رحمتِ عالم صلی اللہ علیہ وسلم نے مکہ سے ہجرت فرما کر سر زمینِ مدینہ کو اپنے قدوم میمنت لزوم سے رشکِ جناں بنایا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کچھ عرصہ بعد مسجدِ نبوی کی تعمیر کا اہتمام فرمایا۔ جب مسجد تعمیر ہو چکی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ضرورت محسوس فرمائی کہ نماز باجماعت ادا کرنے کے لیے عام مسلمانوں کو نماز کے وقت سے کچھ دیر پہلے اطلاع دینی چاہئے۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ کرام رضی اللہ عنھم سے مشورہ فرمایا کہ اس مقصد کے لیے کون سا طریقہ اختیار کرنا مناسب ہو گا؟ کسی نے عرض کیا کہ کسی بلند جگہ پر آگ روشن کر دی جایا کرے۔ کسی نے رائے دی کہ نماز کے وقت قریب مسجد پر جھنڈا بلند کر دیا جائے۔ کسی نے مشورہ دیا کہ جس طرح یہود و نصاری اپنی عبادت گاہوں میں نرسنگھا یا ناقوس بجاتے ہیں ہم بھی نماز کے اعلان کے لیے اسی طرح کیا کریں، لیکن حضور صلی اللہ علیہ وسلم ان میں سے کسی تجویز پر بھی مطمئن نہ ہوئے اور اس مسئلہ میں متفکر رہے تاہم وقتی طور پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ناقوس بجانے والی تجویز کو منظور فرما لیا۔ ابھی اس تجویز پر عمل نہیں ہوا تھا کہ دوسرے دن علی الصباح ایک انصاری صاحبِ رسول بارگاہِ رسالت میں حاضر ہوئے اور یوں عرض پیرا ہوئے:
"یا رسول اللہ، رات خواب میں میرے سامنے ایک شخص آیا جس کے ہاتھ میں ناقوس تھا، میں نے اس سے کہا " اے اللہ کے بندے! یہ ناقوس تم بیچتے ہو؟ اس نے کہا "تم اس کو کیا کرو گے؟ میں نے کہا "ہم اس کو بجا کر لوگوں کو نماز کے لئے بلائیں گے۔" اس نے کہا، "کیا میں تم کو ایک چیز نہ بتا دوں جو اس مقصد کے لیے ناقوس بجانے سے بہتر ہے"؟ میں نے کہا، "ہاں ضرور بتاؤ"
اس نے کہا "کہو: ۔۔۔۔۔۔۔۔ " ألله أكبر  ألله أكبر  ألله كبر ألله أكبر . أشهد أن لا إله إلا الله . أشهد  أن الا إله إلا الله .أشهد أن محمد رسول الله . أشهد أن محمد رسول الله.حى على الصلوة حى على الصلوة.حى على الفلاح حى على الفلاح. ألله أكبر ألله أكبر. لا إله إلا الله-"
یہ تمام کلمات بتا کر وہ شخص مجھ سے ذرا پیچھے ہٹ گیا اور تھوڑی دیر بعد اس نے کہا، "پھر جب نماز قائم کرو تو اقامت اس طرح کہو:
" ألله أكبر  ألله. أشهد  أن الا إله إلا الله . أشهد أن محمد رسول الله. حى على الصلوة.حى على الفلاح ألله أكبر ألله أكبر. لا إله إلا الله-"
سرورِ عالم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ خواب سن کر فرمایا "یہ سچا خواب ہے ان شاءاللہ، تم بلال رضی اللہ عنہ کے ساتھ کھڑے ہو کر ان کلمات کی تلقین کرو جو تم نے خواب میں دیکھے ہیں اور وہ اذان پکاریں کیونکہ ان کی آواز تم سے بلند ہے" انہوں نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم کی تعمیل کی اور اسی دن سے یہ اذان قیامت تک کے لیے اسلام کا شعار قرار پا گئی ۔۔۔ یہ صاحبِ رسول صلی اللہ علیہ وسلم جن کو یہ عظیم شرف حاصل ہوا کہ سید المرسلین فخرِ موجودات صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے خواب کو رویاء حق قرار دے کر ابد تک اس پر عمل درآمد کا حکم دیا، حضرت عبداللہ بن زید انصاری رضی اللہ عنہ تھے جو اپنے اس شرف کی بناء پر "صاحبُ الاذان" کے لقب سے مشہور ہوئے۔
(2)
حضرت ابو محمد عبداللہ بن زید رضی اللہ عنہ کا تعلق خزرج کے خاندان حارث بن خزرج سے تھا، سلسلہ نسب یہ ہے: عبداللہ بن زید بن ثعلبہ بن عبدِ ربہ بن ثعلبہ بن زید بن حارث بن خزرج۔ رضی اللہ عنہ
حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہ نہایت نیک طنیت اور پاک باطن تھے۔ ہجرتِ نبوی سے پہلے ان کے کانوں میں دعوتِ حق کی آواز پڑی تو انہوں نے اس کو بلا تامل دل و جان سے قبول کر لیا اور سئہ 13 بعدِ بعثت کے موسمِ حج میں مکہ جا کر لیلۃ العقبہ میں حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی بیعت سے مشرف ہوئے۔
رحمتِ عالم صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ منورہ تشریف لائے تو مسجدِ نبوی کی تعمیر کے بعد حضرت عبداللہ کو "صاحب الاذان" ہونے کا عظیم شرف حاصل ہوا۔ سنن ابی داؤد اور مسند دارمی میں یہ خود ان کی زبانی منقول ہے۔ اس میں یہ اضافہ بھی ہے کہ : "(جب بلال رضی اللہ عنہ ان کی تلقین کے مطابق اذان دے چکے تو) عمر بن الخطاب رضی اللہ عنہ اپنے گھر سے چادر گھسیٹتے ہوئے نکلے انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں عرض کی، یا رسول اللہ اس پاک ذات کی قسم جس نے آپ کو حق کے ساتھ مبعوث فرمایا، میں نے بھی ویسا ہی خواب دیکھا ہے جیسا عبداللہ بن زید رضی اللہ عنہ نے دیکھا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا  :" فلله الحمد"
حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہ سرورِ عالم صلی اللہ علیہ وسلم کے نہایت مخلص جاں نثار تھے اور راہِ حق میں اپنی جان اور مال قربان کرنے کا جذبہ ہر وقت ان کے سینے میں موجزن رہتا تھا۔ غزوات کا آغاز ہوا تو وہ بدر، احد، احزاب اور دوسرے تمام غزوات میں رحمتِ عالم صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمرکاب رہے اور ہر معرکے میں جذبہ جاں نثاری کا مظاہرہ کیا۔ حافظ ابنِ عبدالبر رحمۃ اللہ علیہ نے "الاستیعاب" میں لکھا ہے کہ فتح مکہ کے موقع پر حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے قبیلہ حارث بن خزرج کا علم حضرت عبداللہ بن زید رضی اللہ عنہ کو مرحمت فرمایا تھا۔
حجۃ الوداع کے موقع پر حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہ کو ایک اور مہتم بالشان شرف حاصل ہوا۔ مسندِ احمد حنبل میں ہے کہ حجہ الوداع میں سرورِ عالم صلی اللہ علیہ وسلم نے بہت سی بکریاں لوگوں میں تقسیم فرمائیں، حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہ بھی حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر تھے لیکن آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں کوئی بکری نہ دی اس کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے موئے مبارک ترشوائے تو ان میں سے کچھ حضرت عبداللہ بن زید رضی اللہ عنہ کو عطا فرمائے۔ مہندی سے رنگے ہوئے یہ موئے مبارک حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہ کے لیے ایک ایسی نعمت تھے کہ دنیا جہان کے خزانے اس کے سامنے ہیچ تھے۔ خود انہوں نے زندگی بھر ان موئے مبارک کو اپنے سینے سے لگائے رکھا اور ان کے بعد ان کے خاندان نے اس دولتِ لازوالی کو اپنے پاس تبرکا محفوظ رکھا۔
حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہ کو اللہ تعالیٰ نے ایثار و استغناء کی دولت سے بھی مالامال کیا تھا، ابنِ اثیر نے "اسدُ الغابہ" میں بیان کیا ہے کہ حضرت عبداللہ بن زید رضی اللہ عنہ کے پاس معمولی جائیداد تھی جس سے بمشکل اپنا اور اپنے اہل و عیال کا پیٹ پالتے تھے لیکن جب انہیں انفاق فی سبیل اللہ کے اجر وثواب کا علم ہوا تو اپنی ساری کی ساری جائیداد راہِ حق میں صدقہ کر دی۔ ان کے والد حضرت زید بن ثعلبہ رضی اللہ عنہ بھی صحابی تھے، انہوں نے بارگاہ رسالت میں حاضر ہو کر یہ واقعہ عرض کیا تو حضور رضی اللہ عنہ نے  حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہ کو بلا بھیجا، وہ حاضر ہوئے تو فرمایا: " اللہ تعالیٰ نے تمہارا صدقہ قبول کیا لیکن اب باپ کی میراث کے نام پر تم کو واپس دیتا ہے۔ اس کو قبول کر لو"
حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہ نے سئہ 32 ھ میں بعہدِ حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ وفات پائی، اس وقت عمر کی چونسٹھ منزلیں طے کی تھیں۔ امیر المومنین حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے بہ نفسِ نفیس نماز جنازہ پڑھائی اور فضل و کمال کے اس مہرِ جہانتاب کو آغوشِ لحد میں اتارا۔
حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہ نے اپنے پیچھے دو اولادیں چھوڑیں، ایک صاجزادہ اور ایک صاجزادی۔
امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام ترمذی رحمۃ اللہ علیہ کے نزدیک حضرت عبداللہ بن زید رضی اللہ عنہ سے صرف ایک حدیث میں مروی ہے جو اذان کے بارے میں ہے لیکن حافظ ابن حجر رحمۃ اللہ علیہ نے تہذیب التہذیب میں ان سے مروی سات حدیثین درج کی ہیں۔ رضی اللہ تعالیٰ عنہ