاضحیٰ" کا وہ انکار کرتے ہیں (حالانکہ ان میں سے کسی کا وجود قرآن کریم سے ثابت نہیں ہے) مگر وہ عیدین کے وجود کو تسلیم کر کے ان کے ساتھ وابستہ ایک عمل (قربانی) کا انکار کرتے ہیں جبکہ دوسرے عمل (صدقۃ الفطر) کا اقرار فرماتے ہیں۔۔۔آخر اس ثنویت کی کیا قرآنی دلیل ہے؟
فکرِ پرویز سے وابستہ افراد سے ہماری گزارش یہ ہے کہ اگر آپ قرآن کی بنیاد پر قربانی کا انکار کرتے ہیں تو "قربانی" سے پہلے "عید الاضحیٰ" کا انکار کیجئے، اسی طرح عید الفطر اور صدقۃ الفطر کا انکار کیجئے۔ کیونکہ ان میں سے کوئی چیز بھی ازروئے قرآن ثابت نہیں ہے، لیکن اگر آپ ان کو نومولود کے کان میں اذان دینے،عقیقہ کرنے، ختنہ کرنے اور میت کو غسل دینے اور کفن پہنانے وغیرہ جیسے اعمال کی طرح "معاشرتی امور" قرار دے کر برقرار رکھتے ہیں (جیسا کہ قرآنی فیصلے ج اول ص219 پر لکھا گیا ہے، حالانکہ ان میں سے کسی چیز کا وجود بھی قرآن سے ثابت نہیں ہے) تو اسی طرح "قربانی" کو بھی ایسا "معاشرتی امر" دے کر برقرار رکھا جا سکتا ہے، جسے خود رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے امت میں جاری فرمایا تھا۔۔۔اور باوجود اس کے کہ اس عمل کا اجراء دورِ نزول قرآن میں ہوا تھا، اللہ تعالیٰ نے کہیں اس کی تردید نہیں فرمائی۔
قربانی کی مخالفت میں مسخِ قرآن کی مثال:
قربانی کے خلاف "مفکر قرآن" کا جو ذہن بن چکا تھا، اس نے قرآن کریم کے "ذبح اسماعیل علیہ السلام" کے واقعہ کو بھی بری طرح مسخ کر ڈالا ہے۔ حالانکہ یہ واقعہ﴿ لَن تَنَالُوا الْبِرَّ حَتَّىٰ تُنفِقُوا مِمَّا تُحِبُّونَ ... ٩٢﴾...آل عمران کی بہترین تصویر پیش کرتا ہے۔ اس واقعہ کا جس طرح حلیہ بگاڑا گیا ہے، اسے ہم پرویز صاحب ہی کے الفاظ میں پیش کر رہے ہیں۔ تاہم نیچے حاشیہ میں جو کچھ ہم نے رقم کیا ہے اسے بھی ساتھ ساتھ ملاحظہ فرماتے جائیے:
"حضرت ابراہیم کے ہاں کبر سنی میں ایک لڑکا (حضرت اسماعیل) پیدا ہوا۔﴿ فَلَمَّا بَلَغَ مَعَهُ السَّعْيَ ... ١٠٢﴾... الصافات جب وہ لڑکا باپ کے ساتھ کام کاج (بھاگنے دوڑنے) کے قابل ہوا تو آپ نے اپنے ایک خواب کی رو سے[4] سمجھا کہ خدا نے حکم دیا کہ اس بیٹے کو (اللہ کی راہ میں) قربان کر دیا جائے۔ آپ نے بیٹے سے کہا کہ ﴿ يَا بُنَيَّ إِنِّي أَرَىٰ فِي الْمَنَامِ أَنِّي أَذْبَحُكَ فَانظُرْ مَاذَا تَرَىٰ... ١٠٢﴾...الصافات  "اے میرے بیٹے میں نے خواب میں دیکھا ہے کہ میں تجھے ذبح کر رہا ہوں، کہو تمہارا کیا خیال ہے۔" بچے نے جواب میں عرض کیا ﴿يَا أَبَتِ افْعَلْ مَا تُؤْمَرُ ۖ سَتَجِدُنِي إِن شَاءَ اللَّـهُ مِنَ الصَّابِرِينَ ﴿١٠٢﴾... الصافات ابا جان! جس بات کا اشارہ [5]آپ کو ملا ہے آپ (اسے اگر حکم خداوندی سمجھتے [6]ہیں تو) بلاتامل کر گزرئیے، ان شاءاللہ آپ مجھے ثابت قدم پائیں گے۔" باپ نے بیٹے کو زمین پر لٹا دیا۔ چھری ہاتھ میں لی۔ فَلَمَّا أَسْلَمَا وَتَلَّهُ لِلْجَبِينِ ﴿١٠٣﴾...الصافات  تو "نَادَيْنَاهُ"ہم نے اسے آواز دی اور کہا " يَا إِبْرَاهِيمُ" اے ابراہیم ﴿قَدْ صَدَّقْتَ الرُّؤْيَا ۚ إِنَّا كَذَٰلِكَ نَجْزِي الْمُحْسِنِينَ ﴿١٠٥﴾ إِنَّ هَـٰذَا لَهُوَ الْبَلَاءُ الْمُبِينُ ﴿١٠٦﴾...الصافات   تو نے اپنے بیٹے کو سچ مچ ذبح کرنے کے لیے لٹا[7] دیا (یہ ہمارا حکم نہیں تھا یونہی تمہارا خیال[8] تھا اس لیے ہم نے تمہیں اور تمہارے بیٹے کو اس نقصان سے بچا لیا) اس لیے کہ جو لوگ ہمارے قوانین کے مطابق حسن کا راز انداز [9]سے زندگی بسر کرتے ہیں ہم انہیں اس قسم کے نقصانات سے بچا لیا کرتے ہیں۔"[10]


[1] یہ عامۃ المسلمین کا اجتماع ہے یا ان کے نمائندگان کا؟ ۔۔۔ اس پر بحث پھر کسی موقع پر ہو گی۔ ان شاءاللہ
[2] ترجمہ از غلام احمد پرویز۔ معارف القرآن ج1 ص16
[3] الحج: 36
[4] "۔۔آپ نے خواب کی رو سے سمجھا" ۔۔گویا یہ کوئی قطعی حکم نہیں تھا، جس کو آپ علیہ السلام نے خواب کے ذریعہ جان لیا بلکہ آپ علیہ السلام نے ایسا از خود سمجھ لیا۔ العیاذباللہ
[5] 'اشارہ"۔۔نہ کہ قطعی حکم۔۔  "إنا لله و إنا إليه راجعون"
[6] "۔۔آپ اسے حکم خداوندی سمجھتے ہیں تو۔۔" گویا خدا خود کہہ رہا ہے کہ یہ میرا حکم نہ تھا اگر آپ ایسا سمجھتے ہیں تو ۔۔کیا بدترین تھریف ہے۔۔خوب سمجھ لیجئے کہ " يَا أَبَتِ افْعَلْ مَا تُؤْمَرُ" کا قطعی مفہوم یہ ہے کہ۔۔۔"ابا جان جس چیز کا آپ کو حکم دیا جا رہا ہے اسے کر گزرئیے۔"
[7] یہ گویا اللہ تعالیٰ کا تبصرہ ہے جو وہ اپنے "سادہ لوح" نبی پر فرما رہا ہے، جب وہ بیچارہ اپنی عقل کے اس امتحان میں فیل ہو گیا جس میں بذریعہ خواب اسے آزمایا گیا تھا۔
[8] معلوم پرویز صاحب کو کس آسمان سے یہ وحی آئی کہ یہ حکم خدا نہ تھا محض ایک خواب تھا﴿  لَّقَدْ جِئْتُمْ شَيْئًا إِدًّا ﴿٨٩﴾...مريم
[9] یہ عجیب حسن کارانہ انداز ہے کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام، جو حکم خدا نہ تھا اسے حکم خدا سمجھ بیٹھے اور بیٹے کی جان کے درپے ہو گئے۔ اور اللہ تعالیٰ ان کی اس "حسن کاری" پر انہیں داد دے رہے ہیں؟
[10] اس اقتباس کو پھر پڑھئے اور سوچئے کہ یہ کلام اللہ کی "تفسیر و تشریح" ہو رہی ہے یا "مرمت و ترمیم"؟
احکام ترے حق ہیں مگر اپنے مفسر
تاویل سے قرآں کو بنا سکتے ہیں پاژند            (اقبال)