حکومتِ سعودی عرب کو شریعتِ اسلامی کے نتیجہ میں امن و استحکام کی جو نعمت حاصل ہوئی ہے، اس کی مثال پوری دنیا میں ڈھونڈے سے نہیں ملتی۔ جو شخص اس مملکت کے محلِ وقوع سے واقف ہے وہ جانتا ہے کہ اس مملکت کے اجزاء بکھرے ہوئے ہیں، بلکہ ایک وقت ایسا بھی تھا جبکہ اس کے شہروں میں ربط و نظم کا سلسلہ تقریبا ناممکن تھا اور موجودہِ رسل و رسائل کے وسائل مفقود تھے ۔۔۔ علاوہ ازیں یہاں کے عربی قبائل، کہ جاہلی عصبیت اور انتقام وغیرہ کبھی جن کا طرہ امتیاز تھا، اب بھی ان عادات سے متاثر ہیں۔۔۔ ان حالات کو دیکھئے اور اس خطہ کے پر امن موحول کو دیکھئے تو معلوم ہو گا کہ اس مملکت پر اللہ رب العزت کا یہ فضل و احسان محض اس وجہ سے ہے کہ یہاں کی حکومت نے سیست و انتظام، احوالِ شخصی، مالی معاملات اور معاشرتی تعلقات وغیرہ، غرضیکہ ہر پہلو سے شریعتِ اسلامیہ سے تطبیق کی پوری کوشش کی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ یہاں جرائم کی تعداد نہ ہونے کے برابر ہے اور یہاں کا ہر باشندہ امن و سکون کی دولت سے مالا مال اور اپنی جان، مال اور عزت کو پوری طرح محفوظ سمجھتا ہے۔
کئی ایک بیمہ کمپنیاں، جو دنیا بھر میں زندگی کا بیمہ کرتی ہیں، اس مملکت میں قائم ہوئیں لیکن نہ صرف ناکام ہوئیں بلکہ دیوالیہ ہو کر رہ گئیں اور اس کا باعث یہی ہے کہ یہاں کی حکومت تابناک شریعت کے سایوں میں چل کر بلا امتیازِ غیرے ہر شہری کو پُر امن زندگی، اس کی حفاظت، فقر و افلاس کی صورت میں مالی امداد اور عوام سے ارتباط کی اُن ذمہ داریوں کے لیے اپنے تئیں مسئول سمجھتی ہے جن کو یہ بیمہ کمپنیاں مختلف شکلوں میں قیمتا قبول کرتی ہیں۔ چنانچہ سرسری نظر سے بھی اگر ان رپوٹوں کا جائزہ لیا جائے جو اس مملکت کے محکمہ امن کی طرف سے پیش ہوئی ہیں، تو یہ امر پایہ ثبوت کو پہنچتا ہے کہ سعودی عرب میں حوادثِ و جرائم کی تعداد ان ممالک کی نسبت حیرت ناک حد تک کم ہے، جہاں ایک چھوڑ کئی کئی بیمہ کمپنیاں قائم ہیں اور وہ لوگوں کی زندگی کا بیمہ کرتی اور ان کے مختلف مسائل میں ان سے ہر طرح کا تعاون کرتی ہیں۔
حکومتِ سعودی عرب نظامِ اسلام کے ان عملی نتائج پر نہ صرف فخر محسوس کرتی ہے بلکہ اس کی یہ خواہش بھی ہے کہ وہ دوسری حکومتوں کو بھی شریعتِ اسلامیہ کے نفاذ کی دعوت دے جو انسانیت کے لیے ایک ایسی مثالی زندگی مہیا کرتی ہے جس میں ہر شخص انصاف، امن اور مساوات ایسی سعادتوں سے بہرہ اندور ہو سکتا ہے۔
چنانچہ حکومت نے ایک علمی مجلس اس لیے قائم کر رکھی ہے کہ وہ دنیا بھر کے علومِ انسانی و اجتماعی کے ماہرین کے سامنے اپنے افکار کا خلاصہ پیش کرے اور ان کو اس بات کی دعوت دے کہ وہ مملکتِ سعودیہ سے متعلق مذکورہ بالا ٹھوس حقائق کا قریب سے مطالعہ کریں اور ان کوششوں کا بھی جائزہ لیں جن کی بناء پر یہ حکومت نہایت مضبوط و مستحکم بن گئی ہے۔
زیر نظر مقالہ اسی سلسلہ کی ایک کڑی ہے، جس سے نہ صرف اسلامی فکر سے متعلق معلومات مہیا ہوتی ہیں بلکہ عقوبتِ قتل پر بھی خصوصی روشنی پڑتی ہے۔۔۔ آج جبکہ پاکستان میں نفاذِ اسلام کی کوششیں ہو رہی اور اس کے مختلف پہلو زیرِ غور ہیں، یہ مقالہ یقینا ہمارے لیے ایک راہنما کی حیثیت رکھتا ہے۔ (ادارہ)
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اسلامی شریعت محض ذہنی نظریات کا نام نہیں کہ جب کوئی شخص واقعتا ان پر عمل پیرا ہونا چاہے تو وہ ایسا کر ہی نہ سکے۔ بلکہ شریعت اسلامی کے اوامر و نواہی نہایت آسانی سے، انسانی طبیعت کے ساتھ مطابقت کر جاتے ہیں۔ شریعت انسان کی جبلت کا پورا لحاظ رکھتی، اس کی تربیت کرتی اور اسے کسی نقصان کے بغیر احکامِ شرعیہ کی تعمیل کے لیے آمادہ و تیار کرتی ہے ۔۔۔ اور جو شخص بھی تشریعاتِ اسلامیہ کی اتباع کرے گا اسے معلوم ہو جائے گا کہ ان سے ایک ایسا پاکیزہ معاشرہ تشکیل پاتا ہے جس میں محبت کے رابطے استوار ہوتے ہیں، عطاء و بخشش کا دور دورہ ہوتا ہے اور فضیلت کی خوشبوئیں مہکنے لگتی ہیں۔
ہم بلا خوفِ تردید یہ کہہ سکتے ہیں کہ ایک اسلامی معاشرہ، جس کا ہر فرد اسلامی تعلیمات پر عمل پیرا ہوتا ہے، اس میں نہ کسی کے لیے کینہ و حسد کی گنجائش ہوتی ہے نہ عداوت کی۔ کیونکہ اسلامی تعلیمات خواہ وہ عبادات سے تعلق رکھتی ہوں یا معاملات و آداب، احوالِ شخصی یا امورِ مملکت اور انتظامی امور سے، ان سب کی غرض و غایت ایک بڑے مقصد کی خدمت ہے اور وہ ہے مسلمانوں کے درمیان تعلقات کی گہرائی اور باہمی صلح و آشتی کی توثیق۔
لہذا اگر یہ کہا جائے کہشریعتِ اسلامیہ ایک ایسا ماحول پیدا کر دیتی ہے کہ جس میں جرائم کے اسباب اور ان کی اثر پذیری کی گنجائش ہی نہیں رہتی تو، بے جا نہ ہو گا ۔۔۔ اور یہی وجہ ہے کہ اسلامی معاشرہ میں جب کوئی جرم وقوع پذیر ہوتا ہے تو اسے ایک اچھنبا اور اخلاقی گراوٹ تصور کیا جاتا ہے۔
مسلمان جرم کا ارتکاب کیوں کرتا ہے؟
مسلمان کا عقیدہ ٹھوس بنیاد پر قائم ہے اور وہ بنیاد ہے اللہ پر ایمان، اس کے فرشتوں، اس کی کتابوں، اس کے رسولوں اور یومِ آخرت پر ایمان۔
ایمان باللہ سے مراد یہ ہے کہ انسان کو اللہ تعالیٰ کی قدرتِ کاملہ اور کائنات میں اس کے کلی اختیار پر ایمان ہو۔گویا ایمان باللہ میں اللہ کا علم، اس کی ہر چیز پر نگاہ اور مکمل اطلاع شامل ہے۔ یعنی جو کچھ کائنات میں ہو رہا ہے، اس سے وہ پورے طور پر خبردار اور واقف ہے۔ خواہ یہ مخلوق کے اقوال و تصرفات ہوں یا دل کے خیالات، وجدان کے پوشیدہ اسرار ہوں یا عقل کی تدبیریں۔
اسی طرح یومِ آخرت پر ایمان سے مراد مرنے کے بعد جی اٹھنا ہے ۔۔۔ ایک مسلمان اسی ایمانی بنیاد پر اپنے عقیدہ کو مضبوط کرتا ہے کہ اس کے تمام اقوال و اعمال احاطہ تحریر میں لائے جا رہے ہیں اور ان کا حساب رکھا جا رہا ہے۔ چنانچہ وہ شرعی اوامر و نواہی کی نگہداشت شروع کر دیتا ہے جس کی بناء پر اس کا نفس ایک ایسا مضبوط قلعہ بن جاتا ہے کہ جس پر داخلی اور خارجی فریب اور فتنے اثر انداز نہیں ہو سکتے۔
مگر جب کسی مسلمان کے دل میں یہ اعتقاد راسخ نہ ہو تو یہی داخلی اور کارجی عوامل آہستہ آہستہ اس میں نفوذ کر جاتے ہیں، تا آنکہ وہ خطار کار بن جاتا اور جرائم کا ارتکاب کرنے لگتا ہے۔
شریعت روح کی تربیت کرتی اور نفس کو اعتدال پر قائم رکھتی ہے
گویا کسی مسلمان سے جرم کا وقوع اس کے اعتقاد کی ناپختگی اور اس کے ایمان کی کمزوری کی دلیل ہے جبکہ شریعت اسی کمزوری ایمان کو دور کرتی اور اسلامی معاشرہ کی تشکیل سے پیشتر فرد کی مثالی تربیت کرتی ہے جس سے ارتکاب جرم کے سوتے خشک ہو کر رہ جاتے ہیں ۔۔۔ چنانچہ ایسے ہی افراد سے جب ایک معاشرہ تشکیل پاتا ہے تو وہ ایک ایسا مثالی معاشرہ ہوتا ہے کہ جس میں جرائم پنپ ہی نہیں سکتے۔
لیکن اس کے باوجود بھی اگر اسلامی معاشرہ میں کسی جرم کا ارتکاب ہوتا ہے تو شریعت ایسی تدابیر اختیار کرتی ہے کہ جس سے نہ صرف معاشرہ اس کے برے اثرات سے محفوظ رہے بلکہ خود مجرم کی بھی اصلاح ہو جائے ۔۔۔ انسان طبعی طور پر کسی کے جرم کا ذکر کرنے پر حریص واقع ہوا ہے لہذا شریعت نے وقوعِ جرم کے بعد اس کے تذکرے سے سختی کے ساتھ روک دیا ہے۔ حتی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس شخص پر لعنت کرنے سے بھی منع فرما دیا جس نے اپنے جرم کا خود اعتراف کیا تھا، اور جب اس شخص نے اپنا بیان نہ بدلا، جس کے نتیجے میں اس پر حد قائم ہوئی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
"اس شخص نے سچی توبی کی اور اللہ کی راہ میں اپنی جان نثار کی"
آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے اس ارشادِ گرامی سے یہ بخوبی واضح ہو جاتا ہے کہ اگر مملکت میں شرعی احکام نافذ ہوں اور معاشرہ بھی ان احکامات کا لحاظ رکھے تو کسی مجرم کے لیے سزا سچی توبہ اور حقیقی استقامت کا ذریعہ بن جاتی ہے۔ جس سے نہ صرف مجرم کی اصلاح ہوتی ہے بلکہ مجرم عقوبت کے بعد آخرت میں بھی اس جرم کی پاداش سے محفوظ و مصئون ہو جاتا ہے ۔۔۔ پس اسلامی شریعت میں سزا کی حکمت یہ ہے کہ شریعت نے سزا مجرم کو محض دکھ پہنچانے کے لیے تجویز نہیں کی بلکہ تادیب و تعذیب کے لیے تجویز کی ہے ۔۔۔ اور یہ تادیب و تعذیب بھی صرف مجرم کے لیے نہیں بلکہ پورے اسلامی معاشرہ کی حمایت کے لیے ہے تاکہ وہ اخلاقِ رذیلہ میں گرنے کی بجائے اعلیٰ اخلاق، امن و سلامتی، باہمی تعلقات کے احترام، اخوت اور محبت کی طرف پرواز کرے۔
ان تمہیدی گزارشات کے بعد ہم قتل اور اس کی سزا (قصاص، دیت اور کفارہ) پر براہِ راست گفتگو کریں گے۔
قصاص
تعریف: بغیر حق کے کسی کی جان لینے والے کی جان لینے کو قصاص کہا جاتا ہے۔
عقوبت: شریعت میں عقوبت کا مقصد وہ بدلہ یا سزا ہے جو کسی جرم کے مرتکب کو دی جاتی ہے۔
جرم: شریعت میں جرم ایسے کام کو کہا جاتا ہے جس کے ارتکاب سے منع کیا گیا ہو یا اس کو ترک کرنے کا حکم دیا گیا ہو۔
جرمِ قتل: قتل کا جرم تمام جرائم سے زیادہ خطرناک ہے جس کا ارتکاب ایک انسان اپنے خدا کی اور اپنے انسان بھائی کی مخالفت میں پڑ کر ہی کر سکتا ہے۔۔۔ شرعی احکام، جرمِ قتل کو نہایت برا قرار دیتے ہیں اور شریعت میں اس کے متعلق قطعی اور واضح احکام موجود ہیں۔
جرمِ قتل کی برائی سے متعلق نصوصِ شرعیہ:
اس خطہ ارض پر پہلا واقعہ قتل جو ظہور پذیر ہوا وہ ابوالبشر حضرت آدم علیہ السلام کے ایک بیٹے نے اپنے بھائی کی مخالفت میں کیا تھا جسے قرآنِ مجید نے اپنے بلیغ انداز میں یوں بیان فرمایا:
﴿وَاتْلُ عَلَيْهِمْ نَبَأَ ابْنَيْ آدَمَ بِالْحَقِّ إِذْ قَرَّبَا قُرْبَانًا فَتُقُبِّلَ مِنْ أَحَدِهِمَا وَلَمْ يُتَقَبَّلْ مِنَ الْآخَرِ قَالَ لَأَقْتُلَنَّكَ ۖ قَالَ إِنَّمَا يَتَقَبَّلُ اللَّـهُ مِنَ الْمُتَّقِينَ ﴿٢٧﴾ لَئِن بَسَطتَ إِلَيَّ يَدَكَ لِتَقْتُلَنِي مَا أَنَا بِبَاسِطٍ يَدِيَ إِلَيْكَ لِأَقْتُلَكَ ۖ إِنِّي أَخَافُ اللَّـهَ رَبَّ الْعَالَمِينَ ﴿٢٨﴾ إِنِّي أُرِيدُ أَن تَبُوءَ بِإِثْمِي وَإِثْمِكَ فَتَكُونَ مِنْ أَصْحَابِ النَّارِ ۚ وَذَٰلِكَ جَزَاءُ الظَّالِمِينَ ﴿٢٩﴾ فَطَوَّعَتْ لَهُ نَفْسُهُ قَتْلَ أَخِيهِ فَقَتَلَهُ فَأَصْبَحَ مِنَ الْخَاسِرِينَ ﴿٣٠﴾ فَبَعَثَ اللَّـهُ غُرَابًا يَبْحَثُ فِي الْأَرْضِ لِيُرِيَهُ كَيْفَ يُوَارِي سَوْءَةَ أَخِيهِ ۚ قَالَ يَا وَيْلَتَىٰ أَعَجَزْتُ أَنْ أَكُونَ مِثْلَ هَـٰذَا الْغُرَابِ فَأُوَارِيَ سَوْءَةَ أَخِي ۖ فَأَصْبَحَ مِنَ النَّادِمِينَ ﴿٣١﴾مِنْ أَجْلِ ذَٰلِكَ كَتَبْنَا عَلَىٰ بَنِي إِسْرَائِيلَ أَنَّهُ مَن قَتَلَ نَفْسًا بِغَيْرِ نَفْسٍ أَوْ فَسَادٍ فِي الْأَرْضِ فَكَأَنَّمَا قَتَلَ النَّاسَ جَمِيعًا وَمَنْ أَحْيَاهَا فَكَأَنَّمَا أَحْيَا النَّاسَ جَمِيعًا... ٣٢﴾...المائدة "اور (اے نبی صلی اللہ علیہ وسلم!) آپ ان لوگوں کو آدم علیہ السلام کے دو بیٹوں کا حال سنائیے جبکہ انہوں نے قربانی پیش کی تو ان میں سے ایک کی قربانی تو قبول ہو گئی اور دوسرے کی نامقبول۔۔۔ تو اس نے کہا، " میں تجھے مار ڈالوں گا۔" وہ بولا کہ "اللہ تعالیٰ تو صرف پرہیز گاروں سے ہی قبول فرماتا ہے۔ اگر تو مجھ کو مار ڈالنے کے لیے ہاتھ چلائے گا تو (بھی) میں تجھے مار ڈالنے کے لیے ہاتھ نہیں بڑھاؤں گا۔۔۔ میں تو اللہ تعالیٰ سے ڈرتا ہوں جو سب جہانوں کا پروردگار ہے، میں چاہتا ہوں کہ میرا اور اپنا گناہ تو ہی حاصل کرے اور اہلِ دوزخ سے ہو جائے کہ ظالم لوگوں کی یہی سزا ہے۔"
پھر اس نے اپنے تئیں اپنے بھائی کے قتل پر آمادہ کر لیا، پھر اسے مار ڈالا اور نقصان اٹھانے والوں میں سے ہو گیا۔ پھر اللہ تعالیٰ نے ایک کوا بھیجا، جو زمین کو کرید رہا تھا تاکہ اسے دکھلائے کہ کس طرح اپنے بھائی کی لاش کو چھپا سکتا ہے کہنے لگا، "افسوس میں اس کوے سے بھی گیا گزرا ہوں کہ اپنے بھائی کی لاش کو چھپا سکوں" اب وہ پچھتانے لگا ۔۔۔اسی بناء پر ہم نے بنی اسرائیل پر یہ بات لکھ دی کہ جو شخص کسی دوسرے کو بلا عوض جان کے یا ملک میں فساد کے بغیر قتل کرے گا تو گویا اس نے سب لوگوں کو قتل کر دیا ۔۔۔ اور جس نے ایک جان کو زندہ رکھا (یعنی اس کی زندگی بچائی) تو گویا اس نے سب لوگوں کو زندہ رکھا"
پہلے انسان کے ہاں اس جرم کے اسباب، ردِ عمل اور تاثرات:
بات حسد سے شروع ہوئی اور سرکشی تک جا پہنچی جس میں اللہ تعالیٰ کی نافرمانی، والدین کی نافرمانی، قطع رحمی کی گئی اور ناجائز خون بہایا گیا۔ یہ انسانی تاریخ میں پہلا انسانی خون تھا جو سطح ارضی پر بہایا گیا۔ لیکن یہ آخری نہ ثابت ہو سکا، پھر اس کے بعد خون پر خون بہائے جاتے رہے جو احکامِ شریعت سے اعراض کا نتیجہ ہیں۔
مندرجہ بالا آیاتِ قرآنی کسی تشریح و تفسیر کی محتاج نہیں کیونکہ یہ عبارت و معانی کے لحاظ سے بالکل واضح ہیں، ہاں ہم یہ کر سکتے ہیں کہ اس بناء پر ہم قتل کے اسباب اور قتل کے بعد نفسِ انسانی پر اس کے جو اثرات مرتب ہوتے ہیں، ان کا کھوج لگایا جائے۔
اس جرم کا اصل محرک طمع اور حسد تھا کہ اللہ تعالیٰ نے ہابیل (مقتول) کی قربانی کو کیوں قبول فرما لیا اور قابیل (قاتل) کی قربانی کیوں نامقبول ہوئی؟ پھر یہ حسد کینہ کی شکل اختیار کر گیا حتی کہ وہ انسان دشمنی پر آمادہ ہو کر جرمِ قتل کا مرتکب ہوا۔ لیکن اس کے نتیجہ میں اسے ندامت ہوئی، جو اس کی پریشانی میں مزید اضافہ کا سبب بن گئی۔ جب وہ اپنے سامنے بھائی کی لاش دیکھتا تو اس جرم کا احساس شدید ہو جاتا اور خسارے کی گرانباری پھر سے تازہ ہو جاتی، تا آنکہ اللہ تعالیٰ نے ایک کوا بھیجا جو اس کا استاد بنا کہ اپنے جرم اور اپنے بھائی کی لاش کو کیسے چھپائے۔
قرآنِ کریم کی زبان میں مجرم کے یہ الفاظ کہ "کیا میں اس کوے سے بھی گیا گزرا ہوں کہ اپنے بھائی کی لاش کو بھی نہ چھپا سکا، اس عبرت اور تاثرات کی نشاندہی کرتے ہیں جو ایک قاتل کے نفس میں جرمِ قتل کے بعد پیدا ہوتے ہیں۔
بلاشکہ قرآن مجید فصاحت کی بلند چوٹی اور بلاغت کی آخری حد ہے ۔۔۔ قاتل کے ضمیر کی یہ چھبن، جو اس میں اکثر و بیشتر پیدا ہوتی رہتی ہے، زندگی بھر اس کا پیچھا نہیں چھوڑتی۔
بنی نوع انسان کے دو نمونے:
پھر یہ بھی دیکھئے کہ ان آیات میں بنی نوع انسان کے دو واضح نمونے پیش کیے گئے ہیں:
1۔ ایک نمونہ تو اس انسان کا ہے جس کا اپنے رب سے تعلق ختم ہوا، جو خوف یا امید کسی بھی بناء پر دوبارہ جڑ نہ سکا، اس کا عجز اور مایوسی آشکارا ہو گئی اور وہ طماع، باغی، حاسد اور کینہ پرور ایسا انسان بن گیا جس نے اپنے ضمیر کو کچلا، شریعت کے مقام سے گرا، سچی شریعت کو چھوڑ کر گمراہی کے طریقے پر عمل پیرا ہوا ۔۔۔ اب کوئی قاعدہ یا اصول اس کو روک نہیں سکتا، نہ کوئی مثال اسے مضبوط بنا سکتی ہے اور نہ ہی اخلاق اسے مقید کر سکتا ہے کیونکہ نہ تو وہ خالق سے ڈرا اور نہ ہی بعد میں پیدا ہونے والے نتائج کو سامنے رکھ کر مخلوق سے ڈرا۔
2۔ اور دوسرا نمونہ اس انسان کا ہے جو اپنے خالق سے جا ملا اور اس سے تعلق کو قائم رکھا تاکہ اس کی رضا مندی برقرار رکھے اور ہدایت پر قائم رہے ۔۔۔ وہ اس شریعت سے ہدایت حاصل کرتا ہے جو اس کی بصیرت کو روشن کرتی، عقل کو جلا دیتی اور اس کے ضمیر و ایمان کو معنوی طور پر آباد کرتی ہے ۔۔۔ اور یہی وہ نمونہ ہے جو اسلام نے پیش کیا ہے ۔۔۔ اور آج یہ بات پایہ ثبوت کو پہنچ چکی ہے کہ اگر اسلامی معاشرہ شریعت کے احکامات پر عمل پیرا ہو تو اس میں بسنے والا فرد اولا تو ارتکاب جرم ہی نہیں کرتا اور اگر جرم کا مرتکب ہو بھی جائے تو کسی صورت میں بھی سزا سے بچ نہیں سکتا۔
ان آیات سے ہمیں یہ سبق بھی حاصل ہوتا ہے کہ کوئی بھی انسان عقل کی کمی، پیدائشہ نقص، یا نفس کی کمتری کی بناء پر کسی دوسرے سے حسد نہ کرے کیونکہ اس فرق کے باوجود ہر انسان شرفِ انسانیت ، بلندی نفس، ضمیر کی پاکیزگی، زبان کی شستگی، دل کی سلامتی اور بصیرت کے نور کا ایک نمونہ ہے اور شریعتِ اسلامی ہر مرد، عورت، بوڑھے اور نوجوان سب سے یکساں برتاؤ کرتی ہے ۔۔۔رہی بات اللہ تعالیٰ کے ہاں عزت و فضیلت کی تو اس کا علاج حسد نہیں بلکہ امورِ خیر میں سبقت ہے، جس کے دروازے کسی پر بھی بند نہیں ہیں، الا یہ کہ وہ خود انہیں اپنے لیے بند کر لے ۔۔۔ جبکہ حسد ایک ایسی بیماری ہے جو قتل ایسے شنیع جرم کے ارتکاب پر بھی منتج ہو سکتی ہے۔ (جاری ہے)