ڈاونلوڈ

آن لائن مطالعہ

آن لائن مطالعہ
  • جنوری
1982
اکرام اللہ ساجد
ربِ ذوالجلال والاکرام کے لیے یہ کچھ مشکل نہ تھا کہ چھٹی صدی عیسوی کے وہ لوگ جو دینِ حنیف کو چھوڑ کر شرک کی بھول بھلیوں میں گم ہو چکے اور معبودِ حقیقی سے منہ موڑ کر سینکڑوں خود ساختہ خداؤں کے سامنے اپنی پیشانیاں رگڑ رہے تھے، اچانک ایک ایسی زور دار آواز سے ۔۔۔ کہ جس کو وقت کا ہر ذی شعور سن اور سمجھ سکتا ۔۔۔ چونک اٹھتے کہ: "لوگو، فلاں مقام پر ایک کتاب موجود ہے، جاؤ اسے تلاش کر کے اس پر عمل کرو اور اس میں اپنی دنیاوی اور اخروی فلاح کے سامان تلاش کرو کہ یہ کتاب کتابِ ہدایت ہے ۔۔۔ اور اس کے کتابِ الہی ہونے میں کچھ بھی شک نہیں" ۔۔۔ مگر ایسا نہیں ہوا۔
پھر یہ بھی نہیں ہوا کہ ایک خاص وقت میں ایک کتاب آسمانوں سے اس طرح اترتی کہ اس کے نزول کی کیفیت کو وقت کا ہر انسان اپنی آنکھوں سے دیکھ سکتا ۔۔۔ اور اس بناء پر لوگوں کو اس کے "منزل من اللہ" ہونے کا یقین ہو جاتا تاکہ وہ اپنی زندگیاں اس کی ہدایات کے تحت بسر کر سکیں ۔۔۔ یہ، اور ایسی کسی بھی صورت کو واقعات اور عقل تسلیم کے لیے تیار نہیں ہیں!
  • جنوری
1982
عبدالرشید عراقی
اس دور میں جو سورتیں نازل ہوئین ان کی تفصیل آپ پڑح چکے ہیں۔ ان میں سے بعض اہم سورتوں کے احکامات کی تفصیل درج ذیل ہے:
احکام سورۃ النور:
سورہ نور میں صریح اور غیر مبہم الفاظ میں جو احکامات ہیں، یہ ہیں:
1۔ حدِ زنا سو کوڑے مارنا 2۔ زانی اور زانیہ مشرک اور مشرکہ کے نکاح کا حکم 3۔ قذف اور حدِ قذف 4۔ لعان کا حکم 5۔ بلا تحقیق بات کہنے کا حکم 6۔ محصنہ عورتوں کو تہمت لگانا 8۔ احکاماتِ پردہ 9۔ احکاماتِ شرم و حیا 10۔ محرموں کا تذکرہ 11۔ زنا اور اجرتِ زنا 12۔ غلام اور باندیوں کا نکاح 13۔ مکاتب بنانے کا حکم 14۔ مساجد اللہ کا اکرام 15۔ اوقاتِ تنہائی کے احکامات 16۔ اقارب اور ان کے ساتھ معاشرت 17۔ سلام کا طریقہ 18۔ آدابِ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم
احکام سورہ مائدۃ:
اس سورۃ میں اسلامی شریعت کے بیشتر احکامات موجود ہیں جن کی تفصیل یہ ہے:
1۔ تمام قسم کے عقود اور معاملات پورا کرنا۔
2۔ حالتِ احرام اور حرم کے شکار کی حرمت۔
3۔ شعائراللہ کی حرمت
4۔ ہدی کے جانور اور حاجیوں کا اکرام
  • جنوری
1982
عبدالحمید بن عبدالرحمن
چند دن قبل مولانا عبدالمجید صاحب بھٹی (ضلع گوجرانوالہ) کی طرف سے ادارہ کو ایک لفافہ موصول ہوا، جس میں ایک استفتاء اور اس کے دو مختلف جوابات تھے، ساتھ ہی مولانا کا ایک وضاحتی خط بھی تھا، جس میں انہوں نے لکھا تھا:
