ڈاونلوڈ

آن لائن مطالعہ

آن لائن مطالعہ
  • اکتوبر
1987
حسن مدنی
4۔ اب ہم چوتھے نکتے کی طرف آتے ہیں کہ پارلیمنٹ میں مختلف فقہی نمائندوں کی حیثیت، یا ماہرینِ قانون و شریعت کی کونسل کے اختیارات کیا ہونے چاہئیں؟ اس سلسلہ میں یہ بنیادی بات اگرچہ فیصلہ طلب ہے کہ قانون ساز پارلیمنٹ کی اسلامی حکومت میں کیا حیثیت ہے؟ لیکن چونکہ ہم یہ پہلے واضح کر چکے ہیں کہ اسلامی حکومت کا دستور قرآن کریم ہوتا ہے، جس کی واحد ابدی تعبیر سنت رسول صلی اللہ علیہ وسلم بھی محفوظ و مصئون موجود ہے۔ لہذا اب پارلیمنٹ کے بارے میں قانون سزی کی جو بھی بحث ہو گی، وہ قواعد و ضوابط (ByeLaws)یا انسدادی اور تعزیری احکام وغیرہ تک محدود ہو گی چنانچہ فی الوقت ہم اس بحث سے قطع نظر، کہ پارلیمنٹ کو خلیفہ کے قائم مقام ٹھہرایا جا سکتا ہے یا نہیں؟ علی سبیل التنزل پارلیمنٹ کو خلافت اور شوریٰ ہی کی حیثیت دے کر گفتگو کرتے ہیں۔
اسلامی سیاست کا یہ امتیازی پہلو ہے کہ یہاں بنیادی دستور، اور اس کی تعبیر کا بھی مسئلہ چودہ صدیاں قبل ہی طے پا چکا ہے جس کے بارے میں حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے "خاتم النبیین" ہونے، اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد تا قیامت کسی بھی نبی یا رسول کی گنجائش موجود نہ ہونے کی بناء پر نہ صرف اس دستور اور اس کی تعبیر کی تنسیخ کا سوال ختم ہو چکا ہے، بلکہ ﴿الْيَوْمَ أَكْمَلْتُ لَكُمْ دِينَكُمْ وَأَتْمَمْتُ عَلَيْكُمْ نِعْمَتِي وَرَضِيتُ لَكُمُ الْإِسْلَامَ دِينًا ... ٣﴾ ... المائدة  قرآنی کے تحت اس میں ترمیم و اضافہ کا جواز بھی خارج از امکان ہے۔ یہی وجہ ہے کہ تا قیامت قائم ہونے والی ہر اسلامی حکومت کا کتاب و سنت خود بخود دستور بن جاتا ہے
  • اکتوبر
1987
اکرام اللہ ساجد
روزنامہ "جنگ"۔۔۔لاہور نے اپنی 18 ستمبر 1987ء کی اشاعت میں ایک خبر شائع کی ہے۔ جس کا جلی عنوان یوں ہے:
"قرآن پاک کی غلط تفسیر پر سزا دی جائے گی۔۔۔ریکارڈنگ میں غلط تلفظ بھی جرم ہو گا۔ قومی اسمبلی نے متفقہ طور پر ترمیمی بِل کی منظوری دے دی۔"
جبکہ متن میں لکھا ہے کہ:
"آج قومی اسمبلی نے قرآن پاک کی طباعت و اشاعت کی غلطیاں ختم کے سلسلے میں ترمیمی بل کی متفقہ طور پر منظوری دی۔ مذہبی امور کے وفاقی وزیر حاجی سیف اللہ خاں، جنہوں نے یہ بل پیش کیا، نے کہا ہے کہ اس کا مقصد یہ ہے کہ قرآن پاک کی سمعی و بصری کیسٹوں کی ریکارڈنگ میں کسی قسم کی غلطی نہ ہو اور یہ بل وزیراعظم کی ہدایت پر ایوان میں پیش کیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا ہے کہ اس بارے میں 1973ء کے ایکٹ کا تعلق قرآن پاک کی غلطیوں اور طباعت سے تھا، اس لئے یہ ترمیمی بل ضروری تھا۔ بل کے تحت ان لوگوں کو سخت سزا دی جائے گی جو طباعت کی غلطیوں کے علاوہ ریکارڈنگ میں قرآن پاک کے غلط تلفظ اور اس کی (غلط) تفسیر کے ذمہ دار ہوں گے۔"