"میں نے یہ استفتاء مفتی عبدالواحد صاحب خطیب جامع مسجد گوجرانوالہ کو بھیجا تھا، جس کا جواب انہوں نے لکھ کر بھیج دیا لیکن راقمکی ان جوابات سے تشفی نہیں ہوئی چنانچہ یہی استفتاء میں نے جامعہ محمدیہ جی ٹی روڈ گوجرانوالہ کے صدر مدرس مولانا عبدالحمید صاحب کو ارسال کیا اور انہوں نے جو جوابات لکھ کر بھیجے، گو میں ان سے مطمئن تھا لیکن چونکہ دونوں جوابات ایک دوسرے سے بہت کچھ مختلف تھے اس لیے اس الجھن میں پڑ گیا کہ ان دونوں میں سے کون سا جواب صحیح ہے اور کون سا غلط ۔۔۔ جو صحیح ہے، اس کی صحت کی دلیل کیا ہے اور غلط کس بناء پر غلط ہے؟ ۔۔۔ ناچار یہ استفتاء مع ہر دو جواب کے آپ کی خدمت میں روانہ کر رہا ہوں، آپ براہِ کرام کتاب و سنت کی روشنی میں میری رہنمائی فرمائیں، تاکہ میں نہ صرف صحیح نتیجے پر پہنچ سکوں بلکہ مجھے اطمینانِ قلب بھی حاصل ہو، جو ظاہر ہے کتاب و سنت ہی کی بناء پر ممکن ہے، فرمایا اللہ تعالیٰ نے:
﴿فَإِن تَنَازَعْتُمْ فِي شَيْءٍ فَرُدُّوهُ إِلَى اللَّـهِ وَالرَّسُولِ... ٥٩﴾...النساء
والسلام
  • جنوری
1982
طالب ہاشمی
رحمتِ عالم صلی اللہ علیہ وسلم نے مکہ سے ہجرت فرما کر سر زمینِ مدینہ کو اپنے قدوم میمنت لزوم سے رشکِ جناں بنایا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کچھ عرصہ بعد مسجدِ نبوی کی تعمیر کا اہتمام فرمایا۔ جب مسجد تعمیر ہو چکی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ضرورت محسوس فرمائی کہ نماز باجماعت ادا کرنے کے لیے عام مسلمانوں کو نماز کے وقت سے کچھ دیر پہلے اطلاع دینی چاہئے۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ کرام رضی اللہ عنھم سے مشورہ فرمایا کہ اس مقصد کے لیے کون سا طریقہ اختیار کرنا مناسب ہو گا؟ کسی نے عرض کیا کہ کسی بلند جگہ پر آگ روشن کر دی جایا کرے۔ کسی نے رائے دی کہ نماز کے وقت قریب مسجد پر جھنڈا بلند کر دیا جائے۔ کسی نے مشورہ دیا کہ جس طرح یہود و نصاری اپنی عبادت گاہوں میں نرسنگھا یا ناقوس بجاتے ہیں ہم بھی نماز کے اعلان کے لیے اسی طرح کیا کریں، لیکن حضور صلی اللہ علیہ وسلم ان میں سے کسی تجویز پر بھی مطمئن نہ ہوئے اور اس مسئلہ میں متفکر رہے تاہم وقتی طور پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ناقوس بجانے والی تجویز کو منظور فرما لیا۔ ابھی اس تجویز پر عمل نہیں ہوا تھا کہ دوسرے دن علی الصباح ایک انصاری صاحبِ رسول بارگاہِ رسالت میں حاضر ہوئے اور یوں عرض پیرا ہوئے:
  • جنوری
1982
عبدالرحمن عاجز
مٹ گئے کتنے نشاں، یاد نہیں!
مولانا عبدالرحمن عاجز مالیر کوٹلوی
روح تھی سجدہ کناں یاد نہیں
کون تھا جلوہ فشاں یاد نہی
دل پرشوق و نگاہِ بے تاب
تو یہاں تھا کہ وہاں یاد نہیں
صبح دم جو سرگردوں گونجی
آہِ دل تھی کہ اذاں، یاد نہیں
  • جنوری
1982
محمد ابراہیم الہویش
حکومتِ سعودی عرب کو شریعتِ اسلامی کے نتیجہ میں امن و استحکام کی جو نعمت حاصل ہوئی ہے، اس کی مثال پوری دنیا میں ڈھونڈے سے نہیں ملتی۔ جو شخص اس مملکت کے محلِ وقوع سے واقف ہے وہ جانتا ہے کہ اس مملکت کے اجزاء بکھرے ہوئے ہیں، بلکہ ایک وقت ایسا بھی تھا جبکہ اس کے شہروں میں ربط و نظم کا سلسلہ تقریبا ناممکن تھا اور موجودہِ رسل و رسائل کے وسائل مفقود تھے ۔۔۔ علاوہ ازیں یہاں کے عربی قبائل، کہ جاہلی عصبیت اور انتقام وغیرہ کبھی جن کا طرہ امتیاز تھا، اب بھی ان عادات سے متاثر ہیں۔۔۔ ان حالات کو دیکھئے اور اس خطہ کے پر امن موحول کو دیکھئے تو معلوم ہو گا کہ اس مملکت پر اللہ رب العزت کا یہ فضل و احسان محض اس وجہ سے ہے کہ یہاں کی حکومت نے سیست و انتظام، احوالِ شخصی، مالی معاملات اور معاشرتی تعلقات وغیرہ، غرضیکہ ہر پہلو سے شریعتِ اسلامیہ سے تطبیق کی پوری کوشش کی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ یہاں جرائم کی تعداد نہ ہونے کے برابر ہے اور یہاں کا ہر باشندہ امن و سکون کی دولت سے مالا مال اور اپنی جان، مال اور عزت کو پوری طرح محفوظ سمجھتا ہے۔
  • جنوری
1982
جمیل احمد رضوی
"مجلس التحقیق الاسلامی" کے زیرِ اہتمام ہر سال قانون و شریعت کنونشن منعقد ہوتا ہے، لیکن گذشتہ سال مجلس نے کنونشن کے بجائے دس روزہ سیمینار کا انعقاد کیا تھا ۔۔۔ زیر نظر مقالہ ، جو اس سیمینار میں پنجاب یونیورسٹی کے لائبریرین جناب سید جمیل احمد صاحب رضوی نے پڑھا تھا، اپنی افادیت کی بناء پر ہدیہ قارئینِ "محدث" ہے۔ (ادارہ)
اسلامی کتب خانوں کو زیرِ بحث لانے سے پہلے ضروری معلوم ہوتا ہے کہ یہ معلوم کیا جائے کہ کتب خانہ جس ادارہ کی ایجنسی ہے، اسلام میں اس کی اہمیت کیا ہے ؟[1] اگر ہم اس پہلو کو پہلے جان لیں، تو پھر یہ سمجھنا آسان ہو گا کہ اسلام میں کتب خانوں کی کیا اہمیت ہے اور مسلمانوں نے اپنی تہذیب و ثقافت کے عروج کے دور میں اس طرف کتنی توجہ مبذول کی؟
اسلام میں علم کی اہمیت: ۔۔۔ لائبریری جس ادارہ کی ایجنسی ہے، وہ علم ہے اور اسلام نے علم کو بہت زیادہ اہمیت دی ہے۔ قرآنِ حکیم کا مطالعہ کریں تو ہمیں معلوم ہو گا کہ جنابِ رسالت مآب صلی اللہ علیہ وسلم پر جو سب سے پہلی وحی نازل ہوئی، اس میں پڑھنے کا ذکر تکرار کے ساتھ موجود ہے۔ تعلیم اور آلاتِ تعلیم میں سے قلم کو بھی بیان کیا گیا ہے۔ چنانچہ سورہ علق میں ارشادِ رب العزت ہے:
﴿اقْرَأْ بِاسْمِ رَبِّكَ الَّذِي خَلَقَ ﴿١﴾ خَلَقَ الْإِنسَانَ مِنْ عَلَقٍ ﴿٢﴾ اقْرَأْ وَرَبُّكَ الْأَكْرَمُ ﴿٣﴾ الَّذِي عَلَّمَ بِالْقَلَمِ ﴿٤﴾ عَلَّمَ الْإِنسَانَ مَا لَمْ يَعْلَمْ ﴿٥﴾...العلق 
"(اے رسول صلی اللہ علیہ وسلم) اپنے پروردگار کا نام لے کر پڑھئے جس نے ہر چیز کو پیدا کیا۔ اسی نے انسان کو جمے ہوئے خون سے پیدا کیا۔ پڑھیے اور آپ کا پروردگار بڑا کریم ہے۔ جس نے قلم کے ذریعہ سے تعلیم دی اور انسان کو وہ کچھ سکھا دیا جو وہ نہ جانتا تھا۔"
  • جنوری
1982
طالب ہاشمی
نام کتاب:                                سید بادشاہ کا قافلہ
مولفہ: آباد شاہ پوری         ضخامت: 456 صفحات
بڑا سائز، کاغذ کتابت، طباعت عمدہ، مجلد، سنہری ڈائیدار، قیمت 48 روپے
ناشر: البدر پبلی کیشنر 23 راحت مارکیٹ اردو بازار لاہور
سید احمد شہید بریلوی نے عزم و ہمت، صبر و استقامت اور راہِ حق میں بلا کشی کے جو نقوش سیتہ گیتی پر مرتسم کئے، وہ ابدالاباد تک اہل ایمان کے دلوں مین حرارت پیدا کرتے رہیں گے۔ فی الحقیقت احیاء دین کے سلسلہ میں سید احمد شہید اور ان کے سرفروز رفقاء کی مساعی جمیلہ اور ان کی داستان، جہاد و شہادت ہماری تاریخ کا ایک تابناک باب ہے، اتنا تابناک کہ اس کی روشنی میں ملتِ اسلامیہ اپنی منزلِ مقصود کا رخ متعین کر سکتی ہے۔ مولانا سید سلیمان ندوی نے سید احمد کی تحریک جہاد کا تعارف یوں کرایا ہے:
"تیرھویں صدی میں جب ایک طرف ہندوستان میں مسلمانوں کی سیاسی طاقت فنا ہو رہی تھی اور دوسری طرف ان میں مشرکانہ رسوم اور بدعات کا زور تھا، مولانا اسمعیل شہید اور حضرت سید احمد بریلوی کی مجاہدانہ کوششوں نے تجدیدِ دین کی نئی تحریک شروع کی، یہ وہ وقت تھا جب سارے پنجاب پر سکھوں کا اور باقی ہندوستان پر انگریزوں کا قبضہ تھا۔ ان دو بزرگوں نے اپنی بلند ہمتی سے اسلام کا علم اٹھایا اور مسلمانوں کو جہاد کی دعوت دی جس کی آواز ہمالیہ کی چوٹیوں اور نیپال کی ترائیوں سے لے کر خلیج بنگال کے کناروں تک یکساں پھیل گئی اور لوگ جوق در جوق اس علم کے نیچے جمع ہونے لگے، اس مجددانہ کارنامہ کی عام تاریخ لوگوں کو یہیں تک معلوم ہے کہ ان مجاہدوں نے سرحد پار ہو کر سکھوں سے مقابلہ کیا اور شہید ہوئے حالانکہ یہ واقعہ اس کی پوری تاریخ کا صرف ایک باب ہے۔" (دیباچہ سید احمد شہید از سید ابوالحسن علی ندوی)