  • اکتوبر
1987
سعید مجتبیٰ سعیدی
میاں محمد صدیق مغل قادری رضوی 9/11 دہلی کالونی کراچی نمبر 6 سے لکھتے ہیں:
"محترم و مکرم حضرت مولانا مفتی صاحب مدظلہ العالی۔۔۔السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
عرض یہ ہے کہ اکثر جگہ یہ رسم ہے کہ جب کسی کی وفات ہو جاتی ہے تو ابھی میت کو اول منزل بھی نہیں کیا جاتا کہ اہل میت کو کھانا وغیرہ پکوانے کی فکر اور میت کے اعزہ و اقارب و احباب کی عورتوں کے لیے پان چھالیہ وغیرہ کی فکر ہو جاتی ہے۔ اور بعد اول منزل کے قبرستان میں ہی اعلان دعوت کر دیا جاتا ہے کہ تمام شامل حضرات ٹکڑا توڑ کر جائیں۔ اس طرح پہلے ہی دن جبکہ اہل میت رنج و الم میں مبتلا ہوتے ہیں، انہیں اس طرح یہ اہتمام کرنا پڑتا ہے جیسے خوشی کے موقع پر کیا جاتا ہے۔ پھر اسی طرح تیسرے دن پھر آٹھویں دن۔ اس طرح یہ سلسلہ چالیس دن تک چلتا رہتا ہے۔ بعد چالیس دن کے "چالیسویں" کے نام سے ایک دعوت اس طرح ہوتی ہے کہ اس میں پرتکلف کھانے، چائے، سگریٹ، پان چھالیہ کا خاص اہتمام کیا جاتا ہے۔ اس کو دیکھ کر ایسا معلوم ہوتا ہے کہ یہاں شادی کی کوئی تقریب ہے۔
محترم آپ یہ فرمائیے کہ اہل میت کی طرف سے کھانے کی دعوت کرنا کیا شرعا جائز ہے، جبکہ اہل میت اس دعوت سے ذہنی اور مالی طور پر کافی پریشان اور زیر، بار ہوتے ہیں، وہ بھی مجبورا اس رسم کو نبھانے کے لیے قرض لیتے ہیں اور بعد میں قرض اتارنے کے لیے گھر کا سامان تک فروخت کرنا پڑتا ہے اور اس طرح مفلسی مستقل طور پر ان کے ہاں اپنا ڈیرہ ڈال لیتی ہے۔ اگر ان کو منع کیا جائے تو وہ جوابا کہتے ہیں کہ تم یہ چاہتے ہو کہ برادری میں ہماری ناک کٹ جائے اور تمام عمر ہم اپنے رشتہ داروں کے طعنے سنیں۔
  • اکتوبر
1987
سعید مجتبیٰ سعیدی
موضوع کا تقاضا ہے کہ ہم وسیلہ کا بیان ایک مستقل فصل میں کریں، خواہ وہ مختصر ہی کیوں نہ ہو، تاکہ اس موضوع کے بارہ میں صحیح بات واضح ہو سکے۔
توسل کا لغوی معنیٰ: مطلوبہ چیز کا قرب، اور شوق کے ساتھ اس تک پہنچنا، توسل کہلاتا ہے۔
وسیلہ اس ذریعہ کو کہتے ہیں جس کے ذریعے قرب حاصل ہو۔۔۔دعا کرنے والا جب یہ سمجھے کہ اس سے حقوق اللہ کے بارہ میں کوتاہیاں ہو چکی ہیں، اور وہ اللہ کی ممنوعہ حدود کا مرتکب ہو چکا ہے، تو جس شخص کو اپنے سے افضل سمجھتا ہو وہ اس کی طرف رجوع کرتا ہے۔ اس کی کوشش ہوتی ہے کہ دعا زیادہ سے زیادہ فضیلت والی ہو، اور جلد قبول ہو جائے۔ چونکہ توسل بھی عبادت کے ضمن میں ہے، اس لیے اس کی دو قسمیں ہو جاتی ہیں:
1۔ اس کی ایک قسم مشروع ہے، جس کا ثبوت قرآن کریم اور سنت صحیحہ سے ملتا ہے۔
2۔ اور دوسری قسم غیر مشروع ہے، جس کا جواز قرآن کریم اور سنت صحیحہ سے نہیں ملتا، بلکہ کتاب و سنت سے اس کا شرک ہونا ظاہر و باہر ہے۔
  • اکتوبر
1987
پروفیسر محمد دین قاسمی
لفظ "ہدی" اور پرویز صاحب:
لفظ "ہدی" کے متعلق پرویز صاحب ایک مقام پر فرماتے ہیں:
"ہدی جمع ہے " هدية" جس کے معنیٰ ہیں تحفہ۔ خود قرآن میں ہے﴿ بَلْ أَنتُم بِهَدِيَّتِكُمْ تَفْرَحُونَ ﴿٣٦﴾...النمل اس لیے یہ بھی ضروری نہیں کہ ہدی صرف قربانی کے جانور ہی ہوں۔" (قرآنی فیصلے ج1 ص108)
اس چھوٹے سے اقتباس میں "مفکر قرآن" صاحب نے تین لغزشوں کا ارتکاب کیا ہے۔
1۔ ھدی جمع ہے۔
2۔ ھدیة، جس کا معنیٰ تحفہ ہوتا ہے۔ اس کی ہی جمع ہدی ہے۔
3۔ ضروری نہیں کہ ہدی صرف قربانی ہی کے جانور ہوں۔
پہلی لغزش:
پرویز صاحب کی پہلی لغزش یہ ہے کہ انہوں نے "ھدی" کو جمع قرار دیا۔ افسوس ہے کہ جو شخص اٹھتے بیٹھتے اپنے آپ کو قرآنی تحقیق میں عمر کھپا دینے والا محقق ظاہر کرتا رہا، اس نے "ھدی" کے واحد یا جمع ہونے کا فیصلہ قرآنی اساس پر نہیں کیا، بلکہ کسی کی کتاب لغت میں ایسا دیکھا اور مکھی پر مکھی مارتے ہوئے "ھدی" کو جمع قرار دے دیا، حالانکہ کتاب اللہ نے اسے جمع نہیں بلکہ واحد قرار دیا ہے۔ قرآنی آیات اس پر شاہد ہیں:
1۔  ﴿حَتَّىٰ يَبْلُغَ الْهَدْيُ مَحِلَّهُ ... ١٩٦﴾...البقرة
"یہاں تک کہ حرم میں کی جانے والی قربانی اپنے ٹھکانے پر پہنچ جائے۔"
  • اکتوبر
1987
طیب شاہین لودھی
3۔ جمہور اہل اصول کا اس امر پر اتفاق ہے کہ عمل بالحدیث تقلید کے زمرے میں نہیں آتا۔ چنانچہ صاحب "فواتح الرحموت" فرماتے ہیں:
" فالرجوع إلى النبى عليه وأله وأصحابه الصلوة والسلام أو إلى الإجماع ليس منه فإنه رجوع إلى الدليل و كذا رجوع العام إلى المفتى والقاضى إلى العدول ليس عذا الرجوع  نفسه تقليدا"[1]
"رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم یا اجماعِ امت کی طرف رجوع کرنا تقلید شمار نہیں ہوتا۔ کیونکہ یہ دلیل کی طرف رجوع ہے۔ اسی طرح ایک عامی کا مفتی کی طرف، اور قاضی کا عادل گروہ کی طرف، رجوع کرنا فی نفسہ تقلید نہیں ہے۔"
علامہ سیف الدین الآمدی رقمطراز ہیں:
"فالرجوع إلى قول النبى عليه السلام و إلى ما أجمع عليه أهل العصرين ممن المجتهدين ورجوع العام إلى قول المفتى وكذلك عمل القاضى بقول العدول لا يكون تقلیدا العدم عروہ عن الحجة الملزمة"[2]
"رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی حدیث اور اس قول کی طرف رجوع کرنا جس پر تمام اہل عصر مجتہدین کا اجماع ہو چکا ہو، عام آدمی کا مفتی کے قول کی طرف رجوع کرنا، اور اسی طرح قاضی کا عادل گواہ کی شہادت پر عمل کرنا تقلید نہیں۔ کیونکہ یہ (مذکورہ صورتیں) عمل لازم کرنے والی دلیل سے خالی نہیں۔